معاملات دو طرفہ خراب ہیں اصلاح بھی دو طرفہ لازم ہے ازقلم غنی محمود قصوری
گزشتہ دنوں سے ٹی ایل پی اور گورنمنٹ کے درمیان تنازعہ چلا آ رہا ہے جو آج ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گیا یے
ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو عدالت نے بری کرنے کا حکم دیا تھا مگر گورنمنٹ نے انہیں رہا نہیں کیا سا پر ٹی ایل پی کارکنان برہم ہوئے اور فیض آباد پنڈی میں دھرنے کا اعلان کیا جس کیلئے ملک بھر سے قافلے پنڈی کی جانب چلے
گورنمنٹ نے ٹی ایل پی کے کئی کارکنان گرفتار کئے تاہم پھر بھی ٹی ایل پی کارکنان دیگر مقامات پر پہنچنے میں کامیاب رہے
آج کی تازہ اطلاعات کے مطابق ایک بار پھر گجرانوالہ کے قریب ٹی ایل پی و پولیس کے مابین تصادم ہوا جس میں دو طرفہ جانی نقصان ہوا ہے
یقیناً گورنمنٹ نے عہد شکنی کی ہے جو کہ شرعی طور پر بھی بہت بڑا جرم ہے
اس بابت سختی سے ارشاد ہے
اور عہد کرکے پورا کرو کیونکہ اب تم اس عہد کے ذمہ دار بن گئے ہو (17۔37)
یقیناً گورنمنٹ کی عہد شکنی قابل مذمت ہے جس کی جواب دہ وہ رب کے حضور ضرور ہو گی اور حاکم وقت و ذمہ داران کو اللہ کے حضور جواب دینا ہو گا
مگر دوسری طرف ٹی ایل پی کارکنان کا سڑکوں پر اس طرح بیٹھننا بھی کسی صورت شرعی طور پر جائز نہیں کیونکہ راستے پاکستانیوں کی ملکیت ہیں نا کہ گورنمنٹ کے اور ٹی ایل پی کا معاملہ گورنمنٹ کے ساتھ ہے ناکہ عام پاکستانی عوام کے ساتھ عوام تو خود ان حکمرانوں سے تنگ ہے اب الٹا عوام کو پھر تنگ کیا جا رہا ہے
راستوں کی حرمت بارے ارشاد ہے
وَاللّٰہُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا (۱۹) لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا (۲۰)
ترجمہ اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا تاکہ تم اس کے وسیع راستوں میں چلو
جبکہ فرمان نبوی ہے
راستوں میں بیٹھنے سے بچو صحابہ نے عرض کیا کہ ہم تو وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں
وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہے کہ جہاں ہم باتیں کرتے ہیں
آپ ﷺ نے فرمایا اگر وہاں بیٹھنے کی مجبوری ہے تو راستے کا حق بھی ادا کرو صحابہ نے پوچھا راستے کا حق کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاء دینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا
(صحیح بخاری, رقم الحدیث: 2465/6229)
نیز ایک اور حدیث پیش خدمت ہے
سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے اس کے مسلمان بھائی محفوظ رہیں البخاری
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ معاملات تو ٹی ایل پی و حکومت کے خراب ہیں پھر مسلمانوں کے راستے بند کیوں؟
اس دوران تصادم سے زخمی و جانبحق ہونے والے عام پاکستانیوں کا قصور کیا ہے ؟
ٹھیک ہے گورنمنٹ نے عہد شکنی کی ہے اور ماضی کے وعدوں کے مطابق بھی وعدے پورے نہیں کئے گئے مگر اس کیلئے عام پاکستانیوں کو کس شریعت کے تحت راستے بند کرکے ،ڈر و خوف پھیلا کر کاروبار بند کرکے اذیت دی جا رہی ہے جبکہ آئین پاکستان کی رو سے گورنمنٹ کے خلاف مقدمہ کیا جا سکتا ہے اور عدالتی ٹرائل کیا جا سکتا ہے تو پھر یہ راستوں میں طاقت کا استعمال کیوں لازم ہے ؟؟
جب کہ حدیث ہے کہ
عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
(سِباب المسلم فسوقٌ، وقتاله كفرٌ)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
کلمہ گوہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اسےقتل کرنا کفر ہے
(مسلم ‘حدیث نمبر:64)
اب بھلا ماضی دیکھا جائے تو ٹی ایل پی کارکنان نے کس طرح دکانوں ،مکانوں،گاڑیوں کو نظر آتش کرکے لوگوں کو ایذا نہیں دی ؟
اس بات کا راقم خود گواہ ہے جو کچھ ماضی میں بابو صابو انٹرچینج پر ہوا اللہ کی پناہ راقم خود وہاں پھنسا تھا
کیا وہ لوگ مسلمان نا تھے ؟
افسوس کہ حکمرانوں کی سزا عوام کو دی جا رہی ہے اور اسی آڑ میں ریاستی اداروں تک کو حرامی تک کہا گیا ہے
سب جانتے ہیں یہ انتظامی ادارے سیدنا عمر رضی اللہ کے بنائے ہوئے ہیں اب بھلا ان اداروں سے ٹکرا کر کونسا معرکہ سر کرنا ہے ؟ کیا عمر فاروق کے بنائے گئے نظام کو چیلنج نہیں کیا جا رہا ؟
ناموس رسالت کیلئے مسلمان اللہ کے فضل سے کٹ مرنے کو بھی تیار ہیں جنہوں نے کچھ کرنا تھا وہ بغیر شور شرابہ کئے بیرون ممالک گئے اور شاتمین رسول کو قتل کیا دیکھ لیجئے پاکستانی عامر چیمہ کو کیا اس نے احتجاج کیا یا پھر عملی کام کیا ؟
بھئی جب ہم اپنے ہی ملک کے لوگوں سے ٹکرانے کو جہاد کہینگے تو پھر شاتمین رسول تو خوش ہونگے ہی کہ اگر ان کا جہاد اپنے ہی مسلمانوں کے خلاف ہے تو پھر ہم تو اور کھل کر گستاخیاں کرتے ہیں ہمیں کیا خطرہ رہ گیا ان سے یہ تو بجائے ہمیں مارنے کے اپنے ہی مسلمانوں کو مار رہے ہیں لہذہ ان سے ڈر کیسا کھل کر گستاخیاں کرو
آئین پاکستان کے ارٹیکل 256 اے میں واضع لکھا ہے کہ جو بھی جماعت ایسے افراد رکھے جو فوج و اداروں سے ٹکراؤ کی صلاحیت رکھتی ہوں اس جماعت کو فوری ختم کیا جائے اب اگر پولیس، فوج و دیگر ادارے آئین پاکستان کی پاسداری کیلئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں تو پھر ان کے سامنے مزاحمت آئین سے ٹکراؤ نہیں تو کیا ہے؟
حرمت مسلم پر ارشاد ہے
الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸)
ترجمہ
اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے قصور ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا
اب سوچنے کی بات ہے جب عوام کا کوئی قصور ہی نہیں تو انہیں کیوں ستایا جا رہا ہے ؟
ہاں حکمرانوں کی غلطیاں ہیں ان کا قصور ہے ان سے بدلہ لیا جائے نا کہ راستوں میں مسلمانوں کو بے قصور ستا کر تنگ کیا جائے
موجودہ حالات کے تناظر میں اصلاح دو طرفہ لازم ہے
حکومت کی بھی اور ٹی ایل پی کی بھی
اللہ تعالی دونوں فریقین کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین



