Tuesday, 22 June 2021

لٹکتی تلواریں اور حصول قرض ازقلم غنی محمود قصوری




نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لئے ایک اعلی نمونہ ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے


لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اﷲِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ


بے شک تمہارے لیے رسول ﷲ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونہہ (حیات) ہے۔  سورہ الاحزاب


نیز اللہ تعالی وصال رسول بارے قبل از وصال ہی فرماتا ہے کہ  


  وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ ۭ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰي عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَـيْـــًٔـا  ۭ وَسَيَجْزِي اللّٰهُ الشّٰكِرِيْنَ     


 محمد کریم  ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت رسول گزرے ہیں۔ اگر یہ فوت ہو جائیں یا شہید ہو جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاوٌں پھر گیا تو وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو ضرور جزا دے گا ۔ سورہ آل عمران 


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے  وصال کے وقت گھر میں آلات حرب و ضرب ( جنگی سامان) میں کچھ  راویات کے مطابق 7 ،9  یا 11 تلواریں موجود تھیں


وقت کے بادشاہ اور دو جہاں کے سردار کے گھر کی مالی حالت یہ تھی کہ اس دن کی شام کو امہات المؤمنین صدیقہ کائنات سیدہ عائشہ طاہرہ مطاہرہ  نے چراغ کیلئے تیل پڑوسن سے ادھار منگوایا تھا جبکہ زرہ ( جنگ کے دوران ڈھال) وفات کے وقت بھی ایک یہودی کے پاس گروی پڑی تھی جس کے عیوض گھر والوں کیلئے 30 صاع جو لئے گئے تھے 

ساری حیات مبارکہ نبی کریم ہمارے لئے بہت اہم ہے مگر وصال رسول بھی ہمیں ایک بہت بڑا سبق دے گیا کہ گھر پر چراغ کیلئے تیل نہیں مگر دفاع کیلئے اعلی و نایاب تلواریں موجود ہیں جبکہ مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے زرہ یہودی کے پاس رہن رکھی ہے سوچئیے اگر صحابہ کرام کو علم ہو جاتا ہے نبی کریم ایک یہودی سے قرص لے رہے ہیں تو کیا جان فدا کرنے والے اصحاب محمد اپنے رسول اللہ کو قرض لینے دیتے ؟

 یقیناً نہیں صحابہ کرام اپنے گھروں کا سارا سامان پیش خدمت کرتے مگر کبھی  قرض نا لینے دیتے کیونکہ اصحاب محمد اپنی جانوں سے زیادہ نبی اقدس سے پیار کرتے تھے مگر اس بات سے  ہمیں یہ دلیل ملی کہ نبی ذیشان کس قدر غیرت مند تھے کہ اپنے اصحاب کے خوشحال ہوتے بھی اپنی کمزور مالی حالات کا تذکرہ نا کیا اور چپکے سے یہودی سے قرض لے لیا تاکہ صحابہ کرام تکلف نا کریں

 آج ہمارے حالات یہ ہیں کہ ذرا سی پریشانی آئی ہم چیخنا چلانا شروع ہو جاتے ہیں

  ثابت ہوا کہ بوقت مالی پریشانی قرض لیا جا سکتا ہے مگر اپنے دفاع کو کمزور نہیں کیا جا سکتا 

نبی کریم نے رہن رکھنے کیلئے زرہ رکھی تھی ناکہ تلوار

میرے نبی کریم کی حکمت تھی کہ اگر دشمن سے مقابلے کی ضرورت پڑ جائے تو تلوار سے مقابلہ کیا جائے کیونکہ تلوار اہم ہتھیار ہے جس سے دشمن پر وار کیا جاتا ہے 

بے شک زرہ زخمی ہونے سے بچاتی ہے مگر دشمن پر وار کرنے کے قابل نہیں ہوتی بلکہ دشمن کے وار سے بچا سکتی ہے جبکہ تلوار ہاتھ میں ہو تو پہلی بات کہ دشمن وار کرنے میں جلدی نا کرے گا اگر کر بھی لے تو جوابی وار کیلئے تلوار تیار رہتی ہے اور بھرپور دفاع کیا جا سکتا ہے 


موجودہ حالات ارض پاک کو بغور دیکھا جائے تو ہمیں وصال رسول سے ایک بڑی دلیل ملتی ہے کہ ملک کیلئے قرض لینا کوئی گناہ نہیں بلکہ بلکل جائز ہے مگر اپنے دفاع کو کسی بھی صورت کمزور نہیں کیا جانا چائیے 

آج ہمارے بہت سے لوگ دفاعی اخراجات پر اعتراض کرتے ہیں کہ ان کو کم کیا جائے جو کہ سراسر غلط بات ہے 

اگر دفاع مضبوط ہو گا تو معیشت مضبوط ہو گی باقی مالی مشکلات آتی جاتی رہتی ہیں

مسلمان وہ قوم کہ جنہوں نے پیٹ پر پتھر رکھ کر جنگ لڑی اور وہ دن بھی آئے کہ مضبوط دفاع اعلی جنگی حکمت عملی کی بدولت زکوٰۃ دینے والے ہاتھوں میں مال زکوٰۃ لئے پھرتے تھے مگر لینے والا کوئی نا تھا کیونکہ ہر کوئی خوشحال تھا 


اللہ تعالی ہم سب کو سیرت رسول کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین