Sunday, 26 January 2020

ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ ہمارا رویہ


تحریر *غنی محمود قصوری*
اللہ رب العزت نے مختلف رنگ و نسل اور قد کاٹھ کے افراد پیدا فرمائے اور اللہ رب العزت نے قرآن میں ارشاد فرمایا
لقد خلقتنا الانسان فی احسن تقویم ( سورہ التین) ترجمہ _ بلاشبہ ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے
ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 30 کروڑ جبکہ پاکستان میں 1 کروڑ 80 لاکھ افراد ذہنی و جسمانی معذور ہیں جن کی فلاح و بہبود کیلئے اور ان افراد کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے 1992 سے عالمی برادی کیساتھ پاکستان میں بھی 3 دسمبر کو عالمی یوم معذور افراد منایا جاتا ہے
یہ افراد ہماری خصوصی محبت کے حقدار ہیں مگر افسوس کے ہم ان کو ان کے حقوق دینے کی بجائے ان پر طنزیہ وار کرتے ہیں اور بعض خود سر جاہل لوگ تو ان افراد سے مار پیٹ بھی کرتے ہیں جوکہ انتہائی دکھ اور شرم کی بات ہے حالانکہ یہ افراد ہمارے لئے نصیحت کا باعث ہیں مثلا اگر کسی کا ہاتھ نہیں تو ان لوگوں کی بدولت ہمیں اپنے ہاتھ کی قدر ہوتی ہے اگر کوئی فرد ٹانگ سے محروم ہے تو ہمیں اللہ رب العزت کی عطاء کردہ اس عظیم نعمت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے کتنی بڑی نعمت بنائی ہے دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارا رویہ جسمانی معذوروں سے زیادہ ذہنی معذور افراد کیساتھ زیادہ ہی غلط ہے یہ وہ افراد ہیں کہ جن سے اللہ رب العزت ان کی نمازوں بارے بھی سوال نہیں کرینگے جب تک کہ یہ ذہنی معذور ہوش میں نا آ جائیں مگر ہم لوگ ان کو پتھر مارتے ہیں ان کے کپڑے پھاڑتے ہیں اور ان کی تذلیل کرکے فخر محسوس مرتے ہیں حالانکہ صرف بے ضرر ذہنی معذور افراد کو ہی گھر پر رکھا جاتا ہے جبکہ خطرناک قسم کے ذہنی معذور پاگل افراد کو مینٹل ہسپتالوں میں داخل رکھا جاتا ہے بلکل اسی طرح زمانہ جاہلیت میں بھی ان ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا اور بعض معاشروں میں رواج تھا کہ جب کوئی بچہ ذہنی و جسمانی معذور پیدا ہوتا تو والدین اسے قتل کر ڈالتے تھے کیونکہ اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان افراد میں بھوت پریت قابض ہیں اور ہم آج ان افراد کی تذلیل کرکے اسی زمانہ جاہلیت کی تصویر بنتے ہیں پھر میرے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور جانوروں، انسانوں کے حقوق وضع فرمائے ایسے افراد بارے حدیث ہے
تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے ۔ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون لحتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے ہے
(سنن نسائی 5495)
پاکستان میں ذہنی و جسمانی معذور افراد کیلئے کوئی خاص قانون موجود نہیں بحالی معذور افراد ایکٹ 1981 کے تحت معذور افراد کیلئے نوکریوں میں 2 فیصد کوٹہ مختص ہے اور ان افراد کیلئے صحت کی سہولتوں کیساتھ ان کی بحالی اعضاء کا کام بھی حکومت پر فرض ہے آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت تمام بنیادی سہولیات ان معذور افراد کا حق ہیں مگر افسوس کے ایسا دیکھنے میں بہت کم آیا ہے کہ ان افراد کو ان کی بنیادی سہولیات ملی ہو ورنہ ہسپتالوں ،تھانوں کچہریوں اور عدالتوں میں ان افراد کو اپنے حقوق کی جنگ لڑتے ہی دیکھا گیا ہے
ان افراد کی بحالی کیلئے پاکستان میں کئی این جی اوز کام کر رہی ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ان افراد سے پیار کرنے کیساتھ ان این جی اوز سے بھی تعاون کریں تاکہ ایسے افراد اپنے بنیادی حقوق حاصل کرکے عزت سے جی سکیں اور گورنمنٹ کو چاہیے کہ ان افراد کے وظائف مقرر کئے جائیں اور ان افراد کو تنگ کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں دینے کا قانون نافذ کیا جائے تاکہ یہ افراد عزت و توقیر سے جی سکیں

Sunday, 19 January 2020

ذخیرہ اندوزی اور آٹے کا بحران



*تحریر غنی محمود قصوری*

اللہ تعالی نے انسان کے کھانے پینے کیلئے بے شمار چیزیں پیدا کی ہیں ہر ملک و علاقے کا کھانے پینے کا طریقہ کار دوسرے سے کچھ مختلف ہے دنیا میں اس وقت انسانوں کی خوراک سب سے زیادہ گندم سے حاصل کی جاتی ہے دنیا میں چاول و مکئی کے بعد سب سے زیادہ گندم کاشت کی جاتی ہے اس لحاظ سے گندم دنیا میں سب سے زیادہ کاشت ہونے والی فصلوں میں تیسرے نمبر پر ہے
پاکستان کی کل آبادی میں سے 7 کروڑ 70 لاکھ لوگ شہروں جبکہ 13 کروڑ 22 لاکھ دیہات میں رہتے ہیں 
پاکستان کے دیہی علاقوں میں گندم بہت زیادہ کاشت کی جاتی ہے اور خاص طور پر پنجاب میں گندم وافر مقدار میں کاشت کی جاتی ہے دیہات کے زمیندار و مزدور لوگ اپنی ضرورت کے مطابق گندم اپنے گھروں میں ذخیرہ کر لیتے ہیں جسے وہ سارا سال لوکل سطح پر لگی آٹا چکیوں سے پسوا کر استعمال کرتے ہیں کم آمدن اور وسائل کے باعث یہ لوگ  اپنی ضرورت یا اس سے کم ہی گندم ذخیرہ جمع کر پاتے ہیں مگر چند بے ضمیر و بااثر لوگ اس نیت سے گندم ذخیرہ کر لیتے ہیں کہ جب مارکیٹ میں گندم کی کمی واقع ہو تو ذخیرہ کی گئی گندم کو مہنگے داموں فروخت کیا جا سکے جیسا کہ 2019  میں گندم کی فی من  قیمت 1230 اور حکومت کی طرف سے 1300 روپیہ فی من مقرر  تھی اس وقت ضرورت مند چھوٹے کاشتکاروں نے انہی نرخوں پر فروخت کی اور اپنی ضروریات پوری کیں کیونکہ اگر وہ گندم بیچ کر پیسہ نا حاصل کرتے تو دیگر ضروریات زندگی پوری کرنے سے قاصر رہتے  جبکہ مالی طور پر مستحکم اور بااثر کسانوں و بیوپاریوں نے اس گندم کو ذخیرہ کیا اور اب وہی ذخیرہ شدہ گندم 1900 سے 2100 روپیہ فی من تک فروخت کر رہے ہیں 
مارچ سے اگست تک گندم وافر ہوتی ہے جسے بیوپاری حضرات تھوڑی سے زائد قیمت دے کر لوگوں سے خرید کر جمع کر لیتے ہیں اور پھر دسمبر کے بعد زیادہ تر لوگوں کی ذخیرہ شدہ گندم استعمال ہو چکی ہوتی ہے جس کے لئے یہ افراد آٹا چکیوں کے علاوہ فلور ملوں سے آٹا لے کر استعمال کرتے ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ بااثر اور امیر لوگ مصنوعی بحران رچاتے ہیں جس پر غریب اور مزدور طبقہ ان سے مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہو جاتا ہے 
 مالی طور پر مستحکم لوگوں نے اپنی ضرورت سے بڑھ کر گندم جمع کی ہوتی ہے لہذہ سارا بوجھ غریب اور مزدور طبقہ پر ہی پڑتا ہے 
آٹے کا بحران ہر سال ہی ہوتا ہے مگر اس سال کچھ زیادہ ہی ہو گیا جس کا سبب ذخیرہ اندوزی بنا ہے اس وقت گاؤں دیہات کے بااثر کسانوں و بیوپاریوں کے پاس وافر مقدار میں گندم موجود ہے مگر وہ آہستہ آہستہ سے گندم اس لئے فروخت کر رہے ہیں کہ مجبور لوگوں اور حکومت سے دام زیادہ وصول کئے جائیں اگر گورنمنٹ ذخیرہ اندوزی کو روکنے میں سنجیدہ ہے تو اسے چائیے کہ ان لوگوں سے گندم قطعا نا خریدے بلکہ گندم بیرون ممالک سے خرید کر لوگوں کی ضرورت پوری کی جائے تاکہ ان بے ضمیر لوگوں کی ذخیرہ شدہ گندم ان کے گوداموں میں پڑی رہے اور مارچ سے اپریل تک نئی فصل آنے پر یہ لوگ بھی اپنی گندم انہی مقرر کردہ داموں پر فروخت کرکے عبرت حاصل کریں ذخیرہ اندوزی ایک لعنت ہے جس کے بارے میرے نبی کریم کی حدیث ہے 
حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شحض  غلہ روک کر گراں نرخ پر مسلمانوں کے ہاتھوں فروخت کرتا ہے اللہ تعالی ایسے لوگوں کو اجذام و افلاس میں مبتلا کر دیتا ہے 
مسکوت ،باب ذخیرہ اندوزی کا بیان حدیث 121
ذخیرہ اندوز معاشرے کا ناسئور ہیں ان کی بیخ کنی کیلئے گورنمنٹ کو سخت سے سخت قانون بنانا ہو گا تاکہ یہ ہوس کے پجاری چند روپوں کی خاطر اس ارض پاک کے باسیوں کو بھوکا نا رک سکیں

Monday, 13 January 2020

شوشل میڈیا پر عورتوں کی بلیک میلنگ کا حل


*تحریر غنی محمود قصوری*

معاشرے کا حصہ ہونے کی حیثیت سے ہر بندے کا حق ہے کہ وہ دوسروں کی طرح ہر سہولت کا استعمال کرسکے  انٹرنیٹ اور خاص کر شوشل میڈیا کی بدولت یہ دنیا اس وقت ایک گلوبل ویلج بن چکی
ہے لوگ اپنے سے دور بیٹھے عزیز و اقارب کیساتھ جلد رابطے کیلئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں جو کہ زیادہ تر محفوظ نہیں ہیں
اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا 22.2 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جن میں بیشتر خواتین بھی ہیں خواتین کی جانب سے بہت مرتبہ سائبر کرائم کی شکایات بھی ملی ہیں کچھ کم ظرف لوگ عورتوں کو اپنے جال میں پھانس کر ان کی تصاویر حاصل کر لیتے ہیں پھر ان تصویروں کی بدولت ان خواتین کو بلیک میل کرکے پیسے بٹورنے کے علاوہ جنسی تعلقات بھی قائم کر لیتے ہیں زیادہ تر خواتین ان بلیک میلروں کی باتوں میں آکر اپنی تصاویر ان کو دے بیٹھتی ہیں جنہیں یہ لوگ فوٹو شاپ و دیگر سوفٹ وئیر کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق ایڈٹ کر لیتے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک بات بن جاتی ہے اور ایسا سب سے زیادہ فیس بک استعمال کرنے والی خواتین کے ساتھ ہوتا ہے زیادہ تر خواتین یہ غلطی کرنے کے بعد اپنی بدنامی کے ڈر سے خاموش رہتی ہیں جس سے ان بلیک میلروں کے ناپاک عزائم کو مذید تقویت ملتی ہے عورتوں کی خاموشی ہی ان کی سب سے بڑی غلطی بن جاتی ہے جس سے یہ افراد دید ور ہو کر دوسری عورتوں کو بلیک میل کرکے پیسے اور جنسی تعلقات بڑھاتے ہیں کئی ایسی خواتین ان بلیک میلروں کی بدولت خاموش رہتے ہوئے ان کی ڈیمانڈیں پوری کرتی رہیں اور آخر تھک ہار کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو گئیں تو خداراہ عورتوں سے گزارش ہے کہ اپنی تصویر اپلوڈ نا کرنے کی عادت ڈالیں اور کسی بھی غیر تصدیق فرد کو اپنی تصویر نا دیں تاکہ آپ کی زندگی جہنم بننے سے بچ سکے آپ کے بہن بھائی ،ماں باپ سر فخر سے بلند کرکے اس معاشرے میں جی سکیں
حالانکہ کسی پر اعتبار کرکے اسی اپنی تصویر یا ویڈیو دینا اتنا جرم نہیں جتنا بڑا جرم کسی کو بلیک میل کرنا ہے کیونکہ
مگرخدانخواستہ اگر کسی بھی عورت کے ساتھ ایسا معاملہ پیش آ جائے اور وہ اس غلطی کا شکار ہو چکی ہے تو مذید چکروں میں پڑ کر بلیک میل ہونےکی بجائے  ادوسری عورتوں کو اس بلیک میلر کا شکار ہونے نا دیں بلکہ معاشرے کے اس ناسور کو اس کے کردہ جرم کی سزا دلوائیں تاکہ کوئی اور حوا کی بیٹی اس کی بلیک میلنگ کی بھینٹ نا چڑھ سکے کیونکہ بلیک میل ہوتے رہنا یا پھر خودکشی کرلینا مسئلے کا حل نہیں اگر آپ خاموش رہی یا خودکشی کر گئی تو وہ بلیک میلر آپ کے بعد آپ کے گھر کے دیگر افراد کو بلیک میل کرے گا کیونکہ جب تک اس کے پاس آپ کی ویڈیو یا تصویریں ہونگی وہ بندہ بلیک میلنگ سے رکے گا نہیں خاموش رہنے اور خود کو ختم کرنے کی بجائے اپنی غلطی سے دی جانے والی ویڈیو یا تصویروں کو اس مجرم کو قانون کی گرفت میں لا کر ختم کروائیں کیونکہ سائبر کرائم ایکٹ کے انسداد الیکٹرونک کرائم ایکٹ 2015 کے  تحت کسی بھی شخص کو فحش تصویر یا ویڈیو کے ذریعے بلیک میلنگ کرنے کی سزا 5 سے 7 سال قید یا 50 لاکھ روپیہ جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ایک ساتھ ہو سکتی ہیں مذید یہ کہ اگر بلیک میلر بیرون ملک مقیم ہے تب بھی وہ اسی ایکٹ کے تحت مجرم ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ اسے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کا حق رکھتا ہے
  فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی FIA کے سائبر کرائم ونگ کی چوبیس گھنٹے کام کرنے والی ہیلپ لائن 9911  پر کال کریں یا پھر ڈائریکٹر کرائم ایف آئی اے کے ای میل  Dir.crime@fia.gov.pk
ڈائریکٹر این آر 3 سی کے ای میل  Pd@nr3c.gov.pk پر ای میل کرکے اپنی شکایت درج کروائیں تاکہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ مکمل تصدیق کرکے اس مجرم کو قابو کرکے آپ کا فحش مواد ختم کروائے اور دیگر حوا کی بیٹیاں اس کی بلیک میلنگ سے بچ جائیں اور کوئی حوا کی بیٹی مجبور ہو کر خود کشی نا کرسکے تو چپ رہ کر بلیک میل ہونے و خودکشی کرنے کی بجائے مجرم کیساتھ اپنا فحش ڈیٹا بھی ختم کروائیں تاکہ آپ اور آپ کے خاندان کے افراد سر فخر سے بلند کرکے جی سکیں 

Saturday, 11 January 2020

تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض



*تحریر غنی محمود قصوری*

اسلام و ماں باپ کے بعد سب سے بڑی نعمت تندرستی ہے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا رہتا ہے جس سے اللہ رب العزت بندے کے صبر کو آزماتے ہیں اور اس کے بدلے میں آخرت کی پریشانیوں سے بھی نجات دیتے ہیں یوں تو ازل سے ہی کئی بیماریاں ہیں اور ہر انسان کسی نا کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے مگر ایک تھیلیسمیا نامی بیماری ایسی بھی ہے جو کہ ماں باپ کے جینیاتی خرابی کے باعث اولاد میں منتقل ہوتی ہے اللہ رب العزت ہر کسی کے بچوں کو اس موذی بیماری سے بچائے یہ بیماری ایسی ہے کہ ہر ہفتے خون کی بوتل کے علاوہ بطور علاج معالجہ ہزاروں روپیہ بھی خرچ ہوتے ہیں
عالمی یوم تھیلیسمیا 8 مئی کو پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے 
ایک اندازے کے مطابق سنہ 2000 میں پاکستان میں تھیلیسمیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 60 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال تقریبا 6 ہزار نئے کیس سامنے آ رہے ہیں جو کہ بہت تشویشناک بات ہے اس سے بچاءو کیلئے حمل شروع ہوتے ہی ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جوکہ تقریبا ہر سرکاری ہسپتال سے با آسانی ہو جاتے ہیں لہذہ ہمیں لوگوں میں اس بیماری سے بچاءو کے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنی ہوگی وہ اجتماعی طور پر کریں یا انفرادی طور مگر کریں ضرور مگر بہتر ہے کہ اجتماعی طور پر ہو تا کہ ایک ٹیم بن کر زیادہ لوگوں تک آواز با آسانی پہنچائی جا سکے 
اس بیماری میں مبتلا بچے کا خون بہت تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے جسے کم سے کم ایک ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 20 دن بعد خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے اور بار بار  خون کی تبدیلی کی بدولت ان بچوں کے دل و جگر بہت زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں جس کی بدولت ان بچوں کی زندگی کی مہلت 20 سے 25 سال تک ہی ہے وہ بھی بہت کم بچوں کی ورنہ زیادہ تر 13 سے 17 سال تک ہی یہ بچے دنیا میں رہ پاتے ہیں اس کے بعد یہ مریض و مہمان بچے ہم سے جدا ہو کر خالق حقیقی کے پاس پہنچ جاتے ہیں  
تھیلیسمیا میں زیادہ تر مریضوں کی تلی بڑھ جاتی ہے جس پر آپریشن کرنا لازمی ہوتا ہے اس آپریشن پر لاکھوں روپیہ خرچا آتا ہے جبکہ بار بار خون منتقلی کی بدولت ان کی خاص دوائی Desferrioxamicin   کی ضرورت پڑتی رہتی ہے جس کی موجودہ قیمت 5 ہزار روپیہ ہے جو کہ ہر غریب انسان کے بس کی بات نہیں والدین کیلئے دوائی کے علاوہ سب سے بڑی پریشانی خون کا بندوبست کرنا ہے جو کہ ایک کھٹن مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ لوگ بار بار مالی مدد تو کر دیتے ہیں مگر خون ہر بار ہر بندہ نہیں دے سکتا ایسے میں کئی واقعات دیکھنے کو ملے کے مجبور و لاچار ماں باپ تنگ آ کر اپنے لخت جگروں کو ہسپتالوں و این جی اوز کے پاس چھوڑ کر بھاگ گئے اور کچھ کم عمر تھیلیسمیا کے مریض بچے محنت مشقت کرکے بیماری کیساتھ لڑتے ہوئے اپنا علاج معالجہ کرواتے ہیں 
ایسے میں ہم صحت مند افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان بچوں کیلئے خون کا بندوبست کریں تاکہ کوئی مجبور و لاچار ماں باپ اپنے لخت جگر کو یوں مرنے کیلئے چھوڑ کر نا جائے مذید ان بچوں کیلئے ہر شہر کی سطح پر این جی اوز قائم کی جائیں جو کہ ان مریضوں کیلئے خون کے عطیات جمع کرنے کیساتھ علاج معالجے اور ان کی ضروریات زندگی کیلیے رقم بھی جمع کریں تاکہ اللہ رب العزت کے پاس پہنچ کر یہ بچے ہمارا گریبان نا پکڑ سکیں کہ الہی میں ان صحت و توانا لوگوں میں چند سال کیلئے آیا تھا مگر یہ مجھے اپنا خون عطیہ نہیں کرتے تھے اور  مجھے کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ علاج معالجے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی مگر یہ پیسوں والے لوگ مجھ چند سالوں کے مہمان کو پیسے دینے سے انکاری تھے اور مجھے اپنے علاج معالجے کیلئے بیماری کیساتھ محنت و مشقت بھی کرنی پڑتی تھی
پاکستان میں اس وقت سینکڑوں این جی اوز اور سرکاری و نجی ہسپتال ان کم عمر  مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں تو اپنے خون و مال سے ان این جی اوز و معالج خانوں کی مدد کرکے ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے میں مدد کیجئے تاکہ کوئی غریب ماں باپ خون و پیسے کے نا ہونے کی بدولت اپنے لخت جگر کو مرنے کیلئے اکیلا نا چھوڑ دے اور اس مہمان مریض کو اپنے علاج معالجے کیلئے غربت کے باعث بیماری کیساتھ محنت و مشقت نا کرنا پڑے  کیونکہ فرمان باری تعالی ہے ،جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا
تو آگے بڑھیں جب تک ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال ہیں تب تک ان کو عام بچوں کی طرح زندہ رہنے کا موقع دیجئے

Thursday, 9 January 2020

عورت کے بال اور جمہوری تبدیلیاں


 
 تحریر۔  *غنی محمود *

پرانے زمانے کی بات ہے ایک عورت تھی اس کے بال اتنے لمبی نا تھے اور سر میں جویں بھی پڑ جاتی تھیں جس کی بدولت وہ سخت پریشان تھی  وہ جب بھی کسی لمبے بالوں والی عورت کو دیکھتی تو اسے حسرت پیدا ہوتی کہ کاش میرے بھی بال اتنے گھنے اور لمبے ہو آخر اس نے ایک عورت سے پوچھا بہن تمہارے بال اتنے گھنے اور لمبے کیسے ہیں تو اس عورت نے بتایا کہ میں نے فلاں حکیم صاحب سے دوائی لی تھی تب میرے بال اتنے گھنے اور لمبے ہوئے تھے مگر مسئلہ ہے کہ دوائی کچھ عرصہ کھانی پڑے گی جس سے سر کے پہلے بال جھڑ جائینگے پھر اس کے بعد حکیم صاحب دوبارہ دوائی دینگے جس کے کھانے سے بال گھنے ،سیاہ اور لمبے ہو جائینگے سو وہ چھوٹے بالوں والی عورت حکیم صاحب کی دکان کا پتہ لے کر ان کے پاس پہنچ گئی اور اپنا مسئلہ انہیں بتایا ساری بات سن کے حکیم صاحب نے اس عورت سے کہا کہ پہلے دوائی کھانے سے سر کے سارے بال جھڑ جائینگے گے تب پھر آنا دوبارہ دوائی دونگا اسے کھانا بال بہت گھنے ،سیاہ اور لمبے ہو جائینگے سو وہ عورت حکیم صاحب کی دوائی لے کر گھر آگئی اور دوائی کھانا شروع کر دی حکیم اور عورت کے بتانے کی طرح اس کے سارے بالے جھڑنا شروع ہو گئے اور آہستہ آہستہ وہ مکمل گنجی ہو گئی اور اس کی دوائی بھی ختم ہو گئی اب اس عورت نے سوچا اب حکیم صاحب کے مطابق بال تو سارے جھڑ گئے اب ان کے پاس جا کر بال لمبے کرنے والی دوائی لیتی ہو سو وہ حکیم صاحب کی دکان پر پہنچی مگر دکان بند تھی اس نے آس پاس کی دکانوں سے حکیم صاحب کی بابت پوچھا تو پتہ چلا کہ حکیم صاحب تو وفات پا چکے ہیں اتنا سننا تھا کہ وہ عورت غش کھا کر گر پڑی کہ جو پہلے بال سر پر تھوڑے بہت تھے اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی 
بلکل اس عورت کے جیسا معاملہ ہم پاکستانیوں کیساتھ ہر 5 سال بعد پیش آتا  ہے ہمارے سر پر جو تھوڑے بہت بال اگتے ہیں پھر کوئی نیا حکمران آتا ہے ہمیں وعدے تسلیاں دلاسے دیتا ہے اور ہماری ٹنڈ کرکے چلتا بنتا ہے ایسے میں ان   نئے 5 سالوں میں پھر تھوڑے بہت بال اگتے ہیں اور جب بال بڑھنے کی باری آتی ہے حکیم صاحب مر جاتے ہیں یعنی کابینہ ختم ہو جاتی ہے 
الہی ہم پاکستانیوں پر رحم فرما ہمارہ پالا کسی مستند حکیم یعنی حکمران سے ڈال دے 
آمین