Tuesday, 8 February 2022

کل ہند کی بیٹی کی پکار تھی آج ہند کی بیٹی کی للکار ہے ازقلم غنی محمود قصوری





ہندو کی بدمعاشی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اس کرہ ارض کا ہر ظلم ہندو ظالم نے ہند کے مسلمانوں پر کیا ہے اور کر بھی رہا ہے بلکہ ہر آنے والے دن کیساتھ اس میں مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے جسے روکنے کی طاقت نا تو وہاں کے نام نہاد بڑے بڑے ایم ایل ایز میں ہے اور نا ہی کسی بہت بڑے عالم دین میں 

میں ان لوگوں کا نام لینا گوارہ نہیں کرتا کیونکہ نام اس کا لیا جاتا ہے جو کسی قابل ہو اور تاریخ بھی اسے ہی یاد رکھتی ہے جس میں جرآت و بہادری ہو 

بزدل و بے شرم کی نا تو تعریف ہوتی ہے نا ہی رقم تاریخ ہوتی ہے 

ہندوستان میں مقیم مسلمانوں کی حالت زار  اور وہاں کے بڑے بڑے لیڈروں کے دعوؤں کو دیکھیں  تو دل خون کے آنسو روتا ہے 

میرا رب جب کسی قوم کی حد سے تجاوز کرتی بے بسی کو دیکھتا ہے تو وہ ابابیلوں سے ہاتھی مروا دیتا ہے 

بلکل اسی طرح ہندوستان کے مسلمانوں کی بے بسی پر میرے رب نے ہندو دہشت گرد تنظیموں اور دہشت گرد مودی گورنمنٹ کو ایک نہتی لڑکی سے ٹھپر مروایا ہے اور ٹھپر اتنا کرارا اور آواز دار ہے کہ پوری دنیا میں اس کی آواز سنی جا رہی ہے 

جو کام 75 سالوں سے بڑے بڑے پھنے خان قسم کے لیڈر اور بڑے بڑے نام نہاد ملاں نا کر سکے وہ ایک اکیلی لڑکی نے کر دکھلایا 

کئی صدیاں پہلے کی بات ہے ہند کی ایک مظلوم عورت کی آواز پر ہمارا ایک شیر جوان عرب سے آیا تھا اس کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اس کی عزت و توقیر اور اسلام کی سربلندی کیلئے مگر آج ہند کی ایک مسلمان شیرنی نے ایک آواز پہنچا دی عرب کے حکمرانوں کے نام پاکستان و دنیا بھر کے سیاسی مستانوں کے نام 


ہوا کچھ یوں کہ انڈین شہر کرناٹک میں ہماری ایک مسلمان غیور بہن خولہ خنساء کی شجاعت اور فاطمہ رضی اللہ جیسی حیا والی اپنی درسگاہ میں حجاب پہن کر داخل ہوئی تو حجاب کے مخالف درجنوں ہندو انتہاہ پسند ہندوؤں نے اسلام و حجاب کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیئے 

اللہ کی اس شیرنی نے مشرک پلید ہندو کے گندے نعروں کا جواب نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے پاک نعروں سے تن تنہاہ دیا جس سے ان نعرے بازوں کے چہروں کی رنگت بدل گئی کہ ایک نہتی اکلوتی لڑکی تن تنہاہ ظالم کے سامنے کلمہ حق بلند کر گئی 

اللہ اکبر کبیرہ 


سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی دیکھ کر دل خوش ہو گیا اور بے ساختہ منہ سے نکلا میری بہن تو نے تو ٹھپر مار دیا ان سیاستدانوں کے منہ پر جو کہتے کہ ہم اقتدار میں آ کر ہندو کو مزہ چکھائے گے اور 75 سالوں سے لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر خود مزے لوٹ رہے ہیں ہندو کی دی ہوئی عیاشیوں کے 

میری بہن تو نے تو بہت بڑا ٹھپر مارا ہے ان نام نہاد خود ساختہ مفتیان و ملاں کرام کے منہ پر کہ جو کہتے ہیں کہ ہمارا جہاد ہندو کے خلاف نہیں ہو سکتا کیونکہ ہمارا ملک ہندوستان ہے حالانکہ ان کے لئے واضع مثال ہے کہ 

میرے  نبی ذیشان صل اللہ علیہ وسلم نے اپنا شہر مکہ چھوڑا اور پھر مدینہ میں تیاری کرکے اپنا شہر ظالموں مشرکوں سے آزاد کروایا کیونکہ وہاں کے مشرکوں نے بھی آج کے ہندو کی طرح مسلمانوں کا جینا محال کر دیا تھا 

یقیناً میری بہن آپ نے ظالم کے سامنے کلمہ حق کا نعرہ لگا کر جہاد کیا ہے کیونکہ اللہ کے راستے میں اللہ کے دین کی سر بلندی اور مسلم کی حرمت کے لیے لڑنا جہاد فی سبیل اللہ کہلاتا ہے 

اور اس جہاد کی دو  اقسام ہیں

اول ۔۔دفاعی جہاد

دوم۔۔اقدامی جہاد


 دفاعی جہاد یہ  ہے کہ جب کفار و کوئی بھی مشرک پلید کافر مسلمانوں کے کسی علاقہ پر حملہ آور یا پھر  قابض ہو جائے اور مسلمانوں پر ظلم ستم کا بازار گرم کر دے تو اسے روکنے کے لیے کوشش کرنا جہاد کرنا کہلاتا ہے کیونکہ سورہ النسا میں فرمان الہی ہے کہ 


وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيراً


ترجمہ۔۔اور تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستہ میں قتال کیوں نہیں کرتے جبکہ کمزور مرد اور عورتیں اور بچے کہہ رہے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جہاں کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی ساتھی اور مدد گار بنا دے


 اقدامی جہاد سے مراد یہ ہے کہ کافروں مشرکوں کی عہد شکنیوں، دعوت و دین کے راستے میں رکاوٹوں عبادتوں میں پابندیوں اور شعائر اسلامی کی توہین کی وجہ سے ان کافروں پر حملہ کرنا جہاد ہے کیونکہ اس بارے اللہ تعالیٰ سورہ البقرہ میں فرماتے ہیں 


وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلّهِ فَإِنِ انتَهَواْ فَلاَ عُدْوَانَ إِلاَّ عَلَى الظَّالِمِينَ


اور انکے خلاف قتال کرو، حتى کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین خالص اللہ کے لیے ہو جائے

 تو اگر وہ باز آ جائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں کی جائے 


نیز حدیث رسول ہے کہ 


عَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم قَالَ جَاہِدُوْا الْمُشْرِکِیْنَ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَاَلْسِنَتِکُمْ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،مشرکوں سے جہاد کرو،اپنے مالوں کے ساتھ،اپنی جانوں کے ساتھ اور اپنی زبانوں کے ساتھ

دوسری حدیث ہے کہ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

 أَحُبُّ الْجِھَادِ إِلَی اللّٰہِ کَلِمَۃُ حَقٍّ تُقَالُ لِاِمَامٍ جَائِزٍ۔


ترجمہ۔۔اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ جہاد ظالم بادشاہ کو حق بات کہنا ہے

أج ہند میں مسلمانوں کی عبادت پر پابندی مسلمانوں کی رسم و رواج پر پابندی حتی کہ مسلمانوں کی عزتیں غیر محفوظ جب جس مشرک ہندو کا دل چاہے کسی بھی مسلمان مرد و زن بچے بوڑھے کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے اور کلمہ حق کہنے کی توفیق کسی کو بھی نہیں مگر  سلام اے میری بہن تجھ پر کہ تو نے ظالم مشرک بادشاہ ہند مودی پلید کے سامنے کلمہ حق بیان کیا 

 نا صرف تو خود خوش قسمت ہے بلکہ خوش قسمت ہے وہ باپ جس نے تجھے جنا خوش قسمت ہے وہ ماں جس نے تجھے جنم دیا خوش قسمت ہے وہ بھائی جس کی تو عزت ہے خوش قسمت ہے وہ بہن جس کی تو راز دان سہیلی اور بہن ہے اور خوش قسمت ہے وہ خاندان جس کی تو توقیر ہے

 اللہ تیرا حامی و ناصر ہو

ان شاءاللہ تیرے بطن سے محمد بن قاسم ،سلطان صلاح الدین ایوبی،نورالدین زنگی اور ٹیپو سلطان جیسے مر حر مرد مجاھد جنم لینگے ان شاءاللہ


Friday, 4 February 2022

وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر ازقلم غنی محمود قصوری




تقسیم ہند سے قبل ہی اس وقت کے ظالم راجے نے کشمیر کو بیچ کر کشمیری قوم کی آزادی پر شب خون مارا تھا 

اس کے بعد تقسیم ہند کے وقت یہ طے پایہ تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کو دیئے جائیں گے اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو  مگر ہندو اور انگریز کی مشترکہ منافقت سے کشمیر مقبوضہ ہو گیا 

مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی خاطر پاکستان نے 1947 میں جنگ لڑی اور آزاد کشمیر کا علاقہ آزاد کروایا جسے ہم آج ازاد ریاست کشمیر کے نام سے جانتے ہیں 

یکم جنوری 1948 میں انڈیا سلامتی کونسل پہنچا اور سلامتی کونسل کے یقین استصواب رائے پر جنگ بندی ہوئی تاہم آج دن تک وہ استصواب رائے کے دن کا سورج طلوع نہیں ہو سکا


26 جنوری 1950 کو کشمیری قوم کی خصوصی حیثیت کیلئے آرٹیکل 370 اے نافذ کرکے کشمیر کو خودمختاری کی حیثیت دی گئی 

بظاہر نا چاہتے ہوئے بھی سلامتی کونسل نے ابتک 13 قراردادیں کشمیریوں کے حق میں دی ہیں مگر سب بے سود

کسی پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا

23 مارچ 1987 کو کشمیری جماعت مسلم یونائیٹڈ فرنٹ نے انتخابات میں واضع برتری حاصل کی تاہم فاروق عبداللہ کی گورنمنٹ نے دھاندلی کا الزام لگایا اور مظاہرے شروع ہو گئے جو کہ رفتہ رفتہ 1989 میں مسلح تحریک میں بدل گئے 

1947 سے 1989 تک کشمیریوں نے ہر حد تک کوشش کی کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے تاہم بھارت و سلامتی کونسل کی طرف سے مکمل انکار و منافقت  دیکھ کر کشمیری قوم نے بندوق اٹھائی اور ہندو کے خلاف ڈٹ گئے


 ابتک کشمیریوں نے ایک ہی نعرہ لگایا ہے کشمیر بنے گا پاکستان 

تیرا میرا رشتہ کیا ؟

لا الہ الا اللہ


یہی نعرے سلامتی کونسل اور انڈیا کو پریشان کئے ہوئے ہیں کہ اگر رائے شماری کروائی گئی اور کشمیری قوم کو استصواب رائے کا حق دیا گیا  تو پوری کشمیری قوم الحاق پاکستان کے حق میں ووٹ دے گی اور کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے گا 

تاریخ کشمیر اور ہندو کی خصلت کو دیکھا جائے تو کشمیر کا مسئلہ قرار دادوں سے ہونا ناممکن ہے

 اس کا واحد حل جنگ ہے جیسا کہ 1947 سے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں آزاد کشمیر کا علاقہ حاصل کیا گیا پھر پاک بھارت 1949 کے فائر بندی معاہدے کو ختم کرتے ہوئے بھارت نے پہل کی 1965 کی جنگ شروع کی

 کشمیر کا وکیل ہونے کی حیثیت سے بھارت نے 1971 کی جنگ کی شروعات کی اور بنگلہ دیش میں خانہ جنگی کروا کر 16 دسمبر 1971 کو بنگلہ دیش کو الگ کروایا کیونکہ بنگلہ دیش کے ہوتے ہوئے بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش کے بیچ سینڈوچ بنا ہوا تھا 

21 جنوری 1999 کو پاکستان و بھارت کے اس وقت کے وزرائے اعظموں نے دو طرفہ معاملہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی یقین دہانی کروائی مگر مئی 1999 میں بھارت نے خود ہی پنگے بازی کرتے ہوئے کارگل جنگ کا آغاز کیا جو کہ جولائی میں سلامتی کونسل کی مداخلت پر ختم ہوا

اس سارے دورانیہ میں کشمیری قوم نے نا تو اپنا نعرہ بدلا اور نا ہی اپنے عزائم 

کشمیری قوم کے اس جذبہ حریت کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار نے 1949 میں کشمیر کی خودمختاری کی حیثیت کو ختم کرنے کی خاطر 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اے و 35 اے کا خاتمہ کر دیا جس سے کشمیری قوم کا غم و غصہ آسمان کو چھونے لگا اور کشمیری قوم نے مجاھدین کشمیر کا ماضی کی طرح کھل کر ساتھ دیا جو کہ تاحال جاری و ساری ہے

 

بات اگر مسئلہ کشمیر کے حل کی کی جائے تو سوائے جنگ کے اس کا حل ناممکن ہے 

کشمیری مجاھدین کی گوریلا جنگ نے بھارتی فوج و عوام کا مورال بہت ڈاؤن کر دیا ہے جس کے باعث آئے روز بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی اضافہ کرتا جا رہا ہے 

جیسے جیسے بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی اضافہ کرتا جا رہا ہے ویسے ویسے ہی بھارتی فوج میں خودکشیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے  

اوسطاً ہر تیسرے دن ایک بھارتی فوجی مقبوضہ وادی کشمیر میں خودکشی کرتا ہے تاہم دوسری جانب مجاھد تنظیموں میں کشمیری نوجوانوں کا رجحان بہت حد تک بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ بہت زیادہ پڑھے لکھے نوجوان بھی مسلح تحریک آزادی کشمیر کا حصہ بن کا اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ کشمیر بزور شمشیر اس کے علاوہ آزادی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے


پاکستان میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جلسے جلوس تو بہت نکالے جاتے ہیں جو کہ اظہار کی ایک اچھی مثال بھی ہیں مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیر کا مسئلہ جنگ کے بغیر حل نہیں ہو گا کیونکہ ہندو کو پتہ ہے اگر کشمیر اس کے ہاتھ سے چلا گیا تو پھر اس کے بعد 36 سے زائد شورش زدہ بھارتی علاقے بھی نا ٹک سکیں گے اور ہندوستان ٹوٹ جائے گا  سو انڈیا اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے اپنا بہت سارا  پیسہ کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے لگا رہا ہے اور پوری دنیا کا کافر اس کی مدد کو ہے جبکہ اس کے برعکس اس معاملہ میں پاکستان کے ساتھ عملی طور پر ایک آدھ ملک ہی ساتھ ہے باقی محض بیانات ہی دیتے ہیں اور سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہیں جس کے باعث آج دن تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا ورنہ بفضل تعالی 1947 سے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں ہمارے قبائل مجاھدین و پاک فوج  موجودہ آزاد کشمیر کو آزاد کروانے کیساتھ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی مگر پنڈٹ جواہر لال نہرو اور سلامتی کونسل کی منافقت سے جنگ بندی ہوئی اور جھوٹے وعدے کروائے گئے جو کہ آج دن تک ایفاء نا ہو سکے ہیں