Friday, 27 September 2019

مسئلہ کشمیر پر خان کا کردار



تحریر غنی محمود قصوری 

مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جب جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے یہی صورت حال امت مسلمہ کی ہے  73 سالوں سے امت محمدیہ  کے بیٹے بیٹیاں مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کے سائے تلے ہندو پلید کی غلامی میں جی رہے ہیں اور آج ہندو کی جانب سے کشمیری مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیئے دو ماہ ہونے کو ہیں مقبوضہ وادی کشمیر مودی ظالم نے ظلم کی تمام حدیں پار کر دی ہیں جس پر پورا عالم کفر تو خاموش تھا ہی مگر حیرت اور دکھ عالم اسلام پر ہے کہ وہ جسم کے ایک حصے کی درد کو محسوس کرکے بھی گونگے بنے بیٹھے ہیں حالانکہ آج ہمارے اسلامی ممالک کے پاس ہر طرح کے مالی و عسکری وسائل موجود ہیں مگر سوائے پاکستان کے کسی کو توفیق نہیں کہ اس درد کو محسوس کرسکے 
 اتنے سالوں میں کئی لیڈر آئے  اور کشمیری قوم کے ساتھ تسلی و تشفیع پر اکتفا کرتے رہے مگر بدقسمتی سے کشمیر کا دفاع صحیح معنوں میں نا کر سکے بلکہ الٹا عالم کفر کے مذید غلام بنتے گئے 
ایسے میں 27 ستمبر کو اللہ رب العزت نے وزیراعظم عمران خان کو یونائیٹڈ نیشن کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کا موقع دیا مگر خان نے بھی اللہ کی مدد سے مسئلہ کشمیر کیساتھ ہندو پلید کی مکاری اور فریبی کو بھی دنیا کے سامنے خوب اچھی طرح باور کرایا  جس پر پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے 
یقینا اس طریقے سے بات کرنا عالم کفر کے ایوانوں میں بہت ہمت و حوصلے کی بات ہے کیونکہ پہلے بھی ہزار سال جنگ تو کوئی گھاس کھانے کے نعرے لگا چکے ہیں جس سے پاکستانی و کشمیری قوم کا سیاستدانوں سے اعتبار اٹھ چکا تھا مگر  آپ نے اس اٹھے ہوئے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنے کا عمل شروع کیا ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو کامیابی سے ہمکنار کرے
مگر خان صاحب اللہ کا واسطہ ہے اب اگر سر اٹھا ہی لیا ہے تو یہ سر نیچا نا ہونے پائے کیونکہ آپ نے دیکھا بھی ہے پڑھا بھی ہے کہ سابقہ حکمرانوں نے کس قدر کمزوری کا مظاہرہ کیا اور آخر جوتے کھا کھا کر روانہ ہوتے رہے اور قصہ پارینہ بنتے گئے اور ان کیساتھ یہ ان کے رب کریم نے کروایا تاکہ وہ دنیا کے سامنے باعث عبرت بنیں کہ جو اپنے جسم و شہہ رگ سے وفاداری نہیں کرتا پھر جوتے ہی اس کے مقدر بنتے ہیں 
 اگر اب آپ نے بھی اپنے الیکشن کی طرح مسئلہ کشمیر کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کیا تو پھر یقین جانیئے اللہ کے عذاب سے آپ بچ نا سکیں گے کیونکہ پاکستانی عوام سے کیئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی بدولت بڑی حد تک قوم آپ سے مایوس ہو چکی ہے  مگر مسئلہ کشمیر کے معاملے پر آپ کی دلیری نے آپ کو ایک موقع دیا ہے اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس مسئلے کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرکے  عالم اسلام کے ہیرو بنتے ہیں یاں پھر پہلوں حکمرانوں  کی طرح روگردانی کرتے ہوئے اندھیروں کے مسافر بنتے ہیں 
باقی قوم پاکستان و عالم اسلام کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو آمین
#قصوریات

Thursday, 5 September 2019

ماہ ستمبر اور پاکستان


تحریر غنی محمود قصوری 

6 ستمبر یوم دفاع پاکستان ہے  کیونکہ اس دن  ہمارے ازلی دشمن ہندوستان کہ جس کو ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ وہ انڈیا ،بھارت یاں ہندوستان ہے ،نے رات کی تاریکی میں بزدلوں کی طرح ارض پاک پاکستان پر حملہ کر دیا دشمن سمجھ بیٹھا کہ رات کا وقت ہے پاک فوج کے جوان سو رہے ہونگے اور یوں ہم حملہ کرکے لاہور پر قبضہ کرکے وہاں چائے پیئے گے نادان دشمن کو یہ نہیں یاد رہا کہ 1948 میں پاکستانی فوج اور عوام نے اسی تین ناموں والے بھارت کا کشمیر میں  بھرکس نکال دیا تھا اور آدھا کشمیر مقبوضہ سے آزاد کشمیر بن گیا تھا حالانکہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ابھی  بمشکل ایک سال ہوا تھا 
آج اسی زخموں کی بدولت ہندو مشرک اندھا ہو کر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے مگر اللہ نے کشمیریوں کو بھی  بے پناہ جرآت و مردانگی سے نوازہ ہے مظلوم نہتے کشمیری پتھروں کیساتھ ظالم و جابر ہندو فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں اور 73 سالوں سے ڈٹے ہوئے ہیں 
7 ستمبر یوم تحفظ ختم نبوت  کا دن ہے کہ جس دن کائنات کے بدترین کافر خود ساختہ مسلمان قادیانی کو دائرہ اسلام سے خارج کیا گیا  یہ وہی قادیانی ہے کہ جس نے خاتم النبیین جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو انگریز دور میں  چیلنج کیا تھا اور خود کو مسلمان کہلوا کر اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا مگر اللہ کے فضل سے غیور پاکستانی علماء، سیاستدان اور دیگر مکتبہ فکر کے لوگوں کی کاوشوں سے قادیانی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کافر قرار پا گیا 
   6 ستمبر  بھارت کی بربادی کا دن جبکہ 7 ستمبر قادیانیت اور لبرلز کی بربادی کا دن ہے  
دعا ہے اللہ تعالی پاکستان کے دشمنوں  کو یونہی ذلیل رسوا کرتا رہے اور وطن عزیز کو بے پناہ نعتموں اور آسائشوں سے نوازے اور میرے کشمیر کے مظلوم بہن بھائیوں کو ظالم و پلید ہندو کی غلامی سے نجات دے آمیں

Tuesday, 3 September 2019

پولیس گردی کا خاتمہ کیسے




تحریر غنی محمود قصوری 

ایک ماں کا لخت جگر دو شہداء کا بھائی ا ذہنی معذور صلاح الدین پولیس گردی سے قتل ہو گیا الزام کیا تھا اے ٹی ایم مشین توڑنا حالانکہ اس ملک میں لوگ قرآن کے احکامات کھلے عام توڑ رہے ہیں پولیس نے گرفتار کیا مارا پیٹا تفتیش کی وہی تفتیش کہ جس کے سنتے ہی پورا جسم لرز جاتا ہے اسی تفتیش کی بدلت صلاح الدین زندگی کی بازی ہار گیا مگر کیا ہوگا SHO, Si یاں اگر بہت زیادہ سختی کریں تو سرکل کا DSP معطل ہوگا انکوائری لگے گی اور یہ لوگ کچھ دنوں کیلئے پورے پروٹول کیساتھ جیل جائینگے 
 لوگ اور میڈیا چند دن شور مچائینگے پھر سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو جائینگے اور اسی سناٹے مین معزز پولیس اہلکاران بحال ہو جائینگے اور پھر سے کسی نئی صلاح الدین کو تخت مشق بنائینگے اور ایسا 73 سالوں سے ہو رہا ہے 
جناب عزت مآب تخان صاحب اگر پولیس گردی روکنی ہے تو پھر معطل نہیں قتل کرو ان کا قتل کیونکہ قرآن میں رب رحمن نے اپنے نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتلایا ہے قتل کا بدلہ قتل ہے 
فرض کریں اگر ان پولیس اہلکاران کو صلاح الدین کے بھائی یاں کوئی اور رشتہ دار قتل کر دیں تو وہ بھی معطل ہی ہونگیں؟ نہیں بلکہ پولیس مقابلے میں مار دئیے جائینگے 
خان صاحب تبدیلی کہاں سے آئے گی  معطل کرنے سے نہیں آئے گی بلکہ آسمانی احکامات کی روشنی میں فیصلے کرنے سے آئیگی  کل روز قیامت آپ کا گریبان ہوگا اور صلاح الدین کا ہاتھ کیونکہ آپ نے ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ کیا تھا اور ایک  سال سے اوپر ہو گیا آپ کو وزیراعظم یعنی خلیفتہ المسلیمین بنے ہوئے اور اس سال کے اندر کتنے ماورائے آئین و عدالت پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے ان سب کا حساب اللہ آپ سے لے گا کیونکہ آپ وقت کے حاکم ہیں ریاست مدینہ ثانی بنانے کے دعوے دار ہیں تبدیلی کا نعرہ لگا کر میدان میں آئے ہیں  
#قصوریات