Friday, 21 June 2019

مرکز یرموک پتوکی کے جرائم

 غنی محمود قصوری 


گزشتہ شام پانچ بجے کے قریب جی ٹی روڈ پتوکی پر مرکز یرموک کے بلکل سامنے سے گزرا دور سے ہی مرکز پر نگاہ پڑی تو خود بخود ایکسیلیٹر پر گرفت ڈھیلی پڑتی گئی اور پھر میں مرکز کی جانب دیکھنے لگا بلکل کم رفتاری سے چلے جا رہا تھا دل کیا رک کر ذرا اس مرکز کو اندر آج پھر دیکھ لوں آس پاس نگاہ دوڑائی گیٹ بند تھا اور باہر کوئی بندہ بشر موجود نا تھا چند دن پیچھے ماضی میں چلا گیا یاد آیا اس گیٹ پر ہر وقت دو تین باریش لوگ موجود ہوتے تھے اور وہ ہر آنے والے کو مرحبا کہتے تھے  جی ٹی روڈ کے بلکل اوپر ہونے کی بدولت زیادہ تر مسافر لوگ نماز پڑھنے کیلئے آتے تھے تو مسجد میں موجود ہر بندے کو کھانے کی دعوت دی جاتی تھی اب یہ اس فرد کی مرضی قبول کرے یاں نا کرے خیر میں آہستہ آہستہ سے مذید یاد ماضی میں چلا گیا اور اس مرکز کے ،جرائم گننے لگا کہ جس یرموک یعنی یرکانے (ڈرانے) والے سے کافروں کو یرکنا چائیے تھا اس سے اپنے ہی کیوں یرکنے لگے آخر کیا جرم تھا اس کا کہ پورے ملک کے منبر و محراب کی طرح اس یرموک کے اوپر بھی پہرے بٹھا دئیے گئے حالانکہ پہرے تو اس پر بٹھائے جاتے ہیں جو خرابی پیدا کرے پھر یک دم میرے ذہن میں 2008 کا اجتماع یرموک آ گیا کیونکہ وہ اجتماع میری زندگی کا پہلا اجتماع تھا اس سے پہلے محلے کی سطح پر ان ،دہشت گردوں، کے پروگرام سننے کے کئی ،جرائم مجھ سے مرتکب ہو چکے  تھے اب میں ماضی میں اجتماع میں آگیا ارے یہ کیا لاکھوں لوگ ڈارھیوں والے اور کچھ ڈارھیوں کے بغیر کچھ شلوار قمیض اور کچھ پینٹ شرٹس میں ملبوس حتی کہ اجتماع گاہ کی ایک طرف عورتوں کیلئے الگ پنڈال تھا خیر مقررین آئے اور تقاریر شروع ہو گئیں اور پھر شیخ عبدالغفار المدنی آئے گانے سننے کا ،جرم بتلایا اور اللہ کی پکڑ سے ڈرایا اور وعدہ کیا کہ آج کے بعد گانے نا سنو گے پھر دیگر مقررین آتے گئے کوئی ڈارھی رکھنے کا ،جرم کرنے کا وعدہ لیتا رہا تو کوئی ماں باپ کی خدمت کرنے کا ،جرم کرنے کا وعدہ تو کوئی سود سے بچنے کا وعدہ تو کوئی نگاہیں نیچی رکھنے کا وعدہ کوئی یتیم کی کفالت کرنے کی عظمت کا بتلاتا رہا تو کوئی نگاہیں نیچی رکھ کر چلنے جیسے ،جرم کی تلقین کرتا رہا اور تو اور پھر ان ،دہشت گردوں کے امیر بوڑھے حافظ محمد سعید حفظہ اللہ نے واضع لفظوں کے اندر جوانوں کو بتلایا کہ افواج پاکستان اور دیگر اداروں سے ٹکراؤ جہاد نہیں فساد ہوتا ہے اور جوانوں کو پاک فوج کے شانہ بشانہ مل کر کام کرنے جیسے خطرناک ترین ،جرم کی تلقین کی اور  پاک فوج کے خلاف لڑنے والے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے گلے کاٹنے والے ٹی ٹی پی کے خوارج کو احادیث کی روشنی می خوارج ثابت کرنے جیسا ،جرم کیا مجھے یاد آگیا 2012 کے دن تھے مرکز یرموک میں ایمبولینسوں کے ڈرائیوروں کی فلاح انسانیت کے امیر حافظ رءوف سے میٹننگ تھی میں بھی سفر کرتے ہوئے نماز پڑھنے کی خاطر مسجد میں چلا گیا اور مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے جب حافظ صاحب اپنے ڈرائیوروں سے ہاتھ جوڑ کر التجا کر رہے تھے کسی مریض سے پیسے نا مانگنا اور کوئی دے دے تو بھی ٹھیک نا دے تو اللہ کے واسطے کسی کو فری مریض لانے لیجانے سے مت روکنا اگر پیسوں کی کمی ہو تو مجھ سے رابطہ کرنا   اور تھر کے پیاسے مجبور لوگوں کیلئے کنویں جو کھودے جا چکے تھے ان کنوءوں کی تعداد بتانے کیساتھ ساتھ مذید کنویں کھدوانے جیسے ،جرم کا اظہار کرتے رہے  میں حیران دیکھے جا رہا تھا اور سنتے جا رہا تھا اتنے میں آواز آئی کھانا لگ چکا ہے میں مسجد سے باہر نکلنے لگا ایک باریش ،دہشتگرد نے مجھے روکا اور کہا کھانا کھانے کے بغیر مت جائیے سو میں نے کھانا کھایا اور اپنی منزل کی جانب چل پڑا پھر 2015 میں ماضی مجھے لے گیا کارکنان کی تربیتی نشست تھی محافظ وطن مگر دہشت گرد  پروفیسر حافظ محمد سعید حفظہ اللہ حزب التحریر داعش اور ٹی ٹی پی کے فتنوں سے  لوگوں کو آگاہ کرکے ،جرم کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ اپنے ملک کی عدلیہ انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کی عزت و احترام کا وعدہ لے رہے تھے میں سوچتا چلا گیا اور اس مرکز یرموک کے اندر ہونے والے جرائم کو یاد کرتا چلا گیا اور اس نتیجے پر پہنچا ہاں اس مرکز یرموک کافر کو یرکا دینے والے مرکز سے کافروں کیساتھ ساتھ اپنوں کو بھی ڈرنا چائیے کیونکہ درج بالا میرے بیان شد جرائم نا قابل معافی ہیں اور یہ ایسے جرم ہیں جو انسان کو مسلمان بننے میں معاون ہیں لہذہ یہ ،جرائم اب بند ہونے چائیں کیونکہ ہمارے ملک میں اگر ان ،جرائم والے لوگ موجود ہونگے تو کافر ناراض ہونگے اور اگر کافر ناراض ہوگئے تو پھر گورنمنٹ کیسے چلے گی 

اور آخر میں مجھے یہ شعر یاد آ گیا 


ہوتی اگر منہج میں میرے بھی اجازت 

 احتجاج تو اس پر پھر دیکھتا ہمارا

Thursday, 20 June 2019

کتوں سے کتے کی موت

 غنی محمود قصوری 


9/11 کے بعد امریکہ ایک فاتح بن کر افغانستان میں آیا تھا ایک حکمت کے تحت افغان طالبان نے شہروں کو چھوڑ کر پہاڑوں کا رخ کیا اور گوریلا وار شروع کی جو کہ اوائل میں تو اتنے زیادہ نتائج نا دکھلا سکی مگر رفتہ رفتہ اس گوریلا وار سے امریکہ کے پسینے چھوٹنے لگے اور دن بدن امریکہ کی حالت خراب ہونے لگی روزانہ کی بنیاد پر درجنوں امریکی و اتحادی فوجی مرنے لگی امریکہ بہادر افغان طالبان کی چھاپہ مار کاروائیوں کے ساتھ ریمورٹ کنٹرول بموں سے بھی کافی پریشان تھا اس کے لئے وہ تربیت یافتہ مہنگے سراغ رساں  کتوں کی مدد سے بارودی مواد اور بارودی سرنگوں کو ڈھونڈتا تھا اسی مقصد کیلئے اعلی نسل کے تین کتے امریکہ سے افغانستان لانے کا فیصلہ کیا گیا کتے کراچی سے طورخم کے راستے افغانستان پہنچائے جانے تھے افغان طالبان کو اس مشن کی اطلاع ملی سو ان اللہ کے شیروں نے بھی ایک انوکھا کارنامہ سر انجام دینے کا فیصلہ کیا مقررہ وقت پر کتے کراچی اور پھر زمینی راستے سے طورخم بارڈر پر پہنچے کتے ایک کنٹینر میں تھے اور کنٹینر کے اندر اے سی کا انتظام تھا مجاھدین نے کنٹینر کو افغانستان کی حدود میں داخل ہوتے ہی بغیر کسی مسلح تصادم کے روک لیا چونکہ کنٹینر سیل بند تھا اور باور یہ کرانے کی کوشش کی گئی کہ اس میں فوج کے کھانے کا سامان ہے سو اس لئے ڈرائیور اور کلینر کے علاوہ کوئی فوجی سوار نا تھا اس لئے بڑی آسانی سے مجاھدین نے کنٹینر پر قبضہ کرکے کاروائی شروع کر دی سب سے پہلے ڈرائیو اور کلینر کو باندھا پھر اس کے بعد کنٹینر کی سیل توڑ کر اندر داخل ہو گئے اس کے بعد کتوں کی خوراک کو ضائع کر کے اے سی کا کنکشن کاٹ دیا اور پھر مجاھدین نے اپنی کلاشنوں کو ڈنڈوں کی طرز پر استعمال کرتے ہوئے نایاب ،امریکی تین مہنگے کتوں کی خاطر خواہ ،خدمت شروع کر دی تقریبا دس منٹ کتوں کی خوب دھلائی کی گئی جس سے کتے سہم گئے اور ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گئے پھر اس کے بعد کنٹینر کو بند کرکے کنڈیکٹر اور کلینر کو آزاد کرکے پیغام دیا کہ کتے ہم نے مار دئیے ہیں اب جس علاقے میں لیجانے ہیں جلدی لیجاءو سو کنٹینر چل پڑا اور متعلقہ چھاءونی میں پہنچ کر سارا ماجرا بیان کیا بات چھاءونی کے انچارج تک پہنچی خیر امریکی فوج کا کیپٹین رینک کا فوجی افسر کنٹیر میں داخل ہوا فوجی کا کنٹینر میں داخل ہونا ہی تھا کہ مجاھدین کی مار سے سہمے اور انتقام سے بھرے ہوئے کتے فوجی پر ٹوٹ پڑے فوجی نے چیخ پکار شروع کر دی اور ادھر کتوں نے بھی اپنی کاروائی تیز کر دی ایک کتے نے امریکی فوجی کی گردن دبوچ لی جبکہ دوسرے دو کتوں نے حواس باختہ ہو کر باہر موجود فوجیوں پر حملہ کر دیا  پہلے سے گھبرائے فوجیوں نے کتوں پر فائرنگ کر دی اور دو کتے مر گئے ادھر کنٹینر میں موجود کتے نے امریکی فوجی کی گردن خوب دبوچ رکھی تھی اور فوجی افسر نیم مردہ حالت میں چیخ رہا تھا اب امریکی فوجیوں  نے اس پہلے کتے کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا اور زخمی فوجی افسر کو ہسپتال پہچایا مگر شدید زخمی ہونے کی بدولت کیپٹن مر گیا اس کے علاوہ دوسرے دو کتوں کے حملے سے چار امریکی فوجی کچھ حد تک زخمی ہوئے تھے 

  افغان طالبان کی اس حکمت سے بھرپور بغیر گولی چلائے کاروائی میں امریکہ کا ایک کیپٹین اپنے ہی کتوں سے ہلاک جبکہ چار فوجی  زخمی ہوئے اور تین نایاب اور مہنگے ترین کتے اپنے ہی فوجیوںکے ہاتھوں مارے گئے جس کے اگلے روز امریکی فوج کے بریگیڈئیر رینک کے آفیسر نے روتے ہوئے میڈیا پر بیان دیا کہ ہمیں اپنے کیپٹین کے مرنے پر اتنا دکھ نہیں جتنا تین نایاب اور مہنگے ترین کتوں کا اپنے ہی ہاتھوں سے مارے جانے کا دکھ ہے 

 

رٹو طوطا اور ہم



 غنی محمود قصوری


ایک دانا بندے نے بطور تجربہ ایک بولنے والا طوطا پالا اور روز اسے یہ الفاظ یاد کرواتا ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا، صبح و شام جب بھی اس کا ٹائم لگتا یہی الفاظ طوطے کو یاد کرواتا چند دن کی محنت سے وہ طوطا رٹے رٹائے الفاظ خوب یاد کر چکا اب وہ بندہ جب بھی طوطے کے پنجرے کے پاس آتا طوطا شروع ہو جاتا ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا سارا دن طوطا انھی الفاظ کو دہراتا رہتا اور خوب شور و غل کرتا ایک دن طوطے کے مالک نے طوطے کا امتحان لینے کا ارادہ کیا طوطے کو دانہ ڈال کر اس کے پنجرے کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا اور خود ایک طرف ہٹ کے بیٹھ گیا طوطے صاحب نے وہی الفاظ دہرانے شروع کر دیے اور جب دیکھا کہ پنجرے کا دروازہ کھلا ہے فوری اڑان بھری اور گھر کے صحن میں لگے درخت پر بیٹھ کر وہی الفاظ دہرانے شروع کر دیے ، پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا، وہ شخص اب درخت کے پاس آکر طوطے سے مخاطب ہوا کہ چلو پنجرے میں واپس اور اترو درخت سے نیچے جواباً طوطے نے وہی رٹے رٹائے الفاظ دہرانا شروع کر دیے ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا،

قارئین ایسے ہی کچھ حالات ہمارے ساتھ ہیں اللہ رب العزت نے ہمیں اپنے قرآن اور نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم سے نوازا جو ہمیں پیدائش سے لے کر موت تک زندگی گزارنے کے ہر اصول سے روشناس کرواتے ہیں اور بطور مسلمان ہمارا اللہ کے فضل سے ایمان قرآن اور محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے مگر ہم اس معاشرے میں رہتے ہوئے رسم و رواج کو برا جانتے تو ہیں مگر کرتے وہی طوطے والی بات ہیں۔

ہم چوری چکاری کو برا تو سمجھتے ہیں مگر بات وہی طوطے والی الغرض کہ پیدا ہونے سے مرنے تک دنیا کے ہر برے کام کو برا جانتے ہیں مگر عملاً وہ رٹی رٹائی طوطے جیسی باتیں کہ جو پنجرے سے بھاگ کر بیٹھا درخت پر ہے مگر بول رہا ہے ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا۔ تو جس طرح اس طوطے کا مالک اس سے ناخوش ہو گا کہیں ہمارا مالک بھی ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔ یقیناً یہ بڑے خسارے والی بات ہو گی۔

Tuesday, 18 June 2019

بلال خان شہید

غنی محمدد قصوری


کل وفاقی دارالحکومت  اسلام آباد میں  G 9 پشاور موڑ میں  ملک کے مشہور و معروف شوشل میڈیا ایکٹیویسٹ ،بلاگر اور صحافی بلال خان کو شہید کر دیا گیا مقتول بلال خان شہید ایبٹ آباد کا رہائشی تھا کل رات اپنے کزن کے گھر بہارا کہو میں کھانا کھا رہا تھا کہ انہیں کسی جاننے والے کی کال آئی کہ G9 پشاور موڑ میں گلی نمبر 87 مسجد حسین رضی اللہ کے نزدیک مل لیجئے بلال نے ابھی کھانا شروع ہی کیا تھا کہ کال آ گئی اور جانے کو تیار ہوا اس کے ساتھ اس کا کزن بھی ہو لیا وہاں پہنچ کر کال کرنے والے بندے سے صرف چند منٹ بات کی کہ اس بندے نے جس کے کہنے پر وہاں پہنچے تھے ،نے خنجروں کے پے در پے وار شروع کر دئیے جس سے بلال شدید زخمی ہو کر مسجد کی طرف بھاگا اور مسجد کے امام سے کہاں کہ مجھے اور میرے کزن کو مار رہے ہیں پولیس کو فون کیجئے اور پھر مسجد سے باہر آگیا جسے دیکھتے ہی اس بندے نے بلال اور اس کے کزن پر فائرنگ کر دی فائر بلال کے سینے پر لگا لوگوں نے بلال اور اس کے کزن کو ہسپتال پہنچایا مگر زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے شہید ہو گیا جبکہ اس کا کزن ابھی بھی تشویشناک حالت میں ہسپتال داخل ہے 

بلال شہید عربی یوٹیوب چینل وصال اردو پر کام کرتا تھا اس کے ساتھ فیسبک ٹویٹر پر کافی متحرک ہونے کیساتھ بلاگر بھی تھا یہ اللہ کا شیر خارجیوں اور تکفیریوں کو آنکھوں میں کانٹے کی طرح چھبتا تھا اس دلیر نے اسلام اور پاکستان کی محبت میں فرقہ واریت سے پاک ہو کر پاکستان اور اسلام کے  دشمنوں کا مقابلہ کیا اور بذریعہ ویڈیو چینل اور واٹس ایپ  اپنے نیٹ ورک کو بہت دور دور تک پھیلایا آپ میری بات کا اندازہ یہاں سے ہی لگا لیجئے کہ فیسبک پر اس کے فالوورز کی تعداد  37 ہزار سے زائد ہے اس اللہ کے شیر نے بے خوف و خطر ہو کر خارجیوں تکفیریوں کی اصلیت دنیا تک پہنچائی 

یاد رہی ماضی میں بھی محب وطن شوشل میڈیا ایکٹیویسٹوں کو شہید کیا گیا جن میں  نوروز بلوچ اور احسن عزیر جیسے جوانوں کو ٹارگٹ کرکے شہید کیا گیا جو کہ ایک لمحہ فکر ہے ہماری حکومت وقت اور سیکیورٹی اداروں سے درخواست ہے کہ بلال شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے نشان عبرت بنایا جائے  بلال شہید واحد شوشل میڈیا ایکٹیویسٹ ہے کہ جس نے گستاخانہ خاکوں کے خلاف اپنی صدا پارلیمنٹ تک پہنچائی 

بہرحال شہید بلال تو اللہ کے فضل سے راہ شہادت پا گیا ان شاءاللہ  مگر خارجیوں تکفیریوں کی سوچ غلط ہے کہ اس طرح ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے محب وطن شوشل میڈیا ایکٹیویسٹ و صحافی حضرات کو ہراساں کرکے وہ اپنا کام بغیر کسی رکاوٹ کے کیئے جائینگے تو یہ ان کی بھول ہے اللہ کے فضل سے ہم نا کل ڈرے تھے نا آج ڈرتے ہیں اور نا ہی کل ڈرینگے ان شاءاللہ بطور صحافی بلاگر اور شوشل میڈیا ایکٹیویسٹ ملک و ملت اور اسلام کے غداروں کا مقابلہ کرینگے چاہے جان کی قربانی ہی کیوں نا دینی پڑے ان شاءاللہ 

یہ کیا کم اعزاز ہوگا کہ بروز محشر صحابہ رضی اللہ کے قدموں سے اٹھائے جائیں 

مرنا تو مقدر ہے اسلام پہ جاں دیں گے

Monday, 3 June 2019

پی ٹی ایم ٹی ٹی پی کے طرز عمل پر

gmblogpost04052019

تحریر غنی محمود قصوری 


پشتون تحفظ موومنٹ PTM کی بنیاد 2014 میں تحریک طالبان پاکستان TTP کی ناکامی کے بعد رکھی گئی جو کہ درحقیقت TTP کا سیاسی ونگ ہے اس تنظیم کا لیڈر منظور محسود جو کہ اب منظور پشتین کے نام سے مشہور ہے TTP کے ٹاپ کمانڈر قاری محسن محسود کا سگا بھائی ہے اور خود بھی TTP کا سر گرم کارکن رہ چکا ہے اس تنظیم کی مشہوری جنوری 2018 میں بدنام زمانہ سندھ پولیس کے ایس ایس پی راءو انوار کے ہاتھوں بیگناہ نقیب اللہ معسود کی ماورائے آئین و عدالت شہادت سے ہوئی اس سے پہلے لوگ اس تنظیم سے اتنے زیادہ واقف نا تھے یوں تو اس ٹولے کا ایجنڈہ لاپتہ افراد کی بازیابی شمالی وزیرستان سے فوجی چیک پوسٹوں کا خاتمہ ہے مگر آہستہ آہستہ ان کے منشور میں شامل پاکستان مخالف ایجنڈہ بھی سامنے آنے لگا جس میں کئی بار ان کے کارکنان ناجائز اسلحہ،منشیات اسمگلنگ اور افغانی خود کش بمباروں کی معاونت میں پکڑے گئے اور یوں ان پر ریاست پاکستان کے ساتھ غداری کے جرم میں مقدمات بھی بنتے رہے ان کا پاک فوج کے خلاف نعرہ ،یہ میجر ،کرنل ،جنرل سب بیغیرت بھی شدت اختیار کرتا چلا گیا جسے پاک فوج کے جوان اور افسران برداشت کرتے چلے گئے  ایسے ہی مقدمات میں ملوث کارکنان کو چھروانے کی خاطر اور لوگوں میں پاک فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنے کیلئے 26 مئی 2019 صبح تقریبا 10 سے گیارہ بجے کے درمیان پشتون تحفظ موومنٹ کے شدت پسند جھتے جس کی قیادت محسن داور ایم این اے NA 48 اور علی وزیر ایم این اے NA 50  لیڈران تنظیم ہذہ کر رہے تھے اور اس جتھے میں بیسیوں کارکنان ساتھ تھے ان لوگوں نے خر کام چیک پوسٹ بویا  شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز نعرے بازی کی اور پوسٹ پر موجود اہلکاروں سے بدتمیزی بھی کی تاہم سیکیورٹی فورسز کی جانب سے صبر کا مظاہرہ کیا گیا ان کے کارکنان نے فوج کے جوانوں کو ویڈیو بنانے سے روکا اور مذید اشتعال انگیز نعرے بازی کی اور خار دار تار پار کرکے جوانوں سے ہاتھا پائی بھی کی ہاتھا پائی کے دوران علی وزیر اور محسن داور کے گارڈز نے چیک پوسٹ کی جانب سیدھی فائرنگ کی جس سے 5 فوجی جوان زخمی ہو گئے بعد میں فوج نے دفاعی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 کارکن جانبحق جبکہ 8 زخمی ہوئے جنہیں علی وزیر اور محسن داور چھوڑ کر بھاگ نکلے تاہم فوری پیچھا کرتے ہوئے فوج نے 8 کارکنان سمیت علی وزیر کو گرفتار کر لیا اور انہی کے زخمی کارکنان کو فوری سی ایم ایچ پشاور علاج کیلئے پہچایا گیا جہاں دو فوجی جوان شہید ہو گئے  اسی فوج کہ جن کو یہ ناپاک اور مرتد فوج کہتے ہیں نے انہی دہشتگردوں کا علاج معالجہ شروع کیا  اب سوچنے کی بات ہے ہے کارکنان اور فوج کے درمیان فساد برپا کروا کر یہ دونوں لیڈر کیوں بھاگے ؟ صرف اس لئے کہ فوج اور کارکنان کے تصادم کو بنیاد بنا کر دنیا میں فوج کا امیج خراب کیا جائے مگر یہ لوگ بھول گئے کہ ناں تو یہ بنگال ہے اور ناں ہی 1971 ان شاءاللہ پوری قوم بشمول غیور پشتونوں کے اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی ان شاءاللہ  انڈین لے پالک TTP کی طرح یہ ناکام ہوچکے ہیں اور ان کے ارادے مذید خاک آلود ہونگے ان شاءاللہ

#قصوریات