Wednesday, 17 November 2021

قمار بازی،بربادی معاشرہ ازقلم غنی محمود قصوری




جوے کو عربی زبان میں قمار اور انگلش میں Gambling کہتے ہیں

جوا ایک انتہائی غلط فعل ہے جس سے انسان کے اندر حرص و لالچ کو بڑھاوا ملتا ہے


جوے کا عادی شحض لالچ میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتا ہے اور اس کی غیرت مانند پڑ جاتی ہے کئی مرتبہ ایسی باتیں سامنے آئیں جس میں جوا باز نے اپنی عزت (بیوی) تک کو جوے میں ہارا 

جوا باز شحض کبھی بھی حالت سکون میں نہیں رہتا اور اسی بے چینی کے باعث و دیگر جرائم کا سہارا لیتا ہے تاکہ اپنے ہوئے خسارے کو پورا کرے مگر خسارا کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جاتا ہے

حرص کے مارے جواری اپنے بیوی بچوں کے لئے وبال جان ہوتے ہیں اور معاشرے کیلئے ناسور جس سے معاشرے کا امن و سکون برباد ہوتا ہے


اسلام کے ابتدائی ایام میں شراب کی طرح جوا بھی جائز تھا لیکن  جوے کو شراب کی طرح  حرام قرار دیے دیا گیا 

اللہ تعالی جوے بارے مخاطب فرماتے ہیں 


یسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیسِرِ قُلْ فِیهِمَا إِثْمٌ كَبِیرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا [البقرة: 219]


  لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں

 آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں (مگر) ان کا گناہ ان کے منافع سے بڑھا ہوا ہے


جوے کی ممانعت بارے اسلام میں بڑے سخت احکامات ہیں

اللہ تعالی فرماتے ہیں


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

(90) سورۃ المائدۃ:


‏ اے ایمان والو! شراب اور جُوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں

سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ


اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ

(91)


‏  شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جُوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہئے


جدید طریقے میں جوے کی طریقے بھی جدید ہو گئے ہیں جیسے مرغ بازی میں جوا،تاش کے پتوں پر جوا،گھڑ سواری پر جوا اور دیگر کئی قسمیں موجود ہیں جوے کیں 

مگر اس وقت زیادہ تر لوگ پرچی جوا کھیلتے ہیں جس میں کرکٹ میچ میں کسی ایک ہندسے پر رقم لگائی جاتی ہے 

جیسا کہ دو ملکوں کے مابین میچ ہو رہا ہو تو جواری کہتا ہے أخری ہندسہ صفر ہو گا اب چاہے وہ کل رنز 420 ہو یا 310,90 جو بھی ان کو غرض آخری ہندسہ سے ہی ہے 

اگر مطلوبہ ہندسہ آگیا تھا جواری کو ایک ہزار کا دس ہزار ملے گا اور اگر نا آیا تو اس کا لگایا ہوا ایک ہزار گیا 

یہ رقم کم یا زیادہ بھی ہوتی ہے 

یہ بہت تیزی سے پھیلنے والی جوے کی قسم ہے جس کیلئے محض ایک کاپی پنسل اور موبائل فون ہی کافی ہے

اس کاروبار کرنے والے کو بکئیا کہتے ہیں 

جوے کا یہ طریقہ پورے پاکستان میں پھیل چکا ہے اور بہت زیادہ تعداد میں چھوٹے کم عمر بچے بھی اس کے عادی ہو رہے ہیں 

اس کاروبار میں ملوث لوگوں کا کوئی ٹھکانہ بھی زیادہ تر نہیں ہوتا اکثر بیشتر ہوٹلوں میں بکئیے موجود ہوتے ہیں یا پھر زیادہ تر گھر بیٹھے فون پر ہی جواری کی لگائی گئی رقم اور ہندسہ لکھ لیتے ہیں اور اختتام میچ پر جواری کے حق میں آنے والے ہندسہ پر منافع دیا جاتا ہے بصورت دیگر جواری کی رقم ضائع اس لئے جواری حضرات لالچ میں بیک وقت کئے ہندسوں پر رقم لگاتے ہیں تاہم ہر صورت زیادہ سے زیادہ نفع میں بکئیہ ہی رہتا ہے 

پاکستان میں جوے کے خلاف کوئی خاص قانون موجود نہیں جس کے باعث یہ جرم باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے

جوے کی سزا پاکستانی قانون نا  ہونے کے برابر ہے مثال کے طور پر 

عوامی مقامات پر جوا کھیلنے والوں کو 500 روپیہ تک جرمانہ یا پھر  زیادہ سے زیادہ ایک سال قید، یا دونوں سزائیں بیک وقت جبکہ نجی اداروں جوے پر 1000 روپیہ جرمانہ اور دو سال تک قید کی سزا یا دونوں سزائیں بیک وقت ہو سکتی ہیں 

اسی کمزور سزاؤں کی بدولت جوا باز دھرلے سے جوا کھیلتے ہیں اور بااثر افراد اس کو کاروبار بنا رہے ہیں جوے کو روکنے کیلئے سخت قانون سازی کی جانی چائیے تاکہ اس ناسور سے نجات حاصل کی جا سکے

Monday, 8 November 2021

نظریہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا ازقلم غنی محمود قصوری






اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے خواب پاکستان دیکھا اور دو قومی نظریہ پیش کیا کیونکہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ مسلمانوں کی ہندوستان میں خطرناک صورتحال سے بخوبی آگاہ تھے


قائد اعظم محمد علی جناح کو اقبال نے کہا تھا کہ ایک ایسا ملک حاصل کیا جائےجہاں مسلمان بغیر کسی خوف و خطر اپنی عبادات کر سکیں اور ان کے جان و مال محفوظ ہو


دو قومی نظریہ کی پیش کی گئی کانفرنس سے پہلے ہی اقبال خالق حقیقی سے جا ملے تھے مگر قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کی ٹیم نے ولی کامل علامہ محمد اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور دو قومی نظریہ دنیا کے سامنے پیش کیا 

جس کی بنیاد پر ارض پاکستان حاصل کیا گیا

 

وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  مکہ سے نکل رہے تھے تو فرما رہے تھے


وَاللَّهِ، إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ.( رواہ الترمذی:3925 وصححہ الالبانی رحمہ اللہ تعالی )


اللہ کی قسم (اے مکہ) بے شک تو سب سے بہترین اللہ کی زمین  ہے اور اللہ کے ہاں سب سے محبوب ترین ہے اگر تیری قوم مجھے تجھ سے نہیں نکالتی میں کبھی نہیں نکلتا


چھوڑے گئے وطن کی یاد انسان کو فطری طور پر رلاتی رہتی ہے اسی لئے  حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ آئے تو اپنے اصلی وطن مکہ کو یاد کرتے اور اشعار پڑھتے تھے 


أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ


وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ


 اے کاش۔ کیا میں مکہ کی اذخر اور جلیل گھاس والی وادیوں میں رات گزارونگا ؟


کیا میں کسی دن مکہ میں موجود مجنہ پانیوں کے پاس جاسکوں گا؟ کیا میرے لیے دوبارہ مکہ کے شامہ اور طفیل پہاڑ جلوہ افروز ہونگے؟ (صحیح بخاری حدیث:3926 )وغیرہ۔


رسول اللہ ﷺ نے جب یہ باتیں سنیں تو فرمایا تھا


اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ


اے اللہ جس طرح ہماری ( اپنے وطن مکہ ) کے ساتھ محبت ہے اسی طرح ہماری دلوں میں مدینہ کی محبت کو بھی بٹھا دے

یقیناً ہمارے آباؤ اجداد بھی چھوڑے گئے وطن ہندوستان کو یاد کرکے غمگین ہوا کرتے تھے مگر ہجرت کرنا مجبوری تھی کیونکہ ہندوستان میں مسلمانوں کا جان و مال محفوظ نا تھا سو اسی لئے دو قومی نظریہ  ضروی تھا جس کیلئے ہجرت کرکے الگ وطن حاصل کرنا لازم تھا تاکہ مسلمان آزادی سے رہ کر زندگیاں گزاریں اور اپنے رب کی عبادت بلا روک ٹوک اور خوف و خطر کر سکیں 


نیز اس کے علاوہ دو قومی نظریہ کیوں ضروری تھا اس کیلئے تاریخ ہندوستان لازمی پڑھیں کہ کس قدر ہندوؤں نے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے اگر تاریخ نہیں پڑھ سکتے تو موجودہ دنوں میں ہی انڈین تری پورہ،حیدر آباد،گجرات و دیگر ہندوستانی علاقوں میں مسلمانوں پر ہندوؤں کی طرف سے کئے گئے مظالم ہی دیکھ لیجئے کہ ہر روز مسلمانوں کی مسجدوں پر حملے کئے جاتے ہیں اور مسلمانوں کو ناحق شہید کیا جاتا ہے اور ان کی املاک پر قبضہ کیا جاتا ہے ان کو گائے کا گوشت کھانے نہیں دیا جاتا اور ایک اچھوت قوم سمجھا جاتا ہے حالانکہ مسلمان دنیا کی سردار قوم ہے جس کی تاریخ فتوحات سے بھری پڑی ہے 


دو قومی نظریہ کیوں ضروری تھا اور پاکستانی اور ہندوستانی مسلمانوں میں کیا فرق ہے اس کی مثال راقم ذاتی طور پر بیان کرتا ہے


بطور جرنلسٹ راقم سے انڈین علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان جرنلسٹ نے واٹس ایپ پر رابطہ کیا

سلام دعا کے بعد سخت شکایت کی کہ آپ مقبوضہ کشمیر کے حامی اور سخت ہندوستان مخالف ہیں جو کہ اچھی بات نہیں ہم مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں لہذہ آپ ہندستان کے خلاف لکھنا چھوڑ دیجئے 


راقم نے برملا کہا کہ ہاں اس میں کوئی شک نہیں میں اس لئے ہندوستان مخالف ہوں کہ ہندوستان نے ریاست  کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا اور 75 سالوں سے مظلوم نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے 

نیز میں نے اپنے بچپن میں گجرات کا مسلم کش فساد بھی بذریعہ میڈیا دیکھا ہے جس میں ہزاروں مسلمانوں کو ہندو پلید نے آگ میں جلا دیا تھا اور  اب تک روزانہ کی بنیاد پر یہ سلسلہ جاری و ساری ہے مسلمانوں کی مسجدوں کو مندروں میں بدلا جا رہاہے اور تو اور تاریخی بابری مسجد کو شہید کیا گیا 

مسلمان عورتوں کی عزتیں محفوظ نہیں جس کا جب جی چاہتا ہے مسلمانوں کو سرعام قتل کر دیا جاتا ہے دنیا کونسا ایسا ظلم نہیں جو ہندوستانی مسلمانوں پر نہیں کیا جاتا ؟


اس پر انڈین صحافی صاحب لاجواب تو ہوئے اور کہنے لگے ارے صاحب ایسا کچھ بھی نہیں ہم بھی آزاد ہیں اپنے دھرم پر پورے اطمینان سے قائم ہیں اور اپنی عبادات بخوبی کرتے ہیں کوئی ہمیں روکتا نہیں 

 میں آپکو آج شام ایک مسلمانوں کا جلسہ دکھاؤنگا تب دیکھ لیجئے گا کسطرح مسلمان آزاد ہیں ہندوستان میں سو آپ مسلمانوں کو ہندوستان و پاکستان میں یکجا کیجئے نا کہ کشمیر کے نام پر مذید تقسیم کیجئے 


شام ہوئی حسب وعدہ صاحب نے واٹس ایپ  کال کی جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان جلسہ کر رہے تھے اور سارے کا سارا عنوان ہی وطن سے محبت اور عام واجبی سی رسومات کی فرضیت پر تھا  اور ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگائے جا رہے تھے مگر کشمیر و فلسطین،عراق و افغانستان کے مظلوم مسلمانوں کے وطنوں میں انہی پر قابضین کی کوئی مذمت تک نا تھی نا ہی لفظ جہاد و قتال اور مظلوم کی مدد کی حرمت تھی 


خیر میں نے کہا حضور وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے بشرطیکہ اس وطن میں آپ کو مذہبی آزادی حاصل ہو بصورت دیگر میرے نبی ذیشان نے مکہ چھوڑا اور ہجرت کرکے مدینہ سکونت اختیار کی جس کی احادیث اوپر بیان کی جا چکی ہیں اگر مکہ والے نبی ذیشان کو دکھ نا دیتے ،عبادات سے نا روکتے ،فرمان الہی کو مانتے تو میری نبی اپنا آبائی وطن مکہ کیوں چھوڑتے ؟سو دو قومی نظریہ اور ہجرت ہند ہمارے بڑوں کی ضرورت تھی اور یہی ضرروت اب آپکی بھی ہے  آپ غلام ہیں ہندو کے آپ پر ظلم ہوتا ہے مگر حیرت ہے غلامی کی حد کی کہ آپ پھر بھی مطمئن ہیں؟ حالانکہ میرے نبی نے غلامی کو سخت ناپسند کیا ہے میں نے انہیں بتایا کہ 

ہجرت کے بعد مدینہ میں میرے نبی ذیشان کا وقت گزرا دعوت پیش کی اور کفار کے خلاف خود و اپنے اصحاب کو مضبوط کرکے اپنا وطن مکہ واپس لیا 

سو آپ بھی مسلمان ہونے کے ناطے ہندو کے ظلم پر سیرت نبوی کا مظاہرہ کریں اور غلام بننے کی بجائے آزاد بنیں 


انڈین صحافی صاحب یہ بات بھی نا مانے اور ہندوستان کے گن گاتے رہے 


خیر میں ان کی اصلاح کی خاطر انہیں احادیث نبویہ پیش کرتا رہا مگر صاحب حیل و حجت سے کام لیتے رہے اور مسلمانوں و ہندوؤں کے اکھٹا رہنے کے فوائد پر روز بیان فرماتے اور مجھے کشمیر کاز سے منع کرتے رہتے


خیر وہ صاحب اپنے عقیدے پر قائم رہے اور ہم اپنے پر 


کچھ وقت گزرا راقم نے واٹس ایپ پر روٹین کے مطابق احادیث نبویہ و منہج سلف پر مبنی تحریریں سینڈ کی جس کا بہت دنوں تک نا کوئی جواب آیا اور نا ہی انہیں پڑھا گیا 

راقم شدید پریشان ہوا کہ زندگی موت اللہ کے اختیار میں ہے شاید ان سے زندگی نے وفا نا کی ہو یا اللہ نا کرکے کچھ اور معاملہ ہو گزرا ہو


خیر بیس سے بائیس دن بعد انہی صاحب نے خود ہی میسج کیا اور سوال جواب شروع کر دیئے میں نے ان کی خیریت دریافت کی اور غائب رہنے کا پوچھا تو گویا ہوئے کہ مجھے کس ضرروی کام کے سلسلے میں ممبئی جانا پڑا سو آپکا نمبر کانٹیکٹ لسٹ سے کاٹا اور واٹس ایپ کی بلاک لسٹ میں لگا دیا 


میں حیران ہوا بھئی کیا ہوا میں نے تو آپ کو سوائے حدیث نبویہ کے کوئی غلط بات ہی نہیں سینڈ کی  

صاحب گویا ہوئے کہ ممبئی میں ہندو انتہاہ پسند جماعتوں کا راج ہے وہ جب چائیں جس بھی مسلمان کو روکتے ہیں ان کا موبائل چیک کرتے ہیں اگر ہمارا کسی پاکستانی سے رابطہ ہو سوشل میڈیا پر تو ہماری جان کو خطرہ بن جاتا ہے


میں شدید ہنسا اور ان صاحب سے بولا جناب میں بھی اپنے وطن کا باشندہ ہوں اور آپ سے اپنے دشمن ملک کا باشندہ ہو کر آپ سے آزادنہ بات کرتا ہوں مجھے تو کسی کا ڈر نہیں 

تو پھر آپ خود کو کیسے آزاد مسلمان کہتے ہیں ؟

حالانکہ ہمارے ملک میں بھی ہندو ،سکھ،عیسائی و دیگر مذاھب کے لوگ بخوبی آزادانہ زندگیاں گزار رہے ہیں اور ہمارے ہاں بھی مذہبی جماعتیں ہیں مگر اس کے باوجود ایسا کبھی نہیں ہوا 

تو پھر آپ مان لیجئے آپ آزاد نہیں غلام ہیں


صاحب اتنی سی بات کا غصہ کر گئے اور مجھے بلاک کر گئے 

میں سوچنے لگا اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگا کہ نظریہ اقبال درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا 


اقبال رحمتہ اللہ علیہ تجھ پر اللہ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہو تم نے ہمارے بڑوں کو سیرت نبوی دکھا کر دو قومی نظریہ پیش کرکے وطن پاکستان دلوایا ورنہ آج ہم بھی ہندو کے غلام ہوتے

Tuesday, 2 November 2021

اہل تشیع مقتولین کے قاتلوں کا قتل معائدہ امن کی پاسداری ازقلم غنی محمود قصوری




قتل ناحق معاشرے میں بہت بڑا بگاڑ پیدا کرتا ہے ناحق قتل کی بدولت دشمنیاں جنم لیتی ہیں اور معاشرے کا امن و سکون برباد ہو جاتا ہے 

ایک انسان کی حرمت بارے اللہ تعالی فرماتے ہیں


(انسان کی) یہی (سرکشی) ہے جس کی وجہ سے ہم نے (موسیٰ کو شریعت دی تو اُس میں) بنی اسرائیل پر بھی فرض کر دیا کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا، اِس کے بغیر کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو تو اُ س نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔‘‘ (32:5)


یعنی جس انسان کا کوئی قصور ہی نہیں اس کے باوجود اسے ناحق قتل کیا جائے تو پھر قتل کرنے والے کا بدلے میں قتل کرنا لازم ہے تاکہ مقتولین کے ورثاء قلبی سکون حاصل کریں اور مذید قتل غارت گری نا ہوسکے 


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں مسلمانوں،انسانوں تو کجا جانوروں درندوں تک کے حقوق وضع کئے گئے ہیں تاکہ ہر کوئی امن و سکون سے رہ سکے اسی لئے جہاں مسلمانوں کے ناجائز قتل کی ممانعت ہے وہاں کافروں و جانوروں تک کے ناجائز قتل کی سخت وعید ہے 


نیز مسلمان کے  ناجائز قتل کی ممانعت کرتے اللہ تعالی ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں


اُس شخص کی سزا جہنم ہے جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے، وہ اُس میں ہمیشہ رہے گا، اُس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہے اور اُس کے لیے اُس نے ایک بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے (93:4)


ہمارے ہاں ایک رواج بن گیا ہے کہ بغیر قصور کے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے اور خاص کر کچھ خود ساختہ مذہبی و عسکری جماعتیں اس کام میں بہت آگے چلی گئی ہیں جیسا کہ انٹرنیشنل لیول کی خارجی جماعتیں داعش و القاعدہ


داعش نے ہمیشہ اسلامی ملکوں کا امن و سکون ہی برباد کیا ہے جہاں اس سے غیر مسلم غیر محفوظ ہیں وہیں مسلمان بھی ان سے غیر محفوظ ہیں

 

یہ لوگ دعوت نہیں دیتے بلکہ ڈائریکٹ قتل و غارت گری کرتے ہیں حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے دعوت دی مگر جب کفار نے معاہدوں کو توڑا یا مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کی تو ان سے جنگ کی بصورت دیگر ان کو تنگ نا کیا 


اسلامی تاریخ کو دیکھا جائے تو جان کے تحفظ میں ایک مسلم اور غیر مسلم دونوں ہی برابر ہیں دونوں کی جان کا یکساں تحفظ و احترام کیا جائے گا اسلامی ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی غیر مسلم رعایا کی جان کا تحفظ کرے اور انھیں ظلم و زیادتی سے محفوظ رکھے


 پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے


من قتل معاہدًا لم یرح رائحة الجنة، وان ریحہا لیوجد من مسیرة أربعین عامًا“ (بخاری شریف کتاب الجہاد، باب اثم من قتل معاہدًا بغیر جرمِ، ج:۱، ص: ۴۴۸)


جو کسی معاہد کو قتل کرے گا وہ جنت کی خوشبو تک کو نہیں پائے گا

جب کہ اس ( جنت) کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے بھی محسوس ہوتی ہے


حضرت عمر رضی اللہ نے اپنی آخری وصیت میں فرمایا تھا 


میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد و ذمہ کی وصیت کرتا ہوں کہ ذمیوں کے عہد کو وفا کیا جائے

 ان کی حفاظت و دفاع میں جنگ کی جائے

 اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے


چند دن قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں داعش نے ایک اہل تشیع مسجد پر حملہ کیا تھا جس میں کئی اہل تشیع جانبحق و زخمی ہوئے تھے داعش کا یہ عمل قطعاً غیر اسلامی و غیر انسانی  ہے کیونکہ افغانستان میں اہل تشیع اور افغان طالبان کے مابین امن معائدہ ہو چکا ہے 

راقم بخوبی جانتا ہے کہ اہل تشیع دنیا بھر میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی گستاخیاں کرتے ہیں جو کہ انتہائی غلط ترین فعل ہے اور ایک اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے ان کو سزائیں دی جائیں ناکہ ایک عام مسلمان کو حق حاصل ہے کہ ان کو قتل کرے کیونکہ ریاستی کام فردی ہونے سے بگاڑ بڑھتا ہے سنورتا نہیں

اگر حاکم وقت ناموس صحابہ بارے اپنا کردار ادا نہیں کرتے تو روز قیامت اللہ کے ہاں ان سے باز پرس ہو گی ہاں ایک عام مسلمان پر فرض ہے کہ توہین صحابہ کرنے والوں سے قطع تعلق کیا جائے 


 افغانستان میں جب سے طالبان گورنمنٹ بنی ہے تب سے اہل تشیع اور طالبان کے مابین یہی معائدہ طے پایا ہے کہ توہین صحابہ برداشت نہیں کی جائے گی اور اہل تشیع اس پر پورا بھی اتر رہے ہیں تو اب داعش کی جانب سے اہل تشیع پر حملہ کرنا امن معائدہ کی خلاف ورزی اور ملک میں فساد برپا کرنا ہے

حتیٰ کہ طالبان کی جانب سے اسلامی ریاست بنائے جانے پر بھی داعش کی جانب سے طالبان پر حملے کئے جا رہے ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ طالبان کو افغانستان میں حکومت نا کرنے دی جائے


افغان طالبان نے فوری ایکشن لیا اور داعش کے حملہ آوروں میں سے ایک کو گرفتار کیا اور اسے بلکل اسی طرح دھماکہ خیز مواد سے قتل کیا جیسے انہوں نے اہل تشیع کو قتل کیا تھا 

طالبان کا یہ فعل خالص ریاست اسلامی کی عکاسی کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ امن معائدہ کرکے مسلمان اس پر قائم رہتا ہے ہاں اگر معائدہ کو فریق دوئم ختم کرے گا تو پھر مسلمان پر لڑنے کا پورا حق ہے 

طالبان نے ویڈیو جاری کی ہے جس میں داعشی دہشت گرد کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے جانے کی ویڈیو جاری کی گئی ہے