ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ ہمارا رویہ
اصلاح معاشرہ کیلئے تحریر کاپی کرکے ضرور شیئر کریں مگر تحریر کو کاپی کرکے اپنے نام کیساتھ پبلش کرنا قانوناً جرم ہے کیونکہ جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں،شکریہ دعا گو ۔۔غنی محمود قصوری اسلام زندہ باد پاکستان زندہ باد افواج پاکستان ،پولیس ،انٹیلیجنس و دیگر سول ادارے زندہ باد ہم سب کا اپنا پاکستان
*تحریر غنی محمود قصوری*
معاشرے کا حصہ ہونے کی حیثیت سے ہر بندے کا حق ہے کہ وہ دوسروں کی طرح ہر سہولت کا استعمال کرسکے انٹرنیٹ اور خاص کر شوشل میڈیا کی بدولت یہ دنیا اس وقت ایک گلوبل ویلج بن چکی
ہے لوگ اپنے سے دور بیٹھے عزیز و اقارب کیساتھ جلد رابطے کیلئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں جو کہ زیادہ تر محفوظ نہیں ہیں
اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا 22.2 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جن میں بیشتر خواتین بھی ہیں خواتین کی جانب سے بہت مرتبہ سائبر کرائم کی شکایات بھی ملی ہیں کچھ کم ظرف لوگ عورتوں کو اپنے جال میں پھانس کر ان کی تصاویر حاصل کر لیتے ہیں پھر ان تصویروں کی بدولت ان خواتین کو بلیک میل کرکے پیسے بٹورنے کے علاوہ جنسی تعلقات بھی قائم کر لیتے ہیں زیادہ تر خواتین ان بلیک میلروں کی باتوں میں آکر اپنی تصاویر ان کو دے بیٹھتی ہیں جنہیں یہ لوگ فوٹو شاپ و دیگر سوفٹ وئیر کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق ایڈٹ کر لیتے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک بات بن جاتی ہے اور ایسا سب سے زیادہ فیس بک استعمال کرنے والی خواتین کے ساتھ ہوتا ہے زیادہ تر خواتین یہ غلطی کرنے کے بعد اپنی بدنامی کے ڈر سے خاموش رہتی ہیں جس سے ان بلیک میلروں کے ناپاک عزائم کو مذید تقویت ملتی ہے عورتوں کی خاموشی ہی ان کی سب سے بڑی غلطی بن جاتی ہے جس سے یہ افراد دید ور ہو کر دوسری عورتوں کو بلیک میل کرکے پیسے اور جنسی تعلقات بڑھاتے ہیں کئی ایسی خواتین ان بلیک میلروں کی بدولت خاموش رہتے ہوئے ان کی ڈیمانڈیں پوری کرتی رہیں اور آخر تھک ہار کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو گئیں تو خداراہ عورتوں سے گزارش ہے کہ اپنی تصویر اپلوڈ نا کرنے کی عادت ڈالیں اور کسی بھی غیر تصدیق فرد کو اپنی تصویر نا دیں تاکہ آپ کی زندگی جہنم بننے سے بچ سکے آپ کے بہن بھائی ،ماں باپ سر فخر سے بلند کرکے اس معاشرے میں جی سکیں
حالانکہ کسی پر اعتبار کرکے اسی اپنی تصویر یا ویڈیو دینا اتنا جرم نہیں جتنا بڑا جرم کسی کو بلیک میل کرنا ہے کیونکہ
مگرخدانخواستہ اگر کسی بھی عورت کے ساتھ ایسا معاملہ پیش آ جائے اور وہ اس غلطی کا شکار ہو چکی ہے تو مذید چکروں میں پڑ کر بلیک میل ہونےکی بجائے ادوسری عورتوں کو اس بلیک میلر کا شکار ہونے نا دیں بلکہ معاشرے کے اس ناسور کو اس کے کردہ جرم کی سزا دلوائیں تاکہ کوئی اور حوا کی بیٹی اس کی بلیک میلنگ کی بھینٹ نا چڑھ سکے کیونکہ بلیک میل ہوتے رہنا یا پھر خودکشی کرلینا مسئلے کا حل نہیں اگر آپ خاموش رہی یا خودکشی کر گئی تو وہ بلیک میلر آپ کے بعد آپ کے گھر کے دیگر افراد کو بلیک میل کرے گا کیونکہ جب تک اس کے پاس آپ کی ویڈیو یا تصویریں ہونگی وہ بندہ بلیک میلنگ سے رکے گا نہیں خاموش رہنے اور خود کو ختم کرنے کی بجائے اپنی غلطی سے دی جانے والی ویڈیو یا تصویروں کو اس مجرم کو قانون کی گرفت میں لا کر ختم کروائیں کیونکہ سائبر کرائم ایکٹ کے انسداد الیکٹرونک کرائم ایکٹ 2015 کے تحت کسی بھی شخص کو فحش تصویر یا ویڈیو کے ذریعے بلیک میلنگ کرنے کی سزا 5 سے 7 سال قید یا 50 لاکھ روپیہ جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ایک ساتھ ہو سکتی ہیں مذید یہ کہ اگر بلیک میلر بیرون ملک مقیم ہے تب بھی وہ اسی ایکٹ کے تحت مجرم ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ اسے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کا حق رکھتا ہے
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی FIA کے سائبر کرائم ونگ کی چوبیس گھنٹے کام کرنے والی ہیلپ لائن 9911 پر کال کریں یا پھر ڈائریکٹر کرائم ایف آئی اے کے ای میل Dir.crime@fia.gov.pk
ڈائریکٹر این آر 3 سی کے ای میل Pd@nr3c.gov.pk پر ای میل کرکے اپنی شکایت درج کروائیں تاکہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ مکمل تصدیق کرکے اس مجرم کو قابو کرکے آپ کا فحش مواد ختم کروائے اور دیگر حوا کی بیٹیاں اس کی بلیک میلنگ سے بچ جائیں اور کوئی حوا کی بیٹی مجبور ہو کر خود کشی نا کرسکے تو چپ رہ کر بلیک میل ہونے و خودکشی کرنے کی بجائے مجرم کیساتھ اپنا فحش ڈیٹا بھی ختم کروائیں تاکہ آپ اور آپ کے خاندان کے افراد سر فخر سے بلند کرکے جی سکیں