Wednesday, 28 April 2021

روزہ دار کے منہ سے عین افطاری وقت نکلا تیرا خانہ خراب تو برباد ہو جائے تو نے مجھے برباد کر دیا ازقلم غنی محمود قصوری




موجودہ دور میں کرپشن مہنگائی تو بڑھی ہی ہے مگر سب سے زیادہ بلیک مارکیٹنگ و ملاوٹ بڑھی ہے جس کا اعتراف ہر کوئی حتی کہ سرکار خود بھی کرتی ہے 

راقم ماہ رمضان ماہ برکات ماہ شفاء ماہ رحمت رمضان میں اپنی ہڈ بیتی یوں بیان کر رہا ہے 



رمضان سے قبل آٹے کا تھیلا گھر لایا روٹی پکی تو سیاہ کالی چھاننے پر چھان بورا چکی کے آٹے سے بھی زیادہ نکلا خیر اللہ اللہ کرکے کھا لیا کیونکہ ملتا تو پہلے ہی مشکل سے ہے 6 رمضان کو آٹا ختم ہوا تو دکان پر پہنچا پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 1040 کا ملے گا دکاندار قسم دے رہا تھا کہ مل نے 1020 کا ہمیں دیا ہے 

خیر دل نا چاہتے ہوئے بھی خریدنا پڑا آٹا گوندھنے پر اچھا اور معیاری نکلا شکر ادا کیا کہ روزے کیساتھ کم از کم روٹی تو سکون سے کھائیں گے مہنگے داموں ہی سہی

رمضان میں پیاس کی شدت کم کرنے اور جسم کی زائد گرمی ختم کرنے کیلئے شربت صندل گھر لایا تھا جو کہ صندل کم اور رنگدار  پانی زیادہ لگتا تھا مجبورا چھلکا اسپغول ڈال کر پیا 

یکم رمضان سے 10 رمضان تک افطاری ایک کجھور و شربت صندل بمعہ چھلکا اسپغول سے کی مگر حیرت انگیز طور پر پہلے روزے سے ہی جسم میں دردیں شروع ہو گئیں اور پاؤں کے تلوؤں سے ایسے سینک نکلنا شروع ہوا کہ جیسے آگ لگائی ہو نظر انداز کرنے کی کوشش کی مگر بے سود دردیں بڑھتی ہی گئیں اور ساتھ پیٹ کا پھیلاؤ ،پیٹ میں درد اور نیند کی کمی بھی ہوتی گئی سخت پریشان ہوا کہ میں تو پکوڑے سموسے ، کوئی بھی باربی کیو چیز و بازاری چیز ہر گز نہیں کھاتا بس تین سے چار چمچ سالن کم مرچ بمعہ دھی اور دو روٹیاں سحری و افطاری کھاتا ہوں

پراٹھا تو عرصہ دراز سے چھوڑا ہے شام کو روٹی کے بعد کم از کم آدھ کلو گنڈیریاں چوستاں ہوں پھر کیا وجہ ہے ابھی تو عمر خیر سے 30 سے تھوڑی سی اوپر ہوئی ہے مگر علامات 70 سال والی عمر کی بن گئی ہیں سوچا گنڈیروں اور دہی کا استعمال ترک کرتا ہوں شاید جسم میں ٹھنڈک زیادہ ہو گئی ہے مگر بے سود بلکہ کام مذید بڑھ گیا سوچ سوچ کر پریشان ہو گیا زمانہ طالبعلمی سکول و کالج و ڈسپنسنگ یاد کرنے لگا کہ کیا وجہ ہو سکتی ہے دودھ دہی بھی چھوڑ دیا ہلکے یورک ایسڈ کی بدولت سالوں سے پراٹھا چھوڑا ہوا ہے دل چاہتے ہوئے بھی بڑا گوشت،چاول و دیگر مرغن غذائیں خود پر حرام کی ہوئی ہیں کیونکہ جیسے ڑب تعالی نے کمائی کا حساب لینا ہے بلکل اسی طرح صحت کو ناجائز کھانے کھا کھا کر خراب کرنے پر حساب ہو گا کیونکہ یہ بھی اللہ کی دی ہوئی بہت بڑی نعمت ہے


خیر 11 رمضان 2021 کو وقت افطاری ہوا تو آج کچھ لیٹ گھر پہنچا قدم گھر سے باہر ہی تھے کہ اذان مغرب شروع ہو گئی تھی سو جلدی جلدی سامنے پڑے  سادہ پانی سے افطاری کی پاس پڑے شربت صندل میں ایک چمچ چھلکا اسپغول ڈال دیا اور مسجد میں نماز پڑھنے چلا گیا  نماز و عبادات میں پہلے ہی کچھ سستی تھی مگر رمضان آتے ہی طبع ناسازی دائمی ہونے کے باعث بہت بڑا بوجھ لگنے لگیں تھیں کیونکہ پاؤں کے تلوؤں کے درد و سینک کے باعث کھڑا رہنا ناممکن سا ہو گیا تھا 


خیر نماز پڑھی گھر آیا کانچ کے گلاس کو منہ لگایا تو ایک ہی گھونٹ میں گلاس تقریباً ختم کر دیا ابھی گلاس رکھنے ہی لگا تھا تو دیکھا کہ گلاس کے پیندے سے سفید سی چیز چپکی پڑی ہے اس کو انگلی سے لگا کر چھکا تو گندم کا احساس ہوا فوری اسے باہر نکالا تو پتہ چلا وہ تو سوجی ہے جو ہر روز میں چھلکا اسپغول سمجھ کر پی رہا تھا جس کے باعث یورک ایسڈ بڑھنے سے پاؤں کی تلوؤں میں آگ سی لگی رہتی ہے اور سارا جسم درد کرتا رہتا ہے اور جسم میں گرمی بڑھنے سے نیند بھی نہیں آتی ہر وقت سستی رہتی ہے جس سے  نمازیں پڑھنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

صورتحال بھانتے ہی میرے منہ سے بے ساختہ نکلا ،تیرا خانہ خراب تیرا گھر برباد ہو تو اور تیرے بچے سکھ نا پائیں، ظالم میں تو ناموافق سمجھ کر حلوہ نہیں کھاتا تو مجھے کچی سوجی 1300 روپیہ فی کلو فروخت کر رہا ہے اور چھلکا اسپغول کی صورت میں پلا رہا ہے ظالم  تجھے کیڑے پڑیں معاشرے کے ناسؤر تجھ جیسے ملاوٹی تاجر کیلئے تو میرے اللہ کے نبی نے فرمایا ہے 


مَن غَشّنَا فَلیسَ مِنَّا و المَکرُ و الخِدَاعُ فی النَّارِ

ترجمہ۔۔۔جِس نے ہمارے ساتھ بد دیانتی (ملاوٹ) کی وہ ہم میں سے نہیں اور دھوکہ اور فریب جہنم میں سے ہیں یعنی یہ کام کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے


ظالم دھوکے باز ملاوٹی تجھے تو میرے نبی امت محمدیہ سے خارج کر رہے ہیں اور اعلان کرکے ہیں کہ تجھ کا ہم مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں 

 تو بڑا نمازی پرہیز گار بنا پھرتا ہے تیرا تو صدقہ خیرات قبول نہیں اللہ تعالی کو کیونکہ فرمان نبوی ہے کہ 


 یقینا اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ چيز ہی قبول کرتا ہے  صحیح مسلم ۔ 1015 


ظالم تو 1300 روپیہ کلو چھلکا  اسپغول میں 80 روپیہ کلو والی سوجی ملاوٹ کرکے مہنگے داموں فروخت کر رہا ہے اور لوگوں کی زندگیاں برباد کر رہا ہے انہیں نماز روزہ جیسے فرائض میں بھی پریشانی کا سامنا ہے تیرا خانہ خراب تو بڑا صدقہ کرنے والا حاجی بنا پھرتا ہے جو کہ قابل قبول بھی نہیں تجھ سے کیونکہ فرمان نبوی ہے کہ 


 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے حرام کا مال جمع کیا (کمایا) پھر اس سے صدقہ کر دیا تو اس کو صدقہ کا کوئی اجر نہیں ملے گا بلکہ اس پر اِس (حرام مال کمانے) کا وبال ہوگا --صحيح ابن حبان


ظالم تو لوگوں کی زندگیاں برباد کرکے مال اکھٹا کرکے صدقہ خیرات کرنے والا مشہور ہے جبکہ اللہ کو تیرا صدقہ قبول ہی نہیں حتی کہ تیرا حج و عمرہ بھی قابل قبول نہیں کیونکہ فرمان  الہی ہے کہ 


یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ ۔۔البقرۃ

’اے اہل ایمان اپنی پاکیزہ کمائی میں سے خرچ کرو

جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا


ان اللہ طیب لا یقبل الا الطیب

’اللہ تعالیٰ خود پاک ہے اور پاک چیز کو ہی قبول کرتا ہے۔

او ظالم تیری جمع کی ہوئی دولت ملاوٹی حرام کے مال کی،تیری اولاد پلی اسی حرام کے مال سے ،تیرا بہت بڑا گھر بنا اسی حرام کے ملاوٹی مال سے پتہ نہیں کتنوں کو تو نے غلط ملط اشیاء اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ کرکے  کھلا کر قبر میں پہنچا دیا ظالم باز آجا ورنہ یاد رکھ اس دنیا میں تو عیش کر لے گا مگر تیرا مستقل ٹھکانہ جہنم ہو گا ظالم تیرے لئے ماہ رمضان میں بدعا کی جا رہی ہے تجھ سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا 

اب بھی وقت ہے توبہ کر لے اللہ تمہیں پاکیزہ مال بہت دے گا کیونکہ فرمان رب تعالی ہے کہ 


وَمَنْ یَّتَّقِ اﷲَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًاo وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ.

اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لیے (دنیا و آخرت کے رنج و غم سے) نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتا ہے۔ اور اسے ایسی جگہ سے رِزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔

سورہ الطلاق


ظالم تجھے قرآن کی آیات اور نبی ذیشان کے کئی فرامین سنا دیئے ڈر جا سمجھ جا یہ دنیا عارضی ہے اگلا مستقل ٹھکانہ جنت ہو گا اللہ کے بندوں سے دھوکہ کرکے ان کی زندگیاں برباد کرکے جنت کی بجائے اپنا مستقل ٹھکانہ جہنم نا بنا

اور جان لے کہ فرمان ہے کہ جس نے ایک جان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے ساری انسانیت کا قتل کیا تو تو پتہ نہیں کتنوں کا قاتل ہے 

اب بھی وقت ہے توبہ کرکے اللہ بڑا غفور و رحیم ہے وہ معاف کرنے والا ہے مگر دنیاوی زندگی تک بصورت دیگر نہیں

Monday, 26 April 2021

ناموس رسالت کی حفاظت کیسے ممکن ہے ؟ ازقلم غنی محمود قصوری




نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم لبوں پر آتے ہی محبت،امن اور ایمان کا احساس ہونے لگتا ہے

یہ ایسا کسی اور ہستی کے لئے ہرگز نہیں 

میرے شفیق نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم رسالت سے پہلے بھی انسانیت کیلئے مشعل راہ تھے اور بعد از رسالت حتی کہ اگلے جہان بھی نبی ذیشان ہی کام آئینگے 

چالیس سال کی عمر مبارک میں اللہ تعالی نے آپ کو نبوت بخشی 

آپ نبوت سے پہلے ہی صادق و امین کے نام سے پکارے جاتے تھے مگر اعلان نبوت کے بعد صادق و امین کہنے والوں میں سے کچھ نے معاذاللہ آپ کو جادوگر،مجنوں اور دیوانہ تک کہا کیونکہ اعلان نبوت و دعوت و توحید سے ان لوگوں کے جعلی خداؤں کی خدائی خطرے میں پڑ گئی تھی حالانکہ وہ کہتے تھے بس ایک دعوت توحید نا دے ہم آپ کو اپنا سردار مانتے ہیں نیز جو آپ مانگیں گے ہم دینگے مگر میرے نبی نے اپنا کام دعوت و توحید جاری رکھا جس پر ان فرعونان وقت نے میرے نبی کو اذیتیں دیں ان کو تنگ کیا ان شاتمین رسول میں ابولہب، ابو جہل،امیہ بن خلف،عاص بن واصل و دیگر سرداران جہالت شامل تھے 


ان بدمعاشوں کی گستاخیوں کی میرے نبی کو سخت اذیت ہوتی مگر میرے نبی نے ان کو جواب نا دیا بلکہ رب نے ان بدبختوں کے خلاف آسمان سے آیات اتاریں اور ان کو وعید کی اللہ نے فرمایا


یقیناً تیرا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے

پھر فرمایا

بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کے لئے جو خوگر ہو منہ در منہ طعن و تشنیع کا،اور پیٹھ پیچھے لگانے کا 


ایک اور جگہ فرمایا ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا 


تاریخ گواہ ہے کہ میرے نبی نے ان بدمعاشوں فرعونان وقت کی تمام اذیتیں برداشت کرکے ایک عظیم معاشرے کی تکمیل کا سنگ بنیاد رکھا جس میں کسی گورے کو کالے پر عربی کو عجمی پر امیر کو غریب پر فضلیت نا تھی مگر تقوی کی بنیاد پر

 یہی باتیں ان جہلا کو بری لگتی تھیں اور یہ بدمعاش نبی رحمت کو اذیتیں دیتے مگر میرے نبی رحمت نے کبھی ان کو جواب نا دیا کیونکہ رب نے فرمایا کہ 


اے محمد بے شک آپ اخلاق کے عظیم مرتبہ پر فائز ہیں ۔۔سورہ القلم 4

ان جہلا کو جواب نا دینے سے مراد یہ نا تھی کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم و اصحاب محمد معاذاللہ ان سے ڈرتے تھے بلکہ وہ حکم الہی کے مطابق ہر کام کرتے تھے اور رب کے حکم کے منتظر تھے 

 حکم ربی ہوا کہ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ ہجرت کریں سو نبی کریم نے حکم الہی پر ہجرت کی اور مدینہ میں جماعت اصحاب کو منظم کیا تو اللہ نے آسمان سے حکم جاری کیا کہ


اور ان سے اس وقت تک جنگ کرو جب تک کہ فتنہ ( شرک) مٹ نا جائے اور اللہ تعالی کا دین غالب نا آ جائے اگر تو یہ باز آجائیں ( شرک و توہین سے) اور رک جائیں ( تو تم بھی رک جاؤ) زیادتی تو صرف ظالموں کے لئے ہی ہے۔۔سورہ البقرہ 193 


میرے نبی کریم و اصحاب محمد نے ان فرعونان وقت کو للکارا اور ان کا خوب جم کر مقابلہ کیا اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ خود کو اعلیٰ،طاقتور ترین و متکبر سمجھنے والے نبی رحمت کے آگے جان بچانے کو لیٹ گئے اور جان کی امان مانگنے لگے

 ان میں سے بہت سے مشرب اسلام ہو کر دنیا کے عظیم ترین لوگ بن گئے اور کچھ جاہل اپنی جہالت پر ڈٹے رہے مگر اب ان کو پتہ چل گیا کہ نبی ذیشان کی تلوار اور اصحاب کے آگے ان کی بات چلنے والی نہیں سو ان کی گستاخیاں بہت کم ہو گئیں 

میرے نبی نے ان کو مکہ سے نکال باہر کیا اور آج نبی کی تلوار سے نکالنے جانے پر یہ لعنتی لوگ قیامت تک اس جگہ دوبارہ داخل نا ہو سکینگے 

یہ شاتمین رسول ہر دور میں گستاخیاں کرتے آئے ہیں ان کے بڑوں کو آج بھی دنیا شاتمین رسول اور کائنات کے غلیظ ترین اور لعنتی ترین لوگوں کے طور پر جانتی ہے جبکہ میرے نبی و اصحاب کی عزت و تکریم پہلے سی ہے اور سدا رہے گی بھی 

کیونکہ حدیث نبوی ہے کہ 

مجھے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک لوگ یہ گواہی نا دینے لگ جائیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور یقیناً محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ،اور نماز قائم کرنے لگیں،اور زکوۃ ادا کرنے لگیں،لہذہ جب وہ یہ کام کرنے لگیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال محفوظ کرلئے مگر اسلام کے حق کے ساتھ ،اور ان کا حساب اللہ کے سپرد۔۔ البخاری 24


اللہ رب العزت نے نبی کریم کو جب سے جہاد کا حکم دیا اس کے بعد میرے نبی نے ان کفار سے جہاد کیا اور ان کی گردنیں کاٹیں اور فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا وصال محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام اور پھر تابعین ،تبع تابعین نے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا اور ناموس رسالت کی حفاظت کی تاریخ گواہ ہے جب جب تلوار اٹھتی رہی نبی کریم کی ناموس کی حفاظت ہوتی رہی پھر مسلمانوں کو وہن نے گھیر لیا اور انہوں نے تلوار چھوڑ دی تو گستاخان رسول نے ناموس رسالت پر وار شروع کر دیئے موجودہ دور میں اسلام دوسرا بڑا دین ہے کرہ ارض پر تقریبآ 57 اسلامی ممالک موجود ہیں ایٹم بم و جدید ترین ہتھیاروں کیساتھ دنیا کی ہر معدنیات و نعمت سے آراستہ ہیں مگر افسوس کہ دن بدن نبی کریم کی ناموس پر حملے ہو رہے ہیں کبھی ڈنمارک تو کبھی ناروے کبھی برطانیہ تو کبھی فرانس ،امریکہ غرضیکہ ہر کافر ملک اپنی ناپاک حرکتوں سے ناموس رسالت پر وار کرتا آ رہا ہے حالانکہ نبی کریم نے اوائل اسلام کے دنوں میں خاموشی سے ان شاتمین رسول کو برداشت کیا جس کی حکمت اسلام کا پھیلاؤ تھا اور جماعت اصحاب کو جمع کرنا تھا مگر اعلان جہاد ہوتے ہی ان کی گردنیں اڑائیں اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا کیونکہ شاتمین رسول سے مسلمان تو مسلمان دیگر کمزور مذاہب بںی غیر محفوظ تھے

 ہم امت محمدیہ کے وارث ہیں اور نبی کریم کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہم امت محمدیہ کو نبی کریم فرما کر گئے کہ 


 میں قیامت سے قبل تلوار دے کر بیجھا گیا ہوں حتی کہ اللہ واحدہ لاشریک کی عبادت ہونے لگے ۔۔مسند احمد 4869


مگر افسوس آج ہم نے تلوار کو چھوڑ کر ناموس رسالت کیلئے احتجاج جیسے کمزور حربے کو اپنا لیا اور سمجھ بیٹھے کہ ناموس رسالت پر حملہ نہیں ہو گا 

ہماری زندگی اسوہ رسول کی محتاج ہے ہمیں ہر وقت اسوہ رسول پر چلنا ہو گا ناموس رسالت پر حملے روکنے کیلئے تلوار اٹھانی ہو گی امت محمدیہ اور تمام مسلمان ممالک کو یک جان کرکے ان کافروں کی گردنوں کو کاٹنا ہو گا اور اس کرہ ارض پر دین اسلام کا بول بالا کرنا ہو گا بصورت دیگر یہ احتجاج کچھ نا کر سکیں گے اگر احتجاج سے ناموس رسالت محفوظ ہونی ہوتی تو اس وقت میرے نبی و اصحاب محمد احتجاج کرتے مگر وہ خاموش رہے اور اعلان جہاد ہوتے ہی وار کیا جس سے کافروں کے دلوں میں رعب بیٹھ گیا اور ناموس رسالت پر وار روکنے کے ساتھ ساتھ دین اسلام کو بلندی ملی


آج ہم سب پر خاص کر مسلمان حکمرانوں پر فرض ہے کہ عیاشیاں چھوڑ کر اسلام کی سربلندی و ناموس رسالت پر وار روکنے کیلئے تلوار چلائی جائے اور فرض عین جہاد کا الم بلند کیا جائے تاکہ ناموس رسالت کی حفاظت کے ساتھ دین اسلام کا بول بالا رہے 

 نیز ہم سب کو کافروں کے طرز زندگی کا بائیکاٹ کرنا،ان کی پراڈکٹس کو اپنی زندگیوں سے نکالنا لازم ہے تاکہ ان کو مالی نقصان دے کر اور تلوار چلا کر ناموس رسالت پر ہونے والے وار روکے جا سکیں 

 تو آئیے عہد کریں فرانس و دیگر گستاخ ممالک کی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کریں اور احتجاج نہیں بلکہ جہاد کا نعرہ لگا کر تلوار تھام لیں کیونکہ خاموش رہنے کا جواز ہمارے پاس قطعاً نہیں 

 جیسے ہمارے اسلاف نے تھامی جیسے غازی علم الدین نے تھامی 

اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین

Tuesday, 20 April 2021

ایک پیکج جو ہر سال ہر کسی کو ملتا ہے اذقلم غنی محمود قصوری




اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان ہے جس میں اللہ رب العزت نے قرآن پاک کو نازل کیا 

اس ماہ مبارک کی بے پناہ فضیلت ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں



ماہ رمضان وہ ہےجس میں قرآن مجید اتارا گیا جولوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اورجس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیان ہیں ، تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے تو اسے روزے رکھنا چاہیں ہاں جو بیمار ہو یا پھر مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالی کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں 

 وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اوراللہ تعالی کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائياں بیان کرو اوراس کا شکر کرو  

البقرۃ  185 


مذید ارشاد فرمایا 


 اے ایمان والوں تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح کہ تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کئے گئے تھے تاکہ تم میں تقوی پیدا ہو

سورہ البقرہ


اس آیت سے ثابت ہوا روزے پہلی امتوں پر بھی فرض تھے اور اسی لئے امت محمدیہ پر بھی فرض کئے گئے ہیں تاکہ امت محمدیہ تقوی اختیار کر سکے 

ویسے تو مسلمانوں کو سارا سال ہی نیکی کرنے کا اجر ملتا ہے مگر اس ماہ رمضان میں یہ عمل کئی گناہ بڑھا دیا جاتا ہے 


لیلۃ القدر ہزار مہینے سے بھی افضل ہے

اس رات میں کی ہوئی عبادت ہزار مہینے کی عبادت سے بھی افضل اور بہتر ہے اسی لئے نبی کریم ماہ رمضان میں خاص طور پر عبادات کرتے تھے کیونکہ یہ پیکج ہر سال ایک مرتبہ آتا ہے 


حضرت عبدﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے رمضان میں جب حضرت جبریل امین علیہ السلام کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے حضرت جبریل علیہ السلام کی ملاقات کے وقت تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخاوت تیز ہوا کے جھونکے سے بھی بڑھ جاتی

 بخاری


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رمضان آتا تو نیکیوں میں جت جاتے اور اپنے اصحاب کو بھی صدقہ خیرات اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی تلقین کرتے

آج ایک بار پھر اللہ کی توفیق سے ہماری زندگیوں میں یہ ماہ رمضان آیا ہے تو اپنے عزیز و اقارب،غرباء،مساکین کی مدد زیادہ سے زیادہ کرنے کے ساتھ خود بھی زیادہ سے زیادہ نفلی و فرضی عبادات کرکے اس پیکج سے فائدہ اٹھائیں کیونکہ یہ پیکج ہر کسی کے لئے اور صرف اسی ماہ مبارک میں ہی ہے 


روزہ دار کے لئے جنت میں داخلے کیلئے ایک خاص دروازہ اللہ کی طرف سے بنایا گیا ہے جسے باب الریان کہا جاتا ہے اور روزے دار کو اللہ تعالی کا خاص قرب حاصل ہوتا ہے نیز روزہ دار کی دعا قبول کی جاتی ہے 

تو دیر نا کیجئے فائدہ اٹھائیے

Monday, 12 April 2021

حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا عام عوام کو کیوں ؟ از قلم غنی محمود قصوری

 وطن عزیر میں رواج بن گیا ہے کہ حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا عام پاکستانیوں کو دی جاتی ہے مسئلہ کوئی بھی ہو حکمران اپنے محلوں میں عیاشیاں کرتے ہیں جبکہ ان کی غلطیوں کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے


کل لاہور سے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا جو کہ گورنمنٹ کی طرف سے ایک انتہائی غلط قدم ہے کیونکہ گورنمنٹ و تحریک لبیک کے مابین معائدہ ہو چکا ہے کہ 20 اپریل سے پہلے گورنمنٹ کسی بھی ٹی ایل پی راہنما کو گرفتار نہیں کرے گی مگر گورنمنٹ نے وعدے کی خلاف ورزی کی 


سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد پورے پاکستان میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے اور مظاہرین نے مین شاہراہوں کو بند کر دیا جس کے باعث ٹریفک کا نظام جام ہو کر رہ گیا 

مسافر لوگ اپنے گھروں کو پہنچنے کی خاطر سو رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے گاؤں دیہات کے راستوں سے اپنے گھروں کو پہنچتے رہے


تحریک لبیک پاکستان نے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کیا تھا جو کہ شرعاً بلکل جائز ہے اور علامت عشق رسول ہے  مگر اس جمہوری نظام حکومت نے ان مطالبات کو نا پہلے مانا اور نا اب

 جس پر مظاہرین و پولیس  کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں اور دو افراد جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھے  حالانکہ مظاہرین بھی مسلمان اور پولیس والے بھی مسلمان

یعنی فرانس کا مسلمان مارنے کا مقصد بغیر کچھ کئے ہی پورا 


تحریک لبیک پاکستان کا مطالبہ بلکل جائز اور حق پر مبنی ہے کیونکہ فرمان نبوی ہے کہ


رسول اللہ نے ارشاد فرمایا

     اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اس کی اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں (صحیح  بخاری)


مگر گورنمنٹ نہیں مانی جس کی جوابدہ روز قیامت گورنمنٹ ہے عام عوام نہیں 

راستے بند ہونے سے کئی لوگ سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں 

عفت مآب مائیں،بہنیں،بیٹیاں، بچے،بوڑھے اور جوان راستوں میں پریشان بیٹھے ہیں حالانکہ راستوں کے متعلق واضع حدیث ہے کہ 


آپؐ نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے سے بچو‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا اگر ہماری مجبوری ہو تو آپؐ نے فرمایا: تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ راستے کا حق کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: ’’نظر نیچی رکھنا‘ ایذا نہ دینا‘ سلام کا جواب دینا‘ اچھی بات کہنا‘ برائی سے منع کرنا۔‘‘ (مسلم: 4815)


ایک اور حدیث ہے کہ


[من اذی المسلمین فی طرقہم وجبت علیہ لعنتہم] (طبرانی)


’جو شخص مسلمانوں کو ان کے راستوں میں تکلیف دے اس پر لعنت واجب ہو گئی


مگر افسوس کہ ایک انتہائی جائز مطالبے کے لئے ہم نے نبی کریم کا منع کردہ راستہ اختیار کیا اور لاکھوں مسلمانوں کو ایذا دی مسلمانوں کو اس ایذا دینے پر ایک سورہ قرآن پیش خدمت ہے


لَا تُبْطِلُوْا صَدُقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی۔۔۔البقرہ


اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر ضائع نہ کرو


افسوسناک بات ہے کہ جائز مطالبہ جو کہ ایک صدقہ ہے اسے ہم مسلمانوں کو ایذا دے کر ضائع کر رہے ہیں اور پھر ماہ رمضان کا آغاز بھی ہو چکا ہے لوگ سودا سلف لینے جا رہے ہیں تاکہ رمضان کی اچھے سے تیاری کر سکیں اور ان مسافروں میں بیشتر نفلی روزے سے بھی ہیں


خدارا حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا پاکستانیوں کو نا دو اسلام آباد میں سفارتخانہ ہے اسے بند کرو وزیراعظم ہاؤس و صدر پاکستان ہاؤس ہے اس کا گھیراؤ کرو کیا قصور ہے ان مسلمان پاکستانیوں کا ؟ 

یہ بھی کلمہ گو ہیں یہ بھی نبی کریم کی حرمت پر جان لٹانے والے ہیں


اللہ کے بندوں تمہارے عزیز اقارب سے لوگ فرانس میں نوکریاں کر رہے ہیں ان کو واپس بلاؤ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرو تاکہ ان کی معیشت کمزور ہو اور ان کو ایذا پہنچے مگر یہ کیا تم نے تو اپنوں کو ہی ایذا دینی شروع کر دی جس کی ممانعت قرآن بھی کرتا ہے اور حدیث بھی 


اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Wednesday, 7 April 2021

جب رچرڈ ہمبرڈ نے قرآن پڑھ کر تھرماپور ایجاد کی ازقلم غنی محمود قصوری





اس کا نام رچرڈ ہمبرڈ ہے وہ جرمنی میں رہتا ہے اور ایک عیسائی سائنسدان  ہے

اس نے 2004 کو ایک جرمن اخبار کو انٹرویو دیا کہ میں ایجادات کرنے کیلئے قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتا ہوں

وہ کہتا ہے میں ایک دن قرآن پڑھ رہا تھا تو میرے نظر سے سورہ القارعہ گزری


اَلْقَارِعَةُ

کھڑکھڑانے والی

مَا الْقَارِعَةُ 

وہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے

وَمَآ اَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ

اور آپ کو کیا خبر کہ وہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے

يَوْمَ يَكُـوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ 

جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔

وَتَكُـوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ 

اور پہاڑ رنگی ہوئی دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گے

فَاَمَّا مَنْ ثَـقُلَتْ مَوَازِيْنُهٝ 

تو جس کے اعمال (نیک) تول میں زیادہ ہوں گے

فَهُوَ فِىْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ 

تو وہ خاطر خواہ عیش میں ہوگا

وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٝ 

اور جس کے اعمال (نیک) تول میں کم ہوں گے۔

فَاُمُّهٝ هَاوِيَةٌ 

تواس کا ٹھکانا ہاویہ ہوگا۔

وَمَآ اَدْرَاكَ مَا هِيَهْ 

اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ کیا چیز ہے۔

نَارٌ حَامِيَةٌ 

وہ دہکتی ہوئی آگ ہے


وہ کہتا ہے میں سمجھ  گیا کہ ذکر قیامت کا ہو رہا ہے اور پہاڑ روئی بن جانے کا 

کہتا ہے کہ بات قرآن کی ہو اور جھوٹی ہو ناممکن ہے سو میں نے تحقیق تیز کر دی 

کہتا ہے کہ میں نے مذید احادیث کا مطالعہ کیا تو سورج کے قریب آنے کا ذکر بھی ملا سو  میں پر امید ہو گیا کہ ان پہاڑوں سے روئی بناؤ گا سو میں نے پتھر لئے انہیں ہیٹننگ مشین میں ڈالا پتھر نا پگھلا پھر میں نے انتہائی تیز ترین ہیٹ کر دی تو پتھر پانی کی طرح ہو گیا اب میں نے اس پر ہوا چلائی تو وہ پتھر روئی کے گالوں  کی شکل اختیار کر گیا جسے تھوڑی سے رودبدل کیساتھ میں نے تھرماپور میں تبدیل کر دیا 

وہ قرآن مجید پڑھتا ہے مگر کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان نا ہو سکا اس نے بیشتر چیزیں ایجاد کیں جن میں سے اس نے زیادہ تر قرآن وحدیث پڑھ کر ایجاد کیں مگر اللہ نے اسے مگر مسلمان ہونے کی توفیق عطاء نا فرمائی 

اس نے دنیاوی سمجھ تو پالی مگر اخروی سمجھ پانے سے قاصر رہا 

آج ملحدین خود ساختہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے آج دن تک کیا ایجاد کیا تو ان کے علم میں اضافہ کرتا چلو کہ بوعلی سینا،البیرونی،جابر حیان و دیگر بہت سے مسلمان سائنسدانوں کے کارنامے آپ بہت آساتی سے پڑھ سکتے ہو وہ الگ بات ہے کہ پتہ تم کو بھی ہے مگر حق سچ بولنے کی توفیق تم کو نہیں نیز دور حاضر میں ڈاکٹر عبدالسلام،ڈاکٹر عبدالقدیر خان و دیگر بہت سے بے شمار سائنسدان موجود ہیں 

قارئین بات ساری توفیق کی ہے جسے اللہ جتنی توفیق عطاء کرے وہ اس قدر ہی سمجھ پاتا ہے