مرکز یرموک پتوکی کے جرائم
غنی محمود قصوری
گزشتہ شام پانچ بجے کے قریب جی ٹی روڈ پتوکی پر مرکز یرموک کے بلکل سامنے سے گزرا دور سے ہی مرکز پر نگاہ پڑی تو خود بخود ایکسیلیٹر پر گرفت ڈھیلی پڑتی گئی اور پھر میں مرکز کی جانب دیکھنے لگا بلکل کم رفتاری سے چلے جا رہا تھا دل کیا رک کر ذرا اس مرکز کو اندر آج پھر دیکھ لوں آس پاس نگاہ دوڑائی گیٹ بند تھا اور باہر کوئی بندہ بشر موجود نا تھا چند دن پیچھے ماضی میں چلا گیا یاد آیا اس گیٹ پر ہر وقت دو تین باریش لوگ موجود ہوتے تھے اور وہ ہر آنے والے کو مرحبا کہتے تھے جی ٹی روڈ کے بلکل اوپر ہونے کی بدولت زیادہ تر مسافر لوگ نماز پڑھنے کیلئے آتے تھے تو مسجد میں موجود ہر بندے کو کھانے کی دعوت دی جاتی تھی اب یہ اس فرد کی مرضی قبول کرے یاں نا کرے خیر میں آہستہ آہستہ سے مذید یاد ماضی میں چلا گیا اور اس مرکز کے ،جرائم گننے لگا کہ جس یرموک یعنی یرکانے (ڈرانے) والے سے کافروں کو یرکنا چائیے تھا اس سے اپنے ہی کیوں یرکنے لگے آخر کیا جرم تھا اس کا کہ پورے ملک کے منبر و محراب کی طرح اس یرموک کے اوپر بھی پہرے بٹھا دئیے گئے حالانکہ پہرے تو اس پر بٹھائے جاتے ہیں جو خرابی پیدا کرے پھر یک دم میرے ذہن میں 2008 کا اجتماع یرموک آ گیا کیونکہ وہ اجتماع میری زندگی کا پہلا اجتماع تھا اس سے پہلے محلے کی سطح پر ان ،دہشت گردوں، کے پروگرام سننے کے کئی ،جرائم مجھ سے مرتکب ہو چکے تھے اب میں ماضی میں اجتماع میں آگیا ارے یہ کیا لاکھوں لوگ ڈارھیوں والے اور کچھ ڈارھیوں کے بغیر کچھ شلوار قمیض اور کچھ پینٹ شرٹس میں ملبوس حتی کہ اجتماع گاہ کی ایک طرف عورتوں کیلئے الگ پنڈال تھا خیر مقررین آئے اور تقاریر شروع ہو گئیں اور پھر شیخ عبدالغفار المدنی آئے گانے سننے کا ،جرم بتلایا اور اللہ کی پکڑ سے ڈرایا اور وعدہ کیا کہ آج کے بعد گانے نا سنو گے پھر دیگر مقررین آتے گئے کوئی ڈارھی رکھنے کا ،جرم کرنے کا وعدہ لیتا رہا تو کوئی ماں باپ کی خدمت کرنے کا ،جرم کرنے کا وعدہ تو کوئی سود سے بچنے کا وعدہ تو کوئی نگاہیں نیچی رکھنے کا وعدہ کوئی یتیم کی کفالت کرنے کی عظمت کا بتلاتا رہا تو کوئی نگاہیں نیچی رکھ کر چلنے جیسے ،جرم کی تلقین کرتا رہا اور تو اور پھر ان ،دہشت گردوں کے امیر بوڑھے حافظ محمد سعید حفظہ اللہ نے واضع لفظوں کے اندر جوانوں کو بتلایا کہ افواج پاکستان اور دیگر اداروں سے ٹکراؤ جہاد نہیں فساد ہوتا ہے اور جوانوں کو پاک فوج کے شانہ بشانہ مل کر کام کرنے جیسے خطرناک ترین ،جرم کی تلقین کی اور پاک فوج کے خلاف لڑنے والے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے گلے کاٹنے والے ٹی ٹی پی کے خوارج کو احادیث کی روشنی می خوارج ثابت کرنے جیسا ،جرم کیا مجھے یاد آگیا 2012 کے دن تھے مرکز یرموک میں ایمبولینسوں کے ڈرائیوروں کی فلاح انسانیت کے امیر حافظ رءوف سے میٹننگ تھی میں بھی سفر کرتے ہوئے نماز پڑھنے کی خاطر مسجد میں چلا گیا اور مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے جب حافظ صاحب اپنے ڈرائیوروں سے ہاتھ جوڑ کر التجا کر رہے تھے کسی مریض سے پیسے نا مانگنا اور کوئی دے دے تو بھی ٹھیک نا دے تو اللہ کے واسطے کسی کو فری مریض لانے لیجانے سے مت روکنا اگر پیسوں کی کمی ہو تو مجھ سے رابطہ کرنا اور تھر کے پیاسے مجبور لوگوں کیلئے کنویں جو کھودے جا چکے تھے ان کنوءوں کی تعداد بتانے کیساتھ ساتھ مذید کنویں کھدوانے جیسے ،جرم کا اظہار کرتے رہے میں حیران دیکھے جا رہا تھا اور سنتے جا رہا تھا اتنے میں آواز آئی کھانا لگ چکا ہے میں مسجد سے باہر نکلنے لگا ایک باریش ،دہشتگرد نے مجھے روکا اور کہا کھانا کھانے کے بغیر مت جائیے سو میں نے کھانا کھایا اور اپنی منزل کی جانب چل پڑا پھر 2015 میں ماضی مجھے لے گیا کارکنان کی تربیتی نشست تھی محافظ وطن مگر دہشت گرد پروفیسر حافظ محمد سعید حفظہ اللہ حزب التحریر داعش اور ٹی ٹی پی کے فتنوں سے لوگوں کو آگاہ کرکے ،جرم کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ اپنے ملک کی عدلیہ انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کی عزت و احترام کا وعدہ لے رہے تھے میں سوچتا چلا گیا اور اس مرکز یرموک کے اندر ہونے والے جرائم کو یاد کرتا چلا گیا اور اس نتیجے پر پہنچا ہاں اس مرکز یرموک کافر کو یرکا دینے والے مرکز سے کافروں کیساتھ ساتھ اپنوں کو بھی ڈرنا چائیے کیونکہ درج بالا میرے بیان شد جرائم نا قابل معافی ہیں اور یہ ایسے جرم ہیں جو انسان کو مسلمان بننے میں معاون ہیں لہذہ یہ ،جرائم اب بند ہونے چائیں کیونکہ ہمارے ملک میں اگر ان ،جرائم والے لوگ موجود ہونگے تو کافر ناراض ہونگے اور اگر کافر ناراض ہوگئے تو پھر گورنمنٹ کیسے چلے گی
اور آخر میں مجھے یہ شعر یاد آ گیا
ہوتی اگر منہج میں میرے بھی اجازت
احتجاج تو اس پر پھر دیکھتا ہمارا

