Wednesday, 27 November 2019

نکاح اور عہد وفا



**تحریر غنی محمود قصوری **

اللہ رب العزت نے اس کائنات کو بنایا اور اس کو اپنے بندوں سے سجایا بندوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے پیغمبر اور رسول بیجھے تاکہ ان کے بتلائے ہوئے طریقے پر چل کر عام انسان زندگی بسر کر سکیں روزی روٹی حاصل کرسکیں اور دیگر امور زندگی گزار سکیں
یوں تو سارا سال ہی نکاح اور شادیوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے مگر نومبر سے جنوری تک ملک پاکستان میں شادیوں کا خاص سیزن ہوتا ہے
نکاح ایک مقدس فریضہ ہے اور  تمام  انبیاء کرام کی بھی سنت ہے 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔ نکاح میری سنت ہے 
یعنی یہ ایک فرض عین ہے نکاح کیلئے ہم نے طرح طرح کی شرطیں اور رسمیں خود سے بنا ڈالیں ہیں کہ جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اس خوشی کے موقع پر دوستوں رشتے داروں کو اکھٹا کیا جاتا ہے لڑکے والے بارات کیساتھ  لڑکی کے گھر جاتے  ہیں جنہیں کھانا لڑکی والے اپنی خوشی سے کھلاتے ہیں جبکہ لڑکے والے بعد میں ولیمہ پر دوست احباب اور رشتہ داروں کو کھانا کھلاتے ہیں مگر اس عظیم خوشی اور پاکیزہ عمل پر بھی ہم عہد شکنی کرنے سے باز نہیں آتے اکثر اوقات اس موقع پر ہم کھانے میں اور بارات کے مقرر کردہ وقت میں عہد شکنی کرتے ہیں حالانکہ شادی کارڈ پر لکھواتے ہیں کہ ،پابندی وقت کو ملحوظ خاطر رکھیں مگر اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مترادف ہم بارات کے مقرر کردہ ٹائم پر بارات نہیں لیجاتے جس کی بدولت ساتھ جانے والے رشتہ داروں اور دوستوں کو کھانے میں دیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسا تقریبا ایک رواج بن چکا ہے خاص کر ہمارے گاؤں دیہات میں جہاں میرج ہال نہیں ہوتے وہاں ایسا زیادہ ہوتا ہے  چونکہ شادیوں کا سیزن ہوتا ہے اور ایک دن میں ایک میرج ہال کو دو سے تین تک شادیوں کا آرڈر ملا ہوتا ہے تو اسی لئے  میرج ہال والے وقت کی پابندی لازمی کرواتے ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے  مگر ہمیں یہ بھی  سوچنا چائیے کہ ایک ایسا عمل کہ جس کا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اگر اس کی شروعات میں ہی ہم فضول رسم و رواج کرنے کیساتھ لوگوں کو گھنٹوں بھوکا رکھ کر عہد شکنی کرینگے تو اس نکاح میں برکت کیسے ہوگی کیونکہ صحیح بخاری میں نبی رحمت کی حدیث ہے کہ جس میں تین باتیں پائی جائیں وہ منافق ہے 
1 جب بات کرے تو جھوٹ بولے 
2 وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے 
3 اگر اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں سے خیانت کرے
تو آپ خود سوچیں جب شادی کارڈ والے سے بات کرکے خود ہم نے  نکاح و ولیمہ کا ٹائم مقرر کرکے لکھوایا پھر جب ہم نے ہی ٹائم کی پابندی نا کی تو  گویا ہم جھوٹ بولا اور اسی طرح عہد شکنی بھی کی 
جہاں پابندی وقت کی عہد شکنی شادی والے گھر سے شروع ہوتی ہے وہاں شادی میں شرکت کرنے والے بھی لیٹ پہنچ کر اس عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں لہذہ اس مقدس فرض میں فضول رسم و رواج کی عہد شکنی کیجئے اور  پابندی وقت کے عہد کو بھی  پورا کریں تاکہ ہم ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دے سکیں اور زندہ قومیں اپنے اسلاف کی بتائی گئی باتوں سے عہد شکنی نہیں کرتیں 
#قصوریات

Friday, 22 November 2019

اسلام فوبیا اور ناروے



**تحریر غنی محمود قصوری **

اسلام سچا اور کامل دین ہے اسلام کے پیروکار ایک اللہ اور ایک نبی محمد کریم کو ماننے والے ہیں تاریخ گواہ ہے جس قدر مسلمان شفیق و رحیم ہیں اس قدر دنیا میں کوئی مذہب نہیں اور ہو بھی کیوں نا کیونکہ اس کائنات کی سب سے شفیق و رحیم و ذیشان ہستی محمد کریم ہیں کہ جس کا اعتراف سارے مذاہب بھی کرتے ہیں  مسلمان اپنے نبی کریم  کے ہر لفظ مبارک پر ہر حد تک  عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاریخ گواہ ہے ملحدوں بے دینوں حتی کہ اہل کتاب نے بھی کئی بار اس شفیق نبی کی گستاخیاں کیں مگر آج دن تک کسی مسلمان نے بائبل و انجیل اور دیگر مذاہب کی مقدس کتب اور ان کی برگذیدہ ہستیوں کی کبھی بھی توہین نہیں کی اس وقت کرہ ارض پر تقریبا 1.6 ارب مسلمان جبکہ 2.7 ارب مسیحی ہیں مگر حیرت انگیز طور پر مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور آنے والے چند سالوں میں اسلام بہت تیزی سے پھیلے گا  جس سے عالم کفر اور خاص طور پر ناروے اسلام فوبیا کا شکار ہو چکا ہے ناروے میں آئے روز محمد ذیشان اور کتاب اللہ کی توہین کی جاتی ہے حالانکہ یہ لوگ بخوبی واقف ہیں کہ مسلمان کتاب اللہ اور نبی آخر الزمان محمد کریم سے اپنی جان سے بھی بڑھ کر پیار کرتے ہیں اور وقت آنے پر ان کیلئے اپنی جانیں قربان کرتے چلے آئے ہیں 
ناروے کے شہر کرسٹین سینڈ میں ایک عادی مجرم اور مسلمان مخالف تنظیم سیان کے سربراہ لارس تھورسن نے قرآن مجید کے نسخے کو سرعام جلانے کا اعلان کیا جس پر ناروے پولیس نے اسے وارننگ دی کہ وہ ایسا نا کرے  مگر عملی طور پر اسے روکا نہیں گیا تاہم پھر بھی اس عادی مجرم کہ جو حال ہی میں 30 دن جیل اور 20000  نارویجن کرون جرمانہ ادا کر کے رہا ہوا ہے نے لوگوں کو اکھٹا کیا اور قرآن کے نسخے کی سرعام توہین کی تو وہاں موجود نوجوانوں نے مزاحمت کی ان میں سے ایک نوجوان الیاس رکاوٹیں عبور کرتا ہوا لارس تھورسن ملعون  تک جا پہنچا اور اسے دبوچ لیا اسی اثناء میں ناروے پولیس نے الیاس کو گرفتار کر لیا اور ملعون تنظیم کے ملعون راہنما لارس تھورسن کو حفاظتی تحویل میں لے لیا حالانکہ جرم بلکہ جرم عظیم لارسن تھورسن اور اس کی انتہاہ پسند تنظیم سیان کر رہی تھی مگر پھر بھی اپنے اسلام کے دفاع کیلئے آگے بڑھنے والے نوجوان کو جیل میں ڈال دیا گیا اور توہین قرآن کرنے والے کو حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے تاکہ پھر کوئی غازی علم دین ،عامر چیمہ  الیاس کی طرح اس ملعون کو قرآن کی توہین سے روک نا لے ایک طرف تو یہ لوگ بین المذاہبی ہم آہنگی پیدا کرنے اور شدت پسندی کو ختم کرنے کا رونا روتے ہیں اور دوسری طرف خود ہی مذاہب کے درمیان ٹکراؤ اور شدت پسندی کو بڑھاتے ہیں ناروے میں 2010 اور 2011 میں بھی توہین رسالت اور توہین اسلام ہو چکی مگر لعنت ناروے کی حکومت پر کہ جو ایسے جنونیوں کو محض 30 روزہ جیل اور 20000 نارویجن کرون کے عوض پھر سے توہین اسلام و رسالت کیلئے رہا کر دیتی ہے اس سے بھی بڑھ کر افسوس پاکستان میں بیٹھے ان لبرل لوگوں پر جو پاکستان پر کوئی وار خالی نہیں جانے دیتے اور سارا سارا دن ان کے قلم اور زبانیں اسلام و پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں اب وہ امن کے ٹھیکیدار خاموش ہیں ان ظالموں کے منہ سے اس واقعے کے خلاف ایک بھی لفظ نہیں نکلا مگر جان لو 
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے 
اتنا ہی ابھرے گا جتنا دبا دو گے 
ان شاءاللہ 
#قصوریات

Tuesday, 19 November 2019

بچوں کا عالمی دن اور کشمیری بچے



**تحریر غنی محمود قصوری**
آج 20 نومبر ہے اور پوری دنیا میں بچوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اس دن کو منانے کا مقصد بچوں پر ظلم و تشدد روکنا ان کی تعلیم و تربیت و صحت کا خیال کرنا ،ان سے جنسی زیادتی رکوانا   اور بچوں سے محنت و مشقت رکوانا ہے
 یہ دن عالمی طور پر 20 نومبر 1989 سے ہر سال منایا جا رہا ہے تاہم  14 دسمبر 1954 کو اقوام متحدہ میں اس دن کو منانے کیلئے شفارشات پیش کی گئی تھیں 
آج ساری دنیا میں بچوں کے نام پر بڑے بڑے لوگ اور تنظیمیں اس دن کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گی انسانوں تو انسانوں جانوروں کے بچوں کے حقوق کا بھی رونا روئیں گیں  مگر افسوس کہ آج عالم اسلام اور بالخصوص مقبوضہ وادی کشمیر کے بچوں کو یکسر نظر انداد کیا جائے گا حالانکہ اس دن کا مقصد ہی بچوں پر ظلم و تشدد رکوانا اور ان کے حقوق کا خیال کرتے ہوئے انہیں آزاد زندگی گزارنے کے مواقع مہیا کرنا تھا اور شاید اب بھی ایسا ہی ہے مگر صرف مسلمانوں کے بچوں کے لئے ایسا ہر گز ہر گز  نہیں
 اقوام متحدہ کہ جس نے اس دن کو منانے کا اعلان کیا آج وہی تقریبا 4 ماہ سے کشمیری محصور بچوں پر ہونے والے  تشدد پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں پوری دنیا کا میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں چیخ چیخ کر اقوام متحدہ کو بتا رہی ہیں کہ کشمیری بچے سینکڑوں دنوں سے اپنے گھروں میں محصور ہیں ان کی تعلیم کا سلسلہ ختم ہے ان کے پاس کھانے کو خوراک نہیں سردی سے بچنے کیلئے گرم کپڑے نہیں بیمار ہونے پر دوا نہیں میسر نہیں اور نومولودوں کیلئے دودھ بھی نہیں مگر افسوس صد افسوس کہ نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردار اقوام متحدہ بھارت کو کچھ کہنا تو دور کی بات اپنے طور پر بھی ان مظلوم و مجبور محصور کشمیری بچوں کیلئے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے حالانکہ یہی لوگ کتوں اور بلیوں کے بچوں کے تحفظ کی خاطر اربوں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں اور کسی بھی جنگلی جانور کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتے ہیں اور ان بقاء و سلامتی کیلئے ان طیارے ان کے ہیلی کاپٹر تک کئی کئی دن ریسکیو کرتے رہتے ہیں 
 مگر افسوس  ان کو ہندو فوجیوں کی پیلٹ گنوں سے زخمی و نابینا ہوتے بچے اور ہندو ناپاک کے جنسی تشدد کا نشانہ بنتی آصفہ بانو جیسی معصوم بچیاں نا پچھلے 73 سالوں سے نظر آ رہے تھے اور نا اب نظر آ رہے ہیں وجہ صرف ان بچوں کا مسلمان ہونا ہے تاریخ گواہ ہے اقوام متحدہ کا کردار بھارت کی لونڈی کا سا ہے پچھلے 73 سالوں سے ان کشمیری بچوں کے والدین جبکہ وہ خود بچے تھے اب ان کے بچوں کے بھی بچے ہو چکے وہ تب سے اس اقوام متحدہ کو یاد کروا رہے ہیں کہ ہم کشمیریوں پر ظلم و تشدد ہو رہا ہے ہندو ہمارے بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا ہے ، ہمارے معصوم بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانا بنایا جا رہا ہے اور جانوروں پر استعمال کرنے والی پیلٹ گن ہمارے بچوں پر استعمال کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد عالمی حقوق کی علمبردار درحقیقت عالم کفر کی راکھیل اقوام متحدہ سب کچھ سن دیکھ کر خاموش ہے اور اس کی خاموشی اس کے  انسانی حقوق کے نعروں کی نفی  کر رہی ہے 
#قصوریات

Saturday, 9 November 2019

فیصلہ بابری مسجد کا یا مسلم کشی کا



**تحریر غنی محمود قصوری **
مغل دور میں تعمیر ہونے والی مشہور مسجد بابری کا تنازعہ ہندوءوں اور مسلمانوں کے درمیان آج سے 70 سال قبل یعنی 1949 سے چلا آ رہا ہے حالانکہ یہ مسجد مسلمان دور حکومت میں تعمیر ہوئی ہے 
بابری مسجد کو مغل دور حکومت میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر فیض آباد کے علاقے ایودھیا میں 1527 کو اس وقت کے مغل سالار میر باقی نے تعمیر کروایا تھا اور اس کو ہندوستان کے مشہور بادشاہ ظہیر الدین بابر کی نسبت سے بابری مسجد کا نام دیا گیا  
ویسے تو ہندو مغل دور کی اس عظیم مسجد بابری کے خلاف 1949 سے ہی سازشیں کر رہے ہیں مگر حیرت تو اس بات کی ہے کہ کم و بیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کی حکومت میں کسی ہندو پنڈت اور تنظیم نے یہ نا بتایا کہ اس مسجد کو رام للا یعنی ہندو بھگوان ،رام کی جائے پیدائش کو گرا کر تعمیر کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندو بے ایمان مغل دور کی غلامی کی یادیں مٹانا چاہتا ہے اور اپنے آقا انگریز کی رسم پوری کرنا چاہتا ہے کہ جس نے اپنے ہندوستان پر جبری قبضے کے دوران ہزاروں مساجد کو شہید کیا اور گرجا گھروں میں بدلا تھا  
 1980 میں ہندو انتہا پسند تنظیموں نے اس مسجد کے خلاف سازشیں مذید تیز کر دیں اور ہندوءوں کو بھڑکایا جانے لگا کہ یہ مسجد ہندو بھگوان ،رام کی جائے پیدائش کو گرا کر تعمیر کی گئی ہے اور 1949 تک اس مسجد میں دو مورتیاں بھی موجود تھیں جنہیں مسلمانوں نے باہر پھینک دیا تھا 
 رفتہ رفتہ اس مسجد کے خلاف مہم تیز ہوتی گئی اور ہندو پنڈت و لیڈران ہندوءوں کو اس مسجد کے خلاف اکساتے رہے اور مسجد کو گرا کر رام مندر بنانے کی باتیں سرعام جلسوں میں کرتے رہے مگر ہندوستان سرکار اور اعلی عدالتیں خاموش رہیں اور پھر آخر کار  6 دسمبر 1992 کو ہندو انتہا پسند تنظیم  وشو ہند پریشد نے ہندو سیاسی جماعت  بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر ایل کے ایڈوانی کی زیر قیادت تقریبا 150000 سے زائد ہندوءوں کو جمع کرکے اس عظیم مسجد پر حملہ کر دیا ہندو تنظیموں نے جنونی ہندوءوں کو باقاعدہ ٹریننگ دی اور انہیں پورے ہندوستان سے اکھٹا کرکے ایودھیا لایا گیا حملے کے نتیجے میں مسجد کا کافی حصہ مسمار ہو گیا اور مسلمانوں نے اپنی پیاری مسجد کی خاطر پورے ہندوستان میں مزاحمت کی تو ہندو بلوائیوں نے تقریبا بیس ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا اس پر ہندو سرکار نے ایکشن لیتے ہوئے صرف 68 بندوں کے خلاف فرد جرم عائد کی اور بعد میں انہیں بھی رفتہ رفتہ بے گناہ قرار دیا جاتا رہا 
مسلمانوں نے بابری مسجد کی مسماری پر ہندوءوں  کے خلاف مقدمہ درج کروایا جس پر فیصلے آتے رہے مگر 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے شرمناک فیصلہ سنا کر مسلمانوں کو مذید دکھی کر دیا الہ آباد ہائی کورٹ کے 3 ججوں نے فیصلہ سنایا کہ بابری مسجد رام للا کو گرا کر بنائی گئی ہے لحاظہ اسے تین حصوں میں تقسیم کیا جائے بابری مسجد کے کل رقبہ 2.77 ایکڑ کا ایک تہائی حصہ رام للا کو دیا جائے اور وہاں رام مندر تعمیر کیا جائے ایک تہائی مسلمانوں کے سنی وقف بورڈ کو دیا جائے اور باقی جگہ ہندو انتہا پسند تنظیم ،نرموہی اکھاڑے کو دی جائے ہندوستانی ہائیکورٹ کے اس شرمناک فیصلے پر مسلمانوں میں شدید اضطراب پایا گیا اور مسلمانوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہندوستانی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جس پر ہندوستانی سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے آج 9 نومبر 2019 کو فیصلہ سنایا کہ آثار قدیمہ کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بابری مسجد رام للا کو گرا کر بنائی گئی ہے اور اس پر مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہندو بابری مسجد کی جگہ بگھوان رام کا مندر بنائیں اور مسلمانوں کے سنی بورڈ  کو 5 ایکڑ زمین کسی اور علاقے میں دی جائے جہاں وہ اپنی مسجد تعمیر کریں 
ویسے ہندوستان کا جمہوری اور مذہبی نظام تو شدید متعصب تھا ہی مگر عدالتی نظام شدید متعصب اور گھٹیا نکلا اس عدالت نے یہ تحقیق نا کی کے 1000 سال تک ہندو رام للا کا واویلا کیوں نا کر سکے حالانکہ ان مغل اداواروں میں بہت زیادہ ہندو مندر تعمیر ہوئے جنہیں خود مغل بادشاہوں نے ہندو کیلئے تعمیر کروایا تاکہ ہندو اپنے مذہب کے مطابق اپنی پوجا کر سکیں نیز ہندوءوں کی مسلمانوں کی خدمت کی بدولت انہیں بہت زیادہ زمینوں اور  جاگیروں سے نوازا جاتا رہا اگر اس وقت ایسی کوئی بات ہوتی تو ضرور مسلم بادشاہوں کی طرف سے دیگر مندروں کی طرح اس مندر کی تعمیر کا مسئلہ بھی حل کیا جاتا تاریخ گواہ ہے اگر مسلمان خاض طور پر مغل بادشاہ ہندو کی طرح متعصب اور جنونی ہوتے تو آج کرہ ارض پر ایک بھی ہندو زندہ نا ہوتا مگر تاریخ نے مسلمانوں کا ہندوءوں کیساتھ اعلی پائے کا اخلاص اور انصاف دیکھا ہے 
 اور پھر بیس ہزار مسلمانوں کے قاتل اور مسلمانوں کی تاریخی مسجد کو مسمار کرنے والے ڈیڑھ لاکھ جنونی ہندوءوں میں سے کسی کو بھی قابل قدر سزا کیوں نا ہو سکی درحقیقت ہندو ناپاک پلید کی طرح اس کا سارا عدالتی نظام بھی گھٹیا اور پلید ہے انہیں معلوم ہے کہ مسلمان اس فیصلے کو کبھی بھی تسلیم نا کرینگے اور اسی بدولت ماضی کی طرح پھر ہندو مسلم فسادات ہونگے جن میں سراسر نقصان مسلمان کا ہی ہوتا رہا ہے کیونکہ ہندوستان میں مسلمان ایک اقلیت ہیں اور ہندوءوں کے ستائے ہوئے محکوم بھی جبکہ ہندو باقاعدہ تربیت یافتہ اور مسلح ہیں  مگر پھر بھی اس غلیظ عدالت نے جھوٹ اور افسانوں کو مانتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دیا اور ہندو مسلم فسادات کی راہ ہموار کی ہے
#قصوریات