Friday, 11 September 2020

زنا کے بڑھتے واقعات کے قصور وار ہم خود بھی ہیں ،، از قلم،،،،،،،،،، غنی محمود قصوری


 پچھلے چند سالوں سے ارض پاک میں زنا کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں ہر روز نئے سے نیا واقعہ سامنے آتا ہے دل اکتا گیا ہے ان واقعات کو سن سن کر اور اپنے مسلمان ہونے پر افسوس ہوتا ہے کہ ہم کس قدر گر گئے کہ اپنی عزت پر آنچ آنے پر قتل تک کرنے سے گریز نہیں کرتے جبکہ کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالتے وقت ہمارا ضمیر مر جاتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں شاید اس کا حساب نہیں ہو گا حالانکہ اللہ تعالی نے ہمارے مسلمان بھائیوں کی جان و مال ،عزت و آبرو ناجائز طریقے سے ہم پر حرام کر دی ہے آخر زنا کے واقعات کیوں بڑھ گئے ہیں اس کیلئے جائزہ لیتے ہیں

اس وقت پاکستان کی کل آبادی تقریباً 21 کروڑ کے لگ بھگ ہے تعداد کے لحاظ سے مردوں اور عورتوں کے تناسب میں تھوڑا ہی فرق ہے مردوں کی تعداد عورتوں سے 51 لاکھ زیادہ ہے اس کے علاوہ خواجہ سراؤں کی کل تعداد 10420 ہے

یونیسف کی رپورٹ کے مطابق اس وقت مطلقہ و بیوہ عورتوں کی تعداد 60 لاکھ ہے جن کی عمریں  30 سے 45 سال تک ہیں یعنی وہ عین شادی کے قابل ہیں مذید 10 لاکھ عورتیں شادی کے انتظار میں بالوں میں چاندی لئے بیٹھی ہیں جن کی عمریں 35 سال تک ہیں یوں وہ کنواری ہو کر  رسم و رواج ،ذات پات اور دیگر رسم و رواج کی بھینٹ چڑھی بیٹھی ہیں 

1 کروڑ لڑکیاں ایسی ہیں جن کی عمر 20 سال سے اوپر اور 35 سال سے کم ہیں اور ان کی ابھی شادی ہونی ہے اور ان کی شادیوں میں بڑی رکاوٹ رسم و رواج ہیں جن کے لئے پیسے ہونا لازم ہے 

یوں کل ملا کے 1 کروڑ 70 لاکھ عورتیں اور لڑکیاں ایسی ہیں جن کی شادی کی عمر ہے مگر رسم و رواج ،ذات برادری اور سٹیٹس ان کی شادی کی راہ میں رکاوٹ ہیں 

نکاح ایک ایسا فریضہ ہے جو کہ ہر مرد وعورت ،کنوارے،بیوہ،رندوے اور مطلقہ پر فرض ہے کیونکہ فرمان نبوی ہے 

النکاح من سنتی

نکاح میری سنت ہے 

ایک اور جگہ فرمایا

من رغب سنتی فلیس منا 

جس نے میری سنت (نکاح) سے منہ موڑا وہ ہم میں سے نہیں

ایک اور جگہ فرمایا 

یا معشر الشباب تزواجوا

اے نوجوانوں کی جماعت شادی کر لو 

مذید فرمایا کہ نکاح نصف ایمان ہے 

اور مردوں کیلئے کہا کہ نکاح کرو ایک ایک سے ،دو دو سے ،تین تین سے اور چار چار سے مگر انصاف کیساتھ 

اللہ رب العزت نے انسان کو بنایا اور اس کی خواہشات کے مطابق اسے رعایت بھی دی اسی لئے عورت کو ایک وقت میں ایک مرد سے جبکہ ایک مرد کو بیک وقت چار عورتوں سے شادی کی اجازت دی مذید عورت کو راضی نا ہونے کی صورت میں خلع کا بھی اختیار دیا گیا ہے 

بچے بچیوں کے نکاح میں انتہائی جلدی کرنی چائیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکی کو پہلا حیض ماں باپ کے گھر آئے تو دوسرا سسرال میں آئے یعنی بلوغت آتے ہی نکاح کر دیا جائے اور یہی شرط لڑکے کیلئے ہے جس کا خالصتاً مقصد زنا جیسی لعنت سے بچنا ہے

یعنی نکاح کی اتنی اہمیت ہے کہ قرآن نے جتنا کھل کر میاں بیوی کے مسائل کو بیان کیا اتنا اور کسی مسئلے کو بیان نہیں  فرمایا  گیا 

کیونکہ نکاح نا ہونے سے معاشرے میں فسق و فجور بڑھتا ہے اور بے شرمی و بے حیائی جنم لیتی ہے اسی لئے اللہ تعالی نے سوری بنی اسرائیل میں فرمایا 

لا تقربوا الزنی

خبردار زنا کے قریب بھی مت جانا 

یہ واحد عمل ہے جس کے متعلق اللہ نے بڑی سختی سے کہا کہ اس کے قریب بھی نا جانا یعنی کوئی بھی ایسا عمل نا کرنا کہ تجھ سے زنا سر زد ہو جائے کیونکہ زنا سے معاشرے کا سکون برباد ہو جاتا ہے امن و امان ختم ہو جاتا ہے اور روئے زمین پر فساد برپاء ہونے کیساتھ بے شرمی و بے حیائی جنم لیتی ہے اس کے برعکس ہر کام کے متلعق اللہ تعالی نے فرمایا کہ اسے کر نا بیٹھنا یا اس بچ جانا وغیرہ مگر زنا کے متعلق اتنی سخت بات کہی کے کوئی بھی عمل ایسا نا کرنا کے تم زنا کے قریب بھی جاؤ 

 زنا سے بچنے کا واحد ذریعہ نکاح  ہے اور کوئی دوسرا ذریعہ ہے ہی نہیں 

ہماری زندگی اسوہ محمد کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی محتاج ہے نبی کریم کا پہلا نکاح حضرت خدیجہ طاہرہ سے 40 اور بعض روایات کے مطابق 45 سال کی عمر میں ہوا جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 25 سال تھی حضرت خدیجہ ایک بیوہ عورت تھیں جنہوں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام نکاح بھیجا جسے نبی کریم نے اپنے چچا کیساتھ مشورے کے بعد قبول کر لیا 

جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ کا نکاح آپ سے 6 سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی 10 سال کی عمر میں ہوئی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک اس وقت تقریبا 49 سال 7 ماہ تھی 

اگر ہم مطالعہ سیرت نبوی کریں تو ماسوائے حضرت عائشہ صدیقہ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام زوجات اور ہماری امہات المؤمنین مطلقہ یا بیوہ تھیں اس لحاظ سے سنت پر عمل کرتے ہوئے بیوہ و مطلقہ سے نکاح عین حلال اور سنت نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہے 

آج ان بیوہ مطلقہ عورتوں کے نکاح کو ہمارے معاشرے میں انتہائی معیوب سمجھتا جاتا ہے جو کہ سنت نبوی کے بلکل برعکس ہے جیسے بھوکے کو بھوک پیاس لگتی ہے ایسے ہر مرد و عورت چاہے وہ شادی شدہ ہے یاں غیر شادی شدہ ،رندوا،بیوہ ہے یا مطلقہ اسے بھی جنسی خواہش ہوتی ہے جو کہ فطرت انسانی ہے اس کا حل صرف نکاح ہے بغیر نکاح کے زنا ہے، اور زنا کرنے والا اللہ کا تقرب نہیں پا سکتا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ جوان مرد،عورت بہت پسند ہے جو زنا سے بچنے کے لیے نکاح کرے

مگر افسوس کے آج ہمارے رسم و رواج ،ذات برادری کی قید،حسب نسب نے ہمیں نکاح کی بجائے زنا پر لگا دیا ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور آئے روز جنسی زیادتی کے واقعات جنم لے رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ صرف  نکاح سے دوری اور مردوں میں دوسرے ،تیسرے اور چوتھے نکاح کو معیوب سمجھا  جانا  ہے  اکثر مرد دوسری شادی کی خواہش رکھتے اور وہ کسی بیوہ،مطلقہ کا سہارا بننا چاہتے ہیں تو کہیں پہلی بیوی تو کہیں معاشرہ آڑے آ جاتا ہے اور بندہ زنا کی طرف مائل ہوتا ہے 

ہر انسان کی خواہشات  ہوتی ہیں اور ان خواہشات کو اللہ تعالی خوب جانتا ہے مرد کی خواہشاتِ عورتوں سے جنسی لحاظ سے زیادہ ہیں اسی لئے ان کو چار شادیوں کی اجازت دی گئی ہے مگر شرط انصاف کی رکھی گئی ہے بصورت دیگر ٹھکانہ جہنم ہے اب یہ مرد پر ہے کہ وہ انصاف کر سکتا ہے تو نکاح کرے بصورت دیگر صبر اور صبر کرنے والوں کیلئے اللہ نے جنت تیار کر رکھی ہے مگر ایک نکاح ہر حال میں لازم ہے 

بی بی خدیجہ طاہرہ کا نبی کریم کو پیغام نکاح بیجھنا عورت کے حقوق کو بلند کرتا ہے کہ عورت اپنی پسند کے مرد سے نکاح کر سکتی ہے جائز شرائط اور حدود اللہ میں رہ کر مگر افسوس آج بیوہ ،مطلقہ عورتوں کو سب سے زیادہ پریشانی نکاح کرنے میں ہے اگر وہ حلال کام کر گزریں تو ہمارا معاشرہ ان کو طعنے دے دے کر زندہ درگور کر چھوڑتا ہے حالانکہ بیوہ سے نکاح کرکے میرے نبی نے سنت بنائی جس پر عمل کرنا ہم پر لازم ہے تاکہ ہم کنواری لڑکیوں سے نکاح کیساتھ بیوہ،مطلقہ کا بھی سہارہ بنیں کیونکہ مرد ہی عورت کا سہارا اور تحفظ ہوتا ہے بھائی تحفظ تو دے سکتے ہیں مگر عورت کی جنسی خواہشات منکوحہ مرد ہی پوری کر سکتا ہے اس لئے اسلام نے بیوہ و مطلقہ عورتوں کو کنواری عورتوں سے بڑھ کر حقوق دیئے ہیں تاکہ وہ بھی پوری شان و شوکت سے زندگی گزار سکیں

مگر آج دیکھا جائے تو زنا انتہائی سستا اور آسان ہے ہر شہر میں آپ کو زنا کرنے کے لئے ہر رنگ،عمر کی عورت میسر ہو گی جن کی نا کوئی عمر پوچھتا ہے نا کوئی ذات پات اور نا ہی مرد کی سالانہ و ماہانہ انکم  بس چند روپے دیئے اور زنا کر لیا 

اور ان سارے واقعات کے ذمہ دار ہم خود ہیں ہماری زندگی محتاج ہے سیرت نبوی کی اور ہمارا ہر عمل بتائے گئے طریقے پر ہو گا بصورت دیگر مصائب ہمارا مقدر ہونگے اور آج اسلام سے ہٹ کر اغیار کے طرز زندگی کو اپنا کر ہم پریشان ہیں اور ہمارے معاشرے کا امن و سکون تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے جس امن میں بدلنے کیلئے ہمیں اسوہ رسول پر عمل پیرا ہو کر رسم و رواج کو ختم کرکے آسان نکاح کا طریقہ اپنانا ہو گا مگر آج لڑکے لڑکیاں کہیں روزی روٹی کا بہانہ بناتے ہیں ت کہیں کم آمدن کا حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب کسی دوسری گھر میں  کوئی فرد جاتا ہے تو اپنی قسمت کا رزق لے کر جاتا ہے مگر ہم نے دوسری شادی کیلئے مرد کی انکم کو بہانہ بنا لیا اور اسے زنا کی طرف مائل ہونے پر مجبور کر دیا

جان لیجئے دوسری،تیسری یاں چوتھی بیوی کے ہوتے ہوئے کوئی بھی مرد کسی غیر عورت سے ہر گز تعلقات نہیں رکھ سکتا کیونکہ رب تعالی مرد کی فطرت جانتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وہ کتنی عورتوں کی طرف راغب رہ سکتا ہے 

اور آج اسی بد عمل زنا کی بدولت جسمانی و روحانی بیماریاں جنم لے رہی ہے جس سے چہروں کا نور ختم اور  جوانیاں برباد ہو رہی ہیں

 اگر کوئی مرد دوسری شادی کرنا چاہے تو اسے سو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی صورتحال بیوہ و مطلقہ عورتوں کیساتھ ہے 

اس کیساتھ آج جہیز کی لعنت نے نکاح کو مذید مشکل ترین کر کے رکھ دیا ہے جس کے باعث لاکھوں عورتیں اپنی جنسی خواہشات کو دبا کر بیٹھی ہوئی ہیں جس کا کل روز قیامت ہمیں اللہ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا کیونکہ میرے رب نے تو کوئی رسم و رواج کی قید نہیں رکھی یہ سب رسم و رواج ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہیں جس کے باعث نکاح جیسا عظیم فریضہ مشکل ہو گیا اور زنا جیسا قبیح فعل عام ہو گیا آخر اس جرم کے ذمہ دار ہم بھی تو ہیں کیونکہ ہم نے دین کی بجائے دنیاوی رسم و رواج اور لوگوں کی باتوں کو ترجیح دی تو پھر جان لیجئے یہ رسم رواج تو میرے نبی و اصحاب کے دور میں بھی تھے مگر انہوں نے ان کا رد کیا اور سرخرو ہوئے تو آئیے ان رسم و رواج کا رد کرکے  کرکے نکاح کریں تاکہ ہم معاشرے کو فسق و فجور اور بے راہ روی سے بچا سکیں

اللہ ہم سب کیلئے آسانیاں فرمائے

Saturday, 5 September 2020

یوم دفاع پاکستان اور موجود وقت کا تقاضہ ازقلم،،،،،، غنی محمود قصوری


 ہمارے مشرق میں دنیا کا سب سے بڑا مشرک،ڈرامے باز اور بزدل ہمارا دشمن بھارت ہے جو کہ اپنی ڈرامے گیری میں بہت ہی مشہور ہے مگر اپنی اسی ڈرامے گیری کی بدولت اسے دنیا میں کئی بار حزیمت اٹھانی پڑی مگر وہ کمال کا بے شرم بھی ہے 

بالی وڈ کی تاریخ کافی پرانی ہے اور اس کا آغاز قیام پاکستان سے ہی ہو گیا تھا جب ہندو پلید نے 1947،48 میں پاکستان کے خلاف ڈرامے گیری شروع کی اور منہ کی کھانی پڑی اور بالآخر مجبور ہو کر پنڈت جواہر لال نہرو سلامتی کونسل میں بھاگم بھاگ گیا کے جنگ بندی کروائی جائے دنیا میں ہماری بہت لعن طعن ہو رہی ہے 

انہی ڈراموں اور فلموں کے ہیرو اور حقیقتاً بزدل ،زیرو ہندوستان نے ایک بار پھر فلم سین اور ڈرامہ بازی سمجھ کر 6 ستمبر 1965 کو پاکستان پر رات کی تاریکی میں حملہ کر دیا اور وہ سمجھا کہ اپنے طے شدہ ڈرامے پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے وہ اپنی فوجیں با آسانی لاہور داخل کرلے گا اور صبح کا ناشتہ لاہور کرے گا اور لاہور جم خانہ میں شراب کی محفل رچائے گا مگر  اسے اپنے ڈرامے کو حقیقت کا رنگ دینے کے لئے  اپنے فوجیوں کو ورغلانا پڑا  جو کہ بیچارے 47،48 کی مار سے پریشان تھے سو شش و پنج میں انہوں نے ڈرامے کو حقیقت مان کر حملہ تو کر لیا مگر جواب میں بیچارے ذلیل و رسوا ہو گئے 

6 ستمبر کی رات دشمن کے حملے  کے بعد فیلڈ مارشل ایوب خان نے پاکستانی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ،پاکستانیوں اٹھو اور لا الہ الااللہ کا ورد کرتے ہوئے دشمن کو سبق سکھا دو یہ الفاظ افواج پاکستان کیساتھ عوام پاکستان کے لئے انتہائی اہم اور ایمان کا حصہ تھے سو افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ عوام پاکستان نے بھی دشمن کو تاریخ ساز سبق سکھایا اور اس 17 روزہ جنگ میں پہلے 24 گھنٹوں میں ہی دشمن کے دانت کھٹے ہو چکے تھے اسی لئے ہر سال 6 ستمبر کو یوم دفاع پاکستان منایا جاتا ہے 

اس جنگ میں دشمن کو منہ کی کھانی پڑی اور چونڈہ کے مقام پر اس کے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا گیا جبکہ پاک فضائیہ کے شیر دل شاہین ایم ایم عالم نے ایسا معرکہ رقم کیا کہ دنیا ورطہ حیرت میں رہ گئی 

ایم ایم عالم نے ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں دشمن کے 5 طیارے گرا کر فضائیہ کی دنیا میں وہ ریکارڈ قائم کیا کہ جو کہ تاحال وہ ریکارڈ ابھی بھی اسی آن بان سے قائم ہے جبکہ فضائیہ کے ماہرین اسے ایک معجزہ قرار دیتے ہیں 

 اس جنگ میں دشمن کو بے پناہ وسائل،انٹرنیشل ایڈ ہونے کے ساتھ بھی بہت زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا

اس جنگ میں دشمن کے 56 سو جوان و افسران ،2 سو سے اوپر ٹینک اور 76 طیارے تباہ ہوئے جس پر حواس باختہ ہو کر دشمن  کو اپنے آقا سلامتی کونسل سے مدد مانگنی پڑی اور بالآخر سلامتی کونسل کے کہنے پر 23 ستمبر کو جنگ بندی کا اعلان ہوا 

اس جنگ کی بڑی وجہ آپریشن جبرالٹر تھا جس کی وجہ مقبوضہ کشمیر میں انڈین جارحیت کو روکنا مقصود تھا 

کیونکہ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں

اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلوہلکے ہو یا بوجھل اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو،یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔

اسی آیت پر عمل پیرا ہو کر افواج پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ دشمن کا جذبہ ایمانی سے مقابلہ کیا 

مگر ابھی وقت پھر اسی بات کا دوبارہ تقاضہ کر رہا ہے کیونکہ گزشتہ سال 5 اگست سے کشمیریوں پر ہندو ظالم نے عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے اور کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور اس قبضے کو حقیقی رنگ دینے کیلئے ہندو پنڈتوں کو مقبوضہ وادی میں بسانے کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے

چونکہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اس لئے وقت ایک بار پھر تقاضہ کر رہا ہے کہ اپنی شہہ رگ پر قابض ہندو بنئے کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے کیونکہ ہم نے 73 سالوں میں کئی قرار دادیں پاس کروا لیں ہزاروں بار منت سماجت کر لی مگر بے سود جبکہ اس کے برعکس اکتوبر  1947 سے جنوری 1948 تک دشمن کو پاک فوج اور عوام پاکستان نے دوران جنگ اس کی مند پسند زبان میں جواب دیا تھا جس کی بدولت موجودہ آزاد کشمیر آزاد ہوا تھا سو اگر حکمران چاہتے ہیں کہ کشمیر آزاد ہو تو اس راستہ جنگ کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں کیونکہ ہم نے ہر راستہ آزما لیا ہے اور دشمن کسی دوسرے راستے کو ماننے کو تیار نہیں 

تو موجودہ حکمرانوں جرآت پیدا کرو اپنے اندر فیلڈ مارشل ایوب خان کی سی اور عوام پاکستان تم بھی اپنے اسلاف کی تاریخ دھرانے کو تیار ہو جاؤ اور کشمیری قوم کیساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ہندو ظالموں کو اپنی شہہ رگ سے بھگا دو

اسی لئے تو شاعر نے کہا تھا 

پھر قافلے ترتیب دو 

پھر تھام لو شمشیر کو 

اسلاف کے وارث ہو تم

دھراؤ پھر تاریخ