ٹو اسٹروک جمہوریت بمقابلہ فور اسٹروک جمہوریت ازقلم غنی محمود قصوری
موجودہ دور حکومت جمہوری ہے جو کہ پوری دنیا پہ رائج ہے
اس گلوبلائزیشن میں رہتے ہوئے جمہوریت کے بغیر گزارہ نہیں حالانکہ جمہوریت اسلام کے منافی ہے مگر اس کے باوجود اسلامی ممالک کسی نا کسی حد تک جمہوریت کے تابع رہنے پر مجبور ہیں
جس طرح پہلے گھوڑوں کا دور گزرا اس کے بعد پھر سائیکل موٹر سائیکل،کار اور جدت کیساتھ ہوائی جہاز تک آئے ایسے ہی ایک وقت قرب قیامت آئے گا کہ جب تلواروں کا دور ہوگا اور گھوڑے ہونگے
ایجادات ہر دور میں ہوتی رہی ہیں اور یہ ہوتی رہیں گیں اسلام ایجادات کو روکتا نہیں بلکہ ایجادات کو سپورٹ کرتا ہے
یہ بات احادیث سے ثابت ہے
جب وہ شرع اللہ ( خلافت) والا نظام جو کہ گزشتہ ادوار میں رہا، اور آنا بھی ہے اور آئے گا بھی قرب قیامت،تب تک ہمیں جمہوریت کی اذیت سہنی ہی پڑے گی
جمہوریت میں فیصلہ جمہور یعنی زیادہ افراد کی رائے پہ ہوتا ہے چاہے زیادہ افراد غلط ہی کیوں نا ہو جبکہ خلافت و اسلامی نظام میں فیصلہ حق سچ کیساتھ ہوتا ہے چاہے جمہور اس کے خلاف ہی کیوں نا ہو
یوں تو ساری دنیا میں ہی جمہوریت رائج ہے مگر پاکستان میں اس وقت فور اسٹروک موٹر سائیکل جیسی جمہوریت ہے، کہ جس کو چلانے کے لئے اس کے فیول ٹینک میں پیٹرول کیساتھ اس کی سائیڈ ٹینک میں موبل آئل ڈالنا لازمی ہے تاکہ موٹر سائیکل کا انجن کام کرتا رہے جس کے نتیجے میں اس موٹر سائیکل کے سائلنسر سے زہریلا دھواں الگ سے نکلتا ہے اور کانوں کو پھاڑنے والا شور الگ سے سننا پڑتا ہے
جی ہاں جیسے کہ یاماہا ،کاواساکی و دیگر فور اسٹروک موٹر سائیکلیں ہوا کرتی تھیں
اس کے مدمقابل ٹو اسٹروک موٹر سائیکل بنی جو کہ صرف پیٹرول پہ چلتی ہے اس کا سائیڈ ٹینک آئل نہیں ہوتا نا ہی اس کے سائلنسر سے زہریلا دھواں نکلتا ہے اور نا ہی بہت زیادہ شور شرابہ ہوتا ہے
بلکہ اب تو الیکٹرک موٹر سائیکلیں آئی ہیں جن کی آواز نا ہونے کے برابر ہے
پاکستانی جمہوری نظام کو فور اسٹروک اس لئے کہا کہ ہمارے ہاں ایوان زیریں میں
پنجاب اسمبلی کے 371,بلوچستان اسمبلی کے 65,سندھ اسمبلی کے 168 اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے 124 ممبران موجود تنخواہیں لیتے ہیں جبکہ قومی اسمبلی کے 342 ممبران کیساتھ ایوان بالا کے 100 ممبران تنخواہیں لے رہے ہیں
میں یہاں بات صرف تنخواہوں کی ہی کرونگا باقی مراعات اور کرپشن سے پوری قوم واقف ہے
جبکہ اس کے برعکس دنیا بھر میں ماسوائے ہندوستان پاکستان و بنگلہ دیش,کے شاید ہی کسی ملک میں ایسا جیسا فرسودہ نظام ہو کہ جہاں ہر محکمے کا سب سے بڑا سرکاری عہدیدار ڈائریکٹر جنرل موجود ہے مگر اس کے باوجود اس کے اوپر مشیر و وزیر بھی تعینات ہے
ایم پی اے ،ایم این اے بھی موجود ہیں اور یوسی کے ممبران و چئیرمین،تحصیل و ڈسٹرکٹ کے ممبران و چئیرمین الگ سے ہیں
پوری دنیا میں اس وقت جمہوری ٹو اسٹروک نظام رائج ہے یعنی کہ گلی محلے کے ممبر سے یوسی چئیرمین اور پھر ڈسٹرکٹ چیئرمین تک جمہوریت ہے اس سے آگے محکموں کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہیں نا کہ ہماری طرح وزیر و مشیر
اگر ہم اپنے فور اسٹروک جمہوری نظام کو ٹو اسٹروک ہی کر لیں تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا اور اقتدار نچلی سطح پہ منتقل ہو جائے گا
جی میری مراد کہ پارلیمانی نظام کو ختم کرکے محض صدارتی نظام ہی رکھا جائے میں میں ایم پی اے ایم این اے نہیں ہونگے بلکہ جمہوریت گلی محلے کے ممبر سے شروع ہو گی اور حد ڈسٹرکٹ لیول تک چیئرمین و مئیر تک ہی ہو گی اس سے اوپر سرکاری محکموں کے سربراہ موجود ہیں یوں سینکڑوں ایم پی اے ایم این اے و وزیروں مشیروں کی تنخواہوں و کرپشن سے نجات حاصل کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے
دوسرا اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ گلی محلے و یوسی کے چئیرمین تک عام سے عام بندے کی بھی پہنچ ہے اور وہ اس سے اپنے علاقے بارے سوال جواب کر سکتا ہے جبکہ ایم پی اے و ایم این اے سے سوال جواب تو دور کی بات ان تک پہنچنا کی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے
اس طرح کرپشن کرنے والے ممبران کو بھی پتہ ہو گا کہ عام عوام کی بھی نظر ہم پر ہے
دوسرا یوسی کی سطح پہ پنچایت سسٹم خود بخود بن جائے گا جس سے عدالتوں و تھانوں کی نوبت کم آئے گی
اس سسٹم کو بڑے حد تک ہم جنرل مشرف کے دور حکومت میں آزما کر ترقی کر چکے ہیں
افسوس کہ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی سیاسی جماعتیں ڈبل ڈبل الیکشن کا مطالبہ تو کرتی ہیں مگر صدارتی نظام کا نہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے اگر صدارتی نظام آ گیا تو ان کے ایم پی اے،ایم این اے فارغ ہو جائیں گے اور اقتدار عام عوام تک پہنچ جائے گا
یاد رکھئے اگر پاکستان کو صحیح معنوں میں ترقی کی راہ پہ ڈالنا ہے تو ہمیں اس فور اسٹروک فرسودہ نظام کو بدل کر ٹو اسٹروک نظام لانا ہوگا
.jpg)
.jpg)
.jpg)

