Tuesday, 30 June 2020

ہمیں اپنی قومی زبان بولے اور لکھے جانے میں شرمندگی کیوں؟



تحریر *غنی محمود قصوری*

زبان اللہ کی طرف سے عطاء کردہ ایک خاص نعمت ہے جو کہ معاشرتی ضرورت کے تحت بولی جاتی ہے تاکہ ہمارا مخاطب ہماری بات کو سمجھ سکے
ہر علاقے ملک کی مختلف زبانیں ہیں اور اس کرہ ارض پر تقریبآ 6800 کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں مذید ان کے لہجے الگ سے ہیں اور اسی طرح پاکستان میں بھی ہے
ہماری قومی زبان اردو ہے جو کہ پورے پاکستان میں لکھی،پڑھی اور بولی جاتی ہے اس کے علاوہ تقریبآ 70 زبانیں مذید بھی پاکستان میں بولی جاتی ہیں مگر ان تمام کی طرز اور الفاظ بڑی حد تک اردو سے ہی مماثلت رکھتے ہیں
پاکستان کی کل آبادی کے 8 فیصد لوگ اردو بولتے ہیں اور یوں اردو پاکستان کی پانچویں بڑی اور دنیا کی نویں بڑی زبان ہے ماہرین لسانیات کے مطابق ہندی،ہندوی،ہندوستانی،دہلوی اور ریختہ بھی اردو کے قدیم نام ہیں اسی لئے اردو اتنی معروف اور دوسری زبانوں سے ملتی جلتی ہے کہ ہم بنگلہ دیش،انڈیا،نیپال غرضیکہ پورے برصغیر میں کہیں بھی اردو بولیں تو مخاطب کو بڑی حد تک سمجھ آ جاتی ہے اور ہماری معاشرتی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے
دور غلامی میں 1849 میں انگریز نے معاشی ضرورت کے تحت پنجاب میں اردو کو دفتری زبان قرار دیا تھا اور 1947 میں قیام پاکستان کے وقت ریڈیو پاکستان سے قیام پاکستان کا اعلان بھی اردو میں ہی نشر کیا گیا تھا تاکہ ہم انگریز و ہندو کو باور کرا سکیں کہ ہم آزاد ہیں اب اپنی تہذیب و تمدن پر اپنی مرضی سے عمل پیرا ہو سکتے ہیں اور ہماری نسلیں اپنی تہذیب و تمدن اور ثقافت و مذہب پر آزادی سے عمل پیرا ہونگی اسی لئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ پاکستان کی سرکاری و قومی زبان اردو ہے حالانکہ قائد اعظم معاشی ضرورت کے تحت انگریز کے سامنے انگریزی بولتے تھے مگر جب وہ اپنے ہم وطنوں سے ہمکلام ہوتے تو اردو ہی بولتے تھے بطور دلیل ان کی کئی آڈیو،ویڈیو ریکارڈنگ اب بھی موجود ہیں مگر افسوس کہ لاکھوں شہادتوں ،کھربوں روپیہ کی جائیدادوں اور لاکھوں عزتوں کی قربانی دے کر حاصل کرنے والے ملک پاکستان کو آزاد ہوئے تقریبآ 74 برس بیت گئے مگر افسوس کہ اب بھی ہماری سرکار اور ادروں سے انگریزی نا نکل سکی آج بھی ہمارے دفاتر میں نوٹیفیکیشن انگریزی میں جاری کئے جاتے ہیں اور ہمارا پڑھا لکھا طبقہ روانی سے انگریزی بولتا ہے اور لکھتا ہے اور اس پر فخر محسوس کرتا ہے جبکہ ہمارے ملک کی آبادی کا بہت بڑا حصہ اب بھی کم پڑھا لکھا یا پھر ان پڑھ ہے اس لئے ان کو انگریزی کی ہرگز سمجھ نہیں آتی اور وہ اسے سمجھنے کیلئے کسی پڑھے لکھے کے محتاج بن جاتے ہیں
پورے پاکستان میں لوگ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی مادری زبانیں بولتے ہیں اور وہ تمام مادری زبانیں اردو سے کافی مماثلت رکھتی ہیں اس لئے جب کسی سے اردو میں بات کرتے ہیں تو وہ بندہ کافی حد تک اردو کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے اور بڑی حد تک اردو بول بھی لیتا ہے
زندہ قوموں کی پہچان ان کی تہذیب و ثقافت سے ہوتی ہے اور ہم دنیا کی نویں بڑی زبان اردو ہونے کے باوجود انگریزی کو ترجیح دیتے ہیں حتی انسانی حقوق کا رونا رونے والی این جی اوز ہمارے لوگوں کو انگریزی میں ہدایات دے کر چلی جاتی ہیں اور وہ غریب ان پڑھ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ آخر انہیں کہا کیا گیا ہے
اس کام میں ہماری سرکار بھی کسی سے کم نہیں اب جبکہ پوری دنیا کرونا کی لپٹ میں ہے اور پوری دنیا اپنے باشندوں کو اپنی قومیں زبانوں میں ہدایات جاری کر رہی ہیں وہیں آج ہماری گورنمنٹ نہایت افسوس کیساتھ انگریزی میں ہدایات جاری کر رہی ہے جس کی مثال یہ ہے کہ ان پڑھ و کم پڑھے لکھے لوگوں نے بڑی مشکل سے ہلاک کو انگریزی میں ایکسپائر Expire ,Death رٹا ہوا تھا اب اس کی جگہ Deceased نے لے لی جبکہ تشویشناک کو لوگوں نے سیریس Serious رٹا تھا اب اس کی جگہ کریٹیکل critical نے لے لی اسی طرح Infected, Symptoms اور کئی الفاظ آ گئے جس سے عام لوگ بہت پریشان ہیں کہ بھئی یہ کیا بلا ہیں یہی وجہ ہے کہ قوم کرونا پر جاری ہدایات پر صحیح طرح سے عمل پیرا نہیں ہو رہی کیونکہ ان کو ان الفاظ کا علم ہی نہیں اور لوگوں کے پاس ایک دوسرے کو سمجھانے کا زیادہ وقت ہی نہیں سو انگریز کی غلامی کا طوق اتارتے ہوئے ہمیں اپنے دفتروں،بازاروں،گھروں اور سرکاری اداروں میں سو فیصد اردو بولنی،لکھنی اور پڑھنی چاہیے تاکہ دو قومی نظریے اور آزادی پاکستان کا مقصد واضع ہو سکے اور ہم ایک زندہ و جاوید آزاد قوم کہلوا سکیں اس میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ یہ ہماری قوم زبان ہے ہاں معاشی ضرورت کے تحت انگریزی،ہندی،فارسی،اور دیگر زبانوں کے بولنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ انہیں معاشی ضروت کے تحت سیکھا جائے نا کہ قومی زبان سمجھ کر

Saturday, 20 June 2020

کرونا وائرس آخر ہمیں کیا سمجھانے آیا؟



تحریر *غنی محمود قصوری*

اللہ تعالی نے انسان کو اپنی عبادت کیلئے بنایا اور اس کیساتھ دوسروں کی مدد اور دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا بھی بڑی سختی سے حکم دیا ہے
اس دور میں ہر انسان ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور یہ دنیا ایک گلوبل ویلج بنی ہوئی ہے
اللہ تعالی نے قرآن مجید کو پچھلی قوموں کی مثالیں دے کر ہمارے لئے سمجھنے کو آسان بنایا ہے
پچھلی قومیں جب اپنے انبیاء کی بتائی گئی باتوں پر سر کشی کرتیں تو فوری ان پر کوئی نا کوئی عذاب نازل ہو جاتا اور وہ قومیں تباہ و برباد ہو جاتی تھیں ہر پچھلی قوم کے اندر کوئی ایک آدھ جرم ہوتا تھا جس کی بدولت ان پر کبھی پتھروں کی برسات،کبھی آسمان سے آگ،کبھی سیلاب کبھی قحط سالی اور کبھی وبائی امراض کی شکل میں عذاب آتے رہتے تھے
ہم اللہ کے آخری نبی کی آخری امت ہیں اور ہمارا مقام دوسری امتوں سے افضل ہے مگر افسوس کہ ہم پہلی امتوں سے بڑھ کر معزز تو ہیں مگر ہم میں پہلی امتوں والی ساری برائیاں موجود ہیں حالانکہ پہلی امتوں میں ایک آدھ برائی ہوتی تھی مگر وہ پھر بھی ہلاک وبرباد ہو جایا کرتی تھیں مگر ہم میں سب برائیاں ہیں مگر ہم پھر بھی قائم ہیں تو اس کی وجہ میرے نبی ذیشان نبی رحمت کی وہ دعا ہے کہ جس میں میرے نبی نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی تھی کہ اے اللہ تعالیٰ تو ان سب کو ایک ساتھ بھوک و افلاس و قحط سے نا مارنا سو آج دیکھ لیجئے ساڑھے چودہ سو سال سے کئی عذاب آئے مگر میرے نبی کی دعا کے مطابق سارے ایک دم ہلاک نا ہوئے مگر افسوس کہ ہم اپنی برگزیدہ نبی خاتم النبیین کی دعا کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اپنے رب کو ناراض کر رہے ہیں
اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں
اس نے تمہیں برگزیدہ بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی ۔۔الحج 78
اس آیت میں اللہ تعالی اپنے نبی کے ذریعے ہمیں پیغام دے رہے ہیں کہ ہم امت محمدی دوسری امتوں سے بہتر اور اعلی ہیں اور ہمارے ساتھ دین میں کوئی تنگی بھی نہیں اور جو آسانیاں ہمیں اس دین میں عطا ہوئیں وہ پہلی امتوں کو نا تھیں
مگر آج پہلی امتوں کی طرح ہم میں بھی سرکشی و تکبر ،چوری و زنا ،شراب و شباب اور ذخیرہ اندوزی جیسے جرائم عام ہو گئے ہیں اسی لئے ہمارے سمجھانے کیلئے اللہ تعالی نے فرقان حمید میں فرمایا ہے
اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کر لیتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو ( کچھ ) حکم دیتے ہیں اور وہ اس بستی میں کھلی نافرمانی کرنے لگتے ہیں تو ان پر ( عذاب کی ) بات ثابت ہو جاتی ہے پھر ہم اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں ۔ بنی اسرائیل 16
آج اس آیت کو سامنے رکھ کر دیکھیں اللہ نے ہمیں ساری نعمتوں سے نوازہ مگر پھر بھی ہم حد سے بڑھ گئے ہیں ہم اللہ کے عذاب کو بھول گئے ہیں سو اللہ نے ہمیں سمجھانے کیلئے ہلکا سا عذاب کرونا اور ٹڈی دل کی شکل میں بیجھا تاکہ ہم توبہ کر سکیں اور معاشرتی برائیوں سے تائب ہو جائیں خوش قسمتی سے ہم سب نبی کی مانگی گئی دعا کے مطابق بچے ہوئے ہیں ورنہ ہم سارے کے سارے پہلی امتوں کی طرح ہلاک ہو جاتے مگر افسوس ہم پھر بھی نہیں سمجھ رہے ہمارے اندر ،زنا،چوری،ڈکیتی،قتل و غارت گیری،ذخیرہ اندوزی،شرک و بدعت اور پہلی امتوں کی سی ہر برائی آ گئی ہے
انہیں برائیوں پر اللہ نے فرمایا ہے
پھر ہم نے ان پر طوفان بیجھا اور ٹڈیاں اور گھن کا کیڑا اور مینڈک اور خون ،کہ یہ سب کھلے کھلے معجزے تھے سو وہ تکبر کرتے رہے اور وہ لوگ کچھ تھے ہی جرائم پیشہ ۔۔الاعراف 133
اللہ تعالی ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ باز آ جاؤ ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے جرائم پیشہ نا بنو اور تکبر سے بچوں تو اس لئے آج ہم پر کرونا وائرس کی شکل میں وباء مسلط ہے اور ٹڈیاں ہمارے کھیت کھلیان چاٹ رہی ہیں لہذہ اب وقت ہے عذاب الٰہی سے ڈرنے کا توبہ کرنے کا اور جرائم سے بچنے کا
یہاں ایک وضاحت کرتا چلو کہ اللہ نے ہمیں عذاب دے کر بھی ایک احسان ہی کیا ہے جیسے کرونا سے صحت یاب ہونے پر ہمیں پلازمہ کی شکل میں اللہ کی طرف سے احسان ملا اسی طرح ٹڈی دل کے لشکر غریب اور لاک ڈاؤن سے متاثرہ لوگوں کیلئے احسان بن کر آئے کہ ہم اس حلال ٹڈی دل کو پکڑ کر کھا سکیں یا پھر اس کو پکڑ کر جانوروں اور پرندوں کی فیڈ بنانے والی فیکٹریوں کو بیچ کر کمائی کر سکیں کیونکہ ٹڈی دل پروٹین،کیلشیم،فاسفورس اور دیگر قدرتی اجزاء ہر مشتمل ایک انمول خزانہ ہے تو اب یہ ہمارے لئے سمجھنا انتہائی لازم ہے کہ اللہ تعالی ناراض ہیں اور ہم پر ہلکا سا عذاب مسلط کرکے ہماری اصلاح کر رہے ہیں سو ہمیں بھی اصلاح کی طرف آنا چاہئیے تاکہ ہم اخروی زندگی اچھی کر سکیں اللہ تعالی ہمیں اس وباء سے محفوظ رکھے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Tuesday, 16 June 2020

پاکستانی ڈرامے بھی مقدس رشتوں کی پامالی کے زمہ دار



تحریر *غنی محمود قصوری*

موجودہ دور الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا کا ہے ہم سب باخبر رہنے کیلئے ان کا سہارا لیتے ہیں جو کہ وقت کی ضرورت بھی ہے
ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے افراد اور مہذب افراد کی پہچان ان کے کردار سے ہوتی ہے
ہمارے پرنٹ میڈیا پر انتہائی گندے اور غیر مہذب اشتہار دیکھنے کو ملتے ہیں ایسے ہی الیکٹرونک میڈیا پر مختلف چینلز پر اشتہارات اور ڈراموں کی شکل میں قوم کی غیرت کا جنازہ نکالا جا رہا ہے
افسوس کہ اس وقت ان پر مثبت کی بجائے منفی پہلو زیادہ اجاگر کئے جا رہے ہیں خاص طور پر ٹیلی میڈیا ہماری نسلوں کو ڈرامے دکھا کر اسلام سے دور کر رہا ہے
ماضی میں کئی ڈرامے ایسے بنائے اور دکھائے گئے جن میں مقدس رشتوں جیسے،دیور،بھابھی،ساس کی پامالی کی جاتی رہی جس کے دیکھنے سے معاشرے پر بہت برے اثرات پڑے اب ایک بار پھر ایسا ہی جلن نامی ڈرامہ اے آر وائے ڈیجیٹل پر 17 جون سے دکھایا جائے گا جس میں بہن اپنے بہنوئی یعنی بہن کے خاوند پر فریفتہ ہے ،آفس میں کام کرنے والی کی بیوی پر آفس کا باس دل پھینک چکا جبکہ اللہ معاف کرے سسر اپنی بہو پر فدا ہے افسوس کی بات ہے کہ ان چینلز کو کنٹرول کرنے کیلئے پیمرا نامی ادارہ بھی موجود ہے مگر ماضی میں بھی اس ادارے کی جانب سے کوئی خاص قابل ذکر کاروائی نا سامنے آئی اور اب جبکہ اس جلن ڈرامے کا ٹریلر جاری کر دیا گیا ہے تب بھی اس ادارے کی طرف سے کوئی بھی ایکشن سامنے نہیں آیا جس پر اس ادراے کے کردار پر شکوک وشبہات مذید بڑھ رہے ہیں
اللہ معاف فرمائے کہ سالی اور بہنوئی کا ایک مقدس رشتہ ہے اور سالی بہنوئی کیلئے غیر محرم ہے اور سالی کا اپنے بہنوئی سے پردہ لازم ہے
اسلام نے ایک وقت میں چار بیویاں رکھنے کی اجازت دی ہے مگر سگی بہنوں کا خیال رکھتے ہوئے ایک ہی وقت میں دو بہنوں سے نکاح حرام قرار دیا ہے جس کا مقصد ایک بہن کے ہوتے ہوئے دوسری کو اس کی سوتن بننے سے بچانا ہے تاکہ بہنیں آرام اور سکون سے زندگی بسر کر سکیں
اسی لئے اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایا۔۔
اور یہ حرام کیا گیا کہ تم دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرو ۔۔سورہ النساء آیت 32
فطری طور پر ہر عورت کو اپنی سوتن سے جلن محسوس ہوتی ہے اسی لئے بہنوں میں بگاڑ سے بچاؤ کیلئے اللہ نے دو بہنوں کو بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں حرام کر دیا مگر یہاں ہمارے چینل اس مقدس رشتے کو پامال کرتے ہوئے دکھا رہے ہیں بیوی کے زندہ اور نکاح میں ہونے تک بیوی کی بہن یعنی سالی نکاح کیلئے حرام ہے یعنی بہنوں کی طرح ہے مگر افسوس کہ یہاں اسی بہن کیساتھ عاشقی معشوقی دکھائی جارہی ہے جس کا زیادہ تر اختتام زنا پر ہوتا
اور اوپر ڈرامے کا نام بھی رکھا ہے جلن یعنی کہ بہن کو بہن سے جلن ہے
سسر وہ رشتہ ہے کہ جس میں بہو اپنے والد کے بعد سسر کو ابو یا ابا جان کہتی ہے اور سسر بہو محرم ہیں بہو خاوند کی غیر موجودگی میں سسر کیساتھ سفر کر سکتی ہے اس کیساتھ حج و عمرہ پر جا سکتی ہے کیونکہ بیٹی کے بعد بیٹی بہو ہوتی ہے مگر افسوس کہ اس مقدس ترین رشتے کی بھی پامالی دکھائی جانے لگی اور لوگوں کو گمراہ کر کے اسلام سے دور کیا جانے لگا ہے مگر افسوس کہ آزاد مملکت پاکستان میں اس سرعام اسلام سے دوری کرنے پر کوئی ایکشن لینے والا نہیں خاص کر پیمرا کو چاہیے کہ اس ڈرامے کو رکوائے تاکہ مقدس رشتوں کی پامالی ہونے سے بچ جائے اور ہمارا معاشرہ دین اسلام کی روشنی میں گزر بسر کر سکے
کچھ لوگ کہتے ہیں جی ایسا کچھ تو انڈین فلموں ڈراموں میں بھی دکھایا جاتا ہے تو ان سے عرض ہے کہ وہ تو ایک کافر ملک ہے وہاں کے پروڈیوسر ہدایتکار،گلوکار،فنکار غرضیکہ زیادہ تر کافر ہیں اور ان میں سزا ،جزاء،قبر قیامت کا تصور نہیں تو پھر ان پر گلہ کیسا گلہ تو اپنوں پر ہے جو اسلام کے نام لیوا ہیں اور کام کفار جیسا کرتے ہیں

Thursday, 11 June 2020

اکیلی جنت ہی نہیں دروازے کا بھی راضی ہونا لازم ہے



تحریر *غنی محمود قصوری*

اللہ رب العزت نے یہ کائنات ایک خاص مقصد کے تحت بنائی جس میں ان گنت مخلوق تخلیق کی اور اس ساری مخلوق میں سے اشرف المخلوقات حضرت انسان کو بنایا
انسان کا دنیا میں آنے کا مقصد ایک اللہ کی بندگی ہے اور اس خالق مالک رازق نے جو حکم دے دیئے وہ ماننا ہم پر فرض ہیں
اللہ تعالی نے ہمیں ایک مرد اور ایک عورت سے دنیا میں پیدا کیا اور حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے علاوہ پرندوں،چرندوں،درندوں غرضیکہ ہر مخلوق کے جوڑے بنائے اور ہمارے دنیا میں آنے کا سبب بھی یہی جوڑے یعنی ہمارے ماں باپ ہیں
اللہ تعالی نے ایک خاص نظام کے تحت ایک نطفے سے ماہ کے رحم میں بچے کی پرورش کی اور اس نطفے کا ذریعہ والد کو بنایا اس کے بعد بچے کی ماہ کے پیٹ میں پرورش ہوئی اور پھر نو ماہ بعد دنیا میں آنے کے بعد اس کے کھانے کا انتظام بھی اسی ماں کی چھاتی سے کیا اور اسی ماں کی چھاتی کو بچے کی پرورش کرنے کیلئے دودھ کا ذریعہ بنایا اور اس ماں کے کھانے کا اہتمام والد کے ذمے لگایا یوں ماں اور باپ دونوں بچے کی پرورش میں برابر کے شراکت دار ہیں اسی لئے اللہ رب العزت نے جہاں اپنی بندگی ،عبادت کا حکم دیا وہیں والدین کیساتھ حسن و سلوک کا بھی حکم دیا جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں وصیت کی کہ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو سال ہے ،کہ تو میری اور اپنے والدین کی شکر گزاری کر اور تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔۔سورہ لقمان آیت 34
یہ آیت ہم پر واضع کرتی ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی کا حکم دیا تو وہی والدین کے دکھ درد کا احساس دلاتے ہوئے ان کی شکر گزاری کا بھی حکم دیا اور کہا کہ ان پر احسان کرو کیونکہ تیری ماں نے دوران حمل ہزار ہا تکلیفیں برداشت کیں تیرے والد نے تیری والدہ کیلئے روٹی کپڑے کے علاوہ ادویات کا بندوست کیا تاکہ ماں کے پیٹ میں تو خوراک حاصل کر سکے اور دوران حمل لاکھ پرہیز کرکے تجھے تیری ماں نے جنم دیا اور دنیا میں آتے ہی تجھے ماں کی چھاتی سے دودھ کی صورت میں خوراک پہنچائی اور اس خوراک پہنچانے والی ماں کو تیرے والد نے روٹی کھلائی اچھے سے اچھا پھل کھلایا تاکہ وہ یہ چیزیں کھائے اور اپنے دودھ سے ان چیزوں کی طاقت تیرے جسم میں منتقل کرسکے
اور اب تو بڑا ہونا شروع ہو گیا تیرے والد نے تیری فرمائشیں پوری کرنا شروع کر دیں تجھے پڑھایا لکھایا بڑا آدمی بنایا اور تیری شادی کر دی اور پھر تجھ سے بنی نوع انسان کی پرورش کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اب وقت آ گیا کہ تجھے احساس ہونے لگا کہ تیری بیوی جسطرح دوران حمل تکلیف سے رہی اسی طرح تیری ماں بھی تکلیف سے تھی جسطرح تو اپنی بیوی کو ڈاکٹر کے پاس چیک کروانے لیجاتا ہے کہ تیرا بچہ مادر شکم میں تندرست رہے بلکل اسی طرح تیرا والد بھی تیری والدہ کو ڈاکٹر سے چیک کرواتا رہا اسے دوائی کیساتھ دودھ ،پھل لاکر دیتا رہا کہ میرے بچے کی پرورش اچھی ہو اس کیلئے جیسے تو محنت مزدوری کرتا ہے ویسے ہی تیرا والد تیری خاطر بغیر دن رات کی تمیز کئے محنت کرتا رہا اور تجھے اس قابل بنایا
یقیناً بچے کی پرورش ماں اور باپ دونوں پر فرض ہے اسی لئے
ماں کی گود کو بچے کی پہلے درسگاہ اور جنت ماں کے قدموں تلے بتائی گئی اور اس جنت کا دروازہ باپ کو قرار دیا گیا ہے
سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ
وہ تمہارے پاس بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نا کہو اور نا انہیں جھڑکو بلکہ ان کے ساتھ عزت سے بات کرو اور عجز و نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو
اللہ تعالیٰ نے والدین کی خدمت کا خاص حکم دیا تاکہ جیسے بچپن میں انہوں نے تمہاری پرورش کی اسی طرح تم بھی بڑھاپے میں ان کو سکون و راحت پہنچاؤ
ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟آپ کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو وہ والدین اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہیں اور جو بھلائی تم کرتے ہو یقیناً اللہ تعالی اس کو خوب جاننے والا ہے ۔۔سورہ البقرہ آیت 215
اس آیت میں ہم غور کریں تو اللہ تعالی نے ہمیں مال کو بھلائی کی خاطر خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور اس حکم میں سب سے پہلے نام والدین کا لیا ہے اس کے بعد پھر رشتہ دار مساکین و یتیم وغیرہ ہیں یعنی بھلائی کرنے میں بھی سب سے پہلے حقدار والدین ہی ٹھہرے ہیں باقی سب بعد میں
مذید احادیث رسول کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اگر والدین تمہاری ساری دولت یک مشت لے لیں تو یہ ان کا حق ہے تم ان کو برا بھلا نہیں کہہ سکتے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کے حقوق پر بہت زور دیا اپنے والدین تو اپنے کسی کے والدین کو بھی برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے
رسول اللہ فرماتے ہیں یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ کوئی شحض اپنے والدین پر لعنت بیجھے اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ کوئی اپنے والدین پہ لعنت کیسے بیجھے گا؟ تو نبی ذیشان نے فرمایا وہ شحض دوسرے کے باپ کو برا بھلا کہے گا تو دوسرا بھی اس کے باپ کو اور اس کی ماں کو برا بھلا کہے گا ۔۔صحیح بخاری 5973
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں بھی کسی کے ماں باپ کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا کیونکہ اپنے ماں باپ کے بدلے وہ اس کہنے والے کے ماں باپ کو برا بھلا کہا گے اور کسی کے والدین کو برا بھلا کہنے والے کو اپنے والدین کو برا بھلا کہنے کے مترادف قرار دیا ہے
آخرت میں جنت حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالی کے ماں باپ کا بھی راضی ہونا لازمی ہے کیونکہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے اور باپ اس جنت کا دروازہ اب جنت میں جانے کیلئے جنت والے یعنی ماں کا راضی ہونا لازمی ہے اور جب جنت یعنی ماں راضی ہو گئی تو پھر اس داخلے کیلئے دروازے کا کھلنا لازمی ہے اور جنت کا دروازہ باپ ہے اور دروازہ تبھی کھلتا ہے جب آنے والے پر کوئی ناراضی نا ہو
تو اگر جنت حاصل کرنی ہے تو اللہ رب العزت کو راضی کرنے کے بعد بندوں میں سے سب سے پہلے ماں باپ کا راضی ہونا لازم ہے پھر اس کے بعد دوسروں کے معاملات ہیں
اللہ تعالی ہمیں اپنی جنت اور اس کے دروازے کی خدمت کرکے انہیں راضی کرنے کی توفیق عطا فرمائے جنہوں نے لاکھوں دکھ درد سہتے ہوئے ہمیں اللہ تعالی کے بعد پالا پوسا پڑھایا لکھایا اور اس قابل کر دیا کہ ہم دنیا میں عیش و عشرت حاصل کر سکیں
جن کے ماں باپ حیات ہیں اللہ تعالی ان کی اولادوں کو انکی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے اور جن کے ماں باپ دنیا سے رخصت ہو چکے ان کی مغفرت فرمائے کیونکہ اسلام و توحید کے بعد یہ سب سے قیمتی اثاثہ ہیں
آمین

Monday, 1 June 2020

سانحات قصور کا اصل قصور وار کون؟


تحریر *غنی محمود قصوری*

قصور لاہور سے 55 کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے اس کا رقبہ 3995 کلومیٹر اور آبادی تقریبا 32 لاکھ ہے 2015 سے پہلے تک قصور پاکستان کا ایک انتہائی پر امن ترین شہر تھا
ضلع قصور کے قبرستانوں میں سینکڑوں شہداء پاک آرمی و شہداء پولیس کی قبریں موجود ہیں جو کہ اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ یہاں کے باشندے ار ض وطن اور اسلام کی خاطر جان دینے سے نہیں ڈرتے پاکستان کے نامور اور جید علماء کرام کی بہت بڑی تعداد بھی قصور سے ہی ہے اس کے باسیوں کو شرف حاصل ہے کہ پاک انڈیا جنگوں میں پاک آرمی کیساتھ مل کر انڈیا کے کھیم کرن شہر سے مال غنیمت حاصل کیا اور تحریک آزادی کے مجاھد شاہ اسماعیل شہید کی معاونت کیلئے قصور کے مجاھدین کا دستہ بھی ان کیساتھ محاذ حق و باطل پر ڈٹا ہوا تھا
اس شہر میں آج دن تک کوئی بم و خودکش دھماکہ اور تخریب کاری نہیں ہوئی جس کا سہرا قصور پولیس،ستلج رینجرز،پاک آرمی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سر ہے حالانکہ یہ شہر دشمن مُلک انڈیا کے بارڈر کے بلکل قریب واقع ہے مگر پھر بفضل تعالی اور اور ان اداروں کی محنت سے امن و امان قائم ہے
مشہور صوفی بزرگ بلہے شاہ کی نگری میں پورے پاکستان سے لوگ آتے ہیں جو کہ دربار پر حاضری کے بعد گنڈہ سنگھ بارڈر قصور پر پریڈ بھی دیکھتے ہیں اس پرامن شہر کو اچانک 12 اگست 2015 میں ایک دم پوری دنیا میں شدید بدنامی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سانحہ حسین خانوالا بنا جس میں 17 ملزمان کی طرف سے 200 سے زائد کم سن بچوں کیساتھ جنسی بدفعلی کے بعد ان کی پورن گرافی بنا کر اربوں روپیہ کمایا گیا اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے اور ملزمان کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کیا مگر بد قسمتی سے چند پولیس و با اثر افراد کی جانب سے بیشتر بچوں کے والدین کو ڈرا دھمکا کر کیس واپس لینے پر مجبور کر دیا گیا جس سے کیس کمزور ہو گیا جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلے 10 ملزمان بری ہوئے پھر مذید 4 اب صرف 3 ملزمان عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں
4 جنوری 2018 کو قصور شہر سے سات سالہ ننھی زینب گم ہوئی جس کے والدین ادائیگی عمرہ کیلئے گئے ہوئے تھے 9 جنوری کو معصوم زینب کی لاش اس کے گھر کے قریب کچرے کے ڈھیر سے ملی پولیس کی ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا کہ زینب کیساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے جس پر پورے پاکستان اور خاص طور پر قصور میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے ڈی پی او کو تبدیل کرکے زاہد نواز مروت کو ڈی پی او قصور تعینات کیا گیا اور تفتیش کا دائرہ کار وسیع کیا گیا جس میں 22 جنوری کو زینب کے محلے دار عمران نقشبندی کو تحویل میں لیا گیا جس کا ڈی این اے میچ کر گیا ملزم نے زینب کے قتل کیساتھ مذید 8 بچوں سے یہی قبیح حرکت کا اقرار کیا جس پر پورے ملک سے لوگوں اور ورثاء نے سرعام ملزم کی پھانسی کا مطالبہ کیا 12 فروری کو ملزم پر فرد جرم عائد کر دی گئی اور 15 فروری کو سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کر لیا گیا اسی سال 12 جون کو عدالت نے ملزم کو سزائے موت سنائی مگر سزائے موت عوامی مطالبے کے مطابق نا تھی
جون 2019 میں قصور کی تحصیل چونیاں میں 4 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جنہیں جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا جس پر ایک بار پھر لوگوں میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا اور اس شہر کی ایک بار پھر دنیا میں بدنامی ہوئی
مختصراً ملزم سہیل کو گرفتار کر لیا گیا جس نے چاروں بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا اور انکشاف کیا کے اس کیساتھ بھی بچپن میں جنسی زیادتی ہوتی رہی ہے اس سے قبل یہی ملزم 2011 میں بچے سے جنسی زیادتی کرتے پکڑا گیا تھا جس پر اسے عدالت نے 5 سال کی سزا سنائی تھی مگر وہ ڈیڑھ سال بعد ہی رہا ہو گیا تھا
چند دن قبل عید الفطر کے روز قصور کے نواحی قصبے کھڈیاں خاص میں ایک حاصر سروس پولیس اہلکار نے 18 سالہ حافظ قرآن نوجوان کو اس کے باپ اور بھائی کے سامنے اس لئے گولی مار کر قتل کر دیا کہ متوفی حافظ قرآن سمیع الرحمن ملزم معصوم علی کی جانب سے بدفعلی کرنے پر راضی نا تھا مگر ملزم بدفعلی کرنے پر بضد تھا اس پر ایک بار پھر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا جس پر قصور پولیس نے چند گھنٹوں بعد ہی ملزم معصوم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا
ان سارے واقعات کے تناظر میں دیکھتے ہیں کہ اصل قصور وار کون ہے کہ جس کی بدولت ایک ملزم پکڑا جاتا ہے تو دوسرا ملزم اسی بد عمل کی جرات کرتا ہے
ایک اندازے کے مطابق پاکستان بھر میں روزانہ 11 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان میں سے 31 فیصد کو زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے
انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ابتک پاکستان میں 112 جنسی زیادتی کے مجرموں کو سزا ملی ہے جن میں سے صرف 25 کو سزائے موت،11 کو عمر قید جبکہ باقی دیگر ملزمان کو انتہائی کم سزائیں ہوئی ہیں
پاکستان کی دفعہ 376 اور 377 کے تحت بچوں سے جنسی زیادتی کی کم سے کم سزا 10 سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید ہے سزائے موت جنسی زیادتی کیساتھ موت کی صورت میں ہو گی بصورت دیگر 10 سے 25 سال قید ہی ہے جس کی بدولت مجرم جرآت پاتے ہیں اور اس گھناؤنے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں
پاکستان میں بچوں سے بڑھتی ہوئی جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات میں ہماری عدلیہ بھی قصور وار ہے جو اپنی عدالت کی توہین پر تو فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزم کو فوری سزا دیتی ہے جبکہ ویڈیو ثبوت پیش کئے جانے کے باوجود بھی کیس کی سماعت مہینوں بعض مرتبہ سالوں تک چلتی ہے جس سے غریب مدعی بدظن ہو کر پیروی چھوڑ دیتے ہیں
حالانکہ قتل شد بندہ ایک دفعہ مرتا ہے مگر جنسی زیادتی کا شکار ہونے والا بچہ اور اس کے لواحقین پل پل مرتے ہیں مگر پھر بھی مجرم دو چار سالوں میں رہا ہو کر آجاتے ہیں دوسرا کردار پولیس و با اثر افراد کا ہے جو والدین کو ڈرا دھمکا کر کیس واپس لینے پر مجبور کرتے ہیں جس سے جنسی درندگی کے پجاریوں کو مذید ہمت ملتی ہے اس کے علاوہ چائلڈ پورن گرافی مافیا بھی ہے جو کروڑوں روپیہ اس بد عمل سے کما کر لاکھوں بطور رشوت دے کر بچ جاتا ہے
اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں انصاف پیسوں کے علاوہ کم ہی ملتا ہے
ہم مسلمان ہیں اور ہماری بقاء و سلامتی اسلامی نظام میں ہی ہے اسلام میں زانی کی سزا سنگسار اور رجم مقرر گئی ہے جبکہ قتل کے بدلے قتل کی سزا ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی چائلڈ پورن گرافی اور بعد از جنسی زیادتی قتل کو روکا جائے تو ہمیں اللہ کی نافذ کردہ حدود پر عمل کرنا ہوگا اپنے بنائے گئے 10 سالہ سزا کے قانون کو بدلنا ہوگا نیز جاگیرداری نظام کے سامنے ڈٹنا ہو گا کیونکہ یہی ان بے قصوروں کے اصل قصور وار ہیں
اس کے علاوہ سرحد پار سے اس پرامن شہر کے امن کو برباد کروانے کیلئے اندر سے کچھ بے ضمیروں کو خرید کر بچوں سے جنسی زیادتی کروا کر اس شہر کے امن کو برباد کروانے کا امکان بھی ہو سکتا ہے