شرمندگی آداب رسومات کے باعث ازقلم غنی محمود قصوری
گزشتہ دن میڈیا پہ ایک رپورٹ آئی جس کے مطابق اس وقت پاکستان میں 1 کروڑ عورتوں کی تعداد ایسی ہے جو کہ 35 سال سے زیادہ عمر کی ہو چکی ہیں اور ان کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی
بطور ایک مسلمان ملک یہ بہت حیرت و تشویش والی بات ہے کہ اتنی عمر میں بھی نکاح نا ہو سکنا کس قدر غلط اور خطرناک ہے
آئیے پہلے ہم بات کرتے ہیں پاکستان کی آبادی پر
اس وقت پاکستان کی کل آبادی تقریباً ساڑھے 24 کڑور کے قریب ہے جس میں مردوں کی تعداد 51 فیصد،عورتوں کی تعداد 48.76 فیصد اور خواجہ سراؤں کی تعداد 0.24 فیصد ہے
یعنی اعداد و شمار کے مطابق 100 خواتین واسطے 105 مرد موجود ہیں
اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا 64 فیصد 30 سال سے کم عمر جوانوں پہ مشتمل ہے
20 فیصد کی عمریں 15 اور 15 سال کے درمیان ہیں یعنی وہ نوجوان ہیں
اس کے باوجود 36 فیصد خواتین کنواری بیٹھی ہیں جو کہ بہت تشویش کی بات ہے
اس کے بعد بہت زیادہ تعداد بیوہ اور طلاق یافتہ عورتوں کی ہے کہ دوسری شادی نا کرسکی کہ جن کا اسلامی و قانونی حق ہے دوسری شادی کرنا مگر ان کو ان کا حق نہیں ملتا اور وہ دوسروں پہ بوجھ بن کر زندہ رہتی ہیں
جوان مرد و عورت کے کنوارے رہنے کا نتیجہ معاشرے میں زناء کی صورت میں نکلتا ہے اور زناء ایسا قبیع فعل ہے جس سے معاشرے میں فسق و فجور کیساتھ نت نئی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور معاشرے میں بے حیائی کیساتھ بربادی و تنزلی کا طوفان آتا ہے
اب سوچئے کہ 1 کروڑ عورتیں جن کی شادی کی اصل عمر بھی گزر چکی وہ ہر روز کس قرب و اذیت سے گزرتی ہونگیں؟
آج کے حالات تو ہم نے رسم و رواج کے تابع ہو کر یہ بنا لئے کہ نوجوان لڑکیوں کی شادی بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس کے باعث والدین کو نیند نہیں آتی اور سوچ سوچ کر کئی والدین خودکشی کر لیتے ہیں تو وہاں ان بڑی عمر کی خواتین سے کون شادی کرے گا؟
در اصل ہمارے معاشرے کی بربادی کا آغاز دین سے دوری سے ہوا اور دین سے دوری کے باعث ہم نے رسم و رواج کو پروان چڑھا کر اپنے حلال کاموں کو مشکل بنا لیا جس میں سے ایک اہم ترین فرضی کام نکاح بھی ہے
نکاح اس قدر اہم ہے کہ اس بابت حدیث رسول ہے
من قدر على ان ينكح، فلم ينكح، فليس منا"
ترجمہ۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:،جو شخص قدرت نکاح کے باوجود نکاح (شادی) نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں
یعنی اس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ اور دین اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں
آج نکاح بہت مشکل ہو چکا ہے
غریب بندہ بھی دس لاکھ تک لڑکی کی شادی کر پاتا ہے
سب سے بڑی لعنت جہیز ہے پھر اس کے بعد دیگر فضول رسم و رواج کہ جن کا دین اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں
دوسرا سب سے بڑا المیہ ہماری بے جا ذاتی خواہشات ہیں
جیسے کہ ہر لڑکے کو بہت خوبصورت،پڑھی لکھی اور جوان لڑکی چائیے اور اسی طرح ہر لڑکی کو خوبصورت ،پڑھا لکھا اور بہت پیسے والا مرد چائیے جس کے باعث زیادہ تر لڑکیاں شادی سے محروم رہ جاتی ہیں کیونکہ اکثر مردوں کو بڑی عمر میں بھی کم عمر لڑکیاں مل جاتی ہیں اور ان کا گھر بس جاتا ہے مگر اس کے برعکس بڑی عمر کی عورت کو کم عمر مرد قبول نہیں کرتا
ہاں اگر بڑی عمر کی عورت کے پاس پیسہ ہو تو پھر وہ عورت اس حور لگتی ہے مطلب محبت عورت سے نہیں پیسے سے
شادی کرتے وقت بطور مسمان ہمیں اس حدیث کی رو سے یہ حکم ہے کہ
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نکاح کے ذریعے دولت تلاش کرو
جگہ ارشاد ربانی ہے کہ
تم میں سے جو مرد و عورت بے نکاح ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام لونڈیوں کا بھی، اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا اللہ تعالی کشادگی والا علم والا ہے النور 32
یعنی اسلام نے نکاح کے ذریعے سے امیر ہونے کا طریقہ بتایا اور ہم نے لالچ میں اسے پس پشت ڈال کر جہیز کی لالچ میں نکاح کو مشکل بنا لیا
جبکہ حکم ہمیں ہے دینداری دیکھنے کا اور ہم نے حسن و جمال کیساتھ اعلی خاندان و پیسے کو حجت بنا لیا
ہماری عادت ہے کہ ہم مارکیٹ سے کوئی چیز خریدنے جائیں تو مطلوبہ برینڈ کی چیز اگر میسر نہیں تو اس کے متبادل کوئی اور چیز خرید لیتے ہیں
اگر اس چیز میں کوئی کمی کوتاہی ہو بھی تو ہم اس چیز کو ضائع نہیں کرتے بلکہ اس سے کام لیتے ہیں اور گزارہ کرتے ہیں مگر نکاح کے معاملات میں ہمارا یہ حال ہے کہ رشتہ دیکھنے جاتے وقت ہماری ڈیمانڈز پوری نا ہو تو ہم جواب دے دیتے ہیں اور ساری زندگی اسی طرح اپنے لئے دیکھتے دکھاتے گزار دیتے ہیں مگر کسی کی بیٹی سے گزارہ نہیں کر پاتے
اگر کوئی مرد و عورت ایسا کر بھی لے تو کچھ عرصہ بعد نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے اور پھر طلاق یافتہ مرد و عورت خاص طور پہ عورت زمانے کی نظروں میں بیکار ہو جاتی ہے اور بقیہ زندگی ماں باپ،بہن بھائیوں کی چوکھٹ پہ بوجھ بن کر گزار دیتی ہے
یہی ہماری اخلاقی،سماجی،اسلامی زوال کا اصل سبب ہے
دوسرا بڑا مسئلہ دوسری،تیسری اور چوتھی شادی کو جرم قرار دینا ہے
سوچئیے اگر جو مرد قدرت و طاقت رکھتے ہیں وہ دوسری یا اس سے زیادہ شادی اسلام کی رو سے کرنا شروع کر دیں تو کیا پاکستان میں کنواری بیٹھی 1 کروڑ عورتیں بیاہی نا جائیں گیں؟
جی بلکل مگر یہاں بھی سب سے بڑی رکاوٹ عورت کے راستے میں عورت ہے اور وہ عورت یہ ڈکٹیشن فلموں اور ڈراموں سے لیتی ہے
اگر ہم نے نکاح کو عام کرنا ہے تو ان فضول رسموں کو ختم کرکے اسلامی طریقہ اپنانا ہو گا بصورت دیگر بن بیاہی 1 کروڑ عورتوں کی بدعائیں نا تو ہمارے گھروں میں خوشحالی آنے دینگیں نا ہی ہمارے اعمال میں برکت ہوگی



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home