Tuesday, 28 September 2021

وفائے مرد نظر انداز کیوں؟ ازقلم غنی محمود قصوری




موجودہ دور میں عورت کی مظلومیت کا رونا رویا جاتا ہے جس میں کچھ حقیقت بھی ہے مگر زیادہ تر افسانوی باتیں گھڑ کر دین حنیف اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے 

خاص کر حقوق نسواں کی نام نہاد جعلی دعوے دار کسی بھی دانستہ غیر دانستہ وقوعہ کو لے کر واویلا شروع کر دیتی ہیں

تاریخ گواہ ہے جس قدر اسلام نے عورت کو تحفظ دیا اس قدر کوئی اور مذہب میں نہیں

اس لئے نبی ذیشان کا فرمان ہے کہ

 جو شخص بھی بیٹی کی اچھی طرح سے پرورش کرے گا اور اسے اخلاق حسنہ سے متصف کرے گا تو وہ جنت میں داخل ہوگا(بخاری:1418،مسلم 2629

عورت کا مقام مذید بڑھاتے ہوئے اللہ تعالی نے جہاں مرد (باپ) کی حرمت بارے ارشاد وہاں اسی عورت ( ماں) کی حرمت بارے ارشاد فرمایا 

 تم انہیں اف تک نہ کہنا(الاسراء:23


یعنی اللہ تعالی جہاں والد سے سخت رویہ نا اپنانے کا حکم دے رہے ہیں وہیں ماں کے لئے بھی یہی ارشاد فرمایا گیا ہے 


ماں، بہن بیٹی،بیوی و دیگر محرم عورتوں کے علاوہ اسلام میں پرائی عورت بارے سخت احکامات فرمائے گئے ہیں تاکہ ان کی حرمت محفوظ رہے اور وہ بد نگاہوں سے بچی رہے اسی بارے ارشاد ہے کہ


ور اگر عورت پرائی ہو تو اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اس کی طرف نگاہ بھی اٹھا کر مت دیکھنا(النور:30)


مرد  گھر کا سربراہ ہوتا ہے اس کی ذمہ داری بیوی بچوں کی ضروریات پوری کرنا ہے 

اس بارے ارشاد ہے


 آدمی کی کوئی کمائی اس کمائی سے بہتر نہیں جسے اس نے اپنی محنت سے کمایا ہو اور آدمی اپنی ذات، اپنی بیوی، اپنے بچوں اور اپنے خادم پر جو خرچ کرے وہ صدقہ ہے

صحیح ابن ماجہ 1752


یعنی صدقہ خیرات دینے سے بھی پہلے اپنے بیوی بچوں پر اچھا خرچ کرنا لازم ہے 


اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا


تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کیلئے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل خانہ کیلئے تم سب سے زیادہ بہتر [خیال رکھنے والا]ہوں

ترمذی: (3895) 


جہاں مرد کی ذمہ داری عورت کا خیال رکھنا ہے وہیں عورت پر بھی فرض ہے کہ اپنے مرد کے حقوق پورے کرے اس کی ضروریات کا خیال رکھے اور اس کی عزت کی حفاظت کرے 

اس بارے ارشاد ہے 


رسول كريم صلى اللّٰه عليہ وسلم كا فرمان ہے:

الدنيا متاع ، وخير متاعها المرأة المؤمنة ، إن نظرت إليها أعجبتك ، وإن أمرتها أطاعتك ، وإن غبت عنها حفظتك في نفسها ومالك

" دنيا كا بہترين مال و متاع مومن عورت ہے، اگر تم اسے ديكھو تو تجھے اچھى لگى اور خوش كر دے، اور اگر تم اسے حكم دو تو وہ تمہارى اطاعت كرے، اور اگر تم اس كے پاس نہ ہو تو وہ اپنے نفس و عزت كى اور آپ كے مال كى حفاظت كرے


جب مرد و عورت دونوں لازم و ملزوم ہیں حقوق یکساں ہیں تو پھر اکیلی عورت کے حققوق بارے چند بے ضمیر مردوں کی غلطیوں کے باعث اتنا واویلا کیوں ؟

حالانکہ اب تو عورت اتنی آزاد ہے کہ 

پاکستان میں فیملی کورٹس ایکٹ اکتوبر 2015 میں منظور ہوا تھا جس کے سیکشن 10 کی دفعہ 6 کے تحت قانونی طور پر طلاق و خلع کا عمل آسان تر کردیا گیا تھا جو کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اضافہ کر رہا ہے گز شتہ برسوں کے مقابلے میں سال 2018ء میں اعلیٰ تعلیم یا فتہ و ملازمت پیشہ خواتین میں طلاق و خلع لینے کا رحجان بڑی تیزی سے بڑھا ہے جوکہ اب رواں سال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے جس کی وجہ اکثر عورتوں کی انا پر ستی ، خود کمانے و خود کفیل ہونے کا گھمنڈ اور معاشرتی بے راہ راوی نے ہے جس کے باعث ہمارا خانگی نظام  تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے 

ایک اور رپورٹ کے مطابق 1970 میں طلاق کی شرح پاکستان میں 13 فیصد تھی جس میں اب 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے 

اگر دیکھا جائے تو جہاں حقوق کی ادائیگی میں غافل مرد ہیں تو وہیں عورتیں بھی ہیں تو پھر یہ یک طرفہ واویلا کیوں؟؟

Thursday, 16 September 2021

جہاد و فساد اور صحافتی ذمہ داریاں ازقلم غنی محمود قصوری




لفظ جہاد کے مفہوم و معنی کوشش کے ہیں 

اللہ تعالی ہم سے کوشش مانگتا ہے نتجہ نہیں اکثر گمان کیا جاتا ہے کہ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا ہی نام ہے جبکہ ایسا ہر گز نہیں

دیکھتے ہیں جہاد کی اقسام آقا علیہ السلام کی حدیث کی رو سے


عَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم قَالَ جَاہِدُوْا الْمُشْرِکِیْنَ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَاَلْسِنَتِکُمْ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ 


 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،مشرکوں سے جہاد کرو،اپنے مالوں کے ساتھ،اپنی جانوں کے ساتھ اور اپنی زبانوں کے ساتھ


اس حدیث مبارکہ سے ہمیں جہاد کی تین اقسام کا پتہ چلتا ہے اپنے مالوں سے یعنی کسی بھی مجاھد کو تیار کرکے ،اپنی جانوں سے یعنی میدان جہاد میں خود جا کر اور اپنی زبانوں سے یعنی تبلیغ کرکے کسی کو جہاد پر ابھارنا،قلم سے لکھنا وغیرہ بھی جہاد کی اقسام ہیں


فی زمانہ جہاں جہاد بالنفس یعنی اپنی جان کے ساتھ جہاد کی ضرورت ہے وہیں ہمیں جہاد بالزبان کی خاص ضرورت ہے چونکہ ڈیجیٹل دور ہے اس لئے کافر ہم پر ڈیجیٹل وار کے طور پر سائیبر وار فئیر کر رہے ہیں

اور اپنوں کو ہی اپنوں کے خلاف کیا جا رہا ہے جس کی کئی مثالیں اپنے مسلمان پاکستانیوں کا کفر و ارتداد کے فتوے لگا کر اپنے ہی ملک کے مسلمان عام و خاص افراد کو قتل کرنا ہے 


دشمن کی اس پراکسی وار کا  مقابلہ کرنا ہم سب پر فرض ہے کیونکہ اگر ہم انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں تو جہاں خود کفار کے پراپیگنڈے کا شکار ہم خود ہو سکتے ہیں وہیں ہمارے دیگر مسلمان بھائی بہن بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں اس لئے ہمیں ہر شعبہ زندگی میں رہتے ہوئے جہاد کرنا ہو گا تاکہ ہماری نسلیں کفار کے پروپیکینڈے سے بچ کر صحیح مسلمانوں والی زندگی گزار سکیں خاص طور پر صحافی حضرات کو دشمن کے پراپیگینڈے کو دنیا تک پہچانا لازم ہے کیونکہ صحافت وہ پیشہ ہے جو مملکت کے عام افراد سے لے کر خاص الخاص تک ہر ایک کی خبر رکھتا ہے اور ان کا نمائندہ ہوتا ہے 

 اور سب کے ساتھ یکساں رہتا ہے 

ایک صحافی کا قلم مظلوم کی آواز بنے تو جہاد کی تیسری اقسام میں شمار ہو گا بلکل اسی طرح جیسے دیگر ملکی مسائل کو اجاگر کرنا صحافی حضرات پر فرض ہیں اسی طرح دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی آواز بننا بھی صحافیوں پر فرض ہے اور ان مظلومین کی آواز بننا جہاد کی تیسری قسم میں شمار ہو گا اور دنیا تک مظلوم کی آواز پہنچے گی اور اللہ رب العزت کی خوشنودی کے ساتھ مظلوموں کی دعا بھی ملے گی ان شاءاللہ


اسی طرح ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا​ بھی بہت بڑا جہاد ہے 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا


(( أَحُبُّ الْجِھَادِ إِلَی اللّٰہِ کَلِمَۃُ حَقٍّ تُقَالُ لِاِمَامٍ جَائِزٍ۔ ))

صحیح الجامع، رقم: ۱۶۶۔


ترجمہ۔۔اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ جہاد ظالم بادشاہ کو حق بات کہنا ہے

اس حدیث کی تشریح کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کلمہ حق سے مراد ظالم بادشاہ کو کسی نیکی کا حکم یا کسی برائی سے روکنا ہے یہ کام خواہ الفاظ سے کا جائے  یا لکھ کر یا اس کے علاوہ کسی اور طریقہ سے کیا جائے

اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے پسندیدہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں جہاد کرنے والا خوف بھی رکھتا ہے اور امید بھی

 اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ غالب آئے گا یا مغلوب ہوگا مگر ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کی وجہ سے اس نے اپنے آپ کو یقینی ہلاکت میں داخل لیا ہے چونکہ ظالم حکمرانوں کا دور ہے اس لئے اس کیلئے مشکلات بہت بڑھ جاتی ہیں

اور زیادہ تر ایسے افراد کو راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے 

لہٰذا جہاد کی اس قسم میں خوف کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے اس لیے اس کو افضل قرار دیا گیا

عون المعبود شرح ابوداؤد ص ۳۳۵، ۱۱۱

مگر واضع رہے کسی بھی سیاسی جماعت سے ذاتی عناد رکھنا اور پھر شور و غوغا کرنا قطعاً جہاد نہیں بلکہ یہ فساد شمار ہو گا جہاد وہی ہو گا جو کسی بھی مسلکی،سیاسی جماعت اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر حق بات کی جائے چاہے کسی اپنے کو ہی خسارہ کیوں نا ہو

اب جہاد کی طرح فساد پر بھی قرآن کی ایک آیت پیش خدمت ہے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

ترجمہ اور جب ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں یقیناً وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں


اللہ تعالی ہمیں احادیث نبویہ و کلام الہی کی روشنی میں اس صحافتی میدان میں جہاد اور فساد کی سمجھ عطا فرمائے آمین

Sunday, 5 September 2021

یوم دفاع پاکستان جیسا جذبہ ابھی زندہ ہے ازقلم غنی محمود قصوری




6 ستمبر کو ہر سال شہداء 1965 کی یاد میں یوم دفاع پاکستان منایا جاتا ہے 


اس دن ہمارے بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں اچانک حملہ کیا تھا اور اعلان کیا تھا صبح کا ناشتہ لاہور جا کر کرینگے

اس دن پاکستانی قوم نے ثابت کیا کہ جنگیں بڑی فوج،زیادہ وسائل اور جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ جذبہ ایمانی سے لڑی جاتی ہے 


دشمن نے لاہور پہنچنا اتنا آسان سمجھ لیا تھا جیسے خالہ گھر جانا ہو 

دشمن نے اچانک پاکستان پر حملہ کیا تو اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے قوم سے اپنے خطاب میں  پُراعتماد آواز میں کہا

پاکستان کے 10 کروڑ عوام جن کے دل لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی آواز کے ساتھ دھڑک رہے ہیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک بھارتی توپیں ہمیشہ کے لیے خاموش نہ کر دی جائیں 


اور پھر دنیا نے بھارت کی رسوائی کا خوب تماشہ دیکھا

محض 72 گھنٹوں میں ہی دشمن کی ایسی ٹھکائی کی گئی کہ دشمن نے اقوام عالم سے جنگ بندی کی فریاد کی 


ہمارے بزدل دشمن نے چونڈہ کے محاذ پر 600 ٹینکوں کے ساتھ حملہ کیا مگر افواج پاکستان نے اس کے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا


واہگہ بارڈر ،بی آر بی کے محاذ پر میجر عزیز بھٹی شہید نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے جبکہ اس کے قریب ترین محاذ

قصور میں داخل ہونے کیلئے دشمن نے کھیم کرن سے بھرپور حملہ کیا تاہم افواج پاکستان نے دشمن کو نا صرف پیچھے دھکیلا بلکہ اس کے کئی کلومیٹر علاقے پر قبضہ بھی کر لیا 


پاک فضائیہ نے ایسی تاریخ رقم کی کہ دنیا آج بھی ایم ایم عالم رحمۃ اللہ علیہ کے کارنامے پر  حیران ہے انہوں نے دشمن کے پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے جس سے دشمن کی کمر ٹوٹ گئی


پاکستان نیوی نے دشمن کے علاقے میں جا کر چیلنج کیا پاکستانی پی این ایس مہران نے دشمن کے پانیوں میں پہنچ کر ایسی ڈھاک بٹھائی کہ بزدل دشمن کے بحری جہاز اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگ نکلے


اس دن کی فتح پاکستانیوں کی جذبہ ایمانی اور حب الوطنی تھی جیسا کہ فرمان نبوی ہے 


مفہوم حدیث ﷺ  مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں

اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے


اس حدیث کے مطابق پوری قوم نے درد محسوس کیا اور دشمن کر ڈٹ کر مقابلہ کیا 

مگر کیا اب بھی اس قوم میں یہی جذبہ موجود ہے ؟


جی الحمدللہ چاہے جتنے بھی حالات آئے اس قوم کا جذبہ مانند  نہیں ہوا 

دشمن نے اس جذبے کو مانند کرنے کیلئے ہمارے اندر صوبائی،علاقائی،لسانی،دینی اختلافات ڈالنے کی ہزار بار کوشش کی مگر بفضل تعالی وہ ہر بار ناکام رہا اور رہے گا بھی کیونکہ یہ خطہ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے اس کی بنیادوں میں شہداء کا لہو  شامل ہے


احادیث نبویہ میں ہندوستان کے جہاد کا ذکر کثرت سے موجود ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے دور حکومت میں ہندوستان پر مہم  جوئی کا آغاز ہو چکا تھا 

فضیلت جہاد ہند پر ایک حدیث پیش خدمت ہے 


یوم دفاع پاکستان جیسا جذبہ ابھی زندہ ہے


ازقلم غنی محمود قصوری


6 ستمبر کو ہر سال شہداء 1965 کی یاد میں یوم دفاع پاکستان منایا جاتا ہے 


اس دن ہمارے بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں اچانک حملہ کیا تھا اور اعلان کیا تھا صبح کا ناشتہ لاہور جا کر کرینگے

اس دن پاکستانی قوم نے ثابت کیا کہ جنگیں بڑی فوج،زیادہ وسائل اور جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ جذبہ ایمانی سے لڑی جاتی ہے 


دشمن نے لاہور پہنچنا اتنا آسان سمجھ لیا تھا جیسے خالہ گھر جانا ہو 

دشمن نے اچانک پاکستان پر حملہ کیا تو اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے قوم سے اپنے خطاب میں  پُراعتماد آواز میں کہا

پاکستان کے 10 کروڑ عوام جن کے دل لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی آواز کے ساتھ دھڑک رہے ہیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک بھارتی توپیں ہمیشہ کے لیے خاموش نہ کر دی جائیں 


اور پھر دنیا نے بھارت کی رسوائی کا خوب تماشہ دیکھا

محض 72 گھنٹوں میں ہی دشمن کی ایسی ٹھکائی کی گئی کہ دشمن نے اقوام عالم سے جنگ بندی کی فریاد کی 


ہمارے بزدل دشمن نے چونڈہ کے محاذ پر 600 ٹینکوں کے ساتھ حملہ کیا مگر افواج پاکستان نے اس کے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا


واہگہ بارڈر ،بی آر بی کے محاذ پر میجر عزیز بھٹی شہید نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے جبکہ اس کے قریب ترین محاذ

قصور میں داخل ہونے کیلئے دشمن نے کھیم کرن سے بھرپور حملہ کیا تاہم افواج پاکستان نے دشمن کو نا صرف پیچھے دھکیلا بلکہ اس کے کئی کلومیٹر علاقے پر قبضہ بھی کر لیا 


پاک فضائیہ نے ایسی تاریخ رقم کی کہ دنیا آج بھی ایم ایم عالم رحمۃ اللہ علیہ کے کارنامے پر  حیران ہے انہوں نے دشمن کے پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے جس سے دشمن کی کمر ٹوٹ گئی


پاکستان نیوی نے دشمن کے علاقے میں جا کر چیلنج کیا پاکستانی پی این ایس مہران نے دشمن کے پانیوں میں پہنچ کر ایسی ڈھاک بٹھائی کہ بزدل دشمن کے بحری جہاز اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگ نکلے


اس دن کی فتح پاکستانیوں کے جذبہ ایمانی اور حب الوطنی کے بدولت تھی جیسا کہ فرمان نبوی ہے 


مفہوم حدیث ﷺ  مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں

اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے


اس حدیث کے مطابق پوری قوم نے درد محسوس کیا اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا 

مگر کیا اب بھی اس قوم میں یہی جذبہ موجود ہے ؟


جی الحمدللہ چاہے جتنے بھی برے حالات آئے اس قوم کا جذبہ مانند  نہیں ہوا 

تاہم دشمن نے اس جذبے کو مانند کرنے کیلئے ہمارے اندر صوبائی،علاقائی،لسانی،دینی اختلافات ڈالنے کی ہزار بار کوشش کی مگر بفضل تعالی وہ ہر بار ناکام رہا اور رہے گا بھی کیونکہ یہ خطہ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے اس کی بنیادوں میں شہداء کا لہو  شامل ہے

Wednesday, 1 September 2021

بطل حریت،حامی پاکستان سید علی شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ ازقلم غنی محمود قصوری




تحریک حریت کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی  کل 1 ستمبر 2021 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے 


اناللہ وانا الیہ راجعون اللھم اغفرلہ و ارحم 


سید علی شاہ گیلانی الحاق پاکستان کے سب سے بڑے حامی تھے اور کشمیریوں سمیت پاکستانیوں کے دلوں کی ڈھرکن تھے


آپ مقبوضہ کشمیر کے  قصبہ سوپور کے نواحی گاؤں ذورمنز میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے 

بچپن سے ہی شاہ صاحب غیرت و حمیت کے پاسباں تھے


آپ کی اولاد میں ایک بیٹی فرحت گیلانی اور تین بیٹے نعیم گیلانی،نسیم گیلانی اور ظہور گیلانی شامل ہیں


شاہ صاحب نے اپنی ساری زندگی ہندوستان کے خلاف لڑتے ہوئے گزاری آپ کا واضع اور دو ٹوک موقف تھا کہ مقبوضہ کشمیر پر ہندوستان ناجائز قابض ہے ہندوستان اپنی فوجیں کشمیر سے نکالے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریفرنڈم کرائے  تاہم ہندو بنیا جانتا ہے کہ آپ الحاق پاکستان کی سب سے مضبوط آواز ہیں اور ریفرنڈم کروانے کا مطلب الحاق پاکستان کا پیغام کھلے عام ساری دنیا کے سامنے رکھنا ہے سو ہندو نے ہر ظلم و جبر آپ پر کیا اور آپ کو بے بحا آفرز کرکے اپنے مؤقف سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی تاہم ہندو بنئیے کو ناکامی کے سوا کچھ نا حاصل ہوا

 آپ کی تقریبآ ساری زندگی جیلوں میں گزری


شاہ صاحب گزشتہ 13 سالوں کے دوران اپنے گھر میں نظر بند رہے ہیں


وفات کے وقت آپ کی عمر 92 سال تھی اور دوران اسیری ہی آپ کا ایک گردہ کینسر کی بدولت نکالا جا چکا تھا اور دل کی سرجری بھی ہو چکی تھی مگر اس کے باوجود بھی آپ کے عزم و حوصلے میں کوئی کمی نا آئی اور آپکا نعرہ وہی رہا 


کشمیر بنے گا پاکستان

تیرا میرا رشتہ کیا ؟

لا الہ الااللہ

عام کشمیری تو کجا مقبوضہ سادی کشمیر کی تمام عسکری تنظیموں کے قائدین و مجاھدین سید علی شاہ گیلانی صاحب کی بے انتہاہ عزت کرتے ہیں


سید علی شاہ گیلانی کی خدمات پر ان کو پاکستان گورنمنٹ کی طرف سے نشان پاکستان سے نوازہ گیا تھا 


آپ نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے پلیٹ فارم سے 1972,1977 اور 1987 میں میں الیکشن جیتا اور اسمبلی میں کھل کر الحاق پاکستان کی صدا لگائی اور کشمیر کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اپنی آواز بلند کی

 

آپ نے جماعت اسلامی سے 2003 میں علیحدگی اختیار کی اور اپنی جماعت تحریک حریت کی بنیاد رکھی

 مذید آپ نے کشمیر کی آزادی کی خاطر چوبیس سے زائد  جماعتوں کے اتحاد سے آل پارٹیز  کانفرنس کی بنیاد رکھی 


مرحوم سید علی شاہ گیلانی نے اپنی زندگی میں ہی سرینگر قبرستان شہدا میں اپنی تدفین کی نصیحت کی تھی

 

کل رات ان کی وفات کی خبر کے بعد انڈین فوج نے پورے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی شحض اپنے گھر  سے نہیں نکل سکتا تاہم کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ تو دے سکتے ہیں مگر اپنے محبوب لیڈر کا دیدار کئے بنا  نہیں رہ سکتے

اسی صورتحال کو بھانپتے ہوئے انڈین فوج نے پوری وادی میں کرفیو لگا دیا ہے اور موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے 

انڈیا جو مرضی کر لے کشمیری قوم بابائے حریت سید علی شاہ گیلانی کے نقش قدم پر ہی چلے گی اور الحاق کشمیر کرکے ہی دم لے گی 

اللہ تعالی مرد مجاھد سید علی شاہ گیلانی کے درجات بلند فرمائے آمین