جب رچرڈ ہمبرڈ نے قرآن پڑھ کر تھرماپور ایجاد کی ازقلم غنی محمود قصوری
اس کا نام رچرڈ ہمبرڈ ہے وہ جرمنی میں رہتا ہے اور ایک عیسائی سائنسدان ہے
اس نے 2004 کو ایک جرمن اخبار کو انٹرویو دیا کہ میں ایجادات کرنے کیلئے قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتا ہوں
وہ کہتا ہے میں ایک دن قرآن پڑھ رہا تھا تو میرے نظر سے سورہ القارعہ گزری
اَلْقَارِعَةُ
کھڑکھڑانے والی
مَا الْقَارِعَةُ
وہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے
وَمَآ اَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ
اور آپ کو کیا خبر کہ وہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے
يَوْمَ يَكُـوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ
جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔
وَتَكُـوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ
اور پہاڑ رنگی ہوئی دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گے
فَاَمَّا مَنْ ثَـقُلَتْ مَوَازِيْنُهٝ
تو جس کے اعمال (نیک) تول میں زیادہ ہوں گے
فَهُوَ فِىْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ
تو وہ خاطر خواہ عیش میں ہوگا
وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٝ
اور جس کے اعمال (نیک) تول میں کم ہوں گے۔
فَاُمُّهٝ هَاوِيَةٌ
تواس کا ٹھکانا ہاویہ ہوگا۔
وَمَآ اَدْرَاكَ مَا هِيَهْ
اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ کیا چیز ہے۔
نَارٌ حَامِيَةٌ
وہ دہکتی ہوئی آگ ہے
وہ کہتا ہے میں سمجھ گیا کہ ذکر قیامت کا ہو رہا ہے اور پہاڑ روئی بن جانے کا
کہتا ہے کہ بات قرآن کی ہو اور جھوٹی ہو ناممکن ہے سو میں نے تحقیق تیز کر دی
کہتا ہے کہ میں نے مذید احادیث کا مطالعہ کیا تو سورج کے قریب آنے کا ذکر بھی ملا سو میں پر امید ہو گیا کہ ان پہاڑوں سے روئی بناؤ گا سو میں نے پتھر لئے انہیں ہیٹننگ مشین میں ڈالا پتھر نا پگھلا پھر میں نے انتہائی تیز ترین ہیٹ کر دی تو پتھر پانی کی طرح ہو گیا اب میں نے اس پر ہوا چلائی تو وہ پتھر روئی کے گالوں کی شکل اختیار کر گیا جسے تھوڑی سے رودبدل کیساتھ میں نے تھرماپور میں تبدیل کر دیا
وہ قرآن مجید پڑھتا ہے مگر کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان نا ہو سکا اس نے بیشتر چیزیں ایجاد کیں جن میں سے اس نے زیادہ تر قرآن وحدیث پڑھ کر ایجاد کیں مگر اللہ نے اسے مگر مسلمان ہونے کی توفیق عطاء نا فرمائی
اس نے دنیاوی سمجھ تو پالی مگر اخروی سمجھ پانے سے قاصر رہا
آج ملحدین خود ساختہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے آج دن تک کیا ایجاد کیا تو ان کے علم میں اضافہ کرتا چلو کہ بوعلی سینا،البیرونی،جابر حیان و دیگر بہت سے مسلمان سائنسدانوں کے کارنامے آپ بہت آساتی سے پڑھ سکتے ہو وہ الگ بات ہے کہ پتہ تم کو بھی ہے مگر حق سچ بولنے کی توفیق تم کو نہیں نیز دور حاضر میں ڈاکٹر عبدالسلام،ڈاکٹر عبدالقدیر خان و دیگر بہت سے بے شمار سائنسدان موجود ہیں
قارئین بات ساری توفیق کی ہے جسے اللہ جتنی توفیق عطاء کرے وہ اس قدر ہی سمجھ پاتا ہے



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home