Sunday, 27 March 2022

میں بھی تو بلوچ ہوں میرا کیا قصور تھا؟ ازقلم غنی محمود قصوری





20 جنوری 2022 کو لاہور انار کلی بازار میں الحبیب بینک لمیٹڈ کے سامنے ایک زور دار بم دھماکہ ہوا جس میں 3 افراد شہید اور 3 درجن کے قریب زخمی ہوئے 

یہ دھماکہ پلانٹنڈ تھا اور دوپہر کے وقت ہوا جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں عین سامنے بینک ہے اور اس کے سامنے ریڑھی والے غریب لوگ اپنی ریڑھیاں لگاتے ہیں اور اپنے بچوں کیلئے رزق کماتے ہیں


راقم کا انار کلی بازار میں کافی آنا جانا ہے اور اکثر و بیشتر جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں سے دھی بھلے،فروٹ چاٹ،کھیر اور بھٹورے وغیرہ بھی کھائے ہیں

راقم  نے دھماکہ سے دو دن بعد دوبارہ اسی جگہ کا چکر لگایا تو دیکھا جو جگہ غریب ریڑھی بانوں سے بھری ہوئی ہوتی تھی وہ بلکل خالی پڑی ہے

کافی عمارتوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے ،چہروں پر اداسیاں تھیں مگر رونق اسی طرح تھی 

مگر جس دھی بھلے والے سے راقم دھی بھلے کھاتا تھا وہ نظر نا آیا 

خیر کافی دنوں بعد وہ مطلوبہ بندہ نظر آیا تو جو گفتگو اس سے ہوئی وہ آپ کے سامنے ہے 


اس کی عمر 35 سال ہے مگر اس کی ڈارھی کی سفیدی اسے 50 سے اوپر کا ظاہر کرتی ہے

 

میں نے جاتے ہی اس سے سلام لی اور پوچھا حکم داد ( فرضی نام) یار کہاں تھے اتنے دنوں سے میں تو بہت پریشان تھا تمہارے دھی بھلے بڑے اچھے اور مزیدار ہوتے ہیں یار کئی بار میں آیا مگر تم موجود نا  تھے ،کہیں گئے ہوئے تھے؟

وہ میرے نام سے تو ناواقف تھا مگر اتنا جانتا تھا کہ کئی سالوں سے میں اس کا گاہگ ہوں


اس نے بڑی تکلیف دہ نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولا 

کمال ہے صاحب آپ کو نہیں پتہ اس جگہ دھماکہ ہوا تھا ؟

میں نے کہا ہاں بھئی پتہ ہے اسی لئے تو تمہارا ساتھ والے ریڑھی والوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ آ نہیں رہا ویسے  بس دھماکہ میں اس کی ڑیڑھی تباہ ہوئی تھی مگر وہ بچ گیا تھا 


اس نے ایک لمبی سانس بھری اور مجھے دھی بھلے بنا کر دیئے اور نظریں جھکا لیں

میں نے دھی بھلے کھانا  شروع کئے تو اس کی طرف دیکھا غالباً اس کی آنکھوں میں أنسو تھے  

خیر میں نے دھی بھلے ختم کئے تب تک وہ بھی خود کو سنبھال چکا تھا 

میں نے کہا یار دھماکہ کس جگہ ہوا تھا ؟

اس نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا میری ریڑھی کے عین سامنے 

میں نے اسی دیکھا تو وہ گویا ہوا 

صاحب پریشان ہو گئے کہ میں بچ کیسے گیا ؟

میں نے کہا نہیں بھئی یہ تو اللہ کی ذات ہے جسے چاہے زندہ رکھے جسے چاہے موت دے 

میں نے پوچھا جب دھماکہ ہوا تم اس وقت کہا تھے ؟

وہ کہنے لگا صاحب اسی جگہ موجود تھا مگر جب دھماکہ ہوا میں ساتھ والی بلڈنگ میں دھی بھلے دینے گیا تھا 

میں نے کہا یار یہ کیوں اور کیسے ہوا؟

وہ کہنے لگا صاحب کیوں ہوا کا تو مجھے پتہ نہیں مگر ہوا ایسے کہ انار کلی بازار کے وسط سے تھوڑا پہلے جہاں گارمنٹس و جوتوں کی دکانیں ہیں وہاں ایک شحض پہلے سے  کھڑی ایک موٹر سائیکل پر بیگ رکھ کر جانے لگا تو دکانداروں نے دیکھ لیا اور اسے کہا کہ کون ہے تو اور بیگ کیوں رکھا یہاں

کہتا وہ شحض جلدی سے بیگ پکڑ کر یہ کہتا ہوا آگے بڑھا کہ میں تو تھک گیا تھا بیگ اٹھا کر اسی لئے بائیک پر رکھا تھا 

مزید اس نے بتایا کہ میری ریڑھی کے بلکل سامنے اس شحض نے سامنے سڑک کے وسط میں کھڑی موٹر سائیکل پر بیگ رکھا اتنے میں مجھے ساتھ والی بلڈنگ سے آرڈر آیا دھی بھلے لانے کا تو میں ادھر چلا گیا ابھی گیا ہی تھا تو دیکھا کہ میری ریڑھی وہاں بکھری پڑی ہے اور ایک اور بچے کی ٹانگیں کٹی ہوئی ہیں اور وہ چیخ رہا ہے جبکہ ہر طرف دھواں ہی دھواں ہے اور آگ ہی آگ یو لگتا تھا جیسے قیامت برپا ہو گئی ہے


وہ کہتا ہے میں چیخنے لگا اور چلانے لگا اتنے میں پولیس و ریسکیو بھی آن پہنچی اور میں بھی گھر سے فون آنے پر گھر پہنچ گیا مگر میری ساری جمع پونجی لٹ گئی تھی 

اس نے آنکھوں میں أنسو لاتے قسم اٹھا کر کہا صاحب میں پورے پندرہ دن تک گھر سے باہر نہیں نکلا 

مجھے وہ منظر یاد آتا تھا تو میں رونے لگتا تھا 

میں نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا کیونکہ صاحب میری ریڑھی ساری تباہ ہو چکی تھی اور مجھے پتہ بھی نہیں تھا کہ کس نے یہ کیا اور میری ان سے دشمنی بھی کیا ہے 

وہ کہتا ہے میری ماں نے مجھے ہمت اور غیرت دلائی کہ تو غیور بلوچ ہے کیوں بچوں کی طرح ڈر کر گھر میں بیٹھ گیا ہے اگر یونہی بیٹھا رہا تھا ہم بھوکے مر جائینگے 

جا جا کر ریڑھی لگا اللہ رزق دے گا اور ہمت بھی 

وہ کہتا میں نے کچھ محلے داروں کو حالات بتلائے تو کسی نے مجھے رقم دی تو کسی نے نئی ریڑھی خرید کر 


اس نے مجھ سے سوال کیا  کہ  صاحب یہ دھماکہ کس نے کروایا تھا تو میں نے اسے بتایا کہ ایک بلوچ علیحدگی پسند جماعت نے کروایا ہے 

اس نے پوچھا کیوں کروایا انہوں نے 

میں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرکے ایک الگ ملک بناؤ 

اسی لئے وہ پاکستان کے ہر علاقے میں بم دھماکے کرتے ہیں پاکستانی عوام و فوج پر حملے کرتے ہیں

 

اس کی آنکھوں میں پھر آنسو آ گئے 

کہنے لگا صاحب میں بھی تو بلوچ ہوں اور جب 5 سال کا تھا تب میرے بابا ہماری پوری فیملی لے کر بلوچستاں سے لاہور آ گئے تھے کیونکہ کراچی کے حالات سخت خراب تھے اور ہمارے آبائی علاقے بلوچستان کے ایک دیہات میں  کاروبار نا ہونے کے برابر تھا اسی لئے بابا نے کراچی کام شروع کیا تو وہاں بھی حالات خراب ہو گئے اسی لئے پیٹ کی خاطر لاہور آئے تھے 

 بابا نے شربت بیچا،چنے بیچے کئی کام کئے اور ایک چھوٹا سا مکان خرید لیا ہے 

اب ہمارا تو یہی شہر بھی ہے اور وطن بھی یہیں جئے گیں یہیں مرینگے کیونکہ میرے بابا کی قبر بھی تو میانی صاحب قبرستان میں ہے 

کہنے لگا صاحب یہ دھماکہ کرنے والے بلوچی نہیں ہیں بلوچی ہم ہیں صاحب ہمارے رشتہ دار آج بھی بلوچستان میں رہتے ہیں 

وہ دور دراز علاقوں سے پینے کا پانی بھر کر لاتے ہیں مگر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے وہ اور ہم بلوچ تو بہت خودار ہیں ہم اپنی دشمنیوں کی خاطر جانیں دے بھی دیتے ہیں اور لے بھی لیتے ہیں میں اللہ گواہ ہے صاحب ہم کسی کو ناجائز قتل نہیں کرتے جس کے ساتھ دشمنی ہے اسے ہی قتل کرتے ہیں کیونکہ کسی کو ناجائز قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور بلوچی ایسا گناہ نہیں کرتے صاحب قسم لے لو صاحب بلوچی ایسا ظلم نہیں کرتے 

وہ بتلانے لگا کہ ہمارے بڑھوں نے انگریز کے خلاف جہاد کیا اور اپنی جانیں دے دیں مگر انگریز کی غلامی نہیں کی 

اس نے مجھے پوچھا صاحب ان ناراض بلوچوں کی دشمنی کس سے ہے ؟

میں نے کہا ان کی دشمنی ہر محب وطن پاکستانی سے ہے ان کی دشمن پاک فوج و عوام سے ہے ان کی دشمنی ہر آنے والی گورنمنٹ سے ہے 

وہ کہنے لگا صاحب یہ لوگ اتنا پیسہ بم دھماکوں پر لگاتے ہیں اور لوگوں کو ناجائز قتل کرتے ہیں تو پھر یہی پیسہ بلوچستان میں غریب بلوچیوں پر کیوں نہیں لگاتے ؟

میں نے کہا بات تو تمہاری قابل غور ہے مگر ان کا مقصد بلوچیوں کے علاوہ سندھیوں،پنجابیوں،پشتونوں کو حقوق کے نام پر قتل کرنا ہے 

وہ چونک گیا کہنے لگا صاحب کون بلوچی ؟ کون سندھی ؟ کون پنجابی اور کون پشتون؟

ہم سبھی تو ایک محلے میں اکھٹے رہتے ہیں نہیں یقین تو ساتھ چل کر دیکھو

ہمارے گھر میں پکا ہوا سالن کبھی پنجابی گھر سے آتا ہے تو کبھی پشتون گھرانے سے تو کبھی سندھی گھرانے سے 

صاحب ہم تو ایک ہیں ہم تو مسلمان ہیں 

ہم تو اردو بولتے ہیں کبھی ایک دوسرے کو سندھی،بلوچی،پنجابی پشتون نہیں کہا 

صاحب میری تین ہی بیٹیاں ہیں اور ایک بوڑھی ماں ہے

 صاحب قسم لے لو وہ جو ملک صاحب ہیں نے پیٹرول پمپ والے وہ ہر عید کے دن میری ماں کو گلے لگا کر جاتے ہیں جاتے ہوئے 5 ہزار دے کر جاتے ہیں اور میری بیٹیوں کا اپنی بیٹیوں کی طرح ماتھا چوم کر جاتے ہیں اور وہ غریب پنجابیوں کے گھروں میں بھی ایسے ہی جاتے ہیں اور دوسرے صوبوں کے رہائش پذیز لوگوں کے گھروں میں بھی ایسے ہی تو صاحب پھر یہ نفرت کیوں؟

ہمارا قصور کیوں میں بھی تو بلوچ ہوں مگر مجھے کیوں مارا انہوں نے ؟

میری رہڑھی کیوں تباہ کی انہوں نے ؟

صاحب جی یہ نئی والی ریڑھی مجھے لکڑی کے ٹال کے مالک حشمت خان نے مفت میں خرید کر دی ہے اور 10 ہزار سودے کیلئے رحم بخش سندھی نے دیا ہے 

صاحب یہ نفرت کیوں ہے ؟

یہ تو بلوچی نہیں صاحب بلوچی تو بڑے غیور ہوتے ہیں صاحب کسی کو ناجائز قتل نہیں کرتے کیونکہ میرے نبی کے صحابہ کرام سب سے پہلے بلوچستان میں ہی آئے تھے اور ان کی قبریں بھی ادھر آج بھی ہیںیہ کیسے بلوچی ہیں جو ہمیں بلوچستان میں بھی مارتے ہیں اور پنجاب میں بھی 

پہلے انہوں نے کراچی کا کاروبار تباہ کیا اور اب لاہور کا تباہ کرنے لگے ہیں 

صاحب اگر لاہور کراچی بن گیا کاروبار نا رہا  تو میں اپنی تین چھوٹی چھوٹی بچیوں کو لے کر کہاں جاؤنگا ؟

اس کے اس سوال کا جواب میرے پاس نا تھا میں نے اسے کہا حوصلہ کر کچھ نہیں ہوتا ان شاءاللہ یہ ملک یہ صوبے یہ شہر یہ گلی محلے ان شاءاللہ قیامت تک آباد رہینگے کیونکہ ان کی بنیادوں میں شہداء کا لہو شامل ہے 

Friday, 25 March 2022

ادائیگی زکوٰۃ اور انتظار رمضان




اسلام نے مال جمع کرنے پر پابندی نہیں لگائی بلکہ مال کو جمع کرکے اس میں سے زکوٰۃ یعنی غرباء مساکین کا حق ادا نا کرنا غلط اور قابل سزا ہے 

اسلامی ریاست ہو تو زکوٰۃ نا دینے والوں پر حد لگتی ہے اور زکوٰۃ اسلامی ارکان میں سے ایک اہم فرض رکن بھی ہے 

 

زکوٰۃ اسلام میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے جس سے غرباء کو مالی مدد ملتی ہے اور زکوٰۃ ہر صاحب مال پر فرض ہے کہ جس پر زکوٰۃ واجب ہو 


زکوٰۃ ادا کرنے کا بڑی سختی سے حکم ہے کیونکہ یہ مال کو پاک کرتی ہے 

صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ 


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا پھر اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو قیامت کے دن اس کا مال اس کے پاس بڑے زہریلے، گنجے ناگ کی شکل میں آئے گا (یعنی اس کے سَر کے بال اس کے انتہائی زہریلے ہونے کی وجہ سے جَھڑ گئے ہوں گے اور وہ نہایت خوفناک اور زہریلا ہوگا ) اس کی دونوں آنکھوں کے اوپر دو نقطے ہوں گے،

(ایسا سانپ بہت زہریلا ہوتا ہے، یہ اس ناگ کے شدید زہریلے ہونے کی علامت ہے)  وہ ناگ زکوٰۃ نہ دینے والے شخص کی گردن میں لپٹ جائے گا اور اس کے دونوں جبڑے پکڑے گا (یعنی نوچے گا اور ان کو چیر دے گا) اور کہے گا ،میں تیرامال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں (جس کی تو زکوٰۃ نہ دیتا تھا، آج اس کا عذاب بھگت

جبکہ قرآن میں مال کوجمع رکھنے اور زکوٰۃ نا دینے والوں کے بارے اللہ رب العزت کا حکم ہے  

وَالَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُونَہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ أَلِیمٍo یَوْمَ یُحْمٰی عَلَیْہَا فِی نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوبُہُمْ وَظُہُورُہُمْ ط ہٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِکُمْ فَذُوقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَo(التوبۃ:۳۴، ۳۵)


ترجمہ ۔۔اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کرکے رکھتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، ان کو ایک درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو، جس دن اس دولت کو جہنم کی آگ میں تپایا جائیگا پھر اس سے ان لوگوں کی پیشانیاں اور ان کی کروٹیں(پہلو) اور ان کی پیٹھیں(پشتیں) داغی جائیں گی(اور کہا جائے گا کہ)یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، اب چکھو اس خزانے کا مزہ جو تم جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے

اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ جو مال تو جمع کرتے ہیں مگر اس میں سے زکوٰۃ و خیرات اللہ کی راہ میں نہیں نکالتے 


ہمارے ہاں کچھ لوگ زکوٰۃ ادا تو ضرور کرتے ہیں مگر وہ رمضان کا انتظار کرتے ہیں کہ اس ماہ مقدس میں نیکیاں زیادہ ملتی ہیں اور یہ بات ہے بھی درست کہ اس ماہ مبارک میں ہر اچھے عمل کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے 

 

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا  کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا  رمضان میں صدقہ کرنا افضل ہے


بے شک رمضان میں کئے گئے صدقہ خیرات اور عبادات کا اجر بہت زیادہ ہے اور ہمیں زیادہ سے زیادہ ثواب کی ضرورت بھی ہے تاکہ ہم بعد ازمرگ اللہ تعالی کا قرب زیادہ سے زیادہ پا سکیں اسی لئے زیادہ تر لوگ اپنی زکوٰۃ کو خالص اللہ کی رضا کی خاطر ماہ رمضان تک روک کر رکھتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ثواب ملے 

مگر سوچئے جن غریب غرباء کو آپ نے زکوٰۃ ماہ رمضان میں دینی ہے اگر ان کے پاس ماہ رمضان کیلئے سامان ہی نا ہو گا تو وہ اوائل روزے سامان نا ہونے کے باعث کیسے رکھ سکیں گے؟

 اور اگر روکھی سوکھی کھا کر رکھ بھی لیں تو یقیناً ان کے دل افسردہ ہونگے

 

لہذہ میری ذاتی رائے ہے کہ ہمیں اپنی زکوٰۃ ماہ رمضان کے شروع ہونے سے تھوڑے دن پہلے ادا کر دینی چائیے تاکہ ہماری ادا کردہ زکوٰۃ کے پیسے سے مستحق افراد راشن خرید کر اسی زکوٰۃ کے راشن سے سحری کریں اور افطاری تو یقیناً اللہ تعالی اوائل رمضان سے ہی ہمارے اعمال میں نیکیاں بڑھا کر لکھ دے گا کیونکہ اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں وہ نیتوں کو دیکھتا ہے 


اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین 


Tuesday, 22 March 2022

23 مارچ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی ازقلم غنی محمود قصوری




وطن سے محبت اسلام کا حصہ ہے کیوں کہ اگر وطن پیارا و آزاد ہو گا تو آپ اپنی مذہبی رسومات بآسانی انجام دے سکے گے اور آزادی کی زندگی گزار سکیں گے بصورت دیگر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے ساتھ شحضی آزادی بھی چھن جاتی ہے 

یوں تو محض یہ مملکت خداداد پاکستان ہی ہمارا ملک ہے مگر احادیث رسول کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ساری زمین ہی اللہ کی ہے اور ہم مسلمان اللہ کے خاص بندے اور اس ساری زمین پر حق ہمارا ہے

جس کی مثال یہ حدیث ہے



عن النعمان بن بشیرؓ قال: قال رسول اللّٰہ

 مثل المؤمنین فی توادہم وتراحمہم وتعاطفہم مثل الجسد إذا اشتکی منہ عضوٌ تداعٰی لہٗ سائرُ الجسد بالسہر والحُمّٰی

                                                                (مسلم) 


ترجمہ۔۔باہمی محبت اور رحم وشفقت میں تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، جب انسان کے کسی عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے جسم کے تمام اعضاء بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں 


اسی طرح جب ایک مسلمان آدمی و ملک کو تکلیف پہنچے تو تمام امت کو اس کا درد محسوس ہوتا ہے اور اس درد کو رفع کرنا اپنی بساط کے مطابق ہر ایک شحض و ملک پر فرض ہے 


اسلام میں ذمیوں، کافروں کے حقوق بھی احادیث سے ثابت ہیں تاکہ وہ بھی عزت و احترام سے رہ سکیں اور اپنی مذہبی آزادی کے ساتھ شحضی آزادی بھی برقرار رکھ سکیں مگر افسوس کہ آج کافر ہم امت مسلمہ پر ہاوی ہیں اور ہم پستی کی زندگیاں گزار رہے ہیں


نبی کریم کی اپنے وطن سے محبت کا اندازہ ان احادیث سے لگایا جا سکتا ہے 


 ما أطيبَكِ مِن بلدةٍ وأحَبَّك إليَّ، ولولا أنَّ قومي أخرَجوني منكِ ما سكَنْتُ غيرَكِ. (صحيح ابن حبان عن عبد الله بن عباس، الصفحة أو الرقم: 3709)


ترجمہ۔۔۔  ہجرت کے موقع پر مکہ کو مخاطب کرکے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے مکہ تو کتنا پاکیزہ اور میرا محبوب شہر ہے، اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی میں کہیں اور نہ رہتا


ایک دوسری حدیث میں ہے کہ


اللَّهمَّ حبِّبْ إلينا المدينةَ كما حبَّبْتَ إلينا مكَّةَ وأشَد. اللَّهمَّ بارِكْ لنا في صاعِها ومُدِّها وانقُلْ وباءَها إلى مَهْيَعةَ. (وهي الجُحفةُ). (صحيح ابن حبان عن عائشة، الصفحة أو الرقم: 5600)


ترجمہ ۔۔ہجرت کے بعد آپ علیہ السلام نے مدینہ منورہ کے لئے دعا فرمائی کہ اے اللہ  مدینہ کی محبت ہمارے دل میں مکہ کی محبت سے زیادہ فرما دے


ان احادیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے وطن سے محبت کی بڑی عمدہ مثال ملتی ہے نیز ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اپنے وطن کی توقیر و سلامتی کیلئے ہجرت کی جا سکتی ہے اور کفار کے غلبہ پر ان کا قبضہ ختم کروانے کیلئے جہاد لازمی ہے  جیسا کہ نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو چھوڑا مدینہ میں سکونت اختیار کی ایک مضبوط جماعت بنائی اور کفار سے ٹکرا کر اپنے وطن کو فتح کیا 

انہیں احادیث کو دیکھتے ہوئے ٹیپو سلطان رحمتہ اللہ علیہ نے 1857 کی جنگ آزادی لڑی تھی اور اسی جذبے کے تحت علامہ اقبال و محمد علی جناح نے آزادی کی یلغار بلند کی تھی اور دو قومی نظریہ پیش کیا تھا 


آج 23 مارچ کا دن ہے 

1940 کو محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار حضرت علامہ محمد  اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے جو خواب دیکھا تھا ان کے رحلت کے بعد قائد و رفقاء نے اسے 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں دنیا کے سامنے رکھا اور خوب جدوجہد کی اور أخرکار 14 اگست 1947 کو کم و بیش 16 لاکھ قربانیاں اور لاکھوں ماؤں بہنوں کی عزتوں کی قربانیوں کے بعد یہ ملک ہمیں ملا اور آج اس کی تقریباً چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے

ان شاءاللہ یہ وطن تاقیامت رہے گا مگر سارا عالم کفر اس کو توڑنے کے درپے ہے

 

جہاں پاکستان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں وہیں پوری دنیا کے مسلمان ممالک کے خلاف بھی سارا عالم کفر اکھٹا ہے 

اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے 21 اگست 1969 کو مسجد اقصیٰ پر یہودی حملے کے بعد مراکش کے شہر رباط میں او آئی سی نامی اسلامی ممالک کی مشترکہ تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی


اس اورگنائزیشن اسلامک کوپریشن ( او آئی سی) 25 ستمبر 1969 کی کانفرنس کو کامیاب کروانے میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم ،سعودی عرب کے شاہ فیصل مرحوم نے کلیدی کردار ادا کیا تھا 


1974 میں لاہور میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی اور فلسطینی وزیراعظم یاسر عرفات،سعودی عرب کے شاہ فیصل،یوگنڈا سے عیدی امین،تیونس سے بومدین،لیبیا سے معمر قذافی مصر سے انور سادات ،شام سے حافظ الاسد ،بنگلہ دیش سے شیخ مجیب الرحمن ،ترکی سے کورو فخری سمیت دیگر اسلامی ممالک کے وفد نے شرکت کی تھی

اب ایک بار پھر مملکت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 57 اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے 44 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور کچھ کے دیگر اعلی عہدیداران موجود ہیں جن کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے اور یہ ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے 

ان شاءاللہ اس کانفرنس میں 23 مارچ 1940 کی طرز پر پیش کئے گئے دو قومی نظریہ کی طرح امت مسلمہ کیلئے نظریات پیش کئے جائینگے جس کیلئے ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی امت مسلمہ کی اس تنظیم سے زیادہ سے زیادہ امت مسلمہ کی بقاء و سلامتی کا کام لے


آمین

Monday, 14 March 2022

دہشت گردوں کا دوبارہ اکٹھ پاکستانیوں کا نیا امتحان ازقلم غنی محمود قصوری




اس وقت ملک پاکستان تاریخ کے  نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے جس کا فائدہ ہمارا ازلی دشمن بھارت اٹھا رہا ہے 

بھارت نے پاکستان کے اندر کئی بار مداخلت کی اور علیحدگی کی تحریکوں کو پروان چڑھایا تاکہ پاکستان کا امن و سکون برباد ہو

اس وقت پاکستان میں ملک کا امن و سکون برباد کرنے والے کئی گروہ موجود ہیں جن میں سے بیشتر بلکہ زیادہ تر کو بھارت نے بنوایا اور فنڈنگ بھی بھارت،امریکہ اسرائیل مل  کر رہے ہیں

ان گروہوں  میں سے ایک معروف گروہ  ٹی ٹی پی ہے جو کہ 3 درجن سے زائد گروہوں سے بنا تھا مگر آہستہ آہستہ اندرونی بغاوت کے باعث کم ہوتا چلا گیا تاہم اب ایک بار پھر  بھارت اور امریکہ کے آشیر باد سے اس گروہ کو دوبارہ منظم کیا جا رہا ہے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ساتھ ملا کر یک جان ہو کر سیکیورٹی فورسز و مملکت پاکستان پر حملے کئے جا رہے ہیں 

ایک نظر ڈالتے ہیں معروف دہشت گرد گروہوں کی تاریخ پر 


1964 کو بلوچ لبریشن فرنٹ کی بنیاد جمعہ خان مری نے رکھی تھی تاہم اس تنظیم نے جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں 1980 کی بلوچ بغاوت میں بڑا کردار ادا کیا تھا 

اس تنظیم نے وقفہ وقفہ سے علاقائی اور لسانی بنیاد پر پاکستان پر حملے جاری رکھے اور 2009 میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو اس جماعت کا سربراہ مقرر کیا گیا یہ جماعت اب بھی پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت کر رہی ہے اور کئی معصوم پاکستانیوں سمیت سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی شہید کر چکی ہے 


سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں 1970 میں بلوچستان لبریشن آرمی کی بنیاد رکھی گئی تھی جس نے پاکستان پر مسلح حملے کئے مگر جنرل ضیاء الحق کی کاوش سے بلوچ علیحدگی پسند گروپوں سے مذاکرات کئے گئے جس کے باعث یہ جماعت منظر عام سے غائب ہو گئی 

بہت عرصہ غائب رہنے کے بعد اس جماعت نے دوبارہ 2000 میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس نواز مری کے قتل کے الزام میں نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد دوبارہ حملے شروع کر دیئے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے 


انٹرنیشنل لیول کی جماعت القاعدہ کی بنیاد اسامہ بن لادن اور عبداللہ عزام نے 1988 میں رکھی  اس جماعت نے شروع میں تو روس کے خلاف جہاد کیا اور پاکستانی فورسز کا ساتھ بھی دیا تھا  تاہم افغان امریکہ جنگ میں اس تنظیم نے  پاکستان پر بھی حملے کئے

 

  القاعدہ کے کمانڈر ابو مصعب الزرقاوی نے 1999 میں داعش کی بنیاد رکھی تھی اور اسے 2014 میں اس وقت  عالمی شہرت حاصل ہوئی جب اس نے انبار مہم کے دوران عراقی سیکورٹی فورسز کو اہم شہروں سے باہر نکال دیا تھا اور اپنی پاور شو کی تھی اس انٹرنیشنل لیول کی جماعت نے بھی پاکستان پر بہت سے حملے کئے اور یہ جماعت اس وقت دنیا کی تمام خطرناک دہشت پسند جماعتوں میں سے پہلے نمبر پر ہے اس جماعت میں زیادہ تر سلفی ( اہلحدیث) مکتبہ فکر کے لوگ شامل ہیں 


 افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان کی پالیسی کو نا سمجھتے ہوئے پاکستان کو امریکہ کا اتحادی سمجھتے ہوئے  مفتی نظام الدین شامزئی کے فتوی پر عمل کرتے ہوئے  دیوبندی مکتب فکر کے کچھ جید مفتیان کرام کی پشت پناہی میں چھوٹے چھوٹے مسلح قبائلی گروہوں نے پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے تاہم   2004 میں جب پاکستانی فوج نے جب ان کے خلاف آپریشن شروع کیا تو جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک ، جامعہ اشرفیہ لاہور ، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اوردیگر دیوبندی مکتب فکر کے مراکز کی طرف سے اس آپریشن کے خلاف شدید نوعیت کا فتویٰ جاری ہوا اور عوام کو افواج پاکستان کے خلاف کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان کے خلاف متحد ہوکر لڑنے کا عزم کرکے دو درجن سے زائد گروپوں نے مل کر دسمبر 2007  میں تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد رکھی اور بیت اللہ محسود کو ٹی ٹی پی کا امیر مقرر کیا گیا 

    خفیہ اداروں کی  رپورٹ کے مطابق ان کو 34 گروہوں کے ساتھ اتحاد کرکے بنایا گیا تھا 

 جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے تحریک طالبان پاکستان کے اہلکاروں( جن میں افغانی طالبان بھی شامل تھے) سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکا کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے  تھے

 اگرچہ بظاہر امریکا اور طالبان ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حیران کن طریقہ پر پاک فوج کے وزیرستان آپریشن کے شروع ہوتے ہی نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کر دیں حالانکہ وہاں سے افغانی وزیرستان میں آسانی سے داخل ہو سکتے تھے اس معاملہ پر اس وقت کے پاکستانی  وزیر داخلہ رحمان ملک نے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا

 اس جماعت نے پاکستان میں آتش و خون کا وہ کھیل کھیلا کہ ہر پاکستانی ان سے نفرت کرنے لگا ہے

اتنی جماعتوں کے اکٹھ کے بعد ان میں کچھ اختلاف بھی ہوئے جس کے باعث کچھ گروپ تحریک طالبان پاکستان سے الگ بھی ہو گئے 

ٹی ٹی پی کمانڈر  احسان اللہ احسان نے اگست 2015 میں تحریک طالبان کے کچھ کمانڈروں کی تنظیم سازی کے عمل پر اختلافات کی وجہ سے اگست 2015 کو جماعت الاحرار کی بنیاد ڈالی اور الگ سے پاکستان پر حملے شروع کئے 


کافی عرصہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ان جماعتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کا بڑی حد تک خاتمہ بھی کیا تاہم اب ایک بار سے پھر ان گروہوں نے اتحاد شروع کر دیا ہے   جس کے باعث نئے حملوں کا خطرہ ہے اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز و عوام کا ایک نیا امتحان شروع ہو گیا ہے 


پاکستان پر نئے حملوں کی خاطر 7 مارچ 2022 کو قبائلی کمانڈر حافظ احسان اللہ نے اپنے ساتھیوں سمیت تحریک طالبان پاکستان کی بیعت کر لی ہے اور اسی طرح 10 مارچ 2022 کو لکی مروت سے تعلق رکھنے والے مولوی ٹیپو گل کے تین گروپوں نے تحریک طالباں پاکستان کے امیر مفتی نور ولی محسود کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے جس کی تصدیق ترجمان تحریک طالبان محمد خراسانی نے کی ہے


یقیناً ان گروہوں کے اتحاد سے ایک بار پھر آتش و خون کا بازار گرم ہو گا مگر ان شاءاللہ رب العالمین کی رحمت اور افواج پاکستان کی قربانیوں سے ان کو بہت جلد بڑی شکشت ہو گی اور امید ہے کہ ان کی یہ شکشت ان کو دوبارہ نا اٹھنے دے گی 

ان شاءاللہ

پاکستانی فورسز و عوام پہلے بھی یک جان اور  تیار تھی اور اب بھی یک جان و  تیار ہیں 

اللہ تعالیٰ مملکت خداداد پاکستان کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت فرمائے آمین