Wednesday, 30 December 2020

کفار کے ہاتھوں مسلمانوں کی شہادتیں اور نیو ائیر نائٹ جشن ،، ازقلم غنی محمود قصوری

 آج عیسوی  سال 2020 کا اختتام ہو رہا ہے جس کی خوشی میں دنیا بھر میں نیو ائیر نائٹ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور ہم پاکستانی بھی اسے منانے میں کسی سے کم نہیں

نیو ائیر نائٹ منانا کفار کا طریقہ ہے مسلمانوں کا نہیں اگر نئے سال پر جشن منانا جائز ہوتا تو میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب محمد کریم ضرور مناتے 

مسلمانوں کے سال کا آغاز محرم سے ہوتا ہے اور رواں ماہ جمادی الاول ہے

یہ کفار سارا سال مسلمانوں پر کشمیر سے فلسطین ،شام سے افغانستان، عراق تک ظلم ہی ظلم کرتے رہے ہیں  ہزاروں ماؤں کے لال،سہاگنوں کے سہاگ بزرگوں کے سہارے اور بچوں سے ان کے والدین چھین کر مسلمانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا  جبکہ ہزاروں کو زندگی بھر کیلئے اپاہج کر دیا گیا 

اس وقت پوری دنیا عالم اسلام پر ایسے ٹوٹ پڑی ہیں جیسے کوئی بھوکا کھانے پر ٹوٹتا ہے 

حالانکہ ان غنڈہ ممالک کے مذاہب ایک نہیں ان کے مسالک ایک نہیں مگر جب مسلمانوں کو یہ شہید کرتے ہیں اور ان کے علاقوں پر قبضے کرتے ہیں تو یہ ایک ہو جاتے ہیں ان کا کوئی مسلک کوئی مذہب نہیں ہوتا 

 یہ فرمان نبوی کے مطابق

، الکفر ملت واحدہ 

کافر ایک ملت ہیں،

 ایک ہو جاتے ہیں میرے رب کا وعدہ تو سچا ہے کہ یہ کافر لوگ تم سے ہرگز خوش نا ہونگے یہاں تک کہ تم دین اسلام چھوڑ کر ان کا مذہب اختیار نا کر لو اور یہ کافر تمہارے ہمدرد نہیں بلکہ اپنے کافروں کے ہمدرد ہیں اسی لئے میرے رب نے ان کفار سے دوستیاں لگانے سے منع فرمایا ہے 

مگر افسوس آج ہمارے مسلمان حکمران اپنا کھانا تک ان کافروں کے بغیر نہیں کھاتے اور ان کے ساتھ کھانا کھانا باعث اعزاز سمجھتے ہیں

 اس نظام جمہوریت میں ہمارے حکمران  پستی کی ہر حدیں کراس کر رہے ہیں حالانکہ مسلمان غالب ہونے کیلئے ہوتا ہے مغلوب ہونے کیلئے نہیں

سلام ان مغلوب مسلمان اقوام پر کہ جنہوں نے نا کل ان کفار کی غلامی کو قبول کیا تھا اور نا آج کیا ہے اور نا کل کرینگے  کیونکہ ان کو فرمان الٰہی یاد ہے 

،وجاھدو حق جہاد ،

یہ مظلوم تو مار کھا کر سینوں پر گولیاں کھا کر ڈٹے ہیں مگر افسوس دولت اور دنیاوی آسائشوں کے لالچ میں مسلمان اندھے حکمرانوں نے کفار سے پینگیں بڑھانے کو ہی کامیابی جانا اور اخروی کامیابی کو بھول گئے اور ساتھ ہی عیاشی میں مبتلا آزاد مسلم ریاستوں کی عوام بھی کچھ پیچھے نہیں ان کفار کو خوش کرنے کیلئے آج ان کا دن نیو ائیر نائٹ منایا جائیگا حتی کہ سرکاری عمارتوں تک کو سرکاری سرپرستی میں سجایا جائے گا تاہم ہم عالم کفر کو اپنے روشن خیال ہونے کا عندیہ دیں اور ان کی امداد سے استفادہ حاصل کریں

آج نیو ائیر نائٹ پر ساری رات رقص و سرو کی محافل چلیں گیں کفار کے کلچر کو پروان چڑھایا جائیگا ہمسایوں کو ڈھول کی تھاپ پر تنگ کرکے مزہ لیا جائیگا موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر سڑکوں پر کارڈیک،انجائنہ،اینگزائتی کے مریضوں کر پریشان کیا جائے گا

ہوائی فائرنگ کرکے لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے کیساتھ ان کو موت کے منہ میں دھکیلا جائے گا  اور خود بھی ون ویلنگ کرتے ہوئے کسی دوسرے سے ٹکڑا کر ہسپتال پہنچنے پر آخر دعائیں اللہ سے ہی مانگی جائیں گی کیونکہ ہم کو پتہ ہے کہ کفار کے تہوار اثر نہیں کرتے ان کی یاریاں کام نہیں آتیں اگر کام آتی  ہیں تو اپنے مسلمان بھائیوں کی دعائیں اور رب رحیم کا فضل و کرم


یہاں میں اپنے ہمسایہ کافر ملک ہندوستان کا رواں سال 2020 میں ہونے والا ظلم بتاؤ تو 5 اگست 2019 سے ہندو نجس نے آرٹیکل 370 ختم کرکے پوری مقبوضہ وادی کشمیر کو ایک جیل بنایا ہوا ہے جہاں زیادہ تر موبائل و انٹرنیٹ سروس بند رکھی جاتی ہے لوگوں کو ایک سے دوسری جگہ جانے کیلئے تھانے سے کرفیوں پاس لینا پڑتا ہے 

صرف رواں سال 2020 میں ہندو دہشت گرد فوج کی طرف سے 225 آزادی پسند مجاھدین اور 70 عام شہریوں کو شہید اور 200 سے اوپر عام شہریوں کو زخمی کیا گیا ہے اس کے علاوہ سینکڑوں مسلمانوں کی املاک کو نذر آتش اور ہزاروں کشمیری عورتوں کی عصمت دری کی گئی آئے روز انٹرنیٹ و موبائل فون سروس بند ہونے کے باعث اصل تعداد رقم سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے 

انڈین فوج اس قدر ظالم ہے کہ رواں سال کئی کشمیریوں کو ناجائز شہید کیا گیا جس کی سب سے بڑی مثال کل یعنی 30 دسمبر کو ہونے والے جعلی مقابلے میں 3 کشمیری نوجوانوں کی شہادت  ہے جنہیں سری نگر سے اغوا کیا گیا اور دھماکہ خیز مواد کیساتھ شہید کیا گیا یہ تینوں دوست پلوامہ سے سری نگر یونیورسٹی میں فارم بھرنے آئے تھے اور نہتے تھے 

افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف تو یہ کافر ہمارے ہی مسلمان بھائیوں کو بے دردی سے شہید کریں اور پھر ہم انہی کفار کے تہوار نیو ائیر نائٹ منا کر ان مظلوم مسلمانوں کے سینوں پر مونگ دلنے کیساتھ ہوائی فائرنگ،شراب،رقص و سرو کی محافل اور ون ویلنگ سے اپنے ہی محلہ داروں،شہریوں،رشتہ داروں کو تننگ کریں 

افسوس ہم بھول گئے یہ کافر ہمارے دوست نہیں ان کے تہوار منانا دین نہیں بلکہ دین کی نفی اور گنا ہے


Wednesday, 23 December 2020

کرسمس مبارکباد دینے کی وعید ،،، ازقلم غنی محمود قصوری

 یہ دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے جس کے اگر مثبت نتائج نکلے ہیں تو منفی بھی بہت ہیں

ہر علاقے کا رہن سہن ،رسم و رواج ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں مگر اس گلوبلائزیشن کے باعث اب ہم ایک دوسرے کے رسم و رواج کو اپنانے لگے ہیں

ان رسم رواج کے اپنانے کی بات اگر دنیاوی لحاظ تک ہو تو بات اور ہے ہم انجانے میں مذہبی رسم و رواج کو اپنانے میں بھی تحقیق نہیں کرتے کہ آیا اس سے ہمارے دین اسلام کو کوئی فرق تو نا پڑے گا 

آج ہمارے اندر کفار کی مشابہت بہت زیادہ آ گئی ہے ہم ان کے کئی تہوار تک منانے سے باز نہیں آتے جن میں سے ایک کرسمس ڈے بھی ہے 

اب چونکہ دسمبر کا اختتام ہونے والا ہے اور 25 دسمبر قریب ہے جس کے باعث پوری دنیا میں کرسمس ڈے کی تیاریاں عروج پر ہیں ان کی دیکھا دیکھی ہمارے مسلمان بھی اس دن کو منانے میں پیش پیش ہیں حالانکہ وہ شاید نہیں جانتے یہ کرسمس ڈے عیسائیوں کی عید کا دن ہے جسے بڑا دن بھی کہا جاتا ہے اور اسی دن عیسیٰ علیہ السلام کا برٹھ ڈے بھی منایا جاتا ہے مذید اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ صدیوں قبل آفتاب پرستوں یعنی سورج کے پچاریوں کا مذہبی تہوار بھی یہی 25 دسمبر تھا 

اس دن کو منا کر اور اس دن کی مبارکباد دے کر ہم ان کفار کو راضی تو  کرلینگے مگر ہم انجانے میں قرآن کا انکار کر دینگے کیونکہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ اس دن اللہ تعالی نے معاذاللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جنا اور عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں جبکہ قرآن مجید کی سورہ اخلاص میں اس کرسمس کا رد کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتے ہیں

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ 

کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے

اللَّهُ الصَّمَدُ 

معبود برحق ہے جو بے نیاز ہے


لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ 

نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا


وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ 

اور کوئی اس کا ہمسر نہیں

اس آیت میں اللہ تعالی نے اس دن کا سخت رد فرمایا ہے تاکہ مسلمان اس دن سے دور رہیں مذید اللہ تعالی کافروں سے زیادہ میل جول نا بڑھانے پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں


اے ایمان والو! تم یہود ونصاریٰ کو دوست نا بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں،تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی کے ساتھ دوستی کرے گا وہ بلاشبہ انہی میں سے ہوگا 

آللہ تعالیٰ ظالموں کو ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا۔۔ المائدہ 51

اس آیت میں اللہ تعالی نے واضع فرما دیا کہ کافروں سے دوستیاں نا لگاؤ کیونکہ یہ مسلمانوں کے دوست ہرگز نہیں ہوتے بلکہ یہ اپنے جیسے دیگر کافروں کے دوست ہیں اور جو پھر بھی اللہ رب العزت کی بات کا انکار کرکے ان کے ساتھ دوستانہ لگائے گا وہ انہی میں سے ہوگا کیونکہ اللہ ظالموں کو ہدایت یاب نہیں کرتا ہاں مگر جس قدر اسلام نے ان کے ساتھ تعلقات رکھنے کی اجازت دی ہے وہ رکھے جاسکتے ہیں مثلآ ان کے ساتھ کاروبار کرنا ان سے چیزوں کا لین دین کرنا وغیرہ مگر اس کے برعکس ان کو راضی کرنے کی خاطر ان کو ان کے تہواروں کی مبارک دینا اور ان کے تہواروں کو منانا قطعاً ناجائز اور حرام کام ہے اور ایسے لوگوں کے بارے نبی ذیشان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں

جو  شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا ۔سنن ابوداؤد 

یعنی جو کسی قوم کی سی سیرت و صورت بنائے گا وہ انہی میں سے کہلائے گا یعنی اگر کوئی مسلمانوں کے تہوار و روایات اپنائے گا تو وہ مسلمان کہلائے گا اگر کوئی عیسائیوں یہودیوں کے رسم و رواج اپنائے گا تو وہ اسی قوم کا فرد کہلائے گا اور روز قیامت انہی کیساتھ اٹھایا جائے گا 

اللہ تعالی ہم سب کو کفار کے شر سے بچ کر زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور قرآن و حدیث پر عمل کرکے سچا مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ روز قیامت ہم امت محمدیہ کیساتھ اٹھائے جائیں


Wednesday, 16 December 2020

دو ناقابل فراموش زخم ،، ازقلم غنی محمود قصوری

 یوں تو اس کرہ ارض پر ارض پاک پاکستان کے کئی دشمن ہیں مگر ان میں سے سب سے زیادہ کمینہ اور بدخصلت دشمن انڈیا ہے اس بزدل اور کمینے دشمن کی طرف سے اس ارض پاک کو کئی زخم دئیے گئے ہیں مگر دو زخم نا قابل فراموش ہیں جن میں ایک زخم آج سے 49 سال قبل سقوط ڈھاکہ اور دوسرا آج سے 6 سال قبل سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کی صورت میں دیا گیا 

دنیا جانتی ہے کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان انڈیا سینڈوچ کی طرح تھا

گو کہ مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان 1600 کلومیٹر کا  فاصلہ تھا مگر پھر بھی ہمارا  دشمن انڈیا بنگالی پاکستانیوں اور مغربی پاکستانیوں کے نرغے میں تھا جب دل کرتا دشمن کی گردن دبا دی جاتی تھی جس سے دشمن ہر وقت خوف زدہ رہتا تھا انڈیا نے اپنے سینڈوچ ہونے کا  عملی مظاہرہ 1965 کی پاک انڈیا جنگ میں دیکھا بھی تھا سو اس شاطر اور بدخصلت ہندو مکار نے خود کو محفوظ کرنے کی خاطر اپنوں کو اپنوں کے خلاف کرتے ہوئے بنگالیوں میں مغربی پاکستان کے خلاف زہر بھر کر  مکتی باہنی نامی مسلح تنظیم بنوائی جس نے اپنے ہی بھائیوں پر مسلح حملے کئے قتل و غارت گری کی اور نام مشرقی پاکستان میں موجود پاکستان آرمی کا لگایا 

ہندو کے اس ناپاک مقصد کو تقویت مشرقی و مغربی پاکستان کے اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں نے قومیت، صوبائیت  اور فرقہ واریت کے نام پر دی اور یہ آگ بھڑکتی ہو چلی گئی

حقائق سے نابلد اور اسلام سے بیزار لوگوں پر مشتمل مکتی باہنی کے لوگوں نے اپنی ہی فوج پر مسلح حملوں کو تیز تر کر دیا  اور ساتھ ہی انڈیا نے فوجی جھڑپیں بھی شروع کر دیں جس کا ہمارے فوجی جوانوں نے جواں مردی سے مقابلہ کیا  مگر اپنوں کی غداری کم وسائل کے باعث آخر کار  انہیں 16 دسمبر 1965 کو ہتھیار ڈالنے پڑے جسے آج تاریخ سقوط ڈھاکہ کے نام سے جانتی ہے اس دن مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا  یہ دن ہر محب وطن پاکستانی کو رنجیدہ کر جاتا ہے 

انڈیا نے پاکستان کے خلاف سازشیں جاری رکھیں کبھی بی ایل اے تو سندھو دیش تو کبھی فرقہ واریت کو پروان چڑھا کر انڈیا کی اس سائبر وار کو 

پاکستانی بہت حد تک جان گئے ہیں

 ایک بار پھر اس سقوط ڈھاکہ کے دن کو یاد کرکے رنجیدہ ہوتے پاکستانیوں پر وار کرتے ہوئے دوسروں کے کندھوں کا سہارا لینے والے انڈیا نے  پاکستانی قوم سے دشمنی کی انتہاہ کرتے ہوئے سقوط ڈھاکہ کے 43 سال بعد 16 دسمبر 2014 کو پاکستان کے صوبہ کے پی کے کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع آرمی پبلک سکول پر اپنے پے رول پر کام کرنے والی خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان کے ہاتھوں حملہ کروا دیا جس کے نتیجے میں معصوم بچوں سمیت 147 نہتے لوگ شہید ہو گئے تھے اس سکول میں آرمی اہلکاران کے بچوں کے علاوہ سیویلن کے بچے بھی پڑھتے ہیں اور پوری دنیا اس قتل عام پر رنجیدہ ہے کہ دشمن ذس قدر بھی گر سکتا ہے کہ بچوں سے بھی دشمنی کی انتہاہ کر دے گا کیونکہ بچے تو معصوم اور فرشتوں کی مانند ہوتے ہیں

 انڈیا اور اس کی جدید مکتی باہنی تحریک طالبان پاکستان نے سمجھا تھا کہ وہ ڈرا دھمکا کر تعلیم کے زیور سے بچوں کو دور کر دیں گے  مگر ہمارے بچوں نے نعرہ لگایا ،مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے، جس سے انڈیا کے دل پر تیر چلے کہ یہ کیسی قوم ہے جس کے بچے گولیاں کھا کر بھی بدلہ لینے کی بات کرتے ہیں 

ساری دنیا جانتی ہے انڈیا نے ابتک پاکستان میں تخریب کاری کروا کر ہزاروں واقعات میں کئی ہزار پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے مگر سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس پشاور نا قابلِ فراموش زخم ہیں جن کا قرض چکانا اور انڈیا سے بدلہ لینا ہر سچے محب وطن پاکستانی پر قرض بھی ہے اور فرض بھی 

آج انڈیا پھر ایک بار ہم پر اپنی سائبر وار مسلط کر رہا ہے جس کا مقابلہ ہر پاکستانی نے کرنا ہے کیونکہ روائتی جنگ فوج لڑتی ہے اور ہماری فوج انڈیا کو اس کی اوقات یاد کروا چکی ہے جس کی تازہ مثال 27 فروری کو اس کے علاقے میں جا کر اس کے طیارے گرا کر واپس پلٹنا  اور پھر انڈیا کا ساری دنیا کے سامنے میاؤں میاؤں کرنا ہے

انڈیا کے یہ دو زخم سقوط ڈھاکہ اور سانحہِ پشاور جو اس نے ہمیں اپنے کے ہاتھوں دلوائیں ہیں ناقابل فراموش ہیں


Thursday, 10 December 2020

قیام امن کے لئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے ازقلم غنی محمود قصوری

 جب تک امن و امان قائم نا ہو قومیں ملک اور معاشرے ترقی نہیں کر سکتے 

انسان خطا کا پتلا ہے اور اس سے کئی طرح کی خطائیں ہوتی رہتی ہیں جن کی اصلاح کیلئے احتسابی نظام بنایا جاتا ہے تاکہ خطاء پر سزا دے کر اصلاح کی جاسکے اور آگے سے دوبارہ خظا نا ہو

ہمارے معاشرے میں ہر فرد کے احتساب کا قانون  موجود ہے جس کے تحت سزائیں و جرمانے کئے جاتے ہیں

جیسا کہ سویلین کے لئے کئی طرح کی عدالتیں قائم ہیں جن میں مقدمات چلا کر سزائیں دی جاتی ہیں  تاہم سب سے مشکل اور کٹھن احتساب فوج کا ہے جسے  کورٹ مارشل ( عسکری عدالت) کہتے ہیں جو کہ 1951 کو شروع کیا گیا اور آج بھی موجود ہے اور اسی کے ذریعے فوجی ججوں پر مشتمل عدالت میں مسلح فوج کے افسروں و جوانوں پر جنگی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی صورت میں مقدمات چلا کر سزائیں دی جاتی ہیں تاہم سویلین پر بھی کورٹ مارشل لاگو ہے کیونکہ فوج کے اندر بہت زیادہ سویلین بھی کام کرتے ہیں جیسا کہ ڈاکٹرز ،پیرا میدیکل سٹاف اور دیگر شعبوں میں سویلین تعینات ہیں اس لئے ان کا بھی کورٹ مارشل کیا جاتا ہے جیسا کہ 2018 میں آرمی ہسپتال میں تعینات سویلین ڈاکٹر وسیم اکرم کو آفیسرز سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائے موت کی سزا سنائی گئی اسی طرح بریگیڈیئر راجہ رضوان کو ملک دشمن ایجنسی را سے معاونت پر آفیسرز سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی 

کورٹ مارشل کا ٹرائل زیادہ تر دو سے چھ دن میں کر دیا جاتا ہے اور دوران ٹرائل ملزم کو اپنے دفاع کا پورا موقع فراہم کیا جاتا ہے

 عسکری عدالت سے  سزا یافتہ فوجی دوبارہ ڈیوٹی نہیں کر سکتا اور اس کو مراعات بھی نہیں دی جاتیں اور کریمنل ریکارڈ بنا کر پوری زندگی کسی بھی سرکاری محکمے میں نوکری کرنے سے روک دیا جاتا ہے اور اس کی سزا کو مکمل کئے بغیر ختم نہیں کیا جاتا  

 سول اور عسکری احتساب میں کافی فرق ہے جیسا کہ سویلین مقدمے میں سزا پانے والے قیدی کو اپنی سزا پر التجاء کرنے کا حق ہوتا ہے جیسا کہ سزائے موت کا قیدی اپنی سزا کو عمر قید میں یا صدر پاکستان سے رحم کی اپیل کی صورت میں کم کروا سکتا ہے جبکہ عسکری عدالت سے سزا پانے والا قیدی ایسے طریقے سے مستفید نہیں ہو سکتا

سول گورنمنٹ ملازمین پر کرپشن و بدعنوانی کے مقدمات سول کورٹس و محکموں کی کمیٹیوں میں نمٹائے جاتے ہیں جن کا دائرہ کار بہت لمبا ہوتا ہے بعض دفعہ سالوں سال لگ جاتے  ہیں اور جرم ثابت ہونے پر معمولی سزا دی جاتی ہے مگر  جبکہ کریمنل ریکارڈ بھی نہیں بنایا جاتا زیادہ تر تو معطل ملازمین کو چند ماہ بعد ہی باعزت بری کر دیا جاتا ہے اور ساری رکی ہوئی مراعات بھی دی جاتی ہیں جس سے ان کرپٹ عناصر کو مذید شہہ ملتی ہے 

اس وقت پاکستان کے محکموں میں کرپشن کی انتہا ہے خاص طور پر محکمہ پولیس میں بغیر رشوت کے کام ایک معجزہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ قانون شکنی بھی محکمہ پولیس میں ہوتی ہے حالانکہ آئین پاکستان 1973 کی دفعہ 8 کے تحت پولیس کا کام امن و امان کی بحالی ہے مگر پاکستان کی کل ساڑھے 4 لاکھ پولیس رشوت کا گڑھ اور لوگوں کے لئے خوف کی علامت ہے جبکہ آئے روز پولیس ملازمین کی طرف سے لوگوں سے پیسے لے کر مخالفین کا ماورائے آئین و عدالت قتل کرکے پولیس مقابلہ قرار دیا جاتا ہے 

پولیس کے خلاف مقدمات سول عدالت میں چلتے ہیں کمزور عدالتی نظام اور گواہوں کو ڈرا دھمکا کر  یہ صاف بچ نکلتے ہیں زیادہ تر عدالتوں سے مقدمات میں سے بچ نکلنے والے پولیس اہلکاران و افسران مذید دہشت و خوف کی علامت بن جاتے ہیں جیسا کہ سندھ پولیس کا راؤ انوار جعلی پولیس مقابلوں کے باعث خوف کی علامت بنا ہوا ہے اور اسی کمزور نظام کے باعث ہر بار صاف بچ جاتا ہے حالانکہ نقیب اللہ معسود کے قتل کے کافی شوائد بھی اسے سزا نا دلوا سکے 

 اس لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ  سول محکموں خاص طور پر پولیس اصلاحات کیلئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے آئین پاکستان 1973 کی دفعہ 8 ،(3) میں ترمیم کی جائے اور پولیس اہلکاران کا کورٹ مارشل کیا جائے تاکہ معطل ملازم دوبارہ بحال نا ہو اور دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں 

جس دن پولیس نظام ٹھیک ہو گیا اسی دن ملک پاکستان سنورنا شروع ہو جائے گا کیونکہ جب کسی کی چوری ہوتی ہے تو اسے اپنی ایف آئی آر درج کروانے کیلئے پولیس کو مذید رشوت دینی پڑتی ہے سو مجبوراً وہ بندہ رشوت دیتا ہے اس کی چوری چاہے ملے نا ملے رشوت کے بغیر کام نہیں چلتا  سو وہ بندہ اپنی چوری و رشوت کی کمی پوری کرنے کیلئے کسی دوسرے کو مالی نقصان پہنچاتا ہے اگر وہ تاجر ہے تو اپنے دام تیز کر دے گا اگر وہ ملازمت پیشہ ہے تو لوگوں سے جائز کام کے عیوض رشوت لے گا اور اسی طرح آگے سارا نظام خراب ہوتا جائے گا

 موجود حالات کا تقاضہ ہے کہ  سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی پیش کردہ سمری کے مطابق  قیام امن کے لیے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے


Friday, 4 December 2020

26/11 وہ دن جب انڈیا ہر سال ننگا ہوتا ہے ،،، از قلم غنی محمود قصوری

 ممبئی انڈیا  کے مہاراشٹر میں صوبائی دارالحکومت اور انڈیا کا سب سے بڑا معاشی شہر ہے اس شہر کی آبادی ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ہے انڈیا کی نصف سے زائد بحری تجارت اسی شہر سے ہوتی ہے 

ممبئی 2008 میں اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا جب 26 نومبر 2008 کو 10 حملہ آوروں نے انڈیا کی اینٹ سے اینٹ ںجا دی 

ممبئی حملے جائز تھے یا ناجائز یہ میرا موضوع نہیں بلکہ ان حملوں میں گورنمنٹ آف انڈیا اور دیگر شواہدات کی بناء پر کتنا تضاد ہے یہ میں بتانا چاہتا ہوں 

ساری دنیا جانتی ہے انڈین ہوش سے زیادہ جوش سے کام لیتے ہیں اور جو کام نا کر سکیں تو وہ فلموں میں اپنے کاغذی ہیروز سے کروا کر دل کو تسلی دی جاتی ہے جیسا کہ کارگل جنگ،کشمیر پر مکمل قبضہ اور چائنہ جیسے متوقع سپر پاور ملک کی فوج کی دھلائی فلموں میں انڈینز کا مشغلہ ہے 

بقول انڈین میڈیا و گورنمنٹ کے 26 نومبر 2008 کو دس حملہ آور پاکستان کے شہر کراچی سے ممبئی بذریعہ سمندر پہنچے اور پہنچتے ہی سی ایس ٹی ریلوے اسٹیشن پر حملہ کر دیا اس کے ساتھ ہی انہوں نے مرحلہ وار ہوٹل اوبرائے،تاج ہوٹل،نریمن ہاؤس،کاما ہسپتال، میٹرو ایڈیس مووی تھیٹر اور پولیس ہیڈ کوارٹرز پر بھی حملہ کیا جن میں تقریبا 200 افراد جانبحق اور 400 کے قریب زخمی ہوئے جبکہ مارے جانے والوں میں 22 غیر ملکی بھی شامل ہیں 

حیرت کی بات ہے کہ 10 بندے کھلے سمندر میں آگے بڑھتے چلے گئے اور انڈین نیوی سوئی رہی اور وہی بندے باآسانی مرحلہ وار 9 جگہوں پر 3 دن تک لڑتے رہے اور انڈین کی فورسز تماشہ دیکھتی رہی جبکہ بقول انڈین سیکیورٹی فورسز حملہ آوروں کے پاس دھماکہ خیز مواد،کلاشنکوف رائفلز اور بھاری مقدار میں گرنیڈز تھے 

سوچنے کی بات ہے کہ کیا انہوں نے اتنا اسلحہ بیگوں میں ہی چھپا رکھا تھا کلاشنکوف کی ایک گولی کا وزن 16 گرام جبکہ ایک میگزین کا وزن 320 گرام بنتا ہے اور انہوں نے سینکڑوں میگزینز فائر کیں جبکہ ایک گرنیڈ کا وزن 100 گرام تک ہوتا ہے اور انہوں نے سینکڑوں گرنیڈز استعمال کئے کیا وہ انسان تھے یا روبوٹس جو تین دن تک اتنا اسلحہ اٹھا کر ایک دوسرے دوسری پھر تیسری اور کل نو جگہوں پر جاتے رہے اور ان کو کسی نے نا روکا حالانکہ ہر حملہ ہونے والی جگہ پر انڈین پولیس موجود تھی 

مذید ان دھماکوں میں انڈیا کی بے وقوفی کی قلعی سامنے آتی ہے کہ دھماکے ہوتے ہی پاکستانی آئی ایس آئی اور لشکر طیبہ کا نام لینا شروع کر دیا جبکہ خود حملہ آوروں نے دکن مجاھدین نامی جماعت سے تعلق ظاہر کیا اور انڈیا میں قید مجاھدین کی رہائی کا مطالبہ کیا 

پوری دنیا جانتی ہے کہ لشکر طیبہ ایک خالص کشمیری فریڈم فائٹرز جماعت ہے جس پر پاکستان میں 2001 میں جنرل مشرف نے ہابندی لگائی تھی اور تاحال جن کے دفاتر وغیرہ پاکستان میں موجود نہیں مگر وہ جماعت مقبوضہ کشمیر میں اب بھی برسرپیکار ہے اور اپنی کاروائیوں کی ذمہ داری بلاخوف قبول کرتی ہے اگر حافظ سعید کا عملی تعلق اس جماعت سے ہوتا تو ان کی متعدد بار گرفتاریوں اور پابندیوں نظر بندیوں کے باوجود اس جماعت کو کون چلا رہا ہے ؟ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ لشکر طیبہ ایک کشمیری جماعت ہے اور اس کا دائرہ کار مقبوضہ کشمیر تک ہی موجود ہے اگر وہ مقبوضہ کشمیر میں ہوئے بڑے پیمانے پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر سکتی ہے تو انہیں ممبئی حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے میں کیا ہچکچاہٹ؟

واضع رہے کہ ممبئی حملوں کے پہلے 4 گھنٹوں میں ہی اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمانت کرکرے کی ہلاکت ہو گئی تھی جو کہ اس وقت مالیگاؤں بم دھماکوں کے ذمہ دار اور انڈین فوج کے کرنل پروہت کے انکوائری آفیسر تھے ممبئی حملوں سے تھوڑے دن قبل ہی 29 ستمبر 2008 کو مہاراشٹر کے  مالیگاؤں کے عالقے ناسک میں بم کرنل پروہت نے بم دھماکے کروائے تھے جن میں 6 لوگ جانبحق اور 100 زخمی ہوئے اور اسی کرنل پروہت کی تفتیش اے ٹی ایس سربراہ ہیمانت کرکرے کر رہے تھے 

2013 میں انڈین وزارت داخلہ کے سابق انڈر سیکریٹری وی ایس مانی نے انکشاف کیا کہ ممبئی حملے انڈین خفیہ ایجنسی را نے کراوئے تھے  اس بات نے پوری دنیا کو چونکا دیا کہ ایک طرف تو چند گھنٹوں بعد ہی ایک بہت بڑے کاؤنٹر سپیشلسٹ کی موت ہو گئی جبکہ اور انڈین فورس منہ دیکھتی رہ گئی 

دراصل انڈین را اپنے فوجی آفیسر کو بچانا چاہتی تھی اور پاکستان کو بدنام کرکے عالمی پابندیوں کا شکار کروانا چاہتی تھی سو اسی لئے انڈین ایجنسی نے اپنے ہی بندوں سے دھماکے کروائے اور خود ہی سپیشل کمانڈوز کو پہنچانے میں تاخیر کی تاکہ حملہ آور اپنا ہدف مکمل کریں 

ان حملوں میں 10 میں سے صرف 1 حملہ آور کو زندہ گرفتار کیا جا سکا جسے پاکستانی شہری اجمل قصاب فرید کوٹ کا رہائشی ظاہر کیا گیا تاہم پوری دنیا کا میڈیا جب فرید کوٹ پہنچا تو ان کو جواب نفی میں ملا حتی کہ سرکاری ریکارڈ میں بھی اجمل قصاب کا نام موجود نا تھا اور انٹرنیشل و نیشنل میڈیا نے ہفتوں فرید کوٹ ڈیڑے جمائے رکھے مگر مایوس لوٹے جبکہ اجمل قصاب کا تعلق انڈین صوبے اتر پردیش کے ضلع اوریا سے ثابت ہوا اور جب زخمی حالت میں گرفتار اجمل قصاب کا انٹرویو کیا گیا تو وہ اللہ کی بجائے بھگوان سے معافی مانگ رہا تھا جس سے انڈیا کے مکر کی قلعی مذید بے نقاب ہوتی ہے اجمل پر کیس چلا اور اسے 21 نومبر 2012 کو پھانسی دے دی گئی 

واضع رہے کہ اس سے قبل بھی ممبئی میں 1993 میں 12 مارچ کو مرحلہ وار 13 بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 3 سو کے قریب لوگ مارے گئے تھے اور 1500 کے قریب لوگ زخمی ہوئے تھے اور ان دھماکوں کی ذمہ داری انڈین انڈر ورلڈ ڈون داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میمن پر ڈالی گئی ہے جبکہ 27 سال گزرنے کے باوجود بھی ان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا اور نا ہی ان دونوں نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے مگر انڈیا نے اپنی خفت مٹانے اور ان دونوں کو مسلمان ہونے کی سزا دینے کیلئے ان پر ذمہ داری ڈال کر اپنی ایجنسیوں اور سیکیورٹی فورسز کی نااہلی چھپانے کی کوشش کی مگر دنیا جانتی ہے کہ انڈیا اپنی حرکات کی بدولت پوری دنیا میں آئے روز ننگا ہو رہا ہے