Sunday, 23 February 2020

27 فروری سرپرائز ڈے


تحریر۔ *غنی محمود قصوری*
یوں تو شروع دن سے ہی مار کھانا ہندوستان کا مقدر ہے جیسا کہ محمد بن قاسم ،شہاب الدین غوری،محمود غزنوی،ٹیپو سلطان و دیگر مسلمان جرنیلوں سے ہندوستان کی خوب درگت بنتی رہی مگر پچھلی صدی میں شاہ اسماعیل شہید،علامہ محمد اقبال و محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے جذبہ جہاد بلند کیا اور دو قومی نظریہ پیش کرکے اور پاکستان بنا کر ہندو کیساتھ انگریز کو بھی سرپرائز دیا
مگر اپنی درگت بنوانے کا عادی ہندو سکون سے نا بیٹھ سکا اور مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کرنے سے انکاری ہو گیا جس پر پاکستان کے غیور قبائلیوں،افواج پاکستان اور وادی کشمیر کے شیروں نے مل کر ہندو کی خوب درگت بنائی اور وادی کشمیر کے کل 84474 مربع میل میں سے 32093 مربع میل آزاد کروا کر اسے ایک زبردست ترین سرپرائز دیا جس پر ہندو وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بھاگم بھاگ اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل پہنچا اور جنگ بندی کیلئے منت سماجت کی ورنہ یہ سرپرائز بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہی مکمل ہونا تھا
6 ستمبر 1965 کو ایک مرتبہ پھر ہندو کو اپنی درگت بنوا کر سرپرائز لینے کی سوجھی اور اس نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کر دیا جس پر امت محمدیہ کی پاک فوج نے ایسا سرپرائز دیا کہ 17 روزہ جنگ میں ہندو تو پریشان ہونا ہی تھا پورا عالم کفر اس سرپرائز پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور یوں ایک مرتبہ پھر ہندو اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل میں پہنچا اور جنگ بندی کروائی
دو مرتبہ سرپرائز لینے کے بعد ہندو نے اپنا طریقہ بدلا وہ جان چکا تھا مغربی پاکستان میں اسے دو مرتبہ سرپرائز بہت مہنگا پڑا ہے لہذہ اس مرتبہ اس نے مشرقی پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرکے کچھ غداران ملک و ملت کو اپنے ساتھ ملایا اور مکتی باہنی کے نام پر ایک مسلح لڑاکا تنظیم بنائی جس نے پاک فوج پر حملے شروع کر دیئے اور بنگلہ دیش کو الگ ملک بنانے کی تحریک شروع کر دی اس مرتبہ ہندو کا وار کچھ کارگر ہوا مکتی باہنی و انڈین فوج نے بنگلہ دیش کی عوام میں پاکستان کے خلاف خوب زہر بھرا اور یوں مکتی باہنی کی پاک فوج سے باقاعدہ جھڑپیں شروع ہو گئیں جس کی کمان اینڈ کنٹرول انڈین فوج کے ہاتھ تھی آخر مکمل جنگ چھڑ گئی مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان تک گولہ بارود کی رسد ختم ہو کر رہ گئی مگر پھر بھی پاک فوج کے شیروں نے وسائل کی کمی اور اپنوں کی غداری کا غم سہہ کر بھی مردانہ وار مقابلہ کیا مگر فوجی افسران و جوان ہتھیار پھینکنے کو تیار نا تھے جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے بنگلہ دیش کے پاکستانی حامی لوگوں و مغربی پاکستان سے آئے سول اداروں کے اہلکاروں کے خاندان کے لوگوں کو شہید کرنا شروع کر دیا جو کہ انتہائی تشویشناک بات تھی اس کے بعد بھارت نے ایک اور چال چلی اور جنگ بندی کا اعلان کردیا اور اپنی فوجیں ڈھاکہ میں لا کر ایسٹرن کمان کے امیر عبداللہ خان نیازی سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا جس پر جوانوں و افسروں میں تشویش کی لہر ڈور گئی اور انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے دوبارہ عام شہریوں کو شہید کرنا شروع کردیا اس پر مجبور ہوتے ہوئے اور نا چاہتے ہوئے بھی ہماری فوج کو اپنوں کی غداری کی بدولت 6 دسمبر 1971 کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور یوں 45000 فوجی اور 40000 سے کم سول محکموں کے اہلکار انڈین فوج کے ہاتھوں جنگی قیدی بن گئے مگر پاکستان کو فتح کرنے کا انڈین خواب پھر بھی شرمندہ تعبیر نا ہوسکا کیونکہ 1971 میں راجھستان کے محاذ لونگے والا میں انڈین فوج کو سخت جانی مالی نقصان اٹھانا پڑا اور انڈین فوج اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر پیچھے بھاگی جس کا اعتراف خود انڈین جرنیل بھی کرتے ہیں اسی طرح سلیمانکی کے محاذ پر میجر شبیر شریف شہید نے دشمن کو بہت پیچھے تک دھکیل دیا اور ان کی کئی پوسٹوں پر قبضہ کرلیا جبکہ قصور کے محاذ پر ایسی کاری ضرب لگائی گئی کہ کھیم کرن کا محاذ چھوڑ کر انڈین فوج پیچھے کو بھاگ نکلی اور اس طرح تاریخی شکست انڈیا کو 1971 میں قصور کے محاذ پر ہوئی زندہ دلان قصور نے اپنی پاک فوج کیساتھ مل کر کھیم کرن شہر پر قبضہ کرکے پاکستانی پرچم لہرایا جس کی تصویریں آج بھی انڈین فوج اور عوام کے ذہنوں پر سوار ہیں غیور قصوریوں نے کھیم کرن سے خوب مال غنیمت حاصل کیا جس کے ثبوت کے طور پر آج بھی اہلیان قصور کے گھروں میں لگے انڈین شہر کھیم کرن سے لائے گئے دروازے ،کھڑکیاں،برتن و دیگر سامان ضرورت لوگوں کے پاس موجود ہے حتی کہ رائیونڈ قصور روڈ جو کہ کچہ راستہ تھا اسی کھیم کرن سے لائی گئی مال غنیمت کی اینٹوں سے بنا
28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان نے ایک بار پھر انڈیا کو بہت بڑا سرپرائز دیا مگر شاید مار کھائے بغیر سرپرائز کو قبول کرنا انڈیا کی عادت نہیں سو اس نے 1999 میں کارگل کے مقام پر پاکستانی فوج اور مجاھدین کشمیر سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 3 مئی 1999 کو باقاعدہ ایک جنگ کا آغاز ہوا جس میں انڈیا کے 30000 اور پاکستان کے 5000 فوجی آمنے سامنے ہوئے پہلے ہی ہلے میں انڈیا کے 1000 سے زائد سپاہی مارے گئے جبکہ 2000 کے قریب فوجی زخمی ہونے کیساتھ انڈین ائیر فورس کے 3 طیارے تباہ ہوگئے جس سے بھارتی فوج سخت گھبراہٹ کا شکار ہو گئی اور دونوں ملکوں پر ایٹمی قوت ہونے کی بدولت عالمی دباؤ بڑھ گیا اور یوں دونوں ملکوں کو بغیر کسی نتیجے کے جنگ بندی کرنی پڑی مگر نقصان کے لحاظ سے ایک بار پھر شکست انڈیا کی ہوئی
14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈین فوج پر کشمیری مجاھدین کی مسلح آزادی پسند تحریک جیش محمد کی طرف سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 200 سے زائد انڈین فوجی مارے گئے جبکہ سرکاری طور پر انڈیا نے صرف 44 فوجیوں کی موت تسلیم کی پلوامہ حملے کے بعد اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے انڈیا نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی شروع کردی جس پر پاک فوج کی طرف سے بھرپور جواب دیا گیا جھڑپیں بڑھتی گئیں اور 26 فروری 2019 کو انڈیا نے ایک بار پھر رات کی تاریکی میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے طیارے پاکستانی حدود میں داخل کئے مگر ہمارے شاہینوں کی بروقت اڑان سے انڈین پائلٹ گھبرا گئے اور گھبراہٹ میں اپنے جنگی جہاز کا پے لوڈ لائن آف کنٹرول کے نزدیک بالا کوٹ کے مقام پر گرا کر بھاگ گئے اور دعوی کردیا کہ ہم نے پاکستانی علاقے میں جاکر جیش محمد کے ٹریننگ کیمپوں پر فضائی کاروائی کرتے ہوئے 350 سے زائد جیش محمد کے کارکنان شہید کر دیئے ہیں جس کے چند گھنٹوں بعد پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے انڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اس جھوٹ کو جلد بے نقاب کرینگے اور ایک سرپرائز بھی دینگے جنرل صاحب کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستانی ائیر فورس کے دو شاہینوں اسکورڈن لیڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے انڈین علاقے میں گھس کر اس کے دو طیارے مار گرائے جن میں سے ایک طیارہ مقبوضہ وادی کشمیر جبکہ دوسرا آزاد کشمیر کے علاقے میں گرا جس کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو کشمیری عوام نے گھیر لیا اور اس کی تاریخی دھلائی کرکے ایک بہت بڑا سرپرائز دیا اس کے بعد پاکستان نے انٹرنیشنل میڈیا کو بالاکوٹ کا دورہ بھی کروایا جس پر انٹرنیشنل میڈیا نے انڈین ائیرفورس کی ناکامی کا پول کھول کر اسے ایک اور ناکامی کا سرپرائز دیا
ابھی نندن کی رہائی کیلئے انڈیا نے اقوام عالم کیساتھ پاکستان کی بھی منت سماجت شروع کر دی جس پر ونگ کمانڈر ابھی نندن کو اچھی چائے اور کھانا کھلانے کے سرپرائز کے بعد واہگہ کے راستے انڈیا بھجوا دیا گیا
معرکہ 27 فروری پر میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا تھا کہ انڈین اس سرپرائز کو کبھی بھی نہیں بھلا سکیں گے اور ان شاءاللہ ایسا ہی ہے پچھلے سرپرائزوں کی طرح انڈیا اس سرپرائز ڈے 27 فروری کو کبھی بھول نہیں سکے گا

Wednesday, 19 February 2020

ہماری عداوتیں اور جادو ٹونا


تحریر *غنی محمود قصوری*
اس دنیا میں رہتے ہوئے ہمارا واسطہ کئی طرح کے حاسدین و دشمنوں سے پڑتا ہے کچھ تو ہمیں سامنے آکر مارنے پیٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ ہمیں ناجائز مقدمات میں پھنسا کر مالی و ذہنی پریشانی میں مبتلا کرتے ہیں مگر کچھ لوگ اپنا حسد بغض و کینہ جادو کے ذریعے نکالتے ہیں ایسے لوگ انتہائی گھٹیا و کمینے ہوتے ہیں جو اپنا حسد و بغض تو نکالنا چاہتے ہیں مگر خود سامنے بھی نہیں آنا چاہتے ایسے لوگ انتہائی گھٹیا و ظالم ہوتے ہیں
ہمارے معاشرے میں جادو ٹونے کا بہت زیادہ رواج چل نکلا ہے کوئی کسی سے مال و دولت کے حسد کی بناء پر جادو ٹونا کرتا ہے تو کوئی خاندانی رشتہ داریوں میں خلل ڈالنے کیلئے
جادو کے اثرات یقینا ہوتے ہیں مگر ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ رزق،دولت،صحت،تندرستی،بیماری،شفاء غرضیکہ سب کچھ اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اگر جادو کے اثرات مستقل ہوتے تو یقینا آج اس دنیا پر جادوگروں کا قبضہ ہوتا اور وہ اپنی روزی روٹی کیلئے یوں لوگوں کو بے وقوف بنا کر ان کی جیبیں صاف نا کرتے اگر جادو ہی سب کچھ ہے تو جادوگر گھر بیٹھے آرام سے دنیا کی ہر نعمت حاصل کرے اور جسے چاہے مار دے اور جس کی چاہے روزی بند کر دے مگر ایسا ہر گز نہیں
جادو کے اثرات یقینا ہوتے ہیں خود ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی جادو ہوا تھا جو کہ لبید بن اعصم نامی یہودی نے کیا تھا اس جادو کی بدولت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بھول جاتے تھے کہ فلاں کام آپ نے کیا ہے مگر وہ کام آپ نے نہیں کیا ہوتا تھا
صحیح بخاری حدیث 3175
مگر پھر اللہ رب العزت کی طرف سے دو فرشتے نازل ہوئے اور آپ پر دم کیا گیا اور آپ کو اللہ نے شفاء عطا فرمائی
درج بالا حدیث سے ثابت ہوا کہ جادو کے اثرات ضرور ہوتے ہیں مگر جادو ہمیشہ نہیں رہتا بلکہ قرآنی آیات اور اذکار مسنونہ کے دم کرنے سے جادو ختم ہو جاتا ہے مگر جادو کرنے کروانے والا لبید بن اعصم یہودی کا پیروکار ہے
جادو کرنے اور جادو کروانے والے کی اسلام نے خوب نفی کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تباہ کرنے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچو اور جادو کرانے سے بچو صحیح بخاری 5764 ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں جائینگے 1 شراب پینے والا 2 قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے والا 3 جادوگر کی باتوں پر یقین کرنے والا مسند احمد جلد 4 صفحہ 399
جہاں جادو کرنے کی ممانعت ہے وہاں جادو کروانے والے کو بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے اور ایسے لوگ جنت کے بلکل بھی حقدار نہیں حالانکہ ہمارے معاشرے میں آج جگہ جگہ عاملوں ،بابوں،اور کاہنوں کے اڈے سرعام کھلے ہوئے ہیں اور لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر حسد کرکے ایک دوسرے پر جادو ٹونا کروا رہے ہیں اور یوں ان جادوگروں کی روٹی قائم ہے جادو کرنے کروانے والا تو جہنمی ہے ہی مگر انجانے میں ہم بھی کالے جادو کی توڑ کیلئے انہی بابوں،عاملوں اور کاہنوں کا سہارا لے کر اس عظیم جرم میں شریک ہو رہے ہیں واضع رہے کہ نبی ذیشان پر جادو ہوا تو انہیں مسنون اذکار اور آیات کے ذریعے دم کیا گیا تھا ناکہ جادو کا مقابلہ جادو سے کیا گیا تھا ہم سمجھتے ہیں کہ جادو کو جادوگر ہی ختم کر سکتا ہے یہ بات صریحا غلط ہے اور ایسا کرنے سے ہم بھی جادو کروانے والوں میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے ، موسی نے کہا کہ تم حق کو یہ کہتے ہو جبکہ تمہارے پاس آ چکا ہے؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پاتے۔ سورت یونس آیت 77
جادو چاہے خود کیا جائے یا کروایا جائے یا پھر جادو کی کاٹ کیلئے جادوگر کا سہارا لیا جائے یہ سب عمل بد ہے کیونکہ ابن عباس رصی اللہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے علم نجوم کیا تو اس نے جادو کا ایک حصہ حاصل کر لیا وہ نجومی کاہن ہے اور کاہن جادوگر ہے اور جادو گر کافر ہے لم اجدہ،رواہ رزین
فرمان نبوی سے ثابت ہوا کہ جادوگر کافر ہے چاہے کوئی اپنی روزی روٹی کیلئے جادو کرے یا کسی سے حسد و بغض پر جادو کرے کروائے یا پھر جادو کی کاٹ کیلئے جادوگر کا سہارا لیا جائے سب کا شمار جادو کرنے والوں میں ہوگا لہذہ اس لعنت سے توبہ کرکے جادو کی کاٹ کیلئے اذکار مسنونہ و آیات قرآن حکیم سے جادو و سحر کا علاج کیجئے اور اپنی دنیا و آخرت خراب ہونے سے بچائیں
خصوصی طور پر معوذ تین ،آیت الکرسی اور سورت بقرہ کی آخری دو آیات خود زبانی یاد کیجئے اور پڑھ کر اپنے و سحر زدہ مریض پر دم کریں نہار منہ 7 عجوہ کجھور کھانے سے بھی جادو کا اثر ختم ہوتا ہے
اللہ تعالی ہمیں قرآن و حدیث پر عمل کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں جادو کا شکار ہونے ،جادو کرنے اور جادوگر کا سہارا لینے سے بچائے رکھے آمین

Sunday, 16 February 2020

ہمت و جرآت کا پیکر سید علی شاہ گیلانی



تحریر *غنی محمود قصوری*
ہمت و جرآت کا پیکر سید علی شاہ گیلانی مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوا اس 90 سالہ بزرگ کا بچپن ،جوانی اور اب بڑھاپا بھی ہندو کے ظلم و جبر میں گزرا اور اب بھی اتنی بزرگی میں ہونے کے باوجود اپنی ہی وادی کشمیر جنت نظیر میں اپنے ہے گھر میں ہندو کی نظر بندی میں زندگی بسر کر رہے ہیں
5 اگست 2019 کو انڈیا کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کے بعد پوری حریت قیادت کی طرح سید علی گیلانی صاحب بھی اپنے گھر سوپور میں نظر بند ہیں مسلسل 7 ماہ سے زائد کی نظر بندی کی بدولت ان کی صحت انتہائی متاثر ہوئی ہے جس سے ان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن بن جانے سے انہیں تکلیف کا سامنا ہے سید صاحب کی صحت انتہائی تشویشناک ہے جس پر پوری کشمیری قوم کیساتھ پوری پاکستانی قوم بھی ان کی صحت و تندرستی کیلئے دعا گو ہے
سید علی گیلانی صاحب الحاق پاکستان کے حامی ہیں ان کا موقف ہے کہ انڈیا کی فوجوں کے خلاف پاکستان اپنی فوجیں مقبوضہ وادی کشمیر میں داخل کرے اور انڈیا کی طرف سے اقوام متحدہ کی نا مانی جانے والی قرار دادوں پر طاقت کے بل بوتے پر عمل درآمد کروا کر تنازعہ کشمیر کو حل کروایا جائے
سید علی گیلانی صاحب کی 90 سالہ عمر کا زیادہ حصہ انڈین جیلوں اور نظر بندیوں میں گزرا ہے
جب انڈیا نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے مقبوضہ وادی کا لاک ڈاءون کرنے کیساتھ انٹرنیٹ و موبائل سروس بند کرکے کرفیو لگایا تھا اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا تب گیلانی صاحب نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے نام خط لکھا تھا کہ کشمیر کیلئے تب کچھ کرو گے جب ہم مٹ جائینگے
سید صاحب نے شروع سے ہی اس نظریے کے حامی ہیں کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراد دادوں کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے اور اپنی فوجیں کشمیر سے نکال کر کشمیریوں کو ان کا حق استصواب رائے دے جس کی بدولت سید صاحب کو ہمیشہ سے پابندیوں اور جیلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے حالانکہ سید صاحب 90 سال سے زائد العمر ایک معمر اور ضعیف شحض ہیں مگر پھر بھی ان کی ایک آواز پر ان کی تحریک حریت و آل پارٹیز حریت کانفرنس کے علاوہ پوری وادی جموں و کشمیر کے لوگ سر پر کفن باندھ کر لبیک کہتے ہیں جس کے خوف سے انڈیا نے اس عظیم حریت لیڈر کو نظر بند کیا ہوا ہے جو کہ انٹرنیشنل لاء کے سخت خلاف ہے مگر افسوس کے انڈیا کو کوئی پوچھنے والا نہیں مگر اب پوری دنیا کو سید علی گیلانی صاحب کے موقف کا احساس ہو چکا ہے کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے استعمال کے بغیر حل نہیں ہو گا جس کی تازہ مثال 5 اگست 2019 سے اب تک پوری وادی کشمیر کا لاک ڈاءون، انٹرنیٹ و موبائل سروس کی بندش کے علاوہ سخت ترین کرفیو میں مظلوم کشمیریوں کی انڈین قابض فوج کے ہاتھوں شہادتیں و کشمیری ماءوں،بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دریوں پر پوری دنیا کے دباؤ پر بھی انڈیا کا کان نا دھرنا اور کشمیریوں کے مصائب میں مذید اضافہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ بموقف عظیم کشمیری حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی کشمیر بزور شمشیر ہی آزاد ہوگا
دعا ہے کہ اللہ تعالی اس عظیم حریت قائد سید علی گیلانی صاحب کو صحت و ایمان والی لمبی زندگی عطا فرما کر انہیں طلوع آزادی کشمیر دیکھنا نصیب فرمائے آمین

Tuesday, 11 February 2020

14 فروری ویلنٹائن ڈے یا یوم یکجہتی فلسطین

تحریر *غنی محمود قصوری*
ہر 14 فروری کو دنیا بھر میں کفار کا ایک تہوار ویلنٹائن ڈے جسے Saint Valentine's Day بھی کہا جاتا ہمارے اس ارض پاک پر بھی منایا جاتا ہے
اس دن شادی شدہ و غیر شادی شدہ بے راہ روی کا شکار جوڑے ایک دوسرے کو پھول دے کر اظہار محبت کرتے ہیں اسی لئے اسے Lover,s Festival بھی کہتے ہیں
اس دن کے حوالے سے کوئی مستند روایات موجود نہیں کہا جاتا ہے کہ 1700 میں روم میں ایک سینٹ ویلنٹائن نامی راہب تھا جسے ایک (Nun) نن نامی راہبہ سے عشق ہو گیا مسیحیت میں کسی راہب یا راہبہ کا نکاح و جنسی تعلقات سخت ممنوع ہیں مگر عشق و محبت کے مارے راہب سینٹ ویلنٹائن نے نن راہبہ سے جنسی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی جسے راہبہ نے ٹھکرا دیا سو افسانوی کہانی سناتے ہوئے سینٹ ویلنٹائن نے نن سے کہا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ اگر ہم 14 فروری کو جنسی تعلقات قائم کرلیں تو کوئی گناہ نہیں ہوگا جسے نن نے مان لیا اور یوں دونوں مذہب کے رکھوالے مذہب کی عہد شکنی کرگئے جس کا علم کلیسا کو ہو گیا
چونکہ یہ واقعہ کلیسا کی روایات کے سخت خلاف تھا اس لئے انہیں فوری قتل کر دیا گیا اور یوں ان دین سے بیزاروں خود ساختہ عاشقوں کی کہانی اس وقت کے جوان بے راہ روی پر مبنی جوڑوں تک پہنچی تو انہوں نے اس پریم کہانی کو زندہ کرنے کیلئے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منانا شروع کر دیا حالانکہ خود مسیحیت میں بھی اس دن کو برا سمجھا جاتا ہے مگر پھر بھی ہمارے ملک میں اسے بڑے جوش و جذے کیساتھ منایا جاتا ہے مگر میرے آقا علیہ السلام نے کفار کی مشہابت کی سخت مخالفت کی ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔صحیح بخاری 3329
حدیث کی رو سے کفار کی مشہابت اختیار کرنے والے کا دین اسلام اور جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں
اب آتے ہیں اس بے ہودہ دن ویلنٹائن ڈے کو یوم یکجہتی فلسطین میں بدلنے پر تاکہ ہمارے مسلمان اس بے ہودہ دن کو بھول کر اپنے قبلہ اول کی آزادی کی خاطر کھڑے ہو سکیں اور جان سکیں کے مسئلہ فلسطین آخر ہے کیا
لبنان اور مصر کے درمیانی علاقے کو فلسطین کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں تعمیر ہونے والی مسجد بیت المقدس بھی اسی علاقے فلسطین میں ہے مکہ مکرمہ سے پہلے یہی مسلمانوں کا قبلہ اول تھا اور مسلمان اسی کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے
عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش اور تبلیغ کا مرکز بھی یہی فلسطین ہے مکہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریبا 1300 کلومیٹر ہے
1948 سے پہلے تک فلسطین ایک آزاد خودمختار مسلم ریاست تھی اور اس کا دارالحکومت بیت المقدس تھا
1947 میں عیسائی برطانیہ نے مسئلہ فلسطین کو الجھائے رکھا اور یہودیوں کو فنڈنگ کرکے انہیں مضبوط کیا اور یوں یہودی فلسطینی علاقوں پر قابض ہوتے چلے گئے مکار یہودیوں نے 14 اور 15 مئی 1948 کی درمیانی شب تل ابیب میں اسرائیلی ریاست کا اعلان کر دیا جس پر عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہو گئے
اقوام متحدہ میں کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین بھی آج دن تک جو کا تو ہے 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روس و امریکہ کی فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کو دو تہائی اکثریت سے قرار داد نمبر 181 کے تحت منظور کر لیا جسے عربوں نے سخت نامنظور کیا جس کے نتیجے میں بعد میں عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلح تصادم جنگوں میں بدل گئے تھے
1967 میں ظالم یہودی نے اپنی غلام و لونڈی سلامتی کونسل کے غیر جانبدارانہ رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیت المقدس پر بھی قبضہ کر لیا
کافروں کی لونڈی سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ فلسطین میں بھی اپنا کوئی کردار ادا نا کر سکی اور 29 نومبر 1977 کو کو عالمی یوم یکجہتی فلسطین منطور کرلیا کہ بس مسلمانوں تم محض ایک دن منا لیا کرو اور آہستہ آہستہ فلسطین اپنے قبلہ اول کو بھول جاءو
بیت المقدس عیسائیوں ،یہودیوں اور مسلمانوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس حدیث سے لگاتے ہیں

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت رو رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! دجال کا فتنہ یاد آنے پر رو رہی ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میری زندگی میں دجال آ گیا تو میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہاری طرف سے کافی ہوں گا اور اگر وہ میرے بعد نمودار ہوا تو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا اور یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ اصبہان کے یہودیوں میں ظاہر ہوگااور مدینہ منورہ کی طرف آ کر اس کے ایک کنارے پر اترے گا، ان دنوں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اس کی حفاظت کے لیے ہر دروازے پر دو دو فرشتے مامور ہوں گے، مدینہ منورہ کے بد ترین لوگ نکل کر اس کے ساتھ جا ملیں گے، پھر وہ شام میں فلسطین شہر کے بَابِ لُدّ کے پاس جائے گا، اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کر دیں گے، اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک عادل اور مصنف حکمران کی حیثیت سے چالیس برس گزاریں گے۔ مسند احمد 13015
اس حدیث سے ثابت ہوا دجال یہودیوں میں ظاہر ہو گا اور اس وقت یہودی اسرائیل یعنی سابقہ فلسطینی علاقوں میں رہ رہے ہیں اور مسیحیت کے پیشوا جناب عیسی علیہ السلام بھی شام و فلسطین کے علاقے لد میں آسمان سے نازل ہونگے اور یہی پر مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن دجال کا خاتمہ ہو گا ان شاءاللہ اس لئے یہودی و عیسائی ہر حال میں فلسطین پر قابض رہنا چاہتے ہیں جو کہ ناممکن ہے فلسطینی مجاہدین و عوام 7 دہائیوں سے یہودیوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے اور ان کا ہر محاذ پر مردانہ وار مقابلہ کیا جا رہا ہے لہذہ ہمارا بھی مسلمان ہونے کی حیثیت سے حق بنتا ہے کہ ہم بھی جاری تحریک آزادی قبلہ اول میں اپنا کردار ادا کریں
تو میرے عظیم پاکستانی بہن بھائیوں کافر کے ویلنٹائن ڈے کا بائیکاٹ کرکے اپنے قبل اول کی آزادی کی خاطر فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے اس 14 فروری کو بطور یوم یکجہتی فلسطین منائیں

Monday, 10 February 2020

حقوق العباد اور راستوں میں ہمارا کردار



تحریر *غنی محمود قصوری*
کسی بھی مہذب قوم و ملک،خاندان و برادری اور گھر و افراد کا اندازہ اس کے بولنے چالنے،کھانے پینے،اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے سے ہوتا ہے ایک مکمل زندگی کو اچھے طریقے سے گزارنے کیلئے ہر ملک و قوم نے اپنے اپنے قوانین و حقوق بنائے ہیں اور کوئی قوم کس قدر مہذب ہے ان کے بنائے گئے قوانین و حقوق پر عمل پیرا ہونے سے ہی ان کے مہذب ہونے کا پتہ چلتا ہے
دنیا میں ہر ملک و قوم نے اپنے اپنے قوانین و حقوق بنائے ہیں جن کی خلاف ورزی کرنے پر سزا و جرمانے بھی مقرر ہیں
ہم بفضل تعالی مسلمان ہیں اور ہمارے دین محمدیہ میں انسانوں کے علاوہ پرندوں،چرندوں حتی کہ درندوں تک کے حقوق و قوانین بنائے گئے ہیں جس سے اسلام کی حقانیت اور حقوق العباد کی پاسداری کا پتہ چلتا ہے
ہم روزانہ حقوق العباد کی پامالی کرتے ہیں مگر ہم حقوق العباد میں سب سے زیادہ پامالی راستوں کے حقوق کی کرتے ہیں اور ایسا کرنا ایک فیشن بن چکا ہے ہم ہر روز اپنی گلی محلوں اور بازار میں رکاوٹیں ڈال کر لوگوں کو پریشان کرتے ہیں کبھی یہ رکاوٹیں عارضی ہوتی ہیں اور کبھی مستقل مثلا ہم اپنے گھروں کے باہر سیڑھیوں کے سٹیپ اتنے آگے تک لیجاتے ہیں کہ ہر گزرنے والے کو ذہنی پریشانی اور بعض مرتبہ ان چیزوں سے ٹکڑا کر گر جانے سے جسمانی پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے
ایسے ہی عارضی رکاوٹ کے طور پر ہم اپنی بائیک و گاڑی چلتے بازار کے اندر ایسے کھڑی کر دیتے ہیں جس سے دونوں سمت سے پیدل و سواریوں پر گزرنے والے افراد کو ذہنی پریشانی اور اگر کوئی ہماری کھڑی کی ہوئی سواری سے ٹکڑا جائے تو ذہنی کیساتھ جسمانی پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ شریعت محمدیہ کے سخت خلاف ہے مذید یہاں تک ہی نہیں اگر کوئی ہماری اس غلطی پر ہمیں سمجھائے تو بجائے سمجھنے کے ہم اس کو گالی گلوچ کیساتھ مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے حالانکہ راستوں پر ہر کسی کا مشترکہ حق ہے مگر ہم اپنی ضد، انا و تکبر میں اپنا اکیلے کا حق سمجھتے ہوئے ہزاروں راہگیروں کو ان کے حق سے محروم رکھتے ہیں راستوں کی کیا حرمت ہے اس کے متعلق نبی آخر الزمان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ کی ایک حدیث ملاحظہ کیجئے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم تو وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں ہم باتیں کرتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہاں بیٹھنے کی مجبوری ہی ہے تو راستے کا حق بھی ادا کرو۔ صحابہ نے پوچھا اور راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاء دینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔ صحیح بخاری 1880
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ کسی کو ایذا دینا پریشان کرنا گناہ ہے مگر افسوس کہ یہ گناہ ہم ہر روز سرعام کرتے ہیں اور بجائے نادم ہونے کے اپنی انا و ضد میں آئین پاکستان کے مطابق و اسلام کے مطابق بنائے گئے قوانین و حقوق کو محض اپنے تکبر کی خاطر پامال کرتے ہیں اور تکبر کے بارے کیا وعید ہے جانتے ہیں اس حدیث میں
حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہے ، آگ میں داخل نہ ہو گا اور کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہے ، جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘ صحیح مسلم 265
قارئین کرام ان دونوں احادیث کو ذہن میں رکھ کر اور اللہ سے ڈر کر عہد کیجئے ہم چلتے بازار میں اپنی سواری کھڑی کرکے اپنے مسلمان بھائیوں کو ذہنی و جسمانی ایذا نہیں پہنچائے گے
ہم اپنے گھروں بلڈنگوں کو راستوں میں شامل کرکے لوگوں کو مستقل ذہنی و جسمانی ایذا نہیں دینگے اور ہم اپنے کھیتوں سے ملحقہ راستوں کو اپنے کھیتوں میں شامل کرکے اور راستے کو تنگ کرکے اپنے مسلمان بھائیوں کو مستقل ذہنی و جسمانی ایذا نہیں دینگے تاکہ ہماری دنیا کیساتھ ہماری آخرت بھی سنور جائے اور دنیا کو پتہ چلے کہ ہم ایک مہذب قوم ہیں

Tuesday, 4 February 2020

5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد


تحریر *غنی محمود قصوری*
ہر سال کی طرح اس سال بھی 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منایا جا رہا ہے مگر ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ جو دن ہم منا رہے ہیں اس کا مقصد کیا ہے اور تاریخ میں اس کی کیا اہمیت ہے
ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ تقریبا 84000 مربع میل ہے جس میں سے 70 فیصد پر انڈیا 1947 سے قابض ہے جبکہ باقی 30 فیصد کا علاقہ ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے اس وقت ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی 1 کروڑ سے زیادہ ہے
80 لاکھ سے زاہد باشندے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندو کی غلامی و ظلم و جبر کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 25 لاکھ کے قریب ریاست آزاد جموں و کشمیر کے آزاد و خودمختار شہری ہیں
1846 میں مسلمانوں کے دشمن انگریز پلید نے ریاست جموں و کشمیر کو غدار ڈوگرہ راجہ غلام سندھ کو اس وقت کے 75 ہزار کے عیوض بیچ دیا تھا پھر تقسیم ہند کے بعد جبکہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو دیئے جائینگے مگر 26 اکتوبر 1947 کو اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمان جموں و کشمیر اور معائدہ تقسیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف الحاق بھارت کا اعلان کیا جسے غیور کشمیریوں نے ناقبول کیا مسلمانان جموں و کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کے خلاف سیخ پا ہو گئے کیونکہ وہ شروع سے ہی نعرہ لگاتے آئے تھے کشمیر بنے گا پاکستان اور قیام پاکستان کیلئے غیور کشمیریوں نے بے شمار قربانیاں بھی دیں جو کہ تاریخ میں سنہری حروف کیساتھ رقم ہیں
مسلمانان مقبوضہ جموں و کشمیر کا مہاراجہ کے فیصلے کے خلاف غصہ بڑھتا گیا اور انہوں نے فیصلے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مظاہرے کئے اور اپنی آزادی کیلئے پاکستان کے مسلمانوں کو پکارا اور یوں پاکستان و ہندوستان کے مابین پہلی جنگ قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی لڑی گئی اکتوبر 1947 سے 1 جنوری 1949 تک کی اس جنگ میں بھارت کو پاکستانی قبائلیوں اور فوج کے علاوہ غیور کشمیریوں سے منہ کی کھانی پڑنی اور اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا قیام عمل میں آیا آج جس کا دارالحکومت مظفر آباد ہے جہاں اس کی اپنی آزاد سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہے ان کا اپنا علیحدہ صدر و وزیراعظم ہے
عنقریب تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے شروع ہونے والی یہ جنگ پورے بھارت کو اپنی لپٹ میں لے لیتی اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل میں جاکر منت سماجت کی کہ جنگ بندی کروائی جائے کیونکہ نہرو جان چکا تھا کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے قیام کے بعد اب یہ جنگ نہیں رکنے والی اور یہ جنگ پوری مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کروا کے بھارت تک پہنچ جائے گی اسی لئے نہرو سلامتی کونسل پہنچا جس کے باعث سلامتی کونسل میں بیٹھے انسان نما جانوروں سے ساز باز کرکے جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا اور اس کیساتھ نہرو و سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا کہ ریفرنڈم کروایا جائیگا جس میں مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو حق دیا جائے گا کہ وہ انتخاب کر سکیں کہ انہوں نے الحاق ہندوستان کرنا ہے یا پاکستان یا کہ آزاد خود مختار کشمیر
اب تک مقبوضہ کشمیر کو عالمی متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے کل 18 قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں جن میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے اور سلامتی کونسل و بھارت کے وعدے کیمطابق ریفرنڈم کروانے کا کہا جا چکا ہے تاکہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کا انتخاب کر سکیں مگر ہر بار بھارت انکاری رہا مگر افسوس کہ سلامتی کونسل و عالمی برادری اب تک کچھ بھی نہیں کر پائیں
سلامتی کونسل و بھارت کو اس کا کیا گیا وعدہ یاد کرواتے ہوئے 5 فروری کو پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق رائے شماری دے مگر بھارت و تمام عالم کفر جانتا ہے کہ 1947 سے اب تک سخت بھارتی پہرے و ظلم و جبر میں رہتے ہوئے کشمیری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ اور اسی نعرے پر عمل پیرا ہو کر کشمیری اب تک 1 لاکھ سے زائد شہادتیں ہزاروں ماءوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری ہونے کے باوجود اسی نعرے پر قائم ہیں
ویسے تو ہر وقت پاکستانی پرچم مقبوضہ وادی کشمیر کے گلی محلوں و گھروں میں لہراتا ہے مگر 5 فروری کو بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور انڈین فوج کی ایک سپیشل ونگ ان پرچموں کو اتارتی ہے مگر کشمیری پھر اس سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہیں
جہاں 5 فروری کو کشمیری غیور مسلمان بھارت و سلامتی کونسل کی وعدہ خلافی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کرتے ہیں وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ سلامتی کونسل و بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی صدا سنواتے ہیں اور دنیا کو باور کرواتے ہیں کہ کشمیریوں کا نعرہ تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ کے تحت ہم یک دل یک جان ہیں اور جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرنے گا وہاں پاکستانیوں کا خون گرے گا
#قصوریات