Wednesday, 29 December 2021

ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ازقلم غنی محمود قصوری



بطور مسلمان ہمارا اس بات پر یقین ہونا چائیے جو کوئی بات قرآن و حدیث کے ذریعہ سے مستند طریقہ سے ہم تک پہنچتی ہے وہ ہو کر رہنی ہے 

ہم اسے قبول کریں یاں نا کریں اللہ تعالی اس بات کو پورا کرکے چھوڑیں گے ان شاءاللہ

 مگر افسوس کہ آج ہم تاویلوں سے کام لیتے ہیں حالانکہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زبان سے اللہ رب العزت نے بذریعہ وحی کلام الہی میں ارشاد فرما دیا تھا 


یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے

 جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

 اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں 

 یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں ۔ سورہ البقرہ


افسوس مسلمان ہوتے ہوئے آج ہمارا اعتراض ہوتا ہے تو قرآن پر اعتراض ہوتا ہے تو حدیث رسول پر جبکہ ہنود و یہود و دیگر کفار کو نبی ذیشان کی ہر بات سے اتفاق ہے وہ الگ بات ہے کہ ان کو کلمہ پڑھنے کی توفیق نہیں یہ بھی میرے رب کی مرضی ہے 


چودہ سو سال پہلے نبی ذیشان فرما کر گئے تھے کہ غرقد یہودویں کا درخت ہے اور یہودیوں کو قرب قیامت مجاھدین سے بچائے گا 


 حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کر دیں گے یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے اللہ کے بندے یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کر دو 

سوائے درخت غرقد کے

 کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے

مفسرین کے مطابق غرقد دراصل شجر یہود ہے جو گونگا درخت یا یہود کا پاسباں درخت کہلاتا ہے یہ خاردار جھاڑی کی صورت میں ہوتا ہے  جنت البقیع کا اصل نام بھی بقیع الغرقد اسی لئے ہے کہ جس جگہ یہ قبرستان ہے پہلے وہ غرقد کی جھاڑیوں کا خطہ تھا

( صحیح مسلم)


یہودیوں کا آج اس حدیث پر اتنا یقین ہے کہ انہوں نے اپنا سرکاری درخت غرقد کو بنا لیا 

آج ہر یہودی کے گھر،ان کے پارک،ان کی ہر بلڈنگ کے آس پاس  غرقد نامی درخت لازمی لگا ہے اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ غرقد کے درخت اسرائیل میں ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ فرمان نبی ذیشان جھوٹا نہیں حالانکہ وہ یہودی ہیں 


دنیا کی کل آبادی پونے 8 ارب ہے جس میں سے عیسائی 31.5 فیصد مسلمان 23.2 فیصد اور ہندو 15 فیصد ہیں باقی دیگر مذاہب کے لوگ ہیں یعنی کہ اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اس کے باوجود آج ہم مسلمان کسمپری کی زندگی گزار رہے ہیں 

فلسطین ہو یا افغانستان کشمیر ہو یا عراق ہر جگہ مسلمانوں پر ہی ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور خاص کر فلسطین و کشمیر میں ہر ظلم کی حد کراس کی جا چکی ہے 


کچھ دن قبل ایک ہندو پنڈت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ اپنے ہندوؤں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے کہ کم ازکم 6 بچے ہر ہندو کے ہونے چائیے اور ہر ہندو کے گھر اسلحہ لازمی ہونا چائیے یعنی اس ہندو کو نبی کریم کی اس حدیث پر یقین ہے 

 

 رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت میں سے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم کی آگ سے محفوظ کر رکھا ہے ایک وہ گروہ جو ہند پر حملہ کرے گا اور دوسرا گروہ جو حضرت عیسیٰ ابنِ مریمؑ کے ساتھ ہوگا

 (السنن الکبری۔ نسائی)


اس حدیث کی رو سے ہندو ڈرے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے  مقابلے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں 

غزوہ ہند پر اور بھی بہت سی احادیث ہیں جن سے قرب قیامت عیسی علیہ السلام کے آنے تک غزوہ ہند ہونے کی بشارتیں ملتی ہیں 

مگر میں نے محض اس ایک حدیث کو بیان کیا ہے مگر افسوس کہ  اس صیحیح سند کی حدیث سے انکاری ہمارے ہی کچھ بھائی بھی موجود  ہیں جوکہ کہتے ہیں کہ غزوہ ہند تو ہو چکا 

جب ان سے پوچھا جائے کہ بھئی کب ہو چکا تو وہ کہتے ہیں کہ جب محمد بن قاسم نے ہند پر یلغار کی تھی مگر  اب تو ہند تقسیم ہو کر پاکستان و اور کئی علاقوں میں بٹ چکا ہے  اس لئے غزوہ ہند کا نام نا لو 


ایسے دوستوں کے ہاں میری گزارش ہے کہ غزوہ ہند سے متعلق اور بھی بہت سے روایات موجود ہیں جن پر ضعیف ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے میں ان پر بحث نہیں کرتا مگر ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا لفظ ہندوستان مٹ چکا ؟

کیا ہند کے مسلمانوں پر ظلم کا بازار رک گیا ؟

کیا ہندو کی بدمعاشیاں ابھی بھی جاری نہیں ہیں؟

کیا اللہ کے نبی کا فرمان کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا تم نے پڑھا نہیں؟

کیا کتاب اللہ اور کتب احادیث  جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کے احکامات سے بھری ہوئی نہیں ہیں ؟


کیا ہند میں موجود تیس کروڑ مسلمان امن و سکون سے زندگیاں گزار رہے ہیں اور کیا وہاں ان کو مذہبی آزادی مکمل حاصل ہے ؟

کیا ابھی محض بیس سال قبل ہی انڈین گجرات میں مسلمانوں کو زندہ نہیں جلایا گیا ؟

کیا ہند کی مساجد کو گرا کر مندر نہیں بنائے جا رہے ؟

کیا قرآن کی یہ آیت معاذاللہ منسوخ ہو گئی ؟

آیت یہ ہے باترجمہ 


وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَاۚ-وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا ﳐ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ(۷۵)


اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میں نہ لڑو اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر (نہ لڑو جو) یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس شہرسے نکال دے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لئے اپنی بارگاہ سے کوئی مددگار بنا دے



کیا آج بھی ہند و کشمیر کی بہن بیٹیاں ہمیں پکارتی نہیں کہ ہماری مدد کرو ؟


 بھئی جب یہ ساری نشانیاں بموجب جہاد ابھی باقی ہیں تو پھر غزوہ ہند کیسے ہو چکا ؟


وہ تو محمد بن قاسم نے ابتداء کی تھی ہند پر یلغار کی اس سے  آگے محمود غزنوی و دیگر اس غزوہ ہند کو نے آگے بڑھایا مجاھدین کشمیر و پاک فوج اس وقت غزوہ ہند کا دستہ ہے 

 جبکہ ہندوستان کی مکمل بربادی اور قرب قیامت تک یہ سلسلہ چلتا ہی رہنا ہے

 

ہاں وہ الگ بات ہے کہ کل کو ماضی میں  آج کے کچھ آزاد ممالک بھی ہند کا حصہ تھے مگر ہند کا لفظ ابھی باقی ہے اور بہت سارا علاقہ ابھی باقی ہے اور کچھ بعید نہیں قرب قیامت یہ ہند بلکل چھوٹا سا زمین کا ٹکرا رہ جائے یا ہو سکتا ہے ہندو نجس پلید اپنے آگے والے چھوٹے چھوٹے ممالک پر قبضہ کرکے اس ہند کا حصہ بناتا رہے یہ سب آنے والے وقت کی باتیں ہیں مگر 

خدارا ہوش کیجئے احادیث نبویہ و فرمان الہٰی پر عمل کیجئے اور اپنے کشمیری و ہندوستانی بھائیوں کی مدد کیجئے جو کہ قرآن و حدیث سے تین صورتوں میں ثابت ہے 


جہاد بالنفس

جہاد مال یعنی اپنے مال سے جہاد 

جہاد پر ابھارنا یعنی جہاد کیلئے ترغیب دینا چاہے و زبان سے دی جائے یا قلم سے یا کسی اور طریقے سے


یہ اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ کونسا جہاد کر سکتے ہیں لازم نہیں کہ آپ ہتھیار پکڑ کر ٹکرا جائیں کیونکہ جہاد بھی بغیر جماعت کے ہوتا نہیں 


Friday, 24 December 2021

اقلیتوں کا احترام کیجئے ناکہ اپنا عقیدہ خراب کیجئیے ازقلم غنی محمود قصوری




آج 25 دسمبر کا دن ہے اور پوری دنیا میں سرکاری چھٹی ہے

یہ دن عیسائیوں کے ہاں خاص دن ہے کیونکہ آج ان کی عید ہے جسے وہ Happy Christmas Day بھی کہتے ہیں


اسلام جہاں مسلمانوں کو پوری آزادی سے زندگیاں گزارنے کا اختیار دیتا ہے وہیں غیر مسلموں کو بھی اختیار ہے کہ پوری آزادی سے رہیں بشرطیکہ دین اسلام پر کھلا وار نا کریں

جس کی مثال قرآن نے ایسے بیان کی ہے


 تمہارا دین تمھارے ساتھ اور میرا ( دین ) میرے ساتھ

 (سورۃ الکافرون آیت 6)


دین اسلام میں جبر بھی نہیں ہے کیونکہ یہ دین کامل ہے اسلام میں جبر کی ممانعت قرآن میں ایسے کی گئی ہے 



لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ 

قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ

فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى لَاانْفِصَامَ لَہَا

وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ﴿256﴾


دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہو کر واضح ہوچکا

 اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا ، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے


اس آیت سے ثابت ہوا دین اسلام کا نام لے کر کسی پر سختی بھی نہیں کی جا سکتی مگر حدیث رسول نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرنے سے بھی بڑی سختی سے منع فرمایا ہے

 

حدیث رقم ہے 


عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم. من تشبہ بقوم فہو منہم


 جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے

(سنن أبي داؤد)

غور کیجئے کفار کے مشابہت اختیار کرنے ان کو مبارکباد دینے پر اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ ایسا کرنے والا مسلمان انہی میں سے ہے 



آخر یہ آج کا دن یعنی عیسائیوں کی عید  ہے کیا ؟

اس بارے جانتے ہیں


 Happy Christmas Day

کا معنی ہے  میلاد عیسیٰ مبارک ہو

حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے دن کو عیسائی ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں 

اس دن عیسائی ایک دوسرے کو ایسے مبارکباد دیتے ہیں  جیسے ہم مسلمان اپنی عیدین پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں

اس دن Merry Christmas کہہ کر مبارکباد دی جاتی ہے یعنی ولادت عیسی علیہ السلام مبارک ہو

عیسائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ہمارے مسلمان بھی اس دن ان کو خوب مبارکباد دیتے ہیں جس کا جواز اکثر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ بھی ہمیں مبارکباد ہماری عیدین پر دیتے ہیں

ہماری عیدین پر ان کی طرف سے عید مبارک کہا جاتا ہے جس میں کوئی ایسے ٹکراؤ کے الفاظ موجود ہی نہیں

 جبکہ جب ہم ان کی عید کی مبارک باد  ان کو دیتے ہیں تو ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور آج ان کا جنم دن ہے


 اس بابت قرآن نے سورہ مریم آیت 88 تا 92 میں بڑی سختی سے ایسے تردید کی ہے


یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے(ایسی بات کہنے والو) حقیقت یہ ہے کہ تم نے بڑے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے

 کچھ بعید نہیں کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین پھٹ جائے، اور پہاڑ ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں، کہ لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو 


معاذاللہ کتنے سخت الفاظ میں قرآن اس عقیدے کی ممانعت کر رہا ہے جبکہ ہم دنیاوی دکھلاوے کی خاطر آج ان عیسائیوں کو مبارکبار پیش کرکے اپنا عقیدہ خراب کر رہے ہیں 


خداراہ اقلیتوں کا احترام ضرور کیجئے مگر آج کے دن کی ان کو  مبارکباد دے کر اپنا عقیدہ خراب نا کیجئے 

اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Thursday, 23 December 2021

اہمیت جمعتہ المبارک اسلام کی روشنی میں ازقلم غنی محمود قصوری



تمام دن اللہ رب العزت نے بنائے ہیں مگر اللہ تعالی نے جمعتہ المبارک کو ایک خاص اہمیت دی ہے جس کیلئے ہم دیکھتے ہیں نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث


 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

’جمعہ کا دن دوسرے دنوں کا سردار ہے، اللہ کے نزدیک بڑا دن ہے اور یہ اللہ کے نزدیک عید الأضحی اور عید الفطر سے بھی بڑا ہے

 اس میں پانچ باتیں ہیں


1 اس میں اللہ تعالیٰ نے سیّدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا


2 اس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا


3 اس دن سیدنا آدم علیہ السلام فوت ہوئے


4 اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں جو بھی بندہ اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے کوئی سوال کرتا ہے اللہ تعالی وہ اس کو دے دیتا ہے مگر حرام چیز کا سوال نہ ہو تو 


5 اس دن قیامت قائم ہو گی کوئی مقرب فرشتہ نہ آسمان میں، نہ زمین میں، نہ ہوا میں، نہ پہاڑ میں اور نہ دریا میں مگر وہ جمعہ سے ڈرتے ہیں


(ابن ماجہ: إقامۃ الصلاۃ، باب, فی فضل الجمعۃ)


اس دن کی فضیلت قرآن میں ایسے بیان کی گئی ہے 


یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا إِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 


اے اہل ایمان جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ) کے لیے اذان دی جائے تواللہ کے ذکر (خطبہ اور نماز) کی طرف دوڑو اور (اس وقت) کاروبار چھوڑ دو

 اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے

(سورہ الجمعۃ )


یقیناً یہ دن جمعہ بہت اہمیت کا حامل ہے اسے لئے اس کو باقی دیگر دنوں کا سردار کہا گیا ہے 

 اس دن ہمارے کچھ کام دوسرے دنوں سے زیادہ کرنے کے ہوتے ہیں تاکہ ہم اس دن اللہ رب العزت سے زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کر سکیں 


اس دن کا آغاز روزانہ کی طرح نماز فجر سے کریں اور تلاوت قرآن میں خاص کر سورہ الکہف لازمی پڑھنے کی کوشش کریں اس کے بعد اس دن کثرت سے درود شریف پڑھیں کیونکہ ارشاد ربانی ہے 


بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں اس پیغمبر پر 

اے ایمان والوں تم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)  پر رحمت بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔ ( سورہ الاحزاب)


اس دن وقت نکال کر اپنے فوت شدگان کی قبر پر حاضری دیں اس بارے حدیث رقم ہے


کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور ألا فزوروہا فانہا ترق القلب، وتدمع العین وتذکر الآخرۃ 

 (مستدرک الحاکم 376/1)


(نبی کریم نے فرمایا)  میں نے تمہیں زیارت قبور سے روکا تھا ( شروع اسلام)  لیکن اب تم ان کی زیارت کیا کرو کہ اس سے رقت قلب پیدا ہوتی ہےاور  آنکھیں پرنم ہوتی ہیں اور آخرت کی یاد آتی ہے

جمعہ کے دن کے علاوہ بھی قبروں پر جانا چائیے اور مردوں کے علاوہ عورتوں کو بھی مکمل شرعی پردہ کرکے قبرستان میں جانا چائیے اور قبرستان میں جا کر دعا پڑھنی چائیے جو کہ حدیث میں ایسے رقم ہے 


حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم سے دریافت کیا کہ قبروں کے پاس کیا کہنا چاہیے تو  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ کلمات سکھلائے


السَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَھْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِیْنَ، وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ. (مسلم 974)


طہارت یعنی صفائی ایمان کا حصہ ہے اس لئے اس دن ہو سکے تو اپنے بال کٹوائیں، ناخن تراشیں، غسل کریں ،عمدہ کپڑے پہنیں اور اگر میسر ہو تو خوشبو لگائیں، مسواک کریں کیونکہ ارشاد مصطفی ہے

 

سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

ہر مسلمان پر حق ہے کہ ہفتے میں ایک دن (جمعہ کو) غسل کرے اس میں اپنا سر دھوئے اور اپنا بدن دھوئے

(بخاری)


جمعہ کے دن اگر کوئی مجبوری بن جائے تو غسل کے بغیر مگر پاک صاف ہوتے ہوئے بھی جمعہ کی نماز ادا کی جا سکتی ہے کیونکہ ارشاد مصطفی ہے 


سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا


جمعہ کے دن جس نے وضو کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے

(ابو داؤد)


نیز اس دن تجارت و دیگر کاروبار زندگی کئے جا سکتے ہیں مگر اذان جمعہ ہوتے ہی کاروبار کو روک دینا چائیے اور اول وقت میں جا کر خطبہ جمعہ سن کر نماز جمعہ ادا کرنی چائیے جیسا کہ اوپر آیت مبارکہ میں جمعہ کی اذان کے ہوتے ہی کاروبار بند کرنے کا حکم ہے نیز مذید ارشاد مصطفی ہے 


حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے جس شخص نے جمعہ کے دن نہایت اہتمام کے ساتھ غسل کیا جس طرح پاکی حاصل کرنے کے لیے غسل کیا جاتا ہے، پھر اول وقت مسجد میں جا پہنچا تو اس نے گویا ایک اونٹ کی قربانی کی اور جو اس کے بعد دوسری ساعت میں پہنچا تو اس نے گویا گائے یا بھینس کی قربانی کی اور اس کے بعد تیسری ساعت میں پہنچا تو اس نے گویا سینگ والا مینڈھا قربان کیا اور اس کے بعد چوتھی ساعت میں پہنچا تو گویا خدا کی راہ میں انڈا صدقہ کیا پھر جب خطیب خطبہ دینے کے لیے نکل آتا ہے تو فرشتے مسجد کا دروازہ چھوڑ دیتے ہیں اور خطبہ سننے اور نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آبیٹھتے ہیں (بخاری)


چونکہ عورت پر نماز مسجد میں جاکر پڑھنا فرض نہیں مگر مسجد میں جا کر نماز عورت پڑھ بھی سکتی ہے اسی طرح عورت پر جمعہ کی نماز فرض نہیں مگر زیادہ ثواب کیلئے وہ مسجد میں جاکر نماز جمعہ پڑھ سکتی ہے 

اس بارے پڑھتے ہیں امی عائشہ رضی اللہ سے مروی یہ حدیث 


 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، اور انھیں بغیر خوشبو کے سادہ کپڑوں میں نکلنا چاہئے سیدہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آج کل کی عورتوں کا حال دیکھتے تو انھیں منع کر دیتے (مسند احمد 6/69، 70 وسندہ حسن)


یقیناً چھوٹے چھوٹے کام کرنے سے اس دن ہم اللہ رب العزت کا بہت زیادہ تقرب پا سکتے ہیں کیونکہ یہ سارے کام ہم دیگر دونوں میں بھی کرتے ہیں اور کرسکتے ہیں مگر جمعہ کے دن خاص فضیلت ہونے کے باعث ان کی اہمیت اور ثواب بھی خاص ہے 

اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Wednesday, 15 December 2021

ایک ہی دشمن کے دو زخم ازقلم غنی محمود قصوری




قیام پاکستان سے ہی ہندوستان نے اس ارض پاک  کو بے شمار زخم دیئے ہیں مگر اس نجس ہندو پلید کے دو زخم ایسے ہیں کہ جو ہم سدا یاد رکھینگے اور کبھی بھلا نا پائینگے 


اللہ کی حکمت ہے اللہ رب رحمان جو بھی کرتا ہے سب اچھا ہی کرتا ہے اس کے فیصلے میں ہمیشہ ہی بہتری ہوتی ہے بس ہمیں وقتی نامناسب لگتا ہے مگر وہ نامناسبیتی ہمیں بہت سے سبق دے دیتی ہے جو کہ ہمارے آنے والے وقت اور آنے والی نسلوں کیلئے بہت سود مند ہوتا ہے


آج ارض پاک پاکستان کو دولخت ہوئے 50 سال اور سانحہ اے پی ایس پشاور کو ہوئے 7 سال ہو چکے ہیں


یہ دونوں زخم بہت بڑے ہیں اور ان دونوں زخموں کو دینے والا ہمارا پڑوسی اور سب سے بڑا دشمن ملک بھارت ہے 

اس رزدیل نے مشرقی پاکستان میں شورش بپا کروائی اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کروا دیا 

اس نے سیاستدانوں کی غلط پالیسوں کو بنیاد بنا کر علیحدگی کا نعرہ لگوا کر مکتی باہنی جیسی علیحدگی پسند تنظیم کی بنیاد رکھی اور اسے مسلح تربیت دی جس نے مشرقی پاکستان میں قومیت،لسانیت جیسا نفرت انگیز نعرہ لگا کر علیحدگی کی شروعات کی 

اس شورش کا آغاز تو 1971 سے پہلے ہی ہو چکا تھا مگر باقاعدہ آغاز  مارچ 1971 کو ہوا تھا

 مشرقی پاکستان یعنی موجودہ بنگلہ دیش ہمارا حصہ اور صوبہ تھا جس کے بیچ انڈیا سینڈوچ بنا ہوا تھا اور اس کی ہر تدبیر پاکستان کو دولخت کرنے کیلئے ہوتی تھی 

 مشرقی پاکستان میں ہماری مسلح وج یعنی  ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان میں ہمارے کل فوجی جوانوں کی تعداد 42 ہزار تھی 90 ہزار بتائے جانے والے بات ایک بہت بڑا جھوٹ ہے

 جبکہ ان کے مدمقابل  مکتی باہنی کے غنڈوں کی تعداد تقریبا 190000  اور اس کی پشت پناہی کیلئے بھارتی فوج کی تعداد 250000 تھی یعنی کہ 42 ہزار کے مقابلے میں ساڑھے چار لاکھ مگر اس کے باوجود ہمارے فوجی جوانوں نے انتہائی کم وسائل کے باوجود تقریباً 9 ماہ تک اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر دشمن کے عزائم کو روکے رکھا اور ان کا خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا تاہم ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان کے کمانڈر ان چیف امیر عبداللہ خان نیازی کے حکم پر 16 دسمبر 1971 میں ہتھیار ڈالے گئے 


تاریخ گواہ ہے اور آج بھی بنگالی اپنی زبان سے بتلاتے ہیں کہ پاک فوج کے جوان بھوکے پیسے اور زخمی ہو کر بھی خالی بندوقوں کی سنگینوں سے لڑتے رہے مگر ہتھیار ڈالنے کو تیار نا تھے جس پر ہندو درندہ صفت فوج اور مکتی باہنی کے غنڈوں نے عام مشرقی،و مغربی پاکستانیوں کو شہید کرنا شروع کر دیا تو جنرل نیازی نے سختی سے ہتھیار ڈالنے کا حکم جاری کیا اور واسطہ دیا کہ اپنی جانیں دے کر ان سویلینز کو بچا  لو جو کہ ایک سپاہی کا اصل کام ہوتا ہے 

تب  ہمارے شیر دل جوان مجبوراً ہتھیار ڈالنے پر راضی ہوئے 

واضع رہے کہ مشرقی پاکستان میں بہت زیادہ تعداد میں سول محکموں میں سویلین مغربی پاکستانی تعینات تھے جن کو مکتی باہنی و بھارتی فوج نے بے تحاشہ قتل کرنا شروع کر دیا تھا اور یہی سب سے بڑی وجہ ہتھیار ڈالنے کی بنی نیز چائنہ و امریکہ کی طرف سے باوجود وعدہ کے عین ٹائم پر ہتھیاروں کی کھیپ روک لی گئی اور محض تسلیاں ہی دی گئیں  جس سے ہماری مسلح طاقت ختم ہو کر رہ گئی تھی 

بھارت کے جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کی سربراہی میں تقریباً 40 ہزار فوجی جوانوں و 50 ہزار عام مغربی پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا جنہیں انڈیا میں 1974 تک قید رکھا گیا تھا 

واضع رہے دو طرفہ سیاستدانوں کی نااہلی و ذاتی مفاد پرستی کے باعث جنگ عظیم دوئم کے بعد ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے

 تاہم مغربی محاذ پر پاکستان کو ہر لحاظ سے بھارت پر برتری حاصل تھی اس کے کئی شہروں پر پاکستانی فوج نے قبضہ کر لیا تھا مگر مکار ہندو بنئے نے موقع دیکھ کر سلامتی کونسل سے جنگ بندی کروائی اور مشرقی پاکستان میں اپنی فتح کو مغربی پاکستان میں شکست میں تبدیل ہونے سے بچا لیا 

ارض پاک کو دولخت کرنے کا یہ زخم ہمیشہ ہمارے سینوں میں ہمیشہ تازہ رہے گا 


بھارت مکار نے 1971 کے بعد پاکستان میں اپنی مکاریوں کا جال مذید بچھا دیا اس نے قومیت،لسانیت،صوبائیت،فرقہ واریت،مہاجریت جیسے مکروہ نعروں کو پروان چڑھایا اور مغربی ماندہ پاکستان کو بھی ختم کرنے کی کوششیں تیز کر دیں مگر رب کریم نے ہر مرتبہ بھارت کو افواج پاکستان و عوام پاکستان سے ذلیل ہی کروایا


16 دسمبر 2014 کو انڈیا نے اپنی لے پالک اور تربیت یافتہ مسلح خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان سے آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردانہ حملہ کروایا جس میں سکول میں پڑھنے والے 8 سال سے 18 سال کے لگ بھگ 132 طالب علموں کو شہید کیا گیا اور دیگر  17 اساتذہ و سکول عملے کو بھی شہید کیا گیا کہ جن میں خواتین بھی شامل تھیں


دشمن کی یہ حرکت انتہائی تکلیف دہ ہے اس نے ہمارے بچوں کو تعلیم سے دور کرنے اور جہاد جیسے مقدس فرض کو بدنام کرنے کیلئے بدنام زمانہ خودساختہ جہادی اور حقیقتاً خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان سے یہ کام کروایا تھا جنہوں نے بڑے فخر سے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی تھی 

واضع رہے کہ متعدد بار پاکستان نے تحریک طالبان کی انڈین را سے فنڈنگ کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے حتی کہ اس خارجی جماعت کے نہاد مجاھدین کا حال یہ ہے کہ ان کو کلمہ تک نہیں آتا اور ان کے ختنے تک نہیں ہوئے بلکہ ماضی میں امریکن سی آئی اے کے ایجنٹ بھی پکڑے گئے جو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر پاکستانی فوج کے خلاف لڑتے تھے اور باقاعدہ ان نام نہاد خودساختہ مجاھدین کو ٹریننگ بھی دیتے تھے

یہ ظالم درندے بھول گئے کہ اسلام تو بچوں،بوڑھوں،عورتوں حتی نا لڑنے والے نوجوانوں تک کو بھی قتل کرنے سے منع کرتا ہے مگر اس سب کے باوجود ان نام نہاد جہادیوں نے جہاد کو بدنام کرنے اور انڈیا کو خوش کرنے کیلئے معصوم بچوں کا قتل عام کیا اور دن کا انتخاب بھی سقوط ڈھاکہ والے دن کا کیا تاکہ زخمی محب وطنوں کو مذید دکھی کیا جائے  


میرے پاک نبی کا فرمان ہے کہ مسلمانوں کو جہاد کے نام پر ناحق قتل کرنے والے خارجی ہیں اور ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں یہ لوگ پکے جہنمی ہیں جبکہ اللہ تعالی کا  بے گناہ مارے جانے اور اللہ کے راستے میں لڑتے ہوے مارے جانے والوں کیلئے ارشاد ہے


اور  جو لوگ اللہ کی راہ میں  مارے  جائیں انھیں مردہ نہ کہو ایسے لوگ تو حقیقت میں  زندہ ہیں مگر تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں

 154 آل بقرہ


یقیناً بھارت نے سقوط ڈھاکہ 16 دسمبر کی یاد تازہ کرنے کیلئے آرمی کے سکول میں اس لئے بچوں کا قتل عام کروایا تھا کہ کل کو یہی بچے بڑھے ہو کر فوج میں بھرتی ہو کر بھارت کے خلاف لڑینگے اسی لئے بھارت نے بچوں میں خوف و ہراس پیدا کرکے تعلیم سے دور کرنے کی کوشش کی مگر بچ جانے والے بچوں نے بھارت کو بڑا سخت پیغام دیا 


مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے 

غور کیجئے یہ بچے کہہ رہے ہیں ہم تعلیم حاصل کرکے اپنے دشمن کے بچوں سے بدلہ لینا ہے مگر کون سا بدلہ؟

 وہ بدلہ اس ظالم کی نسلوں کو اسلام کا سبق دے کر اصلاح کرکے دین اسلام کی حقانیت دکھا کر دین حنیف میں لانا ہے 

سانحہ اے پی ایس پشاور میں زخمی ہونے والے بچوں کے بیانات پوری دنیا نے بذریعہ میڈیا دیکھے اور سنے اور سبھی کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہ ایک آہنی قوم ہے اس کے بچوں کے جذبے بلند ہیں تو بڑے تو پھر فولادی عزم سے بھی اوپر عزم رکھتے ہیں

ایک ہی دشمن کے یہ دو زخم ہمارے دل میں اس نجس دشمن کیلئے مذید نفرت ڈال رہے ہیں 

Tuesday, 7 December 2021

موجودہ دور مہنگائی میں صدقہ خیرات کا آسان طریقہ ازقلم غنی محمود قصوری




حضرت انسان شروع سے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے اور پاکستان جیسے غریب ملک میں یہ مشکلات اور بھی ہیں مگر جب سے سلطنت عمرانیہ کا قیام ہوا ہے تب سے یہ مشکلات شدید مصائب میں تبدیل ہو چکی ہیں

مگر اس سب کے باوجود ایک چیز ایسی بھی ہے جو ہمیں دنیاوی و اخروی زندگی کی خوشحالی دے سکتی ہے  جس کا نام ہے صدقہ 


نماز روزہ و دیگر عبادات کی حد مقرر ہے کہ اتنے سے کم نا ہو اور اتنے سے زیادہ نا ہو مگر صدقہ کی حد مقرر نہیں یہ کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ بھی کیا جاسکتا ہے

حدیث کی رو سے سب سے افضل صدقہ اپنے بیوی بچوں کو اچھا کھلانا پلانا ہے 


اب سوچنے کی بات ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں جہاں اپنی دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ترین ہے وہاں صدقہ کیسے کیا جائے ؟


قارئین صدقہ محض پیسے،اجناس،املاک دینے کا ہی نام  نہیں بلکہ مسلمانوں کیلئے آسانی پیدا کرنا ان کو دیکھ کر مسکرانا بھی صدقہ ہے اور صدقہ کی کوئی مقدار بھی متعین نہیں کہ اس سے کم صدقہ ہرگز نا ہو گا 


ارشاد نبوی ہے 


 اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ


 جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ دے کر ہی 


یعنی آپ کم سے کم چیز صدقہ کیجئے تو  بھی وہ اللہ کے ہاں قابل قبول ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ بہت بڑا تقوی سے عاری صدقہ ایک معمولی سے تقوی پر مبنی صدقہ سے روز قیامت اعمال میں ہلکا ہو جائے


کیا صدقہ صرف پیسہ سے ہی دیا جا سکتا ہے اس بارے  حدیثیں پیش خدمت ہیں

 

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا  بیشک صدقہ ﷲ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے نیز مسلمان بھائی کی طرف 

مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے


حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا  تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے، تمہارا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے، اور تمہارا بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھانا بھی تمہارے لیے صدقہ ہے  اور تمہارا کسی اندھے کو راستہ دکھانا بھی تمہارے لیے صدقہ ہے  اور تمہارا راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی (وغیرہ تکلیف دہ چیز) کا ہٹانا بھی تمہارے حق میں صدقہ ہے اور اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کی بالٹی میں پانی ڈالنا بھی صدقہ ہے


ان احادیث سے ثابت ہوا کہ صدقہ محض روپیہ پیسہ دولت سے ہی نہیں بلکہ معمولی اعمال سے بھی کیا جاتا ہے اور یہ صدقہ اللہ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے تو آج ہی ان احادیث پر عمل کرتے ہوئے اپنے لئے آسانیاں پیدا کریں اپنے مسلمان بھائی کو وعض و نصیحت کریں راستوں سے تکلیف دہ چیزیں ہٹائیں لوگوں کی عیب پوشی کریں اور ان چھوٹے چھوٹے اعمالی صدقات سے اپنی دنیاوی و اخروی زندگی اچھی کریں کیونکہ فرمان نبوی ہے کہ اللہ تعالی تب تک اپنے بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے 

اب سوچنا یہ ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں مالی صدقہ کیسے کیا جائے ؟


تو اس کیلئے پلاننگ کریں اپنے سے غریب افراد کی مدد کی 


اگر آپ مزدور ہیں اور روزانہ کا 800 روپیہ کماتے ہیں تو محض روزانہ 10 روپیہ نکال کر الگ سے رکھ لیں اور مہینے بعد 300 روپیہ جمع ہونے پر اپنے سے مالی کمزور اپنے کسی عزیز رشتہ دار ،محلے دار کو بطور صدقہ دیں تاکہ ان پیسوں سے اس کے گھر کا کم از کم آدھ دن کا خرچ ہی نکل آئے گا 


اگر آپ تنخواہ دار ہیں اور 25000 روپیہ تنخواہ لیتے ہیں تو محض 1000 روپیہ الگ کر لیں اور سمجھ لیں آپ کی تنخواہ 24000 روپیہ ہے اور وہ 1000 روپیہ کسی ضرورت مند کو دیں یقین کیجئے آپ کے محض 1000 روپیہ کے عیوض  وہ ضرورت مند آپکو اربوں کھربوں روپیہ کی دعائیں دے گا جس سے اللہ کا غصہ ٹھنڈا ہو گا ،بیماریوں سے نجات ملے گی اور ذہنی سکون ملنے کی انتہاہ ہو جائے گی 


نبی کریم کا فرمان ہے یہ صدقہ خیرات مال کم نہیں کرتے بلکہ مال میں اضافہ کرتے ہیں

تو آئیے ان آسان طریقوں سے اپنی دنیاوی و اخروی زندگی خوبصورت بنا لیجئے 

انہی صدقہ خیرات کی عادت اے انسان معاشرتی برائیوں اے بچتا ہے اور اس کے اندر احساس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور احساس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو انسان اللہ کا تقرب حاصل کرتا ہے 


دعا ہے اللہ تعالی ہمیں صدقہ خیرات کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور  ہمارے صدقہ خیرات قبول فرمائے آمین

Saturday, 4 December 2021

نعرہ عشق رسول ہی نہیں مطالعہ سیرت نبوی بھی لازم ہے ازقلم غنی محمود قصوری




مملکت پاکستان میں عشق رسول کے دعوے دار تو بہت ہیں مگر افسوس ان نام نہاد عاشقین  پر کہ ان کی اکثریت بے نمازی ہے   اور بعض تو ایسے ہیں کہ شاید پوری پوری زندگی انہوں نے کتاب اللہ و حدیث رسول کو ہاتھ ہی نہیں لگایا ہوتا اور ان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ حدیث رسول اور قول اصحاب و اولیاء اللہ میں فرق کیا ہے 


یہ لوگ نہیں جانتے سنت کیا ہے فرض کیا ہے فرض عین کیا ہے اور فرض کفایہ کیا ہے


یہ ایسے عاشقین ہیں کہ جب ان کے گھر کا کوئی فرد مر جائے تو کسی کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ جی ہمیں تو غسل کا پتہ ہی نہیں کوئی آکر ہمارے مردہ پیارے کو غسل دے تاکہ اس کی تدفین بذریعہ مولوی جنازہ کروا کر کی جائے 


افسوس نام نہاد عاشق تیری ایسی عاشقی پر میرے نبی تو سب طریقے بتلا کر گئے تو نے محض نعرے لگانے کو ہی دین سمجھ لیا ؟ کیا تجھ پر اسلامی تعلیم حاصل کرنا فرض نہیں؟


ملاوٹ کرنے،ذخیرہ اندوزی کرنے،لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے،زنا کرتے وقت اور پڑوس میں بھوکے مرتے غرباء کو دیکھتے وقت ان کا عشق زندہ نہیں ہوتا مگر کسی بھی جانب سے اعلان ہو کہ فلاں جگہ فلاں نے گستاخی کی ہے تب ان کا عشق بڑا جوش مارتا ہے اور یہ بغیر سیرت نبوی کا مطالعہ کئے قتل جیسا فعل بھی سرانجام دے بیٹھتے ہیں


انہی نام نہاد عاشقین نے کل بروز جمعہ پاکستان کے مشہور شہر سیالکوٹ میں ایک نجی فیکٹری کے ایکسپورٹ مینیجر نتھا کمارا کو جلا کر راکھ بنا دیا


وقوعہ کچھ یوں ہوا کہ سری لنکا کے رہائشی اور حالیہ سیالکوٹ میں مقیم نتھاکمارا نے فیکٹری میں لگی مشین پر سے ایک کاغذ اتار پھینکا جس پر درود شریف اور کچھ اسلامی اسم رقم تھے 


واللہ عالم نتھا کمارا نے یہ فعل دانستہ کیا یاں غیر دانستہ مگر سیرت نبوی سے غافل نام نہاد عاشقین نے نتھا کمارا کو فیکٹری سے نکالا اور سڑک پر لا کر اسے آگ لگا دی حالانکہ وہ نہتا تھا اور معافیاں مانگ رہا تھا

ان عاشقین نے نا سوچا کہ میرے نبی نے ایک جنگ میں ایک حربی کافر کو عین جنگ میں اس وقت معاف فرما دینے کا کہا تھا جب ایک  صحابی کی طرف سے  عین اس وقت کلمہ پڑھنے والے کو قتل کر دیا جب وہ تلوار کے سامنے صحابی رسول کو کہہ رہا تھا مجھے معاف کر دو میں کملہ پڑھ کر مسلمان ہوتا ہوں 

مگر صحابی رسول نے اسے قتل کر دیا معاملہ میرے نبی کی بارگاہ میں پہنچا اس صحابی کو بلایا گیا واقعہ پوچھا گیا اس صحابی نے بتلایا کہ وہ تو تلوار کے ڈر سے کلمہ پڑھنے لگ گیا تھا


 اتنا سننا تھا کہ میرے نبی کریم کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور فرمایا تم نے ایک کملہ پڑھتے کو قتل کر دیا ؟ 

کیا تم نے اس کا دل پڑھ لیا تھا کہ وہ تلوار کے ڈر سے کلمہ پڑھ رہا ہے ؟

تمہیں کیا پتہ اس نے حقیقی معافی مانگ لی ہو اور رب نے اسے معاف کر دیا ہوں

شاید  وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جانا چاہتا تھا مگر تم نے اسے قتل کر دیا 

نبی کریم نے فرمایا میں محمد کل روز قیامت اللہ کے ہاں تیرے اس فعل پر جوابدہ نا ہو گا اگر وہ شحض واقعی سچے دل سے کلمہ پڑھ رہا تھا چاہے موت کو سامنے دیکھ کر ہی تو اس بابت اللہ نے حساب لیا تو تم ہی جوابدہ ہو گے میں نہیں 


  نتھا کمارا کو جلا کر  ان عاشقین نے عشق نبی کے خوب نعرے لگائے کہ ہم نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے دیا ہے 


اگر نتھا کمارا نے ایسا غلط کام کیا ہے تو ہمارا ریاستی نظام موجود ہے اس کا ٹرائل ہونا چائیے تھا فرض کریں اگر اس کا ٹرائل نا بھی کروایا جاتا محض اس کو مار کر ہی سکون ملنا تھا تو کم از کم اسے جلایا نا جاتا کیونکہ آگ کا عذاب دینے کا اختیار صرف اللہ کو ہی ہے 

جس کیلئے میں ان نام نہاد جعلی عاشقین رسول کو احادیث نبویہ کا مطالعہ کرواتا ہوں تاکہ ان کو پتہ چلے یہ کس قدر سیرت نبویہ سے غافل ہیں

سب سے پہلے میں جان کیلئے خطرہ اور موذی حشرات سانپ پر ایک حدیث پیش کرتا ہوں پھر بات آگے بڑھاتا ہوں


ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا یعنی سانپ کو اور بچھو کو

سنن ابن ماجہ


دیکھئے سانپ موذی ہے اسے نماز چھوڑ کر مارنے کا حکم ہے مگر ایک اور حدیث پیش کرتا ہوں جس میں وضع ہو گا ان موذی حشرات کو بھی آگ سے جلا کر مارنا حرام ہے 


حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک سفر میں تھے  آپ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے ہم نے (چڑیا کی مانند چھوٹا) ایک سرخ پرندہ دیکھا جس کے ساتھ دو بچے تھے  ہم نے اس کے دونوں بچوں کو پکڑ لیا  تو وہ پرندہ آیا اور ان کے گرد منڈلانے لگا  اتنے میں نبی تشریف لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پرندے کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے تکلیف پہنچائی ہے؟ 

اسے اس کے بچے واپس لوٹا دو پھر نبی نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جس کو ہم نے جلا دیا تھا تو آپ  نے فرمایا اسے کس نے جلایا ہے؟ 

ہم نے کہا  ہم نے جلایا ہے

آپ نے فرمایا  آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے شایانِ شان ہے( ابوداؤد)


اس حدیث میں واضع بتا دیا گیا کہ آگ کا عذاب دینا رب کا کام ہے جو کوئی ایسا کرے گا وہ رب کی نافرمانی کرے گا  اور نافرمان عاشق رسول نہیں ہوتا بلکہ جاہل ہوتا ہے 


مذید قلب اطمینان کیلئے ایک

 اور حدیث پیش خدمت ہے 


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں روانہ فرمایا تو فرمایا اگر تم فلاں فلاں کو پاؤ (قریش کے دو آدمیوں کا آپ نے نام لیا) تو ان کو آگ میں جلادو مگر جب ہم نکلنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ تم فلاں فلاں کو جلا دینا لیکن آگ کا عذاب تو صرف اللہ ہی دے گا اسلیے اگر تم ان کو پاؤ تو انہیں قتل کر دینا جلانا نا (بخاری)


دیکھئے اللہ کے نبی نے سانپ سے بھی موذی اور پکے کافر کو قتل کرنے کا حکم دے کر بیجھا اور منع کیا کہ اسے جلانا نا کیونکہ آگ کا عذاب دینے کا اختیار اللہ کو ہی ہے مگر ہمارے عاشقوں نے ایک انسان کو بڑے فخر سے جلایا اور ان کو پتہ بھی نہیں کہ محض نعرہ عشق رسول میں یہ لوگ اللہ کے اختیار میں شراکت کرکے ایک بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہو چکے ہیں  

اگر نتھا کمارا کا کورٹ ٹرائل کروایا جاتا تو شاید نتھا کمارا اسلام کی طرف مائل ہو جاتا اور مشربہ اسلام ہو جاتا 

 

اسی شہر سیالکوٹ میں 2010 میں دو سگے بھائیوں منیب اور مغیث کو جنونیوں نے قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو لٹکا دیا تھا اور الزام لگایا کہ وہ ڈاکو تھے جو کہ بعد میں ثابت بھی ہوا کہ وہ ہرگز ڈاکو نا تھے

ان کی لاشوں کو ذاتی طور پر عوام کی طرف سے یوں لٹکایا جانا سراسر غیر قانونی اور غیر اسلامی فعل تھا مگر افسوس اتنی بڑے غلط فعل کے مرتکب 

ان دونوں بھائیوں  کے 12 قاتلوں کو محض 10 سال قید ہوئی تھی جوکہ رہائی پا چکے ہیں


میرا ان نام نہاد عاشقین رسول  سے سوال ہے کہ ریاست کے ہوتے ہوئے کسی کے جرم کرنے پر اسے سزا دینے کا کونسا شرعی ،آئینی حق حاصل ہے تمہیں ؟



او ظالموں دین اسلام و پاکستان کو بدنام کرنے والے شر پسندوں نعرہ عشق رسول ہی نہیں سیرت نبوی کا مطالعہ بھی کرو تاکہ تمہیں  پتہ چلے کہ تم انجانے میں کتنے بڑے گناہ کے مرتکب ہو چکے ہو