Sunday, 17 March 2024

طوفان الاقصیٰ اور غزہ میٹرو از قلم غنی محمود قصوری






گزشتہ سال 7 اکتوبر 2023 سے ابتک حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ جاری ہے جس میں ہر آنے والے دن کیساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے

 وزارت صحت غزہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے باعث ابتک اس جنگ میں فلسطینی شہداء کی تعداد 31,553  اور زخمیوں کی تعداد 73,546 ہو گئی ہے جن میں 70 فیصد عورتیں اور بچے شامل ہیں جبکہ 23 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں رہائشی عمارتیں،مساجد،سکول، ہسپتال و دیگر املاک مکمل تباہ ہو چکی ہیں

حماس نے اس جنگ کو طوفان الاقصیٰ کا نام دیا ہے 


اسرائیل اور حماس کے مابین یہ جنگ کوئی پہلی نہیں اس سے پہلے بھی یہ جنگیں ہو چکی ہیں مگر موجودہ جنگ سب سے زیادہ خطرناک ترین ہے

حماس کا مقصد اسرائیل کا جدید ترین دفاعی نظام آئرن ڈوم تباہ کرنا ہے جو کہ راکٹ شکن دفاعی نظام ہے جو اپنی  300 کلومیٹر کی حدود میں آنے والے مخالف راکٹ وغیرہ کو فضاء میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے


اسے اسرائیلی Advance Defance System Rafael  نے 210 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کیا جس کا وزن 90 کلوگرام اور اس کی لمبائی 3 میٹر ہے

اس وقت تقریباً 6 ممالک آئرن ڈوم استعمال کر رہے ہیں مگر اسرائیل میں نصب آئرن ڈوم دنیا کا جدید ترین مانا جاتا ہے کیونکہ یہ 20 سے 45 سیکنڈ تک ریڈار کے ذریعے اپنے مخالف ہدف کو تلاش کرکے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے 

ویسے تو اس نظام کو 2005 میں اسرائیل میں  تیار کیا گیا تاہم اسے 2007 میں نصب کیا گیا جس کے خاطر خواہ نتائج نا نکلے تو 2012 میں امریکہ کی مدد سے اسے اپ گریڈ کرکے کامیاب ترین قرار دیا گیا 

اسرائیلی ٹیکنالوجی میں آئرن ڈوم کلیدی اہمیت رکھتا ہے


جس طرح اسرائیل کے دفاع میں آئرن ڈوم کلیدی اہمیت رکھتا ہے بلکل اسی طرح حماس کی سرنگیں حماس کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہیں اور اسرائیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی سرنگیں ہیں

 

 اسرائیل کا مقصد ان سرنگوں کو تباہ کرنا ہے اور اسرائیل ان سرنگوں کو غزہ میٹرو کا نام دیتا ہے


 5 ماہ سے زیادہ کی اس جنگ میں اسرائیل ان سرنگوں کا 20 فیصد بھی تباہ نہیں کر سکا

اسرائیلی فوج نے ان سرنگوں کو تباہ کرنے کے لئے بے پناہ فضائی بمباری کی،ٹینکوں کا استعمال کیا اور جدید ترین ڈرونز کے ذریعے ان سرنگوں کا کھوج لگانے کوشش کی اور کچھ پکڑی جانے والی سرنگوں میں سمندر کا پانی داخل کیا تاہم ناکام رہا


حماس نے اسرائیلی کے 132 سے زیادہ قیدی  انہی سرنگوں میں رکھے ہوئے ہیں جن میں سے 28 ہلاک ہو چکے ہیں 


امریکی فوجی اکیڈمی کے مطابق اس وقت غزہ میں 500 کلومیٹر تک لمبی 1300 جدید ترین سرنگیں موجود ہیں جو کہ 30 میٹر گہری ہیں اور ان کے نیچے مکانات،مساجد اور حماس کے ٹریننگ کیمپوں کے علاوہ اسلحہ ساز فیکٹریاں بھی موجود ہیں

یہ سرنگیں اس قدر جدید ہیں کہ فضاء سے ان کی نشاندھی ممکن نہیں ان کی نشاندھی کیلئے پورے غزہ کی تلاشی ضروری ہے

ان میں سے بیشتر سرنگیں اسرائیل کے اندر تک موجود ہیں 

اگر ہم ان سرنگوں کی جدت کا اندازہ لگائیں تو ذہن نشین کر لیں کہ لندن میں انڈر گراؤنڈ ٹرین سسٹم 400 کلومیٹر لمبا ہے مگر یہ سرنگیں 500 کلومیٹر تک لمبی ہیں


ایک طرف دنیا کا جدید ترین ایٹمی ملک اسرائیل ہے تو دوسری طرف اس کے مدمقابل 35 سے 40 ہزار حماس کے تربیت یافتہ افراد جن کے بارے اسرائیل نے دعوی کیا ہے کہ 10 ہزار سے زائد حماس جنگجو شہید ہو چکے ہیں مگر دوسری طرف عسکری تجزیہ نگار پوچھتے ہیں کہ اگر اتنی تعداد میں حماس کے مجاھدین شہید ہو چکے ہیں تو ابتک اسرائیل خاطر خواہ نتائج کیوں نہیں حاصل کر سکا اور ابتک 1200 سے زائد اسرائیلی کیوں مر چکے ہیں؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب اسرائیلی ڈیفینس فورسز کے پاس نہیں

گمان ہوتا ہے کہ یہ جنگ لمبا عرصہ چلے گی کیونکہ دونوں طرف ٹیکنالوجی میں جدت ہے ہاں اسرائیل کے پاس فوجی قوت اور اسلحہ زیادہ ہے مگر اس کے مدمقابل حماس کے مجاھدین بہت کم ہیں مگر حماس کے مجاھدین وہ ہیں جو 2014 کی حماس اسرائیل جنگ میں 18 سال سے کم عمر کے نوجوان تھے اور جنہوں نے اپنے خاندانوں کو اسرائیلی فوج کے ہاتھوں بہت برے طریقے سے شہید ہوتے دیکھا اور اب وہ انتقام کیلئے ہر حد تک جاسکتے ہیں


0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home