Tuesday, 30 April 2024

شرمندگی آداب رسومات کے باعث ازقلم غنی محمود قصوری






گزشتہ دن میڈیا پہ ایک رپورٹ آئی جس کے مطابق اس وقت پاکستان میں 1 کروڑ عورتوں کی تعداد ایسی ہے جو کہ 35 سال سے زیادہ عمر کی ہو چکی ہیں اور ان کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی


بطور ایک مسلمان ملک یہ بہت حیرت و تشویش والی بات ہے کہ اتنی عمر میں بھی نکاح نا ہو سکنا کس قدر غلط اور خطرناک ہے


آئیے پہلے ہم بات کرتے ہیں پاکستان کی آبادی پر


اس وقت پاکستان کی کل آبادی تقریباً ساڑھے 24 کڑور کے قریب ہے جس میں مردوں کی تعداد 51 فیصد،عورتوں کی تعداد 48.76 فیصد اور خواجہ سراؤں کی تعداد 0.24 فیصد ہے

یعنی اعداد و شمار کے مطابق 100 خواتین واسطے 105 مرد موجود ہیں 


 اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا 64 فیصد 30 سال سے کم عمر جوانوں پہ مشتمل ہے 

  20 فیصد کی عمریں 15 اور 15 سال کے درمیان ہیں یعنی وہ نوجوان ہیں


اس کے باوجود 36 فیصد خواتین کنواری بیٹھی ہیں جو کہ بہت تشویش کی بات ہے

اس کے بعد بہت زیادہ تعداد بیوہ اور طلاق یافتہ عورتوں کی ہے کہ دوسری شادی نا کرسکی کہ جن کا اسلامی و قانونی حق ہے دوسری شادی کرنا مگر ان کو ان کا حق نہیں ملتا اور وہ دوسروں پہ بوجھ بن کر زندہ رہتی ہیں 

جوان مرد و عورت کے کنوارے رہنے کا نتیجہ معاشرے میں زناء کی صورت میں نکلتا ہے اور زناء ایسا قبیع فعل ہے جس سے معاشرے میں فسق و فجور کیساتھ نت نئی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور معاشرے میں بے حیائی کیساتھ بربادی و تنزلی کا طوفان آتا ہے


اب سوچئے کہ 1 کروڑ عورتیں جن کی شادی کی اصل عمر بھی گزر چکی وہ ہر روز کس قرب و اذیت سے گزرتی ہونگیں؟


آج کے حالات تو ہم نے رسم و رواج کے تابع ہو کر یہ بنا لئے کہ نوجوان لڑکیوں کی شادی بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس کے باعث والدین کو نیند نہیں آتی اور سوچ سوچ کر کئی والدین خودکشی کر لیتے ہیں تو وہاں ان بڑی عمر کی خواتین سے کون شادی کرے گا؟


در اصل ہمارے معاشرے کی بربادی کا آغاز دین سے دوری سے ہوا اور دین سے دوری کے باعث ہم نے رسم و رواج کو پروان چڑھا کر اپنے حلال کاموں کو مشکل بنا لیا جس میں سے ایک اہم ترین فرضی کام نکاح بھی ہے

نکاح اس قدر اہم ہے کہ اس بابت حدیث رسول ہے 


من قدر على ان ينكح، فلم ينكح، فليس منا"

ترجمہ۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:،جو شخص قدرت نکاح کے باوجود نکاح (شادی) نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں

یعنی اس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ اور دین اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں

آج نکاح بہت مشکل ہو چکا ہے

غریب بندہ بھی دس لاکھ تک لڑکی کی شادی کر پاتا ہے

سب سے بڑی لعنت جہیز ہے پھر اس کے بعد دیگر فضول رسم و رواج کہ جن کا دین اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں 

دوسرا سب سے بڑا المیہ ہماری بے جا ذاتی خواہشات ہیں 

جیسے کہ ہر لڑکے کو بہت خوبصورت،پڑھی لکھی اور جوان لڑکی چائیے اور اسی طرح ہر لڑکی کو خوبصورت ،پڑھا لکھا اور بہت پیسے والا مرد چائیے جس کے باعث زیادہ تر لڑکیاں شادی سے محروم رہ جاتی ہیں کیونکہ اکثر مردوں کو بڑی عمر میں بھی کم عمر لڑکیاں مل جاتی ہیں اور ان کا گھر بس جاتا ہے مگر اس کے برعکس بڑی عمر کی عورت کو کم عمر مرد قبول نہیں کرتا 

ہاں اگر بڑی عمر کی عورت کے پاس پیسہ ہو تو پھر وہ عورت اس حور لگتی ہے مطلب محبت عورت سے نہیں پیسے سے

شادی کرتے وقت بطور مسمان ہمیں اس  حدیث کی رو سے یہ  حکم ہے کہ 


 ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نکاح کے ذریعے دولت تلاش کرو

 جگہ ارشاد ربانی  ہے کہ

 

 تم میں سے جو مرد و عورت بے نکاح ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام لونڈیوں کا بھی،  اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا اللہ تعالی کشادگی والا علم والا ہے النور 32


یعنی اسلام نے نکاح کے ذریعے سے امیر ہونے کا طریقہ بتایا اور ہم نے لالچ میں اسے پس پشت ڈال کر جہیز کی لالچ میں نکاح کو مشکل بنا لیا

جبکہ حکم ہمیں ہے دینداری دیکھنے کا اور ہم نے حسن و جمال کیساتھ اعلی خاندان و پیسے کو حجت بنا لیا


ہماری عادت ہے کہ ہم مارکیٹ سے کوئی چیز خریدنے جائیں تو مطلوبہ برینڈ کی چیز اگر میسر نہیں تو اس کے متبادل کوئی اور چیز خرید لیتے ہیں 

اگر اس چیز میں کوئی کمی کوتاہی ہو بھی تو ہم اس چیز کو ضائع نہیں کرتے بلکہ اس سے کام لیتے ہیں اور گزارہ کرتے ہیں مگر نکاح کے معاملات میں ہمارا یہ حال ہے کہ رشتہ دیکھنے جاتے وقت ہماری ڈیمانڈز پوری نا ہو تو ہم جواب دے دیتے ہیں اور ساری زندگی اسی طرح اپنے لئے دیکھتے دکھاتے گزار دیتے ہیں مگر کسی کی بیٹی سے گزارہ نہیں کر پاتے 

اگر کوئی مرد و عورت ایسا کر بھی لے تو کچھ عرصہ بعد نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے اور پھر طلاق یافتہ مرد و عورت خاص طور پہ عورت زمانے کی نظروں میں بیکار ہو جاتی ہے اور بقیہ زندگی ماں باپ،بہن بھائیوں کی چوکھٹ پہ بوجھ بن کر گزار دیتی ہے


یہی ہماری اخلاقی،سماجی،اسلامی زوال کا اصل سبب ہے

دوسرا بڑا مسئلہ دوسری،تیسری اور چوتھی شادی کو جرم قرار دینا ہے 

سوچئیے اگر جو مرد قدرت و طاقت رکھتے ہیں وہ دوسری یا اس سے زیادہ شادی اسلام کی رو سے کرنا شروع کر دیں تو کیا پاکستان میں کنواری بیٹھی 1 کروڑ عورتیں بیاہی نا جائیں گیں؟

جی بلکل مگر یہاں بھی سب سے بڑی رکاوٹ عورت کے راستے میں عورت ہے اور وہ عورت یہ ڈکٹیشن فلموں اور ڈراموں سے لیتی ہے

اگر ہم نے نکاح کو عام کرنا ہے تو ان فضول رسموں کو ختم کرکے اسلامی طریقہ اپنانا ہو گا بصورت دیگر بن بیاہی 1 کروڑ عورتوں کی بدعائیں نا تو ہمارے گھروں میں خوشحالی آنے دینگیں نا ہی ہمارے اعمال میں برکت ہوگی



Saturday, 27 April 2024

ساتواں بڑا زرعی ملک اور ذخیرہ اندوز بھی ازقلم غنی محمود قصوری







ارض پاک پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور گندم پیدا کرنے والا دنیا کا ساتواں بڑا ملک بھی جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی غذائی فصل گندم ہے اس کے علاوہ اور بھی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں


پاکستان کل رقبہ تقریباً 19 کروڑ 67 لاکھ 20 ہزار 290 ایکڑ ہے جس میں سے 5 کروڑ 60 لاکھ 43 ہزار 414 ایکڑ زرعی رقبہ ہے جبکہ 1 کروڑ 12 لاکھ 43 ہزار 277 ایکڑ رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے 

 زیر کاشت رقبہ تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ ایکڑ ہے 

ہمارے ہاں گندم زیر کاشت رقبہ کے 80 فیصد پر کاشت کی جاتی ہے 


ہمارے کل جی ڈی پی میں سے زراعت 22 فیصد ہے اور مجموعی افرادی قوت 44 فیصد شعبہ زراعت سے منسلک ہے جبکہ ہماری کل آبادی کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ زراعت کیساتھ منسلک ہے

اسی لئے زراعت پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے


اس وقت ارض پاک میں گندم کی کٹائی کا سیزن چل رہا ہے

کچھ علاقوں میں گندم کی مکمل کٹائی ہو چکی ہے 

گزشتہ سال گندم کی پیدوار 2 کروڑ 68 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی تھی جس میں اس سال مذید اضافے کا امکان ہے

مگر اس ساری صورتحال کے پیش نظر نا تو کسان خوش ہے نا ہی گندم خریدنے والے عام شہری جس کی ساری وجہ مس مینجمنٹ اور ذخیرہ اندوزی ہے


ذخیرہ اندوزی تو وہی کرے گا جس کے پاس سال بھر کا گھریلوں خرچ موجود ہوتا ہے جس بیچارے غریب کسان کے پاس ایک مہینہ خرچ کے پیسے موجود نہیں وہ کیا ذخیرہ اندوزی کرے گا


ذخیرہ اندوزی نے ہمارے ملک کا برا حال کرکے رکھ دیا ہے

ضرورتِ زندگی کی کوئی بھی چیز ہو بلیک مارکیٹنگ مافیا متحرک ہو جاتا ہے اور مارکیٹ سے چیز غائب کرکے اپنی من مانی قیمتوں پہ فروخت کرتا ہے


یہی صورتحال گندم کیساتھ ہے

غریب کسان بیچارے تو باہر کھیتوں سے ہی فصل بیچ دیتے ہیں تاکہ گھر کا خرچ چل سکے جب بڑے بڑے کسان گندم اپنے گوداموں میں ذخیرہ کر لیتے ہیں اور اس وقت بیچتے ہیں جب لوگ گندم نا ملنے کے باعث مہنگے داموں خریدنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں

حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ذخیرہ اندوزی کو رکے اور ایسے لوگوں کو سخت سزا دے 

کیونکہ ذخیرہ اندوزی قانون پاکستان کی رو سے بھی جرم ہے اور اسلام کی رو سے بھی

اسلام میں ذخیرہ اندوزی کی سخت ممانعت کا اندازہ ہم اس حدیث رسول سے لگاتے ہیں


جس نے چالیس دن تک ذخیرہ اندوزی کی وہ اللہ سے بری ہو گیا اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہو گیا اور کسی حویلی میں اگر ایک شخص بھوکے رات گزارے تو ان تمام (حویلی والوں) سے اللہ کا ذمہ بری ہو گیا اور وہ اللہ سے بری ہو گئے، (یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق ختم کر بیٹھے)

المستدرک 2165


جبکہ ایک اور حدیث میں ہے کہ 


جو شخص مسلمانوں میں گراں فروشی کے لیے ، ان کے نرخوں میں اضافہ کی کوشش کرے تو یہ اللہ پر یہ حق ہے کہ اس کو جہنم کے بڑے گڑھے میں اوندھے منہ پھینک دے 


المستدرک 2168


درج بالا دونوں حدیثوں سے ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کی ممانعت کا اندازہ ہوتا ہے

حکومت وقت پہ فرض ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دے تاکہ غریب غرباء عام لوگ سکون کی روٹی کھا سکیں بصورت دیگر جب باوجود محنت کے انسان سکون کی روٹی نہیں کھا سکتا تو وہ جرائم کا ارتکاب کرتا ہے 

اگر پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے تو دیگر جرائم پر قابو پانے کی طرح ذخیرہ اندوزی پہ زیادہ قابو پانے کی ضرروت ہے


Saturday, 30 March 2024

زندیق قادیان کے نئے وار از قلم غنی محمود قصوری

 







نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخر نبی ہونے پہ تمام مسلمانوں کا اجماع بھی ہے اور عقیدہ بھی جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں


مسلمانوں کا جذبہ جہاد کسی سے چھپا نہیں جس سے غیر مسلم بہت تنگ تھے، سو  کسی نا کسی ہر دور میں غیر مسلموں نے اس جذبے کو ختم کرنا چاہا اور مسلمانوں کو ان کے اصل دین سے دور کرنے کی تدبیریں کیں جس کی راہ میں ہمیشہ علمائے حق نے اپنی جانوں تک کی قربانیاں دے کر لوگوں کو فتنوں سے آگاہ فرمایا

خاص طور پہ علمائے کرام نے ختم نبوت پہ دن رات ایک کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی 


1857 کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں میں اصل دین اسلام سے دوری پیدا کرنے اور راہ جہاد سے فرار کروانے کیلئے برصغیر پہ قابض انگریز بے ایمان نے 

 ایک فتنہ مرزا غلام احمد قادیانی کی صورت میں کھڑا کیا جو انگریز سرکار کا پالتو تھا اور ضلع کچہری سیالکوٹ میں منشی تھا


مرزا غلام احمد قادیانی زندیق 13 فروری 1835 کو بھارتی پنجاب کے ضلع گورداسپور  کی تحصیل بٹالہ کے گاؤں قادیان میں پیدا ہوا جس نے پہلے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر 1888 کو آخری نبی ہونے کا دعویٰ کیا

اور آخر کار اس زندیق نے 23 مارچ 1889 کو لدھیانہ میں پہلی بیعت لے کر جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی اور خود کو آخری نبی ظاہر کرکے لوگوں کو اپنے خودساختہ احمدی،قادیانی دین کی دعوت دی جس میں انگریز سرکار نے اس کی معاونت کی اور اسے مالی معاونت بھی فراہم کی

مزرا زندیق مر گیا تو اس کے بعد مذید زندیق اس کے جانشین بنتے گئے 

یہ سلسلہ چلتا رہا اور آخر کار پاکستان معرض وجود میں آ گیا

اس وقت تک قادیانی بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے تھے اور پاکستان کیساتھ پوری دنیا میں پھیل چکے تھے

یہ زندیق اپنے دین کی تبلیغ کرتے اور پاکستان میں اعلی عہدوں پہ فائز ہوتے گئے اور دین اسلام سے سادہ لوح لوگوں کو دور کرتے چلے گئے 


علمائے حق اور غیور مسلمانوں و سیاستدانوں نے اس فتنے کی سرکوبی کے لئے  ان کی تبلیغ کو ختم کرنے کی خاطر اور ان کو غیر مسلم قرار دینے کیلئے 7 ستمبر 1974 کو متفقہ طور پہ قرار داد منظور کی 

آئین پاکستان کی شق 106 (2) اور 260 (3) میں اس کا اندارج کیا اور ان کو ان کی اصل اوقات دکھلائی 


 بالآخر 26 اپریل 1984 کو حکومت پاکستان نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا اور ایک نئی فوجداری دفعہ 298/C کا اضافہ کیا  جس کی رو سے قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے اور اپنے مذہب کو اسلامی شعائر سے تشبیہہ نہیں دے سکتے 

1993 میں SCMR 1718 کی رو سے کوئی قادیانی خود کو نا تو مسلمان کہلوا سکتا ہے نا ہی اپنے قادیانی مذہب کی تبلیغ کر سکتا ہے اور کوئی قادیانی ایسا کرتا ثابت ہوا تو وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C اور 298-C کے تحت سزائے موت کا مرتکب ہو گیا

جب سے یہ آرڈیننس جاری ہوا تب سے قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ میں رکاوٹ محسوس ہونے لگی اور ان زندیقوں نے اپنا طریقہ کار بدلا اور سادا لوح مسلمانوں کو پیسے و عورتوں کا لالچ دے کر اپنی تبلیغ شروع کی

وقت بدلتا گیا علمائے کرام اور غیور مسلمان ان زندیقوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر ان کی گندی تبلیغ آگے بند باندھ کر کھڑے رہے 


اب ان زندیقوں نے ڈیجیٹل دور کا سہارا لیا اور اپنے جعلی دین کی تبلیغ کرنے اور دین اسلام کو بدنام کرنے کی خاطر سوشل میڈیا پہ لوگوں کو ورغلانا شروع کر دیا

گزشتہ دنوں معروف سوشل ویب سائٹ ٹک ٹاک پہ کام کرنے والی ایک غیر مسلم لڑکی کا انٹرویو سامنے آیا جس میں اس نے اعتراف کیا کہ وہ ایک غیر مسلم ہے اور ٹک ٹاک پہ کافی مشہور بھی ہے

اس کی مشہوری کا فائدہ اٹھا کر قادیانیوں نے اسے تحفے تحائف دے کر اس کی ٹک ٹاک آئی ڈی کا نام مسلمان عورت کے نام سے رکھوایا اور اسے مالی سپورٹ کرتے ہوئے اس سے فحش ویڈیوز بنوائیں اور قادیانیت کی تبلیغ کا کام بھی لیا

اس جیسی کئی وارداتیں سامنے آ چکی ہیں 

نیز یہ لوگ سکول و کالج و یونیورسٹی سے ہی لوگوں میں پیسے،عہدے اور عورت کا لالچ بھرتے ہیں اور لوگوں کو قادیانی بنا رہے ہیں

ان زندیقوں کا مقصد مملکت خداداد پاکستان میں قادیانیت کو فروغ دے کر تمام عہدوں تک رسائی حاصل کرنا ہے تاکہ غیر مسلم ممالک کے پاکستان بارے نظریات کو عملی جامع پہنایا جا سکے 

یہ سلسلہ گزشتہ چند سالوں سے قادیانیوں نے اپنایا ہوا ہے جس کے نتائج بڑے خطرناک نکل سکتے ہیں اس لئے ان زندیقوں کے خلاف فوری سخت ترین کارروائی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو ان کے مذموم عزائم سے باز رکھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو بچایا جا سکے


اس وقت دنیا بھر میں قادیانیوں کی تعداد تقریباً 2 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے جو اپنے مذہب کی تبلیغ کی خاطر پوری دنیا میں سرعام پیسے،عورت،عہدے کا لالچ دے کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

ہمیں بطور سچے مسلمان ان کے مذموم عزائم کو عملی زندگی کیساتھ ساتھ سوشل میڈیا پہ بھی روکنا ہو گا کیونکہ ایک مسلمان کے نزدیک عقیدہ ختم نبوت سے بڑھ کر کوئی کام نہیں


نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی حرمت پر

 خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا


ان شاءاللہ ان زندیقوں کا مقابلہ ہر محاذ پہ کرینگے 


Sunday, 24 March 2024

ریاست کے اندر ریاست کی وجوہات از قلم غنی محمود قصوری

 






آئے روز سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں نے اتنے بندوں کو اغواء کرنے کے بعد تاوان نا ملنے پہ مار دیا 

آجکل بہت زیادہ ویڈیوز آ رہی ہے جس میں کچے کے ڈاکو مغویوں کو درندوں کی طرح مار پیٹ کرتے ہوئے ان کی ویڈیوز کو سوشل میڈیا پہ وائرل کرتے ہیں جس سے ملک کے اندر عدم اعتمادی اور خوف کی فضاء بڑھ رہی ہے


یہ کچے کے ڈاکو کوئی نئے نہیں ہیں یہ بہت پرانے ہیں اتنے پرانے کے 1991 میں انہوں نے سندھ سے 3 چینی انجینئرز کو اغواء کیا تھا

یہ پرانے ڈاکو اب اس قدر جدت پسند ہوگئے ہیں کہ اب ان کی جانب سے لوگوں کو اغواء کرنے کی 90 فیصد وارداتیں سوشل میڈیا پہ سرانجام دی جاتی ہیں 

سندھ پولیس کے پاس جب سیمی آٹو میٹک کاربن سیمونوف جیسی پرانی گنیں تھیں تب ان ڈاکوؤں کے پاس جدید ترین کلاشنکوفیں تھیں اور آج ان ڈاکوؤں کے پاس ایم فور سے لے کر جدید سنائپر گنز،طیارہ شکن گنز،اینٹی ٹینک راکٹ لانچرز،ہینڈ گرنیڈز اور مائنز تک موجود ہیں

 نیز یہ لوگ جدید ترین کمیونیکیشن کا نظام بھی رکھتے ہیں


سوچنے کی بات یہ ہے کہ کچے کے علاقے میں فور جی انٹرنیٹ سروس بلا تعطل چلتی ہے اور یہ ڈاکو بڑے آرام سے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے پاکستان بھر سے لوگوں کو سستی چیزیں بیچنے کا لالچ دے کر اپنے علاقوں میں بلاتے ہیں اور پھر انہیں ہنی ٹریپ کرتے ہیں

یعنی پہلے یہ ڈاکو خود جا کر لوگوں کو شاہراہوں،دفتروں، بازاروں،گھروں سے اغواء کیا کرتے تھے اب اس کے برعکس لوگ خود چل کر ان کے پاس اغوا ہونے جاتے ہیں


بہت سی ایسی وارداتیں بھی دیکھنے کو ملی ہیں جس میں یہ لوگ سستی چیزیں بیچنے کی لوکیشن کسی اور شہر کی ڈالتے ہیں اور پھر وہاں سے لوگوں کو اغواء کر لیتے ہیں جیسے کہ گزشتہ سے گزشتہ ماہ قصور سے دو نوجوان اغواء ہوئے جو کہ مری سے سستی گاڑی کا اشتہار دیکھ کر قصور پہنچے اور پھر وہاں سے اغواء ہو کر کچے کے ڈاکوؤں تک پہنچائے گئے جس سے لگتا ہے کہ کچے کے ڈاکو کچے کے علاقے تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے پاکستان میں اپنا نیٹ ورک بنا چکے ہیں



کچے کا علاقہ تین صوبوں کے بارڈرز کیساتھ ہے

پنجاب کا ضلع صادق آباد و ذیلی علاقے،سندھ کا ضلع کشمور و ذیلی علاقے اور سندھ سے بلوچستان کی جانب منگھو پیر،نادرن بائی پاس ،گڈاپ کے علاقے ان ڈاکوؤں کی آماجگاہ ہیں


ماضی میں بھی کبھی سندھ کے علاقے میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ہوئے تو کبھی پنجاب میں مگر کوئی خاطر خواہ نتائج نا نکلے جس کی وجہ ان ڈاکوؤں کی پناہگاہیں ہزاروں ایکڑ جنگلات میں ہونا،اعلی سول و پولیس افسران کیساتھ سیاستدانوں کی پشت پناہی اور کمزور ترین عدالتی نظام کا ہونا ہے


اب ایک بار پھر سے ان ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن جاری ہے جو کہ بہت اچھی اور خوش آئند بات ہے 

جہاں ان ڈاکوؤں کو ختم کرنا بہت ضروری ہے وہاں وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ ان ڈاکوؤں کو بننے سے روکا جائے

جی بلکل عام انسانوں کو ڈاکو بننے سے روکا جائے


ہمارے معاشرے میں ڈاکو بنائے جاتے ہیں جبر و ظلم کرکے

جب وڈیرے جاگیردار سرعام عزتوں کو تار تار کریں،سرعام زمینوں پہ قبضے کریں اور لوگوں کو کمتر جان کر سرعام رسوا کریں وہ مظلوم اپنی شنوائی کی خاطر تھانے کا رخ کرے جہاں اس وڈیرے جاگیر دار ،سیاست دان ،چوھدری کا حمایتی تھانے دار مذید رسوا کرکے تھانے سے نکال دے،

بفرض کوئی تھانے سے انصاف لے بھی لے تو سالوں تک عدالتوں کے چکر کاٹ کاٹ کر ذلیل و رسوا ہو کر آخر فیصلہ بالآخر اسی کے خلاف  آئے تو وہاں ڈاکو بننا بعض اوقات ضروری ہوتا ہے


ایک بار کچے کے ایک ڈاکو نے پاکستان کے مشہور صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں انصاف کی امید ہو تو ہم کیوں جنگلوں میں مارے مارے پھریں؟ ہمارا بھی دل چاہتا ہے کہ ہمارے بچے سکولوں،کالجوں میں پڑھیں،اچھا کمائیں،اچھا کھائیں اور ایک باوقار شہری بنیں

اس ڈاکو نے صحافی سے سوال کیا تھا کہ آپ قسم اٹھا کر بتلائیں کیا یہ سب کچھ معاشرے میں رہتے ہوئے ہم عام آدمیوں کیساتھ  ہونے نہیں دیا جاتا قانون کی پشت پناہی میں؟


یہ ڈاکو بڑے ظالم ہوتے ہیں لوگوں کا مال ناجائز کھاتے ہیں اور ان کی جانوں کو ختم کرتے ہیں جس کی شرعی و قانونی سخت ترین سزا ہے مگر یہ بھی سوچئے کہ جب انہی ڈاکوؤں سے عام آدمی کی صورت میں دوسروں کی جانب سے سخت زیادتی کی جاتی ہے اگر تب ہی کنٹرول کر لیا ہوتا تو آج یقیناً ہر عام انسان کبھی ڈاکو نا بنتا 

جہاں اس معاشرے کا ناسور یہ ڈاکو ہیں وہاں ذات پات کی اونچ نیچ،جاگیرداری کے نشے میں مست ظالم لوگ اور اندھا قانون بھی ڈاکو بناتا ہے

جہاں ان ڈاکو کا قلع قمع ضروری ہے وہاں اس نظام کا خاتمہ بھی ضروری ہے

اکثر و بیشتر ظالم کا ظلم سہہ کر اس راہ پہ چلنے والے لوگ اپنے اوپر ہوئے ظلم کا بدلہ لینے کی خاطر کمزور لوگوں بدلہ لیتے ہیں اور پھر دہشت و شہرت حاصل کرکے انہی لوگوں کی پشت پناہی حاصل کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں کہ جنہوں نے ماضی میں ان پہ ظلم کرکے انہیں مظلوم سے ظالم بنایا ہوتا ہے


اس وقت گورنمنٹ کو چائیے کہ آپریشن کیساتھ ان سے مذکرات بھی کئے جائیں تاکہ ان کو احساس ہو کے قانون مارنا ہی نہیں پالنا بھی جانتا ہے 


Tuesday, 19 March 2024

سوشل میڈیا کی بد احتیاطی کے نتائج از قلم غنی محمود قصوری

 






موجودہ دور بہت زیادہ تیز اور حساس نوعیت کا ہے جس میں ہمیں ہر لمحہ محتاط رہنا پڑتا ہے


 چونکہ کمیونیکیشن اور سوشل میڈیا کا دور ہے جس میں جہاں باخبر رہنے کے فوائد بھی بہت ہیں تو وہیں ذرا سی لا پرواہی عمر بھر کی شرمندگی بھی دے سکتی ہے

آئے روز سوشل میڈیا پہ گھریلوں خواتین کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہو جاتی ہیں جو کہ دانستہ بھی ہوتی ہیں اور بعض مرتبہ غیر دانستہ بھی ہوتی ہیں

ایسا ہی ایک واقعہ پیش ہے


اس کی شادی لگ بھگ دس سال قبل ہوئی اور وہ دونوں بہت اچھی زندگی بسر کر رہے تھے

اس کی بیوی دیندار اور گھریلوں خاتون تھی جو کہ صوم و صلوٰۃ کیساتھ محرم و غیر محرم رشتے کا بھی خاص خیال رکھتی تھی گھر سے باہر وہ کبھی پردے کے نہیں گئی تھی اور کسی غیر محرم نے اس اللہ والی کا چہرہ نا دیکھا تھا


اس کے شوہر  کی عادت تھی کہ اپنی اور اپنی بیوی بچوں کی ویڈیوز اور تصاویر بناتا اور خوشگوار لمحات کو عکس بند کرتا جو کہ قطعاً غیر اخلاقی نہیں بلکہ میاں بیوی و فیملی کیساتھ محبت کا بہترین اظہار و انداز ہے


ایک دن اس شحض کا موبائل اس کے چھوٹے بیٹے کے پاس تھا جو کہ موبائل پہ کارٹون دیکھ رہا تھا

بچے نے یوٹیوب کو کسی طریقے سے ہائیڈ کر دیا اور دوبارہ کارٹون چلانے کی کوشش کی مگر غلطی سے اس بچے کی انگلی فیسبک ایپلی کیشن کو چھو گئی اور نیوز سٹوریز چلنا شروع ہو گئیں

بچہ موبائل کو چھیڑتا گیا اور ایسے میں فیسبک ایپلیکیشن نے گیلری سے رسائی پا کر اس کی بیوی کی چند تصاویر اپلوڈ کر دیں جو کہ گیلری میں سر فہرست تھیں

تصاویر میں کچھ بچوں کیساتھ تھیں اور کچھ اس اکیلی کی بغیر ڈوپٹہ اور حجاب کے تھیں

بچہ اس سارے معاملے سے قطعاً بے خبر تھا اور وہ شحض خود بھی بےخبر تھا


پوسٹ اپلوڈ ہوئی اور اس کے ساتھ منسلک اس کے رشتہ داروں و دوستوں تک وہ تصاویر پہنچ گئیں

اس کے ایک قریبی دوست نے اسے کال کی تو اس کو اس معاملے کا علم ہوا

جلدی سے اس نے پوسٹ ڈیلیٹ کی مگر تب تک ہزاروں لوگ ان تصاویر کو ڈاون لوڈ کر چکے تھے جس عورت کو کبھی قریبی رشتہ داروں نے بغیر پردہ نا دیکھا تھا آج ہزاروں،لاکھوں لوگوں نے اسے بغیر پردے کے دیکھ لیا 

خیز بات ختم ہوئی اور وہ بھول گیا

چند دنوں بعد کسی نامعلوم آئی ڈی سے کوئی اس کے ساتھ ایڈ ہوا اور اس کی بیوی کی تصاویر نازیبا حالت میں اسے سینڈ کی اور اسے بتلایا کہ اس کی بیوی کی  اس سے بات چیت  ہے اور اسی نے یہ تصاویر اسے سینڈ کی ہیں

ان تصاویر کو دیکھ کر وہ صدمے میں چلا گیا اور اپنی بیوی سے پوچھا تو اس  پہ اس کی بیوی کا انکار سامنے آیا تاہم بطور بشر و مطمئن نا ہوا اور جلد بازی میں بیوی کو گھر سے نکال دیا

اس کی پاکدامن بیوی لاکھ قسمیں کھاتی رہی اپنی بیگناہی کا رونا روتی رہی مگر وہ نا مانا


بات رشتہ داروں تک پہنچی اور باتیں ہونے لگیں 

اسے اپنی بیوی پہ بہت غصہ آ رہا تھا اور اسے طلاق دینا چاہتا تھا

اس کے ایک بہت قریبی دوست نے اسے مشورہ دیا کہ ان تصویروں کی فرانزک لیب سے تصدیق کروا لو پھر  آگے کا سوچنا 

وہ اپنے دوست کیساتھ فرانزک کروانے گیا جس میں وہ تصویریں ایڈیٹڈ بتلائی گئیں یعنی کسی نے ان ڈاؤن لوڈ تصاویر کو غلط طریقے سے بنایا اور اسے سینڈ کی تھیں


اس کو فوری اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اپنی پاک دامن بیوی کو واپس لے کر گھر آیا اور اس سے معافی مانگی اور تصویریں بیجھنے والی آئی ڈی کا لنک اور رپورٹ سائبر کرائم ایف آئی اے کو دی جنہوں نے اس بندے کو ٹریس کیا اور قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا


قارئین ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں جس کا سبب ہماری لاپرواہی ہے 

اول تو بچوں کو کارٹون وغیرہ دیکھنے کی عادت ہی نا ڈالیں اور اگر بفرض ایسا کرنا لازم ہے تو ہر ایپلیکیشن کو پرائیویسی لاک لگائیں اور کوشش کریں ہر ایپلیکیشن کو گیلری تک پرمیشن نا دیں کیونکہ جب بھی آپ کوئی ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں تو وہ آپ سے آپ کی گیلری، آپ کے کیمرے،مائیک اور کانٹیکٹ وغیرہ  کی پرمیشن مانگتی ہے جسے ہم بغیر پڑھے قبول کر لیتے ہیں

اور ہماری پرائویسی متاثر ہوتی ہے 


دوسری بات ان شیطان صفت لوگوں سے کہ اگر آپ ایسی کوئی ویڈیوز یا تصاویر دیکھیں تو خداراہ ہرگز ڈاؤن لوڈ نا کریں کیونکہ اس بارے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے


لا يَستُرُ عبدٌ عبدًا في الدنيا إلا سَتَره الله يوم القيامة (مسلم)

جو شخص دنیا میں کسی دوسرے شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا

سوچ لیں آج کسی کو ذلیل کریں گے تو آپ یہاں اس جہان میں خود بھی ذلیل ہو سکتے ہیں بصورت دیگر آخرت میں رسوائی تو لازم ہے


میری فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی پاکستان( ایف آئی اے)  سے گزارش ہے کہ اس بارے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ راہنمائی فراہم کریں اور ایسے واقعات سے بچنے کیلئے لوگوں میں آگاہی مہم چلائیں تاکہ ہمارے لوگ اپنی پرائیویسی کو سخت کر سکیں اور ایسے سانحات سے بچا جا سکے 

Sunday, 17 March 2024

طوفان الاقصیٰ اور غزہ میٹرو از قلم غنی محمود قصوری






گزشتہ سال 7 اکتوبر 2023 سے ابتک حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ جاری ہے جس میں ہر آنے والے دن کیساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے

 وزارت صحت غزہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے باعث ابتک اس جنگ میں فلسطینی شہداء کی تعداد 31,553  اور زخمیوں کی تعداد 73,546 ہو گئی ہے جن میں 70 فیصد عورتیں اور بچے شامل ہیں جبکہ 23 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں رہائشی عمارتیں،مساجد،سکول، ہسپتال و دیگر املاک مکمل تباہ ہو چکی ہیں

حماس نے اس جنگ کو طوفان الاقصیٰ کا نام دیا ہے 


اسرائیل اور حماس کے مابین یہ جنگ کوئی پہلی نہیں اس سے پہلے بھی یہ جنگیں ہو چکی ہیں مگر موجودہ جنگ سب سے زیادہ خطرناک ترین ہے

حماس کا مقصد اسرائیل کا جدید ترین دفاعی نظام آئرن ڈوم تباہ کرنا ہے جو کہ راکٹ شکن دفاعی نظام ہے جو اپنی  300 کلومیٹر کی حدود میں آنے والے مخالف راکٹ وغیرہ کو فضاء میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے


اسے اسرائیلی Advance Defance System Rafael  نے 210 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کیا جس کا وزن 90 کلوگرام اور اس کی لمبائی 3 میٹر ہے

اس وقت تقریباً 6 ممالک آئرن ڈوم استعمال کر رہے ہیں مگر اسرائیل میں نصب آئرن ڈوم دنیا کا جدید ترین مانا جاتا ہے کیونکہ یہ 20 سے 45 سیکنڈ تک ریڈار کے ذریعے اپنے مخالف ہدف کو تلاش کرکے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے 

ویسے تو اس نظام کو 2005 میں اسرائیل میں  تیار کیا گیا تاہم اسے 2007 میں نصب کیا گیا جس کے خاطر خواہ نتائج نا نکلے تو 2012 میں امریکہ کی مدد سے اسے اپ گریڈ کرکے کامیاب ترین قرار دیا گیا 

اسرائیلی ٹیکنالوجی میں آئرن ڈوم کلیدی اہمیت رکھتا ہے


جس طرح اسرائیل کے دفاع میں آئرن ڈوم کلیدی اہمیت رکھتا ہے بلکل اسی طرح حماس کی سرنگیں حماس کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہیں اور اسرائیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی سرنگیں ہیں

 

 اسرائیل کا مقصد ان سرنگوں کو تباہ کرنا ہے اور اسرائیل ان سرنگوں کو غزہ میٹرو کا نام دیتا ہے


 5 ماہ سے زیادہ کی اس جنگ میں اسرائیل ان سرنگوں کا 20 فیصد بھی تباہ نہیں کر سکا

اسرائیلی فوج نے ان سرنگوں کو تباہ کرنے کے لئے بے پناہ فضائی بمباری کی،ٹینکوں کا استعمال کیا اور جدید ترین ڈرونز کے ذریعے ان سرنگوں کا کھوج لگانے کوشش کی اور کچھ پکڑی جانے والی سرنگوں میں سمندر کا پانی داخل کیا تاہم ناکام رہا


حماس نے اسرائیلی کے 132 سے زیادہ قیدی  انہی سرنگوں میں رکھے ہوئے ہیں جن میں سے 28 ہلاک ہو چکے ہیں 


امریکی فوجی اکیڈمی کے مطابق اس وقت غزہ میں 500 کلومیٹر تک لمبی 1300 جدید ترین سرنگیں موجود ہیں جو کہ 30 میٹر گہری ہیں اور ان کے نیچے مکانات،مساجد اور حماس کے ٹریننگ کیمپوں کے علاوہ اسلحہ ساز فیکٹریاں بھی موجود ہیں

یہ سرنگیں اس قدر جدید ہیں کہ فضاء سے ان کی نشاندھی ممکن نہیں ان کی نشاندھی کیلئے پورے غزہ کی تلاشی ضروری ہے

ان میں سے بیشتر سرنگیں اسرائیل کے اندر تک موجود ہیں 

اگر ہم ان سرنگوں کی جدت کا اندازہ لگائیں تو ذہن نشین کر لیں کہ لندن میں انڈر گراؤنڈ ٹرین سسٹم 400 کلومیٹر لمبا ہے مگر یہ سرنگیں 500 کلومیٹر تک لمبی ہیں


ایک طرف دنیا کا جدید ترین ایٹمی ملک اسرائیل ہے تو دوسری طرف اس کے مدمقابل 35 سے 40 ہزار حماس کے تربیت یافتہ افراد جن کے بارے اسرائیل نے دعوی کیا ہے کہ 10 ہزار سے زائد حماس جنگجو شہید ہو چکے ہیں مگر دوسری طرف عسکری تجزیہ نگار پوچھتے ہیں کہ اگر اتنی تعداد میں حماس کے مجاھدین شہید ہو چکے ہیں تو ابتک اسرائیل خاطر خواہ نتائج کیوں نہیں حاصل کر سکا اور ابتک 1200 سے زائد اسرائیلی کیوں مر چکے ہیں؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب اسرائیلی ڈیفینس فورسز کے پاس نہیں

گمان ہوتا ہے کہ یہ جنگ لمبا عرصہ چلے گی کیونکہ دونوں طرف ٹیکنالوجی میں جدت ہے ہاں اسرائیل کے پاس فوجی قوت اور اسلحہ زیادہ ہے مگر اس کے مدمقابل حماس کے مجاھدین بہت کم ہیں مگر حماس کے مجاھدین وہ ہیں جو 2014 کی حماس اسرائیل جنگ میں 18 سال سے کم عمر کے نوجوان تھے اور جنہوں نے اپنے خاندانوں کو اسرائیلی فوج کے ہاتھوں بہت برے طریقے سے شہید ہوتے دیکھا اور اب وہ انتقام کیلئے ہر حد تک جاسکتے ہیں


Sunday, 10 March 2024

سردار کی آمد مرحبا از قلم غنی محمود قصوری





 سردار لفظ عربی کا ہے جس کے معنی قائد،امیر اور حاکم کے ہیں

سردار وہ ہوتا ہے جو بڑا اور اعلی ظرف ہوتا ہے اور جس میں ایثار و قربانی دینے کا جذبہ زیادہ ہو اور جو اپنے ماتحتوں کی حفاظت کرنا جانتا ہو 

ایسا سمجھیں کہ جب کوئی عام شحض لڑنے کی ٹریننگ کرکے واپس آتا ہے تو وہ لڑنے کے قابل ہو جاتا ہے اور اپنی باقی زندگی خود کی اور دوسروں کی حفاظت کے قابل ہو جاتا ہے تو وہ سردار ہوتا ہے اور محافظ ہوتا ہے 


اس جہان میں ہر چیز کا سردار ہے سو اسی لئے مہینوں کا بھی سردار مہینہ ماہ رمضان ہے اور ماہ رمضان کی آمد بلکل قریب تر ہے

یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم بھوکے پیاسے رہ کر اور عبادات میں پختگی حاصل کرکے باقی سارا سال حالات سے لڑنے کے قابل ہو کر اپنے رب سے سرٹیفکیٹ حاصل کرتے ہیں کہ یاالہی ہماری عبادات اور صبر سب آپ ہی کے لئے ہے ہم آپکی رضا کی خاطر جہاں بھوکے پیاسے رہ سکتے ہیں وہاں فرضی عبادات کیساتھ نفلی عبادات بھی کرنے کی توفیق مانگتے ہیں


اس ماہ مبارک کی بہت زیادہ حرمت ہے جس بابت سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے


رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اُتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، ﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لئے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لئے کہ تم شکر گزار بن جاؤ


اللہ تعالی نے ہمیں بتلا دیا کہ یہ ماہ مبارک ہمارے لئے گناہوں سے بچنے اور اجر و بلند مقام حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور ہم اس ماہ کی مشقت سے ایک مضبوط اور پکے مومن بن سکتے ہیں اور بھوک و پیاس کی برداشت کی گئی سختیاں ہمیں احساس دلاتی ہے کہ رب نے کس قدر نعمتیں ہمارے لئے پیدا کی ہیں اور ان نعمتوں کو کمزور لوگوں میں بانٹا جائے تاکہ ہمارے اندر ایثار و قربانی کا جذبہ پروان چڑھے


ویسے تو سارا سال ہی ہر اچھے کام پہ نیکی ملتی ہے مگر اس ماہ میں نیکیوں کے اجر میں انتہاء کا اضافہ ہو جاتا ہے مگر روزے دار کی فضیلت اور روزے کے اجر بارے حدیث رسول ہے کہ 


 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کا ہر عمل دوگنا ہو تا ہے نیکی کا اجر دس سے لیکر سات سو گنا تک بڑھ جاتا ہے

 اللہ عزّوجل نے فرمایا روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکا اجر دوں گا کیونکہ اس میں میرا بندہ اپنی شہوت اور کھانے پینے کو میری وجہ سے چھوڑ دیتا ہے روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اسکے افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت اسکے منہ کی بو اللہ کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے


ہمیں چائیے کہ اس ماہ مقدس میں روزے رکھنے کے ساتھ عبادات میں پختگی حاصل کریں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائیں تاکہ ہمارے سال کے باقی ماہ رمضان جیسے گزریں اور بعد از مرگ ہم اپنے رب سے اس کے وعدے کے مطابق انعام حاصل کریں

اس ماہ مقدس میں خود بھی روزہ رکھیں اور اپنے ارگرد کے غرباء کو بھی سحری و افطاری میں شامل کریں اور لوگوں میں راشن پیک تقیسم کریں کیونکہ جو کسی کو روزہ رکھواتا یا افطار کرواتا ہے اسے بھی اس کے برابر اجر دیا جاتا ہے اور اس روزہ دار کے اجر میں سے کوئی کٹوتی نہیں کی جاتی


نیز ماہ مبارک کی برکت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے شیطانوں اور سرکش جنوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں پس ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ایک ندا دینے والا پکارتا ہے  اے طالب خیر! آگے آ، اے شر کے متلاشی! رک جا، اور اللہ تعالیٰ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے ماہ رمضان کی ہر رات یونہی ہوتا رہتا ہے

تو ہمیں چائیے اس ماہ مقدس میں اپنے رب کو زیادہ سے زیادہ منا کر اپنے اوپر جنت کے دروازے کھولیں اور جہنم کے دروازے بند کروا لیں

اللہ تعالی ہم سب کو اس ماہ مقدس کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Thursday, 7 March 2024

عالمی یوم خواتین اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی۔ از قلم غنی محمود قصوری




یہ بات بلکل حقیقت ہے کہ معاشرے کا حسن و خوشنمائی عورت سے ہی ہے اور عورت کی پر خلوص قربانیاں اور لازوال جدوجہد بھی ہمارے اس دنیاوی نظام کا حصہ ہے 

  بیشتر تہذیبوں،معاشروں اور مذاہب میں عورت کو وہ مقام و مرتبہ نہیں دیا گیا جس کی وہ مستحق تھی مگر اسلام نے زندہ درگور ہوتی عورت کو برابری کے حقوق دیئے اور عورت کو وہ مقام دیا جو نا تو پہلی شریعتوں میں تھا نا تہذیبوں میں


اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں، تاریخ کا مطالعہ تو دور کی بات آپ موجودہ دور کا ہی مطالعہ کریں اور اپنے ارد گرد دیکھیں تو اس نر و نازک مخلوق صنف نازک کو گناہ کی جڑ اور  مرد کے پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے جو کہ بلکل اسلام کے مخالف بات ہے 

ایسی باتیں کرنے والے یا تو اسلام کی تاریخ سے واقف نہیں یا پھر وہ اسلام کے ماننے والے ہی نہیں کیونکہ اللہ رب العزت نے قرآن میں کئی آیات صنف نازک کے حق میں نازل کی ہیں جیسے کہ حقوق نسواں بارے  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے 


وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ

(النساء4 :34)

ترجمہ۔عورت کے لئے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں، البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے


یعنی کہ اسلام نے واضع طور پہ بتلا دیا کہ جیسے مردوں کے حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے بھی  حقوق ہیں جو ان کو ان حقوق سے محروم رکھے گا وہ گناہگار ہو گا


آج سے 116 سال قبل امریکہ کے شہر نیویارک میں گھروں،فیکٹریوں اور دفتروں میں کام کرنے والی ہزاروں عورتوں نے اس وقت اپنی کم آمدنی اور زیادہ ڈیوٹی پہ اور ووٹ کاسٹ کرنے کے حق کے لئے احتجاج کیا تھا جس کا سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے خیر مقدم کیا اور باقاعدہ دن منانا شروع کیا 

اس کے بعد کلارا زتکن کیمونسٹ خاتون نے 1910 کو کوپن ہیگن میں انٹرنیشنل کانفرنس آف ورکنگ ویمن میں اس دن کو عالمی طور پہ منانے کا اعلان کیا جسے 17 ممالک کی 100 سے زائد خواتین نے سراہا اور اس وقت پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی 8 مارچ کو یوم خواتین منایا جاتا ہے 

میں ہر سال عالمی یوم خواتین پہ سارا دن پاکستان میں ہونے والی سرگرمیاں دیکھتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ انٹرنیشنل وویمن ڈے منانے کا جو مقصد تھا وہ آج نہیں رہا کیونکہ اس وقت کی عورتوں نے اپنی کم تنخواہوں اور زیادہ گھنٹے کام لینے پہ احتجاج کیا تھا آج تو ایسا ہے ہی نہیں

آج تو پوری دنیا خاص کر پاکستان میں عورت کو مرد کے برابر اور اگر مرد سے زیادہ مقام ملنے کا کہوں تو غلط نا ہو گا

آپ دنیا کو چھوڑیں پاکستان میں دیکھیں عورت،جج،وکیل،ڈاکٹر،صحافی،جنرل، وزیراعظم،وزیراعلی و دیگر اعلی عہدوں پہ نہیں پہنچی ؟ 

اگر پہنچی ہوئی ہے تو آج کی عورت کس لئے پاکستان میں یہ مارچ کر رہی ہے؟

یہ عورت مارچ کرے اسی امریکہ کے خلاف کہ جہاں سے حقوق نسواں کا پہلا مارچ شروع ہوا اور وہیں امریکہ کے شہر میں پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتی جیل میں بلک بلک کر سسک سسک کر قید کاٹ رہی ہے کیا

کیوں حقوق نسواں والیوں کو یہ عورت نظر نہیں آتی؟

کیا یہ عورت نہیں اور اس کے کوئی حقوق نہیں؟ 

جب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی قید ہوئی ہیں تب سے کسی ایک عالمی یوم خواتین کے دن عورت مارچ میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے آواز نہیں اٹھائی گئی

جس پہ سوچنے والے سوچتے ہیں کہ کیا اس لئے نہیں اٹھائی گئی کہ ڈاکٹر عافیہ بڑی حد تک مذہبی خاتون تھیں ؟ 


آج پاکستان میں عورت مارچ میں حقوق نسواں کے عالمی دن میں یہ نعرہ تو لگتا ہے اپنا کھانا خود گرم کرو مگر وہیں وہ عورتیں بھی موجود ہوتی ہیں جو گھنٹوں دفتروں،فیکٹریوں، کارخانوں میں کام کرتی ہیں ایسی عورتوں سے سوال ہے کہ بی بی تمہیں اپنے گھر میں اپنے بھائی،بیٹے اور شوہر کا کھانا گرم کرتے تو تکلیف ہوتی ہے کیا وہی تکلیف تمہیں دفتروں،فیکٹریوں میں کام کرتے بھی ہوئی ہے کبھی؟

سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ خودساختہ نعرے کس نے اور کیوں لگوائے کیونکہ اللہ رب العزت نے مرد کو نگران مقرر کیا اور اس کے ذمے عورت کی کفالت بطور بیوی،بیٹی بہن اور ماں کی صورت میں لازم کی ہے پھر یہ کون عورت ہے جو مرد کی کفالت میں تو گھٹن محسوس کرتی ہے مگر دفتر میں نہیں؟

سوچنے والے سوچتے ہیں کہ اسلام نے تو یہاں تک مرد کو حکم دیا کہ اگر اس کی جسمانی اور مالی حالت فٹ ہے تو وہ بیک وقت چار عورتوں کو نکاح میں لے کر ان کا نان و نفقہ پورا کرے پھر عورت مارچ میں مردوں سے آزادی مانگنے والیاں کون ہیں؟

یہ کیا چاہتی ہیں کہیں یہ حقوق نسواں مارچ کی آڑ میں اسلام سے آزادی تو نہیں چاہتیں 

اگر ایسا ہے تو سوچ لیں اگر اسلام نا آتا تو آج دنیا میں عورت زندہ درگور بھی ہو رہی ہوتی اور وراثت کے حق سے محروم بھی رہتی اور بطور ماں اس کے قدموں تلے جنت بھی نا ہوتی اور بطور بیٹی اور بہن رحمت بھی نا ہوتی

سوچئیے ذرا سوچئیے

عالمی یوم خواتین پہ پیغام 


یہ بات بلکل حقیقت ہے کہ معاشرے کا حسن و خوشنمائی عورت سے ہی ہے اور عورت کی پر خلوص قربانیاں اور لازوال جدوجہد بھی ہمارے اس دنیاوی نظام کا حصہ ہے 

  بیشتر تہذیبوں،معاشروں اور مذاہب میں عورت کو وہ مقام و مرتبہ نہیں دیا گیا جس کی وہ مستحق تھی مگر اسلام نے زندہ درگور ہوتی عورت کو برابری کے حقوق دیئے اور عورت کو وہ مقام دیا جو نا تو پہلی شریعتوں میں تھا نا تہذیبوں میں


اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں، تاریخ کا مطالعہ تو دور کی بات آپ موجودہ دور کا ہی مطالعہ کریں اور اپنے ارد گرد دیکھیں تو اس نر و نازک مخلوق صنف نازک کو گناہ کی جڑ اور  مرد کے پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے جو کہ بلکل اسلام کے مخالف بات ہے 

ایسی باتیں کرنے والے یا تو اسلام کی تاریخ سے واقف نہیں یا پھر وہ اسلام کے ماننے والے ہی نہیں کیونکہ اللہ رب العزت نے قرآن میں کئی آیات صنف نازک کے حق میں نازل کی ہیں جیسے کہ حقوق نسواں بارے  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے 


وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ

(النساء4 :34)

ترجمہ۔عورت کے لئے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں، البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے


یعنی کہ اسلام نے واضع طور پہ بتلا دیا کہ جیسے مردوں کے حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے بھی  حقوق ہیں جو ان کو ان حقوق سے محروم رکھے گا وہ گناہگار ہو گا


آج سے 116 سال قبل امریکہ کے شہر نیویارک میں گھروں،فیکٹریوں اور دفتروں میں کام کرنے والی ہزاروں عورتوں نے اس وقت اپنی کم آمدنی اور زیادہ ڈیوٹی پہ اور ووٹ کاسٹ کرنے کے حق کے لئے احتجاج کیا تھا جس کا سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے خیر مقدم کیا اور باقاعدہ دن منانا شروع کیا 

اس کے بعد کلارا زتکن کیمونسٹ خاتون نے 1910 کو کوپن ہیگن میں انٹرنیشنل کانفرنس آف ورکنگ ویمن میں اس دن کو عالمی طور پہ منانے کا اعلان کیا جسے 17 ممالک کی 100 سے زائد خواتین نے سراہا اور اس وقت پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی 8 مارچ کو یوم خواتین منایا جاتا ہے 

میں ہر سال عالمی یوم خواتین پہ سارا دن پاکستان میں ہونے والی سرگرمیاں دیکھتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ انٹرنیشنل وویمن ڈے منانے کا جو مقصد تھا وہ آج نہیں رہا کیونکہ اس وقت کی عورتوں نے اپنی کم تنخواہوں اور زیادہ گھنٹے کام لینے پہ احتجاج کیا تھا آج تو ایسا ہے ہی نہیں

آج تو پوری دنیا خاص کر پاکستان میں عورت کو مرد کے برابر اور اگر مرد سے زیادہ مقام ملنے کا کہوں تو غلط نا ہو گا

آپ دنیا کو چھوڑیں پاکستان میں دیکھیں عورت،جج،وکیل،ڈاکٹر،صحافی،جنرل، وزیراعظم،وزیراعلی و دیگر اعلی عہدوں پہ نہیں پہنچی ؟ 

اگر پہنچی ہوئی ہے آج کی عورت کس لئے پاکستان میں یہ مارچ کر رہی ہے؟

یہ عورت مارچ کرے اسی امریکہ کے خلاف کہ جہاں سے حقوق نسواں کا پہلا مارچ شروع ہوا اور وہیں امریکہ کے شہر میں پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتی جیل میں بلک بلک کر سسک سسک کر قید کاٹ رہی ہے کیا حقوق نسواں والیوں کو یہ عورت نظر نہیں آتی؟

آج پاکستان میں عورت مارچ میں حقوق نسواں کے عالمی دن میں یہ نعرہ تو لگتا ہے اپنا کھانا خود گرم کرو مگر وہیں وہ عورتیں بھی موجود ہوتی ہیں جو گھنٹوں دفتروں،فیکٹریوں، کارخانوں میں کام کرتی ہیں ایسی عورتوں سے سوال ہے کہ بی بی تمہیں اپنے گھر میں اپنے بھائی،بیٹے اور شوہر کا کھانا گرم کرتے تو تکلیف ہوتی ہے کیا وہی تکلیف تمہیں دفتروں،فیکٹریوں میں کام کرتے بھی ہوئی ہے کبھی؟

سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ خودساختہ نعرے کس نے اور کیوں لگوائے کیونکہ اللہ رب العزت نے مرد کو نگران مقرر کیا اور اس کے ذمے عورت کی کفالت بطور بیوی،بیٹی بہن اور ماں کی صورت میں لازم کی ہے پھر یہ کون عورت ہے جو مرد کی کفالت میں تو گھٹن محسوس کرتی ہے مگر دفتر میں نہیں؟

سوچنے والے سوچتے ہیں کہ اسلام نے تو یہاں تک مرد کو حکم دیا کہ اگر اس کی جسمانی اور مالی حالت فٹ ہے تو وہ بیک وقت چار عورتوں کو نکاح میں لے کر ان کا نان و نفقہ پورا کرے پھر عورت مارچ میں مردوں سے آزادی مانگنے والیاں کون ہیں؟

یہ کیا چاہتی ہیں کہیں یہ حقوق نسواں مارچ کی آڑ میں اسلام سے آزادی تو نہیں چاہتیں 

اگر ایسا ہے تو سوچ لیں اگر اسلام نا آتا تو آج دنیا میں عورت زندہ درگور بھی ہو رہی ہوتی اور وراثت کے حق سے محروم بھی رہتی اور بطور ماں اس کے قدموں تلے جنت بھی نا ہوتی اور بطور بیٹی اور بہن رحمت بھی نا ہوتی

سوچئیے ذرا سوچئیے

Sunday, 3 March 2024

تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی ازقلم غنی محمود قصوری





ایک بہترین معاشرے کی تکمیل بغیر بہترین تعلیمی نظام کے بغیر ناممکن ہے

ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور جتنا زور اسلام میں تعلیم حاصل کرنے اور تحقیق کرنے پہ دیا گیا ہے اتنا کسی اور مذہب میں نہیں 


نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ جب پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ بھی ان الفاظ سے تھی


اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ1 خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ2 اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ3 الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ4 عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ5 (العلق)


(اے پیغمبر) پڑھ اپنے رب کے نام سے ( آغاز کرتے ہوئے) پڑھ جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی ،پڑھ اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا


آپ دنیا میں نظر دوڑائیں تو آپکو وہی قوم ترقی یافتہ ملے گی جس کا تعلیمی نظام اچھا ہے وگرنہ بغیر تعلیمی ترقی کے قومیں ترقی پذیر ہی رہی ہیں

 جب تعلیمی نظام اچھا ہو گا تو صحت مند معاشرہ تکمیل پائے گا اوردیگر شعبہ زندگی میں خدمات سرانجام دینے والے لوگ باعمل اور محنتی ہونگے


 اس وقت دنیا بھر کے تمام ممالک میں سے خواندگی کے لحاظ سے  برطانیہ پہلے امریکہ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان اس وقت 79 ویں نمبر پہ ہے

 

 پاکستان میں شرع خواندگی 62 فیصد ہے جو کہ انتہائی کم درجہ پہ ہے مذید ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے جی ڈی پی کا محض 1.7 فیصد تعلیم پہ خرچ کرتے ہیں جو کہ بہت ہی کم تر ہے


پاکستان میں اس وقت  خواندگی کی شرح 62.8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جس میں مردوں کی شرح 73.4 فیصد جبکہ خواتین کی 51.9 فیصد ہے 

 ہمارے ہاں سکول نہ جانے والے بچے 32 فیصد ہیں جن میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ تعداد میں تعلیم سے محروم ہیں جو کہ سب سے بڑا المیہ ہے

جبکہ سکول نا جانے والے  بچوں کی شرح بلوچستان میں 47 فیصد ،سندھ میں 44 فیصد، خیبرپختونخوا میں 32 فیصد اور پنجاب میں 24 فیصد ہے

ہمارے ہاں جہاں غربت و مہنگائی،بیروزگاری تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں وہیں ہمارا پرانا فرسودہ نظام تعلیم بھی ہے

ہمارے ہاں کلاس اول کا بچہ صبح اٹھتے ہی سپارہ پڑھنے پھر 8 بجے سکول اور سکول سے واپس آتے ہی ٹیوشن میں مگن رہتا ہے جسے کھیلنے کودنے کا موقع بلکل نہیں ملتا اور اسے اپنی جسمانی و دماغی صحت کو اچھا کرنے کا موقع نہیں ملتا جس کے باعث بیشتر بچے بیمار رہتے ہیں اور تعلیم سے بھاگتے ہیں

ہونا تو یہ چائیے کہ بطور مسلمان ملک جسطرح سکول و کالجز میں بچوں کی پڑھائی لازم ہے ایسے ہی صبح فجر کے بعد بچے کو مسجد میں ایک مستند قاری قرآن سے سپارہ پڑھنے کیساتھ نماز پڑھنے کا بھی پابند کیا جائے اور پھر سکول وقت میں اسی بچے کو لازمی طور پہ کم سے کم 30 سے 45 منٹ تک جسمانی کھیل کود کا موقع دیا جائے تاکہ اس کی جسمانی و دماغی صحت اچھی رہے اور وہ تعلیم کو تفریح سمجھ کر حاصل کرے

 مگر افسوس کہ ہمارے ہاں سب الٹ سسٹم چل رہا ہے بچوں کو رٹا لگوا لگوا کر پڑھایا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ اتنے نمبر لازمی لینے ہیں چاہے جو مرضی کرو


ہم ساری زندگی میٹرک تک بچوں کو وہ مضامین پڑھاتے ہیں کہ میٹرک کرنے کے بعد جن سے ہمارا پوری زندگی واسطہ ہی نہیں پڑتا

جیسے کہ ریاضی کی جمع تفریق نفی کے علاوہ جو کچھ سکھلایا جاتا ہے میرا نہیں خیال کے زیادہ تر وہ ہماری زندگی کا حصہ بنا ہو

مطلب بےمقصد پڑھائی پہ ہم اپنا سارا ٹائم لگا دیتے ہیں


پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی خاطر میٹرک تک یکساں تعلیمی نظام ہونا چائیے جس میں میٹرک تک تعلیم کا سارا خرچ گورنمنٹ برداشت کرے 

جنرل سائنس ( آرٹسٹ) گروپ ختم کرکے میٹرک تک سائنس لازمی قرار دی جائے جس میں بچے کو اول کلاس سے میٹرک تک دین اسلام کیساتھ اپنی صحت بارے زیادہ سے زیادہ تعلیم دی جائے  

کلاس اول سے میٹرک تک کے نصاب میں فرسٹ ایڈ،تیراکی،نشانہ بازی،سیلف ڈیفنس،زراعت،الیکٹرک و آٹو مکینک جیسے مضامین شامل کئے جائیں تاکہ ایک بچہ اپنے بچپن سے نوجوانی تک میٹرک کا طالب علم پہنچتے ہوئے اپنی روزمرہ زندگی میں اپنے استعمال کی ہر چیز کی ابتدائی مہارت رکھتا ہو

اس کے بعد اگر اس بچے کا دل آگے پڑھنے کو کرے تو اس کو اپنی مرضی کا شعبہ چننے کا مکمل اختیار دیا جائے بلکہ ماہر نفیسات سے اس کا سیشن کروا کر اس کا ذہن پڑھ کر اسے اس کے پسندیدہ شعبے میں تعلیم کا پورا موقع دیا جائے کیونکہ ہمارے ہاں بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو باپ اسے وکیل بنانا چاہتا ہے مگر ماں اسے پائلٹ بننے کا عندیہ دیتی ہے تو اس ساری صورتحال اور ماں باپ کی خواہشات  میں وہ بچہ ذہنی کشیدگی کا شکار ہو کر تعلیم سے دور ہو جاتا ہے بجائے کچھ بننے کے وہ اس معاشرے پہ بوجھ بن جاتا ہے

ہمارے ہاں سب سے بڑی خرابی بچوں کو سکولوں میں سہولیات نا دینا ہے جیسے کہ  گرمی میں بچے بغیر پنکھے کے پڑھتی ہیں اور سردی میں سرد ہوا کا مقابلہ کرتے ان کا ذہن پڑھائی کی بجائے موسم سے زور آزمائی میں ہوتا ہے اگر سکولوں میں زیادہ چھٹیوں کی بجائے موسم کے مطابق سہولیات جیسے اے سی و پنکھے وغیرہ دی جائیں تو بچے پڑھائی میں زیادہ توجہ دیں گے

ہمارے ہاں اشرافیہ کیلئے آئے روز نئی سے نئی ٹیکنالوجی بیرون ممالک سے لا کر دی جاتی ہے حتی کہ ایک آفیسر کیلئے اس کی چھتری پکڑنے والا الگ ملازم دیا جاتا ہے مگر سکولوں میں سہولیات نہیں جس کے باعث اس پرانے فرسودہ نظام تعلیم سے کافی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا

اگر ملک کو شاہراہِ ترقی پہ ڈالنا ہے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو اپ گریڈ کرنا ہو گا

Sunday, 18 February 2024

رحمت کو زحمت بنایا ہم نے ازقلم غنی محمود قصوری

 






لڑکی ہو یا لڑکا والدین پہ استطاعت کے مطابق اس کی پرورش و تربیت اور پھر شادی کرنا فرض ہے 

صنف نازک کا اسلام میں بڑا ہی اعلی مقام ہے جس کے متعلق اللہ رب العزت کے پیارے حبیب کا فرمان ہے کہ

 جس شخص نے دو یا تین بیٹیوں یا دو یا تین بہنوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں یا مر گئیں تو میں اور وہ جنت میں ایسے ہوں گے جس طرح دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔(صحیح ابن حبان)


ایک دوسری حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے دو بیٹیوں کی پرورش کی تو وہ اور میں اِس طرح جنت میں داخل ہوں گے جس طرح یہ دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں اُنگلیوں کو ملا کر بھی دکھایا(جامع ترمذی)

تاہم بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں اس کا الٹ مطلب کر دیا محض پرورش سے شادی تک باپ،بھائی کی ذمہ دار عورت کو مرتے دم تک والدین یا والدین کے رشتہ داروں پہ فرض کر دی گئی ہے

مثال کہ طور پہ ایک بچی ہوئی ماں باپ،بھائی،چچا جو بھی اس کا ولی بنا بلخصوص باپ، نے اس بچی کی اپنی حیثیت کے مطابق پرورش کی پھر اس کو پڑھا لکھا کر بیاہ دیا تو بیاہنے سے قبل ہی لڑکی والوں کیلئے لڑکے کیلئے تحفے تحائف کیساتھ لڑکے والے کے ماں باپ،بہن بھائی ودیگر رشتہ داروں کے کپڑے بنانا اور ان کو اچھا کھلانا پلانا لازم ہے وگرنہ منگنی سے جواب

پہ  بیاہنے پہ ہی اس لڑکی کے ہونے والے سسرال جہیز کی ڈیمانڈ  کرتے اور پھر جہیز کیساتھ لڑکے والوں کے خاندان کے کپڑے وغیرہ بنائے جاتے ہیں کہ ہمارے بیٹی کو سسرال میں کوئی بات نا کرے اور ہماری بیٹی سکھی بستی رہے

نیز اس کے بعد شادی کے پہلے دن سے شروع ہونے والی رسومات جو کہ پہلی عید،پہلی شب برات و دیگر ایام تک چلتی ہے ان کو پورا کرنا بھی لڑکی والوں پہ لازم ہے تاکہ بیٹی سسرال میں کسی کی بات اور طعنے نا سنے

اس کے بعد اس لڑکی کو رب کی رحمت ہونے پہ یعنی حاملہ ہونے پہ سسرال والے والدین کے ہاں بھیج دیتے ہیں جو کہ سراسر زیادتی و ظلم ہے پھر جب بچہ ہو گیا تو اس پیدا ہونے والے نومولود کی رسمیں بھی ننھیال کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہیں

مذید رسموں پہ بھی لڑکی والوں کا خرچ کروایا جاتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے

اب اس لڑکی کے بچے جوان ہونے پہ جب ان بچوں کی شادیاں کرنی ہوتی ہیں تو پھر سے ننھیال کو بتلایا جاتا ہے کہ اتنا عرصہ قبل آپ نے ہمارے مطالبات پورے کئے تھے اب ایک بار پھر بطور ننھیال آپ پہ لازم ہے کہ اپنی نواسی یا نواسے کی شادی پہ فلاں فلاں چیزیں دیں

حتی کہ جب وہ عورت مر جاتی ہے تو اس کے مرنے پہ اس کے لواحقین مثلاً باپ،بھائی،بتیجھے وغیرہ پہ لازم ہوتا ہے کہ اس عورت کی وفات پہ کھانا دے وگرنہ طعنے ملتے ہیں کہ یہ تو بے وارث مر گئی اس کی روٹی ہم کیوں دیں؟

مطلب کہ عجیب معاملات ہیں جو بیٹی رحمت ہے جس کی پرورش سے شادی تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی بشارت ہے اس رحمت کو ہم نے اپنی رسم و رواج کے باعث زحمت بنا دیا ہے

جو غریب دو وقت کی روٹی ٹھیک سے نہیں کما پاتے اور جن کے اپنے گھروں میں فاقے ہوتے ہیں ان پہ اپنی بیٹیوں کے گھروں کو بسانے کے لئے یہ سب کرنا لازم ہوتا ہے جو کہ غیر شرعی اور غیر اخلاقی ہے 


اگر مطالعہ اسلام کیا جائے تو شادی کے بعد عورت کا اصل وارث اس کا شوہر ہے اور اس شوہر پہ لازم ہے کہ زندہ رہنے سے مرنے تک اس عورت کی ہر جائز ضرورت پوری کی جائے مگر افسوس ہمارے ہاں سب الٹ

آپ لوگ بیٹے کی پیدائش پہ فکر مند ہو جاتے ہیں کہ اتنا کچھ ساری زندگی وہ کیسے کر سکیں گے

خدارا اس رحمت کو زحمت نا بنائیں اور غیرت مند مرد بن کر ان فضول رسم و رواج کو ختم کریں اور اپنی بہنوں بیٹیوں کو وراثت میں حق ادا کریں ناکہ ان فضول رسموں کے نام پہ ان کا حق کھا جائیں کہ ہم نے تو اتنے پیسے شادی پہ لگائے اور اتنی فلاں رسموں پہ

خدارا سوچئیے اور اس نظام کو بدلنے کی کوشش کریں

Sunday, 4 February 2024

یوم یکجہتی کشمیر بھی اور بزور شمشیر بھی ازقلم غنی محمود قصوری

 



موجودہ مقبوضہ کشمیر کی تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو ہر دن ہندو پلید کا ظلم ہی نظر آئے گا کشمیری قوم پہ،مگر اس سے قبل ہندو کی طرح انگریز و سکھ مہاراجاؤں کا انتہائی ظلم بھی کشمیری قوم برداشت کر چکی جو کہ تاریخ میں انتہائی مکروہ الفاظ میں رقم ہے


ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1846 میں معائدہ امرتسر جسے ٹریٹی آف امرتسر بھی کہا جاتا ہے، کہ عیوض سکھ ظالم جابر سکھ مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کے بعد آنے والے کشمیری مہاراجہ گلاب سنگھ سے ساز باز کرکے اس وقت کے سکہ رائج الوقت تقریباً 75 لاکھ میں کشمیر کا سودا کیا 


حالانکہ ہارا سکھ مہاراجہ تھا مگر قیمت کشمیری قوم کی آزادی سے ادا کی گئی


کشمیری مہاراجہ گلاب سنگھ اتنا خبیث انسان تھا کہ اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جنرل سر ہنری ہارڈنج نے اپنی بہن کو 2 مارچ 1846 کو ایک خط لکھا جس میں اس نے یہ الفاظ لکھے کہ میں نے براعظم ایشیاء میں گلاب سنگھ سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں دیکھا


فروری 1989 میں روسی  فوج کے افغانستان سے ذلت آمیز انخلاء سے روس کے خلاف برسر پیکار دنیا بھر کے مجاھدین اور بلخصوص پاکستانی مجاھدین ( جن میں سے کچھ آزاد و مقبوضہ کشمیر سے بھی تھے) نے محسوس کیا کہ جسطرح روس کے خلاف مسلح کاروائی کی گئی اور وقت کی ایک سپر پاور روس کو ذلت امیز سکشت کے بعد بھاگنے پہ مجبور کیا گیا افغانستان سے، اسی طرح مقبوضہ کشمیر سے ہندو ظالم کو بھی بھگانا لازم ہے

گو اس سے قبل ریاستی انتخابات رزلٹ کے بعد مقبوضہ کشمیر کے نوجوان ہندو کے خلاف ہتھیار اٹھا چکے تھے تاہم وہ بہت کم تھے اس لئے ان کو مالی اور افرادی قوت مہیا کرنا لازم تھا

بابائے کشمیر امان اللہ خان مرحوم نے اپنی وفات سے قبل اپنی کتاب جہد مسلسل کی تقریب رونمائی میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ اس وقت کے آئی ایس آئی چیف سے ہم کشمیریوں نے استدعا کی تھی کہ کشمیر کی تحریک کو مسلح تحریک میں بدلہ جائے تاکہ نوجوان میں جذبہ جہاد ابھرے جس پہ پاکستانی فوج نے بھرپور تعاون کیا


کشمیر کی تاریخ ہندو کے ظلم و بربریت سے بھری پڑی ہے جس پہ ہم اگر یوم سیاہ اور یوم یکجہتی منانا شروع کریں تو شاید ہی سال میں کوئی ایسا دن ہو گا کہ جس میں ہندو کے ظلم سے کشمیری قوم محفوظ رہے ہو گی وگرنہ ہر دن بلکہ ہر گھنٹہ،ہر منٹ بعد ہندو ظالم نے کشمیری قوم پہ ایسا ظلم کیا کہ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا ظلم و ستم دیکھا ہو 


جہاں کشمیری قوم کی مسلح معاونت ضروری ہے وہاں پوری کشمیری قوم کیساتھ یکجہتی کا دن منانا بھی لازم ہے تاکہ دنیا کو ایک پیغام مل سکے کہ جہادی میدان کیساتھ عام روٹین میں بھی کشمیری قوم پاکستانی قوم کے دلوں میں بستی ہے 


جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد اور آزاد کشمیر کے صدر سردار محمد ابراہیم خان کی کاوشوں سے  1975 میں اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری 1975 کو کشمیری قوم کیساتھ بطور یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا  اور پہلے یوم یکجہتی کشمیر کے دن  کی تاریخ پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ یہ احتجاج اس قدر سخت تھا کہ پورے پاکستان و آزاد کشمیر میں نا تو کوئی دکان کھلی نا کوئی دفتر حتی کہ لوگوں نے اپنے مال مویشیوں کو اس دن پانی تک نا پلایا اور اقوام عالم سے کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کیا 


اس کے بعد 1990 میں قاضی حسین احمد نے یوم یکجہتی کشمیر کا ایک دن مخصوص کرنے کی خاطر اس وقت کے وزیراعلی پنجاب میاں نواز شریف سے مشاورت کی جس پہ میاں نواز شریف نے تائید کی حتی کہ اس وقت کی وزیراعظم بےنظیر بھٹو نے بھی تائید کی اور 5 فروری 1990 کو مسلح عسکری تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کی تائید کرتے ہوئے 5 فروری کو ہر سال یوم یکجہتی کشمیر منانے کا باقاعدہ اعلان کیا  پھر اس کے بعد 2004 میں اس وقت کے وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے بھی اس کی تائید کی اور اس دن کو پورے جوش س جذبے سے منانے کی رغبت دلائی


یوم یکجہتی کشمیر کا دن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم کشمیری قوم کی مسلح تحریک آزادیِ کشمیر کی حمایتی ہے اور اقوام عالم سے اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ کشمیر کو آزادی دی جائے 

واضع رہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے مابین تین جنگیں 1948,1965 اور کارگل جنگ 1999 مسئلہ کشمیر کے لئے ہی لڑی گئی ہیں جبکہ 1971 کی جنگ بنگلہ دیش کی خاطر تھی