Monday, 30 December 2019

پکار مظلوم کشمیری بہن اور کردار محمد بن قاسم


**تحریر غنی محمود قصوری**

ہم بفضل تعالی مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ایک نبی آخرالزمان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر  ہے اور جو ہمارے پیارے نبی نے فرما دیا وہ کبھی جھوٹ نہیں ہو سکتا میرے نبی نے بڑی محنت اور قربانیوں  سے اپنے اصحاب کی جماعت بنائی اور اس کی خالص نبوی منہج پر تربیت کی اور پھر اسی جماعت اصحاب نے مسلمان تو مسلمان کفار کی بھی مدد کی جس کی بہت واضع اور مشہور  مثال حجاج بن یوسف کا اپنے 17 سالہ کمانڈر بتیجھے محمد بن قاسم کو ایک ہندو عورت کی پکار پر عرب سے ہند پر یلغار کیلئے بھیجنا ہے
میرے نبی نے اپنی فتوحات میں کفار کو عام معافیاں دیں اور پھر ان معافیوں کے عیوض بہت سے کفار مسلمان ہو گئے اور کچھ احسان فراموش معافی مانگ کر  بوقت جنگ میرے نبی کے مقابلے میں پھر میدان کار زار میں مدمقابل بھی آتے رہے مگر تاریخ گواہ ہے انہوں نے ہمیشہ منہ کی کھائی میرے نبی سے زیادہ ان کفار کو کوئی نہیں جانتا  اسی لئے فرمان نبوی ہے
الکفر ملت واحدہ یعنی کفر ایک جماعت ہے ایک ملت و واحدت ہے کافر دنیا کے کسی کونے کا ہو یا پھر کسی بھی رنگ و نسل یا مذہب سے ہو وہ سب یکجان ہو کر مسلمانوں پر ظلم کرتے آئے ہیں اور کر بھی رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال کشمیر میں ہندوستان کا فلسطین میں اسرائیل اور افغانستان ، عراق ،شام غرضیکہ دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو اور ظلم بھی مسلمانوں پر ہو اس میں امریکہ کا کردار سرفہرست ہے
ایک بہت مشہور نعرہ ہے  رو زمین کے تین شیطان امریکہ ،اسرائیل ہندوستان
اگر دیکھا جائے تو اس نعرے  میں رتی بھر بھی شک نہیں کہ درج بالا تینوں ممالک شیطان کے خالص پیروکار اور بے شرمی و بے حیائی میں سب سے اوپر ہیں آج امریکہ بین المذاہبی ہم آہنگی کا نعرہ لگانے والا بھی ہے اور اسی بین المذاہبی ہم آہنگی کو پاش پاش کرنے والا بھی یہی امریکہ ہی ہے آپ دیکھ لیجئے 148 روز سے مظلوم  کشمیریوں پر ہندو ظالم کا ظالم جاری ہے کشمیری مسلمان سخت سردی میں بغیر ادویات و خوراک کے اپنے گھروں میں محصور ہیں تمام حریت قیادت جیلوں میں ہے
کاروبار زندگی معطل ہے سکول و کالجز بند ہیں مذید ستم کہ لینڈ لائن و موبائل فون سروس کیساتھ انٹرنیٹ سروس بھی بند ہے مگر کیا مجال امریکہ منافق کی کہ جو منہ سے پھوٹا ہو کہ یہ ظلم ہے یہ شدت پسندی و دہشت گردی ہے مگر اس کے برعکس ظالم ہندو فوج سے برسربیکار مجاھدین کی راہ میں جب بھی رکاوٹ ڈالی اسی امریکہ نے ڈالی امریکہ کے علاوہ اسرائیل بھی انڈیا کیساتھ مل کر مظلوم کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے کئی بار اسرائیلی بلیک کیٹ کمانڈوز کی مقبوضہ وادی کشمیر میں موجودگی کا انکشاف ہوا اور 27 فروی کو پاکستانی ائیر فورس کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ایک طیارے کا پائلٹ بھی اسرائیلی تھا
یہ ظالم کافر جب بھی کسی مسلمان ملک پر ظلم کرتے ہیں سب مل کر کرتے ہیں مگر افسوس تو عالم اسلام پر ہے کہ جو حیرت انگیز طور پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں چند بول ہی بول سکے ورنہ عملا تو کچھ بھی نہیں حالانکہ میرے پیارے نبی کریم کا ارشاد ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں یعنی جب جسم کے کسی حصے کو دکھ درد ہوگا تو دوسرا حصہ بھی وہ دکھ درد محسوس کرے گا مگر افسوس صد افسوس کہ ہم نے درد کو محسوس کرنا صرف بیان بازی سمجھ لیا حالانکہ میرے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نے عرب اسرائیل جنگ میں اپنی فضائیہ کی مدد سے اسرائیل کے اندر گھس کر اس کا خواب چکنا چور کیا پھر 80 کی دہائی میں روس کے خلاف لڑ کر روس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے عالم اسلام کو بتایا کہ مسلمان کس طرح ایک جسم کی مانند ہیں ابھی حال ہی میں ایک بار پھر امریکہ کی افغانستان میں قبر بنا کر عالم اسلام کو بتایا کہ ایک جسم کی مانند ایسے ہوتے ہیں خالی نعروں للکاروں سے نہیں بلکہ عملا کچھ کرنا پڑتا ہے یاد رکھوں عالم اسلام کے حکمرانوں کل روز قیامت کشمیریوں کی بے بسی پر تمہاری مجرمانہ خاموشی تمہیں لے ڈوبے گی مگر بفضل تعالی پاکستان نے کل 48 میں بھی کشمیریوں کی مدد کیلئے اپنی افواج چڑھائی تھی پھر 65،71 کی جنگیں بھی انڈیا نے پاکستان سے اس لئے لڑیں کیونکہ پوری دنیا میں اللہ کے بعد کشمیریوں کا مددگار پاکستان ہی ہے پھر 1999 میں پاکستان نے کشمیری کی آزادی کیلئے ہی کارگل جنگ کی اب رواں سال 27 فروری 2019 میں بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے بعد بھارت کے گھر میں گھس کر اسے مارنا بھی آزادی کشمیر کی آزادی کی طرف ایک کاوش ہی ہے
سنو عالم اسلام کے حکمرانوں پاکستان نے نبی ذیشان کے فرمان ،مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، پر عمل کرتے ہوئے امریکہ،اسرائیل ہندوستان کے علاوہ روس تک کو بتلا دیا کہ ہم اپنے نبی کے فرمان پر جان بھی قربان کرنے والے ہیں مگر فلسطین ،شام و افغانستان اور خصوصی طور پر اہلیان مقبوضہ کشمیر تم سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم ایک جسم ہیں پھر تم درد محسوس کیوں نہیں کرتے ؟ اور روز قیامت تمہیں جواب دینا ہوگا اپنی چپ کا حساب دینا ہوگا ان شاءاللہ پاکستان تو عملا جان و مال پیش کر چکا اور کر بھی رہا ہے تم اپنی عیاشیوں سے نکل کر دیکھو تم نے کیا کرنا ہے اور کیا کر چکے اسلام کے نام لیوا کھوکھلے مسلمان حکمرانوں دیکھ لو  آج اسرائیل و امریکہ کو پاکستان سے صرف یہی عداوت ہے اس ارض مقدس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کی خاطر اسرائیل و امریکہ سے ٹکر لی بلکہ حال ہی میں محمد بن قاسم کی طرح خطے کے لئے بہت بڑے خطرے تامل ٹائیگرز کو ختم کرکے غیر مذہب کی بھی مدد کی
افسوس عرب کے عیاش حکمرانوں تم  محمد بن قاسم کی نسل سے ہوکر بھی ہند کے کشمیر کی مظلوم بیٹیوں کی پکار نا سن سکے ہاں مگر ابن قاسم کی سنت زندہ کرنے کیلئے پاکستان ہے ان شاءاللہ 

Sunday, 22 December 2019

ہندو کی فطرت اور حالات مسلم



**تحریر غنی محمود قصوری**
اس وقت میں دنیا دوسرا بڑا مذہب اسلام اور تیسرا بڑا مذہب ہندو مت ہے  یہ دنیا کا مشرک اور نجس ترین مذہب ہے اس کے تقریبا 3 کروڑ کے لگ بھگ خدا ہیں جن کی وہ پوجا پاٹ کرتے ہیں گائے ،بیل،بندر  حتی کہ انسانی اعضاء مخصوصہ تک کی پوجا اسی مذہب میں کی جاتی ہے  
اس مذہب میں ایسی تقسیم ہے کہ خود ہندو بھی اپنے ہندو مذہب سے محفوظ نہیں 
ہمارے آباءو اجداد نے تقریبا 1 ہزار سال تک اس ہندوستان اور اس کے ہندوءوں پر حکومت کی لیکن تاریخ گواہ ہے آج دن تک کوئی ثابت نا کرسکا کہ کسی مسلمان بادشاہ یا سالار نے ہندوءوں سے ناروا سلوک کیا ہو بلکہ اسلامی شعائر کے مطابق بتائے گئے طریقے پر عمل کرتے ہوئے ان کو ان کی پوجا گاہیں اور رہائش گائیں فرائم کی گئیں ہندوستان بھر میں مغل دور حکومت میں قائم ہوئے مندر اس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ ہندوستان کے ہندو مسلمانوں کے غلام ہو کر بھی اپنی رسومات و رواج آزادانہ طریقے سے ادا کرتے تھے مگر اس کے برعکس ہندو کو جب بھی موقع ملا اس نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے اب چند دن قبل ہندوستان نے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دے کر اپنی اندر چھپی خباثت  ظاہر کر دی ہندوؤں کا ظلم مسلمانوں پر کشمیر میں ہو یا ہندوستان کے اندر اس میں نمایاں کردار انتہا پسند ہندو جماعتوں کا ہے جس میں سر فہرست RSS نامی متعصب ہندو جماعت ہے 
RSS راشٹریہ سیونک سنگھ ایک ہندو دہشت گرد تنظیم ہے   
جو کہ قیام پاکستان سے قبل ہی کیشوا بلی رام ہیڑ گوار کے زیر سایہ انڈین شہر ناگپور میں 1925  کو بنی یہ اتنی دہشت گرد تنظیم ہے کہ مسلمان سکھ عیسائی تو دور کی بات خود ہندو بھی اس سے محفوظ نہیں انگریز دور میں اس پر ایک بار جبکہ قیام آزادی کے بعد اب تک ہندوستان میں اس تنظیم پر دو مرتبہ پابندی لگ چکی ہے جبکہ امریکہ جیسا دہشت گرد اور دہشت گردوں کا سرپرست ملک بھی اس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے مگر حیرت ہے کہ یہ تنظیم پھر بھی اپنی پوری قوت سے کام کر رہی ہے بلکہ اب تو اس نے باقاعدہ بھرتی سینٹر اور ٹریننگ سینٹر بھی کھولے ہوئے ہیں ماضی میں اس تنظیم کو انڈین گورنمنٹ کی طرف سے پابندیوں اور نظر بندیوں کا سامنہ کرنا پڑا مگر مودی سرکار کے آتے ہی اس تنظیم نے سرعام اپنا کام کرنا شروع کر دیا اور اب یہ تنظیم درحقیقت نریندر مودی کے زیر سایہ ہی چل رہی ہے اپنے قیام سے ہی یہ تنظیم 13 نکات پر کام کر رہی ہے 
1 بھارت کو خالص ہندو ریاست بنانا
2 بھارت کا ترنگا درست نہیں اس کی جگہ بھگوا جھنڈا یعنی آر ایس ایس کا جھنڈہ لانا
3 بھارت پر صرف ہندوؤں کا حق ہے لہذہ سیاسی و مذہبی جماعتیں صرف ہندوؤں کی ہی ہو اور ہندو ہی حکمران ہو
4 بھارت میں صرف اور صرف ہندو قانون کا نفاذ جمہوری نظام کا رد
5 مہاتما گاندھی کی جگہ ناتھو رام کا پرچار کیا جائے
6 دلت ہندوؤں کو غلامی کی طرف دھکیلا جائے
7 سپین کی طرف مسجدوں کی تعمیر پر پابندی لگائی جائے
8 مسلمانوں اور سکھوں کے علاوہ اقلیتوں کو جبرا ہندو بنایا جائے 
9 بھارت کی بھاگ دور عدلیہ انتظامیہ اور دیگر تمام شعبوں پر صرف اور صرف ہندو برہمنوں کو آگے لایا جائے 
10 آر ایس ایس کے نزدیک برہمن خدا کا روپ ہیں سو برہمن کسی قسم کی سزا کا مستحق نہیں چاہے جو مرضی جرم کرے 
11 پولیس اور فوج میں اعلی عہدوں پر ہندوں برہمن جبکہ نچلی سطح پر دلتوں کو لایا جائے 
12 گائے کے تحفظ اور گائے کی پوچا کروائی جائے 
13 مسلمان عورت کے ریپ اور قتل کو جائز قرار دیا جائے 
دراصل مودی سرکار کا مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دینا آر ایس ایس کے ایجنڈے کے مطابق ہی ہے چونکہ مودی ایک متعصب اور انتہا پسند  ہندو لیڈر ہے اس لئے وہ آج کشمیر اور ہندوستان میں مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کئے ہوئے ہے  مگر ان ظالموں کو پتہ نہیں کہ اللہ رب العزت قران مجید میں ارشاد فرماتے ہیں 
وَمَکَرُوْوَمَکَرَاللّٰہْ،وَاللّٰہُ خَیْرُالْمَاکِرِیْن
ترجمہ_ایک چال یہ کافر چلتے ہیں اور ایک چال اللہ اور جان لو اللہ بہتر چال چلنے والا ہے 
ان شاءاللہ ہندوستان  کی بربادی اور ہندوؤں کے مسلمان ہونے کا سبب بھی یہی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس اور ظالم متعصب مودی  بنے گا ان شاءاللہ

Thursday, 19 December 2019

سزا یا ذاتی اناء



**تحریر غنی محمود قصوری**
یہ اوائل 2005 کی بات ہے میرے ایک محلے دار کی نوبیاہتا بیوی کو اس کے سگے بھائی نے قتل کر دیا کیس قصور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج جناب میاں بدر الدین صاحب کی عدالت میں لگا میں بھی اپنے محلے دار کیساتھ بطور گواہ جاتا رہا آخر کار چند ماہ بعد بات صلح صفائی تک آ پہنچی جس دن صلح تھی اس دن عدالت میں مجرم کے ساتھ اس کے لواحقین اور مدعی کے ساتھ صرف میں ہی تھا جج میاں بدر الدین نے ہم دونوں کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا بیٹا تم کسی خوف یا پریشر میں تو نہیں آئے مجھے بتاءو اللہ کے بعد میں تمہارا محافظ ہوں اور پھر کہنے لگا کہ تمہارے بڑے تمہارے ساتھ  نہیں آئے میں نے کہا سر ہم دونوں ہی ہیں اور اس کا بڑا کوئی نہیں ایک بوڑھی ماں ہی ہے جسے ہم نے ساتھ  لانا مناسب نہیں سمجھا اور  کوئی دباءو و خوف نہیں ہم پر مجرم مدعی کی سگی خالہ کا بیٹا ہے لحاظہ ہم فی سبیل اللہ معاف کر رہے ہیں تو میاں بدر الدین صاحب کٹہرے میں کھڑے مجرم سے مخاطب ہو کر کہنے لگے میں اس سزا کو سزا نہیں مانتا کہ قاتل کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے محض قید کر دیا جائے میرا بس چلے تو تجھے ہرگز معاف نا کرو بلکہ قتل کرنے کی سزا کا حکم دو کیونکہ یہی قرآن کا ارشاد ہے  مگر میں قانون اور مدعیوں کی بدولت مجبور ہوں 
خیر ہم نے سائن کئے اور مجرم کو رہائی نصیب ہوئی چند ماہ بعد میاں بدر الدین صاحب کا تبادلہ قصور  سے لاہور ہو گیا میں صبح اخبار پڑھنے کا عادی تھا روزنامہ ایکسپریس میں خبر پڑھ کر دنگ رہ گیا کہ میاں بدر الدین نامی جج نے ایک چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا کا حکم جاری کیا ہے جس کی بدولت انہیں معطل کر دیا گیا ہے میں دنگ رہ گیا کہ اگر کوئی ارشاد ربانی کے تحت سزا دے تو اسے معطل کرکے گھر بھیج دیا جائے باقی بعد میں جج صاحب بحال ہوئے یا معطل ہی رہے مجھے نہیں علم 
درج بالا بیان کی گئ بات تو تھی سزا اب آتے ہیں اناء کی طرف 
سابق صدر جنرل پرویز مشرف  کو پھانسی کی سزا سنائی گی اور حکم جاری کیا کہ اگر وہ پھانسی سے قبل مر جائیں تو ان کی لاش کو 3 دن تک ڈی چوک اسلام آباد میں لٹکایا جائے کسی زندہ کو پھانسی پر لٹکانا تو سمجھ میں آتا ہے مگر مرے ہوئے شخص کو 3 دن لٹکانا سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ فرمایا گیا ہے کہ مردہ کی ہڈی توڑنا زندہ کی ہڈی توڑنے کے برابر ہے اور لاش کی بے حرمتی سے منع فرمایا گیا ہے یقینا جسٹس وقار صاحب کو حکومت وقت کا تختہ الٹنے اور ججوں کی معطلی پر بہت دکھ ہے اور اس معطلی میں وہ خود بھی آئے ہوئے ہونگے مگر انہوں نے یہ غور نہیں کیا کہ ایک آرمی چیف کے طیارے کو فضاء سے زمین میں آنے نہیں دیا جا رہا اور کہا جا رہا ہے کہ طیارے کا رخ انڈیا کی طرف موڑا جائے خدانخواستہ اگر طیارہ انڈیا میں اتارا جاتا تو سوچیں ہمارے ازلی دشمن انڈیا میں ایک حاضر سروس چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا اور جرنیل بھی وہ کہ جس نے کارگل میں انڈیا کو چھٹی کا دودھ یاد کروایا تھا اور جو تین جنگیں انڈیا کے ساتھ لڑ چکا تھا اگر آرمی چیف کو میاں شہباز شریف نے معطل کرنا ہی تھا تو اس کے آنے کا انتظار کیا جاتا اس کے طیارے کو اترنے دیا جاتا سوچیں جو مسافر ساتھ تھے اگر طیارے کو حادثہ پیش آجاتا تو ان کو کس قصور کی سزا ملنی تھی جج صاحب مشرف کی آئین شکنی کا تو آپ کو دکھ ہے اور ایک فوجی جرنیل اور ساتھ سینکڑوں مسافروں کی زندگیوں کو دشمن ملک کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بات کا آپ کو کوئی احساس نہیں اس وقت اگر فوج حکومت نا گراتی تو یقینا طیارہ انڈیا میں ہوتا اور مشرف و مسافر دشمن کی قید میں ہوتا اور ہمیں ایک اور ذلت ملتی می لارڈ آپ نے سزا نہیں دی اپنی اناء دکھلائی ہے قصور کی معصوم کلی زینب کے لواحقین کے علاوہ پورے ملک کے لوگ دہائی دیتے رہے کہ مجرم عمران نقشبندی  کو سرعام پھانسی دی جائے مگر لوگوں کے مطالبے کو پس پشت ڈال دیا گیا  اس وقت تو آپ کی اناء نا جاگی جب ایک جج نے قرآن پر عمل کرتے ہوئے چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا کا حکم جاری کیا تو آپ کی عدلیہ نے اسے معطل کر دیا اس وقت تو آپ کی اناء نا جاگی 
می لارڈ آپ نے سزا نہیں دی اپنی اناء دکھلائی ہے 
گستاخی معاف

Sunday, 15 December 2019

ایک دن دو سانحے مجرم ایک



      **تحریر غنی محمود قصوری**
 
16 دسمبر 1971 کو دشمن کی مدد سے اپنے ہی غداروں نے  مکتی باہنی بنا کر پاکستان کو دولخت کر دیا تھا حالانکہ دنیا گواہ ہے کہ چند دن کے گولہ بارود ہونے کے باوجود ہماری بہادر افواج تقریبا سات ماہ تک لڑی اور آخر کار عالم اسلام کی وہ مایہ ناز فوج  کے جس نے 1948 اور 1965 میں انڈیا کو چھٹی کا دودھ یاد کروایا تھا اور عرب اسرائیل جنگ میں کہ جب عالم اسلام کے کئی خلیجی  ملک اسرائیل کے قبضے میں جا چکے تھے اس وقت تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا تھا اس اسلامی جہادی فوج نے ورنہ یقینا اسرائیل ایک اٹامک پاور ہوتا اور دنیا کا نقشہ آج یہ نا ہوتا مگر افسوس کہ وہ فوج اپنوں کی غداری کی بدولت ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہو گئی اور پھر ڈھاکہ ڈوب گیا 
ہم نہیں بھولے سقوط دھاکہ اور ہم نہیں بھولے سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر 2014  کو ایک بار پھر ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ہمارے ملک کے اندر سے ہی غداروں اور دین کے نام نہاد دعویداروں کو خریدا اور پشاور میں بچوں کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرتے ہوئے ڈیڑھ سو سے زائد بچوں کو شہید کر دیا اور اس بار مکتی باہنی کا کردار دین کے نام نہاد دعویداروں ٹی ٹی پی یعنی تحریک طالبان پاکستان نے ادا کیا مگر میں قربان افواج پاکستان اور عوام پاکستان پر کہ جنہوں نے مل کر مقابلہ کیا اور ٹی ٹی پی کے تمام سورمے جہنم واصل کر دیئے  اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا کہ اب ارض پاک کے بچے سکول نہیں جائینگے 
 میرے ملک کے دشمنوں دکھ تو ضرور ہوتا  ہے ان گزرے واقعات کو یاد کر کے مگر ہمارا حوصلہ پھر  بلند ہو جاتا ہے کہ ہمارے لئے رب نے ناکامی رکھی ہی نہیں کیونکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے مارے جائیں یا لڑتے ہوئے دشمن کو مار دیں ہر صورت ہم  ہی کامیاب و کامران ہوتے ہیں وہ ہمارے پولیس و فوج کے جوان ہو یا آرمی پبلک سکول کے اساتذہ و نہتے معصوم بچے ان شاءاللہ کامیاب و کامران ہیں
 ہاں مگر دشمنوں خارجیوں دین و ملت کے باغیوں ناکامی صرف  تمہارے لئے ہی ہے کہ تم نے مکتی باہنی بنا کر میرے اپنوں کو میرے خلاف کرکے ڈھاکہ کا سقوط تو کروا لیا مگر آج بھی دیکھ لو بنگلہ دیش کے اندر سینکڑوں نہیں بلکہ  ہزاروں لوگ  پاکستان سے محبت کرنے والے موجود ہیں اور ان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور دیکھ لو بنگلہ دیش بنانے والوں کا انجام بھی ذرا کہ کیسے اپنی ہی بنگلہ دیشی فوج کے ہاتھوں اپنے بیوی بچوں سمیت قتل ہو گئے اور نشان عبرت بن گئے اور تم نے اپنی اس حزیمت کا بدلہ لینے کیلئے پشاور میں ڈیڑھ سو کے قریب معصوم بچوں کو شہید  کروا دیا اور تمہارا خیال تھا کہ اب پاکستان کے بچے ڈر جائیں گے اور سکول کی راہ نہیں لینگے مگر دیکھو ظالموں تم پھر ناکام ہو گئے
 اللہ کی قسم ایسی درندگی کی مثال نہیں ملتی تم نے سوچا تھا اے پی ایس کو ویران کرکے ملک کے باقی سکولوں میں دہشت کی فضا قائم کرکے بچوں کو سکول سے دور کر دو گے مگر آؤ دیکھو اسی اے پی ایس کے سکول کے بچوں کے حوصلے پہلے سے بھی زیادہ بلند ہیں اور اے پی ایس اسی شان و شوکت سے قائم و دائم ہے  مگر اب  تو ہمارے معصوم بچے بھی بے خوف ہو کر تمہیں للکار رہیں ہیں کہ جس عمر میں بچے ویڈیو گیم اور چاکلیٹ کھانے کی باتیں کرتے ہیں اب اے پی ایس کے بچے بلکہ پورے ملک کے بچے کہہ رہے ہیں مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
 کیا جب کبھی کوئی دہشت گرد مرتا ہے تب اس  کے بچوں نے بدلہ لینے کی بات کی ؟ نہیں بلکل نہیں کیونکہ بچے بھی جانتے ہیں حق کیا ہے باطل کیا ہے دہشتگردوں خارجیوں اللہ کے دین کے دشمنوں تم نے بہت نہلایا اس ارض پاک کو خون سے مگر اللہ کی قسم ہمیشہ تم  ناکام ہوئے اور ان شاءاللہ ہوتے ہی رہوگے کیونکہ آج بنگالی بھی مانتے ہیں کہ ہم پاکستان کیساتھ زیادہ مضبوط تھے اب تو پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے والے بھی کہہ رہے جیوے جیوے پاکستان مگر کہاں گئے وہ  دہشت گرد اور ان کے یار آج وہ بیرون ممالک اور پہاڑوں غاروں میں منہ چھپائے بیٹھے ہیں   
دنیا نے دیکھا پاکستان کو توڑنے والے خود مٹ گئے کیونکہ اس ارض پاک کی بنیادوں میں سولہ لاکھ شہداء کا خون شامل ہے اور خون کی بنیاد بڑی مضبوط ہوتی ہے ان شاءاللہ تم جتنا مرضی زور لگا لو جتنا لگا چکے اس سے بھی زیادہ  لگا کر دیکھ لو پاکستان تھا ہے اور قیامت تک رہے گا ان شاءاللہ کیونکہ اس ملک کے بچے بوڑھے اور جوان سب کا ایک اللہ پر ایمان
اوہ مودی نجس  میرے فوجیوں میرے اے پی ایس کے بچوں کے قاتل تو اب اپنے ہی ملک میں بنگال اور بھارت کے دیگر علاقوں میں اٹھتی ہوئی سونامی کو دیکھ اور ڈر اس وقت سے جب تیرے اس ہندوستان  کے اندر کئی پاکستان بنے گے ان شاءاللہ

Saturday, 14 December 2019

منتظر آمریت

وہ ایک مولوی ہوا کرتا تھا جو کہا کرتا تھا کہ مودی انڈیا کا گوربا چوف بنے گا اور انڈیا کے ٹکڑے مودی اور آر ایس ایس مل کر کروائینگے اور  انڈیا کے مسلمان کھڑے ہونگے اور جب وہ کھڑے ہونگے تو مودی بھی مودا ہو جائے گا 
کل ساری دنیا نے دیکھا مودی مودا ہو کر گر پڑا اور انڈیا کے مسلمان بھی کھڑے ہو چکے ہیں احتجاج کر رہے ہیں سرعام مودی مردہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں  
مگر افسوس وہ چٹی ڈارھی والا بزرگ آج پابندیوں نظربندیوں میں ہے اللہ نے اس کے کہے ہوئے الفاظ سچ کروا دیئے جب بھی بولتا تھا کمال بولتا تھا آج اس کے اور اس کے جانثاروں کے خلاف گھیرا مذید تنگ سے تنگ کیا جا رہا ہے مگر سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اس کے بولنے سے تکلیف تو کفار کو ہوتی تھی اور کہنے کو ہم بھی مسلمان ہی ہیں اور مثل مشہور ہے کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے تو پھر اس محب وطن بلکہ محب اسلام سے اتنا ڈر اور خوف کیوں ؟  حالانکہ مسلمان تو مسلمان مگر ہندو و سکھ بھی اس کے پیار کے نگہبان ہیں
 تم کہو گے عالمی پابندیاں نظر بندیاں ہیں ایف اے ٹی ایف  کا مسئلہ ہے وغیرہ وغیرہ مگر یہ انٹرنیشنل دباءو جنرل مشرف کے دور سے زیادہ تو نہیں اس وقت تو کھلی دھمکیاں دی گئی تھیں اور پتھر کے دور میں پہنچانے پر عملی طور پر کام بھی کیا تھا امریکہ نے مگر وہ مشرف  اپنی عقل اور اللہ کی مدد سے کام کر گیا اور دنیا کے سامنے امریکہ ذلیل و رسوا ہو گیا تم پھر کہو گے کہ جی وقت لگا تھا اب بھی وقت لگے تو پھر میں بھی کہنے کا حق رکھتا ہوں پابندیاں نظربندیاں لگی تھیں نیازی دور حکومت میں مگر جب ختم ہونگی تب نیازی دور حکومت نہیں ہوگا 
اور ہاں میں نے تو تاریخ پاکستان بار بار پڑھی ہے اور یہی نتیجہ اخذ کیا کہ اس جمہوریت سے ہزار درجے آمریت اچھی تو اب پھر نگائیں منتظر ہیں کسی آمر کی 
ضروری نوٹ ۔۔۔ فوجی بوٹ پالشیئے اور  جمہوری بچونگڑے مجھے مشورہ مت دیں بہت بہت شکریہ 
غنی محمود قصوری 
کالم نگار و ڈسٹرکٹ رپورٹر باغی ٹی وی
 
ڈسٹرکٹ کرائم رپورٹر روزنامہ دستک سحر 
ڈسٹرکٹ رپورٹر دعا آن لائن نیوز 

ڈسٹرکٹ ممبر آل پاکستان میڈیا کونسل

Monday, 9 December 2019

کیا پاکستان فحش مواد دیکھنے میں پہلے نمبر پر ہے؟

**تحریر غنی محمود قصوری باغی ٹی وی **

ہر معاشرے کے اندر اچھے اور برے افراد پائے جاتے ہیں چند برے افراد کی بدولت اچھے لوگوں کی اچھائی بھی دب کر رہ جاتی ہے بات کرتے ہیں پاکستان میں فحش مواد دیکھے جانے کی تو سب سے پہلے  یہ دیکھیں جب بھی رپورٹ جاری ہوتی ہے تب یہ تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان فحش مواد دیکھنے میں پہلے نمبر پر ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس فحش مواد کو دیکھا کتنے اکاءونٹس سے  جا رہا ہے اور وہ کل انٹرنیٹ صارفین کا کتنے فیصد ہے 
 اس وقت پاکستان کی کل آبادی اقلیتوں سمیت  تقریبا 22 کروڑ ہے جس میں سے 1.85فیصد ہندو اور 1.65 فیصد عیسائی جبکہ قادیانی و سکھ اور لبرلز اس کے علاوہ ہیں پاکستان کی کل آبادی کے 22.2 فیصد لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں 
ایک دکاندار کو اپنی آمدن سے غرض ہوتی ہے وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ اس ایک بندے نے دن میں پانچ بار مجھ سے ایک ہی چیز خریدی ہے بلکہ وہ یہ دیکھے گا کہ یہ چیز دن میں کتنی بار میری دکان سے خریدی گئی ہے وہ جب آگے سے وہی چیز خریدے گا تو یہی بتائے گا کہ فلاں چیز ایک دن میں اتنی بار فروخت ہوتی ہے یہ ہرگز نہیں بتائے گا کہ ایک بندہ دن میں یہ چیز اتنی بار مجھ سے خریدتا ہے  
اگر آپ یوٹیوبر ہیں تو آپ کو اپنے فالوورز سے تو سروکار ہوگا مگر یہ جاننے کی آپ کوشش ہرگز نہیں کرینگے کہ آپ کے ایک فالوور نے کتنی بار آپ کی ایک ہی ویڈیو دیکھی ہے ایک فالوور اگر آپ کی ایک ویڈیو دن میں ہزار بار بھی دیکھے گا تو آپ کے اس ویڈیو کے ہزار ویوورز یعنی دیکھنے والوں میں شمار ہوگا  نا کہ یہ ہوگا کہ اس فالوور نے یہ ویڈیو ایک بار ہی دیکھی ہے ایسے ہی ڈارک ویب ہیں آپ ایک دن میں کسی ویب کو سرچ کریں تو اس کے ویوورز بڑھتے جاتے ہیں حتی کہ آپ دن میں ہزاروں مرتبہ اس ایک ویب پر ایک لنک کو اوپن کریں تو جب بھی آپ لنک اوپن کرینگے تو آپ کے ہر بار لنک اوپن کرنے سے ویوورز بڑھتے جائینگے 
مگر یہاں قصور وار ہم بھی ہیں ہم بنا سوچے سمجھے اور بغیر دیکھے ایسے کتنے ہی گندے لنکس اپنے واٹس ایپ گروپوں،فیسبک وال اور ٹویٹر و انسٹاگرام اکاونٹس پر لگا دیتے ہیں جن پر کلک کرتے ہی اس لنک کی ریٹنگ بڑھنے لگتی ہے بھلے آپ اس لنک کو کلک کرتے ہی بنا دیکھے چھوڑ دیں 
پاکستان کے 22.2 فیصد انٹرنیٹ صارفین میں سے بیشتر  ان پڑھ ہیں یا پھر کم پڑھے لکھے اس لئے وہ ان چالوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور فوری جاری کردہ فہرست کو آگے شیئر کرتے جاتے ہیں جس سے ہمارے دشمن ممالک کے لوگ اپنا ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور پاکستان قلعہ اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں 
یہی تو ان اسلام و پاکستان دشمن لوگوں کی ففٹھ جنریشن وار کی کامیابی ہے کہ بات آپ کے دشمن کی ذہن آپ کا انٹرنیٹ پیکج اور موبائل فون آپ کا اور باتیں عروج پر آپ کے دشمنوں کی تو معزز قارئین کرام آپ خود سوچیں آپ دن میں کتنی مرتبہ فحش مواد یا ڈارک ویبز دیکھتے ہیں ؟ یاں پھر آپ کے حلقہ احباب کے لوگ ایسی سائٹس کتنی بار دیکھتے ہیں ؟ یقینا نہیں
 تو پھر دشمن کی اس پھیلائی ہوئی شازش کو سمجھیں اور بنا تحقیق کے باتیں اور لنکس آگے فارورڈ کرنے سے پرہیز کیجئے 
#قصوریات