Monday, 16 August 2021

ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری سے جپھی تک کے اصل حقائق ازقلم غنی محمود قصوری





2001 کو امریکہ نے نیو ورلڈ آرڈر کے خواب میں نائن الیون کا بہانہ بنا کر افغانستان پر چڑھائی کی 

محدود وسائل کی بدولت افغان طالبان کو کابل چھوڑنا پڑا اور پھر گوریلہ وار کا آغاز کیا گیا 

محض دو عشروں میں افغان طالبان نے امریکہ و ناٹو فورسز کی وہ درگت بنائی کہ دنیا حیران ہو گئی اور آخرکار انڈیا کے یوم آزادی کے دن انڈیا کے سب سے بڑی اتحادی کو اسی دن یعنی 15 اگست 2021 کو کابل چھوڑ کر چوروں کی طرح فرار ہونا پڑا 

طالبان سربسجود ہوتے صدراتی محل میں داخل ہوئے اور ملا عبدالغنی کو افغانستان کا صدر منتخب کیا گیا 

ملا عبدالغنی کے صدر بنتے ہی کچھ فتہ پروروں کو پیٹ میں مروڑ اٹھا اور  پروپیگنڈہ کے طور پر ایک تصوير شیئر کرنا شروع کر دی  جس میں ملا عبدالغنی برادر کو ہتھکڑی لگی دیکھائی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ بہت عجیب عجیب باتیں لکھ کر پوسٹیں شیئر کر رہے ہیں  بات آگے بڑھانے سے پہلے میں ایک حقیقت عیاں کرو دو کہ ن تصاویر کو شئیر کرنے والوں  میں سرفہرست ٹی ٹی پی اور دیگر خارجی فکر رکھنے والے لوگ ہیں اور انکے ساتھ ساتھ پاک فوج آئی ایس آئی اور پاکستانی حکومت کے خلاف  پروپیگنڈہ کرنے والی سیاسی و سیاسی مذہبی جماعتیں شامل ہیں 

جن میں جمعیت علماء السلام و جماعت اسلامی کے انفرادی افراد، پی ڈی ایم اور ن لیگ کے لوگ شامل ہیں

 یہ سب افراد پاک فوج اور پاکستان کے سیکورٹی اداروں کی عزت و فتخ سے ہمیشہ ہی سے تعصب رکھتے رہے ہیں


اب آتے ہیں ملا عبدالغنی برادر کی زندگی اور ان کام و پاکستانی ایجنسیوں سے رابطے اور پھر گرفتاری والی حقیقت کی طرف


ملا عبدالغنی برادر ١٩٦٨ میں افغانستان کے صوبہ اروزگان میں پیدا ہوئے اور انکا تعلق  پشتو قبلے پوپلزی سے ہے تاہم کچھ ذرائع نے ان کی سکونت پاکستانی علاقے  پارا چنار سے ظاہر کی ہے جو کہ یکسر غلط ہے


ملا عبدالغنی افغانستان میں سوویت جنگ کے دوران صوبہ قندھار میں جہاد کرتے رہے اور بعد میں وہیں میوند کے علاقے میں ملا محمد عمر کے ساتھ مل کر ایک دینی تعلیمی درسگاه بھی قائم کی تاہم کچھ ذرائع کے مطابق ملا عبدالغنی ملا محمد عمر کے ہمزلف بھی ہیں 

 

١٩٩٤ میں ملا عبدالغنی برادر نے ملا عمر کی افغانستان میں دوران جنگ بھرپور مدد کی اور جنگ لڑی بھی اور اپنی جرات و بہادری جذبہ ایمانی سے علاقے فتخ کرواۓ جس پر  انہیں ملا عمر کی طرف سے صوبہ نیمروز کا گورنر مقرر کر دیا گیا

 اور ساتھ ہی مغربی افغانستان کی عسکری کماند کا  کمانڈر بنا دیا گیا 

امریکہ کے دستاویزات میں ملا عبدالغنی برادر ملا عمر کی فوج کے نائب آرمی چیف بھی تھے


 ستمبر ١١ کے امریکی حملوں کے بعد جب امریکہ نے UNO کے سلامتی کونسل کے اندر افغانستان سے جنگ کا اعلان کر دیا تو اس جنگ میں ملا عبدالغنی برادر ملا عمر کے شانہ باشانہ لڑے اور امریکی تحقيقاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ملا عبدالغنی برادر ہی وہ تھے جنہوں نے ملا عمر کو سنہ ٢٠٠١ میں محفوظ مقام پر پہنچایا تھا

 

یاد رہے شروع شروع میں تو امریکہ اس جنگ میں اندھا دندھ کُود پڑا تھا اور کوئی انٹیلیجنس رپورٹس انکے پاس نہیں  تھیں بس طاقت کا نشہ اور نیو ورلڈ آرڈر کا جنون ہی  تھا 

امریکی شدید  فضائی بمباری کرتے رہے مگر بے سود

اخیر انہوں نے زمینی انٹیلیجنس بیس آپریشن شروع کیے تو انہیں بہت سی secret باتوں کا پتہ بھی چلا اور اس پر بہت Shocked بھی ہوئے

 (ان ساری تفصیلات کے لیے آپ کو بی بی سی کی ایک طویل ڈاکومنٹری دیکھنی پڑۓ گی Secret Pakistan -dubble cross تو ہی آپ کو سمجھ لگے گی) 

 انکشاف ہوا کہ ملا عبدالغنی برادر ہی وہ اصل بندہ تھا جو پاکستان میں موجود کوئٹہ شوری کا صدر رہا اور یہاں سے بیٹھ کر جنگ لڑواتا رہا


 طالبان حکومت کے خاتمے کے چھ سال بعد سنہ ٢٠٠٧ تک تحریک طالبان افغانستان کے جنگجو مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے مگر آپس کے اختلافات کے باعث ان کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی

پھر صوبہ ہلمند میں سنہ ٢٠٠٧ میں ایک جھڑپ میں ملا داد اللہ کے ہلاک ہونے کے بعد طالبان میں ملا داد اللہ کے نام سے ایک گروہ وجود میں آیا جس نے مکمل طور پر ملا عمر کی مخالفت کا اعلان کر دیا 

 اس واقعے کے بعد ٢٠٠٧ ہی  میں کوئٹہ شوریٰ قائم کی گئی جب کہ ملا عبد الغنی برادر نہ صرف شوریٰ کے سیاسی بلکہ ملٹری سربراہ بھی بن گئے اور مبینہ طور پر انہوں نے کوئٹہ ہی سے افغانستان کے اندر مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف لڑنے والوں کی قیادت کی  اور یہ سارا کام پاکستانی ایجنسی کی نظروں سے چھپا ہوا نہیں تھا بلکہ نظروں ہی میں تھا

 آپ یہیں سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملا عبدالغنی برادر پاکستانی ایجنسیوں کے کتنے قریب ہیں


اب آتے ہیں ملا عبدالغنی  برادر کی پاکستانی میں گرفتاری کیوں ہوئی وجہ کیا تھی اصل معاملہ کیا تھا

 

 ستمبر ١١ کے حملوں کے بعد امریکہ نے UNO کے ادارے سلامتی کونسل کے ذريعے افغانستان میں موجود القاعدہ کے جنگجوؤں کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملوں کا ذمہ دار ( ثبوتوں کے ساتھ  القائدہ کی غلطی کہ حملوں کی مکمل ویڈیوز بطور ثبوت اپلوڈ کر دیں تھیں ) ٹھہرایا اور افغانستان میں موجود طالبان کی حکومت پر حملے شروع کر دیئے

  اس جنگ میں امریکہ کو بہت زیادہ کامیابی نا مل سکی سواۓ کچھ افغانی اور عربی جہادیوں کی گرفتاری کے مگر اصل ٹارگٹ یعنی ملا عمر، خقانی نیٹ ورک کے لوگ اور  اسامہ بن لادن وغیرہ انکے ہاتھ نا لگ سکے 

 امریکہ نے اس ناکامی کی ساری ذمہ داری جنرل مشرف اور اس وقت کے آئی ایس آئی چیف پر ڈال دی اور بار بار کہتے رہے کہ پاکستان ان کے ساتھ ڈبل گیم کر رہا ہے یعنی چھوٹے موٹے لوگ پکڑوا دیتے ہیں مگر اصل لوگوں کو تحفظ دیتے ہیں جو کہ پاکستانی اداروں کی مدد کے ذریعہ سے افغانستان میں امریکہ کے خلاف کاروائیاں کرتے ہیں


 امریکہ کے اس شور پر  پاکستان پر بہت پریشان تھا اسی دوران جنرل مشرف پر بہت زیادہ اندرونی سیاسی اور بیرونی پریشر ڈالا جا رہا تھا اور انہیں Do more کا کہا جا رہا تھا  اور اسی ڈو مور کیلئے امریکہ کی طرف سے اندرونی طور پر پاکستان میں  دہشت گردی کے واقعات اور سیاسی بحران پیدا  کیا جا رہا تھا 

بے نظیر بھٹو کا قتل کرویا گیا  اور  ان پر پریشر ڈالا گیا کہ  وہ حکومت چھوڑیں اور ملک کی حکمرانی جمہوری حکومت کے حوالے کریں

  جنرل مشرف کی ڈبل گیم امریکہ پر کھل چکی تھی (یہ ایک لمبی تفصیل ہے جس کے لیے آپ بی بی سی کی فل ڈاکومنٹری Secret Pakistan  دیکھیں)

 اسی اثناء میں ١٨ اگست سنہ ٢٠٠٨ کو جنرل مشرف نے حکومت چھوڑ دی اور ملک میں جمہوری حکومت آ گئی اور 

 پاکستان میں امریکہ کی مرضی سے ڈرون حملے ہونا شروع ہوگئے  اور امریکہ نے ڈبل ایجنٹس بھرتی کرنا شروع کر دیے اور پاکستان میں آن گراونڈ امریکی ایجنسیوں کے لوگ آپریشن کرنے لگ پڑے جبکہ یہ سارے کام جنرل مشرف کے دور میں نا ہونے کے برابر تھے جس کی وجہ جنرل مشرف کی یہ پالیسی  تھی کہ آپ ہمیں ٹارگٹ بتائیں گے اور آپریشن ہم کریں گے نیز  اگر ڈرون اٹی بھی کرنا ہوگا تو ہمیں اطلاع دی جائے گی

 جنرل مشرف کی یہی پالیسی 

امریکہ کو قبول نہیں تھی

 پہلے چھ سال تک امریکہ کو پاکستان کی ڈبل گیم کا پتہ تو چل چکا تھا مگر باقاعدہ پروف نا تھے ان کے پاس 

 جنرل مشرف کے جاتے ہی پاکستان میں ڈرون اٹکیز میں اضافہ ہو گیا اور امریکہ کے من مرضی کے ڈرون اور زمینی آپریشن شروع ہو گئے

 جن کا اصل ٹارگٹ کوئٹہ شوریٰ کی قیادت اور حقانی نیٹ ورک تھا 

اسی دوارن  امریکہ نے بھارت کے ساتھ مل کر افغانستان میں ٹی ٹی پی کی نرسری کو کھولا  تاکہ افغان مجاہدین اور ٹی ٹی پی میں فرق باقی نا رہے اور عوام کی نظر میں افغان طالبان کے خلاف  نفرت ڈالی جائے اور اسی آڑ میں  مجاہدین کے خلاف دہشت گردی کی آڑ میں کاروائیاں کی گئیں جس میں بہت سے اہم افغان کمانڈروں کی شہادت و گرفتاری ہوئی


  اس ساری گیم میں ٹی ٹی پی اور بیرونی دہشت گرد ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیے گئے تھے مگر اس کےساتھ ساتھ پاکستان کی ایجنسی آئی ایس آئی بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھی اور پاکستان کے اندر کاروائیاں کرنے والوں کو خوب جانتی تھی اور فرق رکھتی تھی 

آئی ایس آئی خوارج فکر رکھنے والے دہشت گردوں اور کشمیری و افغان مجاہدین میں فرق جانتی تھی 

اسی لیے کوئٹہ شوریٰ حقانی نیٹ ورک اور کشمیری جہادی تنظیمیں لشکر طیبہ اور جیش محمد والوں کے ساتھ رابطوں میں تھی اور نظر رکھے ہوئے تھے تاکہ اگر ان تمام تنظیموں میں سے بھی کوئی خوارج ذہنیت والے افراد ہیں تو انہیں پکڑا جائے 

 آئی ایس آئی مکمل مطمئن تھی اسی لیے اس نے بیرونی پریشر کے باوجود ان جماعتوں و قائدین کو  شیلٹرز میں رکھا ہوا تھا

  ملکوں  دفاع کے لیے عسکری قیادت اور سول سیاسی قیادت کی سوچوں میں بہت فرق ہوتا ہے

 جو کام امریکی و اتحادی جنرل مشرف کے دور میں اگست ٢٠٠٨ تک نا کر سکے وہ کام انہوں نے جمہوری حکومت میں  اگست ٢٠٠٨ کے فوراً بعد ہی تیزی سے شروع کر دیا  جن میں ان کا اولین کام کوئٹہ حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوریٰ پر حملے تھے

 انہیں دنوں میں ملا عبدالغنی برادر کوئٹہ سے کراچی جاتے ہیں اور کراچی پہنچتے ہی فروری  ٢٠١٠ میں انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے جبکہ جنرل مشرف اس وقت جا چکے تھے

 پاکستانی ایجنسی کو رپورٹ مل چکی تھی کہ ملاں عبدالغنی کی موجودگی کی مخبری ہوچکی اور امریکہ انہیں مروا دے گا یا پکڑ کر لے جائے گا تو اسی وقت ایجنسی نے یہ گیم کھیلی کہ انہیں پکڑا جائے اور ان پر کیس چلایا جائے وہ بھی پاکستانی عدالت میں 

سو انہیں پاکستان میں پکڑا گیا اور پاکستان ہی میں رکھا گیا تھا بلکل ایسے جیسے  بھارت کا منہ بند کرنے کے لیے کچھ امن پاکستانی مجاھدین کو انڈر کسٹڈی رکھا گیا ہے


 قارئین کرام آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملا عبدالغنی برادر کو امریکہ کے کہنے پر بھی امریکہ کے حوالے نہیں کیا گیا اور یہ کام ایجنسی نے پاکستانی عدالتی فیصلے کے ذریعہ سے کروایا گیا

نیز آپ کو یہ جان کر مذید حیرانگی ہوگی کہ اس سارے کام کو ایجنسی نے ایک زبردست طریقے سے  انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے سربراہ خالد خواجہ صاحب کے ذریعے سے کروایا جو کہ آئی ایس آئی کے لیے ہی کام کرتے تھے اور  جہنیں امریکہ نے اس کام کے جرم میں اس کام کے  فوراً بعد ہی ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ذریعے  کرنل امام  سمیت شہید کروا دیا تھا کیونکہ امریکہ کو اصل معاملہ کا علم ہو گیا تھا 


فوران اسیری ملا عبدالغنی برادر جو کام اوپن بیٹھ کر کوئٹہ میں کوئٹہ شوریٰ کی صورت میں کرتے وہی کام پاکستان کی ایجنسی کے مہان خانے میں سیف ہاوس میں بیٹھ کرتے رہے ہیں پھر جب پاکستان کو مکمل اطمينان ہوگیا کہ امریکہ بدمست ہاتھی مکمل طور پر گِر چکا ہے اور صلح کی طرف مائل ہو رہا ہے تو ملا عبدالغنی کو دنیاوی نظر میں رہا کر دیا جاتا اور اس سارے معاملے میں وہ ایک اہم کام سر انجام دیتے ہیں جس کا نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے


قارین کرام یقين و اطمينان رکھیں کہ ملا عبد الغنی برادر پاکستانی ایجنسی کے قریب ترین ہیں

آپ نے وہ  جھپھی والی تصویر  تو  دیکھی ہی ہو گی جس میں ملا عبدالغنی برادر  موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی جناب فیض حمید صاحب سے گلے مل رہے ہیں اب بات یہ ہے کہ وہ جپھی والی فوٹو چھپا کر گرفتاری کی فوٹو دکھانا افغان طالبان اور پاکستان کے مابین کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش اور 

حقائق کو مسخ کرنا نہیں تو کیا ہے ؟؟؟

Thursday, 12 August 2021

یہ تو جسمانی آزادی ہے ذہنی نہیں ازقلم غنی محمود قصوری




بزرگ بتاتے ہیں کہ قیام پاکستان کے اوائل دنوں کے بعد جب بھی 14 اگست آتا لوگ نوافل پڑھتے سربسجود ہوتے کہ اللہ تیرا شکر ہے تو نے ہمارے پیاروں کی جانوں کے نذرانے قبول کرکے قائد و اقبال و رفقاء کی محنت سے ایک الگ وطن دیا جس میں ہم سب آزادی سے رہ رہے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات عبادات بغیر خوف و خطر ادا کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ہندو کا ظلم جبر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس لئے ان کو آزادی کی قدر تھی 


پھر رفتہ رفتہ تبدیلی آئی نعمتوں کا کفران نعمت ہونے لگا آزادی پاکستان کے وقت جو بچے تھے وہ جوان ہوتے گئے اور جو بوڑھے تھے وہ قبرستان کی زینت بنتے گئے اور جشن آزادی کو نعمت خداوندی جان کر بھی ہم اسی کافر ہندو و انگریز کی طرز پر منانا شروع کر بیٹھے کہ جس کی رسم و رواجوں سے ہمارے بڑوں نے تنگ آکر ہجرت کی اور اپنی جانوں کے نذرانے دیئے تھے کہ اگلی آنے والی نسلیں ان رسموں رواجوں سے بچ کر حقیقی مسلمان قوم بنے گی

دنیا کی اس رنگینوں میں آج جشن آزادی کے موقع پر ہم بھول گئے کہ اس ارض پاک کو حاصل کرنے کیلئے ہمارے بزرگوں نے کم و بیش 16 لاکھ قربانیاں پیش کی ہیں اور یہ آزادی اتنی آسانی سے نہیں ملی بلکہ شیر میسور ٹیپو سلطان نے 1857 کی جنگ آزادی بھی اسی نظریہِ سے لڑی تھی 


1857 سے 1947 کا سفر آگ و خون کی ہولی سے رقم ہے 

جس میں پل پل قربانیاں پیش کی گئی تاکہ آزادی حاصل کی جا سکے اور اس ناپاک قوم ہندو و انگریز کی رسم و رواج سے اپنی آنے والی نسلوں کو بچایا جا سکے مگر افسوس کہ وہی رسم و رواج آج ہمارے کلچر کا باقاعدہ حصہ ہیں


ہم سمجھتے ہیں کہ اکیلا جسم آزاد ہو تو بندہ آزاد ہوتا ہے ایسا ہرگز نہیں بلکہ جسمانی غلامی سے زیادہ خطرناک ذہنی غلامی ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انسان کا دماغ جیسی ذہنی غلامی میں مبتلا ہو گا اس کا جسم وہی کام کرنے پر مجبور ہو گا اور آج جشن کے موقع پر ہم ہر دور غلامی والی حرکت دہرا رہے ہیں

 

قیام پاکستان کیلئے اپنے بزرگوں کی قربانیوں کی دلیل دیکھنا چاہتے ہیں تو آج بھی دہلی کے گیٹ وے پر 95300 راہیان آزادی کے نام دیکھئے جن میں سے 61945 مسلمان ہیں جنہوں نے انگریز و ہندو سے بیک وقت مقابلہ کیا اور اپنی آنے والی نسلوں کو اسلامی کلچر میں رنگنے کیلئے خود کو خون میں رنگ لیا 

افسوس آج کا نوجوان محض سائلنسر نکال کر ڈھول کی تھاپ پر انڈین کلچرل کی طرح رقص کرنا اور باجا بجا کر لوگوں کو تنگ کرنا ہی آزادی کا اصل جشن سمجھتا ہے


کل تک ہمارے بڑے اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے ہندو سے تنگ تھے تو آج کا مسلمان اپنے ہی مسلمان سے آج کے دن ذہنی و جسمانی طور پر تنگ ہے

جس کی مثال ہمارے گلی محلوں میں دن رات بجتے باجے اور اونچی آواز میں لگے گانے ہیں


ںجائے اس کے کہ اس دن شکرانے کے نوافل ادا کئے جائیں صدقہ خیرات کیا جائے کہ ہم جسمانی، روحانی،مذہبی طور پر آزاد ہیں الٹا ہم اسی ہندو پلید کا کلچر اپنا کر اپنی ذہنی غلامی کی عکاسی کر رہے ہیں


گزارش ہے کہ یہ اظہار آزادی آزادانہ نہیں بلکہ غلامانہ ہے سو اس جشن آزادی پر کچھ فلاحی کام کیجئے لوگوں کو کھانا کھلائیے،پانی پلائیے،عبادات کا اہتمام کیجئے اور خاص کر اس ارض پاک کیلئے نئے پودے لگا کر تازہ آکسیجن کی فراہمی کا اہتمام کیجئے تاکہ ہمارے بزرگوں کی روحیں سکون محسوس کریں کہ واقعی ہندو کیساتھ رہ کر ہماری اولادیں غلط کار ہونی تھیں شکر ہے اللہ کا ارض پاک کی بدولت آج ہماری اولادیں شاہراہِ اسلامیہ پر گامزن عبادات و فلاحی کاموں پر کاربند ہے


اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین

Tuesday, 3 August 2021

32850 دنوں پر مشتمل ظلم کی داستان ازقلم غنی محمود قصوری





ہندوستانی زیر قبضہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے

وادی کشمیر جنت نظیر میں مسلمان 95 فیصد،جموں میں 28 فیصد اور لداخ میں 44 فیصد ہیں جموں میں ہندو 66 فیصد اور لداخ میں بدھ مت 50 فیصد کے ساتھ اکثریت میں ہیں


1931 سے کشمیری قوم تقریبآ 32850 دنوں سے غلامی کی زندگی گزار رہی ہے مگر گزشتہ 730 دنوں یعنی 5 اگست  2019سے ان کی مظلومیت میں انتہاہ کا اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ غاصب ہندو نے کیا ہے


ہندوستان میں برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کیا اور لاک ڈاؤن کے دوران موبائل و انٹرنیٹ سروس معطل کرکے پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کیا تاکہ کشمیر کو تقسیم کرنے کے فارمولا پر عمل درآمد کیا جائے

 کرفیو لگاتے ہی ہندوستانی گورنمنٹ نے 500 سے زائد حریت لیڈروں بشمول بزرگ ترین لیڈر سید علی شاہ گیلانی کو قید کر دیا 

جس پر کشمیری قوم سراپا احتجاج بنی اور اور گزشتہ دو سالوں سے 5 اگست کو بطور یوم سیاہ منا رہی ہے


اس سال بھی 5 اگست کو کشمیری بطور یوم سیاہ کے طور پر منائینگے کشمیریوں نے پوری وادی کو ہندوستانی فوج کے انخلا پر مبنی پوسٹرز سے بھر دیا ہے اور ہڑتال کے ساتھ احتجاج کی کال بھی دی ہے جس کیلئے مقبوضہ کشمیر میں 10 ہزار فوج کا ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے


بھارت نے اپنا قبضہ برقرار رکھنے کیلئے کشمیریوں پر ظلم کی ہر حدیں پار کیں ہیں مگر کشمیری قوم کا جذبہ آزادی کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی چلا گیا ہے


ہندوستان نے 1989 سے لے کر ابتک مقبوضہ وادی کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 1 لاکھ سے زائد معصوم کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں 10 ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست شہید کیا گیا 

ہندوستان کی اس قتل غارت گری سے  25 ہزار سے زائد  خواتین بیوہ اور 1 لاکھ 20 ہزار کے قریب کشمیری بچے یتیم ہوئے ہیں جبکہ ہندوستانی فوج نے 13 ہزار سے زائد  کشمیری خواتین کی عصمت دری کی اور 2 لاکھ سے زائد املاک کو تباہ کیا

حتی کہ مظلوم کشمیریوں کی آواز کو دبانے اور اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی خاطر جانوروں پر استعمال کی جانے والی پیلٹ گن کشمیریوں پر استعال کی جاتی ہے 

اس پیلٹ گن میں 300 سے 600 چھرے ہوتے ہیں جو کہ انسانی جسم میں داخل ہو کر سخت اذیت کا باعت بنتے ہیں

 ایک تحقیق کے مطابق پیلٹ گن سے متاثرہ  33 فیصد سے زائد افراد دوبارہ اپنی آنکھوں کی بینائی حاصل نہیں کر پاتے

مگر اس سب مظالم کے باوجود وہ ایک ہی نعرہ لگاتے 

،کشمیر بنے گا پاکستان،

ہندوستان جتنا مرضی ظلم کرلے وہ اپنا مستقل جبری قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا کیونکہ کشمیری وہ قوم ہے جس نے ایک اذان کی تکمیل کی خاطر 22 شہادتیں پیش کی تھیں 

رواں سال ہندوستان نے مظالم کی نئی داستان رقم کی ہے مگر اس کے ساتھ کشمیریوں نے بھی جرآت و استقامت کی ایک عظیم مثال قائم کی ہے

کشمیر کا بچہ بچہ ہندوستان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہا ہے


ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں

تم تیر آزماؤں ہم جگر آزمائیں


ان شاءاللہ بہت جلد کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا