Sunday, 25 June 2023

یوم عرفہ کا روزہ کس دن رکھا جائے؟ ازقلم غنی محمود قصوری

 



جیسے  سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینے، محرم ، رجب، ذی العقدہ ، ذی الحجہ بڑے احترام و عظمت والے مہینے ہیں ایسے یوم عرفہ کا دن بھی بہت فضیلت والا ہے 


9 ذی الحجہ کو یوم عرفہ کہتے ہیں غیر حاجی حضرات کے لئے اس دن روزے کی بہت فضیلت ہے جبکہ دوران حج میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنا ضروری نہیں ہے جبکہ اسی دن دوسری جگہوں میں روزہ رکھنا کار ثواب ہے اور پھر عید کے دن  روزہ رکھنا ممنوع ہے


عرفہ کے روزہ کی فضیلت حدیث رسول میں اس طرح بیان  ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اللہ تعالیٰ یوم عرفہ سے زیادہ کسی دن بندوں کو دوزخ سے آزاد نہیں کرتا ،اللہ (اپنے بندوں سے) قریب ہوتا ہے اور فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے، یہ بندے کس ارادے سے آئے ہیں

(صحیح مسلم)

جب کہ دوسری حدیث میں ایسے فضیلیت بیان ہے کہ 

مجھے اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ وہ یوم عرفہ کا روزہ رکھنے کی صورت میں گزشتہ سال اور اگلے سال کے گناہ بخش دے گا

(ابوداؤد 2425)

یعنی اس دن کے روزے کی یہ فضیلت ہے کہ ایک سال گزشتہ اور ایک سال آنے والے کے گناہ اللہ رب العزت معاف فرما دیتا ہے 

اب سوال یہ ہے کہ 9 ذی الحجہ کا روزہ کس دن رکھا جائے؟

جیسا کہ سعودیہ عربیہ میں جس دن 9 ذی الحجہ ہو گا اس دن پاکستان میں 8 ذی الحجہ ہو گا اور جب پاکستان میں 9 ذی الحجہ ہو گا  اس دن سعودیہ عربیہ میں 10 ذی الحجہ ہو گا

سو سب سے پہلے ہم اس حدیث کا جائزہ لیتے ہیں


صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ  


چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو اور اگر تم پر چاند مخفی ہو جائے تو پھر تم شعبان کے 30 دن پورے کر لو

( صحیح البخاری کتاب الصوم) 

یعنی کہ جیسے ماہ رمضان میں اپنی سلطنت میں چاند دیکھ کر روزہ رکھا جاتا ہے اور عید بھی چاند کے حساب سے ہی منائی جاتی ہے بلکل ویسے ہی یوم عرفہ کا روزہ بھی رکھا جائے گا


 جیسا کہ صحیح مسلم کتاب الصیام کی ایک اور حدیث اس طریقے کو پختہ کرتی ہے  جس میں ہے کہ

 

ملک شام میں لوگوں نے روزہ رکھا اور مدینہ منورہ کے لوگوں نے اس کے اگلے دن روزہ رکھنا شروع کیا


سو یوم عرفہ کا روزہ اپنی سلطنت میں قمری تاریخ کے حساب سے رکھا جانا چائیے

نیز یوم عرفہ کے روزہ کا معاملہ  علماء کرام کے درمیان  اجتہادی معاملہ ہے سو اس معاملے میں کوئی حتمی حکم نہیں لگایا جا سکتا

جسے اختلاف مطالعہ پر اعتبار و اطمینان ہو  وہ اپنے ملک کی تقویم کے حساب سے 9 ذی الحجہ کو یوم عرفہ کا روزہ رکھیں

اور جو موجودہ تیز ترین ذرائع ابلاغ کا اعتبار کرتے ہوئے اختلاف مطالع کو معتبر نہیں مانتے  وہ حجاج کو میدان عرفات میں دیکھ کر روزہ رکھ لے 

ایک اور بات وضع کرتا چلو کہ اگر آپ اپنی سلطنت کو چھوڑ کر سعودیہ عربیہ کے حساب سے روزہ رکھتے ہیں تو جان لیجئے آپکی سلطنت اور سعودیہ عربیہ کی سلطنت میں وقت سحر اور وقت افطار کا بہت فرق ہے

سو سب سے بہتر تو یہی ہے کہ اپنی سلطنت کے حساب سے روزہ رکھا جائے

واللہ تعالیٰ علم سبحانہ


اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس عظیم دن کا عظیم روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

اس سے اگلے دن عیدالاضحی کا دن ہے جب مسلمان حکم الہی و محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت سنت ابراہیمی پہ عمل کرتے ہوئے جانور قربان کرتے ہیں سو گوشت کا مزہ لینے کی خاطر اور خوشی منانے کی خاطر عید کے دن کا روزہ ممنوع قرار دیا گیا ہے


Friday, 23 June 2023

ڈالر کی دلدل سے نکلنے کی کوشش ازقلم غنی محمود قصوری

 




ہمیں آزار ہوئے 75 سال ہو گئے مگر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ڈالر کا ریٹ  ہے

قیام پاکستان کے وقت ڈالر کا ریٹ تقریبا 3 روپیہ اور 33 پیسے تھا 

لگ بھگ چار سال ڈالر کی یہی قیمت رہی اس کے بعد روپیہ کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہی چلا گیا اور ایسا ہوا کہ غریب کی چیخیں نکل گئی بلکہ یوں کہیں کہ غریب بیچارہ مر ہی گیا جبکہ امیر کی چیخیں نہیں بلکہ ہنسی نکلتی ہے کیونکہ بیرون ملک پڑا اس کا پیسہ ڈالروں میں ہے ناکہ پاکستانی روپیہ میں

 اگر کسی کے پاس پاکستانی روپیہ میں دولت ہے بھی تو وہ اربوں سے کھربوں روپیہ میں بڑھ رہی ہے  مگر کیسے؟

تو ایسے جناب جس کے پاس  پیسہ وافر ہے وہ ڈالر خریدتا 

ہے اور جمع کر لیتا اور چند دنوں بعد ہی اسکا خریدا ہوا ڈالر روپیہ کے مقابلے میں بڑھ جاتا ہے اور یوں اسے گھر بیٹھے بٹھائے اچھا خاصا منافع حاصل ہوتا ہے

بلکہ اب تو لوگوں نے کاروبار ہی بنا لیا کہ ڈالر خریدوں اور چھپا لو جس کے باعث ملک میں ڈالر کی لمٹ کراس ہو گئی اور مہنگائی کا طوفان بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے 

 جبکہ اسکے برعکس غریب کے پاس ہزاروں بھی نہیں کہ وہ کوئی چھوٹا موٹا پارٹ ٹائم کام کر سکے 


ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے کہ جب ہماری من پسند گورنمنٹ آتی ہے تو ہمیں مہنگائی بلکل بھی مہنگائی نہیں لگتی  اور مخالف پارٹی کی گورنمنٹ بنتے ہی ہمیں مہنگائی بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے جو کہ منافقت کی اعلی مثال ہے جبکہ مہنگائی اب ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے  

ہمارے لوگوں کا مشغلہ بن چکا کہ اپنی مخالف 

حکومتوں کو ناکام کرنے کیلئے عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے اور بہت سی چیزوں کیساتھ ڈالر کو بھی بلیک مارکیٹ کرکے چھپایا جاتا ہے جیسے کہ پچھلے دنوں گندم چھپا لی گئی تو جس کے پاس تھی اس نے اپنی مرضی کی قیمت پہ گندم و آٹا فروخت کیا اور اب گندم مارکیٹ میں آنے سے ریٹ بھی نیچے آ گئے

یہی صورتحال ڈالر کی بھی ہے 

ہر دور حکومت میں ایک مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ مخصوص لوگ جن کے پاس پیسہ ہے وہ ڈالر کو خرید کر جمع کرتے ہیں تاکہ پاکستانی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر قیمت اور بڑھے اور ان کا یہ وار کامیاب ہوتا ہے جس سے ڈالر کی قیمت بڑھنے کیساتھ مقروض قوم کا سرکاری قرض بھی بڑھ جاتا ہے

آخر سوچنے کی بات ہے کہ ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کیسے کیا جائے؟

یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے جو کہ بہت اہم بھی ہے 

ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے کے لئے سب سے پہلے ڈالر پہ انحصار کم سے کم کرنا ہو گا جس کا سب سے اچھا نعم البدل اپنے قریبی ممالک سے مال کے بدلے مال لینا اور دینا ہے یعنی کہ بارٹر ٹریڈنگ

جو کہ ابھی حال ہی میں کی گئی ہے جس کے دورس نتائج نکلیں گے ان شاءاللہ 

اسی بارٹر ٹریڈنگ کا اعلان موجودہ گورنمنٹ نے کیا ہے  اور کچھ کرکے دکھلایا بھی ہے ہماری دعا ہے کہ  

اللہ کرے کہ یہ اعلان عملی کام ثابت ہو نا کہ محض اعلان ہی

بارٹر ٹریڈنگ سے ایک تو ہمسایہ ممالک سے تعلقات مذید اچھے ہونگے دوسرا ڈالر کا انحصار کم ہوگا کیونکہ آج پاکستان میں پیدا ہونے والا کدو بھی ڈالر کے ریٹ کے حساب سے بڑھتا اور گھٹتا ہے

گزشتہ دنوں موجودہ گورنمنٹ نے چین کی 100 کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کا موقع دینے کا اعلان کیا جس سے ڈالر کا انحصار کم ہو کر چائنیز کرنسی پہ ہو گا 

اگر دیکھا جائے تو 1960 میں ہماری معیشت بہت اچھی تھی اور ہمیں بہت بڑا موقع میسر تھا چائنہ کیساتھ اس قسم کی تجارت کا مگر ہم نے وہ موقع گنوا دیا پھر اس کے بعد 1991 میں پاکستانی گورنمنٹ نے معاشی اصلاحات کرکے لبرالائز و ڈی ریگولیٹڈ نجکاری کو اپنایا تھا

اب ایک بار پھر سی پیک کی بدولت ہمارے پاس آگے بڑھنے کا بہت بڑا موقع ہے اور اللہ کرے ہم اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں جس کے لئے ہمارا اندرونی اتحاد لازم ہے کیونکہ کوئی ایک ادارہ،کوئی ایک فرد چاہے وہ کتنا ہی بااثر ہے وہ اکیلا آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک اتحاد نا ہو 

سو اس وقت ہمیں یک سو ہو کر بارٹر ٹریڈنگ پہ خاص دیہان دینا ہو گا کیونکہ پاکستان میں قدرتی معدنیات کی کمی نہیں اور قدرت کی اس کرم نوازی سے فائدہ اٹھا کر ہم اپنی معدنیات دیگر ممالک کو بیچیں اور اپنی ضرورت کی چیزیں ان سے خریدیں جیسے کہ پاکستان میں اعلی قسم کا نمک وافر ہے اور ہمارے ہمسایہ ممالک میں اتنا نمک نہیں، سو اپنے نمک کو بیچ کر اپنی ضرورت کی چیزیں خریدیں

 اس کام میں سب سے زیادہ اہم کردار تاجروں کا ہے اور وقت کی ضرورت ہے کہ تاجر برادری بغیر سیاسی مفاد کے گورنمنٹ کے ساتھ چلے اور اس تحریک کو کامیاب کرے

نیز کھیلوں کا سامان آلات جراحی بھی بیرون ملک ایکسپورٹ کئے جاتے ہیں اب وقت ہے کہ موجودہ بارٹر ٹریڈنگ کی طرح ان چیزوں کا لین دین بھی ڈالر کی بجائے کسی اور کرنسی میں کیا جائے جیسا کہ ابھی ہم نے  چائینز ین میں تجارت کی جس سے امریکیوں کو بہت دکھ ہوا

اللہ امریکیوں کے اس دکھ میں مذید اضافہ فرمائے اور پاکستان کو دن دگنی رات چوگنی ترقی

آمین ثم آمین 

Sunday, 4 June 2023

منبر و محراب کا چراغ جو بجھ گیا ازقلم غنی محمود قصوری

 



موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی مذہب،فرقے گروہ کو انکار نہیں ہر کسی کا ماننا ہے کہ موت برحق ہے 

اسی لئے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے

اللہ کے اسی فرمان سے اسلام کی حقانیت کا دعوی مذید بلند و بالا ہو جاتا ہے 

 انسان و جن ،حشرات و جانورات حتی کہ  ہر مخلوق کو موت لازم آتی ہے

بظاہر تو انسان اپنی موت مر جاتا ہے مگر وہ اپنے اخلاق،اپنے علم،اپنی سخاوت و دیگر اچھے وصف کے باعث اپنی موت کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے 

جہاں اموات کا سلسلہ جاری ہے وہاں پیدائش کا سلسلہ بھی جاری ہے اور یہ عمل قیامت تک چلے گا


ایک عالم دین کی موت سے اہلیان علاقہ دینی علم کی نعمت سے وقتی طور پہ  محروم ہوتے ہیں جبکہ بہت بڑے عالم دین کی وفات سے بہت زیادہ لوگ محروم ہوتے ہیں اور یہ خلاء پر ہوتے دیر لگتی ہے

علماء دین کی شان بہت بلند ہے  کیونکہ قرآن میں فرمان ہے


اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ؕ

ترجمہ۔۔ بیشک اللہ سے حقیقتاً وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم سے آراستہ ہیں

 جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے کہ   العلماء ورثة الأنبياء

یعنی  کہ علماء کرام انبیاء کے وارثین ہیں

اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ انبیاء کرام نے درہم و دینار  وراثت میں نہیں چھوڑا  بلکہ انہوں نے وراثت میں دین اسلام کا علم  چھوڑا  ہے جو کہ دنیاوی فائدے کیساتھ اخروی مستقل فائدے کا سبب ہے اور جس نے اس وراثت کو پالیا وہ کامیاب ٹھہرے گا ان شاءاللہ


حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے  کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک علم اٹھا نہ لیا جائے

جبکہ دوسری حدیث میں فرمان ہے  

اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھاتا کہ بندوں

 (کے سینوں) سے نکال لے، بلکہ علماء کو موت دے کر علم کو اٹھاتا ہے، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار (مفتی و پیشوا ) بنا لیں گے اور ان سے (دینی مسائل) پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے (خود بھی) گمراہ ہوں گے اور (دوسروں کو بھی) گمراہ کریں گے

اس حدیث سے اندازہ کریں کہ علمائے کرام کی کس قدر ضرورت بھی ہے اور ان کی عزت بھی عامی انسانوں سے کس قدر زیادہ ہے


جب کوئی عالم دین وفات پاتا ہے تو غم تو بہت ہوتا ہے مگر اس غم پہ صبر کرنا چائیے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 

لَئِنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ‌ وَلَئِنۡ كَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِىۡ لَشَدِيۡدٌ‏ 

ترجمہ۔۔اگر تم شکر گزار رہے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہو گا


اگر ہم حقیقتاً دیکھیں تو ماں باپ کے بعد سب سے اعلی تربیت ایک استاد اور خاص کر عالم دین استاد ہی کر سکتا ہے اور یہی عالم دین انسان کو محدث،مبلغ،مفسر،مجاھد اور داعی بناتا ہے 


گزشتہ چند دن قبل 29 مئی 2023 کو  پاکستان کے نامور اور بہت بڑے عالم دین  حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کا انتقال ہوا جو کہ پاکستان کے اہل علم اور خاص ہر علماء کے لئے ایک بہت بڑا خلاء چھوڑ گئے کہ جس کو پر ہونے میں وقت لگے گا

حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی رحمتہ اللہ علیہ کی پیدائش اپنے ننھیال میں قصور کی تحصیل پتوکی کے گاؤں  گوہر چک میں 27 اگست 1946 کو ہوئی جبکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا آبائی  گاؤں بھٹہ محمد تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ ہے

 

1966 میں آپ نے گجرانوالہ سے درس وتدریس کا آغاز کیا اور 1992 میں مرکز طیبہ مریدکے،ضلع شیخوپورہ کی بنیاد رکھی اور اسی مرکز کے بانی و مدیر مقرر کئے گئے اور تا دم مرگ اسی مرکز کے لئے خدمات سرانجام دیتے رہے 

اس مرکز سے ہزاروں شاگرد نا صرف اعلی پائے کے عالم بنے ہیں بلکہ بہت اچھے سائنسدان،سیاستدان، صحافی،وکیل،ڈاکٹر و دیگر اہم شعبوں پہ فائز ہوئے ہیں جو کہ حضرت مولانا عبدالسلام بن محمد بھٹوی کے شاگرد ہیں


آپ ملک بھر کے 150 دینی مدارس کے نگران اعلیٰ بھی مقرر تھے 

مگر اس کے باوجود انتہاء کے عاجز و سادہ مزاج شخصیت کے مالک تھے بندہ ناچیز نے خود ان کو کئی بار دیکھا کہ مریدکے مرکز کے ایک سادہ سے گھر میں اپنے شاگردوں کے علاوہ اہلیان علاقہ و دیگر آنے والے لوگوں کو بڑی عاجزی سے دوائی دیتے تھے اور بار بار بابت دوائی و مسائل کے  پوچھنے پہ بھی ہرگز غصہ نا کرتے تھے بلکہ بڑے پیار سے سمجھاتے تھے

آپ حکمت سے پیسے نا کماتے بلکہ گی سبیل اللہ دوائی دیتے تھے بسا اوقات ملک کے دیگر حصوں سے بھی لوگ ان سے دوائی لینے آتے تھے 

حکمت کے ساتھ ہومیو پیتھک طریقہ علاج پہ بھی ان کو عبور حاصل تھا 


آپ نے حکمت کی اعلی ڈگری فاضل نظریہ مفردات حاصل کی اور طب پہ عبور حاصل ہونے کے باوجود درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور درجنوں کتب لکھیں جن میں تفسیر القران ،بلوغ المرام،ترجمہ حصن المسلم ،ہم جہاد کیوں کرتے ہیں،اور مسلمانوں کو کافر قرار دینے کا فتنہ، بڑی اہم کتب ہیں جن کو ہر مسلک کے لوگ پڑھتے ہیں

حضرت بھٹوی صاحب کی یہ خوبی بڑی اہم تھی کہ آپ تمام مسالک کو قریب کرتے تھے نا کہ  ایک دوسرے پہ کفر و ارتداد کے فتوے لگاتے تھے

 اسی لئے تمام مسالک کے لوگ اور بلخصوص علماء کرام ان کی خاص عزت کرتے تھے 


حضرت عبدالسلام بھٹوی رحمتہ اللہ علیہ 2019 سے مجاھدین کی مالی معاونت کے الزام میں شیخوپورہ جیل کے زیر سایہ حراست میں قید کاٹ رہے تھے اور اسی دوران بخاری کی شرح بھی لکھ رہے تھے کہ خالق حقیقی کے بلاوے پہ دار فانی کوچ کر گئے

اناللہ واناالیہ راجعون اللھم اغفرلہ و ارحمہ آمین



ان کی وفات سے ایک بہت بڑا خلاء پیدا ہو گیا جو کہ وقت کے ساتھ بھر جائے گا

انبیاء کے ورث حضرت بھٹوی رحمتہ اللہ علیہ نے کوئی جاگیر تو نہیں چھوڑی مگر علم کی صورت میں ہزاروں جید علمائے دین کی وراثت چھوڑی ہے 

شیخ الحدیث،مفسر قران و حدیث،مفکر اسلام اور مجاھدین کے استاد 

 حضرت عبدالسلام بن محمد بھٹوی کا شمار اس صدی کے بڑے بڑے علماء میں ہوتا ہے، کہ جن کے ہزاروں جید عالم دین شاگرد ہیں

آپ کے شاگردوں کے شاگرد اس وقت جید عالم دین ہیں

دعا ہے کہ جس طرح حضرت حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی نے دین اسلام کی خدمت کی ایسے ہی اللہ تعالی ان کی اولاد اور ان کے شاگردوں کو بھی دین اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین


آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ایک نظم کیساتھ اختتام تحریر کرتا ہوں یہ نظم غالباً 1991 کو شائع ہوئی تھی 


اپنے ارمان تو اس وقت ہی پورے ہونگے

خلد میں جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت ہو گی


رات دن گر اپنے ہی درپے آزاد رہیں

غیر کو کب کسی تکلیف کی حاجت ہوگی؟


مشکلیں ڈال کے تو نے در رحمت کھولا

کیا خبر تھی تیری مشکل بھی عنایت ہو گی


ہر محلے میں کوئی صدر کوئی ناظم ھے

سرخرو کیسے خلافت سے جماعت ہو گی؟


بےبس و عاجز و مجبور کو داتا کہنا

اس سے بڑھ کر بھی بھلا کوئی ضلالت ھو گی؟


بھیک غیروں سے حفاظت کی جو مانگیں ہر دم 


ایسے اشراف کی کیا خاک کرامت ہو گی؟؟


نوجوان شوق شہادت سے ہیں سرشار  مگر


منتظر ہیں کہ بزرگوں سے اجازت ہو گی


وضع و صورت ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمہیں منظور نہیں

کون سے منہ سے تمنائے شفاعت ہو گی؟


جب فقیہانِ وطن سود کی تلقین کریں

منتظر رہیے کہ جلد قیامت ہو گی


بار سب جس سے گناہوں کے اتر جاتے ہیں

میری قسمت میں بھی یارب وہ شہادت ہو گی


نقش حرمین نگاہوں میں بسا رہتا ہے 

تیری رحمت سے ہی آئندہ زیارت ہو گی


اپنے ارمان تو اس وقت ہی پورے ہونگے

خلد میں جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت ہو گی