Sunday, 24 July 2022

تحریر اپنے نام کرنا بغض اور چوری ہے۔ ازقلم غنی محمود قصوری




یہ وقت ہے سوشل میڈیا کا جہاں ہم ایک دوسرے سے بہت دور ہو کر بھی بہت قریب اور انجان ہو کر بھی آشنا ہیں 

اس قربت اور آشنائی کا سب سے بڑا سبب سوشل میڈیا ہے 

سوشل میڈیا نے ہمیں بہت اچھا دیا بھی ہے اور بہت برا کیا بھی ہے 

آج کل ایک رواج چل نکلا ہے کہ کسی کی بھی اچھی تحریر دیکھی تو فوری اس سے اصل راقم کا نام و ہیش ٹیگ کاٹا اور اپنا لگا کر وائرل کر دیا تاکہ واہ واہ ہو سکے  اور دوسروں سے داد حاصل کی جا سکے کہ کمال لکھا ہے خوب علم ہے جناب کو 

مگر یہ نہیں پتہ کہ جناب نے چوری کی ہے تحریر کی اور اس کے پیچھے محنت کسی اور کی ہے 


دیکھا جائے تو یہ سراسر اگلے بندے سے بغض ہے اور اس کی چوری ہے 

کیا ہم نے کبھی کسی کی گندی تحریر کو اپنے نام سے منسوب کیا؟

اگر نہیں تو کسی کی اچھی تحریر کو اپنے نام کرنے کا ہمیں حق کون دیتا ہے جبکہ وہ الفاظ و تحریر اگلے کی ملکیت ہے 

اس بغض کے متعلق اللہ تعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں فرماتے ہیں


وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا 

اے اللہ۔ ہمارے دلوں میں کسی صاحب ایمان کے لیے کوئی کدورت پیدا نہ ہونے دینا


ایک اور جگہ فرمان الہی ہے کہ 


أمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰھُمُ اﷲُ مِنْ فَضْلِہٖ

’کیا وہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا کیا ہے


قرآن کی یہ دو آیات غور کرنے سے ہمیں بتا دیتی ہیں کہ کسی کی تحریر چوری کرنا اس بندے کی محنت و علم سے بغض ہے اور یہ بغض ہمیں چوری پر اکساتا ہے

اور چور کے بارے ارشاد ہے کہ 


عن أبي هريرة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لعن الله السارق، يسرق البَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يده، ويسرِقُ الحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ».  

[صحيح] - [متفق عليه]


ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ۔اللہ کی لعنت ہو چور پر، جو ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے

غور کریں ایک معمولی انڈے چوری کی سزا کتنی ہے جبکہ کسی کی گھنٹوں،دنوں،ہفتوں و مہینوں کی محنت کی چوری کی سزا کتنی بنتی ہے؟


اگر اسلامی نظام ہو تو جس طرح ضروریات اشیاء کی چوری پر سزا ہے بلکل اسی طرح کسی کی تحریر،کتاب وغیرہ کو چوری کرکے اپنا نام کرنے پر بھی سخت سزا ہوتی 

پاکستان میں ایسا قانون بھی موجود ہے کہ کسی کا ہیش ٹیگ یاں تحریر اپنے نام کرنا کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت جرم ہے


بجائے اس کے کہ ہم دوسروں کے نام کاٹ کر اپنے نام سے منسوب کرکے تحریر کو وائرل کریں اس سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ زندہ دلی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اصل راقم کے نام کےساتھ ہی وائرل کیا جائے تاکہ ہمارے اخلاقی معیار کی پہچان ہو اور اگلے بندے کی امانت دوسروں تک اصل حالت میں پہنچے اس سے ہماری عزت میں بھی اضافہ ہو گا اور اصل راقم کی عزت میں بھی 

اگر ہم کسی کی امانت میں خیانت نہیں کرینگے تو ان شاءاللہ اللہ تعالی ہم سے راضی ہو گا اور ہم اس کے ہاں صادق و امین ٹھہریں گے ان شاءاللہ 

Monday, 4 July 2022

حاجی صاحب بمقابلہ کامریڈ میدان جمہوریت میں ازقلم ۔۔۔غنی محمود قصوری





کہتے ہیں کہ لالچ بری بلا ہے اور ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے 

ایک اور بات بہت مشہور ہے کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے


ایک معروف قصہ ہے کہ ایک حاجی صاحب کی دکان کے ساتھ والی کامریڈ صاحب کی دکان خوب چلتی تھی 

سارا دن رش رہتا اور ساتھ کی دکان والا کامریڈ خوب پیسہ کماتا جس سے حاجی صاحب نے بھی شارٹ کٹ مار کر پیسے حاصل کرنے کا سوچا


حاجی صاحب نے بات سن رکھی تھی کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے 

حاجی صاحب نے بھی تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک دن کامریڈ صاحب کی دکان پر گیا اور بولا کامریڈ صاحب سنا ہے پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے اور میں اس بات کا تجربہ کرنا چاہتا ہوں سو مجھے اپنے گلے تک رسائی دیجئے

کامریڈ نے کہا حاجی صاحب سو بار کیجئے ہم بھی دیکھ لینگے کہ کامیابی کیسے اور کتنے پیسے والے کی ہوتی ہے 

حاجی صاحب نے ایک چھوٹا سا سکہ جیب سے نکالا اور گلے میں بنے سکے ڈالنے والے سوراخ کے ساتھ رگڑنا شروع کر دیا مگر فضول کوئی ردعمل نا ہوا اور کامریڈ کا کوئی پیسہ حاجی صاحب کے پیسے کو نا چمٹا 

خیر حاجی صاحب نے ہمت نا ہاری اور دوبارہ عمل شروع کر دیا 

تھوڑی دیر بعد حاجی صاحب کا اپنا سکہ بھی سوراخ سے کامریڈ کے گلے میں گر گیا 

یہ دیکھ کر کامریڈ نے تالی ماری اور بولا واقعی جناب آپ نے سچ ہی سنا تھا کہ پیسے کو پیسہ ہی کھینچتا ہے مبارک ہو آپ کا تجربہ کامیاب رہا ہے


یہ سن کر حاجی صاحب کا رنگ فق ہو گیا اور مارے غصے سے چلانے لگے او نامراد غلط تجربہ ہوا ہے میرا تو اپنا بھی چلا گیا اب میں کیا کرونگا میرے پاس تو یہی ایک سکہ تھا جبکہ تمہارا تو گلا پیسوں سے بھرا ہوا ہے

اس بات پر کامریڈ مسکرایا اور بولا حاجی صاحب آپ نے دیہان نہیں دیا کہ زیادہ طاقت کم طاقت کو کھا جاتی ہے اسی طرح زیادہ پیسہ کم پیسوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے 

اور میرے گلے میں زیادہ پیسے تھے اور آپ کے پاس محض ایک سکہ

أپ نے ایک معمولی طاقت سے میری زیادہ طاقت کو کھینچنے کی کوشش کی تھی اور لالچ میں اپنی طاقت بھی ضائع کروالی اب فرمائیں کہ سکون ہے آپ کو تجربے سے


کامریڈ حاجی صاحب سے مخاطب ہوا کہ  أپ کو چائیے تھا کہ اس بات کو ذہن نشین رکھتے کہ پیسے کو پیسہ اس صورت کھینچتا ہے جب اس کا استعمال کرکے اس سے کاروبار کیا جائے مگر أپ نے لالچ میں أکر غلط رنگ کو اپنایا سو اب أپ اپنی بھی طاقت کھو بیٹھے ہیں


قارئین بلکل اسی حاجی صاحب کی طرح ہماری کچھ سیاسی جماعتیں بہت سے اسلامی نظریات کا نعرہ لگا کر میدان میں أتی ہیں  کارکنان بھی بڑے پرجوش ہوتے ہیں کہ چلو کسی نے اسلام کی بات کی سو اس بار ووٹ ان کا پکا

پھر وہی لالچ اور ہوس کہ جلد شہرت، اقتدار اور کرسی حاصل  کرنے کیلئے کسی دوسری بڑی سیاسی جماعت کی حمایت کا اعلان کیا جاتا ہے  اور یہی حاجی صاحب والا طریقہ اپنا کر اپنی طاقت بھی ضائع کر بیٹھتی ہیں 

ان کا مقصد ہوتا ہے کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کی تعریفیں کرکے اپنے کارکنان تک اس جماعت کی حمایت کا پیغام پہنچانا اور بالآخر الیکشن کے بعد اپنے کارکنان بھی اس حاجی صاحب کی طرح کامریڈ کی جماعت میں پھینک چھوڑتی ہیں

حالانکہ کہ ہونا تو یہ چائیے کہ اپنی سیاست کی جائے اور آہستہ آہستہ اپنے  نظریات کو اپنے کارکنان تک پہنچا کر کارکنان کو اس رنگ میں رنگا جائے اور پھر چند سالوں بعد مطلوبہ اقتداری ہدف حاصل کیا جائے مگر جلد بازی و لالچ میں غلط راستے کا انتخاب کرکے وہ جماعتیں أخر ختم ہی ہو جاتی ہیں اور کارکنان پہلے سے بنی بڑی اور مضبوط جماعت کی آواز بن کر اس کی أواز و نظریات کو بول جاتے ہیں