Tuesday, 24 November 2020

مہنگائی،ذخیرہ اندوزی،رشوت خوری و موجودہ حالات مثل قوم نوح ،، از قلم غنی محمود قصوری

 موجودہ دور میں مذہب سے دوری کی بنا پر ہم میں ہر وہ برائی آ گئی ہے جس سے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ اور کتاب الٰہی نے منع کیا ہے خاص کر کاروباری حضرات میں ذخیرہ اندوزی اور سرکاری ملازمین میں رشوت خوری جبکہ عام عوام میں دیگر سینکڑوں معاشرتی برائیاں جنم لے چکی ہیں جن سے ہر کوئی فکر مند ہے کسی بھی کاروباری  سے حکومتی مقرر کردہ نرخوں پر چیز حاصل کرنا اور سرکاری کام بغیر رشوت کے سر انجام پا جانا ایک عجوبہ ہی لگتا ہے جبکہ مہنگائی بےروزگاری اور امن و امان کی مخدوش صورتحال بھی ایک لمحہ فکر ہے 

یوں تو یہ جرائم بہت پرانے ہیں مگر موجودہ دور میں ان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور دن بدن بڑی تیزی سے ہو بھی رہا ہے جس سے ہر خاص و عام سخت پریشان ہے اور مارے مایوسی کے ہر کسی کی زبان پر یہی بات ورد کرتی ہے کہ یہ حالات نہیں سدھر سکتے بلکہ مذید خراب ہونگے جن کا سوچ کر ہی دل خوف زدہ ہو جاتا ہے 

مگر نا امیدی کفر ہے کیونکہ اللہ کے ہاں دیر تو ہوسکتی ہے مگر اندھیر ہرگز نہیں 

فی زمانہ اللہ تعالی نے اقوام کی اصلاح و تربیت کیلئے پیغمبر و رسول بیجھے جو اپنی قوموں کی معاملات دین و دنیا میں اصلاح فرمایا کرتے تھے تاکہ امن و سکون قائم ہو پیغمبروں کی باتیں ماننے والی قومیں کامیاب و کامران ہوئیں اخروی و دنیاوی صورتوں میں

ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور ہماری زندگی اسوہ رسول اور اللہ رب العزت کی طرف سے ہمارے لئے اپنے نبی پر بیجھی گئی کتاب یعنی قرآن مجید کی محتاج ہے چونکہ نبی ذیشان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا اس لئے موجودہ حالات کا جائزہ بھی ہمیں قرآن و حدیث سے ہی ملے گا 

اللہ تعالی قرآن مجید  میں ایک سرکش قوم کہ جس نے اپنے پیغمبر کی بات کو جھٹلایا اور تکبر و سرکشی،معاشرتی برائیوں میں لتھر کر اور نافذ کردہ حدیں پار کرکے عذاب کی مستحق ٹھہری،قوم نوح کی مثال ہمیں پیش کرتے ہوئے ہم سے یوں مخاطب ہیں

 کیا انہیں اپنے سے پہلے لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں ،  قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور اہل مؤتفکات  ( الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والے )  کی  ان کے پاس ان کے پیغمبر دلیلیں لے کر پہنچے  اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا ۔۔ سورہ التوبہ آیت 70

اللہ تعالی ہمیں پہلی سرکش و معاشرتی برائیوں سے عذاب کی مستحق قوموں کی مثالیں پیش کر رہے ہیں یہ قومیں چاہے تباہ ہو چکیں مگر اللہ وہی ہے اور وہ پہلی سی طاقت رکھتا ہے اس لئے اللہ نے قوم نوح کی کارستانی ہم سے بیان کی تاکہ ہم عبرت حاصل کرسکیں اور نافذ کردہ اسلامی حدوں پرعمل پیرا ہو کر اخروی و دنیاوی فلاح پائیں 

نوح علیہ السلام کو اللہ تعالی نے ان  کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بیجھا یہ قوم انتہائی سرکش  اور معاشرتی برائیوں کی عادی تھی نوح علیہ السلام نے ان کو اللہ کی نافذ کردہ حدیں بتلائیں اور عذاب الہی سے ڈرایا جس کا قوم نوح نے رد کیا ان کی باتوں سے نوح علیہ السلام پریشان ہو گئے کیونکہ ان کے مخالفین میں ان کا حقیقی بیٹا بھی شامل تھا 

اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام سے مخاطب ہو کر کہا کہ اے نوح آپ غمگین نا ہو بلکہ میرے حکم سے ایک بہت بڑی کشتی بنا اور ان کو میری طرف سے ایک بڑے عذاب کی خبر سنا جب عذاب آنے لگے گا تم اور تمہارے پیروکار اس میں سوار ہو جانا اور ان سرکشوں پر عذاب کا نظارہ کرنا 

حکم ربی کے پابند نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو آسمانی پیغام سنایا اور حکم ربی سے ایک بہت بڑی کشتی تیار کی 

حکم ربی سن کر اور کشتی تیار ہوتی دیکھ کر اس قوم کے سرداروں نے نوح علیہ السلام کا مذاق اڑایا

نوح علیہ السلام نے کشتی تیار کرلی اور پھر ان لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرایا مگر ان سرکشوں نے  کشتی میں مارے حقارت کے رفائے حاجت کر کر کے اس کشتی کو بول و براز سے بھر دیا اور کہنے لگے کہ اے نوح اپنے رب سے کہہ کہ بیجھے ہم پر عذاب 

کشتی میں بول و براز بھرا دیکھ کر نوح علیہ السلام سخت پریشان ہو گئے اللہ نے اپنے پیغمبر کی پریشانی بھانپی اور اس کشتی کو اسی قوم سے صاف کروانے کی خاطر ان میں ایک خاص وبائی مرض پھیلا دی جو بول و براز میں لیٹنے سے رفع ہوتی تھی 

سو چند ہی دنوں میں اسی متکبر اور معاشرتی برائیوں میں لتھری قوم نے اپنی شفا حاصل کرنے کی خاطر  کشتی نوح کو لیٹ لیٹ کر اس طرح صاف کر دیا کہ گویا اس میں کبھی گندگی تھی ہی نہیں باقی قوم نوح پر عذاب آیا اس اور وہ تباہ ہو گئے جو ایمان والے اور پیغمبر کے جانثار تھے وہ کشتی نوح میں سوار ہو کر بچ گئے  

آج ہم میں سابقہ قوموں والی برائیاں سرعت کرچکی ہیں جن کی بدولت ہمارے معاشرے کا امن و سکون برباد ہو چکا ہے اور ہم سمجھتے ہیں شاید سدا حالات ایسے ہی رہنے ہیں مگر ایسا ہرگز نہیں

سابقہ قوموں کو دیکھتے ہوئے آج ہمیں یقین کرنا چاہئیے کہ ہماری معاشرتی برائیوں کی عادت کو ختم کرنے کیلئے اللہ تعالی ہم میں بھی ایسے لوگ پیدا کر دے گا جو اس گندگی سے بھرے نظام کو صاف کر دینگے اور احکام الہٰی پر عمل کراوائینگے کیونکہ میرا رب نہایت مہربان اور بہتر چال چلنے والا ہے ہمیں بس خود کو درست کرنا ہے باقی ان شاءاللہ جلد اللہ اپنا وعدہ پورا کرے گا جو سمجھ گئے وہ بچ جائینگے اور جو سر کشی پر ڈٹے رہے وہ عذاب الہی کا شکار ہونگے


Sunday, 1 November 2020

مہنگائی بے روزگاری لاقانونیت اور سیاسی اختلافات بھی خارجیت پروان چڑھاتے ہیں ،،،، از قلم غنی محمود قصوری

 وطن سے محبت سنت بھی ہے اور ایمان کا حصہ بھی بلکہ یہ تو تمام انبیاء کی سنت ہے ہر زمانے میں انبیاء و رسول اپنے وطن کو دعوت و تبلیغ کرتے رہے اور بعض وطن کے دفاع کے لئے جنگ بھی لڑتے رہے 

وطن و دیس تبھی ترقی کرتے ہیں جب وہاں سکون ہو مکہ میں میرے نبی کریم کو کفار نے ایذا دی سو آپ نے اپنے وطن کے امن و سکون اور محبت کی خاطر مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور آخر اپنے وطن مکہ کو جہاد فی سبیل اللہ، جدوجہد اور قربانیوں سے امن کا گہوارہ بنا دیا

 اگر وطن سے محبت اور وطن کے امن و امان کی فکر نا ہوتی تو میرے نبی آخر الزماں کبھی واپس مکہ نا جاتے کیونکہ وہاں ان کو بے شمار غم و دکھ دیئے گئے تھے 

وطن سے محبت کی مثال قرآن نے موسی علیہ السلام کی طرف سے یو بیان کی ہے

اے میری قوم ( ملک شام یا بیت المقدس کی) اس مقدس سر زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے اور اپنی پشت پر نہ پلٹنا ورنہ تم نقصان اٹھانے والے بن کر پلٹو گے  سورہ المائدہ آیت  21

گو کہ قرآن امت محمدیہ کیلئے محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر  نازل ہوا مگر اس میں اللہ تعالی نے پچھلی قوموں کی بھی مثالیں ہمارے لئے رکھی ہیں

اس آیت میں اللہ رب العزت موسی علیہ السلام کو فرما رہے ہیں کہ اے موسی ایک ظالم جابر اور ناجائز قابض خود کو رب کہلوانے والے فرعون کا مقابلہ کرنا اور پشت پھیر کر نا بھاگنا اگر ایسا کرو گے تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے سوچنے کی بات ہے اگر نبی موسٰی علیہ السلام  کو صرف دنیا میں رہنا ہی مقصود ہوتا تو اللہ کی اتنی بڑی زمین تھی اگر فرعون یہاں رہنے سے روکتا تھا تو وہ کہیں اور جا کر رہ لیتے وہ زمین چھوڑ دیتے مگر اللہ نے حکم دیا کہ موسی اپنے مقبوضہ ملک کو اس جعلی رب سے مقابلہ کر کے چھڑوا سو کوشش تو کر نتیجہ میں دونگا سو موسی علیہ السلام نے حکم ربی کے مطابق مقابلہ کیا اور اللہ نے فرعون کو غرق کر دیا 

پیارے اور محبوب نبی جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وطن کی محبت کی خاطر اللہ ربا العزت یوں ہم کلام ہیں

اے نبی آپ فرما دیجئے اگر تمہارے باپ اور بیٹے،بیٹیاں اور تمہارے بھائی، بہنیں اور تمہاری بیویاں اور تمہارے دیگر رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو ،اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو تمہارے نزدیک اللہ اور رسول اور اس راہ جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔۔ سورہ التوبہ آیت 24 

 چونکہ نبی کریم اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے اس لئے اللہ نے نبی سے کہا کہ اے نبی اپنے اصحاب اور آنے والی امت کو کہہ دو کہ تمہاری اولادیں ،جانیں ،کاروبار  ماں باپ اور تجارت اگر تمہیں اللہ کی راہ جہاد سے زیادہ محبوب ہو جائیں تو پھر اللہ کے عذاب کا انتظار کرنا وہ عذاب دنیا میں تمہاری پشتی و غلامی اور کئی قسم کی صورتوں میں ہو گا   کیونکہ اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں عطا کرتا 

اب سوچنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنے مضبوط اور مقدس رشتے ہوتے ہوئے ان سے پہلے جہاد کو کیوں قرار دیا؟ 

تو اس کا مطلب یہ ہوا اللہ تعالی نے دفاع وطن کو رشتہ داریوں سے بھی زیادہ لازم قرار دے دیا تاکہ کوئی وطن پر ناجائز قابض ہو جائے تو پھر رشتہ داریوں کی بجائے جہاد فرض ہوجاتا ہے تاکہ دفاع وطن کرکے رشتہ داروں اور معاشرے کیلئے امن و سکون لایا جائے اور یہی وطن سے محبت کی ایک عمدہ دلیل بھی ہے 

واضع رہے جہاد کفار کیساتھ اس وقت لڑنے کا نام ہے جب وہ حدود اللہ و حدود العباد پر حملہ کریں اس کے علاوہ کافروں کو بھی اللہ اور اس کے رسول نے امن و سکون سے رہنے کا درس دیا ہے اس کے برعکس اپنوں پر سو طرح کے بہانے گڑھ کر گولی چلانا ان کا قتل عام کرنا خود کش جیکٹس مسجدوں مدرسوں بازاروں میں پھاڑ کر مسلمانوں کو شہید کرنا جہاد نہیں بلکہ فساد یعنی خارجیت ہے اور اس خارجیت کی قرآن وحدیث میں سخت وعید کی گئی ہے ویسے تو ان دہشت گرد خارجیوں کی نشانیاں اتنی ہیں کہ اگر میں لکھنا شروع کر دو تو ایک پورا موضوع انہی پر لکھا جا سکتا ہے سو مختصراً ایک حدیث  لکھتا ہوں

بے شک ان کی پشت سے ایسی قوم نکلے گی جو قرآن یوں پڑھیں گے کہ وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ،وہ مسلمانوں کو قتل کرینگے جبکہ اہل اوثان کو چھوڑ دینگے وہ اسلام سے ایسے نکلیں گے جیسے تیر کمان سے نکل کر شکار کے آر پار ہو جاتا ہے اگر میں انہیں پاؤ تو ضرور قوم عاد کی طرح انہیں قتل کرونگا 

یہ حدیث پہلے خارجی جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا، ذوالخویصرہ التمیمی کی طرف اشارہ کرتی ہے اور آگے مذید کہا گیا ہے کہ یہ لوگ قیامت تک نکلتے رہینگے اور دجال کا ساتھ دینگے جبکہ خود کو مسلمان کہینگے دوسرے مسلمانوں کو کافر مرتد کہہ کر قتل کرینگے اور زمین میں فساد برپاء کرینگے

اس حدیث میں وضع کیا گیا یہ کہ یہ خارجی فسادی لوگ مسلمانوں کو تو حیلوں بہانوں سے قتل کرینگے مگر اوثان یعنی غیر مسلمانوں کو کچھ نا کہینگے اور یہ قرآن تو بڑے خوبصورت انداز سے پڑھینگے مگر ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا یعنی وہ خود اس قرآن کو ایسے پڑھینگے کہ ان کو بھی سمجھ نا ہو گی کہ یہ قرآن کیا فرما رہا ہے اور جو کچھ قرآن فرما رہا ہے خود اسی کا الٹ کرینگے یعنی قرآن صرف دکھلاوے کے لئے ہی پڑھینگے گے 

یہاں یہ وضاحت کرتا چلو کہ بہت سے ایسے اور لوگ بھی ہونگے جن میں ان خارجیوں والی ایک آدھ نشانی پائی جاتی ہو گی مگر وہ قطعاً خارجی نا ہونگے جب تک کہ کسی مسلمان کو قتل نا کریں اور کفر و ارتداد کے فتویٰ لگا کر ملک کا امن و امان برباد نا کر دیں جیسا کہ پیشہ ور قاتل ڈاکو بھی فساد کرتے ہیں مگر وہ شرع کا نعرہ لگا کر نہیں اپنی ذاتی آسائشوں کی خاطر فساد کرتے ہیں شاید ان کو اللہ معاف کر دے اگر نا بھی کرے تو ایسے لوگ جہنم کی سزا کاٹ کر جنت میں جائینگے اگر شرک و خارجیت کے مرتکب نا ہوئے تو کیونکہ شرک و خارجیت ایسے گناہ کبیرہ ہیں جن کی بدولت اسی پر قائم رہتے ہوئے بندہ مر گیا تو ٹھکانہ ہمیشگی جہنم ہی ہو گا یہ رب کا کھلا فرمان ہے ہاں اگر مرنے سے قبل توبہ کرکے اس توبہ پر قائم رہیں تو پھر اللہ بھی بخشنے والا مہربان ہے اور وہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا 

قصہ مختصر ان خارجیوں ،دہشت گرد فسادیوں  کی اولین پہچان مسلمانوں کیساتھ قتال اور کفار کیساتھ پیار ہے جیسا کہ آپ دیکھ لیں کہ پاکستان میں شریعت محمدی کے نفاذ کا خوشنما نعرہ لگا کر انہوں نے مسلمانوں کو مسجدوں،بازاروں اور بچوں تک کو سکولوں،مدرسوں میں شہید کیا اور  مسلمانوں کی

عزت مآب عورتوں کو گھروں سے اٹھا کر ان سے جبری نکاح کیا خود ہی انہوں نے نعرہ شریعت کا لگایا اور امداد بھی انڈین را سے لی خود ہی کفار کی چیزوں سے اعلان برأت کیا اور جب بھی کسی پاکستانی و غیر ملکی کو اغواء کیا تو مطالبہ بھی کفار کے ڈالروں کا ہی کیا یہی باتیں ان کے قرآن پڑھنے اور حلق سے نیچے نا اترنے کی مضبوط ترین دلیل ہیں

آج  انہی دہشت گردوں کی بدولت پاکستانیوں کو ہزاروں فوجی جوانوں و عام پاکستانیوں کی جانوں کی قربانیاں دینا پڑیں اور یہ سلسلہ ایک بار پھر سے چل پڑا ہے گزشتہ ادوار میں الحمدللہ پاکستانی فوج نے اپنی عوام سے ملک کر ان کا قلع قمع کر دیا تھا مگر اب پھر یہ لوگ سر اٹھانے لگ گئے ہیں جس کی واضع مثال حالیہ پشاور مدرسہ میں دھماکہ اور ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز پر حملے ہیں

 آخر سوچنے کی بات ہے کہ کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ بار بار سر اٹھاتے ہیں اور پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا شروع کر دیتے ہیں

بیشک یہ لوگ خارجی ہیں اور پکے جہنمی ہیں مگر آخر وجہ کیا ہے کہ یہ خارجیت اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے اس کے لئے میں آپ کو اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتا ہوں جو میں نے مینگورہ سوات ،دیر اور وزیرستان کے لوگوں سے حاصل کیا ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم اس سول گورنمنٹی نظام کے ستائے ہوئے تھے سارا سارا دن محنت کرکے بھی بچوں کا پیٹ نا پال سکتے تھے تھانے کچہری میں ایم پی اے،ایم این اے و افسران جاگیردارن کے بندوں کی اجارہ داری تھی اور تو اور ہسپتال سے دوائی لینے جاتے سارا دن لائن میں لگے رہتے اور جب ہماری بھاری آتی تو کوئی شفارشی چند منٹ میں اپنا کام کروا کر ہماری آنکھوں میں آنکھوں ڈال کر چلتا بنتا کاروبار تباہ تھے پرائیویٹ ڈاکٹروں کی فیسیں ہمارے کئی دنوں کی محنت سے بھی زیادہ تھیں بنیادی سہولیات ہم سے کوسوں دور تھیں امن و امان برباد ہو چکا تھا لوگوں کی جان و مال محفوظ نا تھا جس کا دل کرتا طاقت کے بل بوتے پر مال و جان کے ساتھ عزت پر ہاتھ ڈال لیتا اور تھانے کچہری میں شنوائی بھی نا ہوتی تھی

سو ہم اس ناانصافی کے مارے ان خارجی جماعتوں کے آلہ کار بننے پر مجبور ہو گئے 

قارئین یہاں میں آپ کو بتاؤں کہ سب سے پہلے دشمن نے چھوٹے موٹے چور ڈاکوؤں کو خرید کر دہشت کی فضاء قائم کرکے سیاحت کو ختم کیا اور سیاحت کے ختم ہوتے ہی ان کا روزگار بھی چھن گیا لوگ چاہتے ہوئے بھی دو وقت کی روٹی نا حاصل کر سکتے تھے

مذید دشمن نے لوگوں میں ان کے ساتھ ہوتی ناانصافیوں کو ہائی لائٹ کیا ان کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ زنی پر انہیں جھنجھوڑا سندھی کو پنجابی ،پختون،بلوچی کے خلاف اور ان سب کو ایک دوسرے کے خلاف کیا ایک فرقے کو دوسرے ،دوسرے کو تیسرے اور پھر سب کو ایک دوسرے کے خلاف کیا 

 صوبوں کو ایک دوسرے کے حق مارنے کا واویلا کیا گیا اور ان کے باسیوں کو بتلایا کہ اگر حق نا ملے تو حق لینے کیلئے لڑنا جہاد ہے اس سے جنت ملے گی تمہاری حکومت ہو گی تم شرع اللہ نافذ کرکے جنت پاؤ گے لہذہ سندھیوں تم بھی سندھو دیش کا نعرہ لگاؤ بلوچیوں تم پاکستانی فوج کا بلوچستان سے انخلاء مانگو پختونوں تمہاری سیاحت کا پیسہ گورنمنٹ کھا رہی ہے تم سب اٹھو لڑو ان سے 

قارئین دشمن نے بڑے عرصے سے پاکستان کے خلاف محاذ کھولا ہوا تھا جس کا عملی مظاہرہ انہوں نے کامیابی سے بنگلہ دیش میں کیا بھی تھا اور کامیاب بھی رہے تھے اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے اب کھلے عام پمفلٹ شائع کروائے کہ تھر میں پانی نہیں لوگ و جانور ایک جگہ سے پانی پیتے ہیں پنجاب کی فصل ہوتی ہے بلوچی سندھی پٹھان کھا جاتے ہیں وڈیرے تمہیں غلام بنا کر رکھتے ہیں تمہیں بنادی سہولیات میسر نہیں تمہارے لیڈران بیرون ملک مہنگے سفر کرتے ہیں تمہاری فوج قوم کا اسی فیصد کھا جاتی ہے فوجی عیاشیاں کرتے ہیں جو کہ تمہارے ٹیکس کی بدولت ہیں وغیرہ وغیرہ 

چند نا پختہ کچ ذہن لوگوں کو اپنے پے رول پر کر لیا جنہوں نے اپنے سے ہوئی زیادتیوں کی بنیاد پر ان غریب غرباء اور کچھ صاحب حیثیت مگر ذاتی انتقام کے مارے لوگوں کو ورغلا کر آتش و خون کا بازار گرم کر دیا  جس کا سارا خمیازہ پاکستانی قوم و فوج کو بھگتنا پڑا پاکستانی فوج کے افسران و جوان شہید ہوئے جبکہ عوام پاکستان کی املاک و جان کا نقصان ہوا 

اگر دیکھا جائے تو ان ساری وجوہات کی وجہ غربت حد سے زیادہ مہنگائی انصاف کا نا ملنا سیاستدانوں کا اپنے ذاتی کارکنوں کو ڈنڈے کے زور پر سہولیات لے کر دینا اور دوسروں کو حق سے محروم رکھنا اور سیاستدانوں کی طرف سے دشمن کی زبان سرعام بولنا ہے 

اگر سابقہ گورنمنٹس اس ملک پاکستان سے مخلص ہوتیں اور موجودہ بھی مخلص ہوتی تو یہ لوگ اسلام آباد میں اپنے اے سی لگے کمرے میں بیٹھ کر تھر کے بچے کی خوراک کی کمی پر محض بات نا کرتے بلکہ اس بچے کو غذا اور صاف پانی فراہم کرتے یہ لوگ خود ہیلی کاپٹروں جہازوں میں اندرون ملک سفر کی بجائے بغیر پروٹوکول سفر کرتے تاکہ عوام کو احساس ہوتا کہ یہ شاہراہیں پر امن ہیں

یہ لوگ جنسی زیادتی کے مجرمان کو سرعام پھانسی کے عوامی فیصلے پر قانون سازی کرکے ان کو لٹکاتے تاکہ امن و امان کے ساتھ عزتیں محفوظ رہتیں اگر ان کو پاکستان سے پیار ہوتا ان کی اپنی اولادیں بیرون ملک پڑھنے کی بجائے پاکستان کی یورنیورسٹی کالجز میں پڑھتیں تاکہ عوام کو احساس ہوتا کہ اگر لیڈران کے بچے یہاں پر پڑھتے ہیں تو ہم بھی اس ملک کے باسی ادھر پڑھینگے

یہ بیرون ملک علاج کروانے کی بجائے میڈیکل کی تعلیم سستی کرتے تاکہ ہر پاکستانی کو ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹر میسر ہوتا 

یہ اپنی تنخواہیں کم ہونے کا رونا نا روتے جہاں مزدور چھ سو روپیہ یومیہ کمائے وہاں ایک ایم پی اے لاکھوں ماہانہ لے تو نفرت بڑھتی ہے 

یقین کیجئے خارجی دہشت گرد جہنم کے کتے ہیں شک کی بات نہیں مگر ہمارے یہ افسران اور سیاستدان بھی اس خارجیت کو پروان چڑھانے کے ذمہ دار ہیں یہ ان لوگوں کو ان کا حق دیتے مہنگائی کو قابو کرتے بے انصافی لاقانونیت کو روکتے تو یہ دن نا دیکھنے پڑتے دوسری طرف وہ خارجی مسلح لوگ وڈیروں کی غلامی سے نکل کر دشمن کافر کی غلامی میں چلے گئے جن کو یہ احساس نا ہوا کہ ہم تو اپنے ہی مسلمانوں کی چھوٹی موٹی کمیوں کوتاہیوں کا شکار ہوئے ہیں جس کے بدلے اللہ جنت دے گا اور ان بے انصافوں سے حساب لے گا  

مگر وہ دشمن کے ایجنٹ بنکر اپنی فوج و عوام پر گولی و خودکش جیکٹ پھاڑ کر جہنم کے حقدار ٹھہرے 

الحمدللہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا سیاستدانوں کے چھوڑے منصوبے اب فوج خود اسی وزیرستان سوات میں پایہ تکمیل کر رہی ہے جس سے مرجھائے چہروں پر رونق آ رہی ہے تھر کے اندر کچھ محب وطن لوگ اور فوج کنویں کھود رہی ہے جس سے ان بیچاروں کو صاف پانی ملنا شروع ہوا تو ان کے اندر کا باغی کمزور ہو کر وطن کا رکھوالا بن گیا  الحمدللہ بہت سے دہشت گرد خارجی اس ہمدردی سے متاثر ہو کر  اس ملک پاکستان کے بازوں بن گئے ہیں 

کاش یہ حکمران بھی اپنا پیٹ بھرنے کی بجائے حقداروں کو ان کا حق دین تاکہ قائد اعظم کا پاکستان لاالہ الااللہ کی بنیاد پروان چڑھے 

اسلام زندہ باد 

پاکستان زندہ باد

افواج پاکستان زندہ باد