Thursday, 31 October 2019

چوکیدار یاں محافظ



**تحریر غنی محمود قصوری **

ہماری ہاں فوج مخالف لوگوں کی طرف سے فوج پر ایک جملہ ،چوکیدار بہت کسا جاتا ہے جب کسی کو کوئی دلیل نا ملے تو فوری جملہ داغتا  ہے کہ جی فوج تو چوکیدار ہے فوج کا کیا کام ملکی معاملات اور سیاست میں سب سے پہلے تو میں ان لوگوں کو بتاءونگا  گا کہ چوکیدار کو جو تنخواہ دی جاتی ہے وی  اپنی آمدن سے بلکل کم دی جاتی ہے  جیسا کہ آجکل ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر 15000 سے 30000 ہزار روپیہ چوکیدار کو دیا جاتا ہے جبکہ آپ کی آمدن اور بچت لاکھوں روپیہ ہوتی ہے مگر حیرت ہے فوج کو چوکیدار کہنے والوں پر کہ ایک طرف تو اسے چوکیدار کہہ رہے ہوتے ہیں مگر دوسری جانب اسی چوکیدار کی شکایت بھی کرتے ہیں کہ 80 فیصد ہماری فوج یعنی چوکیدار کھا رہا ہے اب بھلا کوئی ذی ہوش شحض خیسے مان سکتا ہے کہ کوئی ہو بھی چوکیدار اور آپ کی آمدن کا 80 فیصد بطور تنخواہ بھی لے رہا ہو  یقینا یہ بہت کم عقلی والی بات ہے جوکہ ہماری تمام سیاسی پارٹیوں کی طرف سے بطور افواہ پھلائی گئی ہے آپ اس سال بجٹ کا ریکارڈ چیک کر لیں تو آنکھیں کھل جائینگی کہ فوج کتنے فیصد لے رہی ہے
حالانکہ بجٹ میں ہر ادارے اور صوبے کو ملنے والی رقم کا حساب ہوتا ہے مگر پھر بھی لوگ بجٹ کی جمع تفریق نہیں کرتے بلکہ رٹی رٹائی باتیں ازبر کرتے چلے جاتے ہیں یقینا اس قسم کی  باتیں کرنے والے لوگ حد درجہ جھوٹے ہیں جن کی اپنی بات میں بھی وزن نہیں جو 80 فیصد کا بہتان لگا کر چوکیدار کا لقب دے رہے ہیں اور ان کی بجٹ کی جمع تفریق سے ثابت ہوا  کہ وہ جھوٹے ہیں اور جھوٹے لوگ کسی کو چوکیدار کہیں یاں کچھ اور  ان کی بات مانی نہیں جا سکتی
یقینا فوج بھی دوسرے اداروں کی طرح ایک ادارہ ہے اور اس کے اندر بھی انسان ہی ہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے میں کوئی مقدس گائے نہیں مانتا فوج کو مگر دنیا جانتی ہے فوج اور سول اداروں کی سزاءوں کو جب کوئی سول ادارے کا اہلکار غلطی کرتے پکڑا جاتا ہے اسے معطل کر دیا جاتا ہے مگر فوج میں ایسا نہیں غلطی ثابت ہونے پر کورٹ مارشل کر دیا جاتا ہے پینشن جی پی فنڈ ختم ہونے کیساتھ پوری زندگی کورٹ مارشل شد فوجی کوئی بھی سرکاری نوکری نہیں کر سکتا اور جب تک کورٹ مارشل مکمل نا ہو جیل سے چھٹی نہیں ملتی جبکہ سول اداروں کے لوگ ضمانت اور قبل از ضمانت کروا لیتے ہیں 
 اس کے علاوہ مذید کہتے ہیں کہ جی فوج کرتی کیا ہے مفت کی تنخواہ لیتی ہے تو ان سے میرے چند سوال ہیں کہ 1948 میں آزاد کشمیر کو ہندو کے چنگل سے اپنے غیور قبائلیوں کیساتھ مل کر کس نے آزاد کروایا تھا فوج نے یاں کسی سیاستدان نے ؟ 
1965 کی پاک بھارت جنگ میں دشمن کو ناکو چنے کس نے چبوائے اور ملک کا دفاع کس نے کیا تھا فوج نے یاں کسی غیرت مند سیاستدان نے ؟
1967 اور پھر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں جب سارے عرب ملک عملی طور پر اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے تھے اور پوری دنیا اسرائیل کو سپر پاور تسلیم کرنے کے قریب تھی تب اس وقت پاکستانی ائیر فورس نے تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا پاک ائیر فورس کے جوانوں نے اپنی جانیں تو دے دیں مگر اسرائیل کا ایٹمی پاور پلانٹ تباہ کرکے تمام عرب ملکوں کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد کروایا  تو اس وقت کونسا غیرت مند سیاستدان پاکستان سے جنگی جہاز اڑا کے تل ابیب کو تباہ کرنے گیا تھا؟ 
1971 میں انڈیا کیساتھ مل کر اقتدار کی خاطر پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کیلئے مسلح فورس،مکتی باہنی کس نے بنائی تھی اور باوجود اسلحہ کی کمی کی بدولت لڑائی کس نے کی تھی ہندوستانی فوج سے اور پھر دشمن کی قید کس نے کاٹی تھی کیا کوئی سیاستدان انڈین جیلوں میں قید رہا ؟
1980 کی دہائی میں جب سپر پاوری کی طاقت کے نشے میں چور روس افغانیوں پر چڑھ دوڑا تو اس وقت افغانیوں کو کونسے سیاستدان نے ٹریننگ دی کے تم ہمارے مسلمان بھائی ہو اپنا دفاع کرو ؟
1999 میں کارگل پر قبضہ کرکے انڈیا کی طرف سے کشمیر جانے والا راستہ پاک فوج نے بند کر دیا جس کے پیش نظر مقبوضہ وادی کشمیر میں ہندوستانی فوج بھوکوں مرنے کے قریب تھی جس کا اقرار خود سابق آرمی چیف ٹی وی پر کر چکا بھلا اس وقت یونائیٹڈ نیشن کے تلوے چاٹنے کوئی فوجی گیا تھا کہ سیاستدان ؟ دنیا جانتی ہے اس وقت کا حکمران یونائیٹڈ نیشن کے حکم کی پیروی نا کرتا تو آج کشمیر بھی آزاد ہوتا بلکہ پاک فوج کے ہزاروں سپاہی اور افسران شہید نا ہوتے بھلا ان قربانیوں میں کونسا سیاستدان جس نے کارگل جا کر گولیاں چلائیں؟ 
2001 میں جب امریکہ نے پتھر ئکے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت افغانستان کی سرحد پر فوج کے علاوہ کونسے سیاستدان نے پہرہ دیا ؟
2008 میں بمبئی حملے ہوئے انڈیا نے الزام پاکستان پر لگایا مگر وہ اس الزام کو ثابت نا کر سکا مگر ہمارا ہی ایک سیاستدان اٹھا اور شور شروع کر دیا کہ بمبئی حملے آئی ایس آئی اور ایک مذہبی جماعت نے کروائے جس کی پاداش میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں شامل کر دیا اور آج تک ہم اس کا خمیازہ  ہمیں آج بھی بھگتنا پڑ رہا ہے لہذہ سوچئے پھر بولئے ،چوکیدار نہیں محافظ 
#قصوریات

Monday, 28 October 2019

مولانا فضل الرحمن بھی خارجیانہ روش پر

 
**تحریر غنی محمود قصوری **

ارض پاک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی اداروں سے ٹکراءو ہے جس سے  پاکستانی گورنمنٹ کے علاوہ  عام پاکستانی عوام کا جانی اور مالی نقصان بھی ہوتا ہے یوں تو قیام پاکستان کے بعد  سے ہی ایسے شر پسند عناصر اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ابھرنے لگے تھے مگر پچھلی تین دہائیوں سے ایسے شر پسند عناصر اور تنظمیوں میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے پیچھے خالصتا پاکستان مخالف بیرونی ہاتھ ہیں جیسا کہ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کی تانیں اسرائیلی موساد اور ہندوستانی خفیہ ایجنسی را سے ملتی ہیں 
 حالانکہ آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 256 کے تحت کوئی بھی سیاسی و مذہبی جماعت، تنظیم یاں فرد ایسی کوئی بھی ٹیم تیار نہیں کر سکتا جو فوج جیسی صلاحیت رکھتی ہو یعنی کہ ایسا دستہ جو مسلح ہو یاں غیر مسلح ہو کر  فوج جیسی کاروائیاں کر سکے، مار کٹائی وگوریلا جنگ  اور روایتی جنگ جیسی صلاحیتیں رکھتا ہو آئین میں اس آرٹیکل کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی شخص یاں گروہ اپنی فوج بنا کر ارض پاک کو نقصان نا پہنچا سکے کیونکہ ماضی میں اسی بدولت مکتی باہنی بنا کر چند بے ضمیروں نے 1971 میں ارض پاک کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا تھا 
آئین پاکستان کے علاوہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اپنے مسلمان ملک کے  اداروں سے مسلح ٹکراؤ کی بڑی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور ایسا کرنے والوں کو خارجی یعنی دائرہ اسلام سے خارج  قرار دیا گیا ہے اور خارجیوں کے متعلق ارشاد ہے کہ یہ جہنم کے کتے ہیں 
آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی فرد ،گروہ یاں جماعت کسی بھی حکومتی ادارے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کر سکتا ہے 
پاکستان میں ایسی کئی سیاسی و مذہبی جماعتیں ہیں جو آئین پاکستان اور احادیث نبوی  کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی اداروں پر یلغار کر چکی ہیں جن میں حالیہ دہائی میں  سر فہرست تحریک طالبان پاکستان، ایم کیو ایم  بی ایل اے ،بی ایل ایف اور پی ٹی ایم یعنی پشتون تحفظ موومنٹ ہیں جو کھلم کھلا آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرتی رہی ہیں بلکہ کئی بار مسلح ریاستی اداروں پر یلغار بھی کر چکی ہیں جیسا کہ رواں سال 26 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں آرمی چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم کے کارکنان نے حملہ کیا اور 5 فوجی شہید اور درجن کے قریب زخمی ہوئے مگر افسوس تو مولانا فضل الرحمن کی سیاسی جماعت کی ذیلی عسکری ونگ انصار الاسلام پر ہے کہ جس نے کل بروز پیر بلوچستان کے علاقے برکھان میں لیویز فورس کی چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس پر لیویز فورس نے اپنے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی جس سے انصار الاسلام کے بدمعاش بھاگ گئے مولانا صاحب آپ تو ایک عالم دین اور بزرگ سیاستدان ہیں کیا آپ نے احادیث نبوی اور آئین پاکستان کا مطالعہ نہیں کیا؟  اگر آپ واقعی  اسلام آباد کی بجائے اسلام کے ،مجاہد ہیں تو اپنی اس جماعت انصارالاسلام سے برات کا اعلان کیجئے تاکہ واضع ہو سکے کہ آپ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے ضامن ہیں  اور آپ کا مقصد اسلام ہے ناکہ کرسی وزارت اسلام آباد یقینا مولانا صاحب آپ کو اپنی جماعت کی کرتوت کی خبر تو مل ہی گئی ہوگی تو پھر دیر نا کیجئے وضع کیجئے کہ کرسی وزارت اسلام آباد یاں صرف اسلام  
#قصوریات

Sunday, 20 October 2019

پاکستانیوں کی کشمیریوں سے محبت کی مثال



**غنی غنی محمود **

ماں باپ سے محبت ایک فطری عمل ہے مگر بیٹیوں کو ماں باپ سے لڑکوں کی نسبت زیادہ محبت ہوتی ہے مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے  ملین مارچ کیلئے 20 اکتوبر کی  تاریخ مقرر تھی مگر سابق سربراہ آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل حمید گل مرحوم کی زوجہ محترمہ کی نماز جنازہ بھی 20 اکتوبر بوقت 2:30 پر تھی 
جب ماں باپ فوت ہو جائیں تو بہت دکھ ہوتا ہے مگر جب باپ کا سایہ پہلے ہی سر سے اٹھ چکا ہو تو پھر ماں کے مرنے کا دکھ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے عظمی گل جنرل حمید گل کی اکلوتی بیٹی ہیں مگر امت کی اس عظیم  بیٹی نے ثابت کر دیا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں 2:30 پر اپنی شفیق و پیاری ماں کا جنازہ کروا کے ہماری یہ بہن  انتہائی دکھ اور پریشانی میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنا نا  بھولی اور کشمیر ملین مارچ میں اپنے مقررہ وقت پر خطاب کیا اور ملین مارچ کی نگرانی بھی کی واقع ہی ماں باپ کی تربیت بہت اثر رکھتی ہے جنرل گل مرحوم کی بیٹی نے کل ماں کے غم میں مبتلا ہوتے ہوئے بھی  کشمیریوں کے غم کی آواز بلند کرکے ثابت کر دیا کشمیری اور پاکستانی بھائی بھائی ہیں 
کشمیریوں اور پاکستانیوں کی محبت بہت ہی پرانی ہے کیونکہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کا ناصرف مذہب ایک ہے  بلکہ رسم و رواج اور بولی جانے والی زبان کی بھی آپس میں بہت مماثلت ہے کشمیریوں کی پاکستان سے محبت کا اندازہ قیام پاکستان میں کشمیری لوگوں کی قربانیوں سے اور پاکستانیوں کی کشمیریوں سے محبت کا انداز آزاد کشمیر کی آزادی اور تحریک آزادی جموں و کشمیر کی تحریک سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے 
یوں تو یہ محبت بہت پرانی ہے مگر  جب سے انڈین حکومت نے کشمیر کی خود مختاری ختم کی ہے تب سے اس محبت میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے 
پچھلے تقریبا 3 ماہ سے کشمیری محصور ہیں اور نظام زندگی مفلوج ہو چکا ہے تلاشی کے بہانے نوجوانوں کو اٹھانا اور بعد میں جعلی مقابلوں میں شہید کر دینا انڈین فوج کا گھناؤنا فعل ہے جبکہ کشمیریوں کے پاس کھانے پینے کو بھی کچھ نہیں مگر افسوس کہ کشمیریوں پر انڈیا کے اس بیہمانہ ظلم و تشدد پر پوری عالمی برادری خاموش ہے ماسوائے پاکستان ترکی اور چند اکا دکا ممالک کے 
 مظلوم کشمیریوں  کے اس دکھ درد میں ہر پاکستانی برابر کا شریک ہے اور کشمیریوں پر انڈین ظلم کے خلاف ہر سطح پر اپنی آواز بلند کیئے ہوئے ہے اور تاریخ نے پہلی بار دیکھا کہ پاکستان کے شہروں کے علاوہ دیہاتوں اور گلی محلوں میں پاکستانی پرچم کیساتھ کشمیری پرچم بھی لہرا رہے ہیں جو کہ اس دو طرفہ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ایسی ہے محبت کا اظہار کرنے کیلئے کل پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں کشمیر یوتھ الائنس  ملین مارچ میں لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں  دنیا کا سب سے طویل ترین کشمیری پرچم لہرایا گیا جو کہ تقریبا 5 کلومیٹر پر محیط تھا جس کا مقصد کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیساتھ اسلام آباد میں قائم دنیا بھر کے سفارت خانوں تک پیغام پہنچانا تھا کہ کشمیریوں کے غم میں ہم پاکستانی ہر طرح سے شامل ہیں اور کشمیریوں کا غم ہمارا غم ہے ہم اپنی جان و مال کے ساتھ کشمیریوں کے کندھوں سے کندھے ملا کر کھڑے ہیں ان شاءاللہ 
#قصوریات

Thursday, 17 October 2019

سندھ میں ڈرائیوروں کا قتل پی ٹی ایم کی کامیابی




**تحریر غنی محمود قصوری **

کل سے شوشل میڈیا پر ایک شور برپاء ہے کہ رینجر نے سندھ حیدر آباد میں کاٹھور کے مقام پر فائرنگ کرکے 3 وزیرستانی ڈرائیور مار دیئے جس کی ویڈیو بھی ساتھ وائرل کی جا رہی ہے یقینا یہ ویڈیو ان ڈرائیوروں کے ساتھی نے بنائی ہو گی یقینا یہ ایک افسوس ناک سانحہ ہے مرنے والے تینوں ڈرائیو افغانی تھے وزیرستانی نہیں اور ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں ڈرائیور ہیں اور محض 3 رینجر اہلکار مگر اس کے باوجود ان اہلکاروں نے ڈرائیوروں کے مشتعل ہجوم سے پرسکون بات چیت کی مگر ان ڈرائیوروں نے بجائے ماننے کے رینجر اہلکار سے اس کی  رائفل چھیننے کی کوشش کی جس پر رینجر اہلکار نے فائرنگ کی جس کی بدولت 3 ڈرائیور جانبحق ہو گئے  کیا سچ ہے کیا غلط اس کی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے کیونکہ افواج پاکستان کا اصول ہے کہ غلطی ثابت ہونے پر کورٹ مارشل نا کہ وقتی معطلی جس کی مثال رواں سال ایک بریگیڈیئر کی سزائے موت اور جنرل کو 12 سال کی سزا 
 مگر اس کی آڑ میں خارجی پی ٹی ایم کے کتے اپنا ہدف حاصل کر رہے ہیں اور وہ ہدف ہے فوج سے نفرت اور بغاوت سب جانتے ہیں خارجی ٹی ٹی پی کی ذیلی ونگ پی ٹی ایم کا سربراہ منظور احمد پشتین اس خارجی تحریک طالبان پاکستان  یعنی ٹی ٹی پی کے سرگرم کمانڈر قاری محسن کا سگا بھائی ہے یہ وہی ٹی ٹی پی ہے جس نے ہزاروں فوجیوں اور سیویلین پاکستانیوں کو خود کش بم دھماکے کر کے شہید کیا حتی کہ مساجد تک کو بھی نا بخشا گیا  اور پھر رواں سال اس کی ریزرو ونگ پی ٹی ایم یعنی پشتون تحفظ موومنٹ نے وزیرستان میں آرمی چیک پوسٹوں پر حملہ کرکے درجنوں فوجیوں کو شہید کیا اس خارجی جماعت کا مقصد پاک فوج اور پاکستانی عوام کو آپس میں لڑوانا ہے اور اس غنڈہ جماعت کا مشہور فوج مخالف نعرہ ،یہ کرنل جنرل سب بے غیرت ہر پاکستانی کو یاد 
 مگر فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے درج بالا دونوں جماعتوں کا عملا کام  خودکش دھماکے مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگا کر قتل کرنا اور ملک کی رٹ کو چیلنج کرنا جبکہ اس کے برعکس پاک فوج کے کارنامے سیلاب و زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات میں پاکستانی عوام کی مدد اور سرحد پر پاکستان کے سب سے بڑے دشمن ہندو پلید کے سامنے سینہ سپر ہو کر اس کا مقابلہ کرنا اور ہم عوام کا اپنے ملک کی سرحدوں میں با اطمینان رہنا کیونکہ سرحدوں پر پورے عالم کے سامنے ہمارے شیر دل فوجی جوان ڈٹے ہوئے ہیں 
فیصلہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے 
#قصوریات

Sunday, 13 October 2019

صحت کے شعبے میں قصور وار کون؟

 

**تحریر غنی محمود قصوری **
ملک پاکستان میں صحت کے شعبے میں بڑی لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس سے اس شعبہ کی حالت ابتر ہے جس کی دو وجوہات ہیں 
1 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی کمی
 2 پیرامیڈیکس کی ذاتی محدود پریکٹس کی ممانعت 
 کسی بھی  شعبے میں  گھر پڑھنے کیساتھ چھوٹا موٹا کاروبار کر کے آپ  اپنا روزگار شروع کر سکتے ہیں اور اپنی تعلیم کے اخراجات نکال سکتے ہیں جبکہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کیلئے ایف ایس سی کرنے کے بعد کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لینا لازم ہے اور پانچ سال تک کالج اٹینڈ کرنا بھی لازم ہے
جس کیلئے بڑا سخت میرٹ ہوتا ہے جو طالب علم میرٹ کی بنا پر سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں لے پاتے وہ پھر پرائیویٹ کالجز کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم نمبروں والے کو بھی آسانی سے داخلہ مل جاتا ہے  
 پرائیویٹ کالجز کی پانچ سالہ فیس 50 سے 90 لاکھ ہے جو کہ کوئی غریب پوری زندگی بھر  بھی نہیں کما سکتا جبکہ سرکاری میڈیکل کالجز میں ایم بی بی ایس کا داخلہ  آفیسرز اور بیوروکریٹس کی اولادوں کو ہی ملتا ہے
یوں غریب طالبعلم بچے اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں 
ہمارے ملک میں ڈسپنسر ایک سالہ کورس کر کے ڈاکٹر کی معاونت کرتا ہے  امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی دور دراز علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز میسر نہیں وہاں  پیرامیڈیکس ڈاکٹرز کی جگہ کام کرتے جبکہ ہمارے ہاں ایک سالہ کورس ڈسپنسر کرنے والا اتائی ڈاکٹر کہلواتا ہے حالانکہ یہی اتائی ہمارے ڈی ایچ کیو،ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی اور بی ایچ یو میں ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح انجیکشن بھی لگاتے ہیں نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں دوائی بھی دیتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں کے بعد یہی کوالیفائڈ ڈسپنسر اپنے نجی کلینک کھولنے پر اتائی کہلواتے ہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام نہیں سرکاری ہسپتال کا ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے نجی کلینک میں کم از کم فیس 500 روپیہ لے رہا ہے جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فیس ہزاروں روپیہ ہے  اور دوائی جو میڈیکل سٹور سے خریدنی ہے وہ الگ  جبکہ مزدور کی دیہاڑی 700 روپیہ ہے یہی کوالیفائڈ ڈاکٹرز اپنے سرکاری ہسپتالوں میں کسی غریب کی بات سننے کے روادار نہیں ہوتے ایک غریب انسان بخار کی دوائی لینے  سرکاری ہسپتال جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پرچی بنوانے سے اپنی بھاری آنے پر معائنہ کروا کر دوائی حاصل کرنے تک کم از کم ٹائم 3 گھنٹے جبکہ  مزدور کی مزدوری کا ٹائم صبح 7 بجے  شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے ان سرکاری ہسپتالوں کا ٹائم 8 بجے یعنی کہ اگر کوئی 60 سے 70 روپیہ کی دوائی سرکاری ہسپتال سے لینے جائے تو اسے اپنے 700 روپیہ سے ہاتھ  دھونے پڑینگے  ویسے تو گورنمنٹ کی طرف سے ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک بی ایچ یو ہسپتال ہوتا ہے جس میں دفتری اوقات کے بعد بھی ایل ایچ ڈبلیو یعنی لیڈی ہیلتھ ورکر اپنے گھروں میں فرسٹ ایڈ میڈیسن کیساتھ موجود ہوتی ہیں مگر افسوس کہ ان کو بھی صرف پیراسیٹامول ،فولک ایسڈ اور کنڈومز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا جبکہ یہی پیراسیٹامول ہر گھر میں موجود ہوتی ہے
کچھ عرصہ قبل سٹیرائیڈ اور اینٹی بائیوٹک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج جلد آرام اور اپنے نجی کلینک کی رینکنگ  بڑھانے کے علاوہ میڈیکل سٹورز سے کمیشن حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے یہ پانچ سالہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ڈبل ٹرپل اینٹی بائیوٹکس میڈیسن تک دینے سے گریز نہیں کرتے اگر کوئی ٹرپل نا بھی دے تو ڈبل تو لازم ہے جیسے کہ انجیکشن میں سیفٹرائیکزون سوڈیم تو لازمی جز ہے جبکہ گولیوں میں ،کو اماکسی سلین،سیفراڈون اور سیفیکزائم وغیرہ بلا ضروت دی جاتی ہے 
ایک جانب تو گورنمنت نے چوروں ڈاکوءوں کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ان ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی بے جا لوٹ مار بداخلاقی اور ناجائز آمدن پر خاموش بھی ہے بلکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی آڑ میں ان کو مذید تحفظ حاصل ہو گیا ہے کیونکہ ڈسپنسر اور دیگر شارٹ ہیلتھ کورسز والے کوئی بھی ذاتی پریکٹس نہیں کر سکتے جس سے بہت سے کوائیک یعنی اتائی کاروبار چھوڑ چکے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں نے ذاتی طور پر ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے جو کہ سخت حیران کن بات ہے کم ازکم ڈسپنسر ایک سال ہسپتال میں دوران کورس ،ڈرپ ،انجیکشن اور پیشاب کی نالی لگانا سیکھ جانے کے علاوہ بہت سی ادویات بارے پڑھ کر ہسپتال میں عملی طور پر ڈاکٹرز کیساتھ تجربہ بھی حاصل کر چکا ہوتا ہے لہذہ گورنمنٹ کو ان پیرامیڈیکس کے بارے سوچنا ہوگا ورنہ غریب اپنی صحت کا دشمن تو پھر بنا ہی ہے
#قصوریات

Thursday, 10 October 2019

حافظ سعید ایک کٹا درخت

تحریر غنی محمود قصوری  



مشرف دور میں حافظ محمد سعید حفظہ اللہ نظر بند تھے  مگر آج حافظ محمد سعید حفظہ اللہ ملک پاکستان میں جبکہ پرویز مشرف بیرون ملک 
زرداری دور حکومت میں 26-11 کی آڑ میں اس وقت کی گورنمنٹ کے ہاتھوں حافظ محمد سعید حفظہ اللہ نظر بند ہو گئے تھے مگر آج زرداری صاحب بھی جیل میں 
نواز شریف بہادر کے دور حکومت میں ایک مرتبہ پھر پروفیسر حافظ محمد سعید حفظہ اللہ نظر بند رہے مگر آج وہی نواز شریف صاحب کہتے رہے مجھے کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا اور اور آج جیل میں بیٹھ کر رو رہے ہیں کہ مجھے جیلمیں  کیوں ڈالا 
جب پہلی بار حافظ محمد سعید حفظہ اللہ نظر بند ہوئے تھے تو مخالفین جو کہ حافظ سعید کے ذاتی مخالفین نہیں بلکہ جہاد کے مخالفین ہیں ،نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اب تو حافظ سعید کی جماعت ختم ہو جائے گی سارے کارکنان بھاگ جائینگے جماعت ختم ہو جائے گی کشمیر کا نام لینے والا کوئی نا ہوگا مگر دنیا نے دیکھا کہ حافظ سعید پہلے سے زیادہ  مضبوط اور تنا ور درخت بن کر زیادہ چھاءوں دینے لگا 2005 کا زلزلہ آیا اسی حافظ سعید کی جماعت نے سب سے زیادہ کام کیا اور یوں جس جماعت اور حافظ سعید کی پہچان پاکستان میں بھی نا ہونے کے برابر تھی وہی جماعت پوری دنیا میں بہت بڑی پہچان کیساتھ ابھری اسی طرح زرداری اور نواز دور میں پابندیوں اور نظر بندیوں کے دوران لوگ کہتے رہے اب کی بار جماعت اور حافظ سعید نہیں بچیں گے مگر ہر بار یہ جماعت ایسے پھیلی پھولی کہ جیسے کسی درخت کو کاٹ چھانٹ کر چھوٹا کر دیا جاتا ہے مگر دوبارہ پھوٹنے کے بعد اس درخت کی ٹہنیاں اور پتے پہلے سے بھی زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں اور اس کی چھاءوں مذید بڑھ جاتی ہے 
بلکل اسی طرح وزیر اعظم عمران خان کے دور  حکومت میں حافظ محمد سعید حفظہ اللہ اور اس کی جماعت کے ساتھ وہی کچھ  ہو رہا ہے جو پچھلی حکومتوں نے امریکہ کو خوش کرنے کے لئے کیا
مجھے نہیں پتہ کہ کس بیرونی دباءو کے اوپر ایسا ہو رہا ہے میں تو بس اتنا جانتا ہوں کلہاڑی اس گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس جماعت کی ٹہنیاں  اور پتے کاٹ رہی ہیں مگر ان شاءاللہ پھر یہ کاٹا ہوا درخت بہت جلد زیادہ ٹہنیوں اور پتوں کیساتھ عالم اسلام و پاکستان کو چھاءوں مہیا کرے گا 
کیونکہ یہ اپنی گورنمنٹ اور ملک کے ساتھ ٹکراتے نہیں اور مار کھا کر صبر کے کام کرتے رہے ہیں اور اب بھی ایسا ہی کرینگے ان شاءاللہ 
مگر عمران خان صاحب یاد رکھو اگر اس ملک میں کسی جماعت نے اپنی فوج اور ریاست پر بندوق نہیں اٹھائی تو وہ صرف حافظ سعید کی ہے جماعت ہے اور اس کے اوپر پابندیاں نظر بندیاں  لگانے والے یاں تو خود ساختہ جلاوطنی پر مجبور ہیں یاں پھر جیل میں اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کیونکہ اس جماعت نے نا کبھی ہتھیار اٹھایا اور نا اٹھائیں گے مگر میرا رب بہتر انصاف کرنے والا ہے  کیونکہ معاملہ جہاد کا ہے جو قیامت تک جاری رہے گا اگر حافظ سعید طبعی موت فوت ہو جائے یاں شہید کر دیا جائے تو یہ جہاد رکے گا نہیں بلکہ کوئی اور اس کی جگہ آ جائے گا  کیونکہ حافظ سعید بات جہاد کی کرتا ہے اور اس پر عمل کشمیری لوگ کرتے ہیں اور نقصان انڈیا امریکہ اسرائیل کا ہو رہا ہے 
#قصوریات