Tuesday, 27 December 2022

کپل سوئپ نائٹ کھلی بے حیائی اور حکمرانوں کے ایمان کا امتحان ازقلم غنی محمود قصوری





بطور صحافی و کالم نگار میں نے ہر دور حکومت میں یہی کوشش کی ہے کہ پاکستان کے  منفی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی بجائے مثبت پہلوؤں کو دکھایا جائے تاکہ نیکی کو دیکھ کر نیکی کرنے کا جذبہ پیدا ہو کیونکہ فرمان ربانی ہے


يُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَيُسَارِعُوْنَ فِی الْخَيْرٰتِ ط وَاُولٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِيْنَo


(آل عمران، 3/ 114)


وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں میں تیزی سے بڑھتے ہیں، اور یہی لوگ نیکوکاروں میں سے ہیں


جیسے کے نیکی کا حکم دینا لازم ہے تاکہ نیکی کے بار بار حکم سے لوگ نیکی کی جانب کھینچے چلے آئے ایسے ہی آج کل کے ڈیجیٹل دور میں کچھ برائیوں کو بار بار دکھانے کی بجائے انہیں چھپانا بھی نیکی ہے کیونکہ بسا اوقات کسی گندے کام کو اگر بار بار دکھلایا جائے تو کمزور ایمان والے ڈگمگا کر اس برائی کا شکار ہو سکتے ہیں 



ایک پیشہ ور صحافی ہونے کے ناطے سے  میرا رابطہ الحمدللہ پاکستان کے تقریباً ہر ضلع کے صحافیوں سے ہے جہاں ہم ایک دوسرے سے مختلف پہلوؤں پہ تبادلہ خیال کرتے رہتے ہیں

آج کراچی کے ایک جرنلسٹ روم میں نجی ٹی وی چینل کی خبر ویڈیو رپورٹ کی صورت میں دیکھنے کو ملی تو یقین نا آیا کہ کیا ایک مملکت اسلامیہ میں اسلامی حکمرانوں کی موجودگی میں ایسا بھی ممکن ہے 


خبر کچھ یوں ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک ایسا خلاف دین کام کیا جانے والا ہے  کہ جس کا ذکر سنتے ہی لفظ لعنت منہ سے ادا ہوتا ہے

اس تہوار کا نام  ،کپل سوئپ نائٹ، ہے جس میں شرکت کی ٹکٹ 25000 رکھی گئی ہے 


کپل سوئپ یعنی جوڑوں کی ایکسچینجنگ


وہ جوڑے جو ایک دوسرے کا لباس ہیں اور رب کے بڑے خاص ہیں

جنس مخالف جب نکاح کی صورت میں ملاپ کرتے ہیں تو رب کی رحمت پاتے ہیں اگر ایسا نہیں کرتے تو زنا ہوتا ہے جو کہ سب سے برا کام اور بہت بڑی برائی ہے 


اس ہونے والے تہوار کی سوشل میڈیا پہ خوب تشہیر کی جا رہی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ شرکاء کو سیکیورٹی ،ڈانس فلور اور کمرے مہیا کئے جائیں گے 

میں زیادہ وضاحت میں نہیں جانا چاہتا آپ سب سمجھتے ہیں ،کپل سوئپ میں کیا ہوتا ہے


میں اور تو کچھ نہیں لکھ سکتا صرف اتنا ہی لکھ سکتا ہوں اس کے کروانے والوں،اس میں شرکت کرنے والوں،اس کی تشہیر کرنے والوں اور اس کے سرکاری و غیر سرکاری جو بھی معاونین ہیں ان پر اللہ اور اس کے رسول کی لعنت ہو اور یہ لوگ دنیا میں بھی عبرت کا نشان بنیں


یہ ایسا گندہ اور قبیح فعل ہے جس کی اسلام کے ساتھ ہر مذہب میں سختی سے ممانعت ہے ماسوائے وجود خدا کے انکاری لبرم ازم کے 



ایک عرصے سے اس ارض پاک کو لبرل سٹیٹ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا عملی ثبوت آنے والے دنوں میں ،کپل سوئپ نائٹ اینوٹ سے ہو گا


یہ سب سن اور دیکھ کر اگر اب بھی گورنمنٹ خاموش ہے اور کچھ کر نہیں پاتی تو پھر واللہ بہت جلد رب کے عذاب کے لئے تیار رہیں جس میں بدکاروں کے ساتھ نیک لوگ بھی زیر عذاب آئیں گے کیونکہ اللہ رب العزت پہلے تنبیہہ کر چکے ہیں کہ کھلی بے حیائی سے بچنا مگر یہاں تو کھلی بے حیائی کی سرعام دعوت دی جا رہی ہے 


آئیں سب مل کر اس آنے والے تہوار کے خلاف یک جان ہو کر آواز اٹھائیں اور سینہ سپر ہو کر ان دین مخالف لوگوں کا مقابلہ کریں

اللہ ہم سب کی مدد فرمائے اور ایسے لوگوں کو غارت کرے جو دین اسلام کا مذاق بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر حقیقت میں خود ایک مذاق اور گالی ہیں

 آمین 

Thursday, 22 December 2022

جو کمزور ہوتا ہے مستقبل میں وہی پرزور ہوتا ہے ازقلم غنی محمود قصوری




تین دنوں سے ایک دوست کی دکان کے باہر مولی کے پڑے پتوں کو دیکھ رہا تھا

آج صبح بھی ان پہ نظر پڑی تو یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ جو چھوٹے سے پتے تھے وہ پھل پھول رہے ہیں اور جو بہت بڑے پتے تھے اور مولی کی آن بان شان اور پہچان ہونے کے ساتھ وزن بھی تھے وہ سوکھنا شروع ہو چکے ہیں

حالانکہ کچی زمین کے قریب بڑے پتے ہیں اور چھوٹے پتے ان کے اوپر ہیں 

زمین سے اگر توانائی حاصل ہو رہی ہے تو وہ بڑے پتوں کو ہو رہی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے بڑے پتے اب اسی مٹی پر ہیں کہ جس میں بیج دب کر مولی بنا مگر پھر بھی سوکھ رہے ہیں مگر وہ  جو اوپر محض ہوا ڈائریکٹ حاصل اور توانائی انڈائرکٹ حاصل کر رہے ہیں وہ خوب صورت و تروتازہ ہیں

یہ ایک بہت بڑی مثال ہے ہمارے لئے کہ ہر کمزور و چھوٹی چیز بیکار و حقیر نہیں ہوتی اور ہر طاقتور و بڑی چیز سدا طاقت ور و توانا نہیں رہتی جیسے کہ انسان ہے ماں کے پیٹ میں بے جان نطفے سے بڑھتا ہے اور ماں سے خوراک حاصل کرکے دنیا میں آکر پھلتا پھولتا ہے اور جوانی میں جا کر خوب تندرست و توانا ہو کر اکڑتا ہے اور سوچتا ہے کہ شاید اب یہ جوانی یہ طاقت سدا رہنی ہے مگر اللہ اسے دکھلاتا ہے کہ دیکھ اب بڑھاپا آ رہا ہے تو سوکھ جائے گا 

اچھے کھانے کھا کر خوب توانائی لے کر بھی سوکھتا رہے گا سو اللہ سے ڈر اور گناہ سے بچ کیونکہ یہ مثالیں دنیاوی ہیں اخروی زندگی تاحیات ہے جہاں ہمیشگی تروتازگی رہے گی مگر اعمال کی صورت میں اگر اعمال اچھے ہوئے تو ہمیشکی جنت تروتازگی کی صورت میں اگر اعمال بد ہوئے تو جہنم کی صورت میں سزا

مولی کی کے اس تجزئیے سے میرے ذہن میں اللہ کے نبی کی ایک اور حدیث آ گئی کہ جس میں فرمایا گیا کہ


ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا،مجھے اپنے ضعیفوں اور کمزوروں میں تلاش کرو، اس لیے کہ تم اپنے ضعیفوں اور کمزوروں کی (دعاؤں کی برکت کی) وجہ سے رزق دیئے جاتے ہو اور تمہاری مدد کی جاتی ہے

جو جو میں اس مولی کے پتے پر تجزیہ کرتا گیا واقعات اور حدیثیں میں ذہن میں آتی گئیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کمزوروں کے باعث ہی طاقتور ہیں اگر وہ ان کی مدد نہیں کرتے تو اللہ تعالی کمزوروں کو طاقتوروں پہ حاوی کر دیتا ہے

اللہ تعالی ہم سب کو مالی،جسمانی و  دیگر کمزوروں کا سہارا بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین



Thursday, 15 December 2022

ناکام دشمن کے ناکام وار ازقلم غنی محمود قصوری


حضرت انسان کی آمد زمین کے کچھ عرصہ بعد ہی ایک دوسرے سے دشمنی شروع ہو گئی تھی جس کی وجہ بغض،حسد و تکبر ہے اور اسی باعث ہمارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کے مابین جھگڑا اور پھر کرہ ارض پہ پہلا قتل ہوا

یہ حسد مخالفین کے لئے  بہت کچھ کرواتا ہے مگر  کامیابی تب ہی مانی جاتی ہے جب آپ کسی کو مات دیں اور اگلا دب جائے اور دوبارہ ابھر نا پائے بصورت دیگر آپ ناکام ہیں بس اگلا آزمائش سے گزرا ہے

اگر حقیقت جائے تو بغض و حسد میں وار کرنے والا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ناکام و ذلیل ہوتا ہے


جس طرح انسانوں میں آپسی بغض و حسد ہوتا ہے ایسے ہی ملکوں و ریاستوں میں بھی بغض و حسد کی بنیاد پہ دشمنیاں ہوتی ہیں

ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو بھی ہم سے بڑا بغض اور حسد ہے اور اسی بغض میں اس نے اپنا پیسہ و توانائی خرچ کرکے پاکستان کو کئی بار مات دینے کی کوشش کی مگر بفضل ربی پاکستان نا دبا،جھکا،نا ڈرا،نا ٹوٹا بلکہ پہلے سے مذید طاقتور ہو کر ابھرا 

ہندوستان کی پاکستان مخالف بغض اور عملی وار پہ اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کئی جامع کتابیں لکھی جا سکتی ہیں سو اس سب کو چھوڑ کر میں اس کے ایک وار پہ لکھتا ہوں

ہندوستان کا پاکستان کے خلاف ایک وار تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کی شکل میں بھی ہے اس ٹولے میں بظاہر تو لمبی داڑھیوں اونچی شلواروں والے باعمل لوگ ہیں مگر درحقیقت دین محمدی سے ناواقف ظاہری مسلمان ہیں کہ جن کو معلوم ہی نہیں کہ اللہ کے فرمان کے مطابق ایک مومن مسلمان کی شان بیت اللہ سے زیادہ ہے اور اس کو تکلیف دینا بہت بڑا گناہ نا کہ جہاد 


 2009 آپریشن راہ نجات میں اس بات کی تصدیق ہو گئی تھی کہ یہ ٹی ٹی پی نامی ٹولہ ہندوستانی پے رول پہ کام کر رہا ہے جن سے دوران آپریشن پکڑے جانے پہ امریکی و ہندوستانی اسلحہ و کرنسی برآمد ہوئی اور ان کے روابط بھی کنفرم ہوئے

نائن الیون کے بعد امریکی بدمعاشی سے پاکستان متاثر ہوا تو پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے بھارت نے قوم پرست لوگوں کو ڈھونڈا اور ریاست پاکستان کے خلاف فتوے جاری کروائے 2004 میں جاری ہونے والے پاکستان مخالف 

ان فتوؤں میں کلیدی کردار مفتی نظام الدین شامزئی کے فتویٰ نے کیا اور 30 سے زائد مسلح ریاست مخالف جتھوں نے یک جان ہو کر  تحریک طالبان پاکستان کے نام سے بیت اللہ محسود کی قیادت میں اعلان جنگ کیا اور پاکستانی فوج اور عوام پاکستان پہ حملے شروع کئے

اس سے قبل یہ مختلف گروہوں میں افواج پاکستان سے لڑ رہے تھے مگر اب بھارت نے ان کو یکجان کیا اور اسے گولہ بارود مہیا کیا تاکہ یہ لوگ جہاد کے نام پہ فساد مچا کر ایک طرف جہاد کو بدنام کریں تو دوسری طرف خودکش حملے کرکے افواج و عوام پاکستان کو خوفزدہ کرکے مایوسی پھیلا کر اپنے عزائم پورے کریں 

حتی کہ بھارت نے اس تنظیم کو کرائے کے مفتی بھی فراہم کئے کہ جنہوں نے میر جعفر و صادق کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستانی فوج اور عوام پاکستان کے قتل کے فتوے جاری کئے اور اسے عین شرعی قرار دیا


2004 سے اس کالعدم تنظیم نے بہت نقصان پہنچایا  مگر اس کا ایک نقصان نا قابل تلافی اور نا قابل بھول نقصان آرمی پبلک سکول پہ حملہ ہے 


16 دسمبر 2014 کو جب قوم 16 دسمبر 1971 کا سقوط ڈھاکہ کا غم دل میں محسوس کئے بھارت سے نفرت میں اضافہ کر رہی تھی تب اس خارجی دہشت گرد تنظیم نے آرمی پبلک سکول پشاور میں سکول میں داخل ہو کر 140 سے زائد افراد بمعہ معصوم نہتے بچوں کو شہید کر دیا اور فخر سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی 

یہ دن جب بھی آتا ہے قوم کے دو زخم تازہ ہو جاتے ہیں جو بھارت نے پہنچائے ہیں 

اول سقوط ڈھاکہ 

دوم سانحہ اے پی ایس پشاور


دشمن نے ان دونوں سانحات پہ گمان کر لیا تھا کہ اب پاکستان ٹوٹ جائے گا اور یہ قوم بکھر جائے گی مگر ناکام دشمن نے یہ دن دیکھا کہ پاکستانی قوم پہلے سے زیادہ متحد ہوئی اور اس کے عزائم کے آگے آہنی دیوار بن گئی اور ان شاءاللہ قیامت تک ہمارے اس ازلی دشمن کو ناکامی ہی ہو گی کیونکہ الحمدللہ اتنے بڑے سانحے کے بعد آج بھی معصوم بچے آرمی پبلک سکول میں بغیر کسی خوف و خطر کے جاتے ہیں اور بلند آواز میں دشمن کو للکارتے ہیں 

مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے


دشمن کے بچوں کو یہ پڑھانا ہے کہ جتنا مرضی حسد و بغض کر لو 

اپنی قوت خرچ کر لو اپنا پیسہ خرچ کر لو یہ پاکستانی قوم مغلوب نہیں ہو گی کیونکہ ایک اللہ کو ماننے والے صرف ایک اللہ کے سامنے ہی جھکتے ہیں تمہاری طرح ہر چوکھٹ پہ نہیں کیونکہ تم ہندو دنیا کے نجس ترین لوگ ہو جن کے تین ارب سے زائد خدا ہیں اور اسی لئے تمہیں ہر چوکھٹ پہ جھکنے کی عادت ہے  

پاک فوج کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف کئے گئے اپریشن رد الفساد،راہ نجات،ضرب عضب اور دیگر آپریشنز کے بعد یہ خارجی ٹولہ بڑی حد تک ٹوٹ گیا مگر اب گزشتہ ماہ سے ایک بار پھر یہ ٹولہ یک جان ہو رہا ہے اور اب اس کی افرادی قوت 40 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ نئی شامل ہونے والے دہشت گرد گروپوں سے اب 40 کے قریب گروپ تحریک طالبان پاکستان کا حصہ بن گئے ہیں مگر ان شاءاللہ ماضی کی طرح اب ایک بار پھر ناکامی ان کا مقدر بنے گی کیونکہ اللہ کے فضل سے افواج پاکستان اور عوام پاکستان ان کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہیں

اب کی بار ان کا مکمل خاتمہ یقینی ہے ان شاءاللہ 

Tuesday, 13 December 2022

یہ محبت کیوں ضروری ہے؟ ازقلم غنی محمود قصوری





گزشتہ کئی ماہ سے ملک کے اندر سیاسی طور پہ ہیجانی کیفیت جاری ہے 

سیاستدان ایک دوسری کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں اور کھلے عام افواج پاکستان کو لتاڑا جا رہا ہے

کل تک جو جماعتیں اپوزیشن میں تھیں وہ آج حکومت میں ہیں اور جو حکومت میں تھی وہ اپوزیشن میں

اس تبدیلی کا الزام پاک فوج پہ لگایا جا رہا ہے مگر افسوس کہ یہ سیاسی جماعتوں کا وطیرہ ہے کہ اقتدار میں ہو تو فوج ان کو اچھی لگتی ہے اور اپوزیشن میں جاتے ہی ان کی توپوں کے رخ فوج کی طرف ہو جاتا ہے


جبکہ مذہبی و مذہبی سیاسی جماعتیں جو کہ داعیت ( دعوت دین)  میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، ان میں سے کچھ اپنی من پسند سیاسی جماعت کی خاطر دوسری سیاسی جماعتوں کی عزتیں تار تار کرنے کیساتھ فوج کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہیں

ان مذہبی سیاسی جماعتوں کا اول دن سے یہ اصول رہا ہے کہ جب چندہ لینا ہو تو یہ جماعتیں چندہ کے حصول کی خاطر لینے والے کا نا تو  مسلک دیکھتی ہیں نا ہی سیاسی وابستگی ،اس وقت یہ جماعتیں نیوٹرل ہونے کا واویلا کرتی ہیں مگر اپنا مطلب نکلتے ہی مخصوص سیاسی جماعت سے سیاسی وابستگی کے باعث اپنی اوچھی حرکتوں پہ اتر کر دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح  افواج پہ بھی وار کرتی ہیں اور ان کے کارکنان کھلے عام افواج پاکستان کو گالیاں دیتے ہیں


 کل تک یہی سیاسی مذہبی جماعتیں بھی اپنے اسٹیج سے پاک فوج کے فضائل قرآن و حدیث سے بیان کرتی رہی ہیں

اب بندہ ان سے پوچھے کہ بھئی تم کل غلط تھے کہ آج؟

 بطور مسلمان ہمارا معیار کسی دوسرے مسلمان گروہ،جماعت ،تنظیم یا فرد سے اس معیار کا ہونا چائیے کہ جسطرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے 


مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الإِيمَانَ


جِس نے اللہ کی خاطر مُحبت کی ، اور اللہ کی خاطر نفرت کی، اور اللہ کی خاطر ہی (کسی کو کچھ) دِیا ، اور اللہ ہی کی خاطر(کسی کو کچھ) دینے سے رُکا رہا ، تو یقیناً اُس نے اپنا اِیمان مکمل کر لیا۔سنن ابو داؤد /حدیث 4683

یعنی کہ کسی سے اظہار محبت اور اظہار بغض اللہ کی رضا کی خاطر ہی ہونا چائیے اور اسی لئے ہم پاک فوج سے محبت کرتے ہیں کیونکہ وہ جہاد رباط کی پشتی بان ہے حتی کہ یہی نام نہاد مذہبی سیاسی و جہادی جماعتیں بھی جہاد کے نام پہ افواج پاکستان کا اتحادی ہونے کی دعویدار ہیں 

 ہماری آجکل کی کچھ  مذہبی سیاسی جماعتیں دعوی داعیت کا کرتی ہیں کہ ہماری دعوت ہر کسی کے لئے ہے،ہم ہر مسلمان کیلئے دعاگو ہیں ،ہم فرقہ واریت نہیں پھیلاتے،ہمیں پاکستان و اسلام عزیز ہے ہماری جان بھی پاکستان و اسلام کیلئے قربان ہے 

مگر چندہ لے کر فرقہ واریت کو ہوا دینا اور سیاسی اشاروں پہ ناچ کر محض ایک دو سیٹوں کی خاطر دوسروں پہ طعن تشنیع کرکے ملک میں بدامنی کی کیفیت پیدا کرنا اور افواج پاکستان کے خلاف زہر اگلنا اکثر جماعتوں کا وطیرہ بھی بن چکا ہے 

خاص طور پہ ان جماعتوں کے کارکنان اپنے امیر پہ طعن برداشت نہیں کرتے اور افواج پاکستان خاص طور پہ کمانڈر انچیف پہ کھلے عام وار کرتے ہیں

ان لوگوں نے سابق آرمی چیف کو ننگی گندی گالیاں دیں اور اب موجودہ آرمی چیف جنرل حافظ عاصم منیر کو بھی گالیاں دے رہے ہیں

ان مذہبی سیاسی جماعتوں کے کارکنان دوسروں پہ کفر ارتداد کے فتوی لگاتے نہیں تھکتے ایسے  صاحبان کی خدمت میں یہ بات پیش خدمت ہے کہ جناب ایک طرف امیر ہے تو دوسری طرف اللہ کے نبی کی حدیث ،ایک طرف آپ ہیں تو دوسری طرف اللہ کی کتاب بتاؤ رد کس کا ہو سکتا ہے

برحق کون ہے؟

جناب، آپ کی مانیں کہ اللہ کی کتاب کی؟

آپ کے امیر کی مانیں کہ اللہ کے نبی کی حدیث کی؟

جب ان لوگوں کا  بس نہیں چلا تو یہ لوگ لولے لنگڑے بہانے کرتے ہیں کہ جی باقی ساری فوج ٹھیک ہے کمانڈر انچیف یعنی آرمی چیف غلط ہے 

وہ طاقتور ہے وہ اپنی مرضی کی حکومت لاتا ہے

 میرا ایسے لوگوں سے سوال ہے کہ ظالموں جب تمہارا من پسند حکمران ہوتا ہے تب وہ درست تھا اب جبکہ تمہاری مرضی کا اتر چکا تو آنے والا غلط ہو گیا؟ اب پاک فوج غلط ہو گئی؟

ان صاحبان کی خدمت میں صرف ایک حدیث پیش کرتا ہوں


 اول هذا الا مر نبوة ورحمة، ثم يكون خلافة ورحمة، ثم يكون ملكا ورحمة، ثم يتكادمون عليه تكادم الحمر، فعليكم بالجهاد، وإن افضل جهادكم الرباط، وإن افضل رباطكم عسقلان).

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اس معاملے کی ابتدا نبوت و رحمت سے ہوئی ہے، اس کے بعد خلافت و رحمت ہو گی اور پھر بادشاہت اور رحمت

 بعد ازاں گدھوں کا ایک دوسرے کو کاٹنے کی طرح لوگ اس پر ٹوٹ پڑیں گے، تم جہاد کو لازم پکڑنا، بہترین جہاد، رباط (سرحد پر مقیم رہنا) ہے اور (شام کے ساحلی شہر) عسقلان کا رباط سب سے افضل ہے

طبرانی 1392


اس حدیث میں واضع کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ و اس سے بعد والے زمانے بہتر تر ہیں پھر اس کے بعد ایک ایسا دور آئے گا کہ جب اقتدار کی خاطر لوگ ایک دوسرے سے گدھوں کی طرح لڑیں گے اس وقت جہاد کرنے والے افضل لوگ ہونگے

تو آج دیکھ لو میرے نبی کی حدیث کے مطابق تم حصول اقتدار کیلئے لڑنے والے گدھے ثابت ہو رہے ہو اور جہاد کرنے والے فوجی و دیگر جہادی جماعتوں والے افضل

تو پھر ان جہادیوں کا امیر کیسے غلط ہو گیا؟

تم کوئی غلط حرکت کرو تو اسے حکمت کا نام دے لیتے ہو اگر فوج کوئی حکمت عملی کرے تو اس پہ تنقید کیوں؟

کیا اللہ کے نبی کی حدیث میں شک ہے؟ 

ہم ان شاءاللہ پاک فوج و دیگر جہادی جماعتوں سے اگر محبت کرتے ہیں تو محض اسی فرمان نبوی کی خاطر آپ اپنی فکر کیجئے آپ تو حصول اقتدار کیلئے گدھے پکارے جا رہے ہیں نہیں یقین تو حدیث کو پھر سے پڑھ لیں 

باقی جسطرح یہ معاشرہ انسانی ہے فرشتانی نہیں اسی طرح افواج پاکستان سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آپ افواج کے خلاف لوگوں کو خروج پہ ابھاریں  

الحمدللہ ہم نے 4 سال قبل ہی فروری 2019 کو اس فوج کا جہاد دیکھا ہے کہ جب کسی جماعت کا کوئی امیر کام نا آیا کسی سیاسی جماعت کا کوئی لیڈر کام نا آیا

تو اسی فوج نے انڈین علاقے میں جا کر انڈین طیارے مارے اور دنیا کو پیغام دیا کہ اس ارض پاک کی حفاظت ایسے کی جاتی ہے نا کہ بڑھکوں سے 

باقی تمہارے ہی کارکنان جھٹ طنز کرتے ہیں کہ اس فوج نے کشمیر کیلئے کیا کیا تو جناب آپ نے 35 سال قوم سے پیسہ لے کر ہزاروں جوان شہید کروا کر محاذ کشمیر پہ  کیا کر لیا؟

کیا دنیا کی تاریخ میں کسی غیر سرکاری جہادی جماعت نے کہیں سے ایک انچ بھی جگہ آزاد کروائی؟

اگر کروائی ہے تو ہمیں ضرور بتائیے گا 

ہاں افواج پاکستان کی 1948,1965,1971,1999 کی ہندو کے  خلاف جنگوں کے علاوہ عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کی مدد اسرائیل کے خلاف دیکھ لیجئے دو مرتبہ افغانستان میں افغانیوں کی مدد اور 90 کی دہائی میں چیچن مجاھدین کی سربیا کے خلاف دیکھ لیجئے

سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کا خاتمہ دیکھ لیجئے 

ہماری مجاھدین اور پاک فوج سے یہ محبت صرف جہاد و رباط کی بدولت ہے اور رہے گی ان شاءاللہ 

جسطرح یہ فوج لازم ہے اسی طرح جہادی تنظیمیں بھی لازم ہیں کیونکہ وہ جہادی پریکٹس کا بہت بڑا نعم البدل ہیں عام عوام کیلئے سو فوج اور عوام میں یہ محبت قائم رہنے دیجئے سیاست کیجئے سیاست کے نام پہ فوج پہ وار کرنا بند کیجئے