Tuesday, 15 November 2022

ارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں ازقلم غنی محمود قصوری

 




 بڑے دنوں بعد میرے بچپن کے ایک دوست کی کال آئی مجھے اس کی کال آنے کی بہت

بہت خوشی ہوئی کیونکہ وہ ایک انتہائی نفیس اور درد دل رکھنے والا شحض ہے

سلام دعا کے بعد دریافتگی حال احوال  کہنے لگا یار

نئی نسل تو بلکل برباد ہو رہی ہے

کوئی حالات ہی نہیں رہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے پتہ نہیں کیا ہو گا 

میں نے پوچھا کیسے اور کیا ہوا ہے ؟

کہنے لگا ہر چوک چوراہے میں مانگنے والی عورتیں موجود ہیں جو لوگوں سے پیسے مانگتی ہیں اور ساتھ موقع ملنے پہ نوجوانوں کی ہوس کی تسکین بھی بنتی ہیں


میں نے اس کی بات سنتے ہی کہا ارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں ہماری ہی کمیوں کوتاہیوں کے باعث وہ عورتیں آج سڑک پہ ہیں


وہ تعجب سے کہنے لگا یار ہمارا کیا قصور؟

میں نے کہا جناب ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں اور ہمیں اپنی مرضی کا رخ ہی نظر آتا ہے


میں اسے بتانے لگا کہ مجھے معلوم ہے ان عورتوں میں بہت سی جوان خوبرو دوشیزائیں بھی ہیں اور بوڑھی بھی

 کچھ تو انتہائی کھاتے پیتے گھرانے کی بھی لگتی ہیں

مجھے یہ بھی معلوم ہیں کہ ان میں بیشتر مجبور عورتیں ہیں تو کچھ شارٹ کٹ مالی حصول کی خاطر بغیر محنت کئے بھیک مانگنے والیاں بھی

مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ان میں سے چند ایک اپنے حسن و جمال کو ڈھال بنا کر جسم فروشی کرتی ہونگی 

مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ان کے باقاعدہ گینگ ہونگے اور ضلعی و تحصیل انتظامیہ سے اوپر تک ان کی پہنچ ہو گی

سب باتیں درست ہیں مگر کیا ہم نے کبھی ان سے ان کے دکھ درد جانے؟

کیا ہم نے کبھی کوئی کوشش کی ان کی داستان سننے کی کہ بی بی،بہن،محترمہ آپ کو کیا مسئلہ ہے ؟

گھر میں کوئی کمانے والا مرد نہیں یا پھر مالی حالات زیادہ برے ہوگئے کہ آپ کو اپنا گھر چھوڑ کر سڑک پہ آنا پڑا؟

مختلف سوالات ہیں جن کے جوابات بھی مختلف ہونگے


میں دوبارہ اس سے گویا ہوا کہ یار دیکھو جس طرح یہ کئی طرز کی ہیں اسی طرح ہم بھی کئی طرز کے ہیں

کچھ ہم میں سے کھاتے پیتے گھرانوں سے ہیں تو گزر بسر واجبی والے ہیں

کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ ایسا تو نہیں کہ ان میں سے وہ عورتیں بھی ہو کہ جو رسم و رواج اور جہیز کی بھینٹ چڑھنے کے باعث بالوں میں چاندی لئے پھرتی سڑک پہ آ گئی ہو؟

کیا ایسا نہیں کہ بڑی بہن کی شادی ذات،پات،رسم و رواج کے باعث نا ہو سکی اور اس نے اسی دکھ میں خودکشی کر لی اب بوڑھے ماں باپ کا سہارا بننے کی خاطر یہ سڑک پہ ہے ؟

ہو سکتا ہے ان کا باپ،بھائی کماتا تو ہو مگر شدید مہنگائی کے باعث ان کے گھر کا گزارہ نا ہوتا ہو اور اسی محلے کے لوگ ان کو ایک کماؤ گھرانے سے جان کر اپنے صدقے خیرات محلے سے باہر کسی اور کو دینے لگ گئے ہو حالانکہ اسلام نے سب سے پہلا حق اپنوں و محلہ داروں کا رکھا ہے

یہ بھی ہو سکتا ہے کسی دل پھینک عاشق نے سبز باغ دکھائے ہو اور وہ نکاح کی خاطر اس کیساتھ بھاگ کھڑی ہوئی ہو اور اس کی ہوس کی تسکین بن کر اب ٹشو پیپر کی طرح ناکارہ ہو گئی ہے اور گھر واپس اس لئے نہیں جا رہی کہ اب اس کے ورثاء اسے قتل کر دیں گے

کہیں ایسا تو نہیں کسی سنگدل باپ نے اس کی ماں کو بیٹا پیدا نا کرنے پہ چھوڑ دیا ہو اور اب یہ اپنی بوڑھی بے سہارہ ماں کی سانسوں کو بحال رکھنے کی خاطر بھیک مانگ رہی ہو کیونکہ اکثر و بیشتر مردوں کو ہی محنت مشقت کے کاموں پہ رکھا جاتا ہے تاکہ اجرت کے باعث کام پورا ملے

خیر اور بھی بہت سی باتیں ہوئیں تو ہم دونوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر یہ عورتیں آج سڑک پہ بھیک مانگنے کیساتھ خدانخواستہ کسی کی جنسی ہوس کا نشانہ پیسوں کے عیوض  بن رہی ہیں تو واللہ ہم بھی مجرم ہیں

ہمیں چائیے اپنے صدقے خیرات دیتے وقت ان کمزور گھرانوں کو دیکھیں کیونکہ جس طرح مسجد میں سیمنٹ کی بوری دینا ثواب ہے بلکل اسی طرح بھوکے کو کھانا کھلانا اس کی ضروریات زندگی پوری کرنا بھی ثواب ہے 


ہم رشتہ طے کرتے وقت اگر جہیز کو بائیکاٹ کریں اور خوبصورتی کی بجائے خوب سیرتی ،مال کی بجائے اعمال کو ترجیح دیں تو اللہ گواہ کتنے ہی غریب گھرانوں کی سڑک پہ مانگتی عفت مآب عورتیں آج اپنے گھروں میں ہوتیں

بسا اوقات ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ جی یہ تو صحت مند ہیں کما سکتی ہیں ان کو خیرات کیوں دیں؟ تو ارشاد باری تعالی بھی سن لیں


انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے ، تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا

سورة البقرة 272



اس آیت کی رو سے ہم صدقہ دیں ساتھ ان کو دعوت دیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کریں کہ ان کی بحالی کے زیادہ سے زیادہ مراکز بنائے جائیں جہاں ان کو حق حلال کمانے کی ٹریننگ دے کر ہنر مند بنایا جائے تو ان شاءاللہ کبھی نا کبھی یہ سڑکوں کی بجائے ایک کماؤ فرد بن کر ملک و ملت کا بوجھ بانٹ لیں گیں

Wednesday, 2 November 2022

ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم ازقلم غنی محمود قصوری




غالباً 31 اکتوبر 2018 کا دن تھا اور میرا فیملی ٹور تھا سوات کیلئے

ہم دو سگے بھائی اور دو کزن گاڑی میں بیٹھے اور انتہائی مشکلات کیساتھ  لاہور ٹھوکر نیاز بیگ انٹرچینج پہ پہنچے کیونکہ ہمارے نکلنے سے تھوڑی دیر پہلے ہی ایک مذہبی سیاسی جماعت کی طرف سے احتجاج شروع ہو چکا تھا جو کہ دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر چکا اور جلاؤ گھیراؤ تک بات پہنچ چکی تھی

قصور سے ٹھوکر نیاز بیگ پہنچنے تک محض چار پولیس ناکے تھے مگر آج وہ پولیس ناکے تو نا تھے مگر کم و بیش 47 رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا راستہ گلیوں بازاروں کے بیچ سے طے کیا اور محض 50 منٹ کا راستہ 5 گھنٹوں میں طے ہوا 
خیال یہی تھا کہ موٹر وے محفوظ ترین ٹریک ہے وہ بند نا ہوا ہو گا مگر جب انٹرچینج پہ پہنچے تو صورتحال انتہائی گھمبیر اور پریشان کن تھی
جلاؤ گھیراؤ جاری تھا اور آوازیں سنائی دے رہی تھیں

مسافر گاڑیوں میں ڈرے سہمے بیٹھے تھے کیونکہ پیچھے کی جانب جانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا کیونکہ شہر لاہور کی قسمت کہ زیادہ تر جلاو گھیراؤ یہی سے شروع ہوتا ہے
یعنی ہمارے گلے میں وہ ہڈی پھنس چکی تھی جسے نا تو نگل سکتے تھے نا ہی اگل
رات 8 بجے موٹر وے پہ پہنچے تو موٹر وے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا جس سے کچھ تحفظ کا احساس ہوا
میں اپنی گاڑی سے نکل کر موٹر وے  پولیس کی گاڑی کے پاس پہنچا جہاں وائرلیس سیٹ پہ ہوئی گفتگو سے صورتحال کا اندازہ ہو رہا تھا جس سے پریشانی بڑھتی ہی جا رہی تھی
خیر اب تو سوائے صبر کے کچھ نا ہو سکتا تھا

رات تقریباً ایک بجے کے قریب پولیس وائرلیس سیٹ سے آواز سنی کہ
22 ونگ رینجرز از موونگ ٹورڈ بابو صابو انٹرچینج  

یعنی رینجر کی 22 ونگ صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے موٹر وے پہ پہنچ رہی ہے یہ الفاظ سن کے دل کو قرار آیا کہ چلو اب بات بنے گی
خیر صبح فجر سے کچھ دیر پہلے رینجرز نے کنٹرول کرکے موٹر وے پولیس کو منتقل کیا تو موٹر وے پولیس نے سفر کی اجازت دی 

ہم جب بابو صابو انٹرچینج پہ پہنچے تو کلیجہ منہ کو آ گیا مسافر گاڑیوں،بسوں کو آگ لگی ہوئی تھی اور گاڑیاں چیخ چیخ کہ بتا رہی تھیں کہ ان پہ خوب زور آزمائی ہوئی ہے
موٹر وے پہ ایک جانب  مظاہرین کا ساؤنڈ سسٹم بمعہ چنگچی رکشہ اور موٹر سائیکلیں  بکھری ہوئی پڑی تھیں اور سڑک کے ایک جانب بہت سارے جوتے بھی جو کہ غالباً رینجرز کے پہنچنے پہ مظاہرین چھوڑ بھاگے تھے
ہم نے رک کر ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو پنجاب پولیس نے بڑی سختی سے آگے بڑھنے کو کہا 
گجرانوالہ،و چکری انٹر چینج پہ بھی جلتی گاڑیاں بتا رہی تھیں کہ ان پہ خوب غصہ نکلا ہے 
ہم نے برق رفتاری سے اپنا سفر جاری کیا اور مردان سے انٹرچینج لیا کیونکہ اس وقت سوات تک موٹر وے ابھی زیر تعمیر تھی
مردان شہر میں داخل ہوئے تو سارا شہر بند تھا مجبوراً گاڑی تخت بھائی شہر میں لے گئے جہاں تخت بھائی کے مین بازار کو بند کیا گیا تھا مجبوراً واپس مڑے اور تخت بھائی کے کھیتوں کھلیانوں سے سفر کرتے ہوئے مینگورہ ( سوات) شہر پہنچے اور ہلکی پھلکی کشیدگی کی بو پا کر گاڑی کالام کی جانب موڑ لی مگر زیادہ دیر ہونے کے باعث وادی بحرین میں قیام کیا صبح سویرے کالام کیلئے روانہ ہوئے کیونکہ
سوات میں برف باری شروع ہو چکی تھی اور کالام کا ٹمپریچر منفی 3 تک گر چکا تھا 
تقریباً 40 کلومیٹر کی چڑھائی والا سفر طے کرکے ہم کالام پہنچے اور ہوٹل لے کر کالام ہوٹل کے ٹیرس پہ باربی کیو شروع کیا تاکہ تھکاوٹ بھی دور ہو اور گرمائش بھی ملے
  
میں نے ساتھیوں سے کہ کہا کہ نماز عشاء پڑھ لوں اور پھر آکر کر کھانا کھاؤں گا  
میں ہوٹل سے نکل کر کالام میں واقع کئی دہائیوں سال پہلے بنی تاریخی لکڑی سے بنی مسجد میں میں نماز پڑھنے چلا گیا جہاں مولانا سمیع الحق کی شہادت کی اطلاع ملی
مولانا صاحب کی شہادت کی خبر سن کر آنکھیں نمک ناک ہوئیں اور مجھے 2016 میں اسلام آباد کے  ایک جلسے میں ان سے ہاتھ ملانے کا منظر یاد آ گیا
میں نے بڑے پیار سے مولانا صاحب کی جانب ہاتھ بڑھایا تو مولانا صاحب نے بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیا تھا اور بلکل بھی احساس نا ہونے دیا کہ وہ ایک بہت بڑے عالم دین و سیاست دان ہیں

پورا صوبہ خیبرپختونخوا خاص کر مینگورہ سوات مکتبہ دیوبند کا گڑھ ہے سو مولانا سمیع الحق کی شہادت پہ یہ گمان ہوا کہ اب یہاں بھی حالات کشیدہ ہونگے مگر بفضل ربی کوئی واقعہ پیش نا آیا
مولانا کی شہادت پہ میں سوچنے پہ مجبور ہو گیا کہ ان کی شہادت سے قبل معروف سیاستدان و سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی وفات پہ پاکستان کا برا حال کیا گیا تھا اور اب کی بار اگر مولانا سمیع الحق کی جگہ کوئی معروف سیاستدان ہوتا تو یقیناً ان کی وفات پہ بہت بڑا ہنگامہ کھڑا کیا جاتا کیونکہ ہمارے ہاں یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ اپنے لیڈر کی ایک کال پہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاتی ہے اور اگر کوئی پارٹی کارکن حکم ربی سے طبعی موت بھی مر جائے تو اس پہ سیاست کرتے ہوئے ملک کے امن و امان کو برباد کرکے عوام کا نقصان کیا جاتا ہے 
ماضی قریب و موجودہ ہنگاموں کو دیکھتے ہوئے میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا ہے اور مذہبی منافرت نے کم 
مولانا سمیع الحق رحمتہ اللہ کی چوتھی برسی پہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے آمین