Sunday, 18 July 2021

سنت ابراہیمی کیلئے سیرت ابراہیمی لازم ہے ازقلم غنی محمود قصوری




پوری دنیا کے مسلمان ذی الحج کی 10 تاریخ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے جانور قربان کرتے ہیں کیونکہ اس کا حکم رب کریم نے دیا ہے 


اللہ تعالی قرآن مجید میں اپنے حبیب جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرماتا ہے


قُلْ اِنَّ صَلَاتِىْ وَنُسُكِىْ وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِىْ لِلّـٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ 


کہہ دو کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے


سب سے پہلے قربانی کی شروعات حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد سے شروع ہوئی

جس کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ 


اور (اے محمد!) ان کو آدمؑ کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی بارگاہ میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کرونگا تو اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے

(المائدۃ5:27)

اس سورت سے وضع ہوا کہ اللہ تعالی قربانی تقوی والوں اور پرہیز گاروں کی ہی قربانی قبول کرتا ہے بصورت دیگر قربانی ضائع ہوتی ہے اور بس دکھلاوہ ہی رہ جاتا ہے

اللہ تعالی ایک اور جگہ ارشاد فرما رہے ہیں


نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اُس نے ان کو تمہارے لیے اِس طرح مسخّر کیا ہے تاکہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو اور اے نبیؐ، بشارت دے دیجئے نیکو کار لوگوں کو

سورہ الحج


سنت ابراہیمی صرف جانور قربان کرنے کا ہی نام نہیں بلکہ ابراہیم علیہ السلام کی طرح حکم ربانی پر عمل کرتے ہوئے وقت کے فرعونوں سے ٹکڑا جانے کا نام ہے اس کے لئے ہمیں حلال حرام کی تمیز کرنی ہو گی جیسے لولا لنگڑا اندھا بیمار جانور اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں بلکل ویسے ہی حرام کی کمائی سے کی گئی قربانی بھی قابل قبول نہیں

درحقیقت قربانی کا جانور ذبح کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ناجائز خواہشات ،بری عادات، حسد و دیگر غلط حرکات ،عادات ،فخر ذاتیات، و انا پرستی

کو بھی قربان کرنے کا نام ہے

جس طرح قربانی کا جانور بے عیب ہونا چائیے بلکل ویسے ہی قربانی کرنے والے کو بھی بے عیب ہونا چائیے اور ابراہیم علیہ السلام کی طرح بتوں کو پاش پاش کرنے ،آگ میں کودنے اور ظالم و جابر وقت کے فرعون کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرات والا ہونا چائیے

قربانی کرکے خود سارا گوشت کھانے کی بجائے تین حصے کیجئے جیسا کہ حدیث کی رو سے تین حصے ثابت ہیں  اول اپنا  دوم  رشتہ دار   سوئم  مساکین

قربانی کا گوشت تقیسم کرتے ہوئے حقداروں کو ان کا حق دیجئے کیونکہ اگر حقداروں تک ان کا گوشت نا پہنچا تو قربانی کا فائدہ نہیں

نماز عید کی ادائیگی کے بعد اپنے جانور خود اپنے ہاتھوں سے قربان کرنا زیادہ افضل ہے 

جانور کو قبلہ رخ لٹا کر اچھی سی تیز کی ہوئی چھری سے ذبح کریں اور جانور کی جان نکلتے وقت اپنی جان نکلنے کا منظر یاد رکھئیے تاکہ ہم اس دنیا کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا ہی نا سمجھ سکیں

احادیث نبویہ سے قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کی مختلف دعائیں ملتی ہیں جن میں سے ایک معروف دعا یہ بھی ہے


بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَرُ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ اَللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ۔


اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرتا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے اور اے اللہ، یہ قربانی تیری توفیق سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے

اے اللہ میری طرف سے یہ قربانی قبول فرما لے

(صحیح مسلم)


اللہ تعالی ہماری قربانیاں قبول فرما کر ہمیں ابراہیم علیہ السلام کی طرح کلمہ حق کہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Wednesday, 7 July 2021

کاروان برہان رواں دواں ازقلم غنی محمود قصوری




کشمیری قوم 1931 سے اپنی آزادی کی خاطر اپنی جانیں قربان کر رہی ہے مگر اس جاری تحریک کو 1987 کے انتخاباب میں دھاندلی کے بعد 1989 کو مسلح تحریک میں بدل دیا گیا جس کیلئے کشمیریوں کی قربانیاں تیز تر ہوتی چلی گئیں


  2010 کو ہندو کا ظلم تیز تر ہو گیا جس کے باعث سینکڑوں کشمیری نوجوانوں نے مسلح آزادی پسند تنظیموں کا رخ کیا جن میں سے ایک منظم تنظیم حزب المجاھدین بھی ہے 


اس تنظیم نے میدان جہاد کشمیر میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں تاہم اس جماعت کو سب سے زیادہ مقبولیت برہان مظفر وانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کی شہادت کے بعد ملی

 

19ستمبر 1994 کو ضلع ترال کے گاؤں شریف آباد میں سکول ٹیچر محمد مظفر وانی کے گھر برہان مفر وانی نے جنم لیا 


وانی بچپن سے ہی آزادی کشمیر کی خاطر انتہائی حساس تھا اور جان دینے کا عزم رکھتا تھا 


 اس نے 2010 کے ہندو کے بے پناہ ظلم کے خلاف حکم قرآن و حدیث پر لبیک کہتے ہوئے میدان قتال و جہاد کو چنتے ہوئے محض 15 سال کی عمر میں حزب المجاھدین کے جھنڈے تلے مسلح تحریک آزادی کشمیر میں قدم رکھا اور جلد ہی اپنی جرات اور جذبہ ایمانی کی بدولت انڈین فورسز کے لئے خوف کی علامت بن گیا


 مجبوراً انڈین گورنمنٹ کو اس کے سر کی 10 لاکھ قیمت مقرر کرنا پڑی 


2015 میں اس کے بڑے بھائی خالد مظفر وانی کو انڈین فورسز نے اس وقت شہید کیا جب وہ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ اپنے بھائی برہان وانی سے ملاقات کے سلسلے میں جا رہا تھا

برہان نے بھائی کی شہادت پر حوصلہ نا ہارا اور کاروائیاں تیز تر کر دیں 


برہان انڈین فورسز کیلئے خوف کی علامت بن چکا تھا  

میدان جہاد کے ساتھ ساتھ وہ سوشل میڈیا پر انتہائی مقبول ہو گیا اور اس کے مداح لاکھوں کی تعداد میں ہو گئے حتی کہ اس کی زندگی کی آخری ویڈیو بھی کشمیری قوم کے نام یہ تھی کہ اس کرہ ارض کشمیر کی آزادی کی خاطر نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ راہ جہاد اختیار کرنی ہو گی


8 جولائی 2016 کو ضلع بارہمولہ کے علاقے کوکرناگ میں وانی اور اس کے دو ساتھیوں نے دو گھنٹے تک ڈٹ کر انڈین فوج کا مقابلہ کیا جس میں وانی اپنے دونوں ساتھیوں سمیت شہید ہو گیا


اس کی شہادت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح مقبوضہ وادی کشمیر میں پھیل گئی جس کے باعث لوگوں کے غم و غصہ میں شدید اضافہ ہو گیا 

کشمیریوں نے وانی کی شہادت پر پوری مقبوضہ وادی کشمیر شدید احتجاج شروع کیا جو کہ پھیلتا ہوا مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج بن گیا جس کے نتیجے میں انڈین فورسز کے ساتھ ٹکراؤ میں 200 سے زائد کشمیری شہید اور 1500 کے قریب زخمی ہوئی

جبکہ انڈین فورسز کے 4 اہلکار ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے 


وانی کا جسد خاکی پہنچنے پر اسے پاکستانی پرچم میں لپٹ کر دفنایا گیا جبکہ وانی کے جنازے میں کم و بیش دس لاکھ سے زائد کشمیریوں نے شرکت کی

 جگہ کی قلت کے باعث وانی کا جنازہ لگ بھگ 150 مرتبہ ادا کیا گیا 

صبح سے شروع ہونے والی آخری نماز جنازہ شام کے 5 بجے تک جاری رہی

وانی تو شہید ہو کر رب کی جنتوں کا راہی بن گیا مگر جاتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کو ایک نیا جوش و ولولہ دے گیا 

وانی سے کشمیریوں کی محبت کا یہ عالم ہے کہ ہر سال 8 جولائی کو اس کی برسی بڑے جوش و جذبہ سے منائی جاتی ہے جبکہ انڈین فورسز کو اس دن مجبوراً کرفیو لگا کر موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کرنی پڑتی ہے تاکہ مظاہرہن کو احتجاج سے روکا جا سکے مگر اس کے باوجود ہر سال کشمیری سخت احتجاج کرتے ہیں


 22 سالہ برہان مظفر وانی جان دے کر ایک اکیلی کلاشنکوف اور جذبہ ایمانی سے لوگوں کے دلوں پر ایسے راج کر گیا کہ انڈین فورسز بے پناہ وسائل اور 8 لاکھ فوج اور سخت طاقت کے استعمال کے باوجود بھی 74 سالوں سے نا کر سکی


آج کشمیر کا ہر بچہ بچہ برہان وانی ہے کیونکہ کاروان برہان رواں دواں ہے اور آزادی کشمیر تک رہے گا

Sunday, 4 July 2021

اس خلا کو پر کیجئے فرض ہے یہ بھی ازقلم غنی محمود قصوری

Read more »