Saturday, 28 October 2023

جہاد فلسطین اور جھوٹی قسمیں ازقلم غنی محمود قصوری

 



آجکل ہر تیسرا بندہ شور مچا رہا کہ جی فلسطینی مارے جا رہے ہیں 

ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہماری گورنمنٹ ہماری فوج کیا کر رہی ہے؟

جہاد کریں میں جانا چاہتا ہوں

ہمارے پاس ایٹمی پاور ہے پھر بھی فلسطین میں ظلم جاری ہے 

ہمیں نیند نہیں اتی وہ ظلم دیکھ کر اور ہم سے کھانا نہیں کھایا جاتا فلسطینوں کے حالات دیکھ کر 

گورنمنٹ جانے نہیں دیتی بارڈرز بند کئے ہوئے ہیں

میں جہاد کرنا چاہتا/چاہتی ہوں

میں جاتا تو یہ کر دیتا 

وہ کر دیتا 

بس جعلی ہمدردی دکھلاوے کی عملاً کچھ بھی نہیں

یہ بات میں نہیں کہہ رہا قرآن و حدیث بتا رہے ہیں 

سب سے پہلے میں آپکو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان دکھاتا ہوں


عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «من مات ولم يَغْزُ، ولم يُحدث نفسه بالغزو، مات على شُعْبَةٍ من نِفَاق 

صحيح-رواه مسلم


ترجمہ۔۔۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،جو شخص مر گیا اور اس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کی نیت کی تو وہ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم پر مرا


آئیے میں آپکو قران کی آیت باترجمہ دکھاتا ہوں



لَو کَانَ عَرَضًا قَرِیبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوکَ وَ لٰکِن بَعُدَت عَلَیھِمُ الشُّقَّۃُ وَ سَیَحلِفُونَ بِاللّٰہِ لَوِ استَطَعنَا لَخَرَجنَا مَعَکُم یُھلِکُونَ اَنفُسَھُم وَ اللّٰہُ یَعلَمُ اِنَّھُم لَکٰذِبُونَ۔ 

سورہ التوبہ


ترجمہ۔۔۔اے نبی! اگر فائدہ سہل الحصول ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ( صرف جہاد کی باتیں کرنے والے ) ضرور تمہارے پیچھے چلنے پر آمادہ ہو جاتے  مگر ان پر تو یہ راستہ بہت کٹھن ہوگیا اب وہ خدا کی قسم اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ اگر ہم چل سکتے تو یقینا تمہارے ساتھ چلتے وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں ،اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں


آج فلسطین کے لئے پریشان ہونے والوں سے میرا سوال ہے 

اگر تم نے جہاد کرنا ہوتا تو ابتک کوئی جہادی ٹریننگ لی؟

کبھی صبح کی ورزش اس نیت سے کی کہ میرا جسم تندروست و توانا رہے گا تو ہی میں جہاد کر سکونگا بیمار بندہ کیا جہاد کر سکتا ہے؟


قرآن کہتا ہے کہ جان لو قوت نشانے بازی میں ہے

کبھی آپ نے اسلحہ سے نشانہ بازی کی؟

ارے بھی جب آپ نے ابھی تک کیا ہی کچھ نہیں تو جانا کیسا؟

وہاں میدان جہاد میں مجاھدین آپکو دشمن سے لڑتے ایسے سنبھالیں جیسے ماں ایک غیر تربیت یافتہ نا چل سکنے والے چھوٹے بچے کو چلتے ہوئے گود میں پکڑتی ہے اور پریشان ہو کر  منزل تک پہنچتی ہے؟؟

بات وہ کرنی چاہی جس کا خوب علم ہو یاں جو خود عملی کی ہو

الحمدللہ راقم نے خود 2004 سے 2018 تک  وقفے وقفے سے جہاد کشمیر کیلئے معسکرات میں وقت لگایا اور افغان و کشمیری مجاھدین کی خدمت کرنے کیساتھ کیساتھ ان سے عسکری میدان کا علم حاصل کیا

اللہ تعالی دکھلاوے اور بڑے بول سے بچائے میرا لکھنے کا مقصد تھا نیت اور ارادے بارے بتانا نا کہ نمائش کرنا

باقی اس وقت پاکستان آرمی میں اسی جہاد کیلئے مجاھد بٹالین اور جانباز فورس قائم کی گئی ہیں جس میں عام شہروں کو بھرتی کرکے ٹریننگ دی جاتی ہے اور سال میں ایک مرتبہ فوج میں بلایا جاتا ہے 


ماضی کی بات تو دور کی ہے ابھی حالیہ طور پہ پاکستان سے مجاھد مقبوضہ کشمیر جا رہے ہیں اور مجاھدین کو پاکستانی فوج کے زیر سایہ جہادی تنظیموں کے ماتحت جہادی ٹریننگ دے کر بیجھا جاتا ہے 

نہیں یقین تو ابھی پچھلے دنوں مقبوضہ کشمیر میں شہید ہونے والے پاکستانی پنجابی کا ریکارڈ دیکھ لیں اور چیک کر لیں 1989 سے ابتک کتنے ہزاروں پنجابی،سندھی،بلوچ، پختوں،گلگتی،آزاد کشمیری لوگ راہ جہاد میں لڑتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں شہید ہو چکے ہیں

دوسری بات کہ یہ پاکستانی فوج دفاع پاکستان کیلئے بنائی گئی ہے جو کہ الحمدللہ  دفاع کرتی بھی ہے 

ہاں جب کبھی سول گورنمنٹ  اس کو حکم دیتی ہے کہ آپ سربی غنڈوں کے خلاف لڑو چیچنیا جا کر تو یہ فوج چیچنیا گئی اور لڑی

جب اس فوج کو حکم ملا کہ اسرائیل کا اٹامک سینٹر تباہ کرو تو اس فوج نے ون وے مشن کرکے تباہ کیا اسرائیلی اٹامک سینٹر تباہ کیا 

اس فوج کو حکم ملا جہمان نے بیت اللہ پہ قبضہ کر لیا ہے جا کر بیت اللہ کو جہمان خارجی سے آزاد کروائیں تو اس فوج نے سعودی عرب جا کر جہمان کے ساتھیوں سے بیت اللہ کو آزاد کروایا اور سے بہت سے مواقع ہیں جب اس فوج نے دوسروں کی مدد کی

 اس کے علاوہ پاکستان میں زلزلہ،سیلاب طوفان کے  متعلقہ ادارے ہوتے ہوئے بھی ان اداروں کا کام فوج خود کرتی ہے


دوسرے ملکوں کی جنگیں لڑنا انٹرنیشنل لیول پہ اسلامک فوج کا کام ہے  جسکا سربراہ سعودی عرب نے راحیل شریف کو بنایا ہے تو آپ اس فوج پہ زور دیں کہ وہ لڑے کیوں تمام اسلامی ممالک نے ایک اسلامی فوج بنا رکھی ہے اور دوسرے اسلامی ملکوں کی مدد نہیں کی جا رہی؟

دوسری بات کہ پانچ دہائیوں سے بننے والی حماس نے اس سے قبل اتنے بڑے حملے کیوں نہیں کئے تھے؟

جی تو سوچنے کی بات ہے نا ؟

تو جان لیجئے عالم اسلام خاص کر ترکی،مصر،دبئی،قطر،اردن،لیبیا،ایران،پاکستان جو کچھ کر سکتا تھا تو انہوں نے حماس سے چھپا تعاون کیا تو حماس اسرائیل پہ حملے کرنے کے قابل ہوئی

آپ سن لیں فلسطینوں کی محبت ابھی حالیہ جنگ میں عالم اسلام کے لئے کھلے الفاظ میں


تو جناب آپ کیوں پریشان ہیں؟

آپکو کس نے روکا ہے جہاد فلسطین میں جانے سے؟

جناب آج ہمارے پاکستان میں سے اہم فریضہ عمرہ کیلئے ایک گھر کے دس دس افراد 50 لاکھ لگا کر عمرہ کرنے جاتے ہیں تو گھر کا ایک فرد 5 لاکھ لگا کر ،مصر،اردن شام کا ویزہ لے کر کیوں نہیں جا سکتا ان ممالک میں جن کی سرحدیں لگتی ہیں فلسطین کیساتھ اور جہاں سے حماس کو بندہ اور چندہ جاتا ہے ؟

آپ جا جذبہ قابل قدر ہے اللہ تعالی ہم سب کو راہ جہاد میں شہادت نصیب فرمائے مگر جان لیں شہادت کی کئی قسمیں ہیں جن میں سے سب اعلی قسم جہاد بالنفس ہی ہے مگر دوسری اقسام جہاد جیسے کہ اپنے مال سے مجاھد کو تیار کرنا اس کو اسلحہ لے کر دینا اس کے لئے دعا کرنا ،جہاد کیلئے لوگوں کو ابھارنا اور تیار کرنا بھی جہاد کی اقسام ہیں کہ جن کے بغیر باقی جہاد نہیں چل سکتا

لہذہ پریشان ہونا چھوڑئیے اس جہاد میں شہادت جنت الفردوس کا حصول ہے آپ فلسطینیوں کیلئے دعا کریں ان کے حق میں لکھیں ان شاءاللہ رب ان کی اور ہم سب کی مدد کرے گا 

ان شاءاللہ


Tuesday, 10 October 2023

طوفان الاقصیٰ اور مسلک پرستی ازقلم غنی محمود قصوری


 


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہے جیسے کہ حدیث کے الفاظ ہیں

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و مودت اور باہمی ہمدردی کی مثال جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔۔۔صحیح - متفق علیہ


 یعنی کہ جسم کے ایک حصے کو درد ہو  تو سارا بدن بے چین ہو جاتا ہے اور اس درد کو محسوس کرتا ہے اور اس کو رفع کرنے کی خاطر دماغ نسخہ تجویز کرتا ہے زبان اظہار درد کرتی ہے اور ہاتھ پاؤں چل کر اس درد کی دوا کی جانب جاتے ہیں

یہ سب فطری عمل ہے

اگر پاؤں کہے چوٹ تو پسلیوں میں لگی ہے اب مجھے کیا میں تو ٹھیک ہو تو جان لیں پاؤں کی وہ بے رخی پسلیوں کی چوٹ کی شدت درد سے جان نکلنے پہ ہی ختم ہو گی جہاں پسلیاں بے جان ہو جائیں گیں وہاں پاؤں بھی مر جائے گا بے جان ہو جائے گا سو مکمل بدن کو زندہ رکھنے کے لئے ہر عضو کو تکلیف میں تدبیر کرنی ہو گی  


 ایک اور جگہ ارشاد فرمایا کہ

الکفر ملت واحدہ


کافر ایک جماعت ہیں یعنی ان کا کوئی بھی مذہب ہو گا وہ مسلمانوں کیلئے یک جان ہو کر لڑیں گے اور مسلمانوں پہ ایسے ٹوٹیں گے جیسے بھوکا کھانے پہ ٹوٹتا ہے اور وہ دور آن پہنچا ہے بلکہ بہت پہلے سے شروع ہو چکا ہے 

آج کافروں کو دیکھیں وہ تو یک جان جماعت بنے بیٹھے ہیں مگر مسلمانوں میں کچھ فسادی و انتشاری لوگ ایسے ہیں جو ایک جسم بننے کی بجائے فرقوں کو ترجیح دیتے ہیں

بات نماز روزے،حج و زکوٰۃ میں فرقہ پرستی کی ہوتی تو پھر بھی گزارا تھا اب تو جہاد جیسے اہم فریضے میں بھی لوگوں نے مسلک پرستی شروع کر دی اور بےشرمی کی یہ حد ہو گئی کہ اپنے مخالف مسلک کو غیر مسلموں سے مار کھاتے دیکھ کر بجائے ایک جسم بننے کے الٹا فتویٰ بازی کی جاتی ہے کہ جی فلاں تو سنی ہے فلاں تو وہابی دیوبندی ہے فلاں تو اہل تشیع ہے اس لئے وہ لڑیں ہمیں کیا 

افسوس کہ نبی کریم تو فرما گئے کہ فرقوں میں پڑ کر امت کو ٹکڑے ٹکڑے نا کرنا مگر افسوس درد افسوس آج ہر فرقے کا یہی حال ہے کہ ایسے دوسرے پہ کفر و ارتداد و مشرک و بدعتی کے کھلے عام فتوے لگائے جاتے ہیں


ان ملاؤں کو فتوے لگانا تو یاد ہے مگر یہ یاد نہیں کہ اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے


وَمَا لَـكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ هٰذِهِ الۡـقَرۡيَةِ الظَّالِمِ اَهۡلُهَا‌ ۚ وَاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ۙۚ وَّاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ نَصِيۡرًا 

ترجمہ۔۔۔۔اور (اے مسلمانو ! ) تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جنگ نہیں کرتے حالانکہ بعض کمزور مرد ‘ عورتیں اور بچے یہ دعا کر رہے ہیں۔ اے ہمارے رب ! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی کارساز بنا دے اور کسی کو اپنے پاس سے ہمارا مددگار بنا دے


قرآن کی آیت واضع طور پہ حکم دے رہی ہے کہ جہاں بھی مسلمانوں پہ ظلم ہو تو ان کی مدد کرو کہیں بھی کوئی لفظ موجود نہیں کہ اپنے فرقے کی مدد کرو


آج قبلہ اول کی آزادی کی خاطر حماس نے اسرائیلی کو چھٹی کا دودھ یاد دلوانا شروع کیا تو یار لوگوں نے ان پہ فتوؤں کی بوچھاڑ کر دی 

کوئی ان سے ایران کی مدد لینے پہ عالمی سازش کا حصہ بننے کا الزام لگا رہے ہے تو کوئی ان کے مسلک پہ قدغن لگا رہا ہے


یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حماس نے جنگ قبلہ اول کی آزادی کی خاطر شروع کی ہے اور وہ 1948 سے صیہونیوں کے خلاف برسر پیکار ہیں اور ابتک لاکھوں شہداء کی قربانیاں دے کر بھی پیچھے نہیں ہٹے


بات اگر عالمی برادری کی جانب سے کی جائے تو کوئی بھی ملک کھل کر فلسطین و حماس کی حمایت نہیں کر سکتا کیونکہ سلامتی کونسل کا سارا کنٹرول یہود و نصارٰی کے پاس ہے اگر کوئی کھل کر اسلحہ و مالی مدد کرے گا تو اس پہ پابندیاں لگا دی جائیں گیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ڈھکی چھپی مدد بھی نا کی جائے

اس مدد کی حالیہ مثال افغانستان ہے کہ جب پاکستان پہ بے شمار پابندیاں تھیں تو پاکستان نے ڈبل گیم کے ذریعے امریکہ کو مالی و عسکری نقصان پہنچایا جس کا فائدہ افغان طالبان نے اٹھایا اور بیس سال بعد افغانستان سے امریکہ یہ کہتے روتا ہوا نکلا کہ مجھے پاکستان نے ڈبل گیم کرکے مروایا

موجودہ حالات میں اگر حماس کی طاقت کو دیکھا جائے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اس کی پشت پہ کوئی خفیہ طاقت ضرور ہے کہ جس نے اسے مالی مدد کیساتھ اسلحہ و جدید ٹیکنالوجی مہیا کی اور حماس ایک جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ملک کو پچھاڑنے میں کامیاب رہا

ہو سکتا ہے کہ یہ جنگ بھی افغانستان کی طرز پہ لمبا عرصہ چلے  کیونکہ گزشتہ روز حماس کے راہنما ابوعبیدہ نے کھلے عام اس جنگ کو طول دینے اور اس کے ہر ممکنہ اثرات سے نمٹنے کا اعتراف کیا


اگر دیکھا جائے تو حماس نے مکمل تیاری کیساتھ جنگ کا آغاز کیا ہے کہ جس کے پہلے مرحلے میں ہی ہائی رینک آفیسرز کا اغواء اور سینکٹروں فوجیوں کا قتل حماس کے پلڑے کو بھاری کرتا ہے

ہاں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پہ حملے تیز کر دیئے گئے ہیں جس سے نمٹنے کی صلاحیت بارے حماس نے ضرور سوچ رکھا ہو گا

باقی اسلامی مطالعہ کیا جائے تو رب ہمیں جہاد کرنے کا حکم دیتا ہے چاہے فتح ملے نا ملے نتیجے رب دیتا ہے

جیسا کہ مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے ابتک مسلح تحریک میں ہزاروں مجاھدین شہید ہو چکے مگر ایک رتی برابر علاقہ فتح نا ہو سکا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جہاد کشمیر سے پیچھے ہٹا جائے

فتح و نصرت رب نے دینی ہے اس لئے لڑنا حکمت عملی کیساتھ مسلمانوں پہ فرض ہے نا کہ نتیجے نکالنا نتیجے نکالنا اللہ رب العزت کا کام ہے اور وہ بہتر نتیجے نکالتا ہے اور کسی کی محنت رائیگاں نہیں کرتا

اس وقت اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ فرقہ پرستی جماعت پرستی سے ہٹ کر جیسے ہم نے جہاد کشمیر کو جاری رکھا ہوا ہے ایسے ہی طوفان الاقصیٰ کو جاری و ساری رکھا جائے

اللہ تعالی آزادی پسند مجاھدین کی مدد فرمائے اور نصرت عطا فرمائے آمین 

Sunday, 8 October 2023

قیامت صغریٰ جو میں نے دیکھی ازقلم غنی محمود قصوری





لفظ قیامت سنتے،پڑھتے ہی ذہن میں وہ منظر آتا ہے کہ جو ناقابل بیان، ناقابل تحریر ہے

تاہم عام طور پہ بڑے بڑے سانحات کو قیامت صغریٰ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے


8 اکتوبر 2005 رمضان المبارک کے تیسرے روزے سننہ 1426 ہجری کو پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بھی قیامت صغریٰ کا منظر تھا کہ جب 7.6 Mw شدت کا زلزلہ آیا اور 80 ہزار کے قریب لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے

راقم اس واقعہ کا چشم دید گواہ ہے

میں اپنی ہڈ بیتی قصور شہر سے شروع کرونگا کہ جہاں سے میں نے ہلتے درو دیوار دیکھے اور وہاں سے پھر زلزلہ سے تباہ حال بالاکوٹ تک کا سفر کیا اور بالاکوٹ میں شب و روز گزارے


میں نے طالب علمی کو نیا نیا خیر آباد کہا تھا اور مستقبل کی سوچوں میں کبھی کہاں تو کبھی کہاں رہتا تھا اور 

اس دن 8 اکتوبر 2005 بوقت صبح کو بھی ایک دوست کے پاس ایک گاؤں میں اس کی آٹا چکی و آرا مشین پہ موجود تھا کہ 8 بج کر 50 منٹ کے قریب در و دیوار ہلنے لگے 

عام طور پہ آٹا چکی میں ایسی واہبریشن چلتی رہتی ہے مگر یہ عام حالات سے کئی گنا زیادہ تھی جس کے باعث میں نے اس آرا مشین کو زمین کی جانب جھکتے دیکھا جو منوں وزنی لکڑی کو سیکنڈوں میں کاٹ کر رکھ دیتا ہے

پنکھے چھتوں سے لٹکے جھول رہے تھے

اچانک یہ منظر دیکھ کر ڈر کے مارے برا حال تھا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے گھروں سے باہر نکل آئے تھے

اس قدر شدت کا زلزلہ پہلے کبھی نا دیکھا تھا

ہر شحض ڈرا اور سہما ہوا تھا

اس وقت انٹرنیٹ کی سہولت عام بندے کے پاس نا تھا اور موجود موبائل بھی کی پیڈ عام سے تھے 

فوری ٹی وی آن کیا تو قیامت صغریٰ کا پتہ چلا کہ شمالی علاقہ جات میں صف ماتم بچھ گیا ہے

مارے دکھ صدمے کے برا حال تھا 

اور اوپر سے والدین کی بار بار کالز آ رہی تھیں کہ کیسے ہو کوئی نقصان تو نہیں ہوا

خیر واپسی کا سفر کیا اور گھر پہنچے

اس وقت تک میں پاکستان کی معروف مذہبی سماجی جماعت ،جماعت الدعوہ کا کارکن تھا

فوری طور پہ اپنے محلے و علاقے سے سامان اکھٹا کرنا شروع کیا 

واللہ فراغ دلی کی مثال جو میں نے دیکھی اس پہ ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے تاہم میں ایک چھوٹی سی بات رقم کرتا ہوں

ہمارے محلے میں ایک نہایت غریب عورت تھی اس نے ہم نوجوانوں کو سامان اکھٹا کرتے دیکھا تو آواز دے کر اپنے گھر بلا لیا اور صندوق کھول کر بغیر سلے کپڑے،بلکل نئے کھیس دیئے اور کہا کہ زلزلہ زدگان تک پہنچا دو

میں نے کہا اماں جی آپ نیا کھیس رکھ لیں اور پرانا دے دیں تو وہ کہنے لگیں کہ پتر تجھے علم نہیں وہ لوگ سب کچھ کھو بیٹھے وہاں سردی بہت ہے تو یہ سب لیجا اور ان کی خدمت کرو ان شاءاللہ رب ہمیں بہت دے گا

خیر سامان اکھٹا کیا ٹرک لوڈ کیا اور 5 دن بعد یعنی 13 اکتوبر 2005 کی رات کو ٹرک ڈرائیور،ڈرائیور کے ہیلپر کیساتھ میں اور میرے ایک دوست نے سفر شروع کیا

26 گھنٹے ٹرک کی چھٹ پہ سفر کرنے کے بعد مانسہرہ قراقرم ہائی وے پہ بنے بیس کیمپ پہنچے اور سامان جمع کروایا

مانسہرہ زلزلے سے کافی حد تک بچا ہوا تھا 

بیس کیمپ میں راقم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگ اپنی ضرورت کا سامان فی سبیل اللہ لے کر جا رہے تھے اور دعائیں دے رہے تھے

خیر مانسہرہ رکھے تو زلزلے کے آفٹر شاکش ایسے آئے کہ قصور میں آیا زلزلہ بہت ہلکا محسوس ہوا

آفٹر شاکش آنے پہ پہاڑوں سے پتھر گرتے اور یوں لگتا جیسے کوئی عجیب آوازوں میں رو رہا ہے

اگلے دن بیس کیمپ سے ایک ٹرک پہ بیٹھے اور بالاکوٹ کی جانب سفر شروع کیا

گڑھی ڈوپٹہ سے آگے بڑھے تو زلزلے کی اصل تباہی کا اندازہ ہوا

سڑکیں پھٹی ہوئی تھیں اور ہر طرف ہو کا عالم تھا

سفر کرکے بالاکوٹ میں فلاحی کیمپ میں پہنچے تو کچھ دیر آرام کرکے بالاکوٹ شہر کے ملبے پہ چلنا شروع کر دیا

اللہ گواہ کہ میں نے تقریباً پورا بالاکوٹ شہر کا ملبہ چھان مارا ماسوائے شاہ اسماعیل شہید کے مقبرے کی دیوار اور جاز ٹاور کے کچھ سلامت نا تھا

سب ڈھیر ہوا پڑا تھا

اتنے دن گزرنے کے باوجود لوگوں نے عارضی قبریں کھود کر اپنے پیاروں کو ان میں رکھ کر اوپر سٹیل کی چادریں رکھی ہوئی تھیں

پاکستان آرمی کیساتھ جماعت الدعوہ ،جماعت اسلامی،الاختر ٹرسٹ،الرشید ٹرسٹ،ایدھی فاؤنڈیشن و دیگر قومی فلاحی تنظیمیں ریکسیو میں مصروف تھیں

پاک فوج کے جوان ملبے میں ایک خاص ڈیوائس گراتے اور آواز کی لہروں کی پہچان سے انسانی وجود کی تصدیق کرکے لوگوں کو ملبے سے نکال رہے تھے

میں پورا بالاکوٹ شہر گھوما مگر افسوس کہ ملکی و غیر ملکی افسران کے ہیلی کاپٹر آتے ویڈیو بناتے اور چلے جاتے

بالاکوٹ شہر اور مضافات میں ہیلی کاپٹروں کا اتنا رش تھا کہ جنگ کا گمان ہوتا تھا مگر مجال جو کسی کے دکھوں کو سمجھ کر کوئی ریکسیو کر رہا ہو ہاں البتہ پاک آرمی کے ہیلی کاپٹرز اور امریکہ کا اپاچی ہیلی کاپٹر مصروف ریکسیو تھا

اپاچی ہیلی کاپٹر پاکستان نے لیز پہ لیا تھا اور اس کے ذریعے بھاری مشینری کئی مقامات پہ پہنچائی جاتی میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی

ایک دن میں دریائے کنہار کے کنارے واقع ملبے کے ڈھیر پہ چل رہا تھا تو دیکھا ایک کڑیل جوان بے ساختہ رو رہا ہے اور کچھ چھوٹی موٹی چیزیں اکھٹی کر رہا ہے

میں اس کے پاس گیا اور اس کی مدد کیلئے چیزیں اکھٹی کرنے لگا

اس نے میری طرف دیکھا اور مجھ سے کہنے لگا 

جوان کبھی زندگی میں تکبر نا کرنا 

کہتا ہے جانتے ہو میں کون ہوں؟

میں نے کہا نہیں میں تو فلاح انسانیت کیلئے آیا ہوں

وہ بتانے لگا کہ یہ جو سارا ملبے کا ڈھیر ہے یہ ٹرک مارکیٹ تھی اور میں اسکا مالک تھا

اب یہ ملبے کا ڈھیر ہے 

میں اربوں روپیہ کا مالک تھا اور اب اپنی  فیملی کے کئی لوگ دفن کرکے اکیلا دو وقت کی روٹی کی تلاش میں یہ چوٹی موٹی چیزیں اکھٹی کر رہا ہوں تاکہ روٹی خرید سکوں

وہ کہنے لگا جوان 17 سیکنڈ نے مجھ رئیس زادے کو فقیر کر دیا خدارا وقت کا کچھ پتہ نہیں اس لئے کسی پہ ظلم نا کرنا 

وہ روئے جا رہا تھا اور میں اس کی کڑیل جوان جسم کو حسرت سے دیکھ رہا تھا کہ اس کے کپڑے کتنے مہنگے اور اب یہ کتنا مجبور ہو چکا

مجھے کئی لوگ ملے جنہوں نے اپنی درد بھری داستانیں سنائی کہ کسطرح انہوں نے اپنی ساری ساری فیملیاں ملبے سے نکال کر دفن کی ہیں

کوئی ایک فرد زندہ بچا تو کوئی دو تین

ہر کسی کی درد ناک ترین داستان تھی جو میں نے سنی بہت سے المناک مناظر میں نے کم سنی میں اپنی آنکھوں سے دیکھے اور نتیجہ نکالا انسان جتنے مرضی حفاظتی انتظامات کرلے جب وقت آتا ہے تو دیر نہیں لگتی سیکنڈوں میں انسان عرش سے فرش پہ آ جاتا ہے

ملبے میں سکول کے بچوں کی کتابیں میں نے نکال کر پڑھیں اور سوچنے لگا وہ اب ملبے تک زندہ بھی ہونگے کہ لقمہ اجل بن گئے ہونگے تاہم ایک سکول سے چند بچیاں غالباََ دو ہفتوں بعد زندہ نکلیں اور میں اسی پرائیویٹ سکول کے ملبے پہ کئی گھنٹے بیٹھا بچوں کی کتابیں  پڑھتا رہا تھا

میں نے اتنے زیادہ المناک مناظر دیکھیں کہ واللہ یہاں لکھنے سے ان کو شاید نا محسوس کیا جا سکے

دعا ہے اللہ تعالی ہم سب کو ان سانحات سے محفوظ  رکھے آمین