Friday, 30 August 2019

عادل حکمران کے ثمرات


 
تحریر غنی محمود قصوری 

خلیفہ المسلیمین جناب عمر رضی اللہ کا دور حکومت ہے صبح منہ اندھیرے کا وقت ہے خلیفہ دوم خفیہ گشت کر رہے ہیں ایسے میں ایک گھر سے کچھ آوازیں آ رہی ہیں جناب عمر رضی اللہ تعالی رک جاتے ہیں اور مکالمہ سننے لگتے ہیں 
گھر میں موجود   ماں اپنی لڑکی سے کہہ رہی ہے بیٹی بکریوں کا دودھ دھو کر کچھ پانی ملا لینا تاکہ دودھ کی مقدار بڑھ سکے بیٹی کہتی ہے امی جان کیا آپ کو معلوم نہیں امیر المومینین عمر رضی اللہ تعالی نے دودھ میں پانی ملانے سے منع کیا ہے ماں کہتی ہے عمر کونسا دیکھ رہا ہے وہ  تو  اس وقت اپنے گھر میں سو رہا ہوگا تم پانی ملاءو   بیٹی پھر کہتی ہے اماں جان اگر عمر نہیں دیکھ رہے تو اللہ تو دیکھ رہا ہے ناں میں دودھ میں پانی نہیں ملاءونگی ماں چپ ہو جاتی ہے خلیفہ دوم جرآت و بہادری کے پیکر جناب عمر رضی اللہ تعالی یہ مکالمہ سن کر چلے جاتے ہیں چند دن بعد اسی عورت اور لڑکی کے گھر تشریف لے جاتے ہیں اور اس عورت سے فرماتے ہیں کہ اگر آپ کی اجازت ہو تو میں آپ کی بیٹی کا رشتہ اپنے بیٹے سے کرنا چاہتا ہوں عورت کہتی ہے اے امیر المومینین کیوں ہم غریبوں سے مذاق کرتے ہوں کہاں آپ وقت کے بادشاہ کہاں ہم غریب مسکین عمر رضی اللہ تعالی کہتے ہیں بہن یہ مذاق نہیں اور نا ہی عمر مذاق کرنے کا عادی ہے باقی کوئی زبردستی نہیں بات آپ کی مرضی کی ہے قصہ مختصر عمر رضی اللہ امت محمدیہ کی اس عظیم بیٹی کا نکاح اپنے بیٹے عبدالعزیز سے کر دیتے ہیں جن سے ایک بیٹا جنم لیتا ہے جن کا نام عبدالعزیز عمر بن عبدالعزیز  رکھتے ہیں یہ اسلام کے ایسے جانثار سپاہی تھے کہ ان کے عدل و انصاف کی بدولت شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے تھے 
سچ ہے حکمران عادل ہو تو رعایا بھی عادل اور غیرت مند ہوتی ہے

Saturday, 24 August 2019

پاکستانی حکمرانوں کا کشمیری قوم کو پیغام
 
تحریر غنی محمود قصوری 

کشمیریوں فکر نا کروں ہم تمہارے ساتھ کھڑے ہیں  تم اپنے قتل ہونے والوں ،لٹی عصمتوں اور اور بیوہ ہونے والی عورتوں کا ریکارڈ بنا کر بھیج دینا ہم ماتمی زنجیر بنا کر احتجاج کرینگے  تم دیکھتے نہیں ہم ہر سال 5 فروری مناتے ہیں اور اس سال تو اپنا جشن آزادی ہی ہم نے تمہارے نام کر دیا  کشمیریوں ہم یونائیٹڈ نیشن کو ریکارڈ دینگے تم پریشان نا ہونا ہم تمہارے دکھ درد کے بیانات دنیا تک پہنچائینگے دیکھ لو ہم نے یونائیٹڈ نیشن کو کتنا بے بس کر دیا کہ وہ بند کمرے میں اجلاس کرنے پر مجبور ہوا کیا تم نے سنا نہیں کہ  یو این او نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ انڈیا کرفیو بند کرے 
بس کشمیریوں ذرا اور ہمت کرو ہماری معیشت  ٹھیک ہو جائے ہاں تم دیکھ نہیں رہے پوری پاکستانی قوم تمہارے لیے سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے اور احتجاج کر رہی ہے کہ کشمیر کو آزاد کرواءو مگر ان نادانوں کو کیا پتہ کہ ہمارے اپنے مسئلے بہت زیادہ ہیں ہمیں تو ابھی معیشت درست کرنی ہے جس کے لئے قرض لینا پڑتا ہے لہذہ ہم تمہاری آواز بلند کرینگے کشمیریوں تم اور پاکستانی لوگ ہمیں قرآن کی آیتیں سناتے ہو مگر کیا کریں اگر تمہاری مدد فرض ہے تو پہلے اپنے گھر والوں کی مدد بھی تو فرض ہے لہذہ پہلے پاکستان کو ٹھیک کر لینے دو پھر آئینگے ہم تب تک تم قرآن کی یہ آیت مسلم دنیا کے دیگر حکمرانوں کو سناءو

.وَمَالَکُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِی سَبِیلِ اللہِ وَالۡمُسۡتَضعَفِیۡنَ مِنَ الرِّ جَالِ و النِّسَاءِ وَالۡوِلۡدَانِ الَّذِیۡنَ یقولُون رَبَّنَا اَخۡرِجۡنَا مِنۡ ھٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ الظَالِمِ اھلھا وَاجۡعَل لنا من لَدُنکَ ولیًّا واجعل لنا من لدنک نَصِیرا۔

سورہ النساء آیت نمبر75.

ترجمہ..تمھیں کیا ہو گیاہے؟
 تم اللہ کے راستے میں لڑائی کیوں نھیں کرتے؟
 جبکہ کمزور مرد,عورتیں اور بچے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کےحکمران ظالم ہیں اور ہماری مدد کے لئے اپنا کوئی دوست اور مددگار بھیج.

Tuesday, 13 August 2019

عید قربان،جشن پاکستان اور کشمیریوں کو پیغام



تحریر غنی محمود قصوری 

اس مرتبہ عیدالاضحی یعنی عید قربان اور جشن آزادی یعنی یوم آزادی پاکستان ایک ساتھ آئے ہیں مگر المیہ کہ اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں ہندو پلید نے ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے کم و بیش ایک ہفتے سے زائد دنوں سے پوری وادی میں کرفیوں نافذ  ہے انٹرنیٹ سروس و موبائل فون سروس بھی بند ہے تلاشی کے بہانے نہتے کشمیریوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے  پوری وادی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے 
کچھ اسی قسم کا منظر ہمارے بزرگوں نے 1947 میں بھی دیکھے  ہیں جس کے کئی عینی شاہدین ابھی بھی الحمدللہ حیات ہیں ہمارے انہی بزرگوں کی  قربانیوں کی بدولت ہندوستان پلید کے بطن سے اور  انگریز بے ایمان کے جبری قبضے سے  لاکھوں شہادتیں اور عزتیں لٹوا کر اپنے گھر بھار گلی محلے مال مویشی چھوڑ کر 14 اگست 1947 کو آزادی حاصل کی گئی تھی آج اس 14 اگست 1947 کے دن کی نسبت سے  ہم یوم جشن آزادی مناتے ہیں 
ہندوستان میں اتنے عرصے سے رہتے ہوئے آخر علیحدہ ہونے کی نوبت کیوں آئی وجہ صرف اور صرف دو قومی نظریہ تھا چونکہ ہندو کڑوروں خود ساختہ جعلی خداءوں کا ماننے والا اور مختصرا گائے کا پیشاب پینے والا ہے جبکہ مسلمان ایک اللہ کو ماننے والا اور گائے کا گوشت کھانے اور اس کے پیشاب سے بچنے والا ہے اور پیشاب کو پلید جاننے والا 
دو قومی نظریہ جو قیام پاکستان کے لئے پیش کیا گیا کوئی نیا نہیں بلکہ یہ تمام انبیاء کا بھی نظریہ ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نظریہ بھی دو قوموں کے مابین تھا  ابراہیم کا نظریہ تھا کہ اللہ ایک ہے اس کے مقابل جو لوگوں نے خود ساختہ جعلی خدا بتوں کی شکل میں بنا رکھے تھے وہ سب رد ہیں باطل ہیں ان سے بیزاری ہے خیر بات لمبی ہو جائیگی مختصر لکھتا ہوں کہ ابراہیم علیہ السلام نے ایک اللہ کا حکم مانتے ہوئے اور دیگر نظریوں کا رد کرتے ہوئے بتوں کے ٹکڑے کیئےاور نمرود کے سامنے کلمہ حق بیان کیا پھر اس کے بعد اپنے لخت جگر اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حکم کے مطابق قربان کرنے کا فیصلہ کیا مگر ادھر اللہ احکام الحاکیمین نے ابراہیم علیہ السلام کے نظریہ کی قدر کی اور ان کے لخت جگر کی بجائے مینڈھا یاں دنبہ قربان ہوا اسی نسبت سے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جد ابراھیم علیہ السلام کے نظریہ کی بنا پر ہر سال 10 ذی الحج کو جانور قربان کرکے عیدالاضحی یعنی عید قربان مناتی ہے 
وہی ہندو نجس پلید کہ جس پر ہمارے بڑوں نے تقریبا 1 ہزار سال حکومت کی اور پھر ہمارے ہی بڑوں کی جہاد سے دوری کی بدولت انگریز ہندوستان پر قابض ہوا تو  اللہ کریم  نے ٹیپو سلطان اور شاہ اسماعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ جیسے مجاھدین کیساتھ امت کے غم خوار علامہ اقبال اور قائد اعظم اور ان کے دیگر غیور ساتھی ہندوستان کی دھرتی پر پیدا کیئے جنہوں نے اپنے نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کے نظریہ پر جدوجہد کرتے ہوئے انگریز اور ہندو مکار سے آزادی حاصل کی اس ظالم انگریز اور ہندو کی چالوں کی بدولت وادی جموں و کشمیر جنت نظیر مقبوضہ وادی کشمیر بن گئی اور تاحال مقبوضہ ہی ہے جس کی آزادی کیلئے غیور کشمیری قوم اب تک 1 لاکھ کے قریب شہادتیں اور ہزاروں عزتیں نچھاور کر چکی ہے یوں تو 1947 سے اب تک کشمیری ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں مگر گزشتہ ہفتے سے  کشمیریوں پر مظالم کے ایسے پہاڑ توڑے جا چکے ہیں کہ جن کا بیان نا ممکن ہے اس کمیونیکیشن کے دور میں ہونے کے باوجود کشمیری موبائل اور انٹرنیٹ سے محروم سخت کرفیو میں اب تک سینکڑوں مذید شہادتوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں کیونکہ کشمیری قوم مسلمان اور  دو قومی نظریہ کی بنا پر تحریک آزادی کشمیر جاری رکھے ہوئے ہے اور اللہ کے فضل سے آزادی کے قریب تر ہوتی جا رہی ہے  سو ہندو ظالم دن بدن کشمیریوں پر نت نئے طریقوں سے ظلم کر رہا ہے مگر افسوس تو مسلمان حکمرانوں پر ہے کہ جو اتنا کچھ جاننے اور دیکھنے کے باوجود چپ چاپ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں عالم اسلام کے حکمران آزادی کے نبوی طریقے کو (جہاد جو کہ کہنا اس وقت جرم ہے) چھوڑ کر خالی بیانات اور ہندو کو بد دعائیں دینے کا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ روز قیامت انہی لفظی بیانات کے جہاد سے ہم اللہ کے غضب سے بچ جائینگے جو کہ دراصل خود کو دھوکا دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں
اور آخر میں میرا کشمیری قوم کو پیغام امت محمدیہ کے غیرت مند کشمیریوں ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی آزادی کیلئے 10 لاکھ سے اوپر قربانیاں دی گئیں آج تمہاری قربانیاں بھی لاکھوں تک پہنچ چکی ہیں سو ڈٹے رہنا گھبرانا مت  کیونکہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مت جاتا ہے سو ایک اللہ پر توکل کرتے ہوئے ڈٹ جاءو میرا رب آج بھی وہی ہے جو فرعون کے گھر موسی کی پرورش کرتا ہے ابابیلوں سے ہاتھی مرواتا ہے اور مچھروں سے نمرود جیسے خود ساختہ جعلی خدا کو کیفر کردار تک پہنچاتا ہے باقی آزادی تو ان شاءاللہ تمہیں ملنی ہی ہے کیونکہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  عزوہ ہند کی بشارت دے کر گئے ہیں مگر کل روز قیامت ان خاموش تماشائیوں کے گریبان ہونگے اور تمہارے ہاتھ کیونکہ میرا رب قرآن میں فرماتا ہے 
ومالکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ

کشمیریوں سے رشتہ کیا؟   لا الہ الا اللہ

Wednesday, 7 August 2019

کشمیر منزل دور نہیں

مقبوضہ کشمیر میں  قصور وار کون

تحریر غنی محمود قصوری 

برطانیہ کے ہاتھ سے ہندوستان نکل گیا روس نے پاکستان کے ہاتھوں افغانستان میں مار کھا کر کئی مسلم ریاستوں کو جنم دیا اور اب اس صدی کی سب سے بڑی سپر پاور امریکہ کی فوج افغانستان میں ،نامعلوم افراد، اور افغان طالبان کے ہاتھوں ذلیل ہو چکی مگر کیا مجال کے کسی نے کبھی اپنی فوج کے خلاف کوئی لفظ بولا ہو
اب دیکھئےایک طرفہ بنگلہ دیش ہے اور ساتھ روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار کس قدر بے دردری سے برمی بدھ مت روہنگیا مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں اور بنگلہ دیش کی بہادر فوج کیسے برمی مظلوم مسلمانوں کو بنگلہ دیش میں داخل ہونے پر تاک تاک کر نشانے لے لے کر مار رہی ہے حالانکہ برمی بھی مسلمان ہیں اور بنگالیوں کے ہمسائے بھی ہیں چاہتے کیا ہیں؟  بدھ متوں سے بچ کر بنگلہ میں پناہ لینا مگر آہ پناہ بھی میسر بہت کم قسمت سے وہ عالمی اور اسلامی ممالک کی چیخ پکار پر 
اب دیکھتے ہیں مقبوضہ وادی کشمیر اور کردار پاکستان و افواج پاکستان کو 
1948 ہے پاک فوج کا سربراہ جنرل گریسی انگریز ہے جناح رحمتہ اللہ گریسی کو آزاد کشمیر جو اس وقت مقبوضہ تھا انڈیا کے ہاتھوں پر حملے کا حکم دیتے ہیں انگریز جنرل نہیں مانتا مگر ہمارے فوج کے غیور سپاہی اپنے مسلمان کرنیلوں جرنیلوں کے زیر سایہ آگے بڑھتے ہیں ساتھ پاکستان کے غیور غیرت مند قبائلی بھی ملتے ہیں اور یوں آزاد جموں و کشمیر بنتا ہے اس کا اپنا دارلحکومت مظفر آباد ہے اس کی اپنی کابینہ ہے اور اپنے سپریم کورٹ ہے جبکہ دوسری طرف مقبوضہ وادی جموں و کشمیر ہے جس پر قبضہ انڈیا کا ہے 10 لاکھ فوج انڈیا کی ہے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں مقبوضہ وادی کشمیر سے ہزاروں خاندان ہجرت کرکے آزاد کشمیر میں پناہ گزین ہیں آزاد کشمیر کی سرحدوں کی حفاظت پاک آرمی کرتی ہے اب تک ہندوستان کی جارحیت سے غیور کشمیری بھائیوں کے ساتھ پاکستان آرمی کے ہزاروں جوان و سپاہی جام شہادت نوش کر چکے ہیں مگر ڈٹے ہوئے ہیں 
اب 5 اگست کو انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 273اور اے 35 کو ختم کر دیا نتائج کیلئے 28 ہزار تازہ دم فوج منگوا لی پوری وادی میں کرفیو لگا دیا انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی اس کے علاوہ ایل او سی پر آزاد کشمیر کے باسیوں اور پاکستانی فوج پر شدید فائرنگ شروع کر دی گئی 
اب آتے ہیں پاکستانی فوج کے کردار پر ایل او سی پر ہندوستان کی طرف سے شدید بمباری جاری ہے جس کا جواب پاک فوج دے رہی ہے اب سوال یہاں یہ ہے کہ پاکستان آرمی سرحد کے اس پار جا کر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی مدد کیوں نہیں کر رہی ؟ اس سوال پر شوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی کھڑا ہوا ہے کہ فوج یہ کیوں نہیں کرتی وہ کیوں نہیں کرتی اور میرے عزیز دانشوروں میں تم سے سوال کرتا ہوں کیا پاک فوج کو اجازت ہے کہ اپنی سرحد پار کر کے دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوں؟ کیا 1948،1965،1971،1999 میں جب فوج کو حملے کا حکم ہوا کیا فوج پیچھے رہی یاں لڑی؟ کیا جنگ کا حکم فوج اپنی طرف سے جاری کرتی ہے؟ قانون اسمبلیوں میں بیٹھے سیاستدان بناتے ہیں یاں جرنیل؟ کیا جب بھی فوج کو بیرون ممالک جانے بیجھا گیا فوج نے انکار کیا یاں سول گورنمنٹ کے حکم کی تعمیل؟ 
آخر میں میں اپنے ہر دل عزیز پاکستانی بہن بھائیوں سے گزارش کرونگا خداراہ اس وقت ضرورت اتحاد کی ہے براہ کرم فوج کو کوسنے کی بجائے سیاستدانوں وزیروں کو فوج جموں و کشمیر میں داخل کرنے کا قانون ممظور کروائیں پھر میں دیکھتا ہوں ایل او سی کے پار فوج جاتی ہے کہ نہیں کیونکہ پاک فوج کا ماضی ہمارے سامنے ہے

Saturday, 3 August 2019

مقبوضہ کشمیر میں اچانک فوجی اضافہ


تحریر غنی محمود قصوری 

یوں تو قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہندوستان کئی مرتبہ پاکستان سے منہ کی کھا چکا مگر پھر وہی اب کی مار کے دکھا کے  مصداق پھر نئے سرے سے مار کھانے کو تیار رہتا ہے 
ان شاءاللہ ثم ان شاءاللہ کارگل اور پھر 27 فروی 2019 کے بعد اب سب سے بڑی ذلت انڈیا کی مقبوضہ وادی کشمیر میں بننے جا رہی ہے 
 اس جنوری میں پلوامہ میں ہندوستانی فوج پر ہوئے حملے کے بعد  20 کمپنی فوج کا اضافہ کیا گیا حریت راہنماؤں  کو جیل میں ڈالا گیا اور تقریبا ساری حریت قیادت ابھی بھی جیلوں میں قید ہے مودی سرکار نے سوچا تھا کہ اب فوج میں اضافہ کرکے حریت قیادت کو جیل میں ڈال کے وہ آزادی کی تحریک کو ڈبا لے گا مگر   نتجہ میں ہندوستانی فوج میں خودکشیاں بڑھیں اور دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے مجاھدین نے بھی اپنے حملے انڈین فوج پر تیز کر دیئے نیجہ میں بھارتی فوج کا کافی جانی و مالی نقصان ہوا تو دوسری جانب برسر پیکار مسلح فریڈم فائٹرز کی شہادتوں میں بھی اضافہ ہوا اس وقت تقریبا ریاض نیکو کے علاوہ سارے ٹاپ کمانڈر شہید ہو چکے ہیں جسے شاید ہندوستانی فوج اپنی فتح سمجھ رہی ہے مگر وہ بھول گئے کہ برہان مظفر وانی بھی تو ایک غیر مسلح فریڈم فائٹر تھا اور ایک شوشل میڈیا ایکٹیویسٹ تھا پھر  پھر آخر کیا ہوا  کہ وہ غیر مسلح سے مسلح ہو کر ایسا لڑا کہ تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونگ گیا دنیا خاص طور پر ہندوستانی فوج برہان وانی کی دلیری کا برملا اعتراف کرچکی ہے 
اب اگر اس بنیاد پر انڈیا فوج میں اضافہ کرے کہ سارے مجاہدین شہید ہو چکے ہیں اور وہ فوجی اضافے سے غیر مسلح کشمیری عوام کے دلوں میں اپنی ڈھاک بٹھا لے گا تو یہ اس کی بھول ہے انڈیا ابتک کتنی بار فوجی اضافہ کر چکا سیاحت کے بہانے ہندءوں کو کشمیر میں بسا چکا کچھ دیگر تھوڑی بہت سہولیات کا لالچ دے کر کشمیریوں کے دل جیتنے کی کوشش کر چکا مگر ہر بار ناکام رہا کیونکہ کشمیریوں کے نزدیک آزادی کے سوا دوسرا راستہ ہے ہی نہیں لہذہ انڈیا فوجی اضافہ کرنے کی بجائے کشمیریوں کو ان کا حق حق آزادی اور کشمیر سے فوجیں نکال کر فوج پر صرف ہونے والے پیسے سے اپنی عوام کو سہولیات دے جو جو عوام خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے