Tuesday, 27 October 2020

فرانس و عالم کفر کی گستاخیوں کی وجوہات کیا ہیں؟ ،،، ازقلم غنی محمود قصوری

 کفار ازل سے ہی مسلمانوں کے دشمن ہیں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اسی لئے نبی کریم نے فرما دیا کہ 

الکفر  ملت واحدہ

یعنی کفر ایک جماعت ہے

مذہب اسلام اس وقت دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور اس کی موجودہ آبادی دنیا کی کل آبادی کا 23 فیصد ہے اور کرہ ارض پر اس وقت 57 اسلامی ممالک ہیں جن کے پاس اپنی فوجیں،معدنی ذخائر اور بیش بہاء نعمتیں ہیں مگر پھر بھی آج مسلمان ہی پستی کی جانب جا رہے ہیں

کافر جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی کام کرتے ہیں یک جان اور اپنے اپنے مذاہب سے بالاتر ہو کر کرتے ہیں 

نائن الیون کی بعد اور خصوصی اس وقت دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہی ہے جس سے کافر کافی پریشان ہیں اور آئے روز مذہب اسلام کے خلاف غلیظ حرکتیں کرتے رہتے ہیں 

دین اسلام میں اللہ کے بعد مقام پیغمبر امن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور ہر ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کو بھی پیغمبر  امن محمد کریم کی ناموس اپنی جان سے زیادہ قیمتی ہے مسلمان اپنا جانی مالی نقصان تو برداشت کر لیتا ہے مگر توہین رسالت کبھی برداشت نہیں کرتا کیونکہ شان رسالت کی خاطر جان دینا اور جان لینا مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے 

کافی عرصے سے عالم کفر اور خصوصی فرانس پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتا چلا آ رہا ہے جس میں فرانس کا رسالہ چارلی ہیبڈو پیش پیش ہے اس رسالے کے دفتر پر کئی بار مسلمانوں نے حملہ کیا ایک بار ایک ایسے ہی حملے میں درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے 

فرانس نے ایک بار پھر سرکاری طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے جس کا سارا ذمہ دار فرانسیسی صدر  ہے جس نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ میں چارلی ایبڈو کو آزادی اظہار رائے سے نہیں روک سکتا اب اسی فرانسیسی صدر کی شہہ پر پہلے گستاخانہ خاکے شائع کئے گئے پھر ان کو سرعام عمارتوں پر لگایا گیا حالانکہ یہ بدبخت کافر یہ بات بھول گئے کہ جس طرح سے جنگوں میں محمد کریم اور ان کے اصحاب و تابعین و تبع تابعین نے فتوحات کیں اگر وہ بھی کفار کے ساتھ انہی کے جیسا سلوک کرتے تو آج روء زمین پر ایک بھی کافر زندہ نا ہوتا مگر یہ مشرک احسان فراموش لوگ بھول گئے کس طرح ان کو دوران جنگ عام معافیاں ملیں حالانکہ اس سے قبل جنگی قیدیوں،عورتوں،بچوں اور بوڑھوں کو مار دیا جاتا تھا مگر میرے شفیق نبی نے ایسا کرنا ممنوع قرار دیا ان کفار کو بھی پوری آزادی سے جینے کا موقع دیا 

کافر بار بار توہین رسالت کرکے آج کے مسلمانوں کے ایمان کی حرارت جانچتا ہے کیونکہ وہ شان مصطفیٰ کا مقام جانتا ہے مگر یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کو ایسے جرآت ہو کیسے رہی ہے؟ تو اس کے لئے میں قرآن کی ایک آیت رقم کرتا ہوں

اے نبی ۔کفار و منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔۔ التوبہ 83

دیکھا جائے تو آج ہم عام مسلمان اور مسلمان حکمران اس فرمان باری تعالیٰ کے منکر ہو کر ذلیل و رسواء ہو رہے ہیں کیونکہ ان کفار کو اللہ  ہم سے زیادہ جانتا ہے اسی لئے اللہ نے ان کفار کے خلاف جہاد کرکے ان کو مغلوب رکھنے کا حکم دیا تھا تاکہ ناموس رسالت کیساتھ عام مسلمان کی عزت بھی محفوظ رہے سو اس شاطر ظالم کافر دشمن نے ناموس رسالت پر حملہ کرنے کیلئے ہمارے دلوں سے سب سے پہلے جہاد کی رغبت نکالی اور اس جہاد کو بدنام کرنے کیلئے ہم میں سے ہی کچھ فسادیوں کو کھڑا کرکے جہاد جیسے مقدس فریضے کو بدنام کروانے کی کوشش کی جس سے وہ ہمارے اندر ہی فساد کروانے میں کامیاب بھی ہو چکے ہیں

مذید ہمارے حکمرانوں کو دباؤ میں لا کر ان منہج نبوی والی جہادی جماعتوں کو ختم کروایا جن سے کفار کی جان جاتی اور ان کی جگہ انہی خارجیوں فسادیوں کو فنڈنگ کی تاکہ جہاد رکا رہے مسلمان آپس میں ہی دست و گریباں رہے اور یہ بدبخت حکمرانوں کو دباؤ میں رکھ کر گستاخیاں کرتے رہے ان کے منصوبے کی  واضع مثال وہ خارجی جماعتی ہیں جو اپنے مسلمانوں پر تو ہتھیار اٹھاتی ہیں مگر ان کفار کو بعد میں دیکھنے کا بہانہ بنا کر نظر انداز کرتی ہیں اور دوسری جانب ہمارے غلام ذہن حکمران ہیں جن کو ڈالر و پاؤنڈ کے نشے میں مبتلا کرکے ان کفار نے قابو کیا ہوا ہے جو اپنی عزت نفس کی خاطر تو اپنے مخالفین سے جنگ تک کر لیتے ہیں مگر ناموس رسالت کیلئے سرکاری طور پر شاتم رسول شحض کے قتل کرنے کا اعلان تک کرنے سے گھبراتے ہیں اب تو یہ صورتحال ہے کہ ہمارے حکمران اس ناپاک جسارت کہ جس کی سزا شرع اللہ میں قتل ہے ، پر محض معافی پر ہی اکتفاء کرتے نظر آ رہے ہیں اور کافر معافی مانگنے سے بھی انکاری ہے

 آج دنیا کی بہترین افواج میں سے بہترین فوجیں مسلمانوں کے پاس ہیں نیز ایٹم بم تک ہمارے پاس ہے مگر وہن میں مبتلا عوام و  حکمران حکمت کا راگ الپا کر خود کو اور عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں

یقین کیجئے جس دن ہم نے سیرت نبوی کے مطابق زندگیاں بسر کرنا شروع کر دیں ہمارا کھانا ،پینا ،اٹھنا ،بیٹھنا اور ہتھیار اٹھانا سنت محمدی کے تابع ہو گیا اسی دن کافر ڈر کے مارے ہمارے غلام ہو جائینگے مگر اس کے لئے ہمیں خود کو سنت رسول اور حکم ربی کے تابع کرنے کی ضرورت ہے 

آج فرانس کی گستاخیوں پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے مگر کیا مجال کہ کسی مسلمان حکمران نے سرکاری طور پر زبانی کلامی ہی اسے مذہب کے خلاف جنگ کا نام دیا ہو یقین کریں جس دن کسی ایک بھی مسلمان حکمران نے توہین رسالت کو دنیا اور اسلام  کے لئے خطرہ قرار دے کر فوجوں کو صرف حکم دے دیا کہ شاتم رسول سے جنگ کیلئے تیار ہو جاؤ  اسی دن کافر توہین رسالت چھوڑ دے گا اور ناموس رسالت مذید بلند ہو جائے گی مگر آج ہم دنیاوی زندگی میں رنگے زبانی کلامی باتیں بھی کرنے سے گئے ان سے جنگ تو دور کی بات ہم ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے سے گھبرا رہے ہیں حالانکہ ان کے برانڈز کے متبادل ہمارے اپنے ذاتی برانڈز موجود ہیں مگر ہمیں چسکا لگ چکا ہے کفار کی اشیاء کھانے پینے اور پہننے کا 

حکمران تو پتہ نہیں کب جاگے گے ہمارا تو فوری فرض ہے کہ ہم فرانس کی تمام اشیاء کا بائیکاٹ کریں ہماری زبانیں ہماری قلمیں فرانس کے خلاف علم بغاوت بلند کریں تاکہ حکمران جاگ جائیں اور آقا نامدار پیغمبر اسلام پیغمبر امن جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس رسالت پر آنچ نا آنے پائے سو قارئین آج سے تہیہ کر لیں ہم اپنے حصے کا کام آج سے ہی شروع کرتے ہیں ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے اپنا قلم اپنی زبان اپنی تقریر اپنی تحریر ان کی مخالفت میں کرکے باقی ان شاءاللہ کل بھی عشق رسول کے داعیوں نے ان کی گردنیں کاٹیں تھیں اور آج بھی کاٹیں گے ان شاءاللہ 

تو جلدی کیجئے تاکہ کل روز محشر جام کوثر پینے کے لئے بتلا سکیں کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کی ناموس کی خاطر ان لعنتی کفار سے نفرت کی تھی

 باقی ان حکمرانوں میں میرا رب غیرت عطا فرمائے تاکہ اسلام کا بول بالا رہے اور یہ کفار کی غلامی کی بجائے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آ کر اسلام کو دوام بخشیں


Wednesday, 14 October 2020

انتہائی کمزور معیشت رعب پوری دنیا پر مگر کیسے ؟ ،،،،، ازقلم غنی محمود قصوری

 غلامی ایک بہت بڑی لعنت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلامی کو ناپسند کیا ہے اس کئے میرے نبی نے غلبہ اسلام کے لئے غزوات کئے اور صحابہ و امت محمدیہ کو جنگ کیلئے تیار رہنے کا حکم دیا 

آج ہم بات کرتے ہیں اپنے ہمسائے اور اسلامی دوست ملک افغانستان کی یہ ملک مختلف ادوار میں مختلف سپر پاروں کے قبضے میں رہا مگر ہر بار شکشت سپر پاوروں کا مقدر ٹھہری پچھلی صدی کی فرعون صفت سپر پاور برطانیہ نے 1919 میں افغانستان پر قبضہ کیا تو افغانی اپنے لیڈر شاہ امان اللہ خان کی قیادت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور وقت کی سپر پاور کا ستیا ناس کر دیا 

اس کے بعد دنیا کی بہت بڑی سپر پاور جسے دنیا سرخ ریچھ کے نام سے پکارتی تھی افغانستان پر قابض ہو گئی مگر 1979 سے 1989 تک اس دس سالہ جنگ میں افغانیوں نے اس سرخ ریچھ کو ایسے مارا کہ دنیا آج بھی اس کے ہوئے ٹکڑے دیکھ کر ششدرہ رہ جاتی ہے اس جنگ میں پاک آرمی نے افغانستان کا بھرپور ساتھ دیا تھا یو افغانستان میں ایک اور سپر پاور کی قبر کا اضافہ ہو گیا اس کے بعد افغانیوں کی آپسی لڑائی سے خانہ جنگی شروع ہو گئی اور آخر افغان طالبان اسلامی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے جو موجودہ وقت کی سپر پاور امریکہ کو ایک آنکھ نا بھاتا تھا اور اسی دوران 2001/9/11 کو امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملہ ہوا جس کا الزام امریکہ نے اسامہ بن لادن پر لگایا جو اس وقت افغانستان میں تھے اور اسی کو جواز بنا کر امریکہ افغانستان پر 7 اکتوبر 2001 کو افغانستان پر حملہ کر دیا 

امریکہ کا خیال تھا ساری دنیا اس کے تابع ہے اور جلد افغانی بھی زیر ہو جائینگے اور یوں اسے پاکستاں پر قبضہ کرنے میں آسانی ہو گی مگر وہ بھول گیا کہ اس کی پنجہ آزمائی افغانستان اور پاکستان سے ہے گو کہ پاکستان ڈبل گیم کھیل رہا تھا مگر اصل کردار پاکستان کا ہی ہے خیر وقت کا فرعون امریکہ آج 19 سال بعد بھی افغانستان میں خاک چاٹ رہا ہے جبکہ افغان طالبان نے 80 فیصد علاقے پر دوبارہ کنٹرول کر لیا ہے اب امریکہ پاکستان سمیت افغانیوں اور دیگر ممالک کی منت سماجت کر رہا ہے کہ مجھے جانے دو مگر افغانی کہتے ہیں جو لینے آئے تھے ابھی وہ تو لیتے جاؤ یعنی ٹکڑے ٹکڑے ہونا جیسا کہ برطانیہ و روس  ہو چکا اس لئے امریکہ بار بار امن معائدے کر رہا ہے انہی طالبان سے جنہیں وہ کہتا تھا کہ یہ جانوروں سے بھی بدتر لوگ ہیں میں ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دونگا مگر آج 19 سال بعد بھی افغانی اسی آن بان شان سے لڑ رہے ہیں جبکہ امریکی فوجیوں سمیت امریکہ عوام سڑکوں پر نکل رہی ہے کہ افغانستان جنگ کو ختم کیا جائے مگر ان شاءاللہ پاکستان اور افغان طالبان امریکی ریاستوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے تک ہر صورت اس جنگ کو جاری رکھیں گے چاہے امریکہ اس وقت سپر پاور نہیں بھی رہا مگر مقصد اسے توڑنا ہے جو کہ ان شاءاللہ پورا ہونے ہی والا ہے 

سوچنے کی بات ہے بھوک افلاس کے مارے افغانی جن کی معیشت انتہائی کمزور ہے وہ اس قدر غالب کیوں ہو رہے ہیں اس کے لئے ہم پہلے دیکھتے ہیں رب کا فرمان کہ افغانی اس پر کس قدر عمل پیرا ہیں

اللہ تعالی فرماتے ہیں تمام مسلم ممالک ،حکمرانوں اور لوگوں کیلئے

اور ان کافروں کے لئے جس قدر تم سے ہو سکے قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے سامان جمع رکھو اور اس کے ذریعہ سے تم ان پر رعب جمائے رکھو ،ان پر جو کہ کفر کی بدولت اللہ کے دشمن ہیں اور تمہارے دشمن ہیں اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے ان کو اللہ ہی جانتا ہے۔اور اللہ کی راہ میں جو چیز بھی خرچ کرو گے وہ تم کو پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارے لئے کچھ کمی نا ہو گی۔  الانفال 60

اس سورت میں اللہ تعالی تمام مسلمانوں ،حکمرانوں کو غالب رہنے کا طریقہ بتا رہے ہیں کہ جن کافروں اللہ کے دین کے باغیوں کو تم جانتے ہو ان کیلئے قوت جمع رکھو اور اس قوت سے ان پر رعب طاری رکھو قوت سے مراد فی زمانہ اسلحہ ہے جیسے کبھی تلواروں تیروں کا دور تھا آج ویسے ہی کلاشن کوف و دیگر اسلحہ قوت ہے خود میرے نبی کی اسلحہ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو گھر میں چراغ جلانے کو تیل نا تھا مگر رب کے فرمان اور ان کافروں کیلئے قوت تیار رکھو، پر عمل کرتے ہوئے نو تلواریں موجود تھیں آج افغانی بھی رب کے فرمان اور محمد ذیشان کے حکم پر ہتھیار بطور قوت لازمی رکھتے ہیں ان کا بچہ بوڑھا اور جوان تو دور عورتیں بھی اسلحہ چلانے میں ماہر ہوتی ہیں بلکل جیسے دور نبوی میں تمام  اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقٹ جنگ کے سپاہی بن کر رہتے تھے آج بلکل اسی کی مانند افغانی بھی ہر وقت جنگ کیلئے تیار رہتے ہیں 

ان کی جنگی تیاریوں کا ایک حقیقی قصہ آپ کو سناتا ہوں

یہ 2001 کی بات ہے کراچی کا ایک تاجر تھا جو کہ اکثر و بیشتر بسلسلہ کاروبار کابل جایا کرتا تھا چونکہ اس وقت بارڈر کھلا تھا اس لئے آنے جانے میں دقت نا تھی وہ کہتا ہے کہ ایک دن میں اپنے چار دوستوں کے ہمراہ کابل گیا وہاں میرا ایک حاجی قدرات اللہ نامی تاجر بڑا اچھا دوست بنا ہوا تھا جو کہ کراچی میرے پاس آتا رہتا تھا اس کا گاڑیوں کا بہت بڑا شو روم تھا 

مجھے خریداری کرتے ہوئے دیر ہو گئی تو میں سلام دعا کیلئے قدرت اللہ کے پاس چلا گیا جس نے اپنی طرز کی خصوصی مہمان نوازی کی تو میں نے جانے کی اجازت مانگی تو کہنے لگا بھائی رات ہو گئی ہے آج رات میرے پاس ہی رک جاؤ تاجر کہتا ہے میں نے اس کی بات مان لی اور اس کے ساتھ اس کی گاڑی میں بیٹھ گیا جبکہ میرے ساتھی میری گاڑی میں پیچھے ہو لئے نصف گھنٹے کے سفر کے بعد ایک بہت بڑا دروازہ آ گیا جس کے کھلنے پر گاڑی اندر داخل ہو گئی تو مجھے افغانی دوست نے ایک کمرے میں بیٹھنے کو کہا جو کہ مٹی کا بنا ہوا تھا بلکہ مین گیٹ سے سارا گھر ہی مٹی سے  تیار کیا گیا تھا کہتا میں سوچنے لگا یہ 5 سو سے اوپر گاڑیوں کے شو روم کا مالک ہے اس کا تو گھر بہت شاندار ہو گا شاید یہ اس کا کوئی فارم ہاؤس ہو خیر اتنے میں حاجی قدرت اللہ داخل ہوا اور ہم کھانا کھانے لگے میرے دوسرے دوست اور حاجی قدرت اللہ کا منشی بھی ساتھ تھا کہتا مجھ سے رہا نا گیا اور میں نے پوچھ لیا کہ حاجی صاحب آپ کا گھر کہا ہے تو اس پر حاجی صاحب مسکرا کر بولا یہی تو گھر ہے جہاں ہم بیٹھے ہیں کہتا مجھے شدید جھٹکا لگا کہ کڑوروں کا مالک اور کچہ گھر کہتا ہے میں حاجی صاحب سے کہنا لگا کہ حاجی صاحب  آپ ماشاءاللہ صاحب حیثیت ہیں بہت بڑا کاروبار ہے آپ کا تو پھر یہ کچہ گھر کیوں؟ جبکہ ہمارے پاکستان میں تو رواج ہے اگر کسی کے پاس ایک کروڑ روپیہ آ جائے تو وہ نصف کروڑ سود وغیرہ پر ادھار پکڑ کر اعلیٰ ترین مکان بناتا ہے تاکہ لوگ داد دے سکیں اور سٹیٹس اونچا رہے اور لوگ کہیں کہ یہ بنگلہ فلاں صاحب کا ہے

 اس پر حاجی صاحب کہنے لگے بھائی صاحب یہ دنیا فانی ہے گھر سنگ مر مر کا ہو یا مٹی کا  اس میں تو وقتی گزارہ ہی کرنا ہے آپ تو جانتے ہیں کہ ابھی روس سے لڑے تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے اب اوپر سے امریکہ دھمکیاں دے رہا ہے کیا پتہ کب یہ گھر چھوڑنا پر جائے اور مجھے اپنی کلاشن اٹھا کر پھر سے ملا عمر کیساتھ جہاد میں نکلنا پڑے  سوچو اگر میرا بہت قیمتی گھر ہو گا تو مجھے اسے چھوڑنا مشکل ہو گا اب یہ گھر میرے لئے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا آپ تو جانتے ہیں کل روس آ گیا تھا اس کے خلاف لڑے تھے اب امریکہ آنکھیں دکھا رہا ہے اب اس کے خلاف لڑنا فرض ہے اس لئے بھائی صاحب میرے لئے گھر زیادہ ضروری نہیں ملکی دفاع ضروری ہے 

تاجر کہتا ہے میں اس کی باتیں سن کر ششدرہ رہ گیا اور واپس کراچی آ گیا ٹھیک چار ماہ بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا اس کے بعد میرا حاجی قدرت اللہ سے رابطہ نا ہوا تقریبا 16 ماہ بعد حاجی قدرت اللہ کا منشی میرے پاس کام کے سلسلے آیا تو میں نے اس سے پوچھا حاجی صاحب اور اس کے خاندان کی بتاؤ کیسے ہیں تو منشی کہنے لگا جب امریکہ نے دھمکیاں دینا زیادہ کر دیں تو حاجی صاحب کو اندازہ ہو گیا تھا اب امریکہ جنگ کے بغیر نہیں رہے گا سو اسی دن حاجی صاحب نے اپنے بال بچے پشاور پاکستان بھیج دیئے اور خود واپس آ کر مجھے گاڑیوں کی اصل قیمت کی لسٹ بنا کر دے دی پوری 480 گاڑیاں تھیں سب کی اصل قیمت خرید ساتھ لکھی تھی اور یہ بھی لکھا تھا کہ میں امریکہ کے خلاف امیر المومنین ملا عمر کے ساتھ جنگ کی تیاری کرنے لگا ہوں سو میں یہ کاروبار ختم کر رہا ہوں یہ گاڑیوں کی اصل قیمت ہے اگر ہو سکے تو ان کی اصل قیمت کے علاوہ کچھ نفع دے دیں ورنہ اصل قیمت ہی دے دیجئے کیونکہ مجھے معرکہ حق و باطل میں اسلام کا دفاع کرنا ہے منشی کہتا ہے کہ میں وہ لسٹ اور گاڑیاں لے کر دوسرے تاجروں کے پاس گیا جن کا حاجی صاحب سے لین دین تھا کسی نے نفع دیا تو کسی نے نا دیا میں ساری رقم لے کر حاجی صاحب کے پاس واپس آ گیا جو اب اپنی کلاشن کوف پکڑے ہوئے تھے انہوں نے مجھے میری رقم دی اور باقی رقم سے کچھ پشاور گھر پہنچا دی اور کچھ کا اسلحہ خرید لائے اب اللہ جانے کہاں ہیں کس حال میں ہیں مگر ان کا خاندان پشاور میں رہ رہا ہے 

تاجر کہتا ہے یہ سنتے ہی میں کافی دیر سوچ میں ڈوبا رہا کہ ان افغانوں کی اصل کامیابی کا راز کتاب اللہ اور سنت محمد پر عمل کرتے ہوئے کفار کیلئے قوت تیار رکھنا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کا پیدا ہونے والا بچہ چلنے بولنے کیساتھ ہتھیار چلانا بھی سیکھ جاتا ہے ان کے گھر تو کچے ہوتے ہیں مگر ان کا اسلحہ اور ان کی گاڑیاں جدید اور طاقتور ہوتی ہیں اور ان کے ایمان انتہائی مضبوط

قارئین اللہ رب العزت کوشش مانگتا ہے نتیجہ نہیں آج افغانیوں کی کوشش کو 19 سال ہو گئے جس کی بدولت اپنے ساتھ سپر پاور لکھنے والا فرعون صفت امریکہ سپر پاور کا لفظ ہی بھول گیا ہے اور اب قطر میں تو کبھی کسی ملک میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرتا نظر آتا ہے اور وہ افغانی اپنے تانے ہوئے سینوں سے امریکہ کے دلوں پر رعب طاری کئے ہوئے ہیں

افغانی سپر پاوروں سے زیر اس لئے نہیں ہوتے کیونکہ ان کے دلوں میں وہن نہیں وہ حکم ربی کی بدولت جہاد و قتال کے لئے تیار رہتے ہیں

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اسلام و پاکستان کیلئے کافروں کے دلوں میں رعب طاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Sunday, 11 October 2020

تم قانون نہیں بناتے نا بناؤ لوگ تو پھر ایسا ہی کرینگے،،، از قلم غنی محمود قصوری


یہ ملک اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے خواب  اور حضرت محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں سے قرآن و حدیث کے مطابق نظام رائج کرنے کیلئے بنایا گیا تھا جس کا اقرار کئی بار مرحوم قائد اعظم اپنی تقاریر میں کر چکے تھے یہی بات کافر کو ازل سے ناگوار ہے اور پاکستان میں شرع اللہ کا نفاذ بھی کفار کیلئے قابل قبول نہیں اسی لئے کفار نے اس نظام کو ختم کرنے کیلئے اسی ملک کے اندر سے ہی کچھ دین فروش لوگوں کو خریدا ان کو پڑھایا لکھایا اور اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز کروایا تاکہ وہ منافقین اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے شرع اللہ کے نفاذ میں رکاوٹوں کا جال بچھائے رکھیں اور عوامی مطالبات کو کچلتے رہیں حالانکہ ہماری اسمبلیاں اور سینٹ عوامی مطالبات پر قانون سازی کرنے کے دعویدار ہیں جبکہ صدر پاکستان اپنا ذاتی اختیار استعمال کرتے ہوئے قانون سازی کر سکتا ہے

ہمارا المیہ ہے کہ ہم پر مسلط سابقہ و موجودہ حکمران طبقہ ووٹ تو ہم سے لیتا ہے جبکہ نظام کفار کا چلا رہا ہے حالانکہ قیام پاکستان کے اوائل دنوں میں  قائد اعظم  کی قیادت میں ارض پاک پاکستان کتاب اللہ اور شریعت محمدیہ کی جانب گامزن تھا مگر اللہ کو ہمارا مذید امتحان درکار تھا سو اللہ نے قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کو اس دار فانی سے اپنے پاس بلا لیا جس کے بعد حالات کچھ غلط سمت چل نکلے تاہم مرحوم جنرل ضیاء الحق شہید نے عملی طور پر حدود اللہ کا کچھ نفاذ کرکے اس ملک پاکستان کو اس کی اصلی منزل کی طرف گامزن کیا مگر ازل سے شرع اللہ کے دشمن اس نظام سے گھبرا گئے تاکہ یہ شرع پر قائم پاکستان پوری دنیا پر چھا کر سپر پاور بن جائے گا کیونکہ مسلمان کی بقاء و سلامتی شرع اللہ ہی میں ہے  سو انہوں نے جنرل ضیا الحق کو شہید کروا دیا

دیکھا جائے اسلام سے دوری کمزور عدالتی نظام اور شرع اللہ سے بغاوت کے باعث آج موجودہ پاکستان میں ہر برائی ملے گی مگر حالیہ چند سالوں سے زنا کی وارداتیں انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہیں  ایک اندازے کے مطابق ملک پاکستان میں سالانہ 3 ہزار سے اوپر  زنا بالجبر کے مقدمات درج ہوتے ہیں جن میں چھوٹی معصوم بچیوں اور بچوں تک سے زنا کیا گیا ہوتا ہے مگر افسوس صد افسوس کے ہمارے کمزور عدالتی نظام،وڈیرہ شاہی اور رشوت ستانی کے باعث صرف 3 فیصد لوگوں کو ہی سزا ہوتی ہے وہ بھی واجبی سی باقی لوگ مکمل رہا ہو جاتے ہیں جو کہ ہمارے عدالتی نظام کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہیں حالانکہ ریپ کیسز بہت زیادہ ہیں مگر یہاں صرف رجسٹرڈ کیسز کی بات کی گئی ہے

جیسے جیسے ملک میں ریپ کیسز کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ہی لوگوں کی طرف سے مجرمان کو سرعام پھانسی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے مگر افسوس کہ ارباب اختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں مجرمان کو سرعام پھانسی دینے میں کیا قباحت ہے؟

 حالانکہ  تین دھائیاں قبل جنرل ضیاء الحق نے ریپ کیس کے مجرمان کو جرم ثابت ہونے پر سر عام پھانسی پر لٹکایا تھا جس کے باعث پوری ایک دھائی کوئی ریپ کیس نا ہوا تھا 

بڑھتے ہوئے ریپ کیسز اور پھر ملزمان کا رہا ہو جانا لوگوں کو مایوس کر رہا ہے جس پر رنجیدہ لوگوں نے ریپ کیسز کے مجرمان کو خود ہی سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تناظر میں رواں برس ملک میں ایسے کئی ملزمان کو لوگوں نے خود موت کے گھاٹ اتارا مگر ان میں سے ایک حالیہ کیس قصور کا ایسا بھی ہے جس کے باعث لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہی  کہ مجرمان کو سزا عدالت نہیں دیتی تو پھر ہم خود ہی سزا دینگے 

23 ستمبر کو قصور کے تھانہ کھڈیاں کے علاقے ویرم ہتھاڑ میں اسلم عرف ملنگی نامی درندے نے ایک دس سالہ بچی سے زنا بالجبر کی کوشش کی تھی ملزم کے خلاف بچی کے ورثاء نے تھانہ کھڈیاں خاص قصور میں مقدمہ نمبر 548/20 بجرم 376/511 درج کروایا مگر ملزم نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی اور بچی کے ورثاء کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا جس پر رنجیدہ اور عدالتی نظام سے بیزار ورثاء نے خود ہی ملزم ملنگی کو وکیل کے چیمبر میں قتل کر دیا 

سوچنے کی بات ہے ایک جگہ اکھٹے رہتے ہوئے آخر کیا وجہ تھی کہ بچی کے ورثاء نے ملزم کو کچہری میں قتل کیا حالانکہ وہ ملزم کو اس کے گھر یا علاقے میں جہاں کہ دونوں فریقین رہتے تھے، وہاں پر ہی قتل کر سکتے تھے مگر درحقیقت بچی کے ورثاء نے اپنے قریب ترین ہوئے ریپ کیسز زینب مرڈر کیس،سانحہ چونیاں قصور اور کھڈیاں ہی میں  پولیس اہلکار کے ہاتھوں جنسی زیادتی پر آمادہ نا ہونے پر حافظ قرآن کو قتل کرنے والے ملزم کا پروٹوکول دیکھا اور وہ ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری اور ملزم کی طرف سے کھلے عام دھمکیوں پر سخت رنجیدہ تھے سو انہوں نے  کچہری میں ملزم کو اس لئے  قتل کیا کہ یہ ایک پیغام عدلیہ،انتظامیہ،مقننہ کے نام ہو جائے کہ اگر تم انصاف کے نام لیوا اور دعوے دار ہو کر انصاف نا کر سکو گے تو پھر ہم تو اپنی عزت کی خاطر ایسا کرینگے ہی


Sunday, 4 October 2020

بہنوں بیٹیوں کا کھانے والے ہرگز فلاح نا پائنگے ،،، ازقلم غنی محمود قصوری

 زمانہ جہالت میں لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیتے تھے کیونکہ عورتوں کے بھی حقوق ہیں سو ان کے حقوق کو کھانے کی خاطر ان کو قتل کرنا معمول تھا پھر میرے اور آپ کے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اس فعل بد سے لوگوں کو روکا اور حقوق خواتین وضع کئے 

اسلام میں جہاں مردوں کے حقوق ہیں وہیں عورتوں کے بھی حقوق ہیں اور قرآن و حدیث نے ان حقوق کو کھول کھول کر بیان کیا ہے تاکہ ہر حقدار کو اس کا حق ملے مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں زیادہ تر بہنوں ،بیٹیوں کا وراثتی شرعی حق کھانا ایک فیشن بن چکا ہے اور اس حق ماری کو بلکل بھی حرام نہیں سمجھا جاتا 

اگر کوئی عورت اپنا حق مانگے تو اسے سو طرح کے بہانے سنا کر طعنہ زنی کی جاتی ہے کبھی اس کی پرورش کی تو کبھی اسے تعلیم دلوانے کی کبھی اس کو اچھا کھلانے کی تو کبھی اس کی شادی پر آنے والے اخراجات کی غرض زیادہ تر عورتوں کو انکے اس جائز شرعی وراثتی حق سے محروم ہی رکھا جاتا ہے اگر کوئی بیچاری اپنا حق بھائی،باپ سے مانگ بیٹھے تو بمشکل ہی ادا کیا جاتا ہے بعض تو ایسے واقعات بھی رونما ہو چکے کہ بہنوں بیٹیوں کو جائیداد میں ان کا حق نا دینے کی خاطر پوری جائیداد بیٹوں کے نام کر دی جاتی ہے اور یوں چاہتے ہوئے بھی وہ بیچاری اپنا حق نہیں لے سکتیں 

واضع رہے جس طرح ایک لڑکے کی پرورش،تعلیم اور شادی والدین پر فرض ہے بلکل اسی طرح ایک لڑکی کی پرورش،تعلیم اور شادی بھی والدین پر بحیثیت واجب ہے اور یہ ان کا حق ہے 

کسی کا حق مارنا چوروں ڈاکوؤں کا کام ہے اور اس حق مارنے کے متعلق اللہ رب العزت فرماتے ہیں

اے ایمان والوں تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نا کھاؤ ،سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور تم اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو ،بیشک اللہ تم پر مہربان ہے ۔۔ النساء 29

اس سورہ میں اللہ تعالی نے کسی کا بھی حق مارنے سے منع فرمایا اور کہا کہ ایسا کرنے والے اپنی جانوں پر ظلم کرینگے اور ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا 

ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہذہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور نفس کی خواہش کی پیروی نا کرو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی ،جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک گئے ان کے لئے سخت عذاب ہے کیونکہ وہ آخرت کو بھول گئے ۔۔سورہ ص 26

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے نبی کو بڑے سخت الفاظ میں فرما رہے ہیں کہ تم زمین میں خلیفہ مقرر کئے گئے ہو سو اللہ کی راہ سے بھٹک کر اپنے نفس کی پیروی کے پیچھے لگ کر حق کے خلاف فیصلے نا کر بیٹھنا ورنہ ٹھکانہ جہنم ہو گا حالانکہ نبی جنت کے وارث اور معصوم الخطاء ہوتے ہیں مگر اللہ کا مقصد نبی کی مثال دے کر ہمیں سمجھانا ہے 

 والدین اولاد کے خلیفہ ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے مابین حق کیساتھ وراثت کی تقسیم کریں جو اسلام نے بتا دی بصورت دیگر وہ جہنم کے حقدار ہونگے لہذہ وراثت تقسیم کرتے وقت عورتوں،بہنوں اور بیٹیوں کو بھی ان کا اسلام کی رو سے مقرر کردہ حق لازمی دینا چاہیے ہاں اگر کوئی بہن بیٹی اپنا حق نہیں لیتی تو اس کی مرضی اور آج ہے بھی ایسا زیادہ تر عورتیں اپنے بھائیوں بھتیجوں کو اپنا حق فی سبیل اللہ دے دیتی ہیں جو کہ ان کی اعلی ظرفی کی بہت بڑی پہچان ہے  

حقوق خواتین پر میرے شفیق نبی علیہ السلام نے بہت زور دیا 

اس پر ایک صحابی رسول فرماتے ہیں

کہ میں نے پوچھا ،یارسول اللہ میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلح رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ،میں پھر پوچھا کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے پھر فرمایا اپنی ماں کیساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنے باپ کیساتھ میں پھر پوچھا کس کے ساتھ تو آپ نے فرمایا رشتہ داروں کے ساتھ پھر سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ۔۔۔ ترمذی  1645

اس حدیث میں صحابی رسول کے صلح رحمی کے متعلق  پوچھنے پر تین بار ماں اور پھر اس کے بعد باپ اور پھر اس کے بعد قریبی رشتہ داروں اور پھر درجہ بدرجہ ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی کا حکم دیا اس سے معلوم ہوا ہماری صلح رحمی، حق گوئی اور انصاف کے سب سے زیادہ حقدار ہمارے ماں باپ اور رشتہ دار ہیں تو جب مسئلہ وراثت میں تقسیم کا ہوگا تو پھر سب سے پہلے صلح رحمی اور انصاف کے حقدار ماں باپ کے بعد بہنیں اور بیٹیاں کیوں نا ہونگیں؟

جہاں شرعیت نے بہنوں کا حق مارنا ممنوع قرار دیا ہے وہاں پاکستانی قانون نے بھی اس کی ممانعت کی ہے سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو سال قبل والدہ کی طرف سے صرف بیٹوں کو ہی وراثت دینے پر اسے کالعدم قرار دے کر بیٹیوں کو بھی اس وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا اور کہا کے بیٹیوں کو ان کے شرعی وراثتی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا ، بحوالہ 2080 _ scmr 2018

بہنوں بیٹیوں کا حق مارنے والے اسلام کے بھی مجرم ہیں اور قانون پاکستان کے بھی ایسے بندے کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہوتی اور وہ دنیا میں تو رسواء ہوتا ہی ہے روز قیامت بھی رسوا ہو گا کیونکہ اسلام میں کسی غیر کا حق مارنے کی اجازت نہیں تو پھر اپنی سگی بہنوں، بیٹیوں کا حق مارنے والوں کو کسطرح اجازت ہو گی؟

 لہذہ ماں باپ تقسیم ترکے کے وقت بیٹیوں کا حق ادا  کرنا ہرگز نا  بولیں اور بیٹوں کیساتھ بیٹیوں کا جائز حق بھی انہیں ادا کریں تاکہ ان کے جگر کا ٹکڑا جو اب کسی اور کے گھر کی زینت ہے وہ بھی اپنے شرعی حق کو لے کر عزت و سکون سے گزر بسر کرسکے

 یقین کریں آج جہیز جیسی لعنت کو ختم کرکے اس جائز شرعی حق کو ادا کرنے کی ضرورت ہے تبھی ہمارا معاشرہ ترقی کر سکے گا ورنہ بیٹیوں ،بہنوں کے حق مارنے سے ہم عذاب الٰہی کے حقدار تو ہیں اللہ کی رحمت کے ہرگز نہیں کیونکہ  چور، ڈاکو حق مارنے والے  اور غاصب کبھی فلاح نہیں پاتے 

اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین