Sunday, 18 September 2022

جہاد و رباط کے چور ازقلم غنی محمود قصوری

 



بسا اوقات انسان اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے چوری کرتا ہے 

چوری کرنا ہر مذہب میں گناہ ہے اور چوری کئی طرح کی ہوتی ہے

آجکل جہاں جلد امیر ہونے کیلئے شارٹ کٹ طریقے سے چوری ڈکیتی کرکے مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کیا جاتا ہے وہاں مذہبی امور میں بھی چوری کرکے دکھلاوے کی کوشش کی جاتی ہے

ویسے تو مذہبی امور میں کئی طریقوں سے چوریاں کی جاتی ہیں مگر معروف چوری رقم کرنا چاہتا ہوں


تمام ارکان اسلام بڑی عزت و تکریم والے ہیں مگر جو عزت و تکریم جہاد و رباط کو ہے اس کی شان ہی الگ ہے

اسی شان و شوکت جہاد کے باعث کفار نے بھی لفظ جہاد اور شہادت کا استعمال شروع کر دیا ہے تاکہ ان کے پیروکار بھی مسلمانوں کی طرح اس عمل کو محبوب ترین جان کر لڑیں اور دفاع مضبوط ہو

مثال ہمارے قریب میں واقع دنیا کے سب سے بڑے مشرک ہندو کی ہی لے لیجئے وہ اپنے فوجیوں کو شہید اور کشمیری مجاھدین کو ہلاک لکھتا و پکارتا ہے

خیر وہ تو بے دین لوگ ہیں ان سے کیا گلہ شکوہ کرنا

 بعض اپنے پڑھے لکھے باشعور مسلمان بھی اس چوری میں ملوث ہیں

جہاد و رباط کی چوری بہت عام ہو چکی ہے جو کہ دراصل جہاد و رباط میں جان،مال دیئے بغیر دکھلاوے کی شان و شوکت لینے کی کوشش ہے


لفظ جہاد کے معنی کوشش کے ہیں یعنی وہ کوشش جو راہ خدا میں مظلومین کی مدد کے لئے کی جائے اور کفار کیساتھ لڑا جائے


یہ عمل جہاد اتنا پیارا ہے کہ نبی کریم نے خود کرکے دکھلایا اور حکم دیا جہاد بارے حدیث ہے


ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا للہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے جو اس کی راہ میں نکلے، اور اسے اس کی راہ میں صرف جہاد اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نے نکالا ہو، 

(تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں، یا اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس منزل تک لوٹا دوں جہاں سے وہ گیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مجھے مسلمانوں کے مشقت میں پڑ جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی سریہ (لشکر) کا جو اللہ کے راستے میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کی سواری کا انتظام کر سکوں، نہ لوگوں کے پاس اتنی فراخی ہے کہ وہ ہر جہاد میں میرے ساتھ رہیں، اور نہ ہی انہیں یہ پسند ہے کہ میں چلا جاؤں، اور وہ نہ جا سکیں، پیچھے رہ جائیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں


رباط کے معنی اسلامی سرحدات پہ پہرا دینا ہے اور یہ انتہائی افضل اور اہم ترین فریضہ ہے  رباط بارے حدیث شریف ہے 


سیدنا سلمان الخیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے ہیں کہ

اللہ کی راہ میں ایک دِن اور رات سرحدوں پر ڈٹے رہنا ایک ماہ کے قیام و صیام سے زیادہ افضل ہے،اگر کوئی حالت رِباط میں فوت ہو جائے تو وہ جو عمل زندگی میں کرتا تھا وہ اللہ کے ہاں قیامت تک جاری و ساری رہے گااور وہ فتنہ میں مبتلا کرنے والے سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے


دونوں احادیث نبویہ ملاحظہ فرمائیں اور دونوں کاموں کا اجرو ثواب ملاحظہ فرمائیں اور یہ بھی غور کریں کہ دونوں کام یا تو ایک مجاھد سر انجام دیتا ہے یا پھر فوجی اب اسی اجرو ثواب کو چرانے اور مجاھدین کی شان و شوکت کو چرانے کی خاطر

بعض لوگوں نے سیاست اور کھیلوں خاص کر کرکٹ میں جہاد کی آیات کا استعمال شروع کرکے لوگوں کو ورغلانا شروع کر دیا

جیسا کہ ایک معروف آیت 

نصر من اللہ و فتح قریب کو جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے کرکٹ و سیاست پہ فٹ کیا جاتا ہے اور اجرو ثواب چوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے

اب بھلا بندہ ان لوگوں سے پوچھے بھئی ٹھیک ہے یہ کرکٹ تم کافروں کے خلاف بطور کھیل کھیلتے ہو مگر کیا اس سے مظلوموں کو انصاف ملتا ہے۔کافروں کے ہاتھوں شہید ہونے والے لواحقیقن کو انصاف ملتا ہے 

ایسے ہی ہمارے جمہوری لوگ ہیں جو جہاد کی الف ب سے بھی واقف نہیں مگر دعوے اس جمہوریت سے جہاد کے کرتے ہیں کہ جو خود قرآن و حدیث کی رو سے کفریہ نظام ہے

ایسے لوگ ذہن نشین کر لیں جہاد و رباط اور مجاھدین کے لئے رب کی طرف سے نازل ہوئی آیات کو کرکٹ و جمہوریت پہ فٹ کرنا جہاد و رباط کی چوری ہے اور ان آیات کے نزول کے مقصد سے انکار ہے

اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ کتے لڑانے والوں،کبوتر بازوں و دیگر کئی قبیح کھیلوں میں جہادی آیات کو بطور فتح استعمال کیا جاتا ہے

حالانکہ ایسے کاموں کی اسلام میں سخت ممانعت بھی ہے

اللہ تعالی ہم کو جہاد و رباط جیسے عظیم فریضوں کی چوری سے محفوظ فرمائے آمین



 

Tuesday, 6 September 2022

سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں۔ ازقلم غنی محمود قصوری

 سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں



از قلم غنی محمود قصوری



نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان حدیث کہلاتا ہے اور رب کا فرمان قرآن مجید فرقان حمید 

دونوں پہ عمل کرنا لازم و 

ملزوم ہے

جب تک قرآن و حدیث دونوں کو نا سمجھا جائے بات کی سمجھ نہیں آئے گی

مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کمزور لوگ دنیاوی اور مدد کرنے والا اخروی فلاح پائے


ہمارے ہاں ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ ہر سنی سنائی بات پہ عمل کیا جاتا ہے جو کہ سراسر غلط ہے

اسی لئے کہا گیا ہے کہ خوب تحقیق کے بعد ہی بات آگے پہنچائی جائے


اس وقت ملک پاکستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے اور لوگ سیلاب متاثرین کی مدد میں لگے ہوئے جو کہ اس وقت ہم پر بحیثیت مسلمان اور پاکستانی فرض عین ہے

لوگ کپڑوں،راشن،ادویات اور نقدی کی صورت میں متاثرین کی مدد کر رہے ہیں

اس مدد بارے قرآن مجید فرقان حمید نے ہمیں ایسے حکم جاری کیا ہے


لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ


ترجمہ۔۔۔تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے


جبکہ حدیث رسول ہے


انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا

تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے

صحیح  متفق علیہ


 کچھ لوگوں کی طرف سے اس آیت و حدیث کی رو سے  لوگوں کو پرانی استعمال شدہ اشیاء سیلاب زدگان کو عطیہ کرنے سے روکا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اپنی محبوب اشیاء یعنی نئی اشیاء ہی صدقہ خیرات کی جائیں

اور اپنے بھائیوں کیلئے بھی وہی پسند کریں جو آپ خود پسند کرتے ہیں نیز پرانی اور استعمال شدہ اشیاء دینا درست نہیں


مجھے ان لوگوں کی نیت پہ شک نہیں وہ اپنی طرف سے بہت اخلاص کی بات کر رہے ہیں مگر میں ان کی خدمت میں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور فرمان پیش کرتا ہوں 


عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی 

الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي

 ترجمہ۔۔۔تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں حسن و جمال پیدا کرتا ہوں

 پھر انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا،جس نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی

الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي

 پھر اس نے اپنا پرانا (اتارا ہوا) کپڑا لیا اور اسے صدقہ میں دے دیا، تو وہ اللہ کی حفاظت و پناہ میں رہے گا زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی 

( ترمذی  3560 )


اوپر والی آیت و حدیث ہمیں اپنی محبوب ترین چیز ( نئی غیر استعمال شدہ) اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتی ہے اور اپنی پسند اپنے بھائی کیلئے پسند کرنے کا حکم دیتی ہے جبکہ دوسری  حدیث رسول ہمیں پرانی استعمال شدہ چیزیں صدقہ خیرات کی تلقین کر رہی ہے

اب غور کریں تو پتہ چلے گا کہ جو صاحب ثروت مالدار لوگ ہیں وہ اللہ کے فرمان کے مطابق اپنی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اعلی معیاری اور قیمتی چیز اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور وہی چیز دوسروں کیلئے پسند کریں جو خود کرتے ہیں جبکہ دوسری حدیث رسول مالی کمزوروں کو تلقین کر رہی ہے کہ اپنی استعمال شدہ چیزیں بھی صدقہ خیرات کی جائیں تاکہ ان سے بھی کم مالی حیثیت اور افت زدہ لوگ وہ چیزیں استعمال کریں

ہمیں ایسی باتوں کی سمجھ تبھی آتی ہے جب قران و حدیث دونوں کو پڑھا سمجھا جائے


اس وقت سیلاب زدگان کو کپڑوں و بستر کی سخت ضرورت ہے ہمیں چائیے کہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق ان کو نئی اشیاء بھی صدقہ کریں اگر اتنی طاقت نہیں تو ان کو اپنی استعمال شدہ پرانی چیزیں بھی صدقہ خیرات کریں تاکہ وہ مصیبت کے مارے لوگ اپنی ضرروت پوری کر سکیں


سیلاب زدگان کی مدد اس وقت ہر صاحب ثروت پر فرض ہے کیونکہ یہ ہم سب کا قومی و اسلامی فریضہ ہے

خداراہ مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں

بہت سی مذہبی جماعتیں ان تک سامان پہنچا رہی ہیں 

اگر ہم خود جا سکتے ہیں تو اجتماعی شکل میں خود جا کر مدد کریں بصورت دیگر ان مذہبی جماعتوں کے توسط سے لازمی مدد کیجئے

اللہ تعالی ہم سے راضی ہو اور سیلاب زدگان کی مدد کے عیوض ہمیں اچھا صلہ عطا فرمائے آمین


Saturday, 3 September 2022

نور الہی عرف دیوا۔ ازقلم غنی محمود قصوری





پچھلے زمانے میں روشنی کیلئے چراغ ( اردو میں دیا،پنجابی میں دیوا کہتے ہیں) استعمال کیا جاتا تھا

جس پہ کئی مثالیں بنی ہوئی ہیں خاص کر ایک مثال بہت مشہور ہے کہ 

چراغ تلے اندھیرا


یعنی دوسروں کو روشنی دینا اور خود اس روشنی سے محروم رہنا

اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ بڑے بڑے دعوے کرنا اور ان دعووں سے خود بھی محروم رہنا اور دوسروں کو بھی محروم  رکھنا یعنی لمبی لمبی چھوڑنا


خیر آپ کو ایک دیوے کی کہانی سناتا ہوں

کافی پرانی بات ہے کسی گاؤں میں ایک نور الہی نامی نوجوان رہتا تھا 

جو سارا دن بڑی لمبی لمبی چھوڑتا اور لوگوں کو نت نئے قصے سناتا تھا تاکہ اس کی واہ واہ اور بلے بلے ہو مگر لوگ تو سب جانتے تھے اور اس کی اسی عادت کے باعث لوگ اسے ،دیوا، کہنے لگا


جب بھی وہ بازار سے گزرتا لوگ 

اوئے دیوے،دیوا آیا 

جیسے جملے کسنا شروع کر دیتے

نور الہی عرف دیوا اپنے بگڑے نام اور تضحیک پر سخت پریشان تھا 

اس نے سوچا کچھ عرصہ شہر رہا جائے تاکہ اس نام سے جان چھڑوائی جائے

نور الہی عرف دیوا شہر پہنچ گیا اور پریشانی کے عالم میں 

شہر کے میں چوک میں گھوم پھر رہا تھا

تانگے گزر رہے تھے مگر نور الہی سارے شور شرابے سے بے فکر سڑک کے وسط میں چلا جا رہا تھا

تانگے والے نے آواز دی کہ پیچھے ہٹ جاؤ گزرنے دو

نور الہی نے نا سنی 

تانگے والے نے پھر اسے آواز دی اس نے نا سنی تو پھر تانگے والے نے کہا ،اوئے دیوے پیچھے ہٹ جا اور گزرنے دے


یہ الفاظ نور الہی عرف دیوے کے کانوں میں دھماکہ بن کر لگے

اس نے جھٹ سے تانگے والے کا گریبان پکڑا اور بولا سچ سچ بتا میرا نام تجھے کس نے بتا؟

تانگے والے نے کہا جناب مجھے نام کس نے بتانا ہے تمہاری حرکتیں ہی دکھائی دے رہی ہیں کہ تم دیوے ہی ہو


خیر نور الہی عرف دیوے کے ساتھ آگے جو ہوا اس کو چھوڑیں اور نور الہی کی جگہ پاکستانی سیاستدانوں کا تصور ذہن میں لائیں کہ کیا یہ سب بھی دیوے نہیں؟

آئے روز نت نئے دعوے 

نت نئے نعرے مگر عمل زیرو

چراغ تلے اندھیرا اور نور الہی عرف دیوے کی مثال ان پہ مکمل فٹ ہوتی ہے

 

ہمارے یہ دیوے مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ لگا کر یہ دیوے آتے ہیں اور مہنگائی کا طوفان مچا کر جاتے ہیں

تعلیم کو عام کرنے کا نعرہ لگا کر آتے ہیں اور لوگوں کو تعلیم سے محروم کرکے چلے جاتے ہیں

بجلی سستی کرنے کا شور ڈال کر آتے ہیں اور لوگوں کو بے علم کرکے جاتے ہیں

ان دیوں کی کرتوتیں ہی ایسی ہیں کہ فوری پتہ چل جاتا ہے کہ یہ سارے دیوے ہی ہیں

ان کے بڑے بڑے نعرے مگر یہ خود بھی ان دعوؤں سے محروم ہیں

آپ سیلاب زدہ علاقوں کو ہی دیکھ لیجئے فوری پتہ چلے گا کہ ان کی ساری باتیں چراغ تلے اندھیرا ہی تھا

لوگ دو وقت کی روٹی کو ترستے رہے اور یہ دیوے لمبی لمبی چھوڑتے رہے

اللہ ان سے ہمیں محفوظ رکھے آمین