Thursday, 30 July 2020

غنی محمود قصوری کے بلاگ پر جرار شاکر کی توہین رسالت اور آئین پاکستان پر تحریر

توہین رسالت اور آئین پاکستان

تحریر:- *جرار شاکر*

کل پشاور کی مقامی عدالت میں ایک مسلمان نوجوان نے ایک قادیانی کو اس لئے قتل کر دیا کیونکہ وہ قادیانی طاہر احمد ملعون دو سال قبل جھوٹی نبوت کا دعویٰ دار تھا اور تاحال اسی دعویٰ پر قائم بھی تھا اور مذید ستم یہ کہ اس نے اپنی اعترافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی ڈال رکھیں تھیں مگر پھر بھی ہماری عدالت دو سال سے ثبوت دھونڈ رہی تھی
اس پر ایک مسلمان محمد خالد خان نے انصاف کی امید ختم ہوتے دیکھ کر خود ہی انصاف کا فیصلہ کر لیا اور کل کمرہ عدالت میں اس قادیانی کو موت کے گھاٹ اتار دیا
اس واقعے پر کچھ لوگ بہت شور کر رہے ہیں جی کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا جی کیس عدالت میں تھا جی انصاف کرنا عدالت کا کام ہے تو ان سے سوال ہے کیا کبھی کسی مسلمان نے کبھی نبوت کے دعوے دار کے علاوہ بھی کسی اقلیتی کو قتل کیا ؟
کیا 295 سی کے تحت وہ موت کا حقدار نا تھا؟
جب وہ توہین کرکے سوشل میڈیا پر ڈالتا تھا تب بھی تم لوگوں نے اسے روکا تھا؟
کیا پاکستان میں توہین رسالت کا قانون ہوتے ہوئے اس پر عمل درآمد ہو رہا ہے ؟ کیا اب تک سینکڑوں توہین رسالت کے مجرمان میں سے کسی ایک کو بھی سزائے موت دی گئی ؟ حالانکہ ایسے ملعون شحض کی سزا آئین پاکستان کے تحت موت ہے
جب وہ خود ہی فسادی اور ملعون تھا تو پھر یہ شور کیوں ہے؟
 غازی خالد کا عمل آئین پاکستان اور  جبکہ پاکستان میں حاکمیت کہنے کو  اللہ تعالیٰ کی ہے اور قرآن و حدیث سے متصادم قانون نہیں بن سکتا  اس لیے آئیندہ ایسے اقدامات کو روکنے کے لیے غازی خالد کو تختہ دار پہ چڑھانا حل ہرگز نہیں ہے بلکہ آئین پاکستان میں ترمیم کرنے کی اشد اور فی الفور ضرورت ہے کیونکہ جب ایک مجرم کی ویڈیو موجود ہے تو پھر اس کو مجرم ثابت کرنے کیلئے درجنوں مہینے کیوں؟
آخر یہ واقعات جنم کیوں لے رہے ہیں تو اس بات کو سمجھںے کیلئے سابقہ توہین رسالت کیسوں کو دیکھنا ہوگا  جن میں ممتاز قادری کو پھانسی پر چڑھایا  دیا گیا کہ سلمان تاثیر کا بیان مبہم تھا لیکن غازی خالد کے کیس میں ملعون کا واضح اعلان اس بات کی گواہی ہے کہ عدالتیں ملزم کو بچانے کے لیے کیس طویل کر رہی تھیں جبکہ سزا یافتہ آسیہ مسیح کو پورے اعزاز کیساتھ بیرون ملک بھجوایا گیا
جب آسیہ مسیح کو اقرار جرم کرنے کے باوجود سزا ہونے کے باوجود بیرون ملک روانہ کیا گیا تو اس وقت شور کیوں نا کیا تم نے؟
گستاخ رسول دھرتی پر بوجھ ہوتا ہے اس لیے اسے جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانا ازحد ضروری ہوتا ہے تاکہ فتنہ نا پھیلے اور اسی سلسلے میں کئی ایک احادیث میں خود نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو شاتم رسول و قرآن کو قتل کرنے کے لیے  دستے روانہ کئے تھے
میرا یہ ایمان ہے کہ میرے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ انصاف پسند کوئی بھی اس دنیا میں نہیں آیا ہے اور نہ ہی قیامت تک آۓ گا
اگر گستاخ رسول کا کیس چلانا مقصود ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے جانبازوں کو قتل کرنے کے لیے نہ بھیجتے بلکہ گرفتاری کا حکم دیتے
غازی علم دین شہید ، عامر چیمہ شہید ، ممتاز قادری اور غازی خالد ، سانحہ کوٹ رادھا کشن سمیت دیگر کئی ایسے واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پاکستان میں آئینی ترامیم کرکے شریعتِ اسلامیہ کے مطابق قوانین وضع کیے جائیں تاکہ مسلمانان پاکستان ایسے اقدامات خود انجام دینے کی بجائے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کریں اور ادارے ایسے افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں تو آئیندہ کوئی بھی پاکستانی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے۔

انصاف مہیا کرنے والی عدالتوں میں قتل کیوں؟ ،،،، از قلم ،،، غنی محمود قصوری



کل 29 جولائی کو پشاور کی ایک مقامی عدالت میں ایک گستاخ رسول قادیانی طاہر احمد کو محمد خالد خان نامی نوجوان نے کمرہ عدالت میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا
یہ کوئی پہلا کیس نہیں کہ جس میں جج کے بجائے کوئی عام آدمی ہی منصف بن بیٹھا ہو بلکہ اس سے قبل بھی ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں
مگر سوچنے کی بات ہے کہ عام قادیانی،عیسائی،ہندو و دیگر اقلیتی لوگوں کو تو کوئی کچھ نہیں کہتا وہ آرام سے آئین پاکستان و اسلام کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں مگر عدالتوں میں انڈر ٹرائل ملزمان کو ہی کیوں مارا جاتا ہے اس کے لئے ہمیں پس منظر دیکھنا ہو گا
آئین پاکستان میں توہین رسالت کی سزا 295 سی کے تحت گستاخ رسول کی سزا پھانسی ہے جبکہ اب تک پاکستان میں ایک سو پچاس سے اوپر مجرمان جیلوں میں قید ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو بھی آئین پاکستان کے مطابق سزا یعنی پھانسی نہیں ملی
کل قتل ہونے والا طاہر احمد قادیانی بھی توہین رسالت کا مرتکب تھا اور اس نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ دو سال سے اس کا کیس عدالت میں چل رہا تھا اور عدالت دو سالوں سے اسے مجرم ثابت کرنے کیلئے ثبوت اکھٹے کر رہی تھی خود گستاخ رسول قادیانی طاہر احمد نے ویڈیو بنا کر جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا اور ابھی بھی وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اور چیخ چیخ کر ججوں کو کہہ رہی ہے کہ اپنی عدالت میں ٹانگ پر ٹانگ رکھنے والے شحض کو ایک منٹ میں توہین عدالت کی سزا سنانے والے ججوں یہ دیکھوں اس ملعون کی گستاخی اور اس گستاخی کی سزا آئین پاکستان 295 سی کے مطابق موت ہے اور ایسے لوگ دھرتی پر فتنہ برپاء کرنے والے ہیں اور ان فتنہ برپاء کرنے والوں کے بارے میرا رب سورہ بقرہ میں کہتا ہے کہ فتنہ برپاء کرنا قتل سے بڑا گناہ ہے 
تو مسلمان ہونے کے دعویدار ججوں جب قتل کی سزا موت ہے تو پھر قتل سے بڑے جرم کی سزا سرعام پھانسی کیوں نہیں؟ تمہارا 295 سی ثابت کرنا  تو الگ بات اس فسادی کی توہین رسالت پر مبنی ویڈیو اور بیانات ہی اسے سزا موت کیلئے کافی تھے تو پھر تم سالوں سے کونسا ثبوت اس کو مجرم قرار دینے کا ڈھونڈ رہے تھے ؟
ایسے گستاخ کو تو فتنہ برپاء کرنے کی الگ سزائے موت جبکہ توہین رسالت کی الگ سے سزائے موت بنتی ہے تو پھر تم کیوں سوئے رہے؟
اسی انصاف کی ختم ہوتی امید کو دیکھ کر ایک غیور نوجوان خالد خان نے خود ہی منصف بننے کا فیصلہ کیا اور اس گستاخ رسول کو کمرہ عدالت میں ہی سر میں گولی مار کر جہنم واصل کر دیا تاکہ پھر سے کوئی فسادی ختم نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرکے فساد فی الارض برپاء نا کرے
اس کے علاوہ بھی دیکھا جائے تو اسی دور حکومت میں سزا یافتہ گستاخ رسول آسیہ مسیح کو پورے سرکاری اعزاز کیساتھ بیرون ملک روانہ کروایا گیا واضع رہے آسیہ مسیح پر جرم ثابت ہو چکا تھا اور وہ قید میں تھی
 چند سال قبل یوحنا آباد لاہور  میں ہوئے بم دھماکے میں ایک مسلمان کو زندہ جلا کر اس کی لاش سرعام لٹکا دی گئی جبکہ اس شہید کا بم دھماکے سے دور کا بھی کوئی تعلق نا تھا اور خود مسیحی فیملی نے قبول کیا کہ شہید بم دھماکہ سے ڈر کر ہم مسیحیوں کے گھر میں پناہ لئے ہوئے تھا آج اس شہید کے ورثاء انصاف کی راہ تکتے امید کھو بیٹھے ہیں تاریخ گواہ ہے جن فساد برپاء کرنے والوں نے چرچ میں خود کش دھماکا کیا انہوں نے اس سے سینکڑوں گنا زیادہ بم دھماکے مسلمانوں کی مسجدوں میں کرکے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا
آسیہ مسیح کی رہائی کے بعد اقلیتیں خود کو طاقتور سمجھنے لگ گئی اور فتنہ و فساد برپاء کرنا تیز کر دیا
 چند دن قبل گلبرگ لاہور میں تین مسیح لڑکوں نے ایک عفت مآب مسلمان لڑکی کو اس لئے ریپ کا نشانہ بنا کر سرعام سڑک پر گمایا کہ اس بیچاری نے اس مسیحی کافر کیساتھ شادی کرنے سے انکار کیا تھا یہ واقعہ میڈیا پر آیا احتجاج ہوا ملزمان پکڑے گئے اور ابھی تک سارے شوائد ہونے کے باوجود مجرم ثابت نہیں ہوئے الٹا وہ اس مسلمان بہن اور اس کے ورثاء کو ڈرا دھمکا کر کیس واپس لینے کی دھمکی دے رہے ہیں
ان واقعات کے علاوہ بھی سینکڑوں واقعات ہیں جب مسلمانوں کے پاک نبی کی توہین کرنے والوں کو کوئی سزا نا ہوئی اور پھر شہ پاکر اقلیتی لوگ گستاخیاں کرتے گئے اور امن و سکون برباد ہوکر فتنے برپاء ہوتے گئے اس ساری صورتحال کا ذمہ دار ہمارا جوڈیشنری نظام ہے جو ملزم کو رعایت دیتا ہے حالانکہ عہد نبوی میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاتمیںن رسول کی سرکوبی کیلئے دستے روانہ کئے اور ان کو قتل کروایا
اب دیکھتے ہیں محمد خالد خان کا یہ عمل کیسا ہے کہ جب وہ درجنوں واقعات دیکھ چکا ہے کہ انصاف نہیں ملتا اقلیتیں مسلمانوں کی عزتوں کو ہاتھ ڈال رہی ہیں اور اقلیتیں سرعام نبوت کا دعوی کرنے والوں کو ہیرو بنا رہی ہے اور عدالتیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشہ دیکھ رہی ہیں
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ایک نابینا شخص کے پاس ایک ام ولد تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، وہ نابینا اسے روکتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، وہ اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی طرح باز نہیں آتی تھی حسب معمول ایک رات اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو شروع کی، اور آپ کو گالیاں دینے لگی، تو اس (اندھے) نے ایک چھری لی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا کر اسے ہلاک کر دیا، اس کے دونوں پاؤں کے درمیان اس کے پیٹ سے ایک بچہ گرا جس نے اس جگہ کو جہاں وہ تھی خون سے لت پت کر دیا، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حادثہ کا ذکر کیا گیا، آپ نے لوگوں کو اکٹھا کیا، اور فرمایا: ”جس نے یہ کیا ہے میں اس سے اللہ کا اور اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہو جائے“ تو وہ اندھا کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھاندتے اور ہانپتے کانپتے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول میں اس کا مولی ہوں، وہ آپ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، میں اسے منع کرتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، میں اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی صورت سے باز نہیں آتی تھی، میرے اس سے موتیوں کے مانند دو بچے ہیں، وہ مجھے بڑی محبوب تھی تو جب کل رات آئی حسب معمول وہ آپ کو گالیاں دینے لگی، اور ہجو کرنی شروع کی، میں نے ایک چھری اٹھائی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا دیا، وہ اس کے پیٹ میں گھس گئی یہاں تک کہ میں نے اسے مار ہی ڈالا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! سنو تم گواہ رہنا کہ اس کا خون لغو ہے“۔
یعنی کہ اس کے قتل کی کوئی سزا نہیں اس کا خون رائیگاں گیا ہے


تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن النسائی/المحاربة 13 (4075)، (تحفة الأشراف: 6155) (صحیح)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے جب فیصلے کرنے والے فیصلے نا کر پائیں اور اسمبلیاں تحفظ اسلام بل پاس کروانے سے ہچکچائیں تو پھر مجبوری کی حالت میں غازی علم دین،ممتاز قادری اور خالد خان انصاف کرتے ہیں کیونکہ فرمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اس شحض کا ایمان کامل نہیں کہ جب تک میں اسے اس کی جان و مال اور اولاد سے بڑھ کر پیارا نا ہو جاؤ،
تو پھر جج ملزمان کو مجرمان ثابت کرنے کیلئے سالوں لگائیں مگر غیرت مند مسلمان فیصلے خود ہی کرتے جائیں گے
اگر فتنہ برپاء کرنے والوں کی سرکوبی کرنی ہے تو جوڈیشنری نظام کو تیز تر کرنا ہوگا خاص طور پر توہین رسالت کے کیسوں میں

Wednesday, 29 July 2020

حج و عید قربان کا اصل مقصد ،،، از قلم ،،، غنی محمود قصوری



اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے جن میں کلمہ،نماز،روزہ،حج،زکوۃ شامل ہے ہر صاحب حیثیت مسلمان پر ححج و قربانی فرض ہے
حج ایک مقدس فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے لئے دنیا بھر سے مسلمان اپنے ممالک سے ہجرت کرکے سعودی عرب بیت اللہ میں جمع ہوتے ہیں پوری دنیا سے لاکھوں لوگ اس مقدس فریضہ کیلئے ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ اکھٹے ہوتے ہیں مگر اس سال کرونا وباء کی بدولت حج انتہائی مختصر ہو رہا ہے بیرون ممالک سے اس وباء کووڈ 19 کی بدولت لوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی
8 ذی الحج کو حجاج کرام میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں 9 ذی الحج کو خطبہ الحجہ ہوتا ہے اور 10 ذی الحج کو یوم النحر یعنی قربانی کی جاتی ہے
حج اور قربانی ہمیں ایک پیغام اور مقصد سمجھانے کیلئے اللہ کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں
اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں
آپ فرما دیجئے کہ یقیناً میری نماز،میری ساری عبادتیں،،میرا جینا اور میرا مرنا خالصتاً اللہ ہی کے لئے ہے۔۔سورہ الانعام 162
اسی لئے ہم دوران حج بار بار یہ کہتے ہیں کہ اے اللہ میں حاضر ہوں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں تو ہی سپر پاور ہے باقی دنیا کی تمام طاقتیں زوال پذیر ہیں اور تیری طاقت ہمیشکی اور  اعلیٰ ہے
ہماری شکر گزاری ہماری عاجزی ہمارے سجدے سب تیرے لئے ہی ہیں تیرے علاوہ ہم کسی اور کے سامنے نہیں جھکے گے جیسے جد الانبیاء جناب ابراہیم علیہ السلام باطل کے مقابلے میں ڈٹ گئے تھے اور تیرے حکم کی بجا آوری کیلئے آتش میں جانا قبول کرلیا 
اے اللہ ہماری ساری شکر گزاری تیرے لئے ہی ہے چاہے تو ہمیں ابراہیم کی طرح آزما ہم  پھر بھی شکر کرنے والے اور حکم بجا لانے والے ہی ثابت ہونگے اس کیلئے جو قربانی تو ہم سے مانگے گا ہم تیار ہونگے
 جیسے ہم جہاں بیت اللہ میں سعی کیلئے بھاگ رہے ہیں ایسے ہی پوری دنیا میں تیرے دین کی سربلندی کے لئے بھاگ بھاگ کر جائیں گے اے اللہ تو جب بھی جہاں بھی ہمیں حکم دے گا ہم حاضر ہو جائینگے تیرے مظلوم بندے جب ہمیں مدد کے لئے پکاریں گے ہم اسی طرح بھاگ کر جائینگے اور ان کی مدد کرینگے
 جیسے ہم نے اپنے گھروں سے تیرے گھر آنے کیلئے ہجرت کی ایسے ہی مظلوموں کی مدد کرنے کیلئے اپنے گھروں سے ہجرت کرینگے چاہے ہمیں صحراؤں میں ٹھہرنا پڑے چاہے بلند و بالا چوٹیوں پر جانا پڑے ہمیں سمندروں میں اترنا پڑے یاں خلا میں جانا پڑے ہم ہر حال میں تیرا حکم مانیں گے 
10 ذی الحج کو یوم النحر یعنی قربانی کی جاتی ہے اسی لئے اس دن کو عید قربان کہا جاتا ہے
حجاج کرام ادائیگی حج میں قربانی کرتے ہیں جبکہ باقی مسلمان اپنے ممالک اور گھروں میں سنت ابراہیمی کی ادائیگی کرکے یاد تازہ کرتے ہیں کہ اے اللہ تیرے دین کی سر بلندی اور تیرے حکم کی پیروی کرنے کیلئے آج ان جانوروں کی گردنوں پر چھری چلا رہے ہیں کل وقت آنے پر یہی چھری کفار کی گردنوں پر چلانی پڑی تو ہم تیار رہینگے یہی چھری ہمیں اپنی ناجائز خواہشات پر چلانی پڑی تو بھی ہم دریغ نا کرینگے ہماری یہ چھری چلانا ایک پریکٹس ہے جس سے ہم تربیت پاتے ہیں قربانی دینے کی اور اپنے اندر حوصلہ جمع کرتے ہیں
 ہم ہر صورت تیرے دین کی سربلندی کرینگے اور اس سر بلندی کیلئے خون بہانے سے بھی نا گھبرائیں گے چاہے وہ خون جانور کا ہو یاں کسی فرد کا وہ خون صرف تیری رضا کیلئے بہے گا اور جیسے آج ہم ہڈیاں توڑ رہے ہیں ایسے ہی کفار کی ہڈیاں توڑ دینگے پر تیرے دین اور تیرے بندوں پر آنچ نا آنے دینگے
آج لبرلز اور دین بیزار لوگ بہت شور کرتے ہیں کہ قربانی سے فضول خرچی ہوتی ہے اس کا کیا فائدہ ہے تو ایسے ملحد لوگ جان لیں کہ
ایک اندازے کے مطابق عید قربان پر 4 سو کروڑ کے جانور قربان کئے جاتے ہیں جبکہ اس قربانی کے دوران  3 دنوں میں25 ارب روپیہ کی اجرت قصائی حضرات کماتے ہیں اس کے علاوہ جانوروں کے چارے،جانور لاڈ کر لیجانے والے،منڈی مویشیاں میں فیس اور آلائشیں اکھٹی کرنے والے الگ سے کاروبار کرتے ہیں اور غریب اور بے سہارہ لوگ 1 ہزار روپیہ کلو والا گوشت مفت میں کھاتے ہیں ان اعتراض کرنے والوں نے کبھی کسی غریب مسکین کیلئے اتنے مہنگے اور تازہ گوشت کا اہتمام کیا؟ یقیناً نہیں تو ان لوگوں کو جلنے دیجئے اور عید قربان پر قربانی کرکے حکم ربی ادا کرکے غریبوں،مسکینوں کو گوشت کھلائیں اور اس مقصد کو پورا کہ جو مقصد ابراہیم علیہ السلام کا تھا اور جو مقصد جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا کہ صرف جانور قربان کرنے کا نام ہی قربانی نہیں بلکہ رب کی توحید میں کسی کو شریک نا ٹھہرانا،ناجائز خواہشات کا رد کرکے ان کو قربان کرنا،مظلوم کی مدد کرکے اس کا سہارا بننا اور رب کے احکامات کی سر بلندی کیلئے جان و مال تک قربان کر دینا ہے اصل قربانی ہے کیونکہ اللہ تعالی کو ہمارے قربان کئے گئے جانوروں کا گوشت نہیں پہنچتا بلکہ اللہ تعالی ہمارا تقوی دیکھتا ہے کہ ہم احکام ربانی سے کس قدر مخلص ہیں
اگر آج دنیا کے حالات دیکھیں تو پھر پوری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کی خاطر ابراہیم علیہ السلام کی طرح آتش نمرود میں کود جانے کا وقت ہے اور محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اپنانے ہوئے غزوات بدر و احد کرنے کا وقت ہے تاکہ مالی قربانی کیساتھ جانی قربانی کا مقصد بھی پورا ہو سکے

Sunday, 26 July 2020

کیا حقوق اللہ اور حقوق العباد کے علاوہ بھی حساب ہو گا؟ از قلم ۔۔۔۔۔ غنی محمود قصوری



اللہ رب العزت نے یہ دنیا بنائی اور اس دنیا میں مختلف مذاہب، مکتبہ فکر،رنگ،نسل اور عقائد کے لوگ بسائے
 ہر کسی کا طرز زندگی اس کے عقائد کے مطابق ہے
ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور ہمارا ایک اللہ اور ایک آخری نبی محمّد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے اسی لئے ہم  زندگی گزارنے کیلئے قدم قدم پر قرآن وسنت کے محتاج ہیں اور اسی میں ہماری نجات بھی ہے
یقیناً ہمیں علم ہے کہ اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں اور اس کی طرف سے جاری کردہ احکامات کا حساب قیامت کے دن دینا ہوگا جن میں حقوق اللہ میں نماز،روزہ،جہاد،اولاد،حج اور حقوق العباد میں صدقہ خیرات،صلح رحمی، بول چال میں عاجزی اور مخلوق الہیٰ سے پیار کرنا وغیرہ شامل ہیں مگر اس کے علاوہ بھی ایک ایسی بھی چیز ہے جس کا حساب اللہ نے لینا ہے اور ہم اسے برباد کئے جا رہے ہیں وہ ہے ہماری صحت و جوانی کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں فرماتے ہیں
اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ،  دشمن کے ڈر سے ،  بھوک پیاس سے ،  مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔  البقرہ 155
اس سورہ میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو آزمانے کا وعدہ کیا ہے اور جہاں  مال سے آزمانے کا بتایا گیا ہے وہیں جان سے بھی آزمانے کا بتایا گیا ہے مال سے آزمانا راہ خدا میں خرچ کرنا،غریبوں یتیموں کی مدد وغیرہ جبکہ جان سے آزمانے کا مطلب رب کے دین کی خاطر راہ جہاد پر نکلنا اپنی جان پر شرع اللہ نافذ کرکے لوگوں کو اس پر عمل پیرا کروانا ہے اور دین کی خاطر دیگر تکالیف اپنی جان پر جھیلنا بھی جان سے آزمانے کا نام ہے اور صبر کرنے والوں کیلئے خوشخبری سے مراد جنت ہے
 یعنی جہاں اللہ تعالی نے بندے کے مال کا حساب لینا ہے وہاں اس کی جان کا بھی حساب ہوگا اور جان ہوتی ہی تندرستی  سے  ہے اسی لئے تندرستی کے متعلق بھی جواب دہ ہونا پڑے گا اس جوانی اور تندرستی کا اللہ تعالی حساب بھی لے گا
ہماری اسی جان و جوانی  کا خیال رکھتے ہوئے اللہ تعالی نے شراب حرام کی تاکہ ہماری صحت اچھی رہے اور جب صحت اچھی ہو گی تب ہی ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کر سکینگے ورنہ بستر پر لیٹ کر حقوق العباد تو بہت کم ادا ہو سکینگے مگر حقوق العباد کا ادا ہونا ناممکن سا ہو جاتا ہے
اسی لئے جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز خمر (شراب کی قسم) ہے اور خمر حرام ہے اب آپ جدید میڈیکل سائنس کا مطالعہ کریں وہ بھی بتائے گی کہ شراب کا نشہ انسان کو ذہنی و جسمانی بیمار کرتا ہے اور جوان بندے کو بہت جلد موت کے قریب لیجاتا ہے اور ہر نشہ آور چیز کو خمر اس لئے کہا گیا ہے کہ ایسی چیزیں شراب سے ملتی جلتی ہیں جیسے گھٹکا،پان،سپاری وغیرہ یہ سب چیزیں آج بطور فیشن استعمال ہو رہی ہیں جس سے جگر کا کینسر،امراض معدہ،دل کی بیماریاں اور ذہنی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جس کے مریض حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں
تو جو بندہ ان چیزوں کا عادی ہو چکا ہے اسے چاہئیے اوپر بیان کئے گئے فرمان رب تعالی فرمان محمد کریم کا مطالعہ کرے اور سمجھ جائے کہ ہم سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی طرح ہماری جوانی و صحت کا بھی اللہ تعالی خوب حساب لے گا لہذہ اپنی صحت کا خیال رکھیں چاہیے وہ نشہ آور چیزوں کے استعمال کے علاوہ چیزوں جیسے کولڈ ڈرنکس،بازاری کھانوں کی بکثرت عادت سے ہماری صحت بگڑ رہی ہو تو ہمیں فوری ان کو ترک کرکے اپنی صحت کا لیول اپ کرنا ہوگا کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی گئی ہر نعمت کا حساب لینا ہے اور وہ اللہ ہمیں آزمائے گا صحت دے کر اور بیماری دے کر وہ ہمیں آزمائے گا دولت دے کر اور دولت لے کر بھی کیونکہ وہ ہمارا صبر کا لیول چیک کرے گا جو صبر کرکے ناجائز خواہشات کے پیچھے نا چلا وہ کامیاب ہوگا اور جو ناجائز خواہشات کے تابع ہو گیا وہ ناکام ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اللہ رب العزت ہم سب کو فرمان مصطفیٰ اور فرمان الہٰی کے تابع رہ کر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے  آمین

Wednesday, 22 July 2020

دہشت گرد کلبوشن کو رہا کرنے کی تیاریاں مکمل۔۔۔۔۔ از قلم غنی محمود قصوری


گورنمنٹ آف پاکستان نے کلبوشن یادیو ہندوستانی دہشت گرد کا کیس خود ہائیکورٹ میں لڑنے کا فیصلہ کر لیا
یہ فیصلہ جذبہ خیر سگالی کے تحت کیا گیا ہے واضع رہے رواں سال 29 مئی کو صدر پاکستان عارف علوی نے غیر ملکی قیدیوں کو ملٹری کورٹس سے ہوئی سزا پر اپیل کرنے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا بل پاس کیا ہے جس کے تحت کوئی بھی غیر ملکی دہشت گرد،جاسوس جو کہ ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ہے اسے حق مل گیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے اندر اپنی سزا کیخلاف درخواست دائر کر سکے واضع رہے کہ اس سے قبل ایسا نا تھا ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ قیدی کسی بھی سول کورٹ میں اپنی سزا کو چیلنج نہیں کر سکتے تھے
سوچنے کی بات ہے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صدر کو غیر ملکی سزا یافتہ دہشت گردوں کی اتنی زیادہ فکر کیوں لاحق ہوئی؟
آخر اتنی خاموشی سے بل کیوں پاس کروا لیا گیا؟
جبکہ عوام کی سہولت کیلئے اور اسلام کے دفاع کیلئے پیش کئے جانے والے درجنوں بل ابھی بھی زیر التواء ہے جبکہ دوسری جانب اپنے ہی ملک کے لوگوں کو  کہ جن پر اس ریاست پاکستان کے خلاف کام کرنے کا کوئی گواہ نہیں اور پاکستان کی عوام ان کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے حاضر ہو جاتی ہے جس سے ان کے محب وطن ہونے کا ثبوت ملتا ہے ان افراد کو غیر ملکی دباؤ پر جیلوں میں رکھا گیا ہے اور ان پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے گئے ہیں اور الزام یہ لگایا گیا کہ بیرون ملک ان افراد نے آزادی کی تحریک لڑنے والے افراد کی مالی معاونت کی تھی
 پچھلے سال بڑے فخر سے خود میڈیا پر وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ آسیہ ملعونہ کو  پاکستان سے باہر بھجوانے کیلئے ہم نے مولویوں کو گرفتار کیا جو کہ آسیہ کی رہائی میں رکاوٹ تھے
اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ صدر پاکستان سے منظور شد بل صرف کلبوشن یادیو کی رہائی کی نوید ہے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو ملک میں کوئی بھی محفوظ نا رہے گا خاص کر انٹیلیجنس اداروں کے اہلکاران  مذید غیر محفوظ ہو جائینگے
پاک فوج کا کیپٹین قدیر جس اللہ کے شیر نے کلبوشن یادیو کو پکڑا تھا  اسے اسی جرم میں بیرونی ایجنسیوں نے شہید کیا  کلبوشن کے ہاتھوں پر ہزاروں پاکستانیوں کا خون ہے جس کا اقرار وہ خود اپنے ویڈیو بیان میں کر چکا ہے تو پھر گورنمنٹ کو اس سے اتنی ہمدردی کیوں؟ کیا سابقہ گورنمنٹس کی طرح پی ٹی آئی بھی دباؤ کا شکار ہے؟
کیا خان صاحب کے سارے کے سارے دعوے محض دکھلاوا تھے ؟
سیکیورٹی و انٹیلیجنس ادارے دن رات محنت کرکے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک دشمنوں کو پکڑتے ہیں انہیں ملٹری کورٹس سے سزا دلواتے ہیں تاکہ ملک میں امن و امان ہو سکے کسی کا سہاگ،کسی کا لخت جگر  پھر کسی کلبوشن جیسے دہشت گرد کی تخریب کاری کا نشانہ نا بن سکے مگر افسوس کہ ریاست مدینہ اور تبدیلی کے دعوے دار ایک دہشت گرد کی رہائی کیلئے خود بل پاس کروا کر خود ہی ہائیکورٹ میں کیس بھی لڑینگے تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ دہشت گردوں تم اپنا کام کرو ہم اپنے بل پاس کروا کر تمہیں رہا کرواتے رہینگے
شاید کہ اگر یہی حالات رہے تو آپریشن فیئر پلے کی ضرورت سخت سے سخت تر ہو جائے گی کیونکہ سب سے پہلے اسلام و پاکستان
کلبوشن نے اسلامی ملک کے اسلامی باشندوں کو شہید کیا ہے 
جہاں اپنے لوگوں کو جیلوں میں اور بیرون ملک سے آئے ہزاروں پاکستانی مسلمانوں کے قاتل دہشت گردوں کی رہائی کیلئے حکمران بے تاب ہوں وہاں عوام بھی مایوس ہو جاتی ہے پھر وہاں بیرونی ایجنسیوں کے آلہ کار اپنے ہی لوگ اس لئے بن جاتے ہیں کہ انہیں انصاف نہیں مل سکا لہذہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں

Sunday, 19 July 2020

دنیا کے نقشے سے غائب فلسطینی نام غزوہِ بنی قینقاع کا منتظر،،،، از قلم غنی محمود قصوری



قوم بنی اسرائیل قوم یہود اپنی چالاکی کی بدولت مشہور ہے یہ نہایت شاطر تھے اور دنیا کے امن و امان کیلئے انتہائی خطرہ تھے سو اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن مجید میں قوم بنی اسرائیل کی مثالیں دے کر سمجھایا
یہودی اس قدر احسان فراموش ہیں کہ انہوں اپنے پیغمبر موسی علیہ السلام کی باتوں کا رد کیا  کہ جنہوں نے فرعون کے چنگل سے ان کو آزادی دلوائی تھی
اسرائیل دنیا کا واحد یہودی ملک ہے جس کی آبادی تقریبا 78 لاکھ اور رقبہ 8522 مربع میل ہے یوں تو بظاہر یہ ایک چھوٹی سی ریاست ہے مگر اس شاطر فطرت قوم نے ساری دنیا پر اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں آج دنیا کے بڑے بڑے برانڈ جیسے سام سنگ،ڈیل،ایریل، پیپسی وغیرہ انہی کی ملکیت ہے حتی کہ دنیا کا سپر پاور ملک امریکہ بھی اس ناجائز ریاست کے آگے بے بس ہے دنیا کے بڑے بڑے ادارے اسی کی ملکیت ہیں
سوچنے کی بات ہے کہ ایک کمزور قوم ہمارے اوپر اس قدر مسلط ہو گئی کہ پہلے فلسطین پر قبضہ کیا اور اب عالمی نقشے سے فلسطین کا نام تک مٹا دیا گیا ہے مگر یہودی یہ بھول گئے کہ نقشوں سے قومیں نہیں ہوتیں قومیں تاریخ سے ہوتی ہیں سو اس بزدل قوم کی تاریخ اور اس کا علاج کیسے ہو گا آپ پر وضع کر رہا ہوں عہد رسالت سے
 عہد رسالت میں بھی یہودی مسلمانوں کو تنگ کرتے تھے اور معاشرے کیلئے خطرہ تھے  سو میرے نبی نے اپنی شفیق و رحیم مزاج فطرت اور موسی علیہ السلام کی امت ہونے کے ناطے غزوہِ بدر سے پہلے ان مدینہ کے یہودیوں سے معاہدہ کیا ہوا تھا کہ جنگ کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کی جائے گی اور آپس میں اتحاد قائم رکھا جائیگا مگر بد فطرت یہودیوں نے جنگ بدر میں دھوکہ دیا
یہودی زیادہ تر لوہاروں اور سوناروں کا کام کرتے تھے اس لئے ان کے پاس پیسے اور اسلحہ کی فراوانی رہتی تھی جس کے باعث یہ متکبر ہوتے چلے گئے
شوال 2 ہجری کو یہودیوں کے قبیلہ بنو قینقاع کے ساتھ  میرے نبی کا غزوہِ ہوا جس کی وجہ یہ بنی کہ ایک مسلمان عورت ایک یہودی سونار کے پاس خرید و فروخت کیلئے گئی تو اس یہودی سونار نے اس صحابیہ رسول کو کہا کہ نقاب اتار دے مگر میرے پاک نبی کی عفت مآب صحابیہ نے انکار کیا جس پر شاطر دماغ یہودی نے اس عورت کی چادر کسی چیز سے باندھ دی جب وہ عورت اٹھی تو اس کی چادر اس کے چہرے سے ہٹ گئی اس پر بیٹھے ہوئے یہودیوں نے قہقے لگائے
اس سارے منظر کو ایک عاشق رسول صحابی دیکھ رہا تھا اس نے اس عورت کی توہین  پر اس گستاخ یہودی کو قتل کر دیا تو بدلے میں یہودیوں نے بھی اس صحابی رسول کو شہید کر دیا
 بات نبی ذیشان تک پہنچی شفیق نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود بنو قینقاع کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو سمجھایا کہ اللہ قوم یہود اللہ سے ڈرو کہیں بدر کی طرح تمہارا بھی حال قریش جیسا نا ہو جائے
اس پر متکبر بنو قینقاع کے یہودیوں نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارا پالا قریش کے ناتجربہ کار جنگجوؤں سے تھا اگر تمہار پالا ہم تجربہ کار اور ماہر لڑاکا بنو قینقاع سے پڑا تو پتہ چل جائے گا
بنو قینقاع کے یہ متکبرانہ جملے سیدھی جنگ کی دھمکی تھی
لہذہ  حکمت و بصیرت کے پیکر اور جرنیل اعظم جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے 15 شوال 2 ہجری کو صحابہ کی جماعت ساتھ لی اور بنو قینقاع کی طرف چل دیئے
شاطر مگر بزدل بنو قینقاع کے یہودی اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو ننگی تلواروں کیساتھ دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئے اور بغیر لڑے قلعہ بند ہو گئے جس پر نبی کریم نے ان کا محاصرہ کر لیا جو کہ پندراں دن تک جاری رہا سولہوی دن یہودیوں نے اعلان شکشت کیا اور نبی کریم کی سپاہ نے تمام یہودیوں کو گرفتار کر لیا
دستور عرب کے مطابق جنگی قیدیوں کو پھانسی دی جاتی تھی اور ان تمام جنگی قیدی بنو قینقاع کے یہودیوں کی موت بھی یقینی تھی سو ان بد فطرت اور شاطر یہودیوں نے عبداللہ بن ابی منافق  کے ذریعے بارگاہ رسالت میں معافی نامہ بیجھا جسے میرے نبی نے رد کر دیا
 چونکہ عبداللہ بن ابی منافق ابھی نیا ہی مسلمان ہوا تھا اور اس کے بنو قینقاع قبیلے سے گہرے مراسم تھے اس لئے اس نے نبی کریم کی بارگاہ میں بار بار ان منافقین بنو قینقاع کی جان بخشی کی درخواست کی اور آخر نبی کریم نے عبداللہ بن ابی منافق کی درخواست قبول کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ سارے کے سارے فوری طور پر اپنا علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں چنانچہ اصحاب محمد ان بنو قینقاع کے بزدل مگر متکبر یہودیوں کو انہی کے آبائی علاقے سے نکال کر خیبر تک چھوڑ آئے جہاں سے یہ پھر شام چلے گئے
یہاں قابل غور بات ہے کہ یہودی کل بھی دولت و اسلحہ کے بل بوتے پر متکبر تھے اور آج بھی ہیں مگر نبی کریم نے ان کو تبلیغ کی تو یہ نا سمجھے مگر تلوار دیکھتے ہی یہ یہودی منافق چھپ گئے اور لڑے بغیر جان کی امان پانے پر مجبور ہو گئے اور آج بھی یہودی اسلحہ و دولت کے بل بوتے پر پوری دنیا پر اپنی ڈھاک بٹھائے ہوئے جسے پوری دنیا سمجھا سمجھا کر تھک چکی ہے کہ اسرائیل فلسطین پر ناجائز قبضہ ختم کرکے بیت المقدس کو آزاد کردے
مگر متکبر یہودی آگے سے دھمکیاں دیتا ہے
تاریخ گواہ ہے کہ یہ یہودی ایک بزدل اور منافق قوم ہے جو اسلحہ دیکھتے ہی سرنڈر کر دیتی ہے سو آج فلسطین پر ان کا قبضہ ختم کروانے اور دنیا کے نقشے پر اسرائیل کی بجائے فلسطین کا نام لانے کیلئے نبی ذیشان کی جماعت کا سا  کام کرنا ہوگا ملت اسلامیہ کے حکمرانوں کو اپنا اسلحہ ان کو دکھانا ہوگا یقین کریں چاہے جتنی بھی بڑی ٹیکنالوجی  ان کے پاس ہو مگر یہ لڑ نہیں سکتے یہ میدان چھوڑ کر بھاگنے والی منافق و بزدل قوم ہے مگر اس کیلئے ملت اسلامیہ کو جرأت مند لیڈران کی ضروت ہے تبھی غزوہِ بنی قینقاع کی یاد دہراتے ہوئے ان کو آج پھر فلسطین سے نکالا جا سکتا ہے دنیا کے نقشے پر آزاد فلسطین کا نام کنندہ کیا جاسکتا ہے بصورت دیگر کچھ نہیں ہوگا سوائے وقت کے ضیاع کے

Wednesday, 15 July 2020

کالے جادو پر سزا کا بل زیر التواء اور عاملوں کی تشہیر کیوں؟,,,,,,,, از قلم غنی محمود قصوری



ایک مسلمان ریاست و حکمران کا کام مسلم معاشرے میں برائی کا خاتمہ اور لوگوں کی اصلاح ہوتا ہے اگر کوئی فرد تنظیم یاں گروہ معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہا ہو  تو حکومت وقت پر فرض ہے کہ ایسے لوگوں کا خاتمہ کیا جائے
پاکستان میں جادو ٹونے کا کام سرعام ہو رہا ہے جو کہ ایک قبیح فعل ہے قرآن و حدیثِ نے اس کی سخت ممانعت کی ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ  تباہ کرنے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچوں اور جادو کرنے اور کرانے سے بچو ۔۔ بخاری 5764
ایک کم علم مسلمان بھی جانتا ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور اس فعل کے مرتکب کا ہمیشگی ٹھکانہ جہنم ہے اور اسی کے بعد سب سے بد عمل جادو کرنا یا کروانا بھی ہے
اللہ تعالی قرأن میں فرماتے ہیں
اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے ۔سلیمان نے تو کفر نا کیا تھا بلکہ یہ کفر شیطان کا تھا،وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے ۔ سورہ البقرہ 102
اللہ تعالی نے  حضرت سلیمان کے دور میں جنوں کی مثال دے کر ہمیں سمجھا دیا کہ وہ لوگوں کو جادو سکھلا کر کفر کرتے تھے اور کفر بہت بڑا گناہ ہے
آج ہم میں بھی یہ کفر بہت آ گیا ہے نا صرف یہ کفر کیا جاتا ہے بلکہ اس کی تشہیر بھی سرعام کی جاتی ہے پاکستان کی ہر دیوار،اخبار،چینل حتی کہ سوشل میڈیا بھی انہی کے اشتہاروں سے بھرا پڑا ہے
 افسوس کہ ایک اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے  جعلی پیروں اور عاملوں کے اشتہارات دیکھنے کو ملتے ہیں جو نا صرف ہمارے مال کو لوٹتے ہیں بلکہ ہمارے ایمان کو بھی خراب کرتے ہیں بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان اللہ رب العزت کے قرآن اور محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر ہونا چائیے مگر افسوس آج ہم اس نام نہاد جعلی پیروں کے چکر میں اپنی دولت و ایمان کے ساتھ ساتھ اپنی عزتوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ابھی ٹیلی ویژن و سوشل میڈیا  پر کتنے ہی ان خبیث عاملوں اور بابوں کی عورتوں کی عزت کیساتھ کھلواڑ کرتے ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں مگر افسوس سب دیکھ ، سمجھ کر بھی ہم نادان بنے بیٹھے ہیں ایک طرف تو یہی میڈیا ان عاملوں پیروں،جعلی بابوں کے جرائم ہمیں دکھلاتا ہے تو دوسری طرف یہی میڈیا انہی بدکرداروں کی تشہیر میں بھی مصروف ہے اور ان کی تشہیر کرکے نوجوان نسل کو محبت میں فتح،ساس بہو کی لڑائی،دشمنوں کو بیمار کرنے اور ہنستے بستے گھروں کا سکون برباد کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں اور یہ عامل بابے بغیر کسی خوف کے اپنا مکرو دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں
 جادو کی روک تھام کیلئے پاکستان میں کوئی قانون موجود نہیں اس پر سابق حکمران جماعت ن لیگ کے سینیٹر چوہدری تنویر خان نے اگست 2017 کو ایوان بالا میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں جادو ٹونہ کرنے والے عاملوں،بابوں کے خلاف قانون بنا کر اس بدفعل پر دو سے سات سال تک قید اور دو لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا کیساتھ اس کی ہر قسم کی تشہیر کو ممنوع قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی مگر یہ بل پاس نا ہو سکا اور ابھی بھی زیر التواء ہے  اس بل کے پاس نا ہونے سے ہمارے حکمرانوں کی اسلام سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے کہ جس قبیح فعل کو قرآن و حدیث نے حرام کیا ،کہ جس میں بچوں تک کو قتل  کر دیا جاتا ہے کہ جس میں قبروں میں سے مردے نکال کر بے ان کی حرمتی کی جاتی ہے، اور ہنستے بستے گھروں کا امن و سکون برباد ہو جاتا ہے اس کے خلاف پیش کئے گئے بل کو منظور نہیں کیا گیا جبکہ ذاتی مفادات کو ہمارے یہی حکمران بغیر سوچے سمجھے بھاری اکثریت سے منظور کروا لیتے ہیں
حکومت وقت کو چائیے کہ اخبارات میں ان کے اشتہارات پر پابندی کیساتھ ان عاملوں،بابوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جائے تاکہ لوگ اپنے جان و مال کے علاوہ اپنی عزت و آبرو بھی بچا سکیں اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشرتی مسائل کچھ حد تک کم ہو سکیں
اگر حکومت وقت اسلام و پاکستان  سے مخلص ہے تو ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے کا  حق ادا کرنے کیلئے اس بل کو پاس کروائے

Sunday, 12 July 2020

22 کشمیریوں کی شہادت اور یوم شہداء کشمیر،،،، از قلم غنی محمود قصوری



یوں تو کشمیریوں کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے مگر ان قربانیوں میں سے ایک قربانی ایسی بھی ہے کہ جس سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کشمیر کیساتھ اسلام سے محبت کی انوکھی مثال بھی ملتی ہے جس کی مثال پہلے کوئی نہیں ملتی اور اس قربانی پر دنیا عش عش کر اٹھتی ہے
13 جولائی 1931 کا دن ایک تاریخ ساز دن ہے کہ جس دن 22 کشمیریوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر اسلام کے فریضہ اذان کو مکمل کیا اور یوں دنیا میں یہ پہلی اذان بن گئی کہ جس کی تکمیل کیلئے 22 جانیں اللہ کی راہ میں دے کر اذان کو مکمل کیا گیا
اس قربانی سے کشمیری قوم نے ثابت کر دیا کہ تحریک آزادی کا فرض ادا کرنے کیلئے فرائض اسلام پر عمل پیرا ہونا لازم ہے چاہے کوئی بھی قربانی پیش کرنی پڑے وہ دریغ نہیں کرینگے
یوم شہداء کشمیر کی مکمل تفصیل یہ ہے کہ آج سے تقریباً 89 سال قبل 25 جون 1931 کو سری نگر میں مسلمانان کشمیر نے اپنی آزادی کی خاطر ظالم قابض مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں شرکاء نے آزادی کیلئے خطاب کیا اس دوران ایک نامعلوم جوان عبدالقدیر آگے بڑھا اور سٹیج پر جا کر کشمیریوں کو قرآن و حدیث سے آزادی کیلئے ابھارا جس پر پورا مجمع پرجوش ہو کر مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف نعرے لگانے لگا اور آزادی کشمیر کے لئے مر مٹنے کو تیار ہوتا دکھائی دینے لگا اس پر سیخ پا ہو کر متعصب سرکار نے عبدالقدیر کو گرفتار کرکے اس پر بغاوت کا مقدمہ درج کرکے جیل بھیج دیا جس پر مسلمانوں میں غم و غصہ کی شدید لہر دوڑ گئی
13 جولائی 1931 کو عبدالقدیر کو عدالت پیش کیا جانا تھا اس لئے ہزاروں کشمیری اپنے محسن عبدالقدیر کے دیدار کے جمع تھے اتنے میں نماز ظہر کا وقت ہو گیا ظاہری بات ہے اس مقدس فریضہ کی ادائیگی سے پہلے فریضہ اذان لازم ہے سو اسلام پسند غیور کشمیریوں میں سے ایک  اذان کیلئے آگے بڑھا ابھی اس نے اذان شروع کی ہی تھی کہ بغض و حسد میں مبتلا ڈوگرہ سپاہی نے مؤذن پر گولی چلا دی مؤذن کے گرتے ہی دوسرا کشمیری آگے بڑھا اور آذان کہنا شروع کر دی اس ظالم و متعصب سپاہی نے پھر گولی چلائی اور مؤذن کو شہید کر دیا اتنے میں بغیر خوف اور نتیجے کی پرواہ کئے تیسرا کشمیری اٹھا اور آذان جاری رکھی یوں مسلمانوں کی آزادی سے خوف زدہ ڈوگرہ فوج نے گولیاں چلائیں اور مؤذنوں کو شہید کرتے رہے ادھر کشمیری بھی جذبہ اسلام سے سر شار تھے وہ بھی ایک ایک کرکے سینے پر گولی کھاتے گئے اور آخر کار 22 مؤذنوں کی شہادت کے بعد اذان مکمل ہوئی اور دنیا کی تاریخ میں ایک ایسی اذان بن گئی کہ جس کیلئے 22 جانیں دینا پڑیں مگر کشمیریوں نے اذان کی تکمیل کی خاطر اپنی جانیں دینے سے دریغ نا کیا جس پر ڈوگرا راج دہشت کا شکار ہو گیا اور یوں کشمیر کی تحریک آزادی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور اسی دن کو یوم شہداء کشمیر کے نام سے منایا جاتا ہے
تحریک آزادی کے شروع سے ہی اتنی بڑی قربانی دے کر کشمیریوں نے ثابت کر دیا کہ چاہے جتنی بڑی قربانی دینی پڑے وہ تیار ہیں اور بغیر سوچے قربانی دینگے اور تب سے اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری آزادی کشمیر کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے
ادھر موجود قابض ہندو مودی گورنمنٹ نے ڈوگرا راج کی طرح ظلم و تشدد کا راج قائم کرتے ہوئے پچھلے سال 5 اگست سے کرفیو لگا رکھا ہے تاکہ کشمیری آزادی کو بھول جائیں مگر کشمیری پہلے سے زیادہ جوش و جذبے سے ہندو فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہے ہیں
ہم چھین کے لینگے آزادی
ہے حق ہمارا آزادی
شاید کشمیر کی صورتحال پر ہی شاعر نے یہ شعر کہا تھا
ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
تم تیر آزماؤں ہم جگر آزمائیں
ان شاءاللہ بہت جلد آزادی کشمیر اپنی تکمیل کو ہے اور یہی آزادی کشمیر بربادی ہند میں بدل جائے گی ان شاءاللہ کیونکہ دنیا کشمیریوں کی قربانیوں سے بخوبی واقف ہے
کشمیری کٹ تو سکتے ہیں مگر جھک نہیں سکتے کیونکہ کشمیریوں کا نعرہ ہے تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ

Tuesday, 7 July 2020

برہان وانی تو زندہ ہے۔۔۔ غنی محمود قصوری کے قلم سے



تحریک آزادی کشمیر ظلم کی تصویر سے بھلا کون واقف نہیں؟  پچھلے 74 سالوں سے مظلوم کشمیری کم وسائل مگر چٹان جیسے حوصلے اور جذبہ ایمانی سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور 10 لاکھ مسلح فوج سے اپنی آزادی کی خاطر عام رائفلوں اور پتھروں سے لڑ رہے ہیں اور اس لڑائی کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی
محاذ کشمیر کی جنگ دنیا کی سب سے اونچائی پر لڑی جانے والی ایک مہنگی ترین جنگ ہے جس سے خود بھارت بھی پریشان ہے مگر اسے اس کا لے پالک اسرائیل سہارا دیئے ہوئے ورنہ اسی محاذ کشمیر پر انڈیا مالی و فوجی لحاظ سے کب کا گھٹنے ٹیک چکا ہوتا ادھر  کشمیریوں کے حوصلے دن بدن بڑھتے ہی جا رہے ہیں اس مسلح تحریک آزادی میں اب تک ایک لاکھ کے قریب نوجوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں جن میں سے ایک انتہائی اہم قربانی برہان مظفر وانی کی بھی ہے
 ایک پوسٹر بوائے سے مجاہد بننے والا یہ حزب المجاھدین کا کمانڈر برہان مظفر وانی 19 ستمبر 1994 کو مظفر وانی اور میمونہ وانی کے ہاں پیدا ہوا 
برہان وانی نے بچپن ہی سے انڈین آرمی سے نفرت کی اور رفتہ رفتہ اس نفرت کا اظہار وہ سوشل میڈیا پر بھی کرتا رہا
2010 میں برہان وانی نے حزب المجاھدین کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ عسکری زندگی کا آغاز کیا اور اس کے عسکری جوہر دیکھتے ہوئے اسے 2011 میں حزب المجاھدین کا کمانڈر بنا دیا گیا
  برہان جس علاقے میں بھی جاتا انڈین فوج کے بڑے بڑے کمانڈر اس علاقے سے راہ فرار کو ترجیح دیتے اور یوں اس کی جرات و بہادری کی ڈھاک انڈین فوج پر چھا گئی دوران زندگی اسے ٹاپ کمانڈر قاسم عبدالرحمان شہید کی قربت بھی نصیب ہوئی اور وہ قاسم عبدالرحمان کو اپنا استاد مانتا تھا انڈین فوج پر برہان کا اس قدر رعب پڑ چکا تھا کہ ہندو سرکار نے برہان کے سر کی قیمت دس لاکھ روپیہ مقرر کر دی تھی
 8 جولائی 2016 کو مقبوضہ وادی کے ضلع اننت ناگ کے علاقے کوگر ناگ میں انڈین فوج کی بہت بڑی تعداد نے جدید ترین ہتھیاروں سے  کئی گھنٹے طویل معرکے کے بعد برہان کو شہید کیا جس کے بعد وادی میں تاریخی تصادم انڈین فوج اور کشمیریوں کے مابین شروع ہو گیا اور ان جھڑپوں میں دو سو سے زائد نوجوانوں نے اپنی جان راہ شہادت میں قربان کی اور اس شہادتوں کے بعد نوجوانوں میں ایک نیا جذبہ آزادی پیدا ہوا جو کہ اب بھی جاری و ساری ہے 
  22 سال کی عمر  میں برہان وانی دس لاکھ مسلح فوج کو ایسا زخم دے گیا کہ سات عشروں سے زائد  میں ایسا زخم بھارت کو نا ملا تھا 22 سالہ لڑکا وہ کام  کرگیا کہ 50 ,50 سال سے عسکری خدمات دینے والے ہندوں,اسرائیلی دماغ دنگ رہ گئے کہ ایسا کیوں کر ہو گیا ؟ مگر  ایسا اس لئے ہوا کیونکہ برہان مظفر وانی اس محمد ذیشان تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فرزند ہے  کہ جس نبی علیہ السلام نے کم وسائل ہونے کے باوجود اپنے دور کی سپر پاور کو شکشت دیکر تاریخ کو حیران کر دیا اور آج پوری دنیا کی سپر طافتیں اسی نبی کی جنگ مہارت پر عمل پیرا ہونے کو ہی کامیابی قرار دیتی ہیں
 برہان اس لئے بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے کہ وہ سیدنا صدیق اکبر,سیدنا عمر فاروق ,سیدنا عثمان غنی ,سیدنا علی المرتضی شیر خدا رضوان اللہ علیہ اجمعین کا روحانی فرزند ہے کہ جنہوں نے انتہائی کم وسائل کیساتھ پوری دنیا پر حکمرانی کی اور ثابت کر دیا کہ جنگیں وسائل سے نہیں بلکہ قوت ایمانی سے لڑی جاتی ہیں اور برہان زندہ اس لئے بھی ہے کہ وہ سیدنا امیر معاویہ کا روحانی فرزند ہے کہ جس نے مجوسیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور ایسا اکھاڑ پھینکا کہ آج دن تک دوبارہ مجوسیت کھڑی نہیں ہو سکی
 برہان اس لئے آج بھی رول ماڈل ہے کیونکہ وہ  سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ کا روحانی فرزند ہے کہ جس نے اس وقت کی سپر پاور  صلیبیوں سے بیت اللہ واپس لیا اور سپر پاور بھی وہ کہ جس کا ڈنکا پوری دنیا میں بجتا تھا سلطان کی ضرب سے گھٹنوں کے بل جا گری تھی
آج انڈیا بریان وانی کو یاد کر کر کے غم زدہ رہتا ہے کیونکہ برہان کی شہادت کے بعد نوجوان اس قدر مسلح تحریک میں شامل ہوئے کہ پہلے تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی اس روز کی پھلتی پھولتی مسلح تحریک آزادی سے خوفزدہ انڈیا نے ظلم و بربریت کی گندی ترین مثال قائم کرتے ہوئے گزشتہ سال اگست سے تاحال تاریخ کا سب سے لمبا کرفیو لگایا ہوا ہے اور اس کرفیو کے دوران سینکڑوں کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے مگر انڈین گورنمنٹ کیلئے رزلٹ پھر بھی صفر ہی ہے کیونکہ کشمیری آزادی سے کم کسی بات پر راضی نہیں کل بھی ان کا نعرہ تھا بھارت سے لینگے آزادی ،کشمیر بنے گا پاکستان اور آج بھی ان کے نعرے یہی ہیں
انڈیا کی اس ساری بربریت پر عالمی برادری مایوس کن حد تک خاموش ہے مگر کشمیری قوم کھلے عام ہندو سرکار کو کہہ رہی ہے کہ سن لے انڈیا برہان تو رب کی جنتوں کا مہمان بن گیا مگر اللہ کی قسم اپنے پیچھے آنے والی نسلوں کو وہ ایسا سبق  سکھا گیا کہ قیامت تک ہندو دھرم میں خوف کی لہر پیدا ہو کر رہ گئی ہے 
ایک طرف مٹھی بھر مجاہدین ہیں تو دوسری طرف انڈیا کی دس لاکھ  مسلح  اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس فوج مگر پھر بھی کئی سالوں سے  میرے غیور کشمیروں کی صدا آزادی کو دبا نا سکی تیری ہندوں مائیں غم سے مر جاتی ہیں کہ جب ان کو پتہ چلتا ہے کہ ان کے  فوجی بیٹے کی مقبوضہ کشمیر میں پوسٹنگ ہو گئی ہے اور جب کہ دوسری طرف کسی کشمیری ماں کا ایک بیٹا شہید ہوتا ہے تو وہ ماں پہلے بیٹے کی کلاشن دوسرے بیٹے کو پکڑا کر کہتی ہے چل بیٹا  اپنے رب کے فرمان کے مطابق اپنے شہید بھائی کا بدلہ لے اور مظلوم ماؤں, بہنوں,بیٹیوں اور بزرگوں  کی مدد کر اور پھر اس کی شہادت کے بعد تیسرے پھر چھوتھے حتی کہ بیٹے کے بیٹے کو کلاشن پکڑا کر حکم ربی سنا کر خود غاصب پلید ناپاک ہندوں فوج کے خلاف جہاد کے لئے بیجھا جاتا ہے اور بعض اوقات تو بیک وقت دو,دو بھائی اور کئی مرتبہ باپ بیٹا اکھٹے برسر پیکار رہتے ہیں اور کئی سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ذلت آمیزی انڈیا کو  تب ملی جب میری عفت مأب پاک دامن  کشمیری بہنوں بیٹیوں نے اپنے غیور سنگ باز بھائیوں کے شانہ بشانہ ہندو کی گندی فوج کا مقابلہ پتھروں سے شروع کیا  ان شاءاللہ کشمیر منرل دور نہیں 
تو چھین لے آنکھیں مجھ سے 
خواب تو کیسے چھینے گا ؟

Monday, 6 July 2020

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور بکاؤ دلال میڈیا



تحریر *غنی محمود قصوری*

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست کا چوتھا ستون میڈیا ہوتا ہے جبکہ سوشل میڈیا اس کی شاخیں ستون جتنا زیادہ اچھا اور مضبوط ہوگا عمارت اتنی کی مضبوط ہو گی بصورت دیگر وہ گرنے لگے گی
دنیا کے ہر میڈیا کا اندازہ اس کی آزادی سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کتنا جانبدار اور سچا ہے اگر میڈیا آزاد ہوگا تو وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہے گا اگر دنیا کے تمام میڈیا کا مشاہدہ کیا جائے تو صف اول کا بکاؤ اور بے غیرت میڈیا انڈیا کا ہے کہ جس کا کام انڈین را اور اسرائیلی موساد کے علاوہ دیگر اینٹی پاکستان حکومتوں سے پیسے لے کر کتے کی طرح پاکستان پر بھونکنا ہے مگر جب پروف مانگا جائے تو اس کی حالت اس کتے  کی سی ہوتی ہے کہ جسے  کوئی آنکھے دکھائے تو وہ دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور تھوڑا آگے جاکر کر پھر بھونکنا شروع ہو جاتا ہے
انڈیا کے چینلز کا کام ہی اینٹی پاکستان ہے پاکستان میں اگر کوئی ذاتی دشمنی کی بناء پر ایک دوسرے کو قتل کر دے تو یہ شور مچانا شروع ہو جاتے ہیں کہ پاکستان میں شورش عروج پر پہنچ چکی اب پاکستان نہیں بچے گا ٹوٹ جائیگا گا
اگر دیکھا جائے تو میڈیا کا کام اپنے باشندوں کی ضروریات کو اجاگر کرنا بھی ہوتا ہے مگر افسوس اس ذلیل انڈین میڈیا پر کہ اس سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار کے باشندے لیٹرین جیسی اس سہولت سے محروم ہیں کہ جو پاکستان میں خانہ بدوشوں کو بھی حاصل ہے ان کی بے شرمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند دن قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی کہ جس میں ایک انڈین فوجی آفیسر اپنے جوانوں کو لیٹرین بنانے اور پھر اس لیٹرین کے استعمال کا طریقہ سمجھا رہا ہے
ہندو اور اس کے میڈیا کا کام صرف پاکستان کے اندرونی معاملات پر نظر رکھنا ہے رواں 2 جولائی کو کراچی میں ایک مذہبی جماعت کے کارکن و عالم دین مجیب ادریس المعروف شیخ مجیب الرحمٰن زامرانی کو شرپسندوں نے ان کو ان کے ڈرائیور کے ہمراہ گولیاں مار کر قتل کر دیا اس پر انڈین بکاؤ میڈیا نے شور کرنا شروع کر دیا کہ زامرانی کا تعلق جماعت الدعوہ سے تھا اور وہ حافظ سعید کا دست راست ہونے کیساتھ بلوچستان میں دہشتگردوں کی ٹریننگ کا ذمہ دار بھی تھا نیز وہ داعش کیساتھ مل کر معصوم بلوچیوں کو قتل کرتا تھا اگر دیکھا جائے تو انڈین سرکار کی طرح انڈین میڈیا کی بھی زبان کتے والی ہے
آج دن تک انڈین میڈیا شور ڈالتا رہا کہ ذکی الرحمان لکھوی حافظ سعید کا دست راست ہے اور اس کی گورنمنٹ نے ایف اے ٹی ایف کو  جماعت الدعوہ کے تمام مرکزی راہنماؤں کے نام بھی دیئے جس پر پاکستانی گورنمنٹ کی طرف سے ان افراد پر مقدمات درج کئے گئے اور حافظ سعید سمیت ان کے دیگر راہنماء سزائیں کاٹ رہے ہیں جبکہ جماعت الدعوہ کے تمام مراکز گورنمنٹ کی تحویل میں ہیں تو ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ بلوچستان میں جماعت الدعوہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے اور پوری دنیا جماعت الدعوہ کے قائدین سے واقف ہے جبکہ ایک عدم ثبوتوں کی بناء پر انڈین میڈیا نے واویلا شروع کر دیا کہ زامرانی جماعت کا بڑا اہم ہے اور وہ ممبئی حملوں کا ذمہ دار ہے کوئی بھی ذی شعور بندہ انڈیا کی باتوں کو نہیں مانے گا کیونکہ آج دن تک ممبئی حملوں میں زامرانی کا نام نہیں لیا گیا اب اچانک پھر سے ان کو پاگلوں کی طرح خواب آنا شروع ہو گئے
جو باتیں زامرانی کے متعلق سامنے آئی ہیں ان کے مطابق زامرانی سعودی عرب سے پڑھ کر وطن واپس آ کر اپنے علاقے میں انڈین پے رول پر کام کرنی والی دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے خلاف کام کر رہے تھے وہ امن جرگہ کے اہم رکن تھے اور لوگوں کو بی ایل اے کی اوقات سے آشکار کرکے لوگوں کو وطن کی محبت میں رنگ رہے تھے اسی بدولت بی ایل اے کے درندوں نے ان کو انڈین را کے کہنے پر شہید کیا تاکہ ان کو آسانی ہو مگر وہ یہ بھول گئے کہ یہ نا تو 1971 ہے اور نا ہی بنگلہ دیش آج کا جوان سمجھ چکا ہے کہ وہ اسلام و پاکستان سے وفاداری کرکے ہی دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے اور اپنے وطن کے خلاف ہتھیار اٹھانا جرآت نہیں بزدلی ہے اسی لئے انڈین گورنمنٹ اپنی را کے ذریعے محب وطن پاکستانیوں کی ٹارگٹ کلنگ کروا رہی ہے
اگر انڈین میڈیا میں غیرت نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ بلوچستان کے مسئلے کو اچھالنے کی بجائے اپنے ملک کے اندر 4 درجن کے قریب علیحدگی کی تحریکوں کو دنیا کے سامنے لاتا جن میں سے سب سے مضبوط تحریک خالصتان اور مظلوم کشمیریوں کی تحریک آزادی ہے مگر یہ خنزیر بکاؤ دلال انڈین میڈیا پیسوں کی خاطر حق اور سچ کو چھپا رہا ہے حالانکہ انڈین سوشل میڈیا پر آئے روز ویڈیو وائرل ہوتی ہیں جن میں مسلمان،سکھ اور عیسائیوں کے علاوہ ہندو ہی اپنے اچھوت ذات ہندوؤں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں مگر افسوس پیسے کے پجاری بکاؤ میڈیا کو پاکستان پر ہی بھونکنا آتا ہے