Wednesday, 27 October 2021

معاملات دو طرفہ خراب ہیں اصلاح بھی دو طرفہ لازم ہے ازقلم غنی محمود قصوری




گزشتہ دنوں سے ٹی ایل پی اور گورنمنٹ کے درمیان تنازعہ چلا آ رہا ہے جو آج ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گیا یے


ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو عدالت نے بری کرنے کا حکم دیا تھا مگر گورنمنٹ نے انہیں رہا نہیں کیا سا پر ٹی ایل پی کارکنان برہم ہوئے اور فیض آباد پنڈی میں دھرنے کا اعلان کیا جس کیلئے ملک بھر سے قافلے پنڈی کی جانب چلے 


گورنمنٹ نے ٹی ایل پی کے کئی کارکنان گرفتار کئے تاہم پھر بھی ٹی ایل پی کارکنان دیگر مقامات پر پہنچنے میں کامیاب رہے 


آج کی تازہ اطلاعات کے مطابق ایک بار پھر گجرانوالہ کے قریب ٹی ایل پی و پولیس کے مابین تصادم ہوا جس میں دو طرفہ جانی نقصان ہوا ہے


یقیناً گورنمنٹ نے عہد شکنی کی ہے جو کہ شرعی طور پر بھی بہت بڑا جرم ہے

اس بابت سختی سے ارشاد ہے


اور عہد کرکے پورا کرو کیونکہ اب تم اس عہد کے ذمہ دار بن گئے ہو (17۔37)


یقیناً گورنمنٹ کی عہد شکنی قابل مذمت ہے جس کی جواب دہ وہ رب کے حضور ضرور ہو گی اور حاکم وقت و ذمہ داران کو اللہ کے حضور جواب دینا ہو گا 

مگر دوسری طرف ٹی ایل پی کارکنان کا سڑکوں پر اس طرح بیٹھننا بھی کسی صورت شرعی طور پر جائز نہیں کیونکہ راستے پاکستانیوں کی ملکیت ہیں نا کہ گورنمنٹ کے اور ٹی ایل پی کا معاملہ گورنمنٹ کے ساتھ ہے ناکہ عام پاکستانی عوام کے ساتھ عوام تو خود ان حکمرانوں سے تنگ ہے اب الٹا عوام کو پھر تنگ کیا جا رہا ہے


راستوں کی حرمت بارے ارشاد ہے 


وَاللّٰہُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا (۱۹) لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا (۲۰)

ترجمہ اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا تاکہ تم اس کے وسیع راستوں میں چلو

جبکہ فرمان نبوی ہے


راستوں میں بیٹھنے سے بچو صحابہ نے عرض کیا کہ ہم تو وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں

 وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہے کہ جہاں ہم باتیں کرتے ہیں

 آپ ﷺ نے فرمایا اگر وہاں بیٹھنے کی مجبوری ہے تو راستے کا حق بھی ادا کرو  صحابہ نے پوچھا راستے کا حق کیا ہے؟ 

آپ ﷺ نے فرمایا نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاء دینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا

(صحیح بخاری, رقم الحدیث: 2465/6229)


نیز ایک اور حدیث پیش خدمت ہے

سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے اس کے مسلمان بھائی محفوظ رہیں البخاری


اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ معاملات تو ٹی ایل پی و حکومت کے خراب ہیں پھر مسلمانوں کے راستے بند کیوں؟

اس دوران تصادم سے زخمی و جانبحق ہونے والے عام پاکستانیوں کا قصور کیا ہے ؟


ٹھیک ہے گورنمنٹ نے عہد شکنی کی ہے اور ماضی کے وعدوں کے مطابق بھی وعدے پورے نہیں کئے گئے مگر اس کیلئے عام پاکستانیوں کو کس شریعت کے تحت راستے بند کرکے ،ڈر و خوف پھیلا کر کاروبار بند کرکے اذیت دی جا رہی ہے جبکہ آئین پاکستان کی رو سے گورنمنٹ کے خلاف مقدمہ کیا جا سکتا ہے اور عدالتی ٹرائل کیا جا سکتا ہے تو پھر یہ راستوں میں طاقت کا استعمال کیوں لازم ہے ؟؟


جب کہ حدیث ہے کہ 


عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: 

(سِباب المسلم فسوقٌ، وقتاله كفرٌ)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ

کلمہ گوہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اسےقتل کرنا کفر ہے  ​

(مسلم ‘حدیث نمبر:64)


اب بھلا ماضی دیکھا جائے تو ٹی ایل پی کارکنان نے کس طرح دکانوں ،مکانوں،گاڑیوں کو نظر آتش کرکے لوگوں کو ایذا نہیں دی ؟ 

اس بات کا راقم خود گواہ ہے جو کچھ ماضی میں بابو صابو انٹرچینج پر ہوا اللہ کی پناہ راقم خود وہاں پھنسا تھا 

 کیا وہ لوگ مسلمان نا تھے ؟


افسوس کہ حکمرانوں کی سزا عوام کو دی جا رہی ہے اور اسی آڑ میں ریاستی اداروں تک کو حرامی تک کہا گیا ہے

سب جانتے ہیں یہ انتظامی ادارے سیدنا عمر رضی اللہ کے بنائے ہوئے ہیں اب بھلا ان اداروں سے ٹکرا کر کونسا معرکہ سر کرنا ہے ؟ کیا عمر فاروق کے بنائے گئے نظام کو چیلنج نہیں کیا جا رہا ؟


ناموس رسالت کیلئے مسلمان اللہ کے فضل سے کٹ مرنے کو بھی تیار ہیں جنہوں نے کچھ کرنا تھا وہ بغیر شور شرابہ کئے بیرون ممالک گئے اور شاتمین رسول کو قتل کیا دیکھ لیجئے پاکستانی عامر چیمہ کو کیا  اس نے احتجاج کیا یا پھر عملی کام کیا ؟

بھئی جب ہم اپنے ہی ملک کے لوگوں سے ٹکرانے کو جہاد کہینگے تو پھر شاتمین رسول تو خوش ہونگے ہی کہ اگر ان کا جہاد اپنے ہی مسلمانوں کے خلاف ہے تو پھر ہم تو اور کھل کر گستاخیاں کرتے ہیں ہمیں کیا خطرہ رہ گیا ان سے یہ تو بجائے ہمیں مارنے کے اپنے ہی مسلمانوں کو مار رہے ہیں لہذہ ان سے ڈر کیسا کھل کر گستاخیاں کرو 


آئین پاکستان کے ارٹیکل 256 اے میں واضع لکھا ہے کہ جو بھی جماعت ایسے افراد رکھے جو فوج و اداروں سے ٹکراؤ کی صلاحیت رکھتی ہوں اس جماعت کو فوری ختم کیا جائے اب اگر پولیس، فوج و دیگر ادارے آئین پاکستان کی پاسداری کیلئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں تو پھر ان کے سامنے مزاحمت آئین سے ٹکراؤ نہیں تو کیا ہے؟


 حرمت مسلم پر ارشاد ہے


 الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸)

ترجمہ

اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے قصور ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا


اب سوچنے کی بات ہے جب عوام کا کوئی قصور ہی نہیں تو انہیں کیوں ستایا جا رہا ہے ؟

ہاں حکمرانوں کی غلطیاں ہیں ان کا قصور ہے ان سے بدلہ لیا جائے نا کہ راستوں میں مسلمانوں کو بے قصور ستا کر تنگ کیا جائے

 

موجودہ حالات کے تناظر میں اصلاح دو طرفہ لازم ہے 

حکومت کی بھی اور ٹی ایل پی کی بھی 

اللہ تعالی دونوں فریقین کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین

Wednesday, 20 October 2021

شرم کیجئے ناکہ جھوٹا دفاع کیجئے ازقلم غنی محمود قصوری




گزشتہ دنوں سے قوم  منہگائی اور خاص کر پیٹرول کی قیمتوں پر شدید پریشان ہے جو کہ بلحاظ آمدن جائز بھی ہے

 کیونکہ پاکستان ایک غریب ملک ہے مگر اس کے حکمرانوں کی عیاشاں بھی سب  کے سامنے ہیں، وزراء کی فوج ظفر فوج اور پروٹوکول سب کے سامنے ہے


اس مہنگائی پر جہاں ساری قوم پریشان ہے اور غریب دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہو رہا یے وہیں چند بے ضمیر لوگ بجائے خاموشی اور عوام سے دو بول ہمدردی کے بولنے کی بجائے الٹا حکومت کا دفاع کر رہے ہیں اور یوں باور کرا رہے ہیں کہ پاکستانی قوم ایک سخت ناشکری قوم ہے اور ملک میں کوئی مہنگائی نہیں 


تاریخ گواہ ہے کہ اگر اسقدر حالات کسی اور ملک کے خراب ہوتے تو خانہ جنگی یقینی تھی یقین نہیں تو آپ شام،لیبیا،عراق  کو ہی دیکھ لیجئے


ہر کسی کو پتہ ہے کہ مہنگائی حد سے بڑھ چکی ہے اور بارہا سرکاری طور پر بھی اس کا اعتراف کیا جا چکا ہے 

 مگر اس کے باوجود یہ جھوٹے لوگ دن رات گورنمنٹ کا دفاع اور عوام کو برا بھلا کہنے میں مصروف ہیں ان جھوٹے لوگوں کے متعلق فرمان ہے 


اِنَّمَا یَفۡتَرِی الۡکَذِبَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ  

 جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا یہی لوگ جھوٹے ہیں

(سورۃ النحل: 105)


کوئی بھی حالات ہو جھوٹ کا سہارا اللہ کے ناپسندیدہ لوگ ہی لیتے ہیں اگر یہ لوگ ملک کے ہمدرد ہوتے تو سابقہ ادوار کی مہنگائی پر واویلا نا مچاتے 


بات آگے بڑھانے سے پہلے راقم حلفاً اقرار کرتا ہے کہ اس کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی بھی تعلق نہیں اور میں ایک کالم نگار ہوں میرا کام حق سچ لکھنا ہے اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی مرتے دم تک حق سچ لکھنے،بولنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین


ان حکومتی حمایتی جھوٹے مکار لوگوں نے ایک بات بہت مشہور کر رکھی ہے کہ دنیا میں سب سے سستا پیٹرول پاکستان میں بکتا ہے جو کہ قطعاً غلط بات ہے 

یہ لوگ پیٹرول کی قیمت بتاتے ہیں مگر مزدور کی آمدن کا موازنہ دیگر ممالک سے نہیں کرتے

اس وقت پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 138 روپیہ اور مزدور کی زیادہ سے زیادہ مزدوری 900 روپیہ روزانہ ہے جبکہ اگر فیکٹریوں و دکانوں پر کام کرنے والوں کی مزدوری دیکھی جائے تو وہ 500 سے 600 روپیہ ہے 

پیٹرول تو ایک طرف اس وقت دیگر ضروریات زندگی بھی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہیں

پیٹرول کا توازن دیگر ممالک سے کرنے والوں کیلئے ہم ان کی خدمت میں دنیا کے تین بڑے ممالک میں مزدور کی آمدن اور پیٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کرتے ہیں


امریکہ میں مزدور کی روزانہ آمدن پاکستانی روپیوں میں 10000 اور پیٹرول کی قیمت پاکستانی 165 روپیہ ہے 

برطانیہ میں مزدور کی مزدوری روزانہ 12000 اور پیٹرول کی قیمت پاکستانی روپیوں میں 205 روپیہ جبکہ چائنہ میں مزدور کی پاکستانی روپیوں میں آمدن 2000 اور پیٹرول کی قیمت پاکستانی روپیوں میں 205 روپیہ ہے 

اب کوئی ان جھوٹے کذاب لوگوں سے پوچھے کہ کس بنیاد پر تم جھوٹے دعوے کرتے ہو کیا مر کر اللہ کے ہاں پیش نہیں ہونا ؟

کیا روزانہ کی آمدن اور پیٹرول کی قیمت کسی صورت بھی موازنہ کر پاتی ہے دیگر ممالک سے؟

کیا ہماری بھی آمدن دیگر ممالک کی طرح زیادہ ہے؟

کیا پاکستان کے لوگ دیگر ممالک کی نسبت زیادہ پیٹرول استعمال کرتے ہیں؟

کیا دیگر ممالک میں پیٹرول عالمی منڈی کے حساب سے فروخت نہیں ہوتا ؟

کیا تمہارا قبر میں حساب اعمال کی بجائے حکمران پر ہو گا ؟

کیا ساری عوام مہنگائی سے چیخ نہیں رہی ماسوائے چند لاکھ بے ضیمر اور بلیک مارکیٹنگ افراد کے علاوہ ؟

کیا ملک میں امن امان کی صورتحال بھگڑی نہیں اور اس ساری صورتحال کے پیش نظر لوگوں میں چوری ڈاکے اور خودکشیوں کا رجحان بڑھا نہیں ؟

پیٹرول کے علاوہ اب تک اس گورنمنٹ نے لوگوں کی چیخیں ٹیکس لے لے کر جس طرح نکلوائی ہیں وہ بھی آپ کی نظر کرتے ہیں

ایک معروف ادارے کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں ملکی قرضوں میں اضافے کی صورت حال کو دیکھا جائے تو 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کو  ورثے میں 6127 ارب روپے کا اندرونی اور  بیرونی قرضہ ملا جس میں 2013  تک پی پی پی نے 133 فیصد یعنی 8165 ارب روپے کا اضافہ کیا اور  یہ 14292 ارب روپے تک پہنچ گیا


پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے 5 سالہ دور میں قرضوں کے حجم کو 74.60 فیصد یعنی 10661 بڑھایا اور  ملک کا اندرونی اور  بیرونی قرضہ 24953 ارب روپے تک پہنچ گیا جو ملکی جی ڈی پی کا 72.5 فیصد تھا


پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملکی قرضوں میں کمی لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن 3 سالوں میں قرضوں میں 60 فیصد یعنی 14907 ارب روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور جون 2021 میں پاکستان کا اندرونی اور بیرونی قرضہ 39859 ارب روپے پر  پہنچ چکا ہے جو  مجموعی ملکی پیداوار  یعنی جی ڈی پی کا 83.5 فیصد ہے جبکہ پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالہ دور میں پٹرول 72 روپے اور اور ڈیزل 83 روپے ریکارڈ مہنگا کیا گیا جبکہ 37 ماہ میں صرف ٹیکسز کی مد میں 500 ارب روپے عوام کی جیبوں سے نکلوائے گئے ہیں

 جولائی 2021 سے 16 اکتوبر 2021 تک حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 30 روپے سے زائدکا اضافہ کر کے عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے اور ساری دنیا جانتی ہے موجودہ گورنمنٹ نے اپنے پروٹوکول ،تنخواہوں و اخراجات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے جبکہ اس وقت کے نیک ترین مانے جانے والے عمران خان نیازی نے لوگوں سے جو بھی وعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا گیا 

بلکہ خان صاحب جس بھی چیز بارے نوٹس لیتے ہیں وہ چیز لوگوں کی پہنچ سے دور ہی ہوتی چلی گئی ہے اور بلیک مارکیٹنگ افراد کو کوئی ہاتھ ڈالنے والا نہیں جس کا جب جی چاہتا ہے مارکیٹ سے چیز غائب کرکے منہ مانگے داموں فروخت کرتا ہے 

حیرت کی بات ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے ایسے جھوٹے  لوگ دفاع کرتے کہتے ہیں کہ جی اسے ابھی ٹائم دیجئے وقت لگے گا

 کیا اس نے پہلے وقت نہیں مانگا پھر وقت اور پھر وقت ؟


کیا کرتا رہا یہ بندہ اتنی دیر ساسیت میں رہ کر ؟

کیا اسے 22 سال تک سیاست میں رہ کر  معلوم نا تھا بطور اپوزیشن کیا قرضوں کے بغیر ملک نہیں چلتے اور کرپٹ و پرانی سیاسی جماعتوں کے ریجیکٹڈ بندے کام نا کام کرتے ہیں نا کرنے دیتے ہیں؟


سب پتہ تھا اسے بس مرنے سے پہلے وزیراعظم پاکستان بننے کا خواب پورا کرنا لازم تھا خان صاحب پر جو انہوں نے جھوٹے وعدے کرکے عوامی ہمدردی حاصل کرکے کر لیا ہے 


ایسے وعدہ خلاف بارے اللہ تعالی فرماتے ہیں


وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل 34)


اور وعدہ پورا کرو، یاد رکھو عہد کی باز پرس ہوگی


یقیناً روز قیامت کی باز پرس بڑی سخت ہوگی اور اس وقت وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب ہیں کوئی درجہ چہارم کے ملازم نہیں ساری دنیا جانتی ہے سائیکل پر دفتر جانے کا وعدہ ،ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ ،بنی گالہ میں سرکاری رہائش کرنے کا وعدہ ،پارلیمنٹ ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا وعدہ ،پیٹرول و دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتیں نیچے لانے کا وعدہ نیز وعدے ہی وعدے کئے عوام سے اپنے جیتنے کیلئے تاہم پورا ایک بھی نا کیا البتہ اپنی تنخواہ، مراعات ،پروٹوکول،سرکاری اخراجات و کابینہ بڑھا لی کیونکہ یہ پیسہ قوم کا ہے انہیں کیا


ان حکومتی دفاعی اور صرف عوام کو بے صبرہ ثابت کرنے والوں کے نام صیحیح بخاری کی ایک حدیث پیش خدمت ہے تاکہ یہ لوگ دفاع کی بجائے شرم محسوس کر سکیں


عَنِ الْحَسَنِ قَالَ أَتَيْنَا مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ نَعُودُهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ :    مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ    


ایک صحابی فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کا حاکم بنایا گیا اور اس نے ان کے معاملہ میں خیانت کی اور اسی حالت میں مر گیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے

صحیح بخاری ۔کتاب الاحکام ,حدیث نمبر 7151


تو کھوکھلے نعرے لگانے والوں شرم کرو ناکہ دفاع کرو 

قبر میں حکمران نہیں بلکہ اعمال کام آئینگے تم نے اپنا حساب خود دینا ہوگا 

جھوٹ بھول کر اپنے اعمال ضائع نا کرو