Monday, 17 April 2023

ووٹ اور منشیات سے قبضے کا منصوبہ ازقلم غنی محمود قصوری

 




ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر پہ قبضہ برقرار رکھنے کے لئے ہر طرح کا حربہ استعمال کیا

طاقت کا بے پناہ استعمال کیا کشمیری قوم کو کئی طرح کا لالچ دیا مگر وہ ناکام رہا اب ہندوستان نے

مقبوضہ کشمیر پر اپنے قبضے کو قانونی حیثیت دینے کے لئے ایک نیا خطرناک منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ مستقبل کے  الیکشن میں مقامی کشمیریوں کو الحاق ہند کا حامی ظاہر کرکے دنیا کو دکھلایا جائے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ ہندوستان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور وہ الحاق ہند چاہتے ہیں نا کہ ایک آزاد خودمختار ریاست و الحاق پاکستان



ہندوستان سرکار نے منصوبہ بنایا ہے کہ بی جے پی سرکار کو مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں مضبوط کیا جائے تاکہ بی جے پی کی سرکار مقبوضہ کشمیر میں بنے اور قبضہ برقرار رکھنے میں آسانی رہے 


اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے ہندوستانی سرکار نے 24 لاکھ نئے غیر کشمیری جعلی ووٹ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے بلکہ اس منصوبے پر عمل جاری ہے


سے سے پہلے تو مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ سے زائد ہندوستانی فوجیوں کے ووٹ ڈلوائے جائیں گے 


1947 سے 1948 تک جو کشمیری مقبوضہ کشمیر کو چھوڑ کر ہندوستانی ریاستوں پنجاب،دہلی،ہماچل پردیس،اتر پردیس،اتراکھنڈ،جھاڑ کھنڈ،گجرات و چھتیس گڑھ میں جا بسے تھے، اب ان کے جعلی کشمیری ڈومیسائل بنائے جا رہے ہیں اور ابتک 3 لاکھ کے قریب جعلی ڈومیسائل بنا کر ان کی ووٹ مقبوضہ کشمیر میں شامل کی گئی ہے

نیز غیر کشمیری ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں لا کر بسایا جا رہا ہے اور جو ناجائز آباد کار ہندو عرصہ ایک سال یاں اس سے زیادہ عرصہ سے مقبوضہ کشمیر میں رہ رہے ہیں اور اپنا کوئی کاروبار کررہے ہیں ، ان کا ووٹ بھی مقبوضہ کشمیر میں بنایا گیا ہے اور مذید ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں لا کر بسایا جا رہا ہے


ارٹیکل 370 اے کی منسوخی کی سب سے بڑی وجہ یہی غیر کشمیری لوگوں کی مقبوضہ کشمیر میں آباد کاری ہی ہے 

 

اس کے علاوہ بھارت سرکار نے بڑی تندہی سے مقبوضہ کشمیر کے ان کشمیری و غیر کشمیری نوجوانوں کے شناختی کارڈ بنانے کا عمل شروع کیا ہے جن کی عمر رواں سال اپریل کو 18 سال ہو چکی ہے 

ہندوستانی سرکار ہر حال میں بی جے پی کی گورنمنٹ کو مقبوضہ کشمیر میں جتوانا چاہتی ہے اس کے لئے انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو بی جے پی میں بڑے اہم عہدے دیئے ہیں اور ان کو بہت بڑی رقم ماہانہ دی جا رہی ہے 

ابتک چالیس سے زائد مسلمان کشمیری عورتوں کو بی جے پی کے اہم عہدے دیئے جا چکے ہیں اور ہندوستان کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی مسلمان عورتوں کو مرتد کرکے ہندو بنا کر غیر آباد کار ہندوؤں سے شادی کے منصوبے پر عمل کیا جا رہا ہے 

مرتد ہونے والی عورتوں کو لاکھوں روپیہ نقدی چیک دیئے جا رہے ہیں اور جوان مسلمان کشمیریوں کو مرتد کرکے غیر آباد کار ہندو عورتوں سے شادی کا منصوبہ بھی ہے 


دوسرا اور سب سے خطرناک منصوبہ کشمیری نوجوان اور انڈین پنجاب و جموں و کشمیر  کے سکھوں کو منشیات پہ لگانا ہے 

واضع رہے کہ وادی جموں میں بہت زیادہ سکھ بھی آباد ہیں جو کہ مقبوضہ کشمیری کی آزادی کی بہت بڑی آواز ہیں اور وہ خالصتان تحریک کے بھی روح رواں بھی ہیں


اس منصوبے پہ عمل کیلئے ہندوستانی ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں واقع ان کے مندروں میں جانے کے لئے  سپیشل پرمٹ دیئے جاتے ہیں اور ان ہندو زائرین کو بڑی تگڑی فوجی سیکیورٹی بھی دی جاتی ہے کیونکہ مقامی کشمیری لوگوں نے کئی بار ان ہندو زائرین کو ان کی اوقات یاد کروائی ہے 


ہندو زائرین ماتا ویشنو ضلع ریاسی،شیو کھوڑی مندر کالی دھار ضلع جموں و ریاسی ،گاندر بل گوفہ ،امرناتھ سونا مرگ بال کارگل ،بڈھا امرناتھ ضلع پونچھ جیسے ہندو مقدس مقامات پر جاتے ہیں اور ان کو واضع حکم دیا جاتا ہے کہ اب لازمی ان مقامات سے مقبوضہ جموں و کشمیر و انڈین پنجاب  میں مسلمانوں و سکھوں کی درگاہوں پہ حاضری دی جائے اور وہاں اپنا اثرورسوخ بڑھایا جائے اور یہ باور کروانے کی کوشش کی جائے کہ ہم ہندو ہو کر بھی ان مسلمانوں اور سکھوں کے مقدس مقامات کی عزت کرتے ہیں  

جن مقامات پہ ہندو جاتے ہیں ان مسلمانوں کی  درگاہ بابا غلام شاہ عرف شادر شاہ ضلع راجوری،درگاہ حضرت بل سرینگر ،شیخ سلطان العارفین سرینگر، سکھ مذہبی ڈیرہ بنگالی صاحب،بابا صابر پاک سرہند پنجاب،شاہی جامعہ مسجد دہلی  شامل ہیں

 

ان تمام مقامات پہ ہندوؤں کو بار بار وزٹ کروایا جاتا ہے تاکہ ان کو لنک روٹس فرائم کئے جائیں اور یہاں سے ملنگ ٹائپ سکھوں و مسلمانوں میں منشیات کی سپلائی کی جائے تاکہ نوجوان سکھوں کو خالصتان کی آزادی سے اور مسلمان کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر کی آزادی سے درو کیا جائے 

 

وادی جموں میں باقاعدہ اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ہندو زائرین مقامی کشمیریوں و سکھوں میں منشیات کی تقسیم کر رہے ہیں

جس پہ مقامی لوگوں نے آوز بھی بلند کی تو  

اسی آواز کو دبانے کے لئے مسلمان پیڈ سرپنجوں کو آگے لایا گیا ہے تاکہ وہ ہندوستانی سرکار کا دفاع کریں اور ہندو زائرین کو مکمل تحفظ فراہم کریں

ہندوستان کا یہ بہت خطرناک منصوبہ ہے 

مگر ان شاءاللہ پہلے تمام منصوبوں کی طرح ہندوستان کا یہ منصوبہ بھی ناکام ہو گا ان شاءاللہ

Thursday, 13 April 2023

ماہ مقدس کا بڑا انعام ازقلم غنی محمود قصوری

 




یوں تو سارا رمضان ہی بہت برکت و اجر والا ہے مگر اس ماہ مقدس کے آخری عشرے میں ایک رات ( طاق) بہت عظیم ہے جسے لیلتہ القدر کہتے ہیں


 لیلۃ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی رات کے ہیں جب کہ عربی میں قدر کے معنی عزت و احترام کے ہیں

یعنی کہ لیلتہ القدر کا مطلب ہوا عزت و احترام والی رات


اکثر لوگ گمان کرتے ہیں کہ لیلتہ القدر ماہ رمضان کی ستائیسویں رات ہے جو کہ درست نہیں کیونکہ ہماری ماں اور زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  اماں عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (اور ایک روایت میں ہے کہ رمضان کی آخری سات طاق راتوں) میں تلاش کیا کرو یہ حدیث متفق علیہ ہے


اس رات کی فضیلت یہ ہے کہ  اللہ تعالی نے اس رات کی شان کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی ایسے بیان فرمایا ہے


إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ[3]فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ


ترجمہ۔۔۔ بیشک ہم نے قرآن کو با برکت رات میں نازل کیا ہے، بیشک ہم ہی ڈرانے والے ہیں (3) اس رات میں ہر حکمت بھرے معاملے کا فیصلہ کیا جاتا ہے

 (الدخان:3 - 4)


اسی طرح اللہ تعالی نے ایک مقام پر پھر ارشاد فرمایا


إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [1] وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ [2] لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ [3] تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ [4] سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ)


ترجمہ۔۔۔ بیشک ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا ہے (1) آپکو کیا معلوم لیلۃ القدر کیا ہے؟ (2) لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے (3) اس رات میں فرشتے اور جبریل اپنے رب کے حکم سے فیصلے لے کر نازل ہوتے ہیں (4) یہ رات فجر طلوع ہونے تک سلامتی ہی سلامتی ہے(القدر:1-5)


اس رات کی فضیلت کو جانتے ہوئے ہمیں چائیے کہ ہم اس رات کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ڈھونڈیں کیونکہ فرمان مصطفی ہے کہ


حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ جو شخص شب قدر میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لئے) کھڑا ہو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں 

اس روایت میں کھڑا ہونے سے مراد صرف نماز کا قیام ہی نہیں بلکہ خواہ نماز پڑھے یا تلاوت کرے یا ذکر و استغفار اور تسبیح کرے وہ عبادت ہی شمار ہو گا


 ضروری یہ ہے کہ بندہ رب تعالی کی یاد میں یہ رات گزارے تاکہ جب اس کا سالانہ فیصلہ ہونا ہو تو وہ اس حالت میں ذکرِ الٰہی میں مشغول ہو کہ اللہ رب العزت کو پسند آئے اور اللہ تعالی اس کی اس ادا کو دیکھ کر اپنی خاص رحمت سے اس کے حق میں فیصلہ لکھے واضع رہے کہ اللہ تعالی کی رحمت کا شمار ممکن نہیں وہ نوازنے پہ آئے تو کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ اس رحمت کی وسعت بہت زیادہ ہے

 

ام المومنین صدیقہ کائنات ہماری ماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جس میں وہ  فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا  یا رسول اللہ!  بتائیے اگر مجھے شب قدر ( لیلتہ القدر) معلوم ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ 

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہو

 

اَللّٰهُمَّ إِنَّکَ عُفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

 ترجمہ۔۔۔ یا اللہ! تو بہت معاف فرمانے والا کریم ہے، عفو و درگزر کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف فرما دے

اس حدیث کو امام ترمذی،امام احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے نیز امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے

اس لئے ہمیں چائیے کہ اس رات کو جس قدر ممکن ہو عبادت کریں اور زیادہ سے زیادہ درج بالا دعا کا ورد کریں نفل پڑھیں اور تلاوت قرآن پاک کریں


اس رات کی فضیلت دیکھیں کہ ،اس رات میں قرآن مجید نازل ہوا، اس رات میں فرشتے آسمانوں سے اترتے ہیں ، یہ رات ہزار مہینوں سے افضل و بہتر ہے ، اس رات میں صبح صادق تک خیر و برکت اور امن و سلامی کی بارش ہوتی ہے


اس رات کی علامات بارے

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے باہر تشریف لائے تاکہ ہمیں شب قدر کی اطلاع فرما دیں مگر دو مسلمانوں میں جھگڑا ہو رہا تھا

تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس لیے آیا تھا کہ تمہیں شب قدر( لیلتہ القدر) کی خبر دوں، مگر فلاں فلاں شخص میں جھگڑا ہو رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی تعیین اٹھا لی گئی کیا بعید ہے کہ یہ اٹھا لینا اللہ تعالیٰ کے علم میں بہتر ہو،لہٰذا اب اس رات کو طاق راتوں میں تلاش کرو 

اسی لئے آخری عشرے میں ایک عظیم عمل اعتکاف کیا جاتا ہے تاکہ اس رات کو پانے میں آسانی ہو

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس رات کو پا کر اس کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


Thursday, 6 April 2023

گونجی ہے آواز،حی علی الجہاد ازقلم غنی محمود قصوری

 



یوں تو 1948 سے ہی یہودی  فلسطین اور قبلہ اول کے باسیوں پہ ظلم و تشدد کر رہا ہے مگر جب بھی ماہ رمضان آتا ہے یہودی کا ظلم فلسطینی قوم پہ حد سے تجاوز کر جاتا ہے

فلسطینی مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا مگر آفرین ہے اولاد انبیاء فلسطینی قوم پہ جو ہر مصیبت و مشکل برداشت کرکے بھی مسجد اقصیٰ میں سحری بھی کرتے ہیں اور افطاری بھی 


ان دنوں شیطان تو قید ہوتا ہے مگر شیطان النفس یہودی قید نہیں ہوتا اسے کھلی آزادی حاصل ہے دنیا کے مسلمانوں خصوصی طور پر فلسطینیوں پہ ظلم کرنے کی


اس شیطان یہودی کو قید کرنے کے لئے امت مسلمہ کو یک جان ہونا پڑے گا 

بصورت دیگر گریٹر اسرائیل کا خواب لئے زاؤنسٹ یہودی صرف فلسطین پہ ہی بس نہیں کرے گا وہ اور آگے بڑھے گا 

یقین نہیں تو پاکستانی ایل او سی کے پار انڈین فوج کیساتھ مل کر پاکستانی فوج سے لڑنے والے یہودیوں کو ہی دیکھ لو ابھی حالیہ ہی بات ہے کہ جب انڈین پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری کے ساتھ خود ہی انڈیا نے واویلا کیا تھا کہ ایک اسرائیلی پائلٹ بھی پاکستان نے گرفتار کیا ہے تاہم بعد میں انہیں مکرنا پڑا 


ایک طرف یہودی فلسطین میں ہمارے مسلمان نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی میں مصروف ہے تو دوسری طرف کائنات کا سب سے بڑا مشرک ہندو پلید مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی  کر رہا ہے

 

ایک طرف ہندو پلید گریٹر ہندو دیش کے لئے آگے بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف یہودی گریٹر اسرائیل کے لئے یلغار کر رہا ہے 

ایک طرف عیسائی امریکی دنیا پہ قابض ہونے کا خواہاں ہے تو دوسری طرف وجود خدا کا انکاری کیمونسٹ روس چڑھائیاں کر رہا ہے


آخر اس کی وجہ کیا ہے کیوں مسلمان ہی ذلیل و رسوا ہو رہا ہے

اس کی واضع دلیل اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے کہ 

جب تم سودی کاروبار کرنے لگ جاؤ گے اور بیلوں کی دم کو پکڑے کھیتی باڑی میں مشغول ہوجاؤ گے اور،تَرَکْتُمُ الْجِھَادَ،جہاد کو چھوڑ دوں گے تو اللہ تم پر ذلت مسلط کردے گا اور اسے اس وقت تک دور نہیں کرے گا ،یہاں تک کہ تم اپنے دین (یعنی جہاد فی سبیل اللہ)کی طرف لوٹ آؤ


 الحمدللہ فخر اس بات پہ بھی ہے کہ ان سب بدمعاش کافر ممالک کی ٹھکائی پاکستان نے کی ہے 

چاہے کم ہی سہی مگر الحمد پاکستانی مجاھدین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ان تمام کی ٹھکائی کسی نا کسی صورت کر چکے ہیں اور کرتے بھی ہیں 

ان میں پاکستانی فوج بھی شامل ہے اور مجاھد تنظیمیں بھی

بہت بڑا المیہ ہے کہ سب غیر مسلم  اپنے مذہب کی خاطر لڑ رہے ہیں مگر مسلمان صرف اپنے خاندان و جماعت

اپنی ذات و مخصوص افراد  کے لئے ہی ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں اور اسی سیاسی چپقلش کو جہاد کا نام دے رہے ہیں


حالانکہ میرے نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال قبل فرما دیا تھا کہ جہاد چھوڑ دو گے تو ذلت تمہارا مقدر بنے گی

آج دیکھ لیں پوری دنیا کے اندر کوئی ایک مسلمان ملک جو اپنے فیصلے آپ کر سکتا ہو؟

کوئی ایک ملک جو کھلے عام جہاد کا لفظ استعمال کرکے دنیا کے دیگر حصوں میں مظلوموں کی مدد کے لئے جاتا ہو؟

کوئی ایک ایسا ملک جہاں جہاد و رباط پہ کھلے عام بات کرنا فخر کا باعث ہو؟

کوئی ایک ایسا ملک جو غیر مسلم ممالک سے امداد نا لیتا ہو؟

آج آپکو ایسا ایک بھی ملک نظر نہیں آئے گا کیونکہ  پاکستان و دیگر چند ایک جو جہادی بیس کیمپ تھے  ان کو یہود و ہنود نے کمال مہارت سے  سے سودی نظام میں ایسا جکڑا کہ اب ان کے فیصلے ان کی پارلیمنٹ سے  پہلے آئی ایم ایف و یونائیٹڈ نیشن کرتا ہے 

عیاشیاں حکمرانوں نے کیں اور بھگت عوام رہی ہے جس کی وجہ جہاد سے دوری اور جمہوریت سے یاری و

شرع اللہ سے بغاوت اور سود سے محبت  ہے

بلکہ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ مملکت خداداد پاکستان کے جہادیوں کو بھی فضول کام جمہوریت پہ لگا دیا گیا کہ نہیں پہلے جمہور پہ عبور کرو پھر اسمبلی میں بیٹھ کر مظلوموں کے لئے ایک منٹ کی خاموشی والا جہاد کرنا 

ہائے ہائے کیا کیا دعوے کیا کرتے تھے ہمارے جہادی کمانڈر کہ کر جائیں گے

مٹ جائیں گے مگر نبی کی سنت جہاد پہ سودا نہیں کریں گے 

لئو دیکھ لو 

امریکہ افغانستان میں آیا جہاد سے مار کھا گیا

امریکہ عراق میں آیا جہادیوں کے آگے ناکام رہا مگر اس بار جمہوری وار کرکے کے امریکہ پاکستان میں جیت گیا کیونکہ جن ہاتوں میں کلاشن کوف ہونی تھی اب ان ہاتھوں میں مائیک ہے کہ اللہ کے واسطے اس بات ووٹ ہمیں دیجئے گا 

یہی بات  امریکہ انڈیا اور اسرائیل چاہتا تھا کہ جہاد والے جہاد چھوڑ کر جو مرضی کریں ان کی بلا سے جب جہاد نا ہوگا تو ان کو ڈر کس کا ؟

خیر آج ایک بار پھر حی علی الجہاد کی صدائیں فلسطین سے بلند ہو رہی ہیں

کیونکہ ماہ رمضان کے آغاز سے ہی یہودی نے مسلمانوں کا جینا دو بھر کر دیا ہے 

مسلمان عورتوں تک کو مارا پیٹا اور شہید کیا جا رہا ہے اس ساری صورتحال پہ 

فلسطینی شہر  القدس کی  مساجدوں  کے سپیکروں سے حی علی الجہاد  کی آوازیں بلند کی جا رہی ہیں کہ دنیا کے غیور لوگوں اٹھو جہاد کی خاطر اور اپنے مظلوم مسلمان بہن بھائیوں کی خاطر 

 یہ وہی آوازیں ہیں جو  چودہ سو سال قبل میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لگایا کرتے تھے

اور جب یہ  آوازیں مدینہ کی گلیوں میں لگتی تھیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے اصحاب سب مال و متاع،جاگیریں چھوڑ کر میدان جہاد میں آجایا کرتے تھے 

اج وہی آوازیں ایک بار پھر فلسطین میں یہودی کے خلاف گونج رہی ہیں 


الحمدللہ یہ اولاد انبیاء فلسطینی قوم نا جھکی تھی نا بکی ہے

اپنی بساط کے مطابق یہودی کا مقابلہ کرتی تھی اور کرتی ہی رہے گی اسی طرح کشمیری قوم ہندو پلید کے آگے 75 سالوں سے ڈٹ کے کھڑی ہے اور ڈٹی ہی رہے گی ان شاءاللہ

اللہ تعالیٰ مظلوموں کی مدد فرمائے اور مسلم حکمرانوں کو جہاد کا اعلان کرکے آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Sunday, 2 April 2023

ماہ مہمان کی قدر کیجئے ازقلم غنی محمود قصوری

 




روزے کو عربی میں صوم، صیام کہتے ہیں جس کے لغوی معنی ہیں کہ کسی چیز سے اپنے آپ کو روکے رکھنا

اگر ہم بغور مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ صیام یعنی روزے کا اصل باشرع مقصد و مطلب ہے کہ اللہ کی خوشنودی کے لئے سحری  سے نماز مغرب تک خود کو کھانے پینے و نکاح کے باوجود جماع جیسے جائز کام سے روکے رکھنا ہے


روزوں کی فرضیت کا حکم سنہ 2 ہجری میں تحویل قبلہ کے واقعہ سے کم و بیش دس پندرہ روز بعد نازل ہوا 


آیت صیام شعبان کے مہینے میں نازل ہوئی جس میں رمضان المبارک کو ماہ صیام قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا


شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ


البقرة

رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) راہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے


اسلام میں ہر عمل کا اجر بتایا گیا کے مگر رمضان کے روزے کا اجر ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالی ہی جانتے ہیں اس بارے یہ حدیث ہے


ابن آدم کا ہر عمل دوگنا ہوتا ہے، نیکی کا اجر دس سے لیکر سات سو گنا تک جاتا ہے، اللہ عزّوجل نے فرمایا،روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اسکا اجر دوں گا کیونکہ اس میں میرا بندہ اپنی شہوت اور کھانے پینے کو میری وجہ سے چھوڑ دیتا ہے روزے دار  کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اسکی افطاری کے وقت اور دوسرے اپنے رب سے ملاقات کے وقت، اسکے ( روزہ دار) منہ کی بو اللہ کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے (متفق علیہ )


اس ماہ رمضان  کی حرمت یہ ہے کہ صحیح بخاری میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس نے  ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں


اللہ رب العزت کی رحمت بہت وسیع ہے وہ تو اپنی رحمت سے اپنے بندوں کو معاف کرنے کا بہانہ ڈھونڈتا ہے تاکہ خطاءکار حضرت انسان کی اصلاح کرکے اس کے گناہ معاف فرما کر اسے جنت کا راہی بنایا جائے

اسی لئے اللہ رب العزت نے اس ماہ مقدس کو مہمان بنا کر بیجھا تاکہ ہم گناہوں سے بچ سکیں اور نیک اعمال کرکے جنت میں جائیں

جس طرح ہم دنیا میں آنے والے مہمان کی خاطر اس کی تکریم کی خاطر اپنے گھر کو صاف کرتے اور گھر کی تزئین و آرائش کرتے ہیں بلکل اسی طرح ہمیں اس ماہ مقدس ماہ مہمان کی آمد سے پہلے اپنے دل کو صاف کرنا چائیے 

ہر اس برائی سے بچنا چائیے جس سے ہمیں اسلام نے منع فرمایا ہے تاکہ آنے والا مہمان ماہ صیام کو پتہ چلے کہ ہم اسکا خوب شاندار استقبال اس کی عزت و تکریم میں کر رہے ہیں

جس طرح ایک خوش اخلاق  مہمان جاتے ہوئے گھر کے چھوٹے بچوں کو یاں پھر کسی اور کو تحفتاً کچھ نقدی جا اور چیز جا کر جاتے ہیں بلکل اسی طرح یہ ماہ مہمان ہمیں جاتے ہیں اپنی صحیح اسلامی خاطر تواضع کے عیوض متقی اور پرہیز گار بنا کر جاتا ہے اور عید الفطر جیسی خوشی و متقی بن جانے پہ جنت کی بشارت دے کر جاتا ہے اب آگے ہماری مرضی ہے کہ ہم ماہ مقدس ماہ رمضان کے جانے کے بعد بھی اسی عقیدے پہ چل کر جنت کے پکے حق دار رہتے ہیں کہ نہیں


ماہ رمضان کے اندر جس طرح ہم اپنے گھر والوں کے لئے عمدہ سے عمدہ کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں ویسے ہی ہمیں چائیے کہ اپنے پڑوسیوں عزیزوں رشتہ داروں کا بھی خیال رکھیں جو مالی طور پہ کمزور ہیں ان کی مدد کی جائے تاکہ وہ بھی اچھے طریقے سے سیر ہو کر روزہ رکھیں اور افطار کریں کیونکہ آپ کے صدقہ خیرات کے علاوہ عام مالی مدد کا سب سے پہلا مستحق آپکا اپنا بہن بھائی پھر اسے کے بعد آپکا ہمسایہ و گلی محلے والا اور رشتہ دار ہیں اس کے بعد دیگر جماعتیں و لوگ آتے ہیں اگر قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں تو صدقے خیرات کے اولین حقدار یہی لوگ ہیں مگر افسوس آج ہم لاکھوں روپیہ لگا کر افطار پارٹیاں تو کرتے ہیں مگر اصل حقدار ان افطار پارٹیوں کے قریب بھی نہیں دیکھے جاتے

میں افطار پارٹیوں کے خلاف نہیں مگر ایک بات یاد کرواتا چلو آپ نے اگر اپنے اصل حقدار تک اس کا حق نہیں پہنچایا اور اس کے بغیر آپ پہلے سے مالی مستحق دوستوں یاروں کی افطار پارٹیاں کر رہے ہیں تو یاد رکھیں روز قیامت اس پہ پوچھ ہو گی اور رب کی طرف سے پکڑ بھی ہو گی

افطار پارٹیاں ضرور کیجئے مگر اس سے پہلے اصل حقداروں تک اس کا حق پہنچائیے 

سوچیں اصل حقداروں کا حق مار کر کسی اور کو راضی کرکے ہم رب کو راضی کر سکیں گے؟

ہر گز نہیں 

باقی روزہ دار کی افطاری کروانا بہت بڑا ثواب ہے اس بارے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے


حضرت زید بن خالد رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی روزے دار کو افطار کروائے یا کسی مجاہد کا سامان سفر تیار کروائے تو اسے بھی اس کے مثل اجر ملے گا (بیہقی)


آخر میں ایک بار پھر یاد کروا دو پہلے اپنے اصل حقدار راضی کرو ان کا حق ان تک پہنچاؤ پھر لاکھوں کروڑوں لگا کر افطار پارٹیاں کرو اور ان افطار پارٹیوں میں بھی غریب غرباء کو یاد رکھو

اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین