Thursday, 30 April 2020

ماہ رمضان کا ہمارے نام پیغام



تحریر *غنی محمود قصوری*

اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان کا ہے اس مقدس مہینے میں قرآن مجید کا نزول ہوا
اللہ تعالی فرماتے ہیں
یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا ۔ سورہ القدر 1
اس لئے اس مہینے کی حرمت باقی مہینوں سے زیادہ ہے اس مہینے میں مسلمان اپنے رب کو راضی کرنے کیلئے روزہ رکھتے ہیں سحری سے لے کر نماز مغرب تک مسلمان اپنے رب کے حکم سے کھانے پینے سے رک جاتے ہیں اس مہینے کی فرضیت بارے اللہ تعالی فرماتے ہیں
اے ایمان والوں تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی اختیار کر سکو! سورہ البقرہ 183
اس آیت میں اللہ تعالی نے وضع کر دیا کہ پہلی امتوں پر بھی روزے فرض تھے جیسے ہم پر فرض ہیں اور روزہ رکھنے سے بندہ متقی پرہیز گار بنتا ہے سو پرہیز گاری کو قائم رکھنے کیلئے اور اسلام پر ڈٹ جانے کیلئے روزے فرض کر دئیے گئے ہیں اللہ رب العزت کا مقصد روزے فرض کرکے ہمیں متقی اور پرہیز گار بنانا ہے جب بندہ متقی اور پرہیز گار بنتا ہے تب وہ جھوٹ ،غیبت،زنا ،چوری،ڈاکا غرضیکہ ہر برائی سے بچتا ہے اور نیکی کی طرف راغب ہوتا ہے
انسان پورا سال غلطیاں گناہ کرتا رہتا ہے مگر وہ اس سے بے خبر رہتا ہے اور متقی بننے کی کوشش نہیں کرتا مگر آمد رمضان کیساتھ ہی مساجد نمازیوں سے بھر جاتی ہیں صدقہ و خیرات کی بہتات ہو جاتی ہے اور ہر بندہ تزکیہ نفس کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ متقی بن جائے اور اللہ کی طرف سے متقیوں کے لئے طے کردہ انعام جنت الفردوس کا حق دار ٹھہرے
یہ مہینہ بہت برکتوں رحمتوں والا ہے اس مہینے اگر مسلمانوں کی عبادات بڑھ جاتی ہے تو اللہ رب العزت بھی اپنے بندوں کیلئے نیکیوں کا خزانہ کھول دیتے ہیں ایک کی گئی نیکی کے اجر کو بڑھا کر ستر گناہ یا اس سے بھی زیادہ اجر کر دیا جاتا ہے
اس مہینے میں جہاں حقوق اللہ پر زور دیا گیا ہے وہاں حقوق العباد پر بھی خوب زور دیا گیا ہے اور شرک سے بچنے کے بعد اللہ تعالٰی نے سب سے زیادہ زور حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق پر دیا ہے
اللہ تعالی فرماتے ہیں
ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتًا اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالٰی پر قیامت کے دن پر فرشتوں پر کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے غلاموں کو آزاد کرے نماز کی پابندی اور زکٰوۃ کی ادائیگی کرے جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچّے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں ۔ سورہ البقرہ 177
اس مہینے میں ہماری عبادات کا دائرہ کار تو وسیع ہونا ہی ہے مگر اس کیساتھ لوگوں کے حقوق بھی ہم پر بڑھ جاتے ہیں اپنے اردگرد قرب و جوار خاندان برادری گلی محلے کے لوگوں کی مدد ہم پر نفلی و فرضی عبادت کی طرح بڑھ جاتی ہے سو ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنے سے کم اور غریب لوگوں کا زیادہ سے زیادہ مالی و ہر طرح کا خیال رکھیں تاکہ وہ بھی ماہ مقدس کے روزے رکھ کر سکون حاصل کر سکیں کیونکہ فرمان مصطفی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں اس وقت تک لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے یہاں بھائی سے مراد تمام مسلمان ہیں
چونکہ اس وقت پوری دنیا کووڈ 19 یعنی کرونا وائرس کی لپٹ میں ہے جس سے لوگوں کے کاروبار ختم ہو چکے ہیں لوگ کھانے پینے سے محروم ہیں اس صورت میں جہاں فرضی و نفلی عبادت ہم پر فرض ہے ویسے ہی اپنے بھائیوں کی مالی مدد اور اپنی عبادات کے دوران ان کے لئے دعا بھی ہم پر فرض ہے تاکہ اللہ رب العزت راضی ہو کر ہماری مدد میں لگے رہیں اور ہم اپنے بھائیوں کی مدد کی بدولت رحمت الہی سے فیض یاب ہوتے رہیں سو رمضان گزر رہا ہے اپنے بھائیوں کی مدد میں لگ جائیں ان کے کھانے پینے ان کی رہائش و آسائش کا اہتمام جلد سے جلد کیجئے تاکہ ایک نیکی کے بدلے ہم ستر گناہ اجر پا سکیں اور فرض روزے رکھنے میں ان کے معاون بن سکیں اللہ ہم سب سے راضی ہو جائے اور ہماری نفلی فرضی عبادات کیساتھ اپنے بھائیوں کی مدد کرنا بھی قبول فرمائے آمین

Tuesday, 14 April 2020

ناجائز منافع خور فساد فی الارض کے ذمہ دار



تحریر *غنی محمود قصوری*

اس وقت دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کووڈ 19 یعنی کرونا وائرس کا خوب زور ہے جس سے بچاؤ کے لئے گورنمنٹ نے ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤن کر رکھا ہے جس کی بدولت لوگوں کے کافی زیادہ کاروبار بند ہیں مگر جن کے چل رہے ہیں وہ بھی ٹائمنگ کم ہونے اور لوگوں کے پاس پیسے کی قلت کی بدولت متاثر ہو کر رہ گئے ہیں لاک ڈاؤن کرنا کرونا سے بچاؤ کیلئے انتہائی ضروری تھا اگر لاک ڈاؤن نا کیا جاتا تو خدانخواستہ ملکی صورت حال کافی بگڑ سکتی تھی یہی وقت ہے جس میں اسلام و پاکستان سے مخلص افراد کی پہچان ہو رہی ہے
زندہ رہنے کیلئے کھانا پینا انتہائی ضروری ہے ہمارا پیٹ یہ نہیں دیکھتا کہ اس وقت لاک ڈاؤن ہے یاں پھر ہمارے پاس خریدنے کیلئے پیسے نہیں اس وقت کاروبار معطل ہیں لہذہ اس جسم و جان کا رابطہ برقرار رکھنے کیلئے کھانے کی طلب تو ہوتی ہی ہے اور یہ طلب ہم دکانوں ،منڈیوں اور لوگوں سے ضروری اشیاء خرید کر پوری کرتے ہیں مگر اس مشکل وقت میں بھی وہی منافع خور متحرک ہو چکے ہیں جو کل بھی پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہے تھے یہ ایسے بدبخت لوگ ہیں جو مجبور کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اپنی پیسے جمع کرنے کی ہوس پوری کرتے ہیں ان درندہ صفت لوگوں نے حالات کا فائدہ اٹھا کر مارکیٹ سے بہت سی اشیاء غائب کرکے اپنے گوداموں اور گھروں میں سٹاک کر لی ہیں تاکہ وہ ان اشیاء کو اپنی مرضی کی قیمتوں پر فروخت کر سکیں حالانکہ آئین پاکستان میں ان منافع خور و بلیک مارکیٹنگ لوگوں کیلئے منافع خوری ایکٹ 1977 اور فوڈ سٹف کنٹرول ایکٹ 1958 کے تحت کاروائی کرکے سزائیں دینے کا اختیار موجود ہے مگر افسوس کہ آج دن تک شاید ہی کسی منافع خور کو قرار واقعی سزا ملی ہو کیونکہ بلیک مارکیٹنگ وہی لوگ کرتے ہیں جو با اثر اور مالی طاقتور ہوتے ہیں مگر ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کو ہاتھ کم ہی ڈالا جاتا ہے باقی کاغذی کاروائی پوری کرنے کیلئے چھوٹے چھوٹے غریب دکانداروں کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے اور اپنی کاروائی کرنے کا ثبوت پیش کیا جاتا ہے
ایسے منافع خور ملک و ملت کی جڑیں کاٹ رہے ہیں اور یہ لوگ کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ان لوگوں کیلئے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ
اور تو اس (دولت) میں سے جو اللہ نے تجھے دے رکھی ہے آخرت کا گھر طلب کر،اور دنیا سے (بھی) اپنا حصہ لینا نا بھول اور تو احسان کر جیسا احسان اللہ نے تجھ سے فرمایا ہے اور ملک میں فساد انگیزی تلاش نا کر ،بیشک اللہ فساد بپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (سورہ القصص)
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف واضح کر دیا کہ اپنا نفع لینا نا بھول اور دنیا کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی کا بھی خیال کیا جائے اور ناجائز منافع خوری کرکے فساد بپا نا کیا جائے کیونکہ ناجائز منافع خوری سے فساد بڑھتا ہے مہنگائی بڑھ جاتی ہے اشیاء لوگوں کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے اور وہ مجبور ہوکر چوری ڈکیتی اور بعض مرتبہ خود سوزی تک کرتے ہیں جس سے ملک کا امن خراب ہوکر فساد بڑھتا ہے اور فسادی کو اللہ رب العزت سخت ناپسند کرتے ہیں اور روز قیامت ایسے لوگ ڈبل سزا کے مستحق ہونگے اول چیزوں کا بحران پیدا کرکے منافع خوری کے اور دوم فساد برپا کروانے کے
ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ،آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نا کھاؤ،لین دین ہونا چاہئیے آپس کی رضا مندی سے اور اپنے آپ کو قتل نا کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے (سورہ النساء)
اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے وضع کر دیا کہ اپنے بھائیوں کا مال ناجائز طریقے سے نا کھاؤ لین دین ضرور کرو مگر دو طرفہ رضا مندی سے مگر یہاں یہ سوچنا ہوگا کہ منافع خور تو اپنے نفع پر راضی ہے جبکہ خریدار مجبور ہو کر چیز خرید رہا ہے اور وہ اپنے دل میں کہے گا کہ اس نے زیادہ منافع لے کر زیادتی کی ہے یہ چیز اتنے کی نہیں میں مجبور ہو کر خرید رہا ہوں تو اس صورت فروخت کنندہ نے مجبور کرکے چیز فروخت کی اور صارف چیز خرید تو رہا ہے مگر وہ مطمئن نہیں بلکہ مجبور ہے ایسی صورت میں باہمی رضا مندی نہیں بلکہ یک طرفہ منافع خور کی ہی رضا مندی ہے لہذہ منافع خور زیادتی کر رہا ہے اور ایک مجبور صارف کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے
اس موجودہ دور میں گورنمنٹ کی طرف سے ہر چیز کے نرخ مقرر کئے گئے ہیں جن کے مطابق چیزیں بیچنا دکاندار و کاروباری افراد پر لازم ہے اگر وہ اس طے کردہ قیمت سے زائد لے گا تو وہ ناجائز منافع خوری اور فساد فی الارض کا مرتکب ہوگا
کچھ دکاندار بڑے دکانداروں سے مجبور ہوکر اصل قیمت سے زائد پر مال خریدتے ہیں اور آگے معقول نفع لے کر بیچتے ہیں ایسی صورت میں گناہگار اور فساد فی الارض کا مرتکب وہی بڑا کاروباری ہوگا جس نے خود اپنی مرضی سے نفع ناجائز لیا ہے چھوٹا دکاندار مجبور ہوکر اپنی دکان و کاروبار چلانے کیلئے اس سے خرید کر معقول نفع پر بیچ رہا ہے لہذہ وہ مجبور ہیں ناجائز منافع خوری کے مرتکب نہیں
بلیک مارکیٹنگ اور ناجائز منافع خوری کل بھی حرام تھی اور آج بھی لہذہ اپنا اصل نفع لے کر دنیا کیساتھ آخرت بھی سنواریں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہونے سے بچیں کیونکہ یہ وقت لوگوں سے ہمدردی و ایثار کرنے کا ہے اور اسی ہمدردی و ایثار کے عیوض اللہ رب العزت خوش ہو کر ہمیں دنیا و آخرت میں کامیاب کرینگے

Sunday, 5 April 2020

کیا موجود پاکستان فرقہ واریت کا متحمل ہے؟


تحریر *غنی محمود قصوری*

اس وقت پوری دنیا اور عالم اسلام کرونا وائرس (کووڈ 19) کی لپٹ میں ہے اس وبائی مرض کی بدولت ہر انسان پریشان ہے تمام انسان خصوصاً مسلمان ایک دوسرے کے غم میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ میرے نبی کریم کی حدیث ہے کہ
سب مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر اس کی آنکھ دکھے تو اس کا سارا جسم دکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں درد ہو تو سارا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے (صحیح مسلم)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا ہے اور آج پوری دنیا کی طرح پاکستانی مسلمان بھی اس کرونا نامی مرض کا شکار ہیں اور ایک دوسرے کا دکھ درد محسوس کر رہے ہیں مگر افسوس کہ اس مشکل وقت میں بھی چند بے ضمیر مفاد پرست لوگ اللہ سے ڈرنے کی بجائے فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں
چونکہ بیماری کا لگ جانا کسی کے بس کی بات نہیں لہذہ کسی کو بیماری لگنا پھر اس سے کسی دوسرے کو بیماری لگ جانا بھی کسی انسان کے بس کی بات نہیں اور نا ہی کوئی شحض چاہتا ہے کہ وہ خود بیمار ہو اور اس کے ذریعے دوسرے لوگ بھی اس بیماری کے شکنجے میں آئیں
چین کے شہر ووہان سے دسمبر 2019 میں کرونا وائرس کی شروعات ہوئی اور آج اس وقت یہ وبا 200 ممالک تک پہنچ چکی ہے مگر پاکستان میں یہ مرض فروری کے آخر میں شروع ہوئی اور سب سے پہلے یہ مرض بیرون ممالک سے آنے والے لوگوں سے نمودار ہوئی اب تک ہزاروں لوگ ادائیگی عمرہ کرکے اور دیگر ممالک سے واپس آئے ہیں مگر افسوس کہ آج صرف تین طبقوں کو ہی کرونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے نمبر ایک ایرانی زائرین نمبر دو تبلیغ جماعت اور نمبر تین ادائیگی عمرہ کرکے آنے والے مسلمان
یہ بات سچ ہے کہ ابتک سینکڑوں ایرانی زائرین وطن واپس آ چکے ہیں جن کی بدولت کافی لوگوں کو کرونا وائرس کی بیماری کا سامنا کرنا پڑا مگر اس میں قصور ان آنے والے زائرین کا نہیں بلکہ ہمارے ہمسائے ملک ایران اور گورنمنٹ پاکستان کا ہے کیونکہ مرض وبا کی صورت اختیار کر چکی تھی اس لئے چائنہ کی طرح ایران کو بھی چاہئیے تھا کہ پاکستانی زائرین کو اپنے ہاں قرنطینہ سنٹرز بنا کر صحت یاب ہونے تک روکے رکھتی دوسری طرف جبری ایران سے نکالے گئے زائرین کو بارڈر پر قرنطینہ سنٹرز میں نا رکھ کر وبا کو وسعت دینے میں گورنمنٹ کی سستی بھی شامل ہے اسی طرح تبلیغی مرکز رائیونڈ سے بھی کافی زیادہ تبلیغ جماعت کے لوگوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس پر کچھ لوگ سارا ملبہ تبلیغ جماعت پر ڈال رہے ہیں جیسے ایرانی زائرین کو واپس اپنے ملک پاکستان آنے کا حق حاصل ہے بلکل ویسے ہی تبلیغ جماعت کے کارکنان کو بھی مملکت پاکستان میں دعوت و تبلیغ کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے
چونکہ ایرانی زائرین کے پاکستان میں داخلے پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی اور تبلیغ جماعت کو بھی روکا نہیں گیا تھا اس لئے ان میں سے کسی کو بھی وبا پھیلانے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا ہاں اب جبکہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے اور تمام سیاسی ،گھریلوں و مذہبی اجتماعات پر پابندی لگ چکی ہے اب اگر کوئی اس پابندی کو توڑتے ہوئے اجتماعات کرے تو اسے مورو الزام ٹھہرایا جائیگا ناکہ بیرون ممالک سے آنے والے لوگوں ،ایرانی زائرین، تبلیغ جماعت اور عمرہ ادائیگی کرکے آنے والوں کو البتہ اگر کوئی ذاتی عداوت کی بناء پر کسی دوسرے فرقے کو قصور وار ٹھہرائے تو ایسے افراد فرقہ واریت کے پجاری ہیں اور ایک جسم کے مانند ہونے کی نبوی حدیث کے منکر بھی لہذہ اس مشکل وقت میں نبوی فرمان کے مطابق ایک جسم بن کر جسم کے دوسرے حصے کا دکھ درد محسوس کرکے سچے مسلمان اور پاکستانی ہونے کا ثبوت دیجئے نا کہ شیطان کو راضی کرتے ہوئے فرقہ واریت کا پرچار کیجئے لہذہ فرقہ واریت نا پھیلائیں کیونکہ نا تو یہ ملک پہلے فرقہ واریت کا متحمل تھا اور نا ہی اب بس جاری کردہ احتیاطی تدابیر اور بتائے گئے نبوی اذکار کیساتھ اپنے گھروں میں رہ کر خود بھی بچیں اور اس ارض پاک کی سلامتی کیلئے دوسروں کو بھی بچنے دیجئے