Friday, 27 May 2022

نعرہ تکبیر تک کا سفر ازقلم غنی محمود قصوری





انڈیا 1974 میں ایٹمی طاقت بن چکا تھا اور ہر وقت پاکستان کو ختم کرنے کی باتیں سرعام کرتا تھا اس سے قبل 1971 میں مشرقی پاکستان کو اس نے باقاعدہ سازش سے دولخت کروایا تھا 


18 مئی 1974 کو  راجھستان میں مسکراتا بدھا نامی  مشن میں انڈیا نے ایٹمی دھماکے کئے اور خود کو پوری دنیا کا مالک سمجھ لیا خاص کر ایشا کا غنڈہ بننا اس کا خواب تھا 

انڈیا کے اس رویے کے باعث اب  پاکستان پر فرض تھا کہ مساوی طاقت حاصل کی جائے 


اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے 

نان پرولیفیشن ٹیریٹری (ایٹمی طاقت نا بننے کا معاہدہ) پر دستخط نا کئے اور 1976 میں  ڈاکٹر قدیر مرحوم علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں پاکستانی اٹامک انرجی کمیشن کا آغاز کیا گیا 

ڈاکٹر عبدالقدیر علیہ الرحمہ نے قلیل وسائل کے باوجود جس محنت اور لگن سے کام کیا اس پر جتنا خراج تحسین انہیں پیش کیا جائے کم ہے 


1977 میں ضیاءالحق کی حکومت میں سخت عالمی پابندیوں کے باوجود پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی نے سنگاپور،یورپ اور مشرق وسطی سے بڑی دلیری اور خفیہ طریقوں سے حساس آلات خریدے اور پاکستان منتقل کئے

کیونکہ امریکہ پاکستان کو کبھی بھی ایٹمی طاقت بننے نہیں دینا چاہتا تھا


 یہ بات بھی بہت مشہور اور مستند ہے کہ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے انڈین اٹامک سنٹر سے بھی حساس آلات حاصل کئے جس پر انڈیا سخت پریشان بھی ہوا اور امریکہ کو رپورٹ کی 

 تبھی امریکہ نے خطرہ بھانپ کر فرانس جرمنی اور کینیڈا پر پابندیاں لگا دیں کہ پاکستان کو کوئی بھی حساس آلات یا ٹیکنالوجی نا فروخت کی جائے 

تاہم آئی ایس آئی نے بڑے ماہرانہ طریقے سے جرمنی سے حساس آلات اور ٹینالوجی حاصل کرکے انتہائی مشکل ترین طریقے سے پاکستان منتقل کیا 

کیونکہ امریکہ اور انڈیا پاکستان پر پوری نظر رکھے ہوئے تھے

 

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بڑی محنت اور لگن سے اپنا کام جاری رکھا  

امریکہ و انڈیا نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور دھمکیاں بھی لگائیں اور 1986 میں راجھستان کے علاقے میں 6 لاکھ فوجیوں کو جمع کرکے پاکستان کو جنگ کی دھمکی لگائی 

1989 کی مسلح تحریک آزادی کشمیر کی شروعات پر بھارت نے پھر پاکستان کو جنگ کی دھمکی لگائی اور ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تاہم پاکستان نے اپنا کام جاری رکھا 


11 اور 13 مئی  1998  کو ایک بار پھر انڈیا نے چولستان میں ایٹمی دھماکے کئے اور اپنی ڈھاک بٹھانے کی کوشش کی 

اب وقت آگیا تھا کہ انڈیا کو منہ توڑ جواب دیا جائے سو پاکستان نے انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کئے 


پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں 28 مئی کو 5 اور 30 مئی کو 1 ایٹمی دھماکہ کیا


 ایٹمی دھماکوں کے بعد  جنگ کی دھمکی دینے والا انڈیا پیشاب کی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا 


انڈیا امریکہ کا خیال تھا کہ بے انتہاہ پابندیوں میں پاکستان ایٹمی قوت نا بن پائے گا مگر اللہ کے فضل اور پاکستان آئی ایس آئی،ڈاکٹر عبدالقدیر علیہ رحمہ کی محنت و لگن سے اللہ نے وہ دن بھی دکھلایا کہ جب نعرہ تکبیر لگا کر بدمست ہاتھی انڈیا کو جواب دیا گیا اور اس کا غرور خاک آلود ہوا


پاکستان دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے

پاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر پوری اسلامی دنیا نے جشن منایا

 

لکھنے بولنے کو تو ،یوم تکبیر، ایک معمولی بات ہے مگر اس کے پیچھے ہمارے حکمرانوں،آئی ایس آئی اور ڈاکٹر عبدالقدیر و ان کی ٹیم  کی بے شمار قربانیاں ہیں

ایٹمی طاقت بننے کے بعد بظاہر انڈیا نے جنگ کی دھمکیاں دیں ہیں مگر ان دھمکیوں میں وہ پہلے سا غرور و رعب نہیں اور یہ سب نعرہ تکبیر کے مرہون منت ہی ہے

Sunday, 15 May 2022

چولستان کی پکار ازقلم غنی محمود قصوری





پنجاب کے ضلع بہاولپور کے جنوب میں 30 کلومیٹر دوری پر واقع  66 لاکھ 55 ہزار ایکڑ طول اور 32 سے 480 کلومیٹر عرض والے صحرائی رقبے کو چولستان کہا جاتا ہے جو کہ دنیا کا ساتواں بڑا صحرا ہے 


اسی روہی بھی کہا جاتا ہے یہ صحرا جنوب مشرق میں انڈین راجھستان سے جا ملتا ہے

اسی لئے اس علاقے میں سرائیکی زبان کیساتھ زیادہ تر راجھستانی زبان بھی بولی جاتی یے 


یہاں کے مقامی لوگ خانہ بدوش ہیں  اور یہ لوگ بہت زیادہ غریب ہیں اور ان کا گزر بسر بھیڑ بکریاں و اونٹ پال کر ہوتا ہے کیونکہ اس ریت والے علاقے میں فی الحال اور کچھ ممکن ہی نہیں


اس صحرا میں پانی کی قدرو قیمت کا اندازہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں زندگی کی بہت بڑی ضرروت پانی کا بہت بڑا حصول بارشوں کے ذریعہ سے ممکن ہے 


بارشوں کا پانی ٹوبھوں ( تالاب نما) میں جمع رہتا ہے جہاں سے مقامی باشندے پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں اور جانور بھی انہیں ٹوبھوں سے پانی پیتے ہیں

غربت کے باعث یہ لوگ کنویں وغیرہ نہیں بنوا پاتے اس لئے بارشیں ہی ان کیلئے پانی کا سب سے بڑا حصول ہیں


رواں سال پوری دنیا میں گرمی کی شدت ہے 

پاکستان میں بھی اس وقت شدید ترین گرمی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ 1961 کے بعد پہلی بار اتنی گرمی پڑے گی 


چولستان کا ٹمپریچر 50 درجہ سینٹی گریڈ سے اوپر کو جا رہا ہے اور گزشتہ 3 ماہ سے اس علاقے میںبارشیں بھی نہیں ہوئیں  جس کے باعث یہاں کا سب سے بڑا پانی کا ذریعہ ٹوبھے خشک ہو گئے ہیں ایک اندازے کے مطابق 3 ہزار کے قریب ٹوبھے خشک ہو چکے ہیں جس کے باعث 200 سے اوپر جانور مر چکے ہیں اور لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور مجبوراً نقل مکانی شروع کر دی ہے 


ہر روز بے چین کرنے والی  نئی خبر مل رہی ہے حتیٰ کہ کل سے بلوچستان سے بھی خشک سالی اور پانی کی کمی کے باعث لوگوں و جانوروں کی اموات کی خبریں آ رہی ہیں


الحمدللہ پاکستانی ایک غیرت مند اور درد دل رکھنے والی قوم ہے جس نے زلزلہ،سیلاب،طوفان میں اپنے ملک کے علاوہ بیرون ممالک کے لوگوں کی بھی خدمات کی ہیں


اب ایک بار پھر پاکستانیوں تمہیں چولستان پکار رہا ہے 

آگے بڑھیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی مدد کریں ان کیلئے درختوں و کنوؤں کا انتظام کیجئے اور ان کی پیاس ختم کیجیئے

یقین کریں آپ کی یہ کاوش اللہ تعالی بہت پسند کرے گا کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے


 وَ الَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ


ترجمہ۔۔۔اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انھیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے یقیناً اللہ نیکوکاروں کا ساتھی ہے


پاکستان بھر میں بہت سے لوگ اور تنظیمیں اس وقت چولستان کیلئے کام کر رہی ہیں

آپ بھی ساتھ دیجئے چولستانیوں کی پیاس بجھانے کا

 ان شاءاللہ  پیاسوں کی پیاس کو بجھانے کے عیوض اللہ تعالی روز محشر جام کوثر نصیب فرمائے گا ان شاءاللہ

جلدی کیجئے نیکی کے کاموں میں جلدی اللہ تعالی کو بہت پسند ہے 


  

Friday, 6 May 2022

اتنا ہی ڈال پلیٹ میں جتنا سما سکے تیرے پیٹ میں ازقلم غنی محمود قصوری





ابھی چند دن قبل ہی ماہ رمضان تھا جس میں زندہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت زیادہ افطار پارٹیاں کی گئیں

اور اب شادیوں کا سیزن ہے جبکہ ہماری شادیوں بیاہوں و دیگر دعوتوں کیساتھ افطار پارٹیوں میں بھی کھانے کا بہت زیادہ ضیاع کیا جاتا رہا 

زیادہ تر دیکھنے میں آتا ہے کہ جو کھانا ہم اپنے کھانے کیلئے پلیٹ میں ڈالتے ہیں اس کا چوتھائی حصہ عموماً ویسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے اور نئی ڈش کھانا شروع کر دی جاتی ہے

ایسا کام ہر بندہ بھی نہیں کرتا مگر زیادہ تر ایسا کیا جاتا ہے

کھانے کے اس ضیاع کو کفران نعمت کہا جاتا ہے یعنی سامنے پڑی یا دی گئی نعمت کا انکار کرنا اور اسے ضائع کرنا اور یہ عمل اللہ کو سخت نا پسند ہے کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں


فذكُرُونِي أَذكُركُم وَشكرُوا لِي وَاتَكَفُرُونَ

ترجمہ۔۔۔پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا اور میری نعمتوں کا شکر ادا کرو اور نعمتوں کا انکار نہ کرو


یقین کیجئے ہماری پستی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ کفران نعمت بھی ہے


آج ہماری شادیوں،بیاہوں و دیگر دعوتوں میں اسے فیشن سمجھا جاتا ہے گناہ نہیں بلکہ ہماری عادت بن چکی ہے کہ کولڈ ڈرنک کی بوتل میں سے تھوڑی سی چھوڑ دی جاتی ہے 


مہمان کی عزت کرنا اسلام میں فرض ہے مگر

 میزبان کو بھی اسلام کی رو سے مہمان کی طرف  سے عزت اور اس کے مال و جان کی حفاظت کا عندیہ دیا گیا ہے کیونکہ اسلام ہر کسی کے جان و مال و عزت کا محافظ ہے اور میزبان کی طرف اے پیش کیا گیا کھانا اس کا مال ہوتا ہے 


اپنے گھروں میں ہم  6 افراد محض ایک کلو گوشت پکا کر سیر ہو جاتے ہیں مگر افسوس کہ کسی باپ کی طرف سے اپنی بیٹی کی شادی پر مہمانوں کی طرف سے لاکھوں کا کھانا دینے والے باپ کی عزت کی ہم لوگ قدر نہیں کرتے 

کیا گزرتی ہو گی اس باپ پر کہ جس نے اپنی جمع پونجی سے آپ کیلئے سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے اعلی سے اعلی ضیافت کا اہتمام کیا ؟


چاہے میزبان کھرب پتی ہی کیوں نا ہو کھانوں کی اس طرح بے قدری شعائر اسلام اور اخلاقی طور پر قطعاً درست نہیں

 ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم مہمان ہیں اور بطور مہمان کھانے کی بے حرمتی کسی صورت جائز نہیں بلکہ اس عمل سے ہماری تربیت وضع ہوتی ہے 


کھانوں کی بے قدری  سے ایک تو کفران نعمت ہوتا ہے تو دوسری میزبان کی دل آزاری بھی ہوتی 

کبھی یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے گھر میں پکے کھانوں کیساتھ ایسا سلوک کیا ہوا اور اپنے گھروں میں اپنی پلیٹوں میں ایسے کھانا چھوڑا ہو

 جیسا ہم دعوتوں میں کرتے ہیں

 

خدارہ اگر کوئی کسی دعوت میں آپ کے سامنے  ایسی حرکت کرتا ہے تو کوشش کیا کریں آپ پہلے وہ چھوڑے گئے نان کے ٹکڑے اور پلیٹوں میں ڈالا گیا سالن کھا لیں

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روٹی نان کے چھوڑے گئے سخت کنارے اس کے دانتوں و معدے کو تکلیف دیتے ہو اور اگر آپ کو ان چیزوں کے کھانے سے صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا تو یہ نیکی ضرور کیجئے


ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ مسلمان کا جوٹھا کھانا کھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور یہ عمل آپس میں پیار و محبت کا باعث بھی بنتا ہے اور تکبر جیسی لعنت کو ختم کرتا ہے 


یقین کیجئے اس عمل سے ہماری شان میں کوئی گستاخی نا ہو گی اور نا ہی پکے کھانے کا ذائقہ بدلا ہوتا ہے  

 

ہاں یہ ضرور ہے کہ اس عمل سے ہمارا رب ضرور راضی ہو گا اور ہو سکتا ہے کفران نعمت کرنے والوں کو بھی اللہ ہدایت دے دیں اور وہ آئندہ سے نادم ہو کر اس عمل سے باز آ جائیں

آئیے عہد کیجئے کھانوں کی بے بے قدری نہیں کرینگے اتنا ہی پلیٹ میں ڈالیں گے جتنا ہم کھا سکتے ہیں 

یقین کیجئے یہ عمل شروع کیجئے ہمارا معاشرہ تہذیب کی جانب گامزن ہو گا

اور آج کھانے کو ضائع کرنے والا کل افسر بھرتی کو کر سیاستدان بن کر ضرور  ان شاءاللہ کھانے کے علاوہ دی گئی نعمتوں اور ہماری امانتوں کو ضائع نہیں کرے گا