Sunday, 18 February 2024

رحمت کو زحمت بنایا ہم نے ازقلم غنی محمود قصوری

 






لڑکی ہو یا لڑکا والدین پہ استطاعت کے مطابق اس کی پرورش و تربیت اور پھر شادی کرنا فرض ہے 

صنف نازک کا اسلام میں بڑا ہی اعلی مقام ہے جس کے متعلق اللہ رب العزت کے پیارے حبیب کا فرمان ہے کہ

 جس شخص نے دو یا تین بیٹیوں یا دو یا تین بہنوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں یا مر گئیں تو میں اور وہ جنت میں ایسے ہوں گے جس طرح دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔(صحیح ابن حبان)


ایک دوسری حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے دو بیٹیوں کی پرورش کی تو وہ اور میں اِس طرح جنت میں داخل ہوں گے جس طرح یہ دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں اُنگلیوں کو ملا کر بھی دکھایا(جامع ترمذی)

تاہم بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں اس کا الٹ مطلب کر دیا محض پرورش سے شادی تک باپ،بھائی کی ذمہ دار عورت کو مرتے دم تک والدین یا والدین کے رشتہ داروں پہ فرض کر دی گئی ہے

مثال کہ طور پہ ایک بچی ہوئی ماں باپ،بھائی،چچا جو بھی اس کا ولی بنا بلخصوص باپ، نے اس بچی کی اپنی حیثیت کے مطابق پرورش کی پھر اس کو پڑھا لکھا کر بیاہ دیا تو بیاہنے سے قبل ہی لڑکی والوں کیلئے لڑکے کیلئے تحفے تحائف کیساتھ لڑکے والے کے ماں باپ،بہن بھائی ودیگر رشتہ داروں کے کپڑے بنانا اور ان کو اچھا کھلانا پلانا لازم ہے وگرنہ منگنی سے جواب

پہ  بیاہنے پہ ہی اس لڑکی کے ہونے والے سسرال جہیز کی ڈیمانڈ  کرتے اور پھر جہیز کیساتھ لڑکے والوں کے خاندان کے کپڑے وغیرہ بنائے جاتے ہیں کہ ہمارے بیٹی کو سسرال میں کوئی بات نا کرے اور ہماری بیٹی سکھی بستی رہے

نیز اس کے بعد شادی کے پہلے دن سے شروع ہونے والی رسومات جو کہ پہلی عید،پہلی شب برات و دیگر ایام تک چلتی ہے ان کو پورا کرنا بھی لڑکی والوں پہ لازم ہے تاکہ بیٹی سسرال میں کسی کی بات اور طعنے نا سنے

اس کے بعد اس لڑکی کو رب کی رحمت ہونے پہ یعنی حاملہ ہونے پہ سسرال والے والدین کے ہاں بھیج دیتے ہیں جو کہ سراسر زیادتی و ظلم ہے پھر جب بچہ ہو گیا تو اس پیدا ہونے والے نومولود کی رسمیں بھی ننھیال کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہیں

مذید رسموں پہ بھی لڑکی والوں کا خرچ کروایا جاتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے

اب اس لڑکی کے بچے جوان ہونے پہ جب ان بچوں کی شادیاں کرنی ہوتی ہیں تو پھر سے ننھیال کو بتلایا جاتا ہے کہ اتنا عرصہ قبل آپ نے ہمارے مطالبات پورے کئے تھے اب ایک بار پھر بطور ننھیال آپ پہ لازم ہے کہ اپنی نواسی یا نواسے کی شادی پہ فلاں فلاں چیزیں دیں

حتی کہ جب وہ عورت مر جاتی ہے تو اس کے مرنے پہ اس کے لواحقین مثلاً باپ،بھائی،بتیجھے وغیرہ پہ لازم ہوتا ہے کہ اس عورت کی وفات پہ کھانا دے وگرنہ طعنے ملتے ہیں کہ یہ تو بے وارث مر گئی اس کی روٹی ہم کیوں دیں؟

مطلب کہ عجیب معاملات ہیں جو بیٹی رحمت ہے جس کی پرورش سے شادی تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی بشارت ہے اس رحمت کو ہم نے اپنی رسم و رواج کے باعث زحمت بنا دیا ہے

جو غریب دو وقت کی روٹی ٹھیک سے نہیں کما پاتے اور جن کے اپنے گھروں میں فاقے ہوتے ہیں ان پہ اپنی بیٹیوں کے گھروں کو بسانے کے لئے یہ سب کرنا لازم ہوتا ہے جو کہ غیر شرعی اور غیر اخلاقی ہے 


اگر مطالعہ اسلام کیا جائے تو شادی کے بعد عورت کا اصل وارث اس کا شوہر ہے اور اس شوہر پہ لازم ہے کہ زندہ رہنے سے مرنے تک اس عورت کی ہر جائز ضرورت پوری کی جائے مگر افسوس ہمارے ہاں سب الٹ

آپ لوگ بیٹے کی پیدائش پہ فکر مند ہو جاتے ہیں کہ اتنا کچھ ساری زندگی وہ کیسے کر سکیں گے

خدارا اس رحمت کو زحمت نا بنائیں اور غیرت مند مرد بن کر ان فضول رسم و رواج کو ختم کریں اور اپنی بہنوں بیٹیوں کو وراثت میں حق ادا کریں ناکہ ان فضول رسموں کے نام پہ ان کا حق کھا جائیں کہ ہم نے تو اتنے پیسے شادی پہ لگائے اور اتنی فلاں رسموں پہ

خدارا سوچئیے اور اس نظام کو بدلنے کی کوشش کریں

Sunday, 4 February 2024

یوم یکجہتی کشمیر بھی اور بزور شمشیر بھی ازقلم غنی محمود قصوری

 



موجودہ مقبوضہ کشمیر کی تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو ہر دن ہندو پلید کا ظلم ہی نظر آئے گا کشمیری قوم پہ،مگر اس سے قبل ہندو کی طرح انگریز و سکھ مہاراجاؤں کا انتہائی ظلم بھی کشمیری قوم برداشت کر چکی جو کہ تاریخ میں انتہائی مکروہ الفاظ میں رقم ہے


ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1846 میں معائدہ امرتسر جسے ٹریٹی آف امرتسر بھی کہا جاتا ہے، کہ عیوض سکھ ظالم جابر سکھ مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کے بعد آنے والے کشمیری مہاراجہ گلاب سنگھ سے ساز باز کرکے اس وقت کے سکہ رائج الوقت تقریباً 75 لاکھ میں کشمیر کا سودا کیا 


حالانکہ ہارا سکھ مہاراجہ تھا مگر قیمت کشمیری قوم کی آزادی سے ادا کی گئی


کشمیری مہاراجہ گلاب سنگھ اتنا خبیث انسان تھا کہ اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جنرل سر ہنری ہارڈنج نے اپنی بہن کو 2 مارچ 1846 کو ایک خط لکھا جس میں اس نے یہ الفاظ لکھے کہ میں نے براعظم ایشیاء میں گلاب سنگھ سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں دیکھا


فروری 1989 میں روسی  فوج کے افغانستان سے ذلت آمیز انخلاء سے روس کے خلاف برسر پیکار دنیا بھر کے مجاھدین اور بلخصوص پاکستانی مجاھدین ( جن میں سے کچھ آزاد و مقبوضہ کشمیر سے بھی تھے) نے محسوس کیا کہ جسطرح روس کے خلاف مسلح کاروائی کی گئی اور وقت کی ایک سپر پاور روس کو ذلت امیز سکشت کے بعد بھاگنے پہ مجبور کیا گیا افغانستان سے، اسی طرح مقبوضہ کشمیر سے ہندو ظالم کو بھی بھگانا لازم ہے

گو اس سے قبل ریاستی انتخابات رزلٹ کے بعد مقبوضہ کشمیر کے نوجوان ہندو کے خلاف ہتھیار اٹھا چکے تھے تاہم وہ بہت کم تھے اس لئے ان کو مالی اور افرادی قوت مہیا کرنا لازم تھا

بابائے کشمیر امان اللہ خان مرحوم نے اپنی وفات سے قبل اپنی کتاب جہد مسلسل کی تقریب رونمائی میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ اس وقت کے آئی ایس آئی چیف سے ہم کشمیریوں نے استدعا کی تھی کہ کشمیر کی تحریک کو مسلح تحریک میں بدلہ جائے تاکہ نوجوان میں جذبہ جہاد ابھرے جس پہ پاکستانی فوج نے بھرپور تعاون کیا


کشمیر کی تاریخ ہندو کے ظلم و بربریت سے بھری پڑی ہے جس پہ ہم اگر یوم سیاہ اور یوم یکجہتی منانا شروع کریں تو شاید ہی سال میں کوئی ایسا دن ہو گا کہ جس میں ہندو کے ظلم سے کشمیری قوم محفوظ رہے ہو گی وگرنہ ہر دن بلکہ ہر گھنٹہ،ہر منٹ بعد ہندو ظالم نے کشمیری قوم پہ ایسا ظلم کیا کہ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا ظلم و ستم دیکھا ہو 


جہاں کشمیری قوم کی مسلح معاونت ضروری ہے وہاں پوری کشمیری قوم کیساتھ یکجہتی کا دن منانا بھی لازم ہے تاکہ دنیا کو ایک پیغام مل سکے کہ جہادی میدان کیساتھ عام روٹین میں بھی کشمیری قوم پاکستانی قوم کے دلوں میں بستی ہے 


جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد اور آزاد کشمیر کے صدر سردار محمد ابراہیم خان کی کاوشوں سے  1975 میں اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری 1975 کو کشمیری قوم کیساتھ بطور یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا  اور پہلے یوم یکجہتی کشمیر کے دن  کی تاریخ پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ یہ احتجاج اس قدر سخت تھا کہ پورے پاکستان و آزاد کشمیر میں نا تو کوئی دکان کھلی نا کوئی دفتر حتی کہ لوگوں نے اپنے مال مویشیوں کو اس دن پانی تک نا پلایا اور اقوام عالم سے کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کیا 


اس کے بعد 1990 میں قاضی حسین احمد نے یوم یکجہتی کشمیر کا ایک دن مخصوص کرنے کی خاطر اس وقت کے وزیراعلی پنجاب میاں نواز شریف سے مشاورت کی جس پہ میاں نواز شریف نے تائید کی حتی کہ اس وقت کی وزیراعظم بےنظیر بھٹو نے بھی تائید کی اور 5 فروری 1990 کو مسلح عسکری تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کی تائید کرتے ہوئے 5 فروری کو ہر سال یوم یکجہتی کشمیر منانے کا باقاعدہ اعلان کیا  پھر اس کے بعد 2004 میں اس وقت کے وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے بھی اس کی تائید کی اور اس دن کو پورے جوش س جذبے سے منانے کی رغبت دلائی


یوم یکجہتی کشمیر کا دن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم کشمیری قوم کی مسلح تحریک آزادیِ کشمیر کی حمایتی ہے اور اقوام عالم سے اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ کشمیر کو آزادی دی جائے 

واضع رہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے مابین تین جنگیں 1948,1965 اور کارگل جنگ 1999 مسئلہ کشمیر کے لئے ہی لڑی گئی ہیں جبکہ 1971 کی جنگ بنگلہ دیش کی خاطر تھی



Friday, 2 February 2024

76 سالہ امام دین کے ووٹ کی طاقت ازقلم غنی محمود قصوری

 




لاہور شہر  میں رہنے والا نان ٹکی فروش امام دین کا تعلق بھارتی پنجاب کے ضلع امرتسر سے تھا

1947 میں تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد امام دین کا والد ابراہیم اپنی بیوی غلام فاطمہ و خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ ایک ماہ کے شیر خوار بچے امام دین کو لے کر پاکستان کی طرف عازم سفر تھا کہ بلوائیوں نے حملہ کیا جس میں امام دین اور اس کی ماں غلام فاطمہ کے علاوہ اس کا ایک ماموں زندہ بچ کر لاہور پہنچنے میں کامیاب ہوئے باقی خاندان کے درجن بھر سے زائد افراد بشمول ابراہیم شہید ہوگئے

غلام فاطمہ کے شوہر نے اپنی 14 ایکڑ زمین ہندوستان میں چھوڑی تاکہ عزت و غیرت اور اسلامی زندگی بسر کرنے میں آسانی ہو

جو کہ ان کو ہندوستان میں رہتے ہوئے میسر نا تھی سو اسی خاطر اپنی جاگیر چھوڑ کر  پاکستان کا رخ کیا تھا


امام دین بتاتا ہے کہ میری ماں نے کبھی اپنے خاوند کے 14 ایکڑ زمین کا تذکرہ نہیں کیا تھا کیونکہ جب زمین آباد کرنے والا ہی چلا گیا تو زمین کا کرنا ہی کیا تھا 

غلام فاطمہ نے محنت مزدوری کرکے امام دین کا پیٹ پالا اپنی ہمت کے مطابق اس کو پرائمری تک پڑھایا

مارچ 1951 کو پاکستان کے پہلے صوبائی انتخابات پنجاب میں غلام فاطمہ نے ووٹ ڈالا اور ووٹ کی طاقت کو آزمایا پھر 1970 میں  پاکستان کے پہلے عام انتخابات میں امام دین نے اپنی ووٹ کی طاقت کو آزمایا اور بھرپور جوش و جذبے کیساتھ ووٹ ڈالا

اسے امید تھی کہ عوامی اسمبلی بنے گی اور مذید خوشحالی آئے گی تاہم ایسا کچھ نا ہوا 

امام دین اپنی نان ٹکی کی ریڑھی لگا کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا رہا اب تو اس کی ماں غلام فاطمہ بھی ووٹ کی طاقت آزمانے کے بعد دار فانی سے کوچ کر چکی تھی اور جاتے جاتے اس کی شادی کر گئی تھی

خیر وقت گزرتا گیا اور امام دین اپنی ووٹ کی طاقت آزماتا گیا کہ کبھی نا کبھی اس کی ووٹ کو عزت ملے گی  وہ نا سہی  اس کے بچے ہی سرکاری نوکری حاصل کر لینگے سرکاری نوکری نا سہی صحت کی اچھی سہولیات مل جائیں گیں اور دوسرے ملکوں کی طرح امام دین کو بڑھاپے میں گورنمنٹ کی طرف سے وظیفہ ہی مل جائے گا تاکہ وہ بغیر مشقت کئے اپنا بڑھاپا کاٹ سکے

 مگر بے سود رہا 


 امام دین کا کہنا ہے کہ اس نے وزیر اعظم پاکستان ،ذوالفقار علی بھٹو،محمد خان جونیجو،بے نظیر بھٹو،نواز شریف،ظفراللہ خان جمالی،چوہدری شجاعت حسین،شوکت عزیز،یوسف رضا گیلانی،راجا پرویز اشرف، پھر سے نواز شریف،شاہد خاقان عباسی،عمران خان اور اب شہباز شریف تک کیلئے ووٹ کی طاقت کو آزمایا مگر کچھ نا پایا

وہ کہتا ہے میں نے بہت نعرے مارے کہ فلاں زندہ باد فلاں پائندہ باد فلاں یہ کچھ کرے گا اور فلاں یہ کرے گا مگر سب نے اپنی ہی فکر کی کسی نے غریب کا کچھ نا سوچا بلکہ جو بھی آیا پہلے سے ظالم بن کر آیا

امام دین کہتا ہے کہ جب وہ چھوٹا تھا اور پاکستان بھی نیا نیا بنا تھا تب بغیر ووٹ کے 1970 تک پاکستان اچھا خاصہ چل رہا تھا

عزت کی روٹی کمائی اور کھائی جاتی تھی

مال و جان محفوظ تھے تاہم جیسے جیسے ووٹ ڈالتے گئے ملک مقروض ہوتا گیا اور ذلت و رسوائی بڑھتی گئی اور ہم غریب لوگ غریب ہی رہے جبکہ سرمایہ دار لوگ وزارتیں لے کر مذید امیر سے امیر تر ہوتے گئے حتی کہ اس کے ہم عمر لوگ بہت سی وزارتوں کیساتھ بہت سی ملوں اور جاگیروں کے مالک بن گئے اور میں نان ٹکی کی ریڑھی سے اسی ریڑھی تک رہا 

ہاں مگر خودداری ہے کسی سے مانگتا نہیں چاہے کم سہی مگر اچھا اور حلال کماتا ہوں اب میرے پوتے پوتیاں،نواسے نواسیاں بھی ہیں جو پڑھ رہے ہیں میرے بچے بھی پڑھے ہیں ایک بیٹا دبئی میں محنت مزدوری کرتا ہے مگر یہ سب مجھے ووٹ نے نہیں دیا بلکہ حق حلال کی کمائی نے دیا ہے اگر ووٹ کی بدولت ایسا ہوتا تو مجھے بھی علاج کی اعلی سہولیات ملتیں ،میرے بھی بچے بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے،ہماری بھی بڑی سی کوٹھی ہوتی اور اگر ووٹ میں اتنی ہی طاقت ہوتی تو ہندوستان میں چھوڑ کر آنے والی 14 ایکڑ مجھے زمین ملتی 


امام دین کہتا ہے کہ ووٹ کی کوئی طاقت نہیں طاقت جاگیر و چوہدراہٹ کی ہے اگر ووٹ کی طاقت ہوتی تو آج مجھے کچھ ملا ہوتا اگر مجھے کچھ نا بھی ملا تو میرے بچوں کو تو ضرور ملتا

میں نے سوال کیا بابا امام دین اب کی بار کسے ووٹ ڈالوں گے وہ کہنے لگا ابھی بھی ووٹ کی طاقت پہ امید رکھنا میرے لئے بہت بڑا جرم ہو گا

ہاں ووٹ ڈالو مگر اس کو طاقت نا سمجھو

اگر ووٹ میں طاقت ہوتی تو 1970 کے عام انتخابات سے پہلے صرف پنجاب اسمبلی کے لئے 1951 میں انتخابات ہوئے تھے اس قبل  23 سال تک مملکت پاکستان بغیر ووٹ کے بہت اچھے سے چلتا بھی رہا اور پھلتا بھی رہا جیسے ہی ووٹ کی طاقت آزمائی شروع ہوئی تو اس  کا حال دیکھ لیں قرضہ دینے والا ملک اب خود مقروض ہے 

 

بابا امام دین کہتا ہے اب ووٹ کی طاقت آزمانے کو میرا دل نہیں کرتا کیونکہ ووٹ کی طاقت جیتے امیدوار کو طاقت و تقویت دیتی ہے نا کہ ووٹر کو اگر ووٹ سے طاقت ہوتی تو میرے خاندان کے لوگ ہندوستان سے ہجرت کرتے ہوئے شہید نا ہوتے ہاں طاقت خودداری میں ہے رزق حلال میں ہے اللہ سے لگاؤ میں ہے آپ ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں ضرور ڈالیں مگر سوچ لیں بغیر کمائے آپ کا گھر ووٹ نہیں چلا پائے گی