Wednesday, 27 September 2023

شکار میں حلال و حرام کی پہچان ازقلم غنی محمود قصوری


 



اللہ رب العزت نے یہ بہت خوبصورت رنگوں سے مزین کائنات بنائی اور وہ خوب جانتا ہے کہ اس رنگوں میں کیسے اعتدال رکھنا ہے

اس نے جہاں انسانوں کیلئے پھل،سبزیاں،پرندے چرندے پیدا کئے وہیں ان پرندوں چرندوں کی خوراک کا بھی بندوبست کیا ہے 

پرندے گھاس پھوس و کیڑے مکوڑے کھا کر جیتے ہیں 

جب کیڑے مکوڑے زیادہ ہو جائیں تو فصلوں کی بربادی ہوتی ہے اور حضرت انسان کو نقصان ہوتا ہے اسی لئے اللہ تعالی نے ان کیڑے مکوڑوں کو کھانے کے لئے پرندے اور حشرات بنائے اور ان پرندوں کی بہتات اور کمی بھی فصلوں کا نقصان کرتی ہے

اگر پرندے زیادہ ہیں اور حشرات کم تو  فصلوں کا نقصان اور اگر حشرات زیادہ ہیں اور پرندے کم تو بھی فصلوں کا نقصان اور فصلوں کا نقصان مطلب اشرف المخلوقات انسان کی خوراک میں کمی 

سو اسی لئے رب نے توازن برقرار رکھنے کیلئے شکار کو حلال کیا ہے

جیسے انسان پرندوں،جانورں کا شکار کرتا ہے ایسے پرندے چرندے بھی شکار کرتے ہیں اور شکار کرنا ہر بندے کے بس کی بات نہیں 

 شکار حصول گوشت کے لئے روز اول سے ہی جاری ہے جس کے طریقوں میں دنیاوی ترقی کیساتھ بدلاؤ آتا گیا مگر ہر دور میں شکار کیا جاتا رہا ہے

سبزیوں پھلوں کے ساتھ گوشت کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے اور خاص کر جنگلی گوشت زیادہ طاقت والا ہوتا ہے 


بعض لوگ شکار کو حرام سمجھتے ہیں جو کہ غلط بات ہے جس کی دلیل اس حدیث سے ثابت ہوتی ہے کہ شکار بلکل جائز اور حلال ہے

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے ایک خرگوش کو مرالظہران کے مقام پر بھگایا لوگ اس کے پیچھے دوڑتے دوڑتے تھک گئے تو میں نے اسے پکڑ لیا اور لے کر حضرت ابو طلحہ کی خدمت میں حاضر ہو گیا انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کی سرین یا دونوں رانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیں، ان کا بیان ہے کہ کوئی شک نہیں کہ آپ نے انہیں قبول فرما لیا،

 میں عرض گزار ہوا کہ اس میں سے کھایا؟ فرمایا کہ اس میں سے کھایا اور پھر فرمایا کہ اسے قبول فرما لیا تھا

بخاری، الصحيح


نیز قرآن کی یہ آیت شکار کی کھلی اجازت ہے 


يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ ۖ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ


‏ ترجمہ۔۔تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لئے حلال ہیں (ان سے) کہہ دو کہ سب پاکیزہ چیزیں تم کو حلال ہیں اور وہ (شکار) بھی حلال ہے جو تمہارے لئے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو  اور جس (طریق) سے خدا نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے) تم نے انکو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھا لیا کرو اور  (شکاری جانوروں کے چھوڑنے وقت) خدا کا نام لیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے


مطالعہ قران و حدیث نے ثابت کیا کہ شکار نا صرف حلال ہے بلکہ ہمارے اسلاف کی سنت بھی ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سید الشہداء جناب امیر حمزہ رضی اللہ شکار کے شوقین تھے اور قبول اسلام کے بعد بھی شکار کرتے رہے ہیں


اخلاقی طور پہ پرندوں کی نسل کشی سے بچاؤ کی خاطر پرندوں کے انڈوں سے بچے نکلنے تک یعنی بریڈنگ سیزن میں شکار نا کیا جائے اور پرندوں کی نایاب ہوتی نسلوں میں شکار کرنے کی حد مقرر کی جائے 

اس ساری صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے پاکستان کے تمام صوبوں میں محکمہ تحفظ جنگلی حیات (Wild Life Department) کا ادارہ  موجود ہے جو مستند اسلحہ کے حامل شکاریوں کو شوٹنگ لائسنس جاری کرتا ہے جس کے تحت ہفتے میں ایک دن سے دو دن  شکار کی اجازت دی جاتی ہے اور ہر شکاری کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ کس نسل کا پرندہ کتنی تعداد میں شکار کر سکتا ہے اگر شکاری وائلڈ لائف کے جاری کردہ قوانین کے مطابق شکار کا نقصان کرتا ہے تو اسے جرمانے اور قید کی سزا دی جاتی ہے 


قدرت کا نظام ہے ایک مادہ پرندہ ہر سال کئی انڈے دیتا ہے جس سے کئی نئے بچے جنم لیتے ہیں


راقم خود ایک شکاری ہے اور شکار کے دوران پیش آنے والے معاملات کو بخوبی جانتا ہے 

شکار میں سب سے زیادہ پیش آنے والا جو مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ کونسا پرندہ،چرندہ حلال ہے اور کونسا حرام

سب سے پہلے تو وہ پرندے و جانور حرام ہیں جن کا نام لے کر اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا کہ یہ حرام ہیں تو وہ پرندے،چرندے ہر صورت حرام ہیں جیسے کہ سؤر،گدھا،چیل،کوا  وغیرہ

دوسرے وہ پرندے و جانور حرام ہیں کہ جن کا نام لے کر کہا گیا ہے کہ ان کو قتل کیا جائے جیسے کوا،گدھ وغیرہ ان کا شکار کرنا تو حلال ہو گا بلکہ ان کا شکار کرنا باعث ثواب ہے مگر ان کو کھانا حرام ہے 

اسی طرح کچھ پرندے ہیں جن کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ان کا شکار کرنا بھی حرام ہے جیسے کہ سورد نامی چڑیا جسے ممولہ بھی کہتے ہیں،ہدہد وغیرہ ان پرندوں میں حرام پرندوں والی نشانیاں نہیں مگر اس کے باوجود ان کا شکار کرنا ان کو کھانا حرام ہے کیونکہ اللہ رب العزت کا حکم ہے سو اس حکم کو ماننا ہم پہ فرض ہے 


حدیث رسول میں ہے کہ 

حضرت ابن عباس رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام کچلیوں والے درندوں اور ناخنوں والے پرندوں کو کھانے سے منع فرمایا ہے

مسلم، الصحيح، 3 : 1534


کچلی سے مراد وہ نوک دار نمایا دانت ہیں جس سے وہ جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں حلال جانوروں میں یہ نہیں ہوتے اور( ناخنوں والے ) وہ پرندے ہیں جو پنجوں سے شکار کرتے ہیں وہ حرام ہیں اس کے علاوہ باقی پرندے حلال ہیں

ایک ماہر شکاری کو علم ہونا چائیے  کہ کونسا جانور کچلی والا ہے اور کونسا پرندہ پنجے سے شکار کرتا ہے باقی اس کے علاوہ کچھ باتیں مشہور کی گئی ہیں کہ جس پرندے کی چونچ کوے جیسی ہو یاکہ جس کے پاؤں کے پنجے الٹے ہو یا جس کی رنگت فلاں قسم کی ہو  وہ پرندہ حرام ہے تو یہ بات قطعاً حدیث سے ثابت نہیں بلکہ خود ساختہ منگھڑت باتیں ہیں

اسی طرح ایک ماہر شکاری کو علم ہونا چائیے کہ بریڈنگ سیزن کب شروع ہوتا ہے تاکہ اس سیزن میں شکار سے اجتناب کیا جائے

نیز حدیث رسول سے یہ بات ثابت ہے کہ حدود حرم اور حالت  احرام میں شکار منع ہے 

سو جب احرام حدود حرم میں باندھ لیا جائے یا غیر حدود حرم میں تو اس صورت میں شکار کرنا احرام باندھے شحض پر حرام ہو جاتا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی علاقے میں احرام باندھ کر حج و عمرہ کیلئے نکلے

Tuesday, 12 September 2023

جبری نکاح اسلام کی روشنی میں ازقلم غنی محمود قصوری

 




کچھ دن سے سوشل میڈیا پہ ایک ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک باشرع شحض ایک لڑکی سے زور زبردستی سے نکاح نامے پہ دستخط کروا رہا ہے

اس کے ساتھ دیگر گھر والے بھی موقعہ پہ موجود اور شامل نکاح ہیں جس کے باعث کچھ لوگ اسلام پہ تنقید کرتے ہوئے اسے جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں

اس معاملے میں اسلام کا نا تو کوئی قصور ہے بلکہ یہ سارا معاملہ ہی  اسلام کے خلاف ہے کیونکہ اگر اسلام کی رو سے دیکھا جائے  تو سوال اٹھتا ہے کہ آیا ایسا  نکاح جائز ہے ؟

کیا دین میں جبر جائز ہے؟


ہرگز نہیں نا تو دین اسلام میں جبر جائز ہے اور نا ہی  جبری نکاح 


جہاں اسلام نے مرد کو پسند نا پسند کا حق دیا ہے وہیں عورت کو بھی نکاح میں پسند نا پسند کا پورا حق دیا ہے 


اسلام کی رو سے لڑکی کی شادی کے لئے ولی کا ہونا لازم شرط ہے

 کئی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ باکرہ عورت کی اجازت خاموشی ہے یعنی عورت اگر ولی کے سامنے مزاحمت نا کرے خاموش رہے تو نکاح جائز ہے


 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے 


 الثَّيِّبُ أحقُّ بنفسِها من وليِّها والبِكرُ تستأمرُ وإذنُها سُكوتُه

(صحيح مسلم 1421)

ترجمہ۔۔۔ ثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے 


جبکہ ایک اور جگہ ارشاد ہے 


لا تُنكَحُ الأيِّمُ حتى تُستأمَرَ، ولا تُنكَحُ البكرُ حتى تُستأذَن. قالوا: يا رسولَ الله، وكيف إذنُها؟ قال: أن تسكُتَ

(صحيح البخاري:5136)

ترجمہ۔۔۔بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے


 صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ کنواری عورت ازن کیونکر دے گی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے  یہ خاموشی اس کا اذن سمجھی جائے گی

عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں


أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ قالَ ليسَ للوليِّ معَ الثَّيِّبِ أمرٌ واليتيمةُ تستأمرُ وصمتُها إقرارُها

(صحيح أبي داود:2100)

ترجمہ۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے


 اسلام میں جبر نہیں کسی بھی امور پہ جبری نہیں ماسوائے چند ایک امور کے وہ بھی صرف مسلمان پہ خاص طور پہ جبری نکاح میں بلکل بھی جبر جائز نہیں جہاں ولی کا راضی ہونا لازم ہے وہیں عورت کا راضی ہونا بھی لازم ہے 

اس بارے ارشاد باری تعالیٰ ہے 


فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْاْ بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ. (البقرہ : 232)


’تو اے عورتوں کے والیو، انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جبکہ آپس میں شریعت کے موافق رضا مند ہوں،


درج بالا آیت قرآن سے ثابت ہونا جہاں ولی کی رضا مندی لازم ہے وہیں عورت کی رضامندی بھی لازم و ملزوم ہے لہذہ عورت پہ زبردستی کرکے نکاح نہیں کروایا کا سکتا ایسا نکاح، نکاح نہیں بلکہ زنا ہو گا اور اس کا سارا وبال اس ولی و گواہان پہ ہو گا اور ایسے  کسی واقعے پہ اسلام پہ وار کرنا جائز نہیں کیونکہ اسلام نے ایسے عمل کو گناہ قرار دیا ہے اور دین اسلام وہ واحد دین ہے جس نے مرد کیساتھ عورت کو بھی یکساں حقوق دیئے ہیں وگرنہ دیگر دینوں میں دیکھ لیجئے ساری ساری زندگی عورتیں کنواری گزار دیتی ہیں اور جن کا شوہر مر جائے ان کو دوسری شادی کی اجازت نہیں ہوتی بلکہ پہلے تو ان کو خاوند کے ساتھ زندہ دفن کر دیا جاتا تھا مگر اس سب کو اسلام نے روکا حتی کہ اسلام نے ناپسندی کی صورت میں عورت کو خلع لینے کا اختیار دیا 

Wednesday, 6 September 2023

مفت مشورے باعث عذاب ہیں جناب ازقلم غنی محمود قصوری

 




آجکل جہاں مہنگائی بے روزگاری نے لوگوں کا جینا دو بھر کر رکھا ہے وہاں مفت مشورے بھی زندگیاں مشکل بنا رہے ہیں

خاص طور پہ طبی معاملات میں مفت مشورے ہمارے معاشرے میں بہت سا بگاڑ پیدا کر رہے ہیں اور صحت پہ برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں

آجکل حالات یہ ہیں کہ ڈاکٹر،طبیب کے پاس خود دوائی لینے آیا بندہ دوسرے سے پوچھ رہا ہوتا ہے کہ بھئی آپ کو کیا مسئلہ ہے، اگلا اپنا مسئلہ بتاتا ہے تو فوری اس کو اپنی طرف سے دیسی ٹوٹکہ یا کوئی دوائی بتا دی جاتی ہے کہ تم یہ کر لو تم ٹھیک ہو جاؤ گے

سوچنے کی بات ہے اگر تم اتنے ہی صاحب علم ہو تو خود ڈاکٹر طبیب کے پاس کیوں آئے ؟


میں بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ایسے مشوروں کو اسلام کی رو سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں


سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا،جس شخص نے علم کے بغیر فتویٰ دیا تو اس کا گناہ اس فتویٰ دینے والے پر ہے، اور جس شخص نے اپنے (مسلمان) بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ بھلائی و بہتری اس کے علاوہ کسی دوسری صورت میں ہے، تو اس نے اس سے خیانت کی۔

(ابو داؤد)


ایسے مشوروں کے نفع اور نقصان بارے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی ایک اور حدیث پیش خدمت ہے


 حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نکلے تو ہمارے ایک ساتھی کو پتھر لگ گیا جس کی وجہ سے اس کے سر میں زخم آ گیا

 اتفاق سے اسے احتلام ہوا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ آیا میرے لئے کوئی گنجائش ہے کہ میں غسل کرنے کے بجائے تیمم کر لوں؟

 انہوں نے جواب دیا، ہم تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتے ( یعنی غسل کرنا پڑے گا) جبکہ تجھے پانی کے استعمال پر قدرت حاصل ہے، چنانچہ اس نے غسل کر لیا پھر وہ فوت ہو گیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس واقعہ کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا

انہوں نے( مشورہ دینے والے ساتھیوں نے)  اسے قتل کر ڈالا، اللہ انہیں ہلاک کرے، انہوں نے اس مسئلہ کے متعلق پوچھ کیوں نہ لیا جبکہ انہیں علم نہیں تھا، بلاشبہ عاجز او ردرماندہ انسان کی شفا؟؟ کر لینے میں ہے


خود ہی اندازہ کر لیں کہ علم کے بغیر کسی کو دینی و دنیاوی اور خاص کر کسی کی صحت بارے مشورہ دینا کتنا بڑا فریضہ ہے اور بغیر علم کے بہت بڑا گناہ بھی ہے اسی لئے اگر آپ کو خالصتاً علم ہے تو کسی کو کوئی مشورہ دیں وگرنہ خاموش رہیں کیونکہ خاموشی بھی ایک عبادت ہے 


آجکل نوجوان نسل بچے بچیاں ان مشوروں کا شکار ہو کر اپنی جوانیاں برباد کر رہے ہیں

مثال کے طور پہ نئے جوان ہونے والوں کو جسم پہ دانے نکلتے ہیں تو ان کو بغیر علم کے گرمی تاثیر کی چیزوں سے روک دیا جاتا ہے کہ آپ نے انڈہ نہیں کھانا حالانکہ دانے نکلنا اتنا مسئلہ نہیں جتنا انڈے سے حاصل ہونے والے وٹامن دی سے محروم رہنا ہے نیز انڈے کیساتھ کچھ اور گرم تاثیر چیزوں سے بہت دور کر دیا جاتا ہے جیسے کہ مچھلی،مرغی کا گوشت،السی کے بیج،خشک میوہ جات،پالک وغیرہ

یہ چیزیں کم گرم ضرور ہیں مگر ان کی کمی سے الزائیمر،مالیخولیا،ڈپریشن،ڈیمنیشیا کی بیماریاں جنم لیتی ہیں جو کہ جان لیوا ہیں 

اسی طرح کسی کو بلغ آتی ہے یا پھر ہلکی سی سردی شروع ہو گئی ہے تو سرد مزاج چیزوں سے روک دیا جاتا ہے جیسے کہ لیموں،مالٹا،کینو،مسمی،آلو بخارے کا پانی وغیرہ

ان چیزوں سے وٹامن سی ملتا ہے اور وٹامن سی کی کمی سے جلد کی بیماریاں،دل کی بیماریاں،پھپھڑوں کی بیماریاں معدے میں خشک اور قبض جیسی پیچیدہ بیماریاں جنم لیتی ہیں

اس لئے خداراہ کبھی بھی کسی کو اس وقت تک کوئی بھی مشورہ نا دیں تب تک کہ آپکو اس پہ عبور حاصل نا ہو وگرنہ یاد رکھیں آپ کے مشورے سے کسی کی صحت خراب ہوئی تو قصور وار اور گناہگار اپ بھی ہیں اس کی مثال اوپر رقم حدیث سے ثابت ہے

Sunday, 3 September 2023

بھاگ بھری حکومتیں اور حافظ عوام ازقلم غنی محمود قصوری

 





 کسی گاؤں میں ایک نابینا شحض رہتا تھا جو صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا مگر نابینا ہونے کے باعث اس کی شادی نہیں ہو رہی تھی اس نابینا شحض کو لوگ ،حافظ، کہا کرتے تھے

حافظ خوبصورت گھبرو جوان تھا مگر ستم ظریفی کہ بینائی نا ہونا شادی میں رکاوٹ تھی


اسی گاؤں میں ایک شحض رہتا تھا جس کی جوان لڑکی تھی جسے کوڑھ کا مرض تھا ماں باپ نے بیٹی کا نام ،بھاگ بھری، رکھا تھا

 بھاگ بھری بھی بیماری کے باعث شادی سے محروم تھی


اللہ رب العزت نے کوئی انسان ناکارہ اور بدصورت نہیں بنایا پھر بھی ہر کسی کی اپنی اپنی پسند ہوتی ہے کسی کو کوئی چہرہ پسند ہے تو کسی کو کوئی اسی باعث بھاگ بھری اور حافظ دونوں کنوارے تھے حالانکہ جیتے جاگتے اچھے بھلے انسان تھے مگر شادی سے محروم 

لڑکی کے والد نے گاؤں کے چند معتبر لوگوں سے صلاح مشورہ کیا اور نابینا حافظ کے پاس اپنی بیٹی کا رشتہ لے کر پہنچا اور اسے کہا کہ تم خوبصورت گھبرو جوان ہو نمازی بھی ہو مگر تم کو کوئی اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دے رہا میری ایک جوان بیٹی ہے جو کہ بہت خوبصورت ہے اسی لئے ہم نے اس کا نام بھاگ بھری رکھا ہے تم اس سے نکاح کر لو تمہار بھی گھر بس جائے گا

نابینا حافظ خوش ہو گیا کہ اس کا گھر بس جائے گا اور ایک خوبصورت دوشیزہ اس کی بیوی بنے گی

مقررہ وقت پہ دونوں کا نکاح کر دیا گیا تو کچھ لوگوں نے نابینا حافظ کو طعنے مارنے شروع کر دیئے کہ تم خوبصورت ہو مگر تمہاری بیوی بہت بدصورت 

حافظ  نے اپنی بیوی سے کہا کہ لوگ ایسے کہتے ہیں 

اپنا گھر بچانے کی خاطر شاطر بھاگ بھری نے کہا کہ سرتاج کیا آپکو میرے والد اور گاؤں کے ان معتبر بندوں پہ اعتبار نہیں کہ جو میرا رشتہ طے کرنے ائے تھے؟

میں تو اتنی خوبصورت ہوں کہ روز اچھے سے اچھے رشتے آتے تھے مگر میرا والد نیک دل ہے اس نے تمہار دین سے پیار دیکھا اور میری شادی تم سے کر دی ورنہ میں تو اتنی حسین و جمیل ہوں کہ دور دیہات کے گاؤں تک میرے حسن کے چرچے ہیں اگر تمہیں پھر بھی یقین نہیں تو دعا کرو اللہ تمہیں دیکھنے کی طاقت دے تو پھر اپنی آنکھوں سے خود ہی دیکھ لینا

نابینا حافظ مطمئن ہو گیا اور دن رات رب سے اپنی بینائی کی دعائیں کرنے لگا

حافظ کی دعائیں رنگ لائیں اور گاؤں میں آنکھوں کا ایک ڈاکٹر آیا حافظ اس کے پاس پہنچا ڈاکٹر نے چیک اپ کرکے کہا کہ مکمل تو نہیں مگر تمہاری بینائی اتنی واپس ا جائے گی کہ تم لوگوں کو قریب سے دیکھ سکو گے اور اس آپریشن کا خرچ 5 ہزار روپیہ ہو گا 

حافظ خوشی سے جھومتا گھر پہنچا اور اپنی بھاگ بھری کو خوش خبری سنائی اور سارا قصہ بیان کیا 

بات سن کر بھاگ بھری سہم گئی کہ میں تو بدصورت ہوں اور اسے بہت خوبصورت بتلایا ہے اگر اس نے مجھے دیکھ لیا یہ تو مجھے طلاق دے گا سو بھاگ بھری فوری اسی ڈاکٹر کے پاس پہنچی اور اسے کہا کہ میرا گھر اجر جائے گا تم 5 ہزار کی بجائے 10 ہزار مجھ سے لو اور حافظ کا آپریشن نا کرنا بلکہ اسے ٹرخا دینا

سو ڈاکٹر نے بھاگ بھری سے پیسے لئے اور حافظ کو اگلی بار جانے پہ ٹرخا دیا مذکورہ بالا واقعہ ہمارے ملک پہ بلکل فٹ ہوتا ہے عوام بینائی سے محروم حافظ ہے اور بھاگ بھری سے بدصورت کریہہ ناک حکمران جو عوام کو بڑے پیارے پیارے سبز باغ دکھلاتے ہیں اور اپنی کمائی کا گھر بسائے ہوئے ہیں اور عوام کو الجھا کر رکھا ہوا ہے کہ عوام بینائی پا کر ان کا اصل چہرہ نا دیکھ لے

اگر عوام نے ان کا پروٹوکول ،ان کی مراعات ان کی شاہ خرچیاں سچ مچ دیکھ لیں تو عوام ان کو طلاق یعنی ان کا بائیکاٹ کرے گی سو اسی لئے یہ لوگ جب خود اقتدار میں ہوتے ہیں تو دوسروں پہ کیس بناتے ہیں اور اپنے اقتدار کی مہنگائی کو بھی خوبصورت بنا کر پیش کرتے ہیں اور اقتدار سے جاتے ہی مہنگائی کا رونا روتے ہیں اور خود اپنے اوپر کرپشن کے بنے کیسوں پہ روتے ہیں

بھاگ بھری سے ساز باز کرنے والا کردار ہماری میڈیا اور ادارے کرتے ہیں جو ان کے گند کو قلاقند ثابت کرتے رہتے ہیں

یہ نظام بہت کریہہ ناک اور گندہ ہو چکا ہے 

ویسے تو قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہی مہنگائی نے زور ڈالنا شروع کر دیا تھا مگر تاریخ پاکستان گواہ ہے کہ 2008 سے زرداری دور میں مہنگائی کچھ ابھری اور 2018 تک ن لیگ کی گورنمنٹ میں اوپر آئی مگر 2018 سے عمران خان کے دور حکومت میں جو رفتار مہنگائی نے پکڑی اس کو مذید ہوا شہباز شریف نے دی اور مذید چیخیں لوگوں کی نکلوائیں مگر اس سے بھی زیادہ نگران گورنمنٹ کاکڑ نے لوگوں کو زندہ درگور کر دیا

تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈر بھاگ بھری ہیں اور عوام حافظ


اللہ اس قوم کو کوئی اچھا مخلص نا بکنے والا ڈاکٹر نصیب فرمائے جو قوم کی بینائی کا ایسا آپریشن کرے کہ اس قوم کو بھاگ بھری کا اصل چہرہ نظر آئے


آمین