یہ دہشت گردی دوبارہ کیسے آئی ازقلم غنی محمود قصوری
جہاں انصاف نہیں ہوتا وہاں جرم بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اسی لئے اسلام میں انصاف پہ بہت زیادہ زور دیا گیا ہے
ہر بار کی طرح اس بار بھی ایک ہڈ بیتی بیان کرنے لگا ہوں اور اسے پہلے یہ رقم کرتا ہوں کہ جھوٹ بولنے،لکھنے والے پہ رب کی لعنت کیونکہ جھوٹ پھیلانے والا درحقیقت اپنی جھوٹی بات سے فتنہ فساد پھیلاتا ہے اور سورہ آل عمران میں اللہ تعالی فتنہ باز کو قتل سے بڑا مجرم قرار دیتے ہیں
صوبہ خیبرپختونواہ کے علاقے سوات میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری تھا جہاں میرا ایک دوست بطور میجر اس آپریشن میں شامل تھا
سوات اور قرب و جوار کا علاقہ میں اپنا ذاتی طور پہ خوب دیکھا بھالا ہے
وہ میجر بتلاتا ہے کہ ہمیں مخبری ہوئی کہ فلاں نامی ٹاپ کمانڈر اپنے گھر پہ موجود ہے سو ہم نے کوئیک رسپانس کرتے ہوئے اس کے گھر پہ انٹیلیجنس بیس ریڈ کیا اور اس دہشت گرد تخریب کار کے ٹخنے میں گولی مار کر اسکو زخمی کیا
واضع رہے کہ خودکش حملہ آور جو بارودی مواد سے بنی جیکٹ پہنے ہوتے ہیں اس کو پھاڑنے کے لئے پارے سے بنے ڈیٹونیٹر استعمال کئے جاتے ہیں جو کہ بغلوں میں لگائے گئے ہوتے ہیں تاکہ دونوں ہاتھ مخصوص حد تک اوپر اٹھاتے ہی ڈیٹونیٹرز اپنا کام کریں اور دھماکہ ہو جائے
اس لئے سیکیورٹی فورسز ایسے خود کش حملہ آور کی ٹانگ میں گولی مارتے ہیں تاکہ مارے درد کے مطلوبہ بندہ نیچے کو جھکے اور چاہتے ہوئے بھی دونوں ہاتھ اوپر نا لیجا سکے
میجر صاحب بتلاتے ہیں اس خودکش بمبار کو بڑے پیشہ ورانہ طریقے سے ہٹ کیا گیا تاکہ گولی اس کی ٹانگ میں ہی لگے بصورت دیگر گولی اس کے بارودی مواد کو لگنے سے بڑا شدید دھماکہ ہونے کا خدشہ تھا
دہشت گرد کو قابو کرکے اس کی خودکش جیکٹ کو غیر فعال کیا گیا اور اس کی زخمی ٹانگ پہ پٹی کی گئی کیونکہ گرفتار دہشت گرد کو گرفتار کرکے تفتیش کے بعد سول گورنمنٹ کے حوالے کیا جانا لازم ہوتا ہے جو کہ سزا کے لئے ملزم کو عدالت میں پیش کرتی ہے
میجر صاحب کہتے ہیں کہ میرے دل میں خیال آیا کہ چاہے یہ بندہ سماج دشمن اور تخریب کار خارجی ہی ہے مگر یہ انسان ہے سو میں نے اپنے جوانوں کو حکم دیا کہ اس کے گھر جو کہ کچا بنا تھا اور بلکل چھوٹا سا تھا،کی تلاشی لے کر اس کی بیوی اور بچوں کو پندراں منٹ تک کمرے میں باتیں کرنے کا موقع دیا جائے کیونکہ ہم نے تفتیش کے بعد اس کو کورٹ میں پیش کرنا ہے اور اس دہشت گرفتاری کی لمبی سزا لازم ہے
میجر صاحب بتلاتے ہیں ہم نے مقررہ ٹائم کے بعد اس سے تفتیش کرکے اسے سول گورنمنٹ کے حوالے کرکے کورٹ میں پیش کیا اور میں اپنی ڈیوٹی میں دوبارہ مگن ہو گیا
میجر صاحب قسم کھا کر بتلانے لگے کے تقریباً تین ماہ بعد وہی ٹاپ کمانڈر جسے ہم نے عدالت میں پیش کیا تھا دوبارہ ہتھیار بند ہو کر ایک جگہ ہمارے سامنے موجود تھا ہم بہت حیران ہوئے کہ خود اپنے سامنے اس کو عدالت میں پیش کیا تھا سارے شوائد پیش کئے تو اب یہ باہر کیوں؟
خیر میجر صاحب کہتے ہیں اب کی بار تہیہ کر لیا کہ اس کو زندہ پکڑنا بہت بڑی غلطی ہو گی سو ہم نے اس خارجی کو مردار کیا
جی قارئین یہ ایک سچی داستان ہے اور یہ کوئی پہلی داستان نہیں
خیبرپختونخوا کی عدالتوں نے ہزاروں دہشت گردوں کو رہا کیا جبکہ انہی عدالتوں میں آج بھی محب وطن عام غریب شہری انصاف کے حصول کی خاطر چکر کاٹ کاٹ کر تھک چکے ہیں
یہ وہی عدالتیں ہیں جو سیاستدانوں کو ریلیف دیتی ہیں چاہے ان پہ کھربوں روپیہ کی کرپشن ہو مگر دوسری طرف اس عدالت میں کوئی تھکا ہارا غریب پاؤں پہ پاؤں رکھ کر بیٹھ جائے تو اس کو توہین عدالت میں اندر کر دیا جاتا ہے
آپ ریسرچ کر لیں کہ وزیراعظم و صدر اور آرمی چیف سے زیادہ تنخواہیں لینے والی عدلیہ کے ججز بعد از ریٹائرمنٹ بھی سب سے زیادہ مراعات لیتے ہیں مگر دوسری جانب پاکستان کی سب سے بڑی عدالت انصاف سپریم کورٹ کا یہ حال ہے کہ برسوں سے اس عدالت میں 3 لاکھ 80 ہزار کیس زیر التواء ہیں جن کو دیکھنے سننے کا ٹائم جناب چیف جسٹس صاحب کے پاس نہیں جبکہ اس کے مدمقابل کسی اعلی سیاسی لیڈر بشمول نواز شریف،زرداری اور عمران خان کے یہ عدالت اور اس کے جج تڑپ کر رہ جاتے ہیں
واضع رہے سپریم کورٹ میں پہنچنے کے لئے مہنگے وکیل کرکے لاکھوں روپیہ لگتا ہے اس سے پہلے ہائیکورٹ و سیشن کورٹ سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے یعنی کہ پیسے والا ہی اس عدالت تک پہنچتا ہے غریب تو تھانے سے ہی بغیر رشوت دیئے مارا جاتا ہے
جب عدالتیں ہی سیاستدانوں کی راکھیل بنیں گیں تو پھر انصاف کہاں سے ہو گا اور دہشت گردی تو ہو گی ہی
2008 سے انتہائی کی دہشت گردی جو کہ پاکستانی عوام اور فورسز کے خون سے نا ہونے کے برابر رہ گئی تھی اس کو دوبارہ لانے میں ان عدالتوں کا بہت بڑا کردار ہے
معذرت یہ عدالتیں نہیں کرپشن کا گڑھ ہیں ان کی ریٹنگ ایسے ہی 140 پہ نہیں
.jpg)

