کل 29 جولائی کو پشاور کی ایک مقامی عدالت میں ایک گستاخ رسول قادیانی طاہر احمد کو محمد خالد خان نامی نوجوان نے کمرہ عدالت میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا
یہ کوئی پہلا کیس نہیں کہ جس میں جج کے بجائے کوئی عام آدمی ہی منصف بن بیٹھا ہو بلکہ اس سے قبل بھی ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں
مگر سوچنے کی بات ہے کہ عام قادیانی،عیسائی،ہندو و دیگر اقلیتی لوگوں کو تو کوئی کچھ نہیں کہتا وہ آرام سے آئین پاکستان و اسلام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں مگر عدالتوں میں انڈر ٹرائل ملزمان کو ہی کیوں مارا جاتا ہے اس کے لئے ہمیں پس منظر دیکھنا ہو گا
آئین پاکستان میں توہین رسالت کی سزا 295 سی کے تحت گستاخ رسول کی سزا پھانسی ہے جبکہ اب تک پاکستان میں ایک سو پچاس سے اوپر مجرمان جیلوں میں قید ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو بھی آئین پاکستان کے مطابق سزا یعنی پھانسی نہیں ملی
کل قتل ہونے والا طاہر احمد قادیانی بھی توہین رسالت کا مرتکب تھا اور اس نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ دو سال سے اس کا کیس عدالت میں چل رہا تھا اور عدالت دو سالوں سے اسے مجرم ثابت کرنے کیلئے ثبوت اکھٹے کر رہی تھی خود گستاخ رسول قادیانی طاہر احمد نے ویڈیو بنا کر جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا اور ابھی بھی وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اور چیخ چیخ کر ججوں کو کہہ رہی ہے کہ اپنی عدالت میں ٹانگ پر ٹانگ رکھنے والے شحض کو ایک منٹ میں توہین عدالت کی سزا سنانے والے ججوں یہ دیکھوں اس ملعون کی گستاخی اور اس گستاخی کی سزا آئین پاکستان 295 سی کے مطابق موت ہے اور ایسے لوگ دھرتی پر فتنہ برپاء کرنے والے ہیں اور ان فتنہ برپاء کرنے والوں کے بارے میرا رب سورہ بقرہ میں کہتا ہے کہ فتنہ برپاء کرنا قتل سے بڑا گناہ ہے
تو مسلمان ہونے کے دعویدار ججوں جب قتل کی سزا موت ہے تو پھر قتل سے بڑے جرم کی سزا سرعام پھانسی کیوں نہیں؟ تمہارا 295 سی ثابت کرنا تو الگ بات اس فسادی کی توہین رسالت پر مبنی ویڈیو اور بیانات ہی اسے سزا موت کیلئے کافی تھے تو پھر تم سالوں سے کونسا ثبوت اس کو مجرم قرار دینے کا ڈھونڈ رہے تھے ؟
ایسے گستاخ کو تو فتنہ برپاء کرنے کی الگ سزائے موت جبکہ توہین رسالت کی الگ سے سزائے موت بنتی ہے تو پھر تم کیوں سوئے رہے؟
اسی انصاف کی ختم ہوتی امید کو دیکھ کر ایک غیور نوجوان خالد خان نے خود ہی منصف بننے کا فیصلہ کیا اور اس گستاخ رسول کو کمرہ عدالت میں ہی سر میں گولی مار کر جہنم واصل کر دیا تاکہ پھر سے کوئی فسادی ختم نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرکے فساد فی الارض برپاء نا کرے
اس کے علاوہ بھی دیکھا جائے تو اسی دور حکومت میں سزا یافتہ گستاخ رسول آسیہ مسیح کو پورے سرکاری اعزاز کیساتھ بیرون ملک روانہ کروایا گیا واضع رہے آسیہ مسیح پر جرم ثابت ہو چکا تھا اور وہ قید میں تھی
چند سال قبل یوحنا آباد لاہور میں ہوئے بم دھماکے میں ایک مسلمان کو زندہ جلا کر اس کی لاش سرعام لٹکا دی گئی جبکہ اس شہید کا بم دھماکے سے دور کا بھی کوئی تعلق نا تھا اور خود مسیحی فیملی نے قبول کیا کہ شہید بم دھماکہ سے ڈر کر ہم مسیحیوں کے گھر میں پناہ لئے ہوئے تھا آج اس شہید کے ورثاء انصاف کی راہ تکتے امید کھو بیٹھے ہیں تاریخ گواہ ہے جن فساد برپاء کرنے والوں نے چرچ میں خود کش دھماکا کیا انہوں نے اس سے سینکڑوں گنا زیادہ بم دھماکے مسلمانوں کی مسجدوں میں کرکے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا
آسیہ مسیح کی رہائی کے بعد اقلیتیں خود کو طاقتور سمجھنے لگ گئی اور فتنہ و فساد برپاء کرنا تیز کر دیا
چند دن قبل گلبرگ لاہور میں تین مسیح لڑکوں نے ایک عفت مآب مسلمان لڑکی کو اس لئے ریپ کا نشانہ بنا کر سرعام سڑک پر گمایا کہ اس بیچاری نے اس مسیحی کافر کیساتھ شادی کرنے سے انکار کیا تھا یہ واقعہ میڈیا پر آیا احتجاج ہوا ملزمان پکڑے گئے اور ابھی تک سارے شوائد ہونے کے باوجود مجرم ثابت نہیں ہوئے الٹا وہ اس مسلمان بہن اور اس کے ورثاء کو ڈرا دھمکا کر کیس واپس لینے کی دھمکی دے رہے ہیں
ان واقعات کے علاوہ بھی سینکڑوں واقعات ہیں جب مسلمانوں کے پاک نبی کی توہین کرنے والوں کو کوئی سزا نا ہوئی اور پھر شہ پاکر اقلیتی لوگ گستاخیاں کرتے گئے اور امن و سکون برباد ہوکر فتنے برپاء ہوتے گئے اس ساری صورتحال کا ذمہ دار ہمارا جوڈیشنری نظام ہے جو ملزم کو رعایت دیتا ہے حالانکہ عہد نبوی میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاتمیںن رسول کی سرکوبی کیلئے دستے روانہ کئے اور ان کو قتل کروایا
اب دیکھتے ہیں محمد خالد خان کا یہ عمل کیسا ہے کہ جب وہ درجنوں واقعات دیکھ چکا ہے کہ انصاف نہیں ملتا اقلیتیں مسلمانوں کی عزتوں کو ہاتھ ڈال رہی ہیں اور اقلیتیں سرعام نبوت کا دعوی کرنے والوں کو ہیرو بنا رہی ہے اور عدالتیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشہ دیکھ رہی ہیں
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ایک نابینا شخص کے پاس ایک ام ولد تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، وہ نابینا اسے روکتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، وہ اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی طرح باز نہیں آتی تھی حسب معمول ایک رات اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو شروع کی، اور آپ کو گالیاں دینے لگی، تو اس (اندھے) نے ایک چھری لی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا کر اسے ہلاک کر دیا، اس کے دونوں پاؤں کے درمیان اس کے پیٹ سے ایک بچہ گرا جس نے اس جگہ کو جہاں وہ تھی خون سے لت پت کر دیا، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حادثہ کا ذکر کیا گیا، آپ نے لوگوں کو اکٹھا کیا، اور فرمایا: ”جس نے یہ کیا ہے میں اس سے اللہ کا اور اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہو جائے“ تو وہ اندھا کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھاندتے اور ہانپتے کانپتے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول میں اس کا مولی ہوں، وہ آپ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، میں اسے منع کرتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، میں اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی صورت سے باز نہیں آتی تھی، میرے اس سے موتیوں کے مانند دو بچے ہیں، وہ مجھے بڑی محبوب تھی تو جب کل رات آئی حسب معمول وہ آپ کو گالیاں دینے لگی، اور ہجو کرنی شروع کی، میں نے ایک چھری اٹھائی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا دیا، وہ اس کے پیٹ میں گھس گئی یہاں تک کہ میں نے اسے مار ہی ڈالا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! سنو تم گواہ رہنا کہ اس کا خون لغو ہے“۔
یعنی کہ اس کے قتل کی کوئی سزا نہیں اس کا خون رائیگاں گیا ہے
تخریج الحدیث: «سنن النسائی/المحاربة 13 (4075)، (تحفة الأشراف: 6155) (صحیح)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے جب فیصلے کرنے والے فیصلے نا کر پائیں اور اسمبلیاں تحفظ اسلام بل پاس کروانے سے ہچکچائیں تو پھر مجبوری کی حالت میں غازی علم دین،ممتاز قادری اور خالد خان انصاف کرتے ہیں کیونکہ فرمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اس شحض کا ایمان کامل نہیں کہ جب تک میں اسے اس کی جان و مال اور اولاد سے بڑھ کر پیارا نا ہو جاؤ،
تو پھر جج ملزمان کو مجرمان ثابت کرنے کیلئے سالوں لگائیں مگر غیرت مند مسلمان فیصلے خود ہی کرتے جائیں گے
اگر فتنہ برپاء کرنے والوں کی سرکوبی کرنی ہے تو جوڈیشنری نظام کو تیز تر کرنا ہوگا خاص طور پر توہین رسالت کے کیسوں میں