Wednesday, 31 August 2022

موجودہ سیلاب یا عذاب۔ ازقلم غنی محمود قصوری



سیلاک محتاط اندازے کے  مطابق 14 جون 2022 سے لے کر اب تک ملک بھر میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی کیفیت سے جانبحق  ہونے والوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر چکی ہے جن میں 386 مرد،191 عورتیں اور 326 بچے شامل ہیں

 جبکہ زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 1293 سے تجاوز کر چکی ہے


ماہ رمضان بابرکت مہینے سے حکومت بنانے اور حکومت گرانے کا سلسلہ جاری ہے

کسی کو کرسی بچانے کی فکر ہے تو کسی کو کرسی گرانے کی

ہر ایک کے پاس حکومت گرانے اور بنانے کیلئے ایم پی اے،ایم این اے خریدنے کے پیسے ہیں مگر نہیں تو سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے نہیں

دنیا سے اپیلیں کی جا رہی ہیں کہ ہماری مدد کی جائے ہمیں بھیک دی جائے تاکہ کچھ سیلاب متاثرین کو دیا جائے تو باقی اپنی جیبوں میں بھرا جائے

تاہم بفضل تعالی غیور پاکستانی اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد میں مصروف ہیں مگر سیاستدانوں کی طرف سے اب بھی کرسی کرسی کا کھیل جاری ہے اور مملکت پاکستان ایک بار پھر بہت بڑی آفت میں گھرا ہوا ہے


گزشتہ دو ماہ سے پاکستان کے صوبہ پنجاب، صوبہ سندھ ،صوبہ بلوچستان،صوبہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر شدید سیلاب کی لپٹ میں ہیں

تقریباً پاکستان کے کل رقبہ کا 60 فیصد سے زائد رقبہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے

سب سے زیادہ سندھ و بلوچستان اور خیبرپختونخوا متاثر ہوئے ہیں

اس سیلاب کے باعث 3 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں 

اور سیلاب کے باعث 4 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکیں تباہ ہو گئی اور 7 لاکھ کے قریب گھر،دکانیں،ہوٹلز تباہ ہو گئے ہیں جبکہ لاکھوں جانور بھی ہلاک ہو چکے ہیں

ایک اندازے کے مطابق 10 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے 

پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفت اس وقت مسلط ہے 

 اس سے قبل 2010 میں شدید سیلاب آیا تھا جسے اقوام متحدہ کی طرف سے آہستگی سے سونامی میں تبدیل ہونے والا سیلاب قرار دیا تھا

2010 میں پاکستان کے  78 ضلع متاثر ہوئے تھے جبکہ اس بار 116 ضلع متاثر ہوئے ہیں


کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ سیلاب ایک قدرتی آفت ہے تو کچھ کہہ رہے ہیں کہ یہ ناقص منصوبہ بندی کے باعث ہے


آئیے دیکھتے ہیں قرآن مجید کی رو سے  یہ سیلاب کیا ہے

اللہ تعالی سورہ المؤمنون میں فرماتے ہیں


‏اور ہم نے آسمان سے ٹھیک اندازے کے مطابق پانی اُتارا

 پھر اُسے زمین میں ٹھہرا دیا اور یقین رکھو، ہم اُسے غائب کردینے پر بھی قادر ہیں



قرآن بتا رہا ہے کہ اللہ نے پانی برسانے کا علاقہ ٹھیک چنا ہے

اور اللہ تعالی اس پانی کو غائب بھی کرنے کی قدرت رکھتا ہے


یعنی اس علاقے کو پانی کی ضرورت تھی مگر ہم نے اس ضرورت کو سمجھا نہیں اور اسے ضائع ہونے دینے کے ساتھ اپنی جانوں و املاک کو تباہ بھی کروایا  


ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ چولستان کا علاقہ خشک سالی سے بنجر ہو گیا تھا اور بارشوں کیلئے دعائیں کی جا رہی تھیں


تب بھی یہی سیاسی بندر بانٹ والا سلسلہ جاری تھا تھا اور اب سیلاب کی تباہ کاریوں کو نظر انداز کرکے کرسی کرسی کا کھیل جاری ہے

قیام پاکستان سے لے کر کرسی کی اس چھینا چھینی نے حکمرانوں کو ایسا مصروف کئے رکھا ہے کہ انہیں نا تو ڈیم بنانے کی فرصت ہے اور نا ہی ڈیم کی مخالفت میں لوگوں کو اکسانے والوں سیاستدان کے خلاف کاروائی کی 

ہوگی بھی کیوں آخر بھینس ہی تو بھینس کی بہن ہوتی ہے

کل ہی کی تو بات ہے کہ کرونا آیا تھا تو ڈنڈے کے زور پر ایس او پیز پر عمل درآمد کروایا گیا تھا مگر افسوس کہ ڈنڈے کے زور پر ڈیم نہیں بنوائے جا رہے 

کرونا ایس او پیز پر سختی کروا کر دنیا سے امداد لینی تھی جبکہ ڈیم بننے سے پاکستان خودکفیل ہو گا اور یوں دنیا کی امداد سے ہم محروم رہینگے

ایک اکیلے کالا باغ ڈیم کے بننے سے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین سیراب ہو گی اور مچھلی کی پیدوار زیاد ہو سکے گی 

جبکہ اس ڈیم سے پانی سٹور کرکے سیلاب پر بڑی حد تک قابو کرنے کیساتھ سستی ترین بجلی بھی حاصل ہو سکے گی

 مگر کیا کریں ہمارے حکمرانوں کو اپنے مخالفوں کو چپ تو کروانا آتا ہے مگر ملکی مفاد میں مخالفت کرنے والوں کو قابو کرنا نہیں

شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں مانگنے کا چسکا لگ گیا ہے اور اب ہمارا مانگے بنا گزارا نہیں

 اگر اب بھی ڈیموں بارے نا سوچا گیا تھا مستقبل میں اس سے بھی بڑی تباہی کا خدشہ ہے




Friday, 19 August 2022

بات پوری سنے بنا نتیجہ اخذ نہیں ہوتا۔ ازقلم غنی محمود قصوری





ہمارے ہاں عدم برداشت کا رجحان بہت بڑھتا جا رہا ہے
خاص طور پہ مذہبی معاملے میں ہم خاص عدم برداشت کا شکار ہیں
ہمیں کافر تو قبول ہیں جو ہم پر ہر طرح مسلط ہیں مگر ہمیں اپنے ہی مسلمان بھائی دیگر فرقوں کے قبول نہیں ہیں
ہمارے ہاں ائے روز مسلک کے نام پر فساد ہوتے رہتے ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ فرقوں میں نا پڑنا بلکہ اللہ کی رسی یعنی قرآن و حدیث کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا
اس عدم برداشت کی سب سے بڑی وجہ ہماری دین سے دوری اور ذاتی دینی مطالعہ کا نا ہونا ہے
ہماری دینی زبان عربی ہے اور اسلام کا بنیادی اور اولین رکن کلمہ طیبہ بھی عربی الفاظ میں
 اگر اس عربی الفاظ پہ معنی اولین رکن اسلام کو بھی پورا پڑھا سنا نا جائے تو سمجھ نہیں لگے گی 
جیسے کہ کلمہ طیبہ کے الفاظ  ہیں

لاالہ الااللہ محمد رسول
اب ہم اس کی عربی سے اردو ٹرانسلیشن ترتیب وار کرتے ہیں

لا کے معنی ہیں نہیں 
الا کے معنی ہیں معبود

اگر آپ بات صرف اتنی ہی سنیں کہ کہ لاالہ  تو اس کے معنی نکلیں گے کہ کوئی معبود نہیں
اگر کلمہ کو اتنا ہی پڑھا سنا جائے تو وجود خود کے انکاری لوگ یعنی ملحد دھریہ قسم کے لوگ سچے ہیں کیونکہ معاذاللہ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ دنیا ایک دھماکے سے معرض وجود میں آئی ہے اور اس کو  چلانے والا کوئی معبود نہیں بلکہ یہ خود بخود ہی چل رہی ہے جبکہ اصل میں ایسا نہیں اس کائنات کو چلانے والے رب کائنات ہیں 

آگے لفظ ہے الا جس کے معنی ہیں مگر 
یعنی لاالہ الا اگر سنا پڑھا جائے تو مطلب ہوا کوئی معبود نہیں مگر 

اب آگے لفظ ہے اللہ جو کہ رب کریم کا اسمی گرامی ہے 
یعنی اب اگر ہم اتنا ہی پڑھتے سنتے ہیں کہ 
لاالہ الااللہ تو اس کا ترجمہ بنے گا کہ کوئی معبود نہیں مگر اللہ

اب اتنا سنا جائے تو رب کی توحید وضع ہو گئی کہ اللہ ہی معبود ہے اور کوئی معبود نہیں مگر پیغام رسالت جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضع نا ہو گا کیونکہ اگے الفاظ اور بھی ہیں
 یہ الفاظ لاالہ الااللہ ہر نبی کا کلمہ تھا اس بات کی تمام انبیاء نے دعوت دی مگر ہمارے کلمہ میں اگے الفاظ ہیں 
محمد رسول اللہ   
محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی ہے 
رسول رسالت کا علمبردار 
اللہ اسم گرامی خدا ہے 
 یعنی کہ ان الفاظ کا ترجمہ ہوا کہ  محمد کریم اللہ کے رسول ہیں
اب کلمہ طیبہ مکمل لکھا،پڑھا اور سنا گیا اور اب اس کا مکمل ترجمہ یہ ہے

نہیں کوئی معبود مگر اللہ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں

اسلام کا اولین رکن ہمیں پیغام دیتا ہے کہ بات کو پوری سن،پڑھ کر ہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے وگرنہ نہیں

اب آتے ہیں گزشتہ دنوں لاثانی سرکار دربار پر ہوئے واقعہ کی طرف
دربار پر لاثانی سرکار کے نام سے منسوب قوالی چل رہی تھی کہ وائس پریزیڈنٹ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ایڈووکیٹ محمد سرور بٹ مائیک پہ آئے اور اعلان کیا کے اللہ کے علاوہ کوئی لاثانی نہیں 
خیر انہوں نے شروعات غلط طریقے سے کی 
ان الفاظ کی ادائیگی کے بعد  ان پر تشدد کیا گیا 
یہاں ہم ایک لاثانی کا معنی سمجھتے ہیں
لا  کا مطلب نہیں کے ہیں
ثانی کا مطلب مثال یعنی نہیں مثال،بے مثال،جس جیسا کوئی نہیں

اب چاروں مسالک کا متفقہ فیصلہ ہے کہ بے مثال ذات صرف اللہ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہے 
بزرگانِ دین کی قربانیوں پہ شک نہیں مگر اللہ اور رسول کی صفات ان کو دینا انتہائی غلط بات ہے 
حالانکہ دیکھا جائے تو بزرگان دین نے خود کو ایسے الفاظ سے منسوب نا کیا تھا یہ سب الفاظ ہم نے خود ان کیساتھ منسوب کئے ہیں
خیر اس واقعہ سے ہماری عدم برداشت کا پتہ چلا اور کافر ہم پہ ہنستے ہونگے کہ کیسے لوگ ہیں کہ فیصلہ ہی نہیں کر پا رہے کہ کونسا مسلک برحق ہے 
قارئین انہیں باتوں کیلئے ہی نہیں کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ
قوم بنی اسرائیل فرقوں میں بٹ چکی ہے اور میری امت ان سے زیادہ فرقوں میں تقسیم ہو گی اور تمام فرقے جہنمی ہیں
جب یہ بات ارشاد فرمائی گئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پریشان ہو کر پوچھا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر کون جنت میں جائے گا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ایک جماعت جنت میں جائے گی جو میرے اور میرے صحابہ کے راستے پہ چلے گی 
قارئین خود ہی اندازہ لگا لیں کہ اللہ اور رسول اللہ کی صفات کسی اور سے منسوب کرنا کیسا ہے
اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین 

Wednesday, 17 August 2022

بلقیس تیرے لئے دعا کرینگے اور کچھ نہیں۔ ازقلم غنی محمود قصوری




یہ نئی صدی کا آغاز ہوا ہی ہے کہ 9/11 ہو گیا 2800 کے قریب امریکی شہری اپنے ہی ملک میں مارے گئے 

امریکہ نے بغیر تحقیق فوری الزام اسامہ بن لادن و القاعدہ پہ لگایا 

امریکہ اپنے لاؤ لشکر سمیت افغانستان پہنچ گیا

اور ان افغانیوں کو مارنے لگ گیا کہ جنہوں نے شاید کبھی اپنا ہی ملک پورا نا دیکھا ہو،ان بیچاروں نے امریکہ کیا خاک لینے جانا تھا اور حملوں کی منصوبہ بندی کیا خاک کرنی تھی

امریکہ نے طاقت کے نشے میں ،کرے کوئی بھرے کوئی، کے مصداق معصوم افغانیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اسلام فوبیا کو پروان چڑھایا 


اسلام فوبیا انتہاہ کو پہنچ گیا اور مسلمانوں سے ایک مخصوص نفرت کی جانے لگی جو کہ دراصل جہاد کو دہشت گردی قرار دیا تھا تاکہ مسلمانوں کو دوبارہ غلام بنایا جائے


یہ 15 اگست 2022 بھارت کے جشن آزادی کا دن ہے بھارتی دارالحکومت دہلی کے لال قلعہ میں جشن ازادی کی تقریب جاری ہے

تقریب کا مہمان خصوصی بھارت کا وزیراعظم نریندر مودی ہے 

نریندر مودی ،ناری شکتی، (عورتوں کی طاقت اور حقوق ) بارے تقریر کر رہا ہے 

پھر اسی تقریب کے دوران نریندر مودی اعلان کرتا ہے کہ 20 سال قبل 2002 کے مسلم کش گجرات فساد میں ہندو غنڈوں کی اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی حاملہ مسلمان ناری (عورت) بلقیس بیگم کے ہندو مجرموں کی سزا معاف کی جاتی ہے

واضع رہے کہ 11 ہندوؤں نے گجرات فساد کے دوران حاملہ مسلمان عورت بلقیس بی بی کیساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی تھی  اور اس کی 3 سالہ بیٹی سمیت اس کے خاندان کے 7 افراد کو شہید کیا تھا جس کا الزام ان پہ ثابت ہوا اور وہ ملزم سے مجرم ثابت ہو کر سزا کاٹ رہے تھے


یہ فروی 2002 کے آخری دن ہیں بھارتی ریاست گجرات کے شہر گودھرا میں ہندو کار سیوکوں سے بھرا ایک ٹرین کا ڈبہ آگ کی زد میں آگیا جس سے 59 ہندو مر گئے 

فوری الزام گجراتی مسلمانوں پہ لگایا گیا تاکہ مسلمانوں کی نسل کشی کی جائے کیونکہ بھارت کا باپ امریکہ افغانستان میں 

مسلم کشی میں مصروف ہے


ساری دنیا جانتی ہے کہ ٹرین میں آگ لگوائی انڈین خفیہ ایجنسی راء نے  لگوائی تھی اور اسکا ملزم پکڑا بھی گیا تھا اور رہا بھی ہو گیا تھا

ہندوؤں کا دماغ خراب کہ آگ اگر کسی مسلمان نے بھلا لگائی بھی تھی تو اس میں پوری ریاست کے مسلمانوں کا کیا قصور؟

ہر طرف نعرے لگنے لگے، جے شری رام، مسلوں کو کاٹ دو،ان کو بھارت سے نکال دو،نہیں چھوڑیں گے مسلے کاٹ دینگے


 ہندو اس وقت کے وزیر اعلیٰ ریاست گجرات اور موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں اکھٹے ہوتے گئے اور مسلمانوں پہ چڑھ دوڑے


بلوائیوں نے سرعام گولیاں چلائیں،مسلمانوں کے گھروں کو جلایا ،املاک تباہ کیں اور ہزاروں مسلمان عورتوں سے اجتماعی زیادتی کی 

انسانیت کو بہت حقیر جان کر گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا تھا

1947 کی یاد تازہ کر دی گئی 

حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرکے بچوں کو باہر نکال کر تلواروں،نیزوں سے ذبح کیا گیا

کوئی مسلمان بھاگ نہیں سکتا تھا ہر طرف ہندو جنونی دندناتے پھر رہے تھے

ساری دنیا یہ مناظر دیکھتی رہی اور 15 دن تک بھارت کو مسلمانوں کے قتل کی کھلی ازادی دیئے رکھی گئی

لگ بھگ 20 ہزار مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا جبکہ سرکاری طور پہ محض 2500 کا اعتراف کیا گیا

یہ درندگی ایسی تھی کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں چیختی رہیں کہ

 یہ مسلمانوں کی نسل کشی ہے

اسی فوری بند کروایا جائے مگر بھارت سرکار نے چپ سادھے رکھی اور بلوائیوں کو ہر طرح کا اسلحہ،پیٹرول و دیگر چیزیں مہیا کی گئیں

اس درندگی کو سرکاری طور پہ کروایا گیا تھا جس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ نام آنے اور ملوث ہونے کے ثبوتوں کے باوجود کوڈنانی نامی ایم ایل اے 2007 تک الیکشن لڑتا رہا اور اسمبلی میں جاتا رہا تاہم بہت مسلمانوں کی طرف سے بہت زور لگانے کے بعد کوڈنانی کو 2007 میں گرفتار کیا گیا اور پھر رہا بھی کیا گیا


گجرات میں ہوئی  درندگی پہ بھارتی ہندو شاعرہ لتا حیاء بھی چیخ اٹھیں اور انہوں نے اپنے مشاعرے میں یہ نظم پڑھی


،ہاں میں نے گجرات کا منظر دیکھا ہے،


ہندو مجرمان رہا ہو چکے ہیں 

ان کی رہائی سرکاری طور پہ کی گئی ہے اور پورے بھارت میں ان کی رہائی پہ مٹھائیاں بانٹی جا رہی ہیں

ادھر بلقیس بیگم کیساتھ پوری دنیا کے مسلمان اس سرکاری بھارتی بدمعاشی پہ تڑپ اٹھے ہیں مگر بھارت سرکار کے ماتھے پہ بل تک نہیں پڑا

مجبور و بے بس مسلمان تو بس یہی کہ رہے ہیں کہ 

بلقیس ہم تیرے لئے دعا کرینگے اور کچھ نہیں کیونکہ ہمارے حکمرانوں نے جہاد کو دہشت گردی قرار دے کر کھڈے لائن لگا دیا ہے


Sunday, 14 August 2022

اس تجربہ گاہ کو کامیاب بنائیں۔ ازقلم غنی محمود قصوری





آج پوری قوم پاکستان کا 75 واں یوم آزادی منا رہی ہے 

یہ گھڑیاں بہت خوشی کی ہیں

مگر کیا ہم نے سوچا کہ ہماری ان خوشی کی گھڑیوں کیلئے ہمارے بڑوں نے کیا قربانیاں دی تھیں؟

ان کے مقاصد کیا تھے؟


میں زیادہ لمبی بات نہیں کرونگا بس قائداعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کا ایک قول رقم کرونگا اور دیکھئے گا کہ کیا ہم اس مقصد میں کامیاب ہو گئے کہ جس کیلئے اس ایک الگ ا

 ملک کی بنیاد رکھی گئی تھی؟


قیام پاکستان کے چند ماہ بعد قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ 13 جنوری 1948 کو خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں تشریف لے گئے اور اسلامیہ کالج پشاور سے خطاب کے دوران کہا کہ 

ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کیلئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں


جی تو یہ درج بالا رقم الفاظ تھے قائد کے


سادہ الفاظ میں اس ملک کو حاصل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ یہاں اسلامی قوانین ہونگے 

اور اسے ایک عظیم الشان اسلامی ریاست بنایا جائے گا 

اگر دیکھا جائے تو اللہ کے فضل سے پاکستان دنیا کے تمام ممالک میں سے کافی ممالک سے بہت بہتر بھی ہے مگر ابھی اس کی تکمیل میں بہت کام باقی ہیں


مانا کہ 75 سالوں میں بہت کم کام ہوا ہے قائد کے مقصد کے مطابق مگر الحمدللہ ہو تو رہا ہے

 

اس پاکستان کو ایک عظیم ریاست اسلامیہ بنانے میں ہمیں دن رات ایک کرنا ہو گا 

صحافیوں کو حق سچ لکھنا ہو گا 

علماء کرام کو قرآن و حدیث بیان کرکے لوگوں کو اسلامی طرز زندگی پر لانا ہوگا

عدالتوں کو میرٹ پر فیصلے کرنے ہونگے

سیاست دانوں کو خالصتاً اسلامی سیاست کرکے اس ملک میں اسلامی نظام کی بنیاد رکھنی ہو گی

فوج کو محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرز پر دفاع کرنا ہوگا اور اپنی جانیں دینی ہونگیں

پولیس کو بلا امتیاز مجرموں کو پکڑنا ہوگا

اساتذہ کرام کو خالصتاً اسلامی جذبہ کے تحت بچوں کو تعلیم دینی ہو گی تاکہ پھر سے ایوبی،ابدالی،غزنوی،ٹیپو سلطان و قائد اقبال پیدا ہوتے رہیں

ہماری عورتوں کو اپنے بچوں کی تربیت فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرز پر حسن و حسین رضی اللہ جیسی کرنی ہو گی

ہمارے عام پاکستانی کو کفار کے کلچر کا بائیکاٹ کرکے اس ارض پاک کیلئے محنت کرنی ہوگی

ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو اس وطن کی تکمیل کیلئے اللہ کے حکم کے مطابق اسلامی طرز پر کام کرنا ہوگا تاکہ ہم کامیاب ہو سکیں اور اس ملک پاک کو عظیم و بلند تر بنا کر پوری دنیا پر چھا جائیں اور کفار پر ایسے حکمرانی کریں جیسے خلیفتہ المسلیمین جناب عمر رضی اللہ و دیگر ہمارے اسلاف نے کی تھی


اللہ تعالی سورہ الشرح میں ہم سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ


اور جب تو ہوا کرے تو (عبادت میں) محنت کیا کر اور اپنے پروردگار سے ہی دل لگائے رکھ


اللہ تعالی فارغ اوقات میں ہمیں محنت اور ربانی لگاؤ کا حکم دے رہے ہیں تو سوچیں جب کرنے کے ضروری کام ہیں تو تب کتنی سختی سے محنت و ربانی لگاؤ کی پابندی ہے 

اس لئے آج کے دن کو محض باجے بجانے اور موٹر سائیکل کا سائلینر نکال کر لوگوں کو بے آرام کرنے میں ہی نا گزارئیے بلکہ اس دن کی اہمیت کو جانتے ہوئے اپنے رب کی شکرگزاری کیساتھ اپنے آباء و اجداد کی قبروں پر جا کر خاص دعائے مغفرت کیجیے گا کہ جنہوں نے اپنی عزتیں لٹا کر اپنا مال گنوا کر اپنے جسم کٹوا کر ہمیں یہ ملک لے کر دیا 

اسی لئے اج کے دن خاص محنت کریں تاکہ اس تجربہ گاہ کو کامیاب بنایا جا سکے

Friday, 5 August 2022

پاکستان کی بیٹی ام حریم سوال تو کرے گی۔ ازقلم غنی محمود قصوری

 


چند دن قبل سے ابتک سوشل میڈیا پر ایک ہی نام چھایا ہوا ہے جو ہے ،ام حرم


عربی میں ام کے مطلب ہیں ماں اور حریم کا مطلب ہے قابل احترام،( خانہ کعبہ کی چار دیواری کو بھی کہتے ہیں) یعنی کہ قابل احترام کی ماں

آزادی اظہار رائے کا ہر کسی کو قانونی،اخلاقی حق حاصل ہے


راقم جنوری 2011 سے سوشل میڈیا پر ایکٹو ہے اور اللہ کو گواہ بنا کر بتا رہا ہے کہ ان 11 سالوں میں ایک ہزار کہ لگ بھگ فیسبک اکاؤنٹس بلاک ہوئے جس کی وجہ تھی لفظ جہاد،حافظ س عید،ل شکر ط یبہ و کشمیر 

ایک ایک دن میں بعض مرتبہ پانچ پانچ بار اکاؤنٹ اڑے


خیر جب جب نیا اکاؤنٹ بنایا فیسبک  نے نیا اکاؤنٹ بنتے ہی ایک ہی آئی پی ایڈریس ہونے کے باعث گزشتہ فرینڈز کو خود ہی ریکوسٹ بیجھیں 

ان میں ام حریم بھی شامل ہے


ام حریم نے 2016 میں فیسبک جوائن کیا اور تاحال ساتھ ایڈ ہے 

کئی بار ان سے بحث و مباحثہ بھی ہوا جس میں خاص ٹاپک تھا کسی بھی فرد کی اسقدر چاپلوسی کرنا اور اس سے اتنی امیدیں رکھنا اور منہج سلف سے  حکمران کی اسقدر تعریف کرنا جائز ہے کہ ناجائز


جی ہاں یہ سب باتیں ام حریم سے ہوتی تھیں وہ اس لئے کہ ام حریم ایک بلا کی یوتھئیہ عورت تھی

حسب سابق کی طرح اس بار بھی لکھ رہا ہوں کہ جھوٹ بولنے اور لکھنے والے پر اللہ کی لعنت ہو

ام حریم فوج کی حمایت کیساتھ ساتھ ایک خاص یوتھئیہ تھی 

ہاں یہ ایک خاص بات نوٹ کی کہ ام حریم نے کبھی بھی ن لیگ کی حمایت نہیں کی اور نا ہی ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنے والی کسی بھی جماعت یا فرد کو سپورٹ کیا 


 2018 میں ام حریم عمرہ کرنے گئی تو اس نے عمران خان کے لئے حرم میں دعا کی کہ اللہ تو اس سے اپنے دین کا کام لے کر اسے کامیابی سے ہمکنار فرما جس پر اس نے پوسٹ بھی لگائی تھی


قابل غور بات ہے کہ ابھی وہی یوتھئیہ عورت عمران خان کو بری لگی کیونکہ وہ عورت یوتھئیہ سے پہلے ایک محب وطن اور موٹیویشنل لکھاری بھی ہے 

چند روز قبل عمران خان صاحب نے ٹی وی پر خطاب کے دوران سابق یوتھئین ام حریم بارے اظہار نارضگی کیا کیونکہ  ام حریم نے گزشتہ دنوں فنانشل ٹائمز کے آرٹیکل کی کاپی کرکے دو ملین ڈالرز پی ٹی آئی کو ملنے کا تذکرہ کیا تھا اور اپنی وال پر پوسٹ لگائی تھی


حیرت کی بات ہے کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے ہی ام حریم پی ٹی آئی سے برآت کرچکی تھی اور پہلے کی طرح آرمی کے حق میں آرٹیکلز لکھ رہی تھی جس کی سمجھ آتی ہے کہ ام حریم یوتھئیہ سے پہلے ایک محب وطن بھی ہے اور اس تاثر پر پی ٹی آئی کے حق میں تھی کہ فوج اور پی ٹی آئی ایک پیج پر ہیں


مذید حیرت کی بات یہ کہ اتنے سالوں پی ٹی آئی کے حق میں دن رات ایک کرکے لکھنے والی ام حریم کو کسی نے آج دن تک نا جانا نا پہچانا اور نہ ہی اسکا نام سنا مگر ایک تنقید کرتے ہی عمران خان ٹیلیویژن پر آکر ام حریم کا تذکرہ کر رہا ہے 


کمال ہے بھئی یہ تو وہ بات ہوئی کہ کڑوا کڑوا تھو تھو اور میٹھا میٹھا ہپ ہپ 

یعنی جب تک ام حریم پی ٹی آئی کی سپورٹر رہی تب تک جائز تھا جب اس نے تنقید کی تب ناجائز ہو گیا؟


عمران خان کے اس خطاب سے ایک بات تو ثابت ہوئی کہ عمران خان صاحب عوامی مسائل پر بہت دور تک نظر رکھتے ہیں اور خان صاحب کو لمحہ با لمحہ اپڈیٹ کیا جاتا ہے 

مگر حیرت کی بات ہے جب قوم مہنگائی کی چکی میں پس رہی تھی تب خان صاحب کہاں تھے؟

جب قوم نے ڈاکٹر عبد القدیر رحمتہ اللہ علیہ کی نماز جنازہ میں خان صاحب کی شرکت نا کرنے پر رنج کیا تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟

جب واقعہ ساہیوال ہوا تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟

جب ڈاکوؤں لٹیروں کے ہاتھوں قوم لٹ رہی تھی اور انصاف کیلئے آوازیں دی جا رہی تھیں تب عمران خان صاحب کہاں تھے؟

جب بلیک مارکیٹنگ مافیا اب موجودہ حکومت کی طرح خان صاحب کے دور حکومت  میں بھی لے لگام تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟

کیا خان صاحب بس اپنی تنقید پر ہی قوم سے رابطہ فرماتے ہیں؟

خان صاحب پاکستان کی بیٹی ام حریم سوال تو کرے گی 

یہ تو ایک ام حریم ہے یہاں پوری قوم آپ سے سوال کر رہی ہے کہ خان اپنے دور حکومت کا حساب دیجئے اور بلا وجہ لوگوں کو پٹواری ،جیالہ اور پالشی کہنا بند کیجئے کوئی کسی بھی سیاسی مذہبی جماعت کے بغیر محب وطن شہری بھی ہو سکتا ہے سو خان صاحب پاس کر یاں برداشت کر