Monday, 30 January 2023

ٹو اسٹروک جمہوریت بمقابلہ فور اسٹروک جمہوریت ازقلم غنی محمود قصوری





 

موجودہ دور حکومت جمہوری ہے جو کہ پوری دنیا پہ رائج ہے 

اس گلوبلائزیشن میں رہتے ہوئے جمہوریت کے بغیر گزارہ نہیں حالانکہ جمہوریت اسلام کے منافی ہے مگر اس کے باوجود اسلامی ممالک کسی نا کسی حد تک جمہوریت کے تابع رہنے پر مجبور ہیں

جس طرح پہلے گھوڑوں کا دور گزرا اس کے بعد پھر سائیکل موٹر سائیکل،کار اور جدت کیساتھ ہوائی جہاز تک آئے ایسے ہی ایک وقت قرب قیامت آئے گا کہ جب تلواروں کا دور ہوگا اور گھوڑے ہونگے 

ایجادات ہر دور میں ہوتی رہی ہیں اور یہ ہوتی رہیں گیں اسلام ایجادات کو روکتا نہیں بلکہ ایجادات کو سپورٹ کرتا ہے 

یہ بات احادیث سے ثابت ہے

جب وہ شرع اللہ ( خلافت) والا نظام جو کہ گزشتہ ادوار میں رہا، اور آنا  بھی ہے اور آئے گا بھی قرب قیامت،تب تک ہمیں جمہوریت کی اذیت سہنی ہی پڑے گی

 

جمہوریت میں فیصلہ جمہور یعنی زیادہ افراد کی رائے پہ ہوتا ہے چاہے زیادہ افراد غلط ہی کیوں نا ہو جبکہ خلافت و اسلامی نظام میں فیصلہ حق سچ کیساتھ ہوتا ہے چاہے جمہور اس کے خلاف ہی کیوں نا ہو

 

یوں تو ساری دنیا میں ہی جمہوریت رائج ہے مگر پاکستان میں اس وقت فور اسٹروک موٹر سائیکل جیسی جمہوریت ہے، کہ جس کو چلانے کے لئے اس کے فیول ٹینک میں پیٹرول کیساتھ اس کی سائیڈ ٹینک میں موبل آئل ڈالنا لازمی ہے تاکہ موٹر سائیکل کا انجن کام کرتا رہے جس کے نتیجے میں اس موٹر سائیکل کے سائلنسر سے زہریلا دھواں الگ سے نکلتا ہے اور کانوں کو پھاڑنے والا شور الگ سے سننا پڑتا ہے 

جی ہاں جیسے کہ یاماہا ،کاواساکی و دیگر فور اسٹروک موٹر سائیکلیں ہوا کرتی تھیں

اس کے مدمقابل ٹو اسٹروک موٹر سائیکل بنی جو کہ صرف پیٹرول پہ چلتی ہے اس کا سائیڈ ٹینک آئل نہیں ہوتا نا ہی اس کے سائلنسر سے زہریلا دھواں نکلتا ہے اور نا ہی بہت زیادہ شور شرابہ ہوتا ہے 

 بلکہ اب تو الیکٹرک موٹر سائیکلیں آئی ہیں جن کی آواز نا ہونے کے برابر ہے

پاکستانی جمہوری نظام کو فور اسٹروک اس لئے کہا کہ ہمارے ہاں ایوان زیریں میں 

 پنجاب اسمبلی کے 371,بلوچستان اسمبلی کے 65,سندھ اسمبلی کے 168 اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے 124 ممبران موجود تنخواہیں لیتے ہیں جبکہ قومی اسمبلی کے 342 ممبران کیساتھ ایوان بالا کے 100 ممبران تنخواہیں لے رہے ہیں

میں یہاں بات صرف تنخواہوں کی ہی کرونگا باقی مراعات اور کرپشن سے پوری قوم واقف ہے

جبکہ اس کے برعکس دنیا بھر میں ماسوائے ہندوستان پاکستان و بنگلہ دیش,کے شاید ہی کسی ملک میں ایسا جیسا فرسودہ نظام ہو کہ جہاں ہر محکمے کا سب سے بڑا سرکاری عہدیدار ڈائریکٹر جنرل موجود ہے مگر اس کے باوجود اس کے اوپر مشیر و وزیر بھی تعینات ہے 

ایم پی اے ،ایم این اے بھی موجود ہیں اور یوسی کے ممبران و چئیرمین،تحصیل و ڈسٹرکٹ کے ممبران و چئیرمین الگ سے ہیں

پوری دنیا میں اس وقت جمہوری ٹو اسٹروک نظام رائج ہے یعنی کہ گلی محلے کے ممبر سے یوسی چئیرمین اور پھر ڈسٹرکٹ چیئرمین تک جمہوریت ہے اس سے آگے محکموں کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہیں نا کہ ہماری طرح وزیر و مشیر 

اگر ہم اپنے فور اسٹروک جمہوری نظام کو ٹو اسٹروک ہی کر لیں تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا اور اقتدار نچلی سطح پہ منتقل ہو جائے گا

جی میری مراد کہ پارلیمانی نظام کو ختم کرکے محض صدارتی نظام ہی رکھا جائے میں میں ایم پی اے ایم این اے نہیں ہونگے بلکہ جمہوریت گلی محلے کے ممبر سے شروع ہو گی اور حد ڈسٹرکٹ لیول تک چیئرمین و مئیر تک ہی ہو گی اس سے اوپر سرکاری محکموں کے سربراہ موجود ہیں یوں سینکڑوں ایم پی اے ایم این اے و وزیروں مشیروں کی تنخواہوں و کرپشن سے نجات حاصل کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے

دوسرا اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ گلی محلے و یوسی کے چئیرمین تک عام سے عام بندے کی بھی پہنچ ہے اور وہ اس سے اپنے علاقے بارے سوال جواب کر سکتا ہے جبکہ ایم پی اے و ایم این اے سے سوال جواب تو دور کی بات ان تک پہنچنا کی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے

اس طرح کرپشن کرنے والے ممبران کو بھی پتہ ہو گا کہ عام عوام کی بھی نظر ہم پر ہے

دوسرا یوسی کی سطح پہ پنچایت سسٹم خود بخود بن جائے گا جس سے عدالتوں و تھانوں کی نوبت کم آئے گی 

اس سسٹم کو بڑے حد تک ہم جنرل مشرف کے دور حکومت میں آزما کر ترقی کر چکے ہیں

افسوس کہ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی سیاسی جماعتیں ڈبل ڈبل الیکشن کا مطالبہ تو کرتی ہیں مگر صدارتی نظام کا نہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے اگر صدارتی نظام آ گیا تو ان کے ایم پی اے،ایم این اے فارغ ہو جائیں گے اور اقتدار عام عوام تک پہنچ جائے گا

یاد رکھئے اگر پاکستان کو صحیح معنوں میں ترقی کی راہ پہ ڈالنا ہے تو ہمیں اس فور اسٹروک فرسودہ نظام کو بدل کر ٹو اسٹروک نظام لانا ہوگا


Wednesday, 25 January 2023

قوم پرستوں ایک نظر ادھر بھی دیکھو ازقلم غنی محمود قصوری





قوم پرستی ایک لعنت ہے جو کہ تعصب کی بنا پر کی جاتی ہے  اس سے بچنا چائیے کیونکہ ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں اس کے بعد پاکستانی ہیں

ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں ہمیں پاکستانی ہی لکھا پکارا جائے گا ناکہ سندھی،بلوچی،پنچابی،پٹھان،بلتی،کشمیری وغیرہ


میں اپنا پیغام ان قوم پرستوں کے نام دینا چاہتا ہوں جو کہ روتے رہتے ہیں کہ پنجاب کھا گیا سارا کچھ

پنجابی عیش میں ہے

ہم محنت کرتے ہیں تو پنجابی عیش کرتا ہے 

پنجابیوں کو ہی ساری سہولیات دی جاتی ہیں


تو میں ایک بار پھر کہتا ہوں قوم پرستی ایک لعنت ہے اس میں نا پڑیں 

قوم پرست علیحدگی پسند تحریکیں انہیں چھوٹے موٹے تضاد کو بنیاد بنا کر اپنی روزی روٹی چلاتی ہیں اور لوگوں کو لڑوا کر مملکت کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتی ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ 

ہر کوئی اس ارض پاک کے لئے قربانیاں دے رہا ہے 

ان قربانیوں میں پشتون،پنجابی،سندھی،بلتی،بلوچی کشمیری سب شامل ہیں

مگر کسی کی قربانی کو نظر انداز بھی نہیں کرنا چائیے کیونکہ یہ احسان فراموشی ہے اور اسی سے تناؤ بڑھتا ہے 

2015 میں گورنمنٹ کی طرف سے اسلحہ کو مانیٹر کرنے کے لئے کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس کا اجراء کیا گیا جس کے لئے سب سے پہلے پنجاب کا انتخاب کیا گیا اور آج دن تک عرصہ سات سال گزرنے کے باوجود صرف پنجاب ہی گورنمنٹ کو اسلحہ کی مد میں کروڑوں روپیہ دے رہا ہے اگر میں اربوں کہوں تو بھی غلط نا ہو گا 

کیونکہ میں کل ہی اپنے تین کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنسوں کی فیسیں ادا کی ہیں


1 ہینڈ گن

2 شاٹ گن

3 رائفل

مگر کچھ صاحب حیثیت لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس درجنوں اسلحہ لائسنس ہیں اور وہ ان کی فیسیں اداکرتے گورنمنٹ کو 


2015 سے پہلے ان تمام نان پروہیبٹڈ لائسنسوں کی فیس 1000 روپیہ سالانہ تھی مگر کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بعد اب 1624 روپیہ پراسیسنگ فیس ہے جو کہ نادرا ای سروسز پہ 2000 روپیہ ادا کرنی پڑتی ہے ( نادرا ای سروسز کو باقی رشوت دینی پڑتی ہے)


 اس کے علاوہ سالانہ فیس این پی بی لائسنس 1000 روپیہ ( پروانشل) ہے یعنی کہ ایک لائسنس کا 3000 روپیہ سالانہ ادا کرنا لازم ہے 

اگر مدت 1 سال سے بڑھا کر زیادہ سال کی جائے تو پراسیسنگ فیس وہی رہے گی باقی سالانہ زائد بحساب سال وصول کیا جائے گا


 واضع رہے کہ  ملک کے باقی صوبوں میں ابھی تک نان کمپیوٹرائزڈ لائسنس ( پروانشل) استعمال ہو رہے ہیں جن کی سالانہ فیس 1000 روپیہ ہی ہے 

اگر دیکھا جائے تو پنجابی ایک لائسنس کی فیس باقی صوبوں کے تین لائسنسوں جتنی اکیلا ادا کر رہا ہے


حتی کہ پاکستان کے سب سے بڑے و ترقی یافتہ شہر کراچی میں ابھی تک مینوئل بک اسلحہ لائسنس ( پروانشل) استعمال ہوتے ہیں جن کی فیس وہی ہے جو اوپر بتائی گئی ہے

پاکستان کی سب سے بڑی آرمز انڈسٹری صوبہ خیبر پختونخوا میں ہے جہاں سے پنجاب اسلحہ آتا ہے وہاں ابھی تک زیادہ تر اسلحہ غیر لائسنسی ہے اگر ہے بھی تو فیس وہی جو اوپر بتائی گئی ہے یعنی ایک ہزار روپیہ فی لائسنس سالانہ (صوبائی)

 

پنجاب کا آرمز ڈیلر لاکھوں روپیہ سالانہ ویپن ٹریڈنگ لائسنس کی مد میں ادا کرنے کیساتھ گورنمنٹ کو سیلز و انکم ٹیکس الگ سے ادا کرتا ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں یہ کام نا ہونے کے برابر ہے لوگوں نے گھروں میں ویپن پارٹس کی صنعت کاری شروع کی ہوئی ہے بہت کم کارخانے رجسٹرڈ ہیں جو ٹیکس ادا کرتے ہیں

زیادہ تر تو غیر قانونی اسلحہ فروخت کیا جاتا ہے جو کہ بغیر نمبروں کے پنجاب آتا ہے پھر یہاں ان پر لائسنس کا اسلحہ نمبر لگایا جاتا ہے اس سے اسلحہ کارخانہ کا تو ریکارڈ نہیں آتا مگر جو خریدار ہے وہ غیر قانونی کو پیسوں سے خرید کر اپنے قانونی لائسنس پہ قانونی بنانے پہ مجبور ہے 


اگر سفر و سیاحت کی طرف آئیں تو موٹروے پر سب سے زیادہ ٹال ٹیکس پنجابی ادا کرتا ہے اور سیاحت میں اربوں روپیہ پنجابی ادا کرتا ہے کیونکہ لاہور جیسے بڑے شہر میں آپ جو ہوٹل روم یومیہ 2000 روپیہ میں لیتے ہیں وہ آپکو دوسرے سیاحتی مقامات پر 10000 روپیہ سے کم نہیں ملتا 

موٹر وے پر ٹول ٹیکس بھی سب سے زیادہ پنجاب سے جاتا ہے 

ایک عام سی گاڑی جب لاہور سے اسلام اباد موٹروے پر سفر کیلئے جاتی ہے تو  وہ گاڑی 920 روپیہ ٹال ٹیکس ادا کرکے چلتی ہے 

اور پھر سیاحتی مقامات پر جانے کے بعد کھانا،رہنا اور خریدنے کے اخراجات ادا کرکے پیسہ دوسرے صوبے والوں کو دیا جاتا ہے

اسی طرح ہمارے دوسرے صوبوں سے آنے والے بھائی پنجاب میں محنت کرتے ہیں اور رزق حلال کما کر اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں 

پنجاب سے بھی لوگ دوسرے صوبوں میں حصول معاش کیلئے جاتے ہیں اور محنت کرکے پیسہ کماتے ہیں

اس میں کوئی برائی نہیں کیونکہ ہم سب پاکستانی اسلامی بھائی ہیں 

ایک گھر میں رہتے ہوئے شفیق و نرم دل ماں باپ بچوں میں تھوڑی بہت تفریق کر بیٹھتے ہیں یہ تو پھر ریاست ہے کہ جہاں کا صدر وزیراعظم کبھی سندھ سے ہوتا ہے تو کبھی پنجاب سے کبھی بلوچستان سے ہوتا ہے تو کبھی خیبرپختونخوا سے 

جب صدر وزیراعظم ایک صوبے کا ہوتا ہے تو باقی سارے صوبوں کی عوم اس کے تابع ہوتی ہے 

سو قوم پرست دہشت گرد تنظیموں کے کرتا دھرتا کی توجہ اس جانب بھی مبذول کروائیں کہ جس پنجاب کے خلاف آپ نفرت پھیلا رہے ہو اس کے باسی کتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں


Monday, 9 January 2023

شہر چھوڑو پیسے لو ازقلم غنی محمود قصوری




پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس کا سب سے بڑا مسئلہ مس مینجمنٹ یعنی انتظام میں نقص ہے جس کے باعث ہم ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب جا رہے ہیں

یہ مس مینجمنٹ ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے اسی لئے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے علاوہ ہمارے گھروں تک میں مس مینجمنٹ دیکھنے کو ملتی ہے


ٹوکیو چھوڑو، پیسے لو اور لکھ پتی بن جاؤ 

جی ہاں یہ نعرہ ہے جاپان گورنمنٹ کا 

 جاپان کی حکومت نے دارالحکومت ٹوکیو چھوڑنے پر رقم کی پیشکش تین لاکھ ین ( جاپانی کرنسی) سے بڑھا کر دس لاکھ پن کر دی ہے 

شہر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں بسنے والے خاندانوں کو فی بچہ دس لاکھ ین دیے جائیں گے


جاپان حکومت نے یہ اقدام شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے پیش نظر کیا ہے تاکہ لوگوں کو صحیح طور بنیادی

 ضروریات زندگی مل سکیں اور ان کی صحت متاثر نا ہو

ٹوکیو شہر کی آبادی ایک کروڑ تیس لاکھ سے بڑھ چکی ہے اور یہ جاپان کی کل آبادی کا دو فیصد ہے

ٹوکیو کو تئیس تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اچھا متنظم نظام ملے اور ان کی صحت درست رہے اور وہ اسی صحت و تندرستی سے ملک کی ترقی میں کردار ادا کرتے رہیں



جب لوگوں کو اچھی اور جائز ضروری سہولیات ملیں گی تو لوگ تندرست و توانا ہونے کیساتھ جرائم سے دور بھی رہیں گے

جرائم سے دور رہیں گے تو امن و امان ہو گا

امان و امان ہو گا تو فائدہ گورنمنٹ کے ساتھ عوام کا بھی ہو گا

مگر ہمارے ہاں نا تو فائدہ گورنمنٹ کا کیا جاتا ہے اور نا ہی عوام کا بلکہ فائدہ صرف خالصتاً اشرافیہ، بیورو کریسی و سیاستدان کا کیا جاتا ہے


ہمارے ہاں مینجمنٹ کا شدید فقدان ہے ملک میں بہت زیادہ غیر زرعی زمینیں بنجر پڑی ہیں کہ جہاں گھاس پھوس و جڑی بوٹیاں تو بغیر محنت کئے اگتی ہیں  مگر ہم تھوڑی سی محنت کرکے اسی زمین سے فصل نہیں لے سکتے 

شہروں کی آبادیاں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے 

کراچی کی ابادی پونے تین کروڑ سے زائد

لاہور کی آبادی پونے دو  کروڑ سے زائد اور فیصل آباد کی آبادی پون کروڑ سے زائد ہو چکی ہے مگر اس کے باوجود بلڈنگوں کے اوپر بلڈنگیں بنائی جا رہی ہیں تھوڑی بہت بچی ہوئی زرعی زمینوں پہ رہائشی کالونیاں بنائی جا رہی ہیں مگر افسوس کہ بنجر زمینوں پہ نا تو نئے شہر بسائے جا رہے ہیں نا ہی انہیں قابل کاشت کیا جا رہا ہے کیونکہ ہمیں شارٹ کٹ کمانے کی عادت پڑ چکی ہے اور یہی عادت جرائم میں اضافے کا سبب بننے کے ساتھ بیماریوں کی بھی وجہ بن رہی ہے

ہمارے ہاں

شہروں کی بہت زیادہ آبادی ہونے کے باعث لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں اور آلودگی پھیلنے سے ان کی صحت بری حد تک متاثر ہوئی ہے جس سے صحت کی بحالی کی مد میں گورنمنٹ کیساتھ ساتھ عوام کا اپنا روپیہ پیسہ بھی ضائع ہو رہا ہے اور شرع اموات غیر معمولی طور پہ بڑھ گئی ہے 

اب حالات یہ ہیں کہ ہمارے شہروں میں قبل از عمر بالوں میں سفیدی،گھٹنوں میں درد و دیگر خطرناک امراض پائے جانے لگے ہیں

جب یہ امراض جوانوں میں موجود ہو تو جوان کام کیا کریں گے اور ملک ترقی کیسے کرے گا ؟


واضع رہے کہ جاپان دنیا کا وہ ملک ہے کہ جہاں غریب سے غریب تر فرد کے پاس بھی اپنی اچھی سواری ہے

پہننے کو اچھے کپڑے اور کھانے کو اعلی خوراک میسر ہے مگر اس کے باوجود بھی گورنمنٹ شہریوں کی صحت اور انہی کی سہولیات کے پیش نظر ان

کو پیسے دے کر نقل مکانی کروا رہی ہے تاکہ ٹوکیو کی آبادی نا بڑھے بلکے دیگر چھوٹے شہر پرونق ہو جائیں یا پھر نئے شہر بسائے جائیں


یہ ساری مینجمنٹ ہمیں دین اسلام سکھلاتا ہے مگر ہم نے اسلام سے دوری رکھی اور اسی  رولز آف اسلام سے ڈائریکٹیلیشن کرکے غیر مسلم ترقی کر رہے ہیں

یہ بات ہمارے لئے ایک بہت بڑا پیغام ہے کہ نئے شہر بسائے جائیں غیر زرعی زمینوں کو قابل کاشت کیا جائے اور لوگوں کے رہنے کے مناسب اقدامات کئے جائیں تاکہ لوگ اچھی صحت کیساتھ دیر پا زندگی بغیر بڑی بیماریوں کے جئیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار  ادا کریں

 کیونکہ فرمان مصطفی ہے کہ


ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر اور اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے

 تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہوجاتا  بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیونکہ ،اگر، ( کاش) شیطان کے عمل دخل کا دروازہ کھول دیتا ہے ۔۔مسلم


اللہ کے نبی نے ہمیں واضع بتا دیا کہ طاقتور بنو وہ طاقت جسمانی بھی ہے اور ایمانی بھی 

جسمانی و مضبوط ایمانی طاقت اللہ کو بہت پسند ہے اور اسی سے خیر کا دروازہ کھلتا ہے 

اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے  تاکہ وہ اپنے پیٹ کی آگ کیساتھ عوام کی مینجمنٹ کے بارے بھی سوچ سکیں

آمین