موجودہ سیلاب یا عذاب۔ ازقلم غنی محمود قصوری
سیلاک محتاط اندازے کے مطابق 14 جون 2022 سے لے کر اب تک ملک بھر میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی کیفیت سے جانبحق ہونے والوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر چکی ہے جن میں 386 مرد،191 عورتیں اور 326 بچے شامل ہیں
جبکہ زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 1293 سے تجاوز کر چکی ہے
ماہ رمضان بابرکت مہینے سے حکومت بنانے اور حکومت گرانے کا سلسلہ جاری ہے
کسی کو کرسی بچانے کی فکر ہے تو کسی کو کرسی گرانے کی
ہر ایک کے پاس حکومت گرانے اور بنانے کیلئے ایم پی اے،ایم این اے خریدنے کے پیسے ہیں مگر نہیں تو سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے نہیں
دنیا سے اپیلیں کی جا رہی ہیں کہ ہماری مدد کی جائے ہمیں بھیک دی جائے تاکہ کچھ سیلاب متاثرین کو دیا جائے تو باقی اپنی جیبوں میں بھرا جائے
تاہم بفضل تعالی غیور پاکستانی اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد میں مصروف ہیں مگر سیاستدانوں کی طرف سے اب بھی کرسی کرسی کا کھیل جاری ہے اور مملکت پاکستان ایک بار پھر بہت بڑی آفت میں گھرا ہوا ہے
گزشتہ دو ماہ سے پاکستان کے صوبہ پنجاب، صوبہ سندھ ،صوبہ بلوچستان،صوبہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر شدید سیلاب کی لپٹ میں ہیں
تقریباً پاکستان کے کل رقبہ کا 60 فیصد سے زائد رقبہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے
سب سے زیادہ سندھ و بلوچستان اور خیبرپختونخوا متاثر ہوئے ہیں
اس سیلاب کے باعث 3 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں
اور سیلاب کے باعث 4 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکیں تباہ ہو گئی اور 7 لاکھ کے قریب گھر،دکانیں،ہوٹلز تباہ ہو گئے ہیں جبکہ لاکھوں جانور بھی ہلاک ہو چکے ہیں
ایک اندازے کے مطابق 10 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے
پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفت اس وقت مسلط ہے
اس سے قبل 2010 میں شدید سیلاب آیا تھا جسے اقوام متحدہ کی طرف سے آہستگی سے سونامی میں تبدیل ہونے والا سیلاب قرار دیا تھا
2010 میں پاکستان کے 78 ضلع متاثر ہوئے تھے جبکہ اس بار 116 ضلع متاثر ہوئے ہیں
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ سیلاب ایک قدرتی آفت ہے تو کچھ کہہ رہے ہیں کہ یہ ناقص منصوبہ بندی کے باعث ہے
آئیے دیکھتے ہیں قرآن مجید کی رو سے یہ سیلاب کیا ہے
اللہ تعالی سورہ المؤمنون میں فرماتے ہیں
اور ہم نے آسمان سے ٹھیک اندازے کے مطابق پانی اُتارا
پھر اُسے زمین میں ٹھہرا دیا اور یقین رکھو، ہم اُسے غائب کردینے پر بھی قادر ہیں
قرآن بتا رہا ہے کہ اللہ نے پانی برسانے کا علاقہ ٹھیک چنا ہے
اور اللہ تعالی اس پانی کو غائب بھی کرنے کی قدرت رکھتا ہے
یعنی اس علاقے کو پانی کی ضرورت تھی مگر ہم نے اس ضرورت کو سمجھا نہیں اور اسے ضائع ہونے دینے کے ساتھ اپنی جانوں و املاک کو تباہ بھی کروایا
ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ چولستان کا علاقہ خشک سالی سے بنجر ہو گیا تھا اور بارشوں کیلئے دعائیں کی جا رہی تھیں
تب بھی یہی سیاسی بندر بانٹ والا سلسلہ جاری تھا تھا اور اب سیلاب کی تباہ کاریوں کو نظر انداز کرکے کرسی کرسی کا کھیل جاری ہے
قیام پاکستان سے لے کر کرسی کی اس چھینا چھینی نے حکمرانوں کو ایسا مصروف کئے رکھا ہے کہ انہیں نا تو ڈیم بنانے کی فرصت ہے اور نا ہی ڈیم کی مخالفت میں لوگوں کو اکسانے والوں سیاستدان کے خلاف کاروائی کی
ہوگی بھی کیوں آخر بھینس ہی تو بھینس کی بہن ہوتی ہے
کل ہی کی تو بات ہے کہ کرونا آیا تھا تو ڈنڈے کے زور پر ایس او پیز پر عمل درآمد کروایا گیا تھا مگر افسوس کہ ڈنڈے کے زور پر ڈیم نہیں بنوائے جا رہے
کرونا ایس او پیز پر سختی کروا کر دنیا سے امداد لینی تھی جبکہ ڈیم بننے سے پاکستان خودکفیل ہو گا اور یوں دنیا کی امداد سے ہم محروم رہینگے
ایک اکیلے کالا باغ ڈیم کے بننے سے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین سیراب ہو گی اور مچھلی کی پیدوار زیاد ہو سکے گی
جبکہ اس ڈیم سے پانی سٹور کرکے سیلاب پر بڑی حد تک قابو کرنے کیساتھ سستی ترین بجلی بھی حاصل ہو سکے گی
مگر کیا کریں ہمارے حکمرانوں کو اپنے مخالفوں کو چپ تو کروانا آتا ہے مگر ملکی مفاد میں مخالفت کرنے والوں کو قابو کرنا نہیں
شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں مانگنے کا چسکا لگ گیا ہے اور اب ہمارا مانگے بنا گزارا نہیں
اگر اب بھی ڈیموں بارے نا سوچا گیا تھا مستقبل میں اس سے بھی بڑی تباہی کا خدشہ ہے






