Friday, 26 February 2021

سرجیکل سٹرائیک اور انٹرنیشنل سرپرائز ڈے ازقلم غنی محمود قصوری






فرد ،قبیلے،خاندان اور ممالک کی عزت کا پتہ اس کے پڑوس سے لگتا ہے کہ وہ کس قدر حقوقِ ہمسائیگی کا ادا کرنے والا ہے اگر اس کے ہمسائے اس سے خوش ہونگے تو اس کی عزت کی گواہی سب سے پہلے اس کے پڑوس سے ملے گی 

ہمارے پڑوس میں بھارت بھارت نامی ملک واقع ہے جس کی شر سے اس کے ہمسائے سب سے زیادہ متاثر ہیں 

چائنہ،پاکستان ،بنگلہ دیش،بھوٹان،میانمار،نیپال غرضیکہ کوئی بھی ہمسایہ اس کے شر سے محفوظ نہیں یہی وجہ ہے کہ انڈیا کی اپنے پڑوسی پاکستان سے ابتک 1947,1965,1971 اور 1999 میں کارگل جنگ ہو چکی ہے جبکہ لائن آف کنٹرول پر ہر گھنٹے ہی کشیدگی رہتی ہے چائنہ سے بھارت کی جنگ 1962 میں ہو چکی ہے نیز بنگلہ دیش ،بھوٹان میں بھی انڈین شر انگیزی کے ثبوت ملے ہیں تاہم سب سے زیادہ پاکستان بھارت کے شر کا شکار ہے جنگوں کے علاوہ بھارت نے اپنی دشمنی برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کے اندر  کئی علیحدگی کی خودساختہ تحریکیں چلائی ہوئی ہیں جن کے تعلقات بھارت سے ثابت ہوئے اور عالمی برداری نے بھی وہ ثبوت مانیں 

بھارت نے 1947 سے ہی کشمیر پر جبری قبضہ کر رکھا ہے جس کے لئے کشمیری اپنے جانوں کے نذرانے دینے کے ساتھ انڈین فوج کو ناکوں چنے بھی چبوا رہے ہیں مگر بھارت اپنی ناکامی چھپانے کیلئے الزام پاکستان پر لگاتا ہے تاکہ دنیا کو غلط حقائق بتائے جا سکیں مگر دنیا جانتی ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قابض ہے 

14 فروری 2019 کو پلوامہ میں انڈین سی آر پی ایف کا کانوائے گزر رہا تھا کہ انڈین فوج سے دل برداشتہ کشمیری عادل احمد ڈار نے اپنی بارود سے بھری کار سی آر پی ایف کے کانوائے سے ٹکڑا دی جس کے نتیجے میں 46 فوج مردار اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے حسب سابق کی طرح بھارت نے الزام پھر پاکستان پر لگا دیا حالانکہ عادل احمد ڈار کی ویڈیو بھی خودکش حملے کے بعد وائرل کی گئی جس میں اس نے انڈیا کو مزہ چکھانے اور انتقام لینے اور انڈین فوجیوں کو کشمیر چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے  مگر بھارت نا مانا اور دھمکیاں دینے لگا جس سے لائن آف کنٹرول پر حالات سخت کشیدہ ہو گئے 

26 فروری کی رات بھارتی جنگی جہاز نے ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود کو روندا جس پر پاک فضائیہ کے شاہین فوری جھپٹے مگر بزدل ہندو جان بچانے کی خاطر اپنا پے لوڈ پھینک گیا تاکہ سپیڈ کم نا ہو اور بھاگنے میں آسانی رہے پیڈ لوڈ بالاکوٹ نامی قصبے کے قریب گرا جس سے دھماکہ ہوا اور اسی دھماکے کو بنیاد بنا کر بھارت سرکار نے سرجیکل سٹرائیک کا دعوی کر دیا اور کہا کہ ہم نے ایل او سی کے پار جا کر پاکستانی علاقے میں مجاھدین کے ٹریننگ کیمپ تباہ کئے ہیں جن میں ہزاروں مجاھدین شہید ہو گئے ہیں 

بھارت کی اس حماقت پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کی اور اور دنیا کو مخاطب کرکے سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعوے کو سچ کرنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ بھارت سرپرائز کیلئے تیار رہے 

27 فروری 2019 کی صبح دو پاکستانی لڑاکا طیاروں نے ایل او سی کو کراس کیا اور مقبوضہ کشمیر کے راجوڑی سیکٹر میں انڈین علاقے میں چکر کاٹے تاکہ پتہ چل سکے سرجیکل سٹرائیک کیسے کیا جاتا ہے اور سرپرائز کیسے دیا جاتا ہے پاکستانی طیاروں کو دو انڈین طیاروں نے گھیرا تو پاکستانی شاہینوں نے سرجیکل سٹرائیک کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا جن میں سے ایک انڈین طیارہ انڈین مقبوضہ کشمیر کی  حدود جبکہ دوسرا پاکستانی علاقے میں گھرا اور پاکستانی جانباز باحفاظت اپنی پاک سرحد پر اتر گئے 

پاکستان میں گرنے والے طیارے کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرکے میڈیا کے سامنے لایا گیا جس نے اعتراف کیا 

پوری دنیا 27 فروری کو پاکستان کی طرف سے دیئے گئے سرپرائز کو بڑی حیرت سے دیکھ رہی تھی کہ پاکستان نے جو کہا کر کے دکھایا ناکہ انڈیا کی طرح جھوٹے دعوے کرنے پر ہی اکتفا کیا 

27 فروری کو بھارت کی بولتی بند تھی اور ہوری دنیا انٹرنیشنل سرپرائز پر بھارت پر تھو تھو کر رہی تھی اور انٹرنیشنل میڈیا پاکستانی افواج ذور خاص کر پاکستان ائیر فورس کی تعریف کر رہا تھا اور مان رہا تھا کہ کہہ کر کرنے والے سرجیکل سٹرائیک کو سرپرائز ہی کہا جاتا ہے

Sunday, 14 February 2021

ویلنٹائن ڈے پر جب عادل احمد ڈار نے سرپرائز دیا تھا ازقلم غنی محمود قصوری




14 فروری 2019 کو پوری دنیا کا میڈیا اس وقت حیران رہ گیا جب مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے اونتی پورہ کے گاؤں لیتھیپورہ میں انڈین سی آر پی ایف (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) کے کانوائے پر 22 سالہ مقامی کشمیری عادل احمد ڈار نے اپنی بارود سے بھری گاڑی ٹکڑا دی جس کے نتیجے میں 46 فوجی جانبحق اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے تھے 

عادل احمد ڈار کا تعلق جہادی جماعت جیش محمد سے تھا اور اس کے فدائی مشن کے فوری بعد اس کی ریکارڈ شدہ ویڈیو بھی چلائی گئی تھی جس میں وہ مقبوضہ کشمیر میں ہندو فوج کی طرف سے کشمیریوں پر ظلم کی داستان سنا رہا تھا  مذید تحقیقات سے پتہ چلا کہ عادل احمد ڈار اور اس کے دوستوں کو سکول سے واپسی پر انڈین فوج نے تضحیک کا نشانہ بنایا تھا جس پر وہ سخت رنجیدہ تھا اور فوج سے انتقام لینا چاہتا تھا اسی لئے وہ مسلح تحریک آزادی کشمیر کی جہادی تنظیم جیش محمد کا رکن بن گیا اور وہ مارچ 2018 سے اپنے گھر سے روپوش تھا 

پلوامہ حملے سے قبل بھی انڈین فوج پر بہت بڑے بڑے حملے ہو چکے تھے جن میں اڑی بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر حملہ اس پامپور میں سابقہ خود کش حملہ مگر تحریک آزادی کشمیر کی مسلح تحریک 1989 سے ابتک یہ سب سے بڑا حملہ تصور کیا جاتا ہے جس میں ایک دم سے اتنے فوجی مارے گئے جن کے جسموں کے اعضاء دور دور تک بکھرے پڑے تھے اور انڈین فوج کے افسران و جوان چیخ چیخ کر مدد کے لئے بلا رہے تھے 

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت سرکار کی طرف سے بتائی گئی تعداد غلط ہے کیونکہ گزرنے والا کانوائے بہت بڑا تھا اور عادل احمد ڈار نے اپنی گاڑی میں 3 سو کلو بارودی مواد لگا رکھا تھا 

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والے فوجیوں کی تعدا 1 سو سے اوپر ہے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 3 سو سے اوپر ہے 

بھارت نے ایک بار پھر  ہٹ دھرمی کرتے ہوئے الزام پاکستان پر لگا دیا اور پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی حالانکہ ساری دنیا نے تصدیق کی کہ خودکش حملہ آور مقامی کشمیری تھا مگر انڈیا نے 26 جنوری 2019 کو ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنا طیارہ رات کی تاریکی میں پاکستانی حدود میں داخل کیا اور پاکستانی ائیر فورس کے متحرک ہوتے ہی اپنا پے لوڈ گرا دیا اور بھاگ جانے میں ہی عافیت جانی 

تاہم گرایا جانے والا پے لوڈ  ایل او سی کے قریب بالاکوٹ نامی قصبے پر گرا جس سے دھماکے کی آواز سنی گئی مگر درختوں کے علاوہ کسی چیز کا کوئی نقصان نا ہوا 

کشمیری مجاھدین کے پے درپے حملوں کے بعد انڈیا نے اپنے فوجیوں اور عوام  کا بھرم رکھنے کیلئے دعویٰ کر دیا کہ سرحد پار پاکستانی علاقے  بالاکوٹ میں جیش محمد کا ٹریننگ کیمپ تباہ کیا گیا ہے اور سینکڑوں مجاھدین کو شہید کیا گیا ہے 

بھارت کی اس حماقت پر پاکستانی ائیر فورس نے اگلے دن کے اجالے میں ایل او سی کراس کی اور راجوڑی میں دو انڈین طیاروں کو نشانہ بنایا گیا جن میں سے ایک طیارہ پاکستانی حدود میں گرا اور اس کے پائلٹ ابھی نندن کو زندہ گرفتار کر لیا گیا 

14 فروری سانحہ پلوامہ کے دن  سے اب تک انڈین فوج اس دن بلیک ڈے مناتی ہے اور اپنے مرنے والے جوانوں کو یاد کرتی ہے مگر وہ بھول گئے کہ انہوں نے ابتک ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو انہی کی دھرتی پر شہید کیا ہے جن کے لواحقین ان کو پل پل یاد کرکے روتے ہیں اور انتقام لینے کی قسمیں کھاتے ہیں اور عملاً انتقام لیتے بھی ہیں جبکہ اس کے برعکس جب بھی انڈین فوج پر کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے فوری فوجی جوانوں و افسران کی چھٹیوں کی درخواستیں موصول ہوتی ہیں جبکہ مقبوضہ وادی کشمیر میں ہندو فوج کی خودکشیوں کی تعداد خطرناک حدتک بڑھ چکی ہے جس سے انڈین فوج کے مورال کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے

Saturday, 13 February 2021

یکجہتی فلسطین ایمان کا حصہ ہے ازقلم غنی محمود قصوری

 موجودہ دور میں ہم دیکھیں تو مسلمان مصائب میں گھرے ہوئے ہیں جہاں دیکھوں مظلوم مسلمان اور ظالم کافر ہیں 

مسلمانوں کو ہر طرح سے غلام بنا کر رکھا گیا ہے جس کی وجہ ہماری جہاد جیسے اہم دفاعی و مذہبی فریضے سے دوری ہے اسی لئے آقا علیہ السلام نے فرمایا


موجودہ ذلت جہاد سے دوری کا نتیجہ ہے


"جب تم سودی کاروبار شروع کر لو گے اور گائے کی دُمیں پکڑلوگے،کھیتی باڑی پر تکیہ لگا کر بیٹھو گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تم پر ذلت کو مسلط کر دے گا اور اُس وقت تک نہیں ہٹائے گا جب تک تم اپنے اصل دین یعنی جہاد کی طرف لوٹ نہیں آتے۔"

(ابوداؤد۔کتاب الجہاد۔حدیث:2956) 


آج دیکھ وہ وقت آن پہنچا ہے کہ پوری دنیا کا 

مسلمان پستی اور زبوں حالی کا شکار ہے جس کی خالصتاً وجہ جہاد چھوڑنے کا انجام ہے کشمیر ہو یا فلسطین شام ہو یا افغانستان و عراق ہر جگہ ہی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہے 

مسلمانوں کے مقبوضہ علاقوں میں ایک علاقہ فلسطین بھی ہے جو کہ مسلمانوں کا پہلا قبلہ اول بھی ہے


لبنان اور مصر کے درمیانی علاقے کو فلسطین کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں تعمیر ہونے والی مسجد بیت المقدس بھی اسی علاقے فلسطین میں ہے مکہ مکرمہ سے پہلے یہی مسجد مسلمانوں کا قبلہ اول تھا اور مسلمان اسی کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے

عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش اور تبلیغ کا مرکز بھی یہی فلسطین ہے 

مکہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریبا 1300 کلومیٹر ہے

1948 سے پہلے تک فلسطین ایک آزاد خودمختار مسلمان ریاست تھی اور اس کا دارالحکومت بیت المقدس تھا


1947 میں اس وقت کی سپر پاور برطانیہ نے مسئلہ فلسطین کو الجھایا ور یہودیوں کو باقاعدہ فنڈنگ کرکے انہیں مضبوط کیا تاکہ یہودی فلسطینی علاقوں پر قابض ہوجائیں وقت کی سپر پاور کی شہہ پر یہودیوں نے 14 اور 15 مئی 1948 کی درمیانی شب تل ابیب میں اسرائیلی ریاست کا اعلان کر دیا جس پر عربوں اور اسرائیل کے درمیان مسلح تصادم شروع ہو گئے

مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھایا گیا تو مختلف ممالک نے مختلف تجاویز دیں جو کہ ساری کی ساری اسرائیلیوں کے حق میں ہی تھیں 

  29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روس و امریکہ کی فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کو دو تہائی اکثریت سے قرار داد نمبر 181 کے تحت منظور کر لیا تاہم عربوں نے اس بات کا رد کیا جس کے نتیجے میں بعد میں عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم باقاعدہ جنگ میں بدل گئے تھے


1967 میں ظالم یہودی نے اپنی غلام و لونڈی سلامتی کونسل کے غیر جانبدارانہ رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیت المقدس پر بھی قبضہ کر لیا


کافروں کی لونڈی سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین میں بھی اپنا کوئی کردار ادا نا کر سکی اور 29 نومبر 1977 کو عالمی یوم یکجہتی فلسطین منطور کر لیا گیا جیسا کہ یکجہتی کشمیر کے لئے 5 فروری 

 واضع رہے کہ بیت المقدس عیسائیوں ،یہودیوں اور مسلمانوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس حدیث سے لگاتے ہیں


سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت رو رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ 

کیا بات ہے؟

 میں نے کہا: اللہ کے رسول ! دجال کا فتنہ یاد آنے پر رو رہی ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میری زندگی میں دجال آ گیا تو میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہاری طرف سے کافی ہوں گا اور اگر وہ میرے بعد نمودار ہوا تو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا اور یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ اصبہان کے یہودیوں میں ظاہر ہوگا اور مدینہ منورہ کی طرف آ کر اس کے ایک کنارے پر اترے گا، ان دنوں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اس کی حفاظت کے لیے ہر دروازے پر دو دو فرشتے مامور ہوں گے، مدینہ منورہ کے بد ترین لوگ نکل کر اس کے ساتھ جا ملیں گے، پھر وہ شام میں فلسطین شہر کے بَابِ لُدّ کے پاس جائے گا، اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کر دیں گے، اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک عادل اور مصنف حکمران کی حیثیت سے چالیس برس گزاریں گے۔ مسند احمد 13015


اس حدیث سے ثابت ہوا دجال یہودیوں میں ظاہر ہو گا اور اس وقت یہودی اسرائیل یعنی سابقہ فلسطینی علاقوں میں رہ رہے ہیں اور مسیحیت کے پیشوا جناب عیسی علیہ السلام بھی شام و فلسطین کے علاقے لد میں آسمان سے نازل ہونگے اور امت محمدیہ کے پیروکار بن کر آئینگے جس سے موجودہ عیسائیت کی غلط بیانی کی قلعی کھلتی ہے اسی لئے برطانیہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اسرائیل کو فلسطین پر قابض کروایا تھا 

نیز مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن دجال کا خاتمہ بھی یہیں ہو گا ان شاءاللہ 

اس لئے یہودی و عیسائی ہر حال میں فلسطین پر قابض رہنا چاہتے ہیں جو کہ ناممکن ہے فلسطینی مجاہدین و عوام 7 دہائیوں سے یہودیوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے جیسا کہ کشمیری ہندوں کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں 

سلامتی کونسل کی جانب سے مسئلہ کشمیر و فلسطین کو حل کرنے کی قطعاً کوشش نہیں کی جار ہی ہے اس لئے یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کا حوصلہ بڑھائے رکھے اور ان کی مدد کریں 

مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کو اپنے طور پر اسرائیل کا ناطقہ بند کرنا چاہئیے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو بتانا چاہئیے کہ اس وقت پوری دنیا میں اسرائیل کے برانڈ چل رہے ہیں جن میں کولا کولا،پیپسی ،سام سنگ ،ڈیل و دیگر مشہور ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جو ہمارے ہی مسلمان ممالک سے لیسہ کما کر ہمارے مسلمان کو غلام بنائے رکھنے میں صرف کرتی ہیں نیز اسرائیل کے برانڈز کے مقابلے میں ان تمام ممالک کو مشترکہ طور پر اپنے برانڈ لگانے چائیے اور اس کی بچت فلسطینیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنی چاہئیے 

آئیے جیسے 5 فروری کو پچھلے ہفتے کشمیریوں سے یکجہتی کی ایسے ہی اس ہفتے 14 فروری کو کو بطور یوم یکجہتی فلسطین منا کر فلسطینیوں کی ہمت بڑھائیں کیونکہ فلسطینیوں سے اسرائیل کو اس کی سوچ سے بڑھ کر جواب


دیا ہے اور دے بھی رہے ہیں

ویلنٹائن ڈے کا آغاز کیسے ہوا؟ ایک تحقیق ازقلم غنی محمود قصوری

 گلوبلائزیشن سے انکار نہیں مگر اس فوائد کیساتھ نقصانات بھی ہوئے ہیں جیسے کہ کافروں کو اپنا کر اپنا ایمان خراب کر بیٹھنا 

ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور ہماری پوری زندگی اسلام طرز زندگی کی محتاج ہے ہمیں ہر کام کرنے سے پہلے تحقیق کرنے کی عادت ہونی چاہیں تاکہ ہم جان سکیں کہ جو کام ہر کرنے جا رہے ہیں وہ اسلامی ہے کہ غیر اسلامی تاکہ آخرت میں ہم اللہ کے حضور جواب دہ ہو سکیں 

ہمیں ہر برے کام سے منع کیا گیا ہے 


اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں


کہ دو کہ اللہ تعالی بے حیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا ۔۔الاعراف 28

آج ہمارے اندر ایک انتہائی برا کام جنم لے چکا ہے جس کا نام ویلنٹائن ڈے ہے جو کہ خالصتاً کفریہ کام ہے اس کا آغاز کیسے ہوا کس کی وجہ سے شروع ہوا اور کتنا عرصہ قبل شروع ہوا یہ جانتے ہیں

تہوار ویلنٹائن ڈے جسے 

Saint Valentine's Day 

بھی کہا جاتا ہمارے اس ارض پاک پر بھی لبرلز کی طرف سے منایا جاتا ہے

اس دن شادی شدہ و غیر شادی شدہ بے راہ روی اور دین سے دوری کا شکار لڑے لڑکیاں ایک دوسرے کو پھول دے کر اظہار محبت کرتے ہیں اسی بابت اسے Lover,s Festival

 بھی کہا جاتا ہے 

اس دن کے حوالے سے کوئی مستند روایات تاریخ میں موجود نہیں ہیں کہا جاتا ہے کہ 1700 عیسوی میں روم میں ایک سینٹ ویلنٹائن نامی راہب تھا جسے ایک (Nun) نن نامی راہبہ سے عشق ہو گیا تھا 

واضع رہے کہ مسیحیت میں کسی راہب یا راہبہ کا نکاح کرنا و جنسی تعلقات رکھنا سخت ممنوع ہیں مگر ہوس کے پجاری راہب سینٹ ویلنٹائن نے نن راہبہ سے جنسی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی جسے راہبہ نے ٹھکرا دیا 

ویلنٹائن پر جنون سوار تھا اور وہ ہر قیمت پر جنسی ہوس پوری کرنا چاہتا تھا اس نے نن کو سو افسانوی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ اگر ہم 14 فروری کو جنسی تعلقات قائم کرلیں تو ہم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا

ویلنٹائن کی یہ چال کارگر رہی اور نن نامی رائںہ مان گئی

اور یوں دونوں مذہب کے رکھوالے مذہب کی بے حرمتی چرچ میں ہی کرگئے جس کا علم کلیسا کو ہو گیا

یہ واقعہ کلیسا کی روایات کے سخت خلاف تھا اس لئے ان دونوں کو پکڑا گیا اور تحقیقات کی گئیں اور جرم ثابت ہونے پر انہیں فوری قتل کر دیا گیا 

 یوں اپنے دین سے بیزار اور خدا کے گھر چرچ میں بدفعلی کرنے والے خود ساختہ عاشقوں کی کہانی اس وقت کے جوان بے راہ روی پر مبنی جوڑوں تک پہنچی تو انہوں نے اس پریم کہانی کو زندہ کرنے کیلئے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منانا شروع کر دیا حالانکہ خود مسیحیت میں بھی اس دن کو برا سمجھا جاتا ہے

 مگر پھر بھی ہمارے ملک میں اس دن کو بڑے جوش کیساتھ منایا جاتا ہے اور ہر آنے والے سال اس میں تیزی آ رہی ہے جس کی وجہ اس دور کے مذہبی غداروں کو آج کے مذہبی غداروں کی خود ساختہ حمایت حاصل ہے 

مگر ہم بھول گئے کہ شادی سے قبل جنسی تعلقات استوار کرنا ایک بہت بڑا گناہ ہے جو کہ ہر مذہب میں گناہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور ہم تو آخری نبی کے امتی ہیں کہ جنکی شان و شوکت دوسری امتوں سے زیادہ ہے اسی لئے حدیث میں نبی ذیشان نے فرمایا ہے کہ 


 جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔صحیح بخاری 3329


حدیث کی رو سے کفار کی مشہابت اختیار کرنے والوں کا دین اسلام اور جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں وہ کفار کیساتھ روز قیامت اٹھائے جائینگے اب فیصلہ ہم پر ہے کہ ہم شادی کرکے اپنی زوجہ سے پیار کریں کہ جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے یا پھر مذہب کے بھگوڑے جوڑے کی یاد میں ایک بے ہودہ دن منا کر کہ جسے کوئی بھی مذہب اچھا نہیں سمجھتا خدارا پیار کیجئے مگر اپنی بہنوں بیٹیوں کی عزت کا خیال کرکے اگر آپ بھی ایسی راہ پر چلیں گے تو یقیناً آپ کی دیکھا دیکھی آپ کی بہنیں ،بیٹیاں بھی اسی راہ پر چلیں گیں

اسی لئے ویلنٹائن ڈے نہیں شرعی نکاح کیجئے اور ساری زندگی وہ سچا پیار اپنی ازواج سے کیجئے کہ جس کے کرنے سے اللہ راضی ہوتا ہے اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور معاشرہ امن کا گہوار


ہ بنتا ہے

Wednesday, 3 February 2021

آخر 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد کیا ہے از قلم غنی محمود قصوری

 ہر سال کو 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے مگر اسے منانے کا مقصد کیا ہے ؟


ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ تقریبا 84000 مربع میل ہے جس میں سے 70 فیصد پر انڈیا 1947 سے قابض ہے جبکہ باقی 30 فیصد کا علاقہ ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے اس وقت ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی 1 کروڑ سے زیادہ ہے

80 لاکھ سے زاہد باشندے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندو کی غلامی و ظلم و جبر کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں اور اس جںر و ظلم میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ہندو نے مقبوضہ وادی کو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا رکھا ہے جس میں ہر دس کشمیریوں پر ایک ہندوستانی فوجی بندوق تانے کھڑا ہے 


 قیام پاکستان سے ایک صدی قبل 1846 میں مسلمانوں کے دشمن انگریز نے ریاست جموں و کشمیر کو ڈوگرہ راجہ غلام سندھ کو اس وقت کے 75 ہزار سکہ رائج الوقت کے عیوض بیچ کر کشمیریوں کو غلامی کی دلدل میں دھکیلا تھا 


ایک بار پھر کشمیریوں کی آزادی پر شب و خون مارتے ہوئے 26 اکتوبر 1947 کو اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانان جموں و کشمیر اور معائدہ تقسیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف الحاق بھارت کا اعلان کیا جسے غیور کشمیریوں نے نہ مانا

کیونکہ یہ طے پا چکا تھا کہ مسلمان اکثریت والے علاقے پاکستان اور ہندو اکثریت والے علاقے بھارت میں شامل کئے جائینگے 


 مسلمانان جموں و کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کے خلاف سیخ پا ہو گئے کیونکہ وہ شروع سے ہی نعرہ لگاتے آئے تھے کشمیر بنے گا پاکستان جبکہ کشمیر و پاکستان کی آزادی کیلئے غیور کشمیریوں نے بے شمار قربانیاں بھی دیں جو کہ تاریخ میں سنہری حروف کیساتھ رقم ہیں

مسلمانان مقبوضہ جموں و کشمیر کا عصہ مہاراجہ کے فیصلے کے خلاف بڑھتا گیا اور انہوں نے اس غلط فیصلے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مظاہرے کئے اور اپنی آزادی کیلئے پاکستان کے مسلمانوں کو پکارا اور یوں پاکستان و ہندوستان کے مابین پہلی جنگ قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی لڑی گئی اکتوبر 1947 سے 1 جنوری 1949 تک کی اس جنگ میں بھارت کو پاکستانی قبائلیوں اور فوج کے علاوہ غیور کشمیریوں سے منہ کی کھانی پڑنی اور اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا قیام عمل میں آیا آج جس کا دارالحکومت مظفر آباد ہے

  اس آزاد ریاست کشمیر کی اپنی آزاد سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہے اس کا اپنا علیحدہ صدر و وزیراعظم ہے اس کا اپنا الگ آزاد نظام ہے جو اس کی آزادی کا منہ بولتا ثبوت ہے جبکہ ساری دنیا بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں ہوتے ظلم و جبر کو جانتی ہے نیز مقبوقہ کشمیر میں ساری سرکار ہندو بنئیے کی اپنی ہے ہندوستان سے ہندوؤں کا لا کر بسایا جا رہا ہے 


غیور مسلمانان کشمیر و پاکستان کی طرف سے شروع کی جانے والی یہ جنگ مقبوضہ کشمیر سے شروع ہو کر پورے بھارت کو اپنی لپٹ میں لے رہی تھی جس سے بھارتی سرکار سخت پریشان ہو گئی کیونکہ شروع میں ہی ان کی توقعات کے خلاف علاقہ ان کے ہاتھوں سے چلا گیا تھا اور کشمیریوں کا سارا رخ پاکستان کی طرف تھا اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل میں جاکر منت سماجت کی کہ جنگ بندی کروائی جائے کیونکہ نہرو جان چکا تھا کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے قیام کے بعد اب یہ جنگ نہیں رکنے والی اس کا دائرہ کار روز بروز وسیع تر ہوتا جا رہا تھا اور یہ جنگ پوری مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کروا کے بھارت تک تقریبا پہنچ چکی تھی 

پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل پہنچنے میں عافیت جانی کیونکہ اسے علم تھا سلامتی کونسل میں بیٹھے انسان نما جانور جنگ بندی کا اعلان کرکے اس کو دوام بخشیں گے اور تیزی سے پھیلتی آزادی کی اس جنگ کو رکوا لینگے 

یکم جنوری 1948 کو سلامتی کونسل میں نہرو پہنچا اور 5 فروری کو سلامتی کونسل نے رائے شماری کا وعدہ کرتے ہوئے جنگ بندی کا اعلان کیا 


ایک سال دو ماہ اور دس دن کی اس جنگ میں دشمن کو دن میں تارے نظر آ گئے تھے اور نقصان اس کی سوچ سے بڑھ کر تھا


سلامتی کونسل و نہرو نے دنیا اور مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ریفرنڈم کروایا جائیگا جس میں مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو حق دیا جائے گا کہ وہ انتخاب کر سکیں کہ انہوں نے الحاق ہندوستان کرنا ہے یا پاکستان یا پھر آزاد خود مختار ریاست کشمیر بنانی ہے سو کشمیریوں اور اقوام عالم نے ہندو اور سلامتی کونسل کی باتوں پر یقین کیا اور جنگ بندی کیلئے آمادگی ظاہر کر دی گئی مگر بھارت 48 سے ابتک اپنے وعدہ استصواب رائے سے انکاری ہی چلا آ رہا ہے

  

اب تک مقبوضہ کشمیر کو عالمی متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے کل 18 قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں جن میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے اور سلامتی کونسل و بھارت کے وعدے کیمطابق ریفرنڈم کروانے کا کہا جا چکا ہے تاکہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کا انتخاب کر سکیں مگر افسوس کہ ہر بار بھارت انکاری رہا اور اب بھی انکاری ہی ہے اس بھارت کی اس غنڈہ گردی پر سلامتی کونسل و عالمی برادری اب تک کچھ بھی نہیں کر پائیں 


سلامتی کونسل و بھارت کو اس کا کیا گیا وعدہ یاد کروانے کیلئے 5 فروری کو پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ اقوام عالم بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق رائے شماری دے کیونکہ سلامتی کونسل کا فرض ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق دلوائے 


بھارت و ہورا عالم کفر جانتا ہے کہ 1947 سے اب تک سخت بھارتی پہرے ، ظلم و جبر میں رہتے ہوئے مظلوم کشمیری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں

 کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ

 اور اسی نعرے پر عمل پیرا ہو کر کشمیری اب تک 1 لاکھ سے زائد شہادتیں ہزاروں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کروانے کے باوجود اسی نعرے پر قائم ہیں اور قائم ہی رہینگے

 

ویسے تو ہر وقت پاکستانی پرچم مقبوضہ وادی کشمیر کے گلی محلوں ،گھروں ،بازاروں میں ہر وقت لہراتا رہتا ہے مگر 5 فروری کو بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور انڈین فوج کی ایک سپیشل ونگ ان پرچموں کو اتارتی ہے مگر کشمیری پھر اس سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہیں

جہاں 5 فروری کو کشمیری غیور مسلمان بھارت و سلامتی کونسل کی وعدہ خلافی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کرتے ہیں وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ سلامتی کونسل و بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی صدا سنواتے ہیں اور دنیا کو یاد کرواتے ہیں کہ کشمیریوں کا نعرہ تیرا میرا رشتہ کیا ؟

 لا الہ الا اللہ

 کے تحت ہم یک دل یک جان ہیں اور جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرنے گا وہاں پاکستانیوں کا خون گرے گا

واضع رہے کہ انڈیا نے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے 5 اگست 2019 سے ظلم و جبر کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے تاکہ اس ظلم کی ہیبت سے کشمیری الحاق پاکستان کو بھول کر الحاق ہندوستان کر لیں مگر آفرین ہے کشمیریوں پر کہ جن کا نعرہ آزادی آئے روز بلند سے بلند ہوتا جا رہا ہے اور اسے جذبے و ولوے سے بھارت پریشان ہے اور اس ولولے کو دبانے کیلئے آئے روز فوجی قوت میں اضافہ کیا جا رہا ہے مگر ان شاءاللہ ناکام بھارت کا مقدر تھی ہے اور رہے گی


ان شاءاللہ