Sunday, 31 January 2021

کیا بے بسی کی بھی حد ہوتی ہے؟ ازقلم غنی محمود قصوری

 کسی کے سامنے اس کے خلاف کام ہو اور وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نا کر سکے تو اسے بے بس کہا جاتا ہے

اس دنیا میں بے بس ہونا بھی ایک الگ ہی مقام رکھتا ہے بے بسی کا عالم ایک بے بس ہی جان سکتا ہے

میں تحریر زیادہ لمبی کرنے کی بجائے ایک مجبور و بے بس والدین کی دکھ بھری سچی داستان سناتا ہوں


یہ واقعہ ہے شہر قصور کا جہاں اندرون کوٹ فتح دین کے رہائشی عبدالرحمن بن قاری حفیظ اللہ کی شادی سنہ 2000 میں ہوتی ہے مگر اللہ کی مرضی سے اولاد نہیں ہوتی کافی دعا و دوا و علاج معالجہ کے بعد 2015 کو اس کے ہاں اللہ کے فضل سے ایک بیٹی جنم لیتی ہے جس کا نام سندس رکھا جاتا ہے وقت گزرتا چلا جاتا ہے اور سندس بولنا شروع کرتی ہے تو ماں باپ کہنے کے ساتھ بھائی بھائی کہنا بھی شروع ہو جاتی ہے 

اس چھوٹی سی معصوم سندس کی فریاد کو اللہ رب العزت قبول کرتے ہوئے اسے 30 اگست  2020 کو ایک پیارا سا بھائی عطا کرتا ہے

 سندس کی والدہ کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں بڑا آپریشن ہوا ہوتا ہے سو وہ نیم بے ہوشی میں ہوتی ہے کہ سندس کی خالہ سندس کو اس کا بھائی دکھاتی ہے تو سندس کی خوشی دیدنی ہوتی ہے مگر سندس کی خوشی زیادہ دیر نہیں رہتی کیونکہ اس کے بھائی کی پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ہی ایک اغواء کار عورت لیڈی ڈاکٹر کے بہروپ میں ہسپتال کی گائنی وارڈ سے  اس کے بھائی کو اغواء کر لیتی ہے 


اس نومولود کے اغواء کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے قصور میں پھیل جاتی ہے 

پولیس جائے وقوعہ پر پہنچتی ہے اور بذریعہ سی سی ٹی وی فوٹیج کاروائی کا آغاز کرتی ہے اغواء کار عورت بڑی دیدہ دلیری سے بچہ اغواء کرکے مختلف سواریوں سے دربار بابا بلہے شاہ،بہادر پورہ سے ہوتی ہوئی لاہور چونگی امرسدھو سے غائب ہو جاتی ہے 

پولیس کی بروقت کاروائی سے بذریعہ سی سی ٹی وی فوٹیج سراغ لگانے سے عورت کی فوٹیج پھیلا دی جاتی ہے اور آخر کار پورے ایک ہفتے بعد گھر والوں اور پولیس کی مشترکہ محنت سے ملزمہ کو قصور کے نواحی گاؤں سے گرفتار کر لیا جاتا ہے 

ملزمہ انکوائری آفیسر کو بیان دیتی ہے کہ میں نے بچہ قبرستان شہداء مصطفیٰ آباد میں پھینک دیا تھا تو کبھی کہتی ہے میں نے دو عورتوں کو بیچ دیا یہاں تک  کہتی ہے کہ میں نے مصطفیٰ آباد للیانی نہر میں بچہ پھینک دیا تھا مگر پولیس ہر جگہ تفتیش کرتی ہے بچے کا کوئی سراغ نہیں ملتا 


بچے کے والدین ملزمہ کی منت سماجت کرتے ہیں کہ اللہ کے واسطے ہمارا بچہ دے دو ہم قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں تمہیں چھڑوا دینگے کیونکہ ہمیں تو ہمارا بچہ چاہئیے مگر ملزمہ ہر آنے والے دن اپنا بیان بدل جاتی ہے سو ریمانڈ ختم ہوتے ہی ملزمہ کو دفعہ 363 اے تعزیرات پاکستان لگا کر مقامی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے مگر یہ کیا عدالت اس کو جوڈیشنل کسٹڈی کے تحت جیل بیجھنے کے بجذئے عبوری ضمانت دے دیتی ہے اور ایسا پانچ بار ہوتا ہے 

ملزمہ پولیس کی جانب سے درست دفعات نا لگائے جانے کے باعث عبوری ضمانت پر باہر گھوم رہی ہے جس کی وجہ پولیس کی جانب سے ملزمہ کو رعایت دیتے ہوئے دفعہ 363 لگانا ہے حالانکہ ملزمہ پر 364 اے اور 780 اے لگنی تھیں جس کی رو سے ملزمہ نان بیل ایبل تھی اور سزائے موت کی حقدار تھی مگر ایک بے بس ماں اور باپ کی بے بسی کو کچل کر پولیس نے ملزمہ کا ساتھ دیا اور اسی باعث ملزمہ 5 مرتبہ ضمانت کروا کر 23 جنوری 2028 کو قصور کے جج عمران شیخ کی عدالت پہنچی جہاں جج نے ملزمہ کی ضمانت کینسل کر کے اس کو جیل بیجھنے کے آرڈر جاری کئے مگر یہ کیا ابھی جج آرڈر لکھ رہا تھا کہ بے بس باپ کے سامنے ہی ملزمہ کمرہ عدالت سے فرار ہو گئی 


ملزمہ کو فرار ہوتے دیکھ کر بے بس باپ مذید بے بس ہو گیا اور رونے لگا گھر پہنچا اہلیہ کو صورتحال بتائی تو ممتا تڑپ کر رب سے فریاد کرنے لگی الہیٰ کیا ہمارا غریب ہونا ہی ہماری بے بسی کا سبب بنا 

وقت گزر رہا ہے ملزمہ شاہدہ بی بی زوجہ خان محمد حالیہ مقیم سکنہ دفتوہ قصور جو کہ سابقہ ضلع جھنگ کی رہائشی ہے دوبارہ لاہور ہائیکورٹ پہنچی اور ایک بار پھر 4 فروری 2021 تک اپنی عبوری ضمانت کروا لی

واضع رہے کہ ملزمہ 7 نومبر 2019 کو پہلے بھی بچہ اغواء کرتی پکڑی گئی تھی اور اس وقت چلڈرن ہسپتال لاہور میں نجی کمپنی کی طرف سے سیکیورٹی گارڈ کی ملازمت کر رہی ہے جبکہ پولیس بیانات میں ملزمہ اقرار جرم کر چکی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی اس کی شناخت واضع ہے 


مگر دنیا کے اس کرب سے بے خبر ننھی سندس روز اپنی ماں سے اپنی توتلی زبان میں پوچھتی ہے مما بھائی کب آئے گا؟ بے بس ممتا اتنا ہی کہہ پاتی ہے بھائی آ رہا ہے 


  ایک دکھیاری ماں بے بسی کے عالم میں ارباب اختیار سے پوچھ رہی ہے کیا بے بسی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ؟


Wednesday, 20 January 2021

اینٹی ریپ ویکسین لازم قرار دی جائے ازقلم غنی محمود قصوری




بچے کی اچھی جسمانی و روحانی  پرورش ماں باپ اور مملکت کی اولین ذمہ داری ہے

کیونکہ جب بچہ روحانی و جسمانی طاقت ور و توانا ہوگا تبھی وہ جرائم سے پاک ہو گا اور ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا 

بچوں کی پرورش بارے قرآن میں اللہ تعالی نے حضرت لقمان کی مثال یو بیان کی 


اے میرے پیارے بیٹے۔ تو نماز قائم رکھنا اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا ،برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آئے صبر کرنا ۔ کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے ۔

سورہ لقمان آیت 17


اسلام میں سات سال کے بچے  کو نماز سکھانا فرض ہے اور دس سال کا ہو کر اگر وہ نا پڑھے تو اس پر سختی کرنا لازم ہے اور حاکم وقت پر لازم ہے کہ لوگوں کو نماز پڑھنے کا پابند بنائے اور حاکم پر فرض ہے کہ اپنی رعایا کی دینی و دنیاوی ضرورتوں کا خیال رکھے 

پوری دنیا میں اس وقت ریپ کیسز خصوصاً بچوں کے ساتھ ریپ کیسز بڑھ رہے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے 

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اوسطاً 7 ریپ کیسز ہوتے ہیں جوکہ ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے ہمارے منہ پر طمانچہ ہیں 

جسمانی بیماریوں سے بچاؤ گورنمنٹ پر فرض ہے اسی لئے بچے کی پیدائش کے فوری بعد مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں نیز 1988 کی خطرناک پولیو وائرس پھیلاؤ کے نتیجے میں دنیا میں تقریبا 350000 بچوں کی اموات ہوئی تھی جس پر پولیو ویکسین پلانا لازمی قرار دی گئی اور ملک پاکستان میں بھی پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو ویکسین پلانا لازمی ہے 

پچھلے سال گورنمنٹ آف پاکستان نے تقریبآ 5 ملین ڈالر خرچ کرکے 4 کروڑ سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی تاکہ یہ بچے پولیو جیسی مہلک بیماری سے بچ سکیں 

جب سے ریپ کیسز بڑھے ہیں تب سے سبھی اس فکر میں ہیں کہ ان کیسز کو کیسے روکا جائے

اس پر مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے مختلف تجاویز و آراء پیش کی ہیں جبکہ گورنمنٹ نے بھی زینب الرٹ بل منظور کیا ہے

 

 2018 میں زینب الرٹ بل کی رو سے بچے کے اغواءیا اس سے جنسی زیادتی کی صورت میں پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ دو گھنٹے کے اندر اندر کاروائی شروع کی جائے بصورت دیگر متعلقہ پولیس آفیسر کے خلاف کاروائی ہو گی نیز مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر مقدمے کی سماعت مکمل کی جائے جبکہ ریپ کی سزا 10 سال سے بڑھا کر 14 سال کر دی گئی ہے  اس بل کے پاس ہونے سے گمشدہ بچوں کی رپٹ درج ہوتے ہی پولیس کام شروع کر دیتی ہے جس سے بچوں کے اغواء کا سلسلہ کافی حد تک رک گیا ہے 

جیسے ہر بندے کی تجاویز و آراء ہیں ایسے راقم کی بھی ایک تجویز ہے کہ ریپ کیسز کو روکنے کیلئے بچوں کو سیلف ڈیفنس کورس کروایا جائے جس کے لئے بچے کی پیدائش کے اندراج کے بعد چار سال یا پانچ سال کا ہوتے ہی بچے کے والدین پر فرض کیا جائے کہ اس کو مسجد میں قرآن مجید کی تعلیم کے لئے بیجھا جائے جہاں تعلیم قرآن کیساتھ بچے کو سیلف ڈیفنس کورس کروایا جائے جس میں بچے کو اپنے جسمانی دفاع کیساتھ قرأن کی لازمی تعلیم حاصل کرکے روحانی دفاع  کا بھی موقع ملے گا

اس کے لئے علاقائی مساجد و مدارس کو رجسٹرڈ کرکے ماہر سیلف ڈیفنس حضرات کو تعینات کیا جائے اور بچوں کے والدین کی نگرانی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں تاکہ ان کی نگرانی میں کام ہو

یقین جانئیے جیسے پولیو ویکسین لازم ہے ویسے ہی بچوں کے ساتھ بڑھتی جنسی زیادتی کو روکنے کیلئے یہ سیلف ڈیفنس اینٹی ریپ ویکسین لازم ہے اس کے بیش بہا فوائد ہیں جن میں بچہ دین کیساتھ جڑا رہا گا اپنے دفاع کیساتھ وہ بڑا ہو کر اپنے محلے و معاشرے کا دفاع بھی کر سکے گا 

اگر گورنمنٹ واقعتاً چائلڈ ریپ کیسز میں سنجیدہ ہے تو اس اینٹی ریپ ویکسین کو اپنائے بنا گزارہ نہیں

Saturday, 9 January 2021

فرسٹ جنریش وار سے ففٹھ جنریشن وار کا سفر ،، ازقلم غنی محمود قصوری

 لفظ جنگ سنتے ہی ذہن میں لڑائی مقابلے کا ذہن میں خیال آتا ہے 

دو یا اس سے زیادہ افراد،ملک،قوم و گروہوں کے مابین مقابلے کو جنگ کہا جاتا ہے 

مختلف ادوار میں جنگیں مختلف طریقوں سے لڑی جاتی تھیں جیسے جیسے وقت بدلتا گیا اسی طرح ان جنگوں میں بھی جدت آتی گئی پہلے زمانے میں لوگ پتھروں تیروں تلواروں سے لڑتے رہے اب جدید اسلحہ نے جگہ سنںھال لی ہے 

جنگوں کی اقسام بارے دیکھتے ہیں کہ یہ کتنی قسم کی ہیں اور کس طریقے سے لڑی جاتی ہیں

1۔ فرسٹ جنریشن وار 

یہ پرانے زمانے کی جنگیں ہیں جس میں انسان نے پتھر و ڈانگ سوٹے سے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا اور پھر تیر وغیرہ  ان جنگوں کی زینت بنے ان جنگوں میں وہی جیتا جس کے پاس افراد زیادہ  اور اس کے سپاہی دشمن کے سپاہیوں سے زیادہ طاقتور تھے

ان جنگوں کو فری انڈسٹریل وارز کا نام دیا گیا ہے 


2 سیکنڈ جنریشن وار

یہ جنگیں لڑی تو تیر و تلوار سے گئیں مگر ان میں ایک اور جدت یہ آئی کہ دشمن سے زیادہ مایہ ناز اسلحہ بنایا گیا جیسے تیر و تلوار کے مقابلے میں منجنیق بنائی گئی تاکہ ایک ہی وقت میں کئی کئی سپاہیوں کا مقابلہ کیا جائے یعنی دشمن سے اپنے اسلحے کو زیادہ طاقتور کر گیا چاہے کمک کم ہی سہی مگر اسلحہ دشمن سے زیادہ اچھا اور کارگر ہونا چائیے 

ان جنگوں کو ٹیکنالوجی وارز کا نام دیا گیا ہے 


3۔ تھرڈ جنریشن وار

اس طریقے میں دشمن پر اچانک اس طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے جس سے دشمن کو سنبھلنے کا موقع نا ملے جیسے ایک تیر بردار پر کلاشنکوف سے حملہ کر دیا جائے اور لڑاکا طیاروں سے پورے علاقے کو تہنس کر دیا جائے اس کا ایک مشہور طریقہ یہ بھی ہے کہ جب ہٹلر نے اپنے مخالفین کو اس وقت حیران کرکے سنبھلنے کا موقع نا دیا کہ جب ہٹلر کے طیاروں نے ساحل پر لینڈنگ کی اور دشمن کے وہم و گمان میں بھی نا تھا کہ مخصوص اڈوں کے بغیر ساحل پر بحری بیڑے کھڑے کر کے ان پر لینڈنگ کی جا سکتی ہے 

ان جنگوں کو آئیڈیاز وارز کا نام دیا گیا 


4۔ فورتھ جنریشن وار

اس طریقہ جنگ میں دشمن پر اس قدر زور دار حملہ کیا جاتا ہے کہ وہ سنھبل نہیں پاتا جیسے کہ امریکہ نے افغانستان پر ڈیزی کٹر بموں سے حملہ کیا اور ساتھ ہی زمینی حملے کیلئے اپنے دشمن کے دشمن کو ساتھ ملا لیا یعنی طالبان کے مقابل امریکہ نے شمالی اتحاد کو ساتھ ملا کر زمینی کاروائی کی جس سے طالبان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی جدید ایٹمی ہتھیار بھی اسی طریقہ جنگ میں شامل ہیں

 

5۔ ففٹھ جنریشن وار 

یہ پانچویں نسل کی انتہائی خطرناک جنگ ہے اس میں دشمن اپنے دشمن کی عوام میں پروپیگنڈا کرکے اسی کے خلاف کر دیتا ہے اور وہ کام جو ہتھیاروں سے لیا جاتا تھا وہی کام دشمن کے لوگوں سے لیا جاتا ہے یعنی ملک دشمن کا ،کمپیوٹر لیپ ٹاپ دشمن کا انہیں چلانے والا فرد دشمن کا مگر اس فرد پر قبضہ کرکے اس سے اسے کے ملک کے خلاف کام لیا جانا اس کی بہترین اصلاح ہے 

اسے سائبر وار فئیر کا نام دیا گیا ہے اس میں اپنے دشمن کے رازوں تک رسائی کے لئے کمپیوٹر،لیپ ٹاپ کو ہیک کرکے ڈیٹا اکھٹا  کیا جاتا ہے یہ انتہائی پیچیدہ جنگ ہے جو کہ عوام کے بل بوتے پر جیتی جاتی ہے 

نائن الیون کے بعد امریکہ نے اپنی مظلومیت کا رونا رو کر افغانیوں کے خلاف یہ جنگ لڑی اور افغانستان کی عوام کو بڑی حد تک اپنے ساتھ ملانے اور طالبان کے خلاف کرنے میں کامیاب بھی رہا 

اس جنگ کا مرکز عالم کفر کی طرف سے پاکستان کو بنایا جا رہا ہے جیسے فرقہ واریت کے نام پر فسادات،صوبائیت لسانیت کے نام پر بلوچوں ،سندھیوں کو اپنی ہی افواج کے خلاف کرکے قتل و غذرت گری کا بازار گرم کرنا 

یہ ایک ایسا وار فیئر ہے جس میں افواج سے زیادہ عوام کا کردار ہوتا ہے 

چونکہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے ہر بندے کی سوشل میڈیا تک عام رسائی ہے اس لئے دشمن سوشل میڈیا کے ذریعے اس جنگ کو جیتنا چاہتا ہے اس لئے ہم پاکستانیوں کو انتہائی محتاط ہونا ہوگا اور اپنے بیگانے کی تمیز کرنی ہوگی مثلا آپ سندھ و بلوچستان کے مسلح لوگوں کو دیکھ لیجئے جو افواج پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے کھڑے ہیں ان کو پہلے والے سندھ و بلوچستان بھی یاد ہیں جب بنیادی سہولیات نا تھیں مگر لوگ پھر بھی امن و سکون سے رہتے تھے مگر اب جب ان علاقوں میں  تھوڑی ترقی ہوئی تو دشمن نے ان علاقوں سے بندے خرید کر ان کو پاکستان کے خلاف کرکے دہشت گردی کا بازار گرم کر دیا 

اگر دیکھا جائے تو 1971 میں بھی انڈیا نے اسی قسم کی جنگ کرتے ہوئے بنگالیوں کو مغربی پاکستان کے خلاف کیا تھا اور ان کی تنظیم مکتی باہنی کو مسلح کیا اور فوج پر حملے کروائے اور الٹا خود کو ہی  مظلوم ظاہر کیا 

آج بدقسمتی سے یہ سائبر وار پاکستان پر مسلط کی گئی ہے جسے ہم سب نے مل کر لڑنا ہے اور دشمن کو ناکام بنانا اس کے لئے ہمیں سوشل میڈیا پر اپنے ملک ، فوج اور اداروں کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کو نظر انداز کرنا ہوگا اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا کیونکہ پاکستان کی بقاء میں ہی ہماری بقاء ہے ورنہ شام ،افغانستان عراق ،لیبیا کا حال ہمارے سامنے ہے


Monday, 4 January 2021

یہ بدبو آخر کب ختم ہو گی؟ ازقلم غنی محمود قصوری

 پرانے زمانے کی بات ہے ایک شہر میں نازک سی مگر زبان کی تیز طراز لڑکی رہتی تھی جسے گوبر سے سخت نفرت تھی 

وہ ہمیشہ اپنی ماں سے کہا کرتی تھی میں شادی وہاں کراؤ گی جس گھر میں گوبر کے اپلوں کی بجائے لکڑی جلائی جاتی ہوں 

وقت گزرتا گیا اور اس کے لئے رشتے آتے رہے مگر جہیز کی ڈیمانڈ پورا نا کر سکنے پر رشتے والے جواب دیتے گئے آخر کار ایک دن ایک دور دراز گاؤں سے رشتہ آیا جو جہیز نا لینے پر بھی راضی تھے سو اس لڑکی کے والدین نے اس کا رشتہ پکہ کر دیا جس کا اس لڑکی کو سخت دکھ ہوا کیونکہ وہ گاؤں کی بجائے شہر میں شادی کروانا چاہتی تھی کیونکہ شہر میں زیادہ تر لکڑی جلائی جاتی تھی

وقت گزرا اور اس کی شادی ہو گئی بیاہ کر وہ اپنے شوہر کے گھر آ گئی جو کہ غریب تھے 

اس کی ساس کسی چوہدری کے گھر جا کر اپلے بناتی اور گھر کا چولہا جلاتی 

چند دن گزرنے کے بعد اس کی ساس نے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ چلو اور چل کر اپلے بناؤ تاکہ میری اپلے بنانے میں مدد ہو سکے جس پر اس بدبو سے نفرت کرنے والی لڑکی   نے فوری انکار کرتے ہوئے بدبو سے طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کیا 

ساس سمجھدار تھی معاملے کی نزاکت کو سمجھتی تھی اور گھر کا ماحول بھی خراب نہیں کرنا چاہتی تھی آخر اس نے بھی اپلے نا بنانے کا تہیہ کرلیا جب تک کہ بہو ساتھ نا چلے 

اس کی ساس نے اسے اس دن روٹی نا دی سو بھوک سے نڈھال بیچاری اگلے دن اپلے بنانے چلی گئی اور ناک پر کپڑا رکھ کر بولی کہ کتنی گندی بدبو ہے اس بدبو سے مجھے الٹی آتی ہے میں اس بدبو سے بیمار ہو جاؤنگی غرضیکہ اس نے سو طرح کے بہانے کئے میں اس کی ایک نا چلی اسے آخر کار اپلے بنانے ہی پڑے 

وہ روز اپنی ساس کیساتھ اپلے بنانے جاتی اور سو نخرے کرتی

رفتہ رفتہ اس کے نخرے کم ہونے لگی اور ایک دن اپنی ساس سے کہنے لگی دیکھا جب سے میں آئی ہوں یہاں اپلے بنانے تب سے  گوبر میں سے بدبو  آنا ختم ہو گئی ہے کیونکہ میں اپلے اچھے بناتی ہوں 

اس کی اس بات پر اس کی ساس تھوڑا ہنسی اور بولی تمہارے آنے سے گوبر کی بدبو نہیں گئی بلکہ تمہیں اس کی بدبو سونگنے کی عادت ہو گئی ہے اب تمہیں اس بدبو کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ اب تم اس بدبو کو قبول کر چکی ہو یہ بدںو ختم نہیں ہوئی بلکہ تمہاری اپنی بدبو مر چکی ہے  

اسی لڑکی جیسا  حال ہمارے عمران خان صاحب کا بھی ہے جو بطور اپوزیشن لیڈر مہنگائی،بے روزگاری،امن و امان کی ابتر صورتحال،ذخیرہ اندوزی اور دیگر معاشرتی برائیوں کا رونا رویا کرتے تھے اور لوگوں کو سٹیج پر کہا کرتے تھے کہ میں اس بدبو کو ختم کرونگا مگر اب اس لڑکی کی طرح اپنی بدںو کو مار بیٹھے اور اپوزیشن و عوام کو سبق دے رہے ہیں کہ میرے آنے سے یہ بدبو مر گئی حالانکہ خود خان صاحب اس بدبو کا حصہ بن چکے ہیں اور اس مہنگائی،بے روزگاری کی بدبو کو سونگھنے سے قاصر ہو چکے ہیں

افسوس کہ اس سے قبل بھی سارے لیڈر اس بدبو کو ختم کرنے کا کہہ کر اس بدبو کا حصہ بن گئے اور اپوزیشن میں جاتے ہی


انہیں پھر وہی بدبو آنے لگتی ہے  

ان سیاستدانوں کے وعدوں کی بدبو پر عوام پوچھتی ہے کہ یہ بدبو آخر کب ختم ہو گی؟