Wednesday, 27 May 2020

28 مئی یوم تکبیر اور عالم کفر کی چیخ



تحریر *غنی محمود قصوری*

پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے 1974 میں ایٹمی دھماکہ کر کے اپنا ایٹمی طاقت ہونے کا ثبوت پیش کیا اور پاکستان کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا اس کے بعد پھر 1987 کو دوبارہ ایٹمی دھماکہ کرکے اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کی اس سے قبل پاکستان بھی اپنا ایٹمی پروگرام شروع کر چکا تھا جس پر امریکہ اسرائیل اور بھارت کے علاوہ پورے عالم کفر کی چیخیں نکل رہی تھیں اور وہ چاہتے تھے کہ کسی بھی طریقے سے پاکستان اپنا ایٹمی منصوبہ منسوخ کر دے اور یو وہ پاکستان کو زیر کر لینگے کیونکہ تاریخ گواہ ہے عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان نے اسرائیل کی چیخ نکلوا دی تھی اسی طرح روس کی چیخیں افغانستان میں نکالی گئیں تھیں
وقت گزرتا گیا اسرائیل و بھارت کی بدمعاشی بڑھتی گئی اسرائیل و بھارت نے پاکستان کے ایٹمی پاور پلانٹ کہوٹہ پر حملے کا پلان بنایا اور ایک بار پھر جنگ کی دھمکی دیتے ہوئے بھارت نے 11 مئی 1998 کو پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر دیئے اب پاکستان کے لئے لازم ہو چکا تھا کہ ہاتھی کی طرح پاگل ہوئے دشمن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے سو 28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر بیک وقت 5 ایٹمی دھماکے کر کے عالم کفر اور بالخصوص اسرائیل و بھارت کی چیخ نکلوا دی
پورے عالم کفر کی چیخ نکل گئی کے عراق ایٹمی طاقت بننے کی کوشش میں تھا مگر اسرائیل نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اس کا ایٹمی پروگرام ختم کر دیا تھا مگر اب پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا حامل ملک بن چکا ہے واضع رہے پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے قبل پاکستان اور بھارت کی 3 جنگیں ہو چکی ہیں مگر ایٹمی دھماکوں کے بعد اب تک پاک بھارت کے درمیان کوئی بھی روایتی جنگ نہیں ہوئی بھارت صرف اپنی خفت مٹانے کیلئے مظلوم و مجبور کشمیریوں پر ظلم اور لائن آف کنٹرول پر گیڈر بھبکیاں لگاتا رہتا ہے جس پر پاک فوج نے پچھلے برس 27 فروری کو اس کی ایسی چیخ نکلوائی کے پوری دنیا پریشان ہو گئی اور بھارت کیساتھ اس کے پائلٹ کی واپسی کیلئے چیخ و پکار شروع کر دی
ایک اندازے کے مطابق اس وقت بھارت کے پاس 100 جبکہ پاکستان کے پاس 120 ایٹم بم ہیں اور پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار داغنے کی صلاحیت رکھنے والے ایف 16 اور میراج لڑاکا طیارے ہیں جو 2100 کلومیٹر تک ایٹمی ہتھیار داغ سکتے ہیں اور اس لحاظ سے بھارت کا ہر شہر پاکستان کے ہتھیاروں کی زد میں ہے جس سے ہر وقت بھارت کی چیخیں نکلتی رہتی ہیں اور وہ اسرائیل کو اپنے ساتھ اس لئے جوڑے ہوئے ہے کہ عراق کا ایٹمی پروگرام اسرائیل نے تباہ کیا تھا مگر اسرائیل کی چیخ بھی یہ سوچ کر نکل جاتی ہے کہ اسرائیل اور پاکستان کا فاصلہ تو تقریبا 4500 کلومیٹر ہے مگر پاک فضائیہ ون وے مشن کرنا جانتی اور اور وہ اسرائیل کے خلاف ون وے کامیاب مشن کر بھی چکی ہے نیز اس کے علاوہ عراق اور سعودی عرب بھی اسرائیل پر حملے کیلئے پاکستان کے معاون بن سکتے ہیں
اللہ تعالیٰ کا خاص فضل کرم ہے کہ امت کے غم خوار مجاھد ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے بہت کم وسائل اور سہولیات کیساتھ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بہت جلد پایہ تکمیل تک پہنچا کر عالم کفر کی چیخیں نکلوا دیں اور ان شاءاللہ پاکستان قیامت تک قائم رہے گا اور عالم کفر کی چیخیں نکلتی رہینگی

Thursday, 7 May 2020

کیا ریاض نائیکو کی شہادت سے تحریک آزادی کمزور ہوئی؟


تحریر *غنی محمود قصوری*
گزشتہ سال 5 اگست سے تاحال مقبوضہ وادی کشمیر میں کرفیو نافذ ہے جس کی بدولت کشمیریوں کا کاروبار زندگی معطل ہے انٹرنیٹ و موبائل سروس بند ہے کرونا کی وجہ سے پچھلے ماہ انٹرنیٹ کی بحالی چند علاقوں میں بطور مجبوری کی گئی تھی جسے اب ریاض نائیکو کی شہادت پر پھر بند کر دیا گیا ہے
اس وقت مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں تقریںا 10 لاکھ انڈین فوج و پولیس تعینات ہے جبکہ مقبوضہ وادی کی آبادی 80 لاکھ ہے یعنی ہر 8 کشمیریوں پر ایک قابض ہندو فوجی مسلط ہے اور یوں وادی کشمیر جنت نظیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے
90 کی دہائی سے غیور کشمیری انڈین فوج کے ساتھ مسلح نبرد آزما ہیں جس کی بابت ہندو آئے دن کرفیو لگائے رکھتا ہے مگر موجودہ مودی گورنمنٹ نے وادی میں طویل ترین لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے
اس لاک ڈاؤن سے قبل انڈین فورسز سے لشکر طیبہ،حرکت المجاہدین،البدر،جیش محمد اور حزب المجاہدین جیسی مسلح جہادی تنظمیں ہی متحرک تھیں مگر حیرت انگیز طور پر جب سے انڈیا نے تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش کرکے طویل ترین لاک ڈاؤن کیا ہے تب سے مسلح جہادی تنظیموں میں اضافہ ہوا ہے ان نئی تنظیموں میں تحریک ملت اسلامی جموں و کشمیر ،جموں و کشمیر غزنوی فورس،دی جوائنٹ کشمیر فرنٹ اور دی ریزیڈنس فرنٹ نامی مسلح جہادی تنظمیں بھی بڑی تیزی سے ابھر کر سامنے آئی ہیں
رواں سال جنوری سے اب تک انڈین فورسز نے ظلم و بربریت کو برقرار رکھتے ہوئے 27 بڑے آپریشن کئے ہیں جن میں 64 مجاہدین شہید اور 25 گرفتار ہوئے ہیں اور یہ شہادتیں اور گرفتاریاں تاریخی لحاظ سے اب تک سب سے زیادہ ہیں
6 مئی 2020 کو حزب المجاہدین کے ٹاپ کمانڈر ریاض نائیکو بھی انڈین فورسز کیساتھ جھڑپ میں شہید ہو گئے ہیں جس سے تحریک آزادی کشمیر سے پیار کرنے والے خاص طور پر فکر مند ہو گئے ہیں مگر جانتے ہیں کیا واقعی نائیکو کی شہادت سے تحریک آزادی کمزور ہو گی؟
33 سال قبل پلوامہ کے گاؤں بیگ پور میں اسد اللہ نائیکو کے گھر ریاض نائیکو نے آنکھ کھولی ریاض نائیکو تعلیم حاصل کرنے کے بعد ریاضی ٹیچر مقرر ہوئے مگر ان کا خواب انجینئر بننا تھا مگر ان کے اندر کا ریاضی دان ہر وقت انڈین فورسز کے ظلم کو بھی جمع کرتا رہا 2003 میں ریاض نائیکو کی والدہ کے کزن کو انڈین فورسز نے جعلی مقابلے میں شہید کر دیا اور وقت فوقتاً ریاض نائیکو کے گھرانے کو بھی تلاشی کے بہانے تنگ کیا جاتا رہا جس پر نائیکو سخت نالاں تھے اور بالآخر 21 مارچ 2010 کو حزب المجاہدین سے اپنی مسلح زندگی کا آغاز کیا اور بہت جلد نائیکو نے ایک ماہر ریاضی دان ہونے کے ناطے انڈین فورسز کی مشکلات میں جمع کا اضافہ کیا 2016 میں ٹاپ کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد ان کو حزب المجاہدین کا آپریشنل چیف مقرر کیا گیا اور جلد ہی نائیکو کی صلاحیتوں سے انڈین فورسز بوکھلا گئیں اور ان کے سر کی قیمت 12 لاکھ روپیہ مقرر کر دی گئی وانی کی شہادت کے بعد وہ سب سے معتبر اور زندہ ٹاپ کمانڈر تھے جنہیں ڈھونڈنے کیلئے انڈین فورسز نے کئی آپریشن کئے مگر ہر بار ناکام رہی 2 مئی کو انڈین فورسز اپنے ایک کرنل،میجر اور سپیشل آپریشنل گروپ کے کمانڈو کی ہلاکت کے بعد سخت ہواس باختہ ہو گئی ایسے میں 6 مئی کو گزشتہ 6 ماہ سے ایجنسیوں کے سپیشل ٹارگٹ ریاض نائیکو کی اطلاع سکیورٹی فورسز کو ملی جنہوں نے اپنی حال ہی میں بنی درگت کا بدلہ لینے کیلئے بہت بڑا آپریشن کیا مگر نائیکو کو زندہ پکڑنے میں ناکام ہونے پر نائیکو کے پناہ حاصل کئے ٹھکانے کو بارود سے اڑا کر نائیکو کو شہید کر دیا گیا ان کیساتھ اور مجاہد بھی شہید ہوئے نائیکو کی شہادت پر انڈین فوج نے ایک تاریخی خوشی محسوس کی اور ایسے اظہار کیا جیسے اب تحریک آزادی کمزور ہو جائے گی مگر وہ بھول گئے ہیں کہ ابو قاسم کی شہادت سے برہان وانی ابھر کر سامنے آیا تھا پھر اس کے بعد ریاض نائیکو انڈین فورسز کیلئے ڈراؤنا خواب بن گیا تھا حالانکہ اس وقت تک پہلے والی فریڈم فائٹرز تنظیمیں ہی تھیں جبکہ اب 4 مذید نئی مسلح عسکری تنظیمیں بھارت کے مدمقابل ہیں اور ان کے سربراہان انڈین فورسز کیلئے اپنے ویڈیو پیغام بھی جاری کر چکے ہیں جو کہ انڈین فورسز کے سینوں پر مونگ دل رہے ہیں
نائیکو کی شہادت سے نئے نوجوان تحریک آزادی کیلئے میدانوں میں اتریں گے جیسے نائیکو اترا تھا سو یہ تحریک آزادی مذید تقویت کیساتھ انڈین فورسز کیلئے سر درد بنے گی اور تقویت پائے گی کیونکہ تاریخ گواہ ہے کشمیریوں نے نا اپنے ارادے بدلے ہیں اور نا ہی اپنے نعرے اب ہر آنے والے دن میں کشمیریوں کے دلوں میں جذبہ آزادی ابھر رہا ہے
شہید کی جو موت ہے قوم کی وہ حیات ہے