Sunday, 30 August 2020

شان بیت المقدس اور یہودی چال از قلم ،,,, غنی محمود قصوری


 ہم نے تقریباً سولہ یا سترہ مہینوں تک نبی کریمﷺ کے ساتھ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں پھر ہمارا قبلہ کعبہ کو مقرر کردیا گیا (بخاری: ۳۳۹۲)

مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس کئی عشروں سے اسرائیل کے قبضہ میں ہے یہودی شروع دن سے ہی مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں حتی کہ پوری انسانیت کیلئے شفیق نبی محمد کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شہید کرنے کی کوشس بھی یہودیوں نے ہی کی یہ جانتے ہوئے بھی کہ محمد ذیشان نے ہمیں (یہودیوں) اور مسلمانوں کے پینے کے لئے پانی کی قلت کے باعث کنواں اپنے اصحاب کے ذریعے خرید کر دیا مگر پھر بھی تنگ ذہن یہودی اپنی گندی سوچ کو نا بدل سکا حضرت صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے یہودیوں سے بیت المقدس واپس لیا تو اس کے بعد مسلمانوں کی جہاد سے دوری کی بدولت بیت المقدس دوبارہ یہودی کے ہاتھوں چلا گیا اور مسلمانوں کو یہ دن بھی دیکھنا پڑا کہ کافر فوجیوں نے مسلمانوں کا خون اس قدر بہایا کہ گھوڑوں کے گھٹنے مسلمانوں کے خون میں ڈوبے ہوئے تھے اور وہ عظیم جرنیل ایوبی کہ جس کے سامنے پوری دنیا کی کافر قوتیں نا ٹھہر سکیں اس فوج کا جرنیل دمشق میں سلطان ایوبی شہید کی قبر پر چھڑی مار کر بولا اٹھ ایوبی ہم نے تیرے ورثاء سے بیت المقدس واپس لے لیا

 اور المیہ ہے کہ تاحال یہودی ہی بیت المقدس پر قابض ہیں اور ہمارے مسلمان بہن بھائیوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہیں ہمارے فلسطینی مسلمانوں یہودی ٹینکوں اور گولیوں کا مقابلہ پتھروں سے کر رہے ہیں اور اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر صیہونی عزائم کی راہ میں عرصہ دراز سے رکاوٹ بن کر کھڑے ہیں نبی کریم کا ارشاد مبارک ہے  ,کفر ایک ملت ہے چونکہ نبی محترم خود صلیبیوں سے برسر پیکار رہے

غزوہ بنو قینقاع،غزوہ نضیر میں یہودیوں کو ایسا جواب دیا جو کہ  یہودی آج دن تک بھول نہیں پائے اس لئے میرے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کی گندی فطرت سے زیادہ آگاہ ہیں اور اپنی امت اس بد خصلت یہودی کی سازشوں سے امت کو آگاہ بھی کیا مگر افسوس ہمارے حکمرانوں اور علماء نے اس فرمان کو سنجیدہ نا لیا اور آج امریکہ کو یہ جرأت ہوئی کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دے رہا ہے  اور ہمارے مسلمان حکمرانوں کو ڈرا دھمکا کر اسرائیل جیسی ناپاک گندی ریاست کا وجود تسلیم کروا رہا ہے جس کی تازہ مثال دبئی کا اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے 

اس ساری صورتحال کی وجہ ہماری آپسی تفرقہ بازی اور جہاد سے دوری ہے ورنہ اسرائیل جانتا ہے عرب اسرائیل جنگ میں افواج پاکستان نے یہودی افواج کا کیا حشر کیا تھا

اس کا ڈمونا ایٹمی پلانٹ پاکستان ائیر فورس کے جانبازوں نے ون وے مشن کرکے تباہ کر دیا تھا ورنہ آج اسرائیل دنیا ہر ایک ایٹمی قوت ہوتا اور پوری دنیا پر قابض بھی

 پہلے پہل اس امت میں اور خاص کر ہمارے حکمرانوں میں درد امت کچھ حد تک باقی تھا یہودی اور عیسائی جان گئے تھے کہ جب تک مسلمانوں میں اتحاد باقی ہے ہم مقبوضہ علاقوں فلسطین و کشمیر پر اپنا قبضہ قائم نا رکھ سکیں گے اسی لئے انہوں نے ہمیں اندر سے پھاڑا اور امت محمدیہ کو فرقوں ,قوموں ,لسانیات اور جمہوریت میں الجھا کر رکھ دیا تاکہ مسلمان آپس میں ایک ہو کر فرمان محمد کریم پر عمل پیرا ہو کر ہماری راہ میں رکاوٹ نا بن سکیں مگر افسوس تو اپنے مسلمان حکمرانوں اور علماء پر ہے کہ جنہوں نے امت کو اکھٹا کرنا تھا آج وہی خود بکھرے پڑے ہیں مگر کوئی بات نہیں ان شاءاللہ اسی امت میں سے چند اللہ کے بندے جو رب کریم کے فرامین کو پڑھ کر  سمجھ کر  میدانوں میں نکلے ہیں ان شاءاللہ امریکہ اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجائینگے اور کافروں پر اپنا رعب طاری کرتے رہینگے ہاں آج ضرورت اس امر کی ہے ہم بھی اپنے بیت المقدس کی حرمت پر مرمٹنے کو تیار ہو جائیں اور اپنی جانوں اور مالوں کیساتھ برسر پیکار فلسطینی عسکری تنظیمون کا ساتھ دیں 

بس ایک آدھ کالم لکھ کر اور سڑک پر احتجاج کر کے  ہم بری الذمہ نہیں ہوسکتے کیونکہ ابھی فلسطین اور قبلہ اول یہودی شکنجے میں ہے اور یہودی ظالم ہمارے وہن میں مبتلا مسلمان حکمرانوں کو ڈرا دھمکا کر اپنا وجود تسلیم کروا رہا ہے تاکہ باآسانی یہودی بابری مسجد کی طرح قبلہ اول کو ہیکل سلیمانی کے بہانے اپنے مکمل قبضے میں کر لے  

مسلمانوں اس مقدس گھر کی شان ہے کہ رسول عربی نے معراج کی رات تمام انبیاء کو اسی مقدس گھر میں باجماعت نماز پڑھائی محمد عربی  کے فرمان کے مطابق بیت المقدس میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب دس ہزار اور ایک روایت میں پچاس ہزار نمازوں کے برابر ثواب ہے

تو سمجھ سمجھاؤ مسلمانوں و حکمرانوں قبلہ اول تمہیں پکار رہا ہے 

اذان ہی دے کہ  سو نا جانا

ابھی فلسطین تک ہے جانا

Saturday, 22 August 2020

مظلوموں کی پکار اور ہماری بے حسی از قلم ،،، غنی محمود قصوری

 گھڑی ہر وقت اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے  اور ہمیں وقت بتلاتی رہتی  ہے اور اس وقت کا پتہ تب ہی چلتا ہے جب ہم نظر گھڑی کی طرف دیکھیں  آج ہم ہر کام گھڑی دیکھ کر کرتے ہیں دن ہو یا رات وقت دیکھنے کیلئے گھڑی کا سہارا لیا جاتا ہے آج دور حاضر میں روایتی گھڑیوں کے بجائے موبائل فون پر ہی وقت دیکھ لیا  جاتا ہے کوئی جیئے یا مرے وقت نہیں رکتا اور نا ہی ہمیں وقت کا احساس ہوتا ہے زیادہ تر گھروں میں آج بھی وال کلاک کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ ہلکا سا ٹک ٹک کا شور کرتا ہے مگر دن میں ہمیں اس شور کا احساس نہیں ہوتا مگر جو ہی رات ہوتی ہے اور خصوصا آدھی رات کو جب لوگ بستر پر لیٹ کر آرام کرتے ہیں تب گھڑی ہمیں ٹک ٹک کر کے اپنے وجود اور وقت گزرنے کا احساس دلاتی ہے حالانکہ وہی گھڑی سارا دن بھی ٹک ٹک کرتی ہے مگر ہم گھڑی کی ٹک ٹک سن نہیں سکتے ایسا اس لئے ہیں کہ ہم اس وقت اپنے کام کاج،  دوستوں ,رشتہ داروں اور فیملی میں مگن ہوتے ہیں اور دن کو رات کی نسبت کافی شور ہوتا ہے اور یوں ہم گھڑی کی آواز نہیں سن پاتے رات کو

ایسا ہی حال کچھ مظلومین کا ہے آج پوری دنیا میں عالم اسلام پر کشت و خون کا کھیل کھیلا جا رہا ہے مگر اس گھڑی کی آواز سننے سے قاصر ہم آج بھی اپنی ہستی اپنی مستی میں مگن ہیں ہمیں ان مظلوموں کی صدا کی پرواہ نہیں یہ صدائیں یہ دلدوز آئیں ہمارے پڑوس کشمیر سے بھی آ رہی ہیں اور یہ فلسطین سے بھی یہ شام سے بھی آ رہی ہیں اور افغانستان سے بھی مگر یہ ہمیں سنائی نہیں دے رہیں کیونکہ ہم خوشحال ہیں ہماری خوشحال اور امن و امانی ان صداؤں پر حاوی ہو چکی ہے مگر ہم بھول گئے وقت بدلتے دیر نہیں لگ وقت کبھی رکتا نہیں یہ تو چلتا ہی جاتا ہے آج ان پر برا وقت ہے تو خدانخواستہ کل کو ہم پر بھی یہ برا وقت آ سکتا ہے 

کیونکہ فرمان باری تعالی ہے 

"کیا لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دینگے؟ ان سے پہلوں کو بھی ہم نے خوب آزمایا تھا یقینا اللہ تعالی انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی جو معلوم کرلے گا جو کہ جھوٹے ہیں" العنکبوت1-2

اس آیت مبارکہ سے اللہ تعالی نے واضع کر دیا کہ اللہ تعالی کسی کو بھی کسی بھی وقت کسی بھی ذرائع سے آزما سکتا ہے 

آج اللہ تعالی کشمیریوں،فلسطینوں،شامی اور افغانیوں پر کفار کو مسلط کر کے آزما رہا ہے جبکہ دوسری جانب اللہ تعالی ہمیں عیش و عشرت دیکھ کر آزما رہے تو ہمیں اللہ کے خوف سے ڈرنا چاہیئے کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں

پھر ہم نے بدحالی کی جگہ خوش حالی کو بدل دیاحتیٰ کہ وہ خوب بڑھ گئے اورانہوں نے کہا:  بلاشبہ دُکھ سکھ توہمارے باپ دادا کوبھی پہنچے تھے۔تو ہم نے اُن کواچانک اس حال میں پکڑلیاکہ وہ سوچتے نہ تھے

سورہ الااعراف آیت 95

اس آیت میں اللہ نے وضع کر دیا ہم پر کہ وقت بدلتے دیر نہیں وہ وہ مالک و ملک ہر چیز پر قادر ہے

اس  تندرستی و آزادی میں ہمیں  ان مظلومین کی مشکلات کا پتہ نہیں کہ کیسے وہ بیچارے کافروں، ظالموں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور زندگی کے دن کیسے کاٹ رہے ہیں ہمیں ان کشمیری ,فلسطینی مظلوم و بے کس مسلمانوں کی تکالیف کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کبھی ہم خود قید میں جیل کی کوٹھری کے اندر پھنس جائیں حالانکہ ہم تو اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی قید میں اپنے ہی کئے ہوئے جرم کی پاداش میں پس زندان ڈال دئیے جاتے ہیں مگر سوچیں کہ وہ بیچارے کافر کی گرفت میں مقید ہیں حالانکہ ان کا جرم ایمان یعنی مسلمان ہونا ہے صحت و ایمان ہوتے ہوئے بھی وہ بیچارے کس قدر بے بس ہیں اللہ نا کرے کل کو ہمارے اوپر ایسا وقت آجائے اور پھر ہمیں اس آزادی جیسی نعمت، کہ جس کو گھر کی ٹک ٹک کی طرح  دنیا کی رنگینی نے ہمیں سمجھنے نہیں دیا ہم سے چھن جائے اور  پھر ہمیں پچھتانا پڑے لہذا مظلومین کی آہ و فریاد کی اہمیت اور اپنی آزادی کی قدر جان لیجئے اور اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کا ہاتھ تھام لیجئے اور جس پلیٹ فارم پر بھی آپ ان کی آواز دنیا تک پہنچا سکتے ہیں پہنچائیے اور اپنے رب کو راضی کیجئے

اگر آپ کشمیریوں،فلسطینوں،شامیوں و  افغانیوں کی مالی مدد کر سکتے ہیں تو ضرور کیجئے اس ملک میں کئی این جی اوز ہیں جو آپ کے عطیات و صدقات ان تک پہنچاتی ہیں اور اگر آپ مالی طور پر مستحکم نہیں تو پھر ان  مظلوموں کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھئیے

Wednesday, 12 August 2020

کیسے ملی تھی آزادی ایک 87 سالہ بزرگ کی زبانی ،، از قلم ،،، غنی محمود قصوری


پچھلے سال 14 اگست کو میں ایک دوست کے پاس گیا اس کے 86 سالہ دادا جی حیات ہیں 

مجھے دیکھ کر کہنے لگا پتر کتھے چلے او ؟ یعنی کہا جا رہے ہو میں نے جواب دیا بابا جی واہگہ بارڈر پر پریڈ دیکھنے جانا ہیں تو وہ بزرگ آہ بھر کے کہنا لگا سلنسر کڈ کے گون گا کے منانا اے آزادی ؟ پتہ وی او کینج لئی سے اساں آزادی؟ یعنی کہ موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر اور ناچ گا کر آزادی مناتے ہو پتہ بھی ہے تمہیں کیسے ملی تھی آزادی ؟ میں نے کہا نہیں بابا جی آپ بتا دیجئے تو وہ بتانے لگا کہ   

اس کا دادا گاؤں کا چوہدری تھا ان کا گاؤں کھیم کرن کے پاس تھا اور وہ 4 مربع زمین کے مالک تھے اس کے دو چچا اور پانچ پھوپھیاں تھیں جو کہ سب شادی شدہ ہی تھے وہ خود دادا کی اولاد میں سب سے بڑا تھا اور آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا  اسے قائد اعظم بڑے اچھے لگتے تھے اس کی کہانی سنتے ہیں اسی کی زبانی 

میرا نام کرم دین ہے اور میں اپنے دادا  کی اولاد میں  سب سے بڑا تھا میری دادی اماں میری پیدائش سے چھ ماہ پہلے وفات پا گئی تھیں میرے دادا جی چوہدری تھے ہمارے گاؤں میں سکھ اور ہندوں سبھی ان کی بہت عزت کرتے تھے خود میرے ساتھ سکول میں سکھ و ہندو لڑکے مل کر کھانا کھاتے تھے مگر پھر  بھی میرا کھانا کھانے کے باوجود وہ مجھ سے کھینچے کھینچے سے رہتے تھے اور ہر وقت او مسلے او مسلے پکارتے تھے جو کہ مجھے بڑا ناگوار گزرتا تھا 

یہ جنوری 1947 کی بات کے حالات معمول سے ہٹ کر خراب ہو رہے تھے سکول میں بھی ہندو و سکھ لڑکوں کا رویہ مجھ سے عجیب سا ہو گیا تھا حالانکہ میں نے کبھی یہ نعرہ نا لگایا تھا کہ، بٹ کے رہے گا ہندوستان ،بن کے رہے گا پاکستان مگر پھر بھی نا جانے کیوں وہ مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے تھے حالانکہ ہمارے  نذر بیگ ماسٹر  صاحب سب بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اور کسی کو بھی ہندو ،سکھ اور مسلمان ہونے پر جدا نا سمجھتے تھے خیر وقت گزرتا گیا اور جولائی کا مہینہ شروع ہو گیا ہر طرف بٹ کے رہے گا ہندوستان،بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے گونجتے تھے میں نے دادا جی سے پوچھا لالہ جی ( دادا جی کو کہتا تھا) یہ کیا چکر ہے بٹوراہ کیوں ہوگا تو لالہ جی کہنے لگے بیٹا دیکھ میرے تین بیٹے ہیں تیرا باب اور دو تیرے چچا تو جیسے جیسے  شادیاں ہوتی گئیں بٹوارہ ہوتا گیا اب تمہاری ماں الگ سے روٹی پکاتی ہے تمہاری چچیاں الگ سے پکاتی ہیں میرا دل جہاں سے کرتا ہے میں وہاں سے کھا لیتا ہوں اسے کہتے ہیں بٹوارہ تو ہو جائے کیا  فرق پڑتا ہے  ہمیں تو رہنا ہی ہے نا رہ لینگے پر میں نے کہا لالہ جی میں نہیں جاؤنگا اپنا گاؤں اپنے دوست چھوڑ کر لالہ جی نے سینے سے لگا لیا 

مجھے یاد ہے جس دن میری لالہ جی سے یہ بات چیت ہوئی اسی دن میرے ابو جسے میں ابا جی کہتا تھا اپنے ساتھ اپنے ماموں زاد بھائی شمشیر کو لے کر

 تایا شمشیر میرے ابو سے بڑے تھے میں انہیں تاؤ کہتا تھا 

تاؤ لالہ جی کے پاس بیٹھ گئے اور کہنے لگے بابا جی ( لالہ جی کو سب بابا جی کہتے تھے) حالات بہت خراب ہیں کچھ کرنا پڑے گا ہمیں یہ علاقہ چھوڑ کر پاکستان جانا پڑے گا 

لالہ جی کہنے لگے اوئے جلے میں چوہدری ہوں سکھ ہندو میری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں مجھے کیا ضرورت پڑی ہے اپنا گاؤں چھوڑ کر بھاگنے کی

 تو تاؤ کہنے لگے آپ کو علم ہی نہیں حالات کس قدر خراب ہیں کوئی کسی کا نہیں بن رہا لہذہ عزت بچا کر نکلنے میں ہی فائدہ ہے پورے ہند کے قصے آپ نے سن لئے ہیں تو دیر نا کیجئے کافی تو تکار کے بعد لالہ جی روتے ہوئے ہامی بھر بیٹھے طے ہوا پرسوں 31 جولائی کی رات کو نکلا جائے گا تب تک قریبی دیہات سے پھوپھیاں اور خاندان سے دیگر افراد بھی آ جائیں گے کیونکہ لالہ جی کا اثرورسوخ کافی تھا دوسرا ہمارے گھر میں اناج وافر تھا لالہ جیں کے پاس ایک نالی بندوق اور میرے والد کے پاس ریوالور بھی تھا 

31 جولائی کو شام تک سب پہنچ گئے سوائے گاؤں موضع سری ساون  کی  رہائشی پھوپھو حاجراں اور ان  کے سسرال کے  علاوہ 

سو مجبوری کے طور پر ہم نے دو بیل گاڑیاں تیار کیں اناج لادا گھروں کو تالے لگائے اور نکل کھڑے ہوئے ابھی گھر سے نکل ہی رہے تھے کہ راموں جو ہمارے گھر کا خاص ملازم تھا گالیاں بکنے لگا او مسلے ڈر کر بھاگنے لگے ابھی مزا چکھاتا ہوں 

لالہ جی نے کہا راموں تو بھول گیا میرے احسان تیری بہن کی شادی میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی جیب سے کی تھی تو راموں کہنے لگا او مسلے ہند ہمارا ہے تونے کونسا احسان کیا ہے اتنا کہتے ہی راموں چلانے لگا اور کھڑے سیاں (کھڑک سنکھ ) اور فلاں اوئے فلاں مسلے بھاگ رہے ہیں 

لالہ جی اور ابا جی نے گھر کے کل 41 افراد بمعہ بچے بوڑھے جوان کو دلاسہ دیا مردوں اور عورتوں کو بیل گاڑیوں پر بٹھایا اور اپنی بندوق تان کر بیل گاڑی کے آگے جبکہ میرے والد ریوالور لے کر بیل گاڑیوں کے پیچھے پیچھے چل دیئے رات کی تاریکی تھی ابھی ہم چار منٹ ہی چلے ہونگے کہ شور سنائی دیا جے سری رام،ست سری اکال کی بلند و بالا آوازیں آنے لگیں لالہ جی نے کہا گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے آوازیں قریب تر ہوتی گئیں آخر لالہ جی نے نعرہ تکبیر لگایا اور فائر کر دیا اسی اثناء میں ابو جی نے بھی دو فائر کئے شور رک گیا بڑھتی ہوئی آوازیں تھم گئیں سب سہم گئے تھے لالہ جی نے سب کو دلاسہ دیا اور میرے جیتے جی کسے کا بال بھی بانکا نہیں ہو گا ابو جی سے لالہ جی نے کہا کہ اب فائر نا کرنا میرے پاس بھی کارتوس کم ہیں اور تمہارے پاس گولیاں کم ہیں اور ہمیں سفر لمبا کرنا ہے 

رات کی تاریکی تھی سب ڈرے ہوئے تھے پھوپھی سکینہ کا اکلوتا بیٹا بیمار تھا اور بار بار رو رہا تھا تایا شمشیر بھی اپنے بچوں کیساتھ تلوار پکڑے چل رہا تھا خیر ہم چلتے گئے اور دن کا اجالا ہونا شروع میں کچھ ہی دیر رہ گئی آگے ایک سڑک آئی تو میں ج جو کہ لالہ کیساتھ ساتھ چل رہا تھا کسی چیز سے ٹکڑا کر گر پڑا میرے منہ سے آہ نہیں اور قافلہ رک گیا جب دیکھا تو وہ ایک نوجوان عورت کی برہنہ لاش تھی جا کی چھاتی کاٹی ہوئی تھی اور تن ہر کپڑوں کے چیتھڑوں کے کچھ بھی نا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی چن دہی گھنٹے ہوئے ہیں اسے شہید کئے یہ منظر دیکھ کر سب دہل گئے 

لالہ جی نے کہا میں اس گاؤں ماڑی کامبوکی سے واقف ہوں یہاں سکھ اور ہندو  زیادہ ہیں اور دن کو سفر کرنا خطرناک ہے لہذہ کہیں چھپتے ہیں کچھ فاصلے پر دیسی کماد کی فصل نظر آئی قافلہ اس سمت چل پڑا کماد کی فصل کو اندر سے کاٹا گیا جو کہ کئی ایکڑ پر محیط تھی اور قافلہ عین وسط میں لیجا کر روک دیا گیا گرے کماد کو لالہ جی اور ابو جی نے بڑی مہارت سے کھڑا کرنے کی کوشش کی جو بڑی حد تک کامیاب بھی رہی سب نے تیمم کرکے نماز پڑھی اور ساتھ رکھا کھانا کھانے لگے مگر بے سود شمشیر تایا جو  چار پانچ دیسی گھی کی روٹیاں کھا جاتے تھے آدھی سے بھی کم کھا کر کہنے لگے بس سیر ہو گیا ہوں  سب کی یہی حالت تھی 

رفتہ رفتہ دن کا اجالا تیز ہونے کیساتھ سورج کی تپش بھی تیز ہوتی گئی اور سکینہ خالہ کے بیٹے نے رونا شروع کر دیا سب کہنے لگے اسے چپ کرواؤ مروا دے گا ہمیں بھی

سکھوں ہندؤوں کی آوازیں اور ساتھ کچھ چیخیں بھی آ رہی تھیں سب ڈر بھی رہے تھے اور ذکر خدا بھی کر رہے تھے خیر شام ہو گئی قافلہ نکلا اور سفر شروع کر دیا ابھی چار کوس ہی گئے ہونگے کہ اچانک پچاس ساتھ بلوائیوں کا قافلہ نکلا لالہ جی نے فائر کیا مگر آگے سے چھ سات اکھٹے فائر ہوئے ایک فائر میرے چچا اقبال کو لگا اور ایک فائر تایا شمشیر کی کھوپڑی میں لگا ادھر سے ابو جی نے چار فائر کئے جس سے تین دلدوز چیخیں فضاء میں ابھریں جو کہ بلوائیوں کی تھیں میں بھی جوش میں اللہ اکبر کے نعرے لگا رہا تھا اور اپنی لاٹھی مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا اچانک شور مذید بڑھا اور ہماری سمت آیا ایک گولی لالہ جی کی ران پر لگی اور وہ بھی گر پڑے میں اور دونوں چچا،دو پھوپھے سراج اور اللہ دتہ لاٹھیاں سنبھالے کھڑے تھے بچے اور عورتیں چیخ چلا رہے تھے ایک سکھ میرے قریب آیا میں نے لاٹھی اس کے سینے پر ماری مگر ضرب کاری نا تھی الٹا اس نے کرپان میری طرف ماری جو کہ میری بائیں بازو پر لگی ابا جی نے پھر فائر کئے مگر افسوس ایک سکھ نے ان کے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہم بچوں ،عورتوں اور بوڑھوں سمیت 41 تھے جبکہ کرپانوں،بندوقوں اور چھڑیوں سے لیس بلوائی پچاس سے اوپر تھے میرے لالہ جی،ابو جی،تاؤ شمشیر پھوپھی تڑپ رہے تھے باقی میں بچوں میں سب سے بڑا تھا باقی دو چچا اور دو پھوپھا تھے ہم نے مقابلہ شروع کیا اتنے میں پھوپھی سکینہ کی آواز آئی میرا لال علی شیر دے دو ایک ظالم نے شیر خوار علی شیر کو نیزے پر رکھا اور دو ٹکڑے کر دیا جبکہ میری پھپھو سکینہ کو پکڑنے لگے تو پھوپھا جی نے اپنا سینہ آگے کر دیا ایک گولی آئی اور پھوپھا کے سینے میں لگی  اور وہ گر پڑے چچا جی آگے بڑھے کرپان ان کے پیٹ کے پاڑ ہو گئی اتنے میں ایک اور شور ہمارے قریب آیا اور نعرہ تقریب بلند ہوا چند جوان جن کے پاس آٹومیٹک رائفلیں تھیں انہوں نے دو بلوائیوں کو نشانہ بنایا باقی بلوائی بھاگ نکلے انہوں نے ہمیں اپنے حصار میں لے لیا اور بولے پریشان نا ہو ہر سمت یہی صورتحال ہے ہم آپ کو واہگہ پہنچائینگے 

زخمیوں میں سے صرف میں  اور چھوٹے چچا اور بڑا پھوپا جی ںچے باقی پھوپھو سکینہ پھوپا جی کو گولتی لگتے ہی دار فانی سے کوچ کر گئیں تھیں کل 41 میں سے میں دو چچا ایک چچی دو ننھے بچے اور ایک مجھ سے دو سال چھوٹی تاؤ شمشیر کی بیٹی بچی باقی سب انتہائی گہرے زخموں کی بدولت جان ہار بیٹھے تھے چچاؤں نے لالہ جی کی بندوق اور ابو جی کا پستول اٹھایا جبکہ میں نے تاؤ شمشیر کی چھری 

شہداء پر نظر ڈال کر قافلہ چل پڑا دو کے بجائے ایک بیل گاڑی ہو گئی اور واہگہ بھی انتہائی کم رہ گیا تھا سو اگلی صبح تک واہگہ مہاجر کیمپ پہنچے راستے میں ہر طرف خون ہی خون تھا اور کٹی پھٹی لاشیں خاص کر شیر خوار بچوں اور عورتوں کی جا بجا لاشیں پڑیں تھیں 

اتنا سنانے کے بعد بابا جی کرم دین جن کے اب دانت بھی سلامت نہیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کنے لگے 

پتر کی منہ وکھاؤ گے قائد ت اقبال نو ؟

یعنی بیٹے قائد اعظم اور علامہ اقبال کو جشن آزادی کے نام پر ہلڑ بازی پر کیا منہ دکھاؤ گے 

میں یہ سن کہ ہلکا سا رونے لگا اور اپنے دوست امان اللہ کا انتظار کئے بنا نکل آیا اور گھر جا کر سوچنے لگا یہ تو جشن آزادی نہیں ،یہ تو قائد و اقبال اور ان کے رفقاء کا طریقہ نہیں

Sunday, 9 August 2020

73 سالہ ظلم کی برسی اور فلمی ہیروؤں کی نئی سازش ،،،، از قلم،،،،، غنی محمود قصوری



کشمیر کا نام آتے ذہن میں ظلم و ستم کی فلم چلنے لگ جاتی ہے وہ ظلم جو ہندو مشرک نے پچھلے 73 سالوں سے کشمیریوں پر کیا ہے  مگر داد شجاعت ہے اس کشمیری قوم کو کہ جو 73 سالوں سے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے 

پچھلے سال 5 اگست کو انڈین گورنمنٹ نے کشمیری باشندوں کی آزادی و خودمختاری پر شب و خون مارتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا جس سے پوری وادی سراپا احتجاج بن گئی کیونکہ یہ آرٹیکل کشمیریوں کو خصوصی حیثیت دیتے ہیں جس کی بدولت ریاست جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والا باشندہ ہی کشمیری کہلوا سکتا ہے ،وادی میں جگہ خرید کر سکونت اختیار کر سکتا ہے اور کشمیری عورت سے شادی کر سکتا ہے یہی آرٹیکل ہندو کیلئے وبال جان تھے سو اس نے اسے ختم کر دیا مگر وہ بھول گیا آرٹیکل کاغذ پر نہیں دلوں میں رقم ہوتے ہیں

اپنی اس سلب آزادی پر کشمیریوں نے احتجاج کیا اور ہندو پر نعرے بازی کیساتھ سنگ بازی بھی کی جسے دیکھتے ہوئے پہلے سے ہی انڈین گورنمنٹ نے وادی میں کرفیو نافذ کرنے کیساتھ موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کر دی اور یوں کشمیری قوم پوری دنیا سے کٹ کر رہ  گئی

مذید عالمی وباء کووڈ  19 نے دنیا بھر کی دنیا مقبوضہ وادی میں بھی پنجے جمانے شروع کئے تو بہانے کے متلاشی انڈیا نے 21 اپریل کو مکمل لاک ڈاؤن کر دیا جس سے کشمیری مکمل طور پر گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے اس بہانے غاصب  انڈین فوج کو کریک ڈاؤن کے بہانے کشمیریوں کی نسل کشی کا خوب موقع ملا اور وہ ظالم درندے ظلم کی نئی داستان رقم کرتے گئے

 چونکہ موبائل و انٹرنیٹ سروس بند رہی اس لئے اس ایک سال کی کل شہادتوں کی تعداد کا تعین مشکل ہے مگر اس ایک سال میں ہندو درندہ صفت فوج نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا،ہزاروں کشمیری عورتوں کی عزتیں پامال کیں اور کروڑوں روپیہ کی املاک نذر آتش کیں 

ساتھ ہی موقع پرست چالاک و عیار بنیئے نے انڈیا سے پنڈتوں اور انڈین مذہبی انتہاہ پسند تنظیموں کے کارندے بھی کشمیر میں لا کر بسانا شروع کر دیئے تاکہ دنیا کے سامنے کشمیر  کو ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترکہ علاقہ ثابت کیا جا سکے

فوج کے ساتھ ان ہندو جنونیوں    نے کشمیری عورتوں کی آبرو ریزی کیساتھ کشمیری مسلمانوں کا قتل عام بھی شروع کر دیا  جس پر کشمیریوں کیساتھ عالمی دنیا میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی

ظاہری بات ہے اس ساری صورتحال پر کشمیری مجاھدین اور لوگ خاموش تو نہیں رہ سکتے تھے سو سویلین و مجاھدین کشمیر نے اپنی طاقت کے مطابق انڈین فوج کیساتھ ہندو پنڈتوں اور دہشت پسند مسلح ہندو کارندوں کا کریا کرم کرنا شروع کیا جس سے انڈین فوج کیساتھ بہت زیادہ تعداد میں ہندو پنڈت مارے گئے اور جو بچے وہ وادی سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے اس ساری صورتحال سے پریشان ہندو مشرک نے بھاگتے پنڈتوں کو دوبارہ لاکر بسانے اور اپنی فوج کا مورال بلند کرنے کیلئے ایک بار پھر اپنی فلم انڈسٹری کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا اور اسی ناکام و بدنام 

 فلمی ہیروؤں نے پھر سے ایک بار فلموں کے ذریعے کشمیر کو فتح کرنے کیساتھ مجاھدین کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنی کی ٹھانی اور ایک نئی فلم ،سرینگر،بنانے کا آغاز کر دیا

ابھی اس فلم کا ایک ٹریلر ہی جاری کیا گیا ہے جس میں کشمیری مجاھدین کو عورتوں کا رسیا اور ہندوؤں پر ظلم کرنے والا دکھایا گیا ہے اور اسی کلپ میں جرآت و بہادری کی مثال خلیفتہ المسلیمین جناب حضرت عمر فاروق کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے خود ساختہ یہ بات کہی گئی ہے کہ بقول حضرت عمر مسلمانوں کیلئے کفار کی عورتیں جائز ہیں اسی لئے مجاھدین کشمیر ہندو عورتوں کو کشمیر سے اٹھاتے ہیں اور ہوس کا نشانہ بناتے ہیں

ہندو مشرک پلید یہ بھول گیا کہ اس سے قبل بھی وہ سینکڑوں فلمیں آزادی کشمیر کی تحریک کو کچلنے اور اپنی پلید بزدل فوج کو ہیرو ثابت کرنے کے لئے بنا چکا ہے مگر نتیجہ ہر بار بے سود ہی رہا ہے جیسے جیسے انڈیا نے فلموں میں اپنی فوج کو بہادر دکھلایا ویسے ہی انڈین فوج میں خودکشیوں کی شرح بڑھ گئی اور مسلح تحریک کو مذید تقویت ملی

 دنیا کی ہر بزدلی چاہے وہ دوران معرکہ پتلون میں پیشاب نکلنا ہو یا خود کشی اپنے افسر کو قتل کرنا ہو یا فوج سے بھاگ کر دشمن سے جا ملنا ، اسی ہندو مشرک پلید فوج میں ملے گی 

حالات و واقعات گواہ ہیں اس وقت لائن آف کنٹرول پر انڈیا کا کڑا پہرہ  ہے اور ہر وقت شدید دو طرفہ بمباری جاری ہے جس سے لائن آف کنٹرول کے آر پار جانا ناممکن ہے مگر پھر بھی کشمیری مجاھدین تحریک آزادی کو اپنی مدد آپ سے زندہ رکھے ہوئے ہیں جو کہ عالمی دنیا کو ایک پیغام ہے کہ جو مرضی ہو جائے یہ تحریک آزادی پایہ تکمیل تک پہنچے گی کیونکہ کشمیری وہ قوم ہے کہ جس نے ایک اذان کو مکمل کرنے کی خاطر 21 جانوں کا نذرانہ دے کر اذان مکمل کی کشمیری ماؤں نے ایک بیٹے کی شہادت کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے بیٹے کو خود بندوق پکڑا کر اندین فوج کے خلاف میدان میں نکالا

 یہ تو پھر آزادی کی تحریک ہے کہ جس میں اللہ خود حکم دے رہا قرآن میں کہ

اورتمہیں کیاہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں اوران بے بس مردوں اور عورتوں اوربچوں کے لیے نہیں لڑتے جو کہتے ہیں:  اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنادے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگاربنا دے۔ النساء

یہ ہندو مشرک تحریک آزادی کو اپنے کرنلوں،جرنلوں کے ذریعے کچلنا چاہیں تب بھی ناکام اور اپنے کنجر کنجریوں کے ذریعے فلمیں بنا کر کچلنا چاہیں تب بھی ناکام کیونکہ اللہ تعالی نے ناکامی مسلمانوں کے لئے رکھی ہی نہیں ناکامی تو اس ہندو کا مقدر ہے جو پچھلے 73 سالوں سے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی ذلیل و رسوا ہو گیا اور اب اپنی فوج کا مورال اپ کرنے کیلئے فلموں کا سہارا لینے لگا مگر وہ بھول گیا جہاں گولی کام نہیں آئی وہاں ان کی فلموں پر کشمیری قوم لعنت ڈالتی ہے

یہ بنا لیں جتنی بنا سکتے ہیں ان شاءاللہ فتح حق کی ہی ہو گی باطل فنا ہو گا ان شاءاللہ