Tuesday, 30 April 2024

شرمندگی آداب رسومات کے باعث ازقلم غنی محمود قصوری






گزشتہ دن میڈیا پہ ایک رپورٹ آئی جس کے مطابق اس وقت پاکستان میں 1 کروڑ عورتوں کی تعداد ایسی ہے جو کہ 35 سال سے زیادہ عمر کی ہو چکی ہیں اور ان کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی


بطور ایک مسلمان ملک یہ بہت حیرت و تشویش والی بات ہے کہ اتنی عمر میں بھی نکاح نا ہو سکنا کس قدر غلط اور خطرناک ہے


آئیے پہلے ہم بات کرتے ہیں پاکستان کی آبادی پر


اس وقت پاکستان کی کل آبادی تقریباً ساڑھے 24 کڑور کے قریب ہے جس میں مردوں کی تعداد 51 فیصد،عورتوں کی تعداد 48.76 فیصد اور خواجہ سراؤں کی تعداد 0.24 فیصد ہے

یعنی اعداد و شمار کے مطابق 100 خواتین واسطے 105 مرد موجود ہیں 


 اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا 64 فیصد 30 سال سے کم عمر جوانوں پہ مشتمل ہے 

  20 فیصد کی عمریں 15 اور 15 سال کے درمیان ہیں یعنی وہ نوجوان ہیں


اس کے باوجود 36 فیصد خواتین کنواری بیٹھی ہیں جو کہ بہت تشویش کی بات ہے

اس کے بعد بہت زیادہ تعداد بیوہ اور طلاق یافتہ عورتوں کی ہے کہ دوسری شادی نا کرسکی کہ جن کا اسلامی و قانونی حق ہے دوسری شادی کرنا مگر ان کو ان کا حق نہیں ملتا اور وہ دوسروں پہ بوجھ بن کر زندہ رہتی ہیں 

جوان مرد و عورت کے کنوارے رہنے کا نتیجہ معاشرے میں زناء کی صورت میں نکلتا ہے اور زناء ایسا قبیع فعل ہے جس سے معاشرے میں فسق و فجور کیساتھ نت نئی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور معاشرے میں بے حیائی کیساتھ بربادی و تنزلی کا طوفان آتا ہے


اب سوچئے کہ 1 کروڑ عورتیں جن کی شادی کی اصل عمر بھی گزر چکی وہ ہر روز کس قرب و اذیت سے گزرتی ہونگیں؟


آج کے حالات تو ہم نے رسم و رواج کے تابع ہو کر یہ بنا لئے کہ نوجوان لڑکیوں کی شادی بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس کے باعث والدین کو نیند نہیں آتی اور سوچ سوچ کر کئی والدین خودکشی کر لیتے ہیں تو وہاں ان بڑی عمر کی خواتین سے کون شادی کرے گا؟


در اصل ہمارے معاشرے کی بربادی کا آغاز دین سے دوری سے ہوا اور دین سے دوری کے باعث ہم نے رسم و رواج کو پروان چڑھا کر اپنے حلال کاموں کو مشکل بنا لیا جس میں سے ایک اہم ترین فرضی کام نکاح بھی ہے

نکاح اس قدر اہم ہے کہ اس بابت حدیث رسول ہے 


من قدر على ان ينكح، فلم ينكح، فليس منا"

ترجمہ۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:،جو شخص قدرت نکاح کے باوجود نکاح (شادی) نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں

یعنی اس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ اور دین اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں

آج نکاح بہت مشکل ہو چکا ہے

غریب بندہ بھی دس لاکھ تک لڑکی کی شادی کر پاتا ہے

سب سے بڑی لعنت جہیز ہے پھر اس کے بعد دیگر فضول رسم و رواج کہ جن کا دین اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں 

دوسرا سب سے بڑا المیہ ہماری بے جا ذاتی خواہشات ہیں 

جیسے کہ ہر لڑکے کو بہت خوبصورت،پڑھی لکھی اور جوان لڑکی چائیے اور اسی طرح ہر لڑکی کو خوبصورت ،پڑھا لکھا اور بہت پیسے والا مرد چائیے جس کے باعث زیادہ تر لڑکیاں شادی سے محروم رہ جاتی ہیں کیونکہ اکثر مردوں کو بڑی عمر میں بھی کم عمر لڑکیاں مل جاتی ہیں اور ان کا گھر بس جاتا ہے مگر اس کے برعکس بڑی عمر کی عورت کو کم عمر مرد قبول نہیں کرتا 

ہاں اگر بڑی عمر کی عورت کے پاس پیسہ ہو تو پھر وہ عورت اس حور لگتی ہے مطلب محبت عورت سے نہیں پیسے سے

شادی کرتے وقت بطور مسمان ہمیں اس  حدیث کی رو سے یہ  حکم ہے کہ 


 ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نکاح کے ذریعے دولت تلاش کرو

 جگہ ارشاد ربانی  ہے کہ

 

 تم میں سے جو مرد و عورت بے نکاح ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام لونڈیوں کا بھی،  اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا اللہ تعالی کشادگی والا علم والا ہے النور 32


یعنی اسلام نے نکاح کے ذریعے سے امیر ہونے کا طریقہ بتایا اور ہم نے لالچ میں اسے پس پشت ڈال کر جہیز کی لالچ میں نکاح کو مشکل بنا لیا

جبکہ حکم ہمیں ہے دینداری دیکھنے کا اور ہم نے حسن و جمال کیساتھ اعلی خاندان و پیسے کو حجت بنا لیا


ہماری عادت ہے کہ ہم مارکیٹ سے کوئی چیز خریدنے جائیں تو مطلوبہ برینڈ کی چیز اگر میسر نہیں تو اس کے متبادل کوئی اور چیز خرید لیتے ہیں 

اگر اس چیز میں کوئی کمی کوتاہی ہو بھی تو ہم اس چیز کو ضائع نہیں کرتے بلکہ اس سے کام لیتے ہیں اور گزارہ کرتے ہیں مگر نکاح کے معاملات میں ہمارا یہ حال ہے کہ رشتہ دیکھنے جاتے وقت ہماری ڈیمانڈز پوری نا ہو تو ہم جواب دے دیتے ہیں اور ساری زندگی اسی طرح اپنے لئے دیکھتے دکھاتے گزار دیتے ہیں مگر کسی کی بیٹی سے گزارہ نہیں کر پاتے 

اگر کوئی مرد و عورت ایسا کر بھی لے تو کچھ عرصہ بعد نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے اور پھر طلاق یافتہ مرد و عورت خاص طور پہ عورت زمانے کی نظروں میں بیکار ہو جاتی ہے اور بقیہ زندگی ماں باپ،بہن بھائیوں کی چوکھٹ پہ بوجھ بن کر گزار دیتی ہے


یہی ہماری اخلاقی،سماجی،اسلامی زوال کا اصل سبب ہے

دوسرا بڑا مسئلہ دوسری،تیسری اور چوتھی شادی کو جرم قرار دینا ہے 

سوچئیے اگر جو مرد قدرت و طاقت رکھتے ہیں وہ دوسری یا اس سے زیادہ شادی اسلام کی رو سے کرنا شروع کر دیں تو کیا پاکستان میں کنواری بیٹھی 1 کروڑ عورتیں بیاہی نا جائیں گیں؟

جی بلکل مگر یہاں بھی سب سے بڑی رکاوٹ عورت کے راستے میں عورت ہے اور وہ عورت یہ ڈکٹیشن فلموں اور ڈراموں سے لیتی ہے

اگر ہم نے نکاح کو عام کرنا ہے تو ان فضول رسموں کو ختم کرکے اسلامی طریقہ اپنانا ہو گا بصورت دیگر بن بیاہی 1 کروڑ عورتوں کی بدعائیں نا تو ہمارے گھروں میں خوشحالی آنے دینگیں نا ہی ہمارے اعمال میں برکت ہوگی



Saturday, 27 April 2024

ساتواں بڑا زرعی ملک اور ذخیرہ اندوز بھی ازقلم غنی محمود قصوری







ارض پاک پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور گندم پیدا کرنے والا دنیا کا ساتواں بڑا ملک بھی جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی غذائی فصل گندم ہے اس کے علاوہ اور بھی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں


پاکستان کل رقبہ تقریباً 19 کروڑ 67 لاکھ 20 ہزار 290 ایکڑ ہے جس میں سے 5 کروڑ 60 لاکھ 43 ہزار 414 ایکڑ زرعی رقبہ ہے جبکہ 1 کروڑ 12 لاکھ 43 ہزار 277 ایکڑ رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے 

 زیر کاشت رقبہ تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ ایکڑ ہے 

ہمارے ہاں گندم زیر کاشت رقبہ کے 80 فیصد پر کاشت کی جاتی ہے 


ہمارے کل جی ڈی پی میں سے زراعت 22 فیصد ہے اور مجموعی افرادی قوت 44 فیصد شعبہ زراعت سے منسلک ہے جبکہ ہماری کل آبادی کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ زراعت کیساتھ منسلک ہے

اسی لئے زراعت پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے


اس وقت ارض پاک میں گندم کی کٹائی کا سیزن چل رہا ہے

کچھ علاقوں میں گندم کی مکمل کٹائی ہو چکی ہے 

گزشتہ سال گندم کی پیدوار 2 کروڑ 68 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی تھی جس میں اس سال مذید اضافے کا امکان ہے

مگر اس ساری صورتحال کے پیش نظر نا تو کسان خوش ہے نا ہی گندم خریدنے والے عام شہری جس کی ساری وجہ مس مینجمنٹ اور ذخیرہ اندوزی ہے


ذخیرہ اندوزی تو وہی کرے گا جس کے پاس سال بھر کا گھریلوں خرچ موجود ہوتا ہے جس بیچارے غریب کسان کے پاس ایک مہینہ خرچ کے پیسے موجود نہیں وہ کیا ذخیرہ اندوزی کرے گا


ذخیرہ اندوزی نے ہمارے ملک کا برا حال کرکے رکھ دیا ہے

ضرورتِ زندگی کی کوئی بھی چیز ہو بلیک مارکیٹنگ مافیا متحرک ہو جاتا ہے اور مارکیٹ سے چیز غائب کرکے اپنی من مانی قیمتوں پہ فروخت کرتا ہے


یہی صورتحال گندم کیساتھ ہے

غریب کسان بیچارے تو باہر کھیتوں سے ہی فصل بیچ دیتے ہیں تاکہ گھر کا خرچ چل سکے جب بڑے بڑے کسان گندم اپنے گوداموں میں ذخیرہ کر لیتے ہیں اور اس وقت بیچتے ہیں جب لوگ گندم نا ملنے کے باعث مہنگے داموں خریدنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں

حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ذخیرہ اندوزی کو رکے اور ایسے لوگوں کو سخت سزا دے 

کیونکہ ذخیرہ اندوزی قانون پاکستان کی رو سے بھی جرم ہے اور اسلام کی رو سے بھی

اسلام میں ذخیرہ اندوزی کی سخت ممانعت کا اندازہ ہم اس حدیث رسول سے لگاتے ہیں


جس نے چالیس دن تک ذخیرہ اندوزی کی وہ اللہ سے بری ہو گیا اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہو گیا اور کسی حویلی میں اگر ایک شخص بھوکے رات گزارے تو ان تمام (حویلی والوں) سے اللہ کا ذمہ بری ہو گیا اور وہ اللہ سے بری ہو گئے، (یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق ختم کر بیٹھے)

المستدرک 2165


جبکہ ایک اور حدیث میں ہے کہ 


جو شخص مسلمانوں میں گراں فروشی کے لیے ، ان کے نرخوں میں اضافہ کی کوشش کرے تو یہ اللہ پر یہ حق ہے کہ اس کو جہنم کے بڑے گڑھے میں اوندھے منہ پھینک دے 


المستدرک 2168


درج بالا دونوں حدیثوں سے ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کی ممانعت کا اندازہ ہوتا ہے

حکومت وقت پہ فرض ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دے تاکہ غریب غرباء عام لوگ سکون کی روٹی کھا سکیں بصورت دیگر جب باوجود محنت کے انسان سکون کی روٹی نہیں کھا سکتا تو وہ جرائم کا ارتکاب کرتا ہے 

اگر پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے تو دیگر جرائم پر قابو پانے کی طرح ذخیرہ اندوزی پہ زیادہ قابو پانے کی ضرروت ہے