سنت ابراہیمی کیلئے سیرت ابراہیمی لازم ہے ازقلم غنی محمود قصوری
پوری دنیا کے مسلمان ذی الحج کی 10 تاریخ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے جانور قربان کرتے ہیں کیونکہ اس کا حکم رب کریم نے دیا ہے
اللہ تعالی قرآن مجید میں اپنے حبیب جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرماتا ہے
قُلْ اِنَّ صَلَاتِىْ وَنُسُكِىْ وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِىْ لِلّـٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
کہہ دو کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے
سب سے پہلے قربانی کی شروعات حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد سے شروع ہوئی
جس کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ
اور (اے محمد!) ان کو آدمؑ کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی بارگاہ میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کرونگا تو اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے
(المائدۃ5:27)
اس سورت سے وضع ہوا کہ اللہ تعالی قربانی تقوی والوں اور پرہیز گاروں کی ہی قربانی قبول کرتا ہے بصورت دیگر قربانی ضائع ہوتی ہے اور بس دکھلاوہ ہی رہ جاتا ہے
اللہ تعالی ایک اور جگہ ارشاد فرما رہے ہیں
نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اُس نے ان کو تمہارے لیے اِس طرح مسخّر کیا ہے تاکہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو اور اے نبیؐ، بشارت دے دیجئے نیکو کار لوگوں کو
سورہ الحج
سنت ابراہیمی صرف جانور قربان کرنے کا ہی نام نہیں بلکہ ابراہیم علیہ السلام کی طرح حکم ربانی پر عمل کرتے ہوئے وقت کے فرعونوں سے ٹکڑا جانے کا نام ہے اس کے لئے ہمیں حلال حرام کی تمیز کرنی ہو گی جیسے لولا لنگڑا اندھا بیمار جانور اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں بلکل ویسے ہی حرام کی کمائی سے کی گئی قربانی بھی قابل قبول نہیں
درحقیقت قربانی کا جانور ذبح کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ناجائز خواہشات ،بری عادات، حسد و دیگر غلط حرکات ،عادات ،فخر ذاتیات، و انا پرستی
کو بھی قربان کرنے کا نام ہے
جس طرح قربانی کا جانور بے عیب ہونا چائیے بلکل ویسے ہی قربانی کرنے والے کو بھی بے عیب ہونا چائیے اور ابراہیم علیہ السلام کی طرح بتوں کو پاش پاش کرنے ،آگ میں کودنے اور ظالم و جابر وقت کے فرعون کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرات والا ہونا چائیے
قربانی کرکے خود سارا گوشت کھانے کی بجائے تین حصے کیجئے جیسا کہ حدیث کی رو سے تین حصے ثابت ہیں اول اپنا دوم رشتہ دار سوئم مساکین
قربانی کا گوشت تقیسم کرتے ہوئے حقداروں کو ان کا حق دیجئے کیونکہ اگر حقداروں تک ان کا گوشت نا پہنچا تو قربانی کا فائدہ نہیں
نماز عید کی ادائیگی کے بعد اپنے جانور خود اپنے ہاتھوں سے قربان کرنا زیادہ افضل ہے
جانور کو قبلہ رخ لٹا کر اچھی سی تیز کی ہوئی چھری سے ذبح کریں اور جانور کی جان نکلتے وقت اپنی جان نکلنے کا منظر یاد رکھئیے تاکہ ہم اس دنیا کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا ہی نا سمجھ سکیں
احادیث نبویہ سے قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کی مختلف دعائیں ملتی ہیں جن میں سے ایک معروف دعا یہ بھی ہے
بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَرُ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ اَللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ۔
اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرتا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے اور اے اللہ، یہ قربانی تیری توفیق سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے
اے اللہ میری طرف سے یہ قربانی قبول فرما لے
(صحیح مسلم)
اللہ تعالی ہماری قربانیاں قبول فرما کر ہمیں ابراہیم علیہ السلام کی طرح کلمہ حق کہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین



