ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری سے جپھی تک کے اصل حقائق ازقلم غنی محمود قصوری
2001 کو امریکہ نے نیو ورلڈ آرڈر کے خواب میں نائن الیون کا بہانہ بنا کر افغانستان پر چڑھائی کی
محدود وسائل کی بدولت افغان طالبان کو کابل چھوڑنا پڑا اور پھر گوریلہ وار کا آغاز کیا گیا
محض دو عشروں میں افغان طالبان نے امریکہ و ناٹو فورسز کی وہ درگت بنائی کہ دنیا حیران ہو گئی اور آخرکار انڈیا کے یوم آزادی کے دن انڈیا کے سب سے بڑی اتحادی کو اسی دن یعنی 15 اگست 2021 کو کابل چھوڑ کر چوروں کی طرح فرار ہونا پڑا
طالبان سربسجود ہوتے صدراتی محل میں داخل ہوئے اور ملا عبدالغنی کو افغانستان کا صدر منتخب کیا گیا
ملا عبدالغنی کے صدر بنتے ہی کچھ فتہ پروروں کو پیٹ میں مروڑ اٹھا اور پروپیگنڈہ کے طور پر ایک تصوير شیئر کرنا شروع کر دی جس میں ملا عبدالغنی برادر کو ہتھکڑی لگی دیکھائی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ بہت عجیب عجیب باتیں لکھ کر پوسٹیں شیئر کر رہے ہیں بات آگے بڑھانے سے پہلے میں ایک حقیقت عیاں کرو دو کہ ن تصاویر کو شئیر کرنے والوں میں سرفہرست ٹی ٹی پی اور دیگر خارجی فکر رکھنے والے لوگ ہیں اور انکے ساتھ ساتھ پاک فوج آئی ایس آئی اور پاکستانی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والی سیاسی و سیاسی مذہبی جماعتیں شامل ہیں
جن میں جمعیت علماء السلام و جماعت اسلامی کے انفرادی افراد، پی ڈی ایم اور ن لیگ کے لوگ شامل ہیں
یہ سب افراد پاک فوج اور پاکستان کے سیکورٹی اداروں کی عزت و فتخ سے ہمیشہ ہی سے تعصب رکھتے رہے ہیں
اب آتے ہیں ملا عبدالغنی برادر کی زندگی اور ان کام و پاکستانی ایجنسیوں سے رابطے اور پھر گرفتاری والی حقیقت کی طرف
ملا عبدالغنی برادر ١٩٦٨ میں افغانستان کے صوبہ اروزگان میں پیدا ہوئے اور انکا تعلق پشتو قبلے پوپلزی سے ہے تاہم کچھ ذرائع نے ان کی سکونت پاکستانی علاقے پارا چنار سے ظاہر کی ہے جو کہ یکسر غلط ہے
ملا عبدالغنی افغانستان میں سوویت جنگ کے دوران صوبہ قندھار میں جہاد کرتے رہے اور بعد میں وہیں میوند کے علاقے میں ملا محمد عمر کے ساتھ مل کر ایک دینی تعلیمی درسگاه بھی قائم کی تاہم کچھ ذرائع کے مطابق ملا عبدالغنی ملا محمد عمر کے ہمزلف بھی ہیں
١٩٩٤ میں ملا عبدالغنی برادر نے ملا عمر کی افغانستان میں دوران جنگ بھرپور مدد کی اور جنگ لڑی بھی اور اپنی جرات و بہادری جذبہ ایمانی سے علاقے فتخ کرواۓ جس پر انہیں ملا عمر کی طرف سے صوبہ نیمروز کا گورنر مقرر کر دیا گیا
اور ساتھ ہی مغربی افغانستان کی عسکری کماند کا کمانڈر بنا دیا گیا
امریکہ کے دستاویزات میں ملا عبدالغنی برادر ملا عمر کی فوج کے نائب آرمی چیف بھی تھے
ستمبر ١١ کے امریکی حملوں کے بعد جب امریکہ نے UNO کے سلامتی کونسل کے اندر افغانستان سے جنگ کا اعلان کر دیا تو اس جنگ میں ملا عبدالغنی برادر ملا عمر کے شانہ باشانہ لڑے اور امریکی تحقيقاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ملا عبدالغنی برادر ہی وہ تھے جنہوں نے ملا عمر کو سنہ ٢٠٠١ میں محفوظ مقام پر پہنچایا تھا
یاد رہے شروع شروع میں تو امریکہ اس جنگ میں اندھا دندھ کُود پڑا تھا اور کوئی انٹیلیجنس رپورٹس انکے پاس نہیں تھیں بس طاقت کا نشہ اور نیو ورلڈ آرڈر کا جنون ہی تھا
امریکی شدید فضائی بمباری کرتے رہے مگر بے سود
اخیر انہوں نے زمینی انٹیلیجنس بیس آپریشن شروع کیے تو انہیں بہت سی secret باتوں کا پتہ بھی چلا اور اس پر بہت Shocked بھی ہوئے
(ان ساری تفصیلات کے لیے آپ کو بی بی سی کی ایک طویل ڈاکومنٹری دیکھنی پڑۓ گی Secret Pakistan -dubble cross تو ہی آپ کو سمجھ لگے گی)
انکشاف ہوا کہ ملا عبدالغنی برادر ہی وہ اصل بندہ تھا جو پاکستان میں موجود کوئٹہ شوری کا صدر رہا اور یہاں سے بیٹھ کر جنگ لڑواتا رہا
طالبان حکومت کے خاتمے کے چھ سال بعد سنہ ٢٠٠٧ تک تحریک طالبان افغانستان کے جنگجو مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے مگر آپس کے اختلافات کے باعث ان کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی
پھر صوبہ ہلمند میں سنہ ٢٠٠٧ میں ایک جھڑپ میں ملا داد اللہ کے ہلاک ہونے کے بعد طالبان میں ملا داد اللہ کے نام سے ایک گروہ وجود میں آیا جس نے مکمل طور پر ملا عمر کی مخالفت کا اعلان کر دیا
اس واقعے کے بعد ٢٠٠٧ ہی میں کوئٹہ شوریٰ قائم کی گئی جب کہ ملا عبد الغنی برادر نہ صرف شوریٰ کے سیاسی بلکہ ملٹری سربراہ بھی بن گئے اور مبینہ طور پر انہوں نے کوئٹہ ہی سے افغانستان کے اندر مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف لڑنے والوں کی قیادت کی اور یہ سارا کام پاکستانی ایجنسی کی نظروں سے چھپا ہوا نہیں تھا بلکہ نظروں ہی میں تھا
آپ یہیں سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملا عبدالغنی برادر پاکستانی ایجنسیوں کے کتنے قریب ہیں
اب آتے ہیں ملا عبدالغنی برادر کی پاکستانی میں گرفتاری کیوں ہوئی وجہ کیا تھی اصل معاملہ کیا تھا
ستمبر ١١ کے حملوں کے بعد امریکہ نے UNO کے ادارے سلامتی کونسل کے ذريعے افغانستان میں موجود القاعدہ کے جنگجوؤں کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملوں کا ذمہ دار ( ثبوتوں کے ساتھ القائدہ کی غلطی کہ حملوں کی مکمل ویڈیوز بطور ثبوت اپلوڈ کر دیں تھیں ) ٹھہرایا اور افغانستان میں موجود طالبان کی حکومت پر حملے شروع کر دیئے
اس جنگ میں امریکہ کو بہت زیادہ کامیابی نا مل سکی سواۓ کچھ افغانی اور عربی جہادیوں کی گرفتاری کے مگر اصل ٹارگٹ یعنی ملا عمر، خقانی نیٹ ورک کے لوگ اور اسامہ بن لادن وغیرہ انکے ہاتھ نا لگ سکے
امریکہ نے اس ناکامی کی ساری ذمہ داری جنرل مشرف اور اس وقت کے آئی ایس آئی چیف پر ڈال دی اور بار بار کہتے رہے کہ پاکستان ان کے ساتھ ڈبل گیم کر رہا ہے یعنی چھوٹے موٹے لوگ پکڑوا دیتے ہیں مگر اصل لوگوں کو تحفظ دیتے ہیں جو کہ پاکستانی اداروں کی مدد کے ذریعہ سے افغانستان میں امریکہ کے خلاف کاروائیاں کرتے ہیں
امریکہ کے اس شور پر پاکستان پر بہت پریشان تھا اسی دوران جنرل مشرف پر بہت زیادہ اندرونی سیاسی اور بیرونی پریشر ڈالا جا رہا تھا اور انہیں Do more کا کہا جا رہا تھا اور اسی ڈو مور کیلئے امریکہ کی طرف سے اندرونی طور پر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور سیاسی بحران پیدا کیا جا رہا تھا
بے نظیر بھٹو کا قتل کرویا گیا اور ان پر پریشر ڈالا گیا کہ وہ حکومت چھوڑیں اور ملک کی حکمرانی جمہوری حکومت کے حوالے کریں
جنرل مشرف کی ڈبل گیم امریکہ پر کھل چکی تھی (یہ ایک لمبی تفصیل ہے جس کے لیے آپ بی بی سی کی فل ڈاکومنٹری Secret Pakistan دیکھیں)
اسی اثناء میں ١٨ اگست سنہ ٢٠٠٨ کو جنرل مشرف نے حکومت چھوڑ دی اور ملک میں جمہوری حکومت آ گئی اور
پاکستان میں امریکہ کی مرضی سے ڈرون حملے ہونا شروع ہوگئے اور امریکہ نے ڈبل ایجنٹس بھرتی کرنا شروع کر دیے اور پاکستان میں آن گراونڈ امریکی ایجنسیوں کے لوگ آپریشن کرنے لگ پڑے جبکہ یہ سارے کام جنرل مشرف کے دور میں نا ہونے کے برابر تھے جس کی وجہ جنرل مشرف کی یہ پالیسی تھی کہ آپ ہمیں ٹارگٹ بتائیں گے اور آپریشن ہم کریں گے نیز اگر ڈرون اٹی بھی کرنا ہوگا تو ہمیں اطلاع دی جائے گی
جنرل مشرف کی یہی پالیسی
امریکہ کو قبول نہیں تھی
پہلے چھ سال تک امریکہ کو پاکستان کی ڈبل گیم کا پتہ تو چل چکا تھا مگر باقاعدہ پروف نا تھے ان کے پاس
جنرل مشرف کے جاتے ہی پاکستان میں ڈرون اٹکیز میں اضافہ ہو گیا اور امریکہ کے من مرضی کے ڈرون اور زمینی آپریشن شروع ہو گئے
جن کا اصل ٹارگٹ کوئٹہ شوریٰ کی قیادت اور حقانی نیٹ ورک تھا
اسی دوارن امریکہ نے بھارت کے ساتھ مل کر افغانستان میں ٹی ٹی پی کی نرسری کو کھولا تاکہ افغان مجاہدین اور ٹی ٹی پی میں فرق باقی نا رہے اور عوام کی نظر میں افغان طالبان کے خلاف نفرت ڈالی جائے اور اسی آڑ میں مجاہدین کے خلاف دہشت گردی کی آڑ میں کاروائیاں کی گئیں جس میں بہت سے اہم افغان کمانڈروں کی شہادت و گرفتاری ہوئی
اس ساری گیم میں ٹی ٹی پی اور بیرونی دہشت گرد ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیے گئے تھے مگر اس کےساتھ ساتھ پاکستان کی ایجنسی آئی ایس آئی بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھی اور پاکستان کے اندر کاروائیاں کرنے والوں کو خوب جانتی تھی اور فرق رکھتی تھی
آئی ایس آئی خوارج فکر رکھنے والے دہشت گردوں اور کشمیری و افغان مجاہدین میں فرق جانتی تھی
اسی لیے کوئٹہ شوریٰ حقانی نیٹ ورک اور کشمیری جہادی تنظیمیں لشکر طیبہ اور جیش محمد والوں کے ساتھ رابطوں میں تھی اور نظر رکھے ہوئے تھے تاکہ اگر ان تمام تنظیموں میں سے بھی کوئی خوارج ذہنیت والے افراد ہیں تو انہیں پکڑا جائے
آئی ایس آئی مکمل مطمئن تھی اسی لیے اس نے بیرونی پریشر کے باوجود ان جماعتوں و قائدین کو شیلٹرز میں رکھا ہوا تھا
ملکوں دفاع کے لیے عسکری قیادت اور سول سیاسی قیادت کی سوچوں میں بہت فرق ہوتا ہے
جو کام امریکی و اتحادی جنرل مشرف کے دور میں اگست ٢٠٠٨ تک نا کر سکے وہ کام انہوں نے جمہوری حکومت میں اگست ٢٠٠٨ کے فوراً بعد ہی تیزی سے شروع کر دیا جن میں ان کا اولین کام کوئٹہ حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوریٰ پر حملے تھے
انہیں دنوں میں ملا عبدالغنی برادر کوئٹہ سے کراچی جاتے ہیں اور کراچی پہنچتے ہی فروری ٢٠١٠ میں انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے جبکہ جنرل مشرف اس وقت جا چکے تھے
پاکستانی ایجنسی کو رپورٹ مل چکی تھی کہ ملاں عبدالغنی کی موجودگی کی مخبری ہوچکی اور امریکہ انہیں مروا دے گا یا پکڑ کر لے جائے گا تو اسی وقت ایجنسی نے یہ گیم کھیلی کہ انہیں پکڑا جائے اور ان پر کیس چلایا جائے وہ بھی پاکستانی عدالت میں
سو انہیں پاکستان میں پکڑا گیا اور پاکستان ہی میں رکھا گیا تھا بلکل ایسے جیسے بھارت کا منہ بند کرنے کے لیے کچھ امن پاکستانی مجاھدین کو انڈر کسٹڈی رکھا گیا ہے
قارئین کرام آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملا عبدالغنی برادر کو امریکہ کے کہنے پر بھی امریکہ کے حوالے نہیں کیا گیا اور یہ کام ایجنسی نے پاکستانی عدالتی فیصلے کے ذریعہ سے کروایا گیا
نیز آپ کو یہ جان کر مذید حیرانگی ہوگی کہ اس سارے کام کو ایجنسی نے ایک زبردست طریقے سے انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے سربراہ خالد خواجہ صاحب کے ذریعے سے کروایا جو کہ آئی ایس آئی کے لیے ہی کام کرتے تھے اور جہنیں امریکہ نے اس کام کے جرم میں اس کام کے فوراً بعد ہی ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ذریعے کرنل امام سمیت شہید کروا دیا تھا کیونکہ امریکہ کو اصل معاملہ کا علم ہو گیا تھا
فوران اسیری ملا عبدالغنی برادر جو کام اوپن بیٹھ کر کوئٹہ میں کوئٹہ شوریٰ کی صورت میں کرتے وہی کام پاکستان کی ایجنسی کے مہان خانے میں سیف ہاوس میں بیٹھ کرتے رہے ہیں پھر جب پاکستان کو مکمل اطمينان ہوگیا کہ امریکہ بدمست ہاتھی مکمل طور پر گِر چکا ہے اور صلح کی طرف مائل ہو رہا ہے تو ملا عبدالغنی کو دنیاوی نظر میں رہا کر دیا جاتا اور اس سارے معاملے میں وہ ایک اہم کام سر انجام دیتے ہیں جس کا نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے
قارین کرام یقين و اطمينان رکھیں کہ ملا عبد الغنی برادر پاکستانی ایجنسی کے قریب ترین ہیں
آپ نے وہ جھپھی والی تصویر تو دیکھی ہی ہو گی جس میں ملا عبدالغنی برادر موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی جناب فیض حمید صاحب سے گلے مل رہے ہیں اب بات یہ ہے کہ وہ جپھی والی فوٹو چھپا کر گرفتاری کی فوٹو دکھانا افغان طالبان اور پاکستان کے مابین کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش اور
حقائق کو مسخ کرنا نہیں تو کیا ہے ؟؟؟




