Wednesday, 31 March 2021

تقلید مغرب نے ہمیں مذہب سے دور کر دیا ازقلم غنی محمود قصوری




مغرب کی اندھی تقلید کے باعث ہم اپنے دین اسلام سے دور ہوتے جا رہے ہیں ہم اپنی غمی خوشی ہنسی مزاح دکھ غم ہر کام میں مغرب کی اندھی تقلید کر رہے ہیں حالانکہ ہمارا دین اسلام کامل دین ہے جس میں کسی بھی کام کی بابت کچھ چھپایا نہیں گیا 

ہر سال یکم اپریل کو اپریل فول منایا جاتا ہے اس دن لوگ ایک دوسرے سے بطور مزاح جھوٹ بولتے ہیں جس سے کئی اموات واقع ہو چکی ہیں 

اسلام ہنسی مزاح سے ہرگز نہیں روکتا مگر اسلام جھوٹ بولنے سے روکتا ہے کیونکہ جرائم کی ابتداء جھوٹ سے ہوتی ہے

اللہ تعالی جھوٹ کے متعلق فرماتے ہیں


إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْكَاذِبُونَ [16-النحل:105]


ترجمہ : ”جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں.“


جب حدیث رسول ہے کہ


عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے“۔


ایک تو ہم کافروں کی مشابہت اختیار کرکے جرم کر رہے ہیں دوسرا جھوٹ بھول کر ماضی میں کئی ایسی باتیں ریکارڈ پر ہیں کہ جب اس اپریل فول والے دن جھوٹی خبر بطور ہنسی مزاح بتانے پر کئی اموات ہو چکی ہیں حالانکہ اللہ رب العزت نے ہمیں دو بہترین دن عیدین کے منانے کے لئے دیئے ہیں جبکہ مسلمان کا ہر وہ دن اعلیٰ ہے جس دن وہ جھوٹ و ریاکاری سے بچ جائے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم خود ہنسی مزاح کو پسند فرماتے تھے جس کی عکاسی اس حدیث سے ہمیں خوب ملتی ہے 


 المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ  فرماتی ہیں کہ میرے پیارے آقا ﷺ اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا ہمارے گھر موجود تھے  میں نے ان کے لئے حریرہ 

(دودھ اور آٹا میں بنا ہوا کھانا) 

بنایا پھر میں نے اسے سودہ ؓ کے سامنے رکھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے تو حریرہ پسند نہیں

 تو میں نے ان سے کہا کہ کھاؤ ورنہ میں آپ کے چہرے پر حریرہ مل دوں گی

سیدہ سودہ ؓ نے پھر کھانے سے انکار کیا تو میں نے ان کے چہرے پر حریرہ مل دیا

 آپ ﷺ ہم دونوں کے درمیان بیٹھے تھے

 (اور منع نہیں فرمایا، بلکہ لطف اندوز ہوئے اور)

 آپ ﷺ تھوڑا جھک گئے تاکہ سیدہ سودہ ؓ بھی میرے چہرے پر حریرہ مل دیں

 چنانچہ سیدہ سودہ ؓ نے بھی حریرہ لیا اور میرے چہرے پر مل دیا اور پیارے آقا ﷺ یہ سب دیکھ کر ہنستے رہے

اسلام ایک کامل دین ہے آج مغرب بھی اپنی ترقی اسی پر چل کر کر رہا ہے جبکہ ہم مغرب کے فرسودہ رسم و رواج کو اپنانے لگے ہیں جو کہ ہماری دنیا و آخرت کیلئے قطعاً درست نہیں لہذہ اپنی آخرت خراب ہونے سے بچائیے اور ہنسی مزاح و دیگر امور زندگی کیلئے اسلام کا مطالعہ کیجئے جو کہ پوری انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے

اللہ تعالی ہم سب کو اسلام پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین

Sunday, 28 March 2021

اتائیت خود نہیں بڑھی اسے بڑھانے کی ذمہ دار خود ریاست ہے یک طرفہ فیصلے کے باعث ازقلم غنی محمود قصوری





اللہ تعالی فرماتے

 ہیںــدَاوٗدُاِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ ”ہم نے کہا : اے دائود علیہ السلام ! ہم نے تمہیں زمین می خلیفہ بنایا ہے ‘ لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو“

حق کے ساتھ فیصلے کرنے کا حکم چاہے کوئی امیر ہو یا غریب مگر افسوس کہ موجودہ قانون صرف غریب کے گرد ہی گھیرا تنگ کرتا ہے 

فرمان نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم ہے 


 کہ تم سے پہلی قوموں کو اس لیے تباہ کر دیا گیا کیونکہ جب امیر کوئی چوری کرتے پکڑا جاتا، اسے چھوڑ دیا کرتے تھے لیکن جب یہی جرم کوئی غریب کرتا تو اس کے ہاتھ کاٹ دیتے تھے، خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر یہی جرم میری بیٹی فاطمہ بنتِ محمد ﷺ بھی کرتیں تو میں ان کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ الحدیث


آج ہم بات کرینگے اتائیت کے پھیلاؤ اور اس کے سدباب کی مگر گورنمنٹ کی طرف سے نا تو اس کا نعم البدل دیا جا رہا ہے نا ہی ہزاروں روپیہ فیسوں کی مد میں لینے والوں اور کمیشن کے چکر میں لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والے ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کو پوچھ گچھ کرنے لے ساتھ ان کیلئے سزائیں مقرر کی گئی ہیں کیونکہ ایم بی بی ایس ڈاکٹرز بااثر اور امیر گھرانوں کے ہیں جبکہ آج وہی نظام بھرتا جا رہا ہے کہ امیر کے لئے رعایت اور غریب کیلئے سختی ہے اور اسی نظام کیلئے سخت وعید کی گئی ہے 


اس کرہ ارض پر کوئی بھی کام خود بخود نہیں ہوتا اسے سرانجام دیتا پڑتا ہے بعض مرتبہ کسی کام کو کرتے ہوئے اس کے متبادل کام بھی ہو جاتے ہیں مگر کسی بھی کام کا خوبخود ہو جانا ناممکن ہے

ریاست کا کام اپنے باشندوں کی ہر ضرورت کو پورا کرنا ہوتا ہے چاہے کسی کی آمدنی کم ہو ریاست کا فرض ہوتا ہے اس کی معاونت کرے اور اسے بھی دوسرے لوگوں کی طرح باوقار زندگی جینے کا موقع دے تاکہ معاشرہ پرامن رہے بصورت دیگر مطلوبہ ماندہ بندہ اپنی جائز خواہش کو پورا کرنے کیلئے غیر قانونی کام کرے گا جس سے معاشرہ پرامن نہیں رہتا


ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر چیز کا فقدان ہے خاص کر صحت کی سہولیات نا ہونے کے برابر ہیں حالانکہ صحت جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کا اولین فرض ہے مگر آج صحت کے رکھوالے لوگوں کی جیبوں پر سرعام ڈاکے ڈال کر دنوں میں اربوں روپیہ کما رہے ہیں حتی کہ حج و عمرہ جیسا مقدس فریضہ بھی میڈیسن کمپنیوں کے پلے سے کیا جاتا ہے اور پھر وہ کمپنی دو نمبر دوائیاں انہی سے لکھوا کر اپنا خرچ پورا کرنے کیساتھ ہزاروں گنا منافع بھی لیتی ہے مگر قانون آنکھیں بند کئے ہوئے ہے


بیمار ہونا ایک فطری عمل جبکہ اس بیماری کا علاج کروانا ایک ضروری عمل ہے

 

بیماریوں کا علاج مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے جیسا کہ طب، ہومیو پیتھک ،ایلوپیتھک  و علاج بذریعہ غذا

ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں دونوں رخوں کو دیکھ کر ہی درست فیصلہ کیا جا سکتا ہے بصورت دیگر یک طرفہ فیصلہ درست نہیں ہوتا 


چند سالوں سے اتائیت کو ختم کرنے کا ہر طرف سے شور ہے خاص طور پر محکمہ صحت  و ایم ںی بی ایس ڈاکٹرز کی طرف سے مگر اس کا نعم البدل کیا ہے اور اتائیت کیوں پروان چڑھی اور اس کا نعم البدل کیا ہے صرف انہیں باتوں پر اکتفا کیا جاتا ہے کہ اس اتائیت کو راتوں رات ختم کیا جائے یہ معاشرے کا ناسور ہے 


سب سے پہلے تو ہم جانتے ہیں کہ اتائیت پروان کیوں چڑھی جب یہ اپنی افزائش کر رہی تھی تو اسے ختم کیوں نا کیا گیا اب جبکہ غریب غرباء کی یہ مجبوری بن چکی ہے تو اسے کیوں ختم کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے


سب سے پہلے تو 1972 میں پیرامیڈیکس کے حقوق پر ڈاکہ اس طرح مارا گیا کہ انگریز دور سے جاری ڈپلومہ LMFS  کو ختم کیا گیا جو کہ قیام پاکستان سے قبل ہی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سمیت ملک کے ہر سرکاری ادارے میں کروایا جا رہا تھا اس کورس کی مدت شروع میں دو سال جبکہ بعد میں چار سال کر دی گئی تھی اس کورس کا حامل فرد قانونی طور پر محدود پریکٹس و سرجری کر سکتا تھا حالانکہ یہ افراد ڈاکٹر نا تھے مگر یہ افراد اسسٹنٹ ڈاکٹر کہلاتے تھے اور باقاعدہ محدود پریکٹس و سرجری کرتے تھے جن سے غریب غرباء اور معمولی علاج معالجے کے حامل لوگ فیص یاب ہوتے تھے مگر 1972 میں اسے ختم کر دیا گیا  

اس ڈپلومے کو کس کے کہنے پر کیوں ختم کیا گیا یہ سوال بہت سے شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے 


اسی طرح گورنمنٹ و پرائیویٹ ہسپتالوں سے ڈسپنسر کا کورس کرنے والے افراد کو بھی محدود میڈیکل پریکٹس کی اجازت نہیں ہے حالانکہ ہمارے سارے ڈی ایچ کیو٫ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی،بی ایچ یو میں یہی لوگ ڈاکٹرز کی موجودگی و غیر موجودگی میں اسسٹنٹ ڈاکٹر ہوتے ہیں پیشاب کی نالی لگانا،انجیکشن لگانا ،مریض کے زخموں کی سلائی کرنا نیز ڈاکٹر سے زیادہ کام انہی سے لیا جاتا ہے مگر افسوس ان کو بھی محدود پریکٹس کی اجازت نہیں حالانکہ ہمارے ہاں کچہریوں میں وکیل کی جگہ اس کا وہ منشی پیش ہو کر نئی تاریخ لے لیتا ہے جو کہ پرائمری بھی پاس نہیں ہوتا جبکہ یہ ڈسپنسرز کم از کم  میٹرک سائنس کے ساتھ پاس ہوتے ہیں 

مگر پھر بھی محدود پریکٹس ہسپتال ٹائم کے بعد نہیں کر سکتا جو کہ سراسر زیادتی ہے


اتائیت غربت کی بدولت بھی بڑھی ہے آج مزدور کی مزدوری 8 سو روپیہ جبکہ ایک عام ایم بی ںی ایس ڈاکٹر کی چیکنگ فیس کم از کم  300 روپیہ بغیر دوائی کے ہے اگر دوائی ملا لی جائے تو نسخہ 1000 سے اوپر پہنچ جاتا ہے اس لئے لوگ گلی محلوں میں بیٹھے ڈسپنسرووں و دیگر پیرامیڈیکس سے دوائی لیتے ہیں جن میں سے بیشتر ڈسپنسر یا پھر کسی بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے اسسٹنٹ کام کرکے تجربہ حاصل کر چکے ہوتے ہیں مگر ان کو آج اتائی یا کوائیک کہا جاتا ہے اور ہیلتھ کئیر کمیشن ان کے خاتمے کے لئے دن رات کوشاں ہے مگر افسوس کہ ان میں سے بیشتر وہ افراد ہیں جو 50 سال سے بھی زیادہ وقت سے پریکٹس کر رہے ہیں اور اب اس بڑھاپے میں ان کو اپنے روزگار کے ختم ہونے کا خدشہ ہے جبکہ قانونی طور پر ان سے ہسپتالوں میں کام بھی لیا جا رہا ہے 


گورنمنٹ اگر اتائیت ختم کرنے میں مخلص ہے تو ان اتائیوں کو متبادل روزگار دے تاکہ یہ لوگ بے روزگار ہونے پر چور ڈاکو بن کر معاشرے کا ناسور نا بن سکیں کیونکہ جتنا حق ایک ایم بی ںی ایس ڈاکٹر کا اس ملک پر ہے اتنا ہی ان اتائیوں کا بھی ہے

وب سے بہتر حل یہی ہے کہ ان لوگوں کو ٹریننگ دے کر محدود پریکٹس کی جازت دی جائے تاکہ غریب غرباء انہی غریبوں سے اپنی معمولی نوعیت کی بیماریوں کا علاج کروا سکیں

 

ماضی سے لے کر اب تک ملک دشمنی میں سرگرم خارجی افراد کے لئے آفر ہے کہ وہ ہتھیار ڈالیں تو ان کو سرعام معافی کیساتھ اچھا روزگار دے کر نارمل زندگی گزارنے کا موقع دیا جاتا ہے حالانکہ ان لوگوں نے درجنوں لوگوں کو ناحق قتل کرنے کیساتھ سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو بھی شہید کیا ہوتا ہے 


اگر خارجیوں دہشت گردوں  کیلئے سرعام معافی کیساتھ اچھا روزگار و مالی معاونت ہے تو ان اتائیوں کے لئے کیوں نہیں؟ کیا یہ سرعام منشیات فروشوں سے بھی برے ہیں؟ کیا ہزاروں وارداتیں میڈیا پر ایسی نہیں جن میں ہمارے ایم بی بی ایس ڈاکٹرز مریضوں کے جسموں میں دوران آپریشن تولیہ و آلات جراحی تک بھول گئے جس سے لوگوں کی زندگیاں خراب ہوئیں؟ ایسے کئی سینئر ڈاکٹرز پکڑے بھی گئے جو لوگوں کے گردے و دیگر اعضاء بیچ ڈالتے رہے ؟؟؟ کیا کیا گیا ان کے خلاف کسی کو آج دن تک نہیں بتایا گیا کیونکہ وہ افراد بااثر ہوتے ہیں


نیز گورنمنٹ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے رویے کو بہتر کرنے کے ساتھ ہر قسم کی دوائی ہسپتال میں مہیا کرے اور ڈاکٹروں کی کمی پوری کرے جبکہ گاؤں دیہات میں فی گاؤں کم از کم ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر مقرر کردہ جائز فیس کے ساتھ تعینات کیا جائے جو دن رات میسر ہو جیسا کہ دن رات اتائی میسر ہوتا ہے اور لوگوں کے گھروں تک میں جا کر دوائی دے آتا ایسا کرنا اس لئے لازم ہے  تاکہ لوگوں کو اتائیوں کا نعم بدل مل سکے اور وہ ہر وقت معمولی بیماریوں کا علاج اپنی دہلیز پر ہی پا سکیں 


پورے پاکستان کے ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی ڈگریاں چیک کی جائیں جن کے پاس جعلی ہیں ان کو سزا دی جائے اور ہر ڈاکٹر کی فیس مزدوری کی فی زمانہ مزدوری کے حساب سے مقرر کی جائے اور زائد فیس لینے والے ڈاکٹر کو تاحیات پریکٹس سے روک دیا جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ ریاست غریب عوام کو صحت کے نام پر لٹنے سے بچانا چاہتی ہے کیونکہ آج 100 میں سے 94 ڈاکٹر بڑے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں غریب تو میٹرک پاس کرکے فکر مند رہتا ہے کہ اب پتہ نہیں کسی پرائیویٹ فیکٹری میں نوکری بھی ملے گی کہ نہیں

مگر یہ امراء کے ڈاکٹرز روزانہ لاکھوں روپیہ یومیہ کماتے ہیں جن میں سے بیشتر میڈیکل ریپ کی وساطت سے گاڑیاں،گھر،بجلی کے بل و ہر ضرورت پوری کرتے ہیں حتی کہ حج و عمرہ بھی میڈیسن کمپنیاں کرواتی ہیں ظاہری بات ہے جو کمپنیاں اتنی کچھ کرتی ہیں ان کی دو نمبر ادویات بیچنے سے ہی سارا کچھ پورا ہوتا ہے لہذہ اس کام کو فوری روکنے کیلئے ادارہ قائم کیا جائے تاکہ کوئی اپنی لالچ کی خاطر دو نمبر ادویات بیچ کر لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگا کر مراعات نا حاصل کر سکے


جب تک گورنمنٹ صرف امراء ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی سن کر ہی فیصلے کرے گی تب تک لوگ مایوس رہینگے اگر گورنمنٹ اپنے تمام باشندوں سے برابر سلوک کرنا چاہتی ہے تو پھر پیرا میڈیکس کو محدود پریکٹس کی اجازت لازمی دی جائے بصورت دیگر ایم بی بی ایس ڈاکٹرز اپنی من مانی فیسوں سے غریبوں کی جیبوں پر سر عام ڈاکہ ڈالتے رہینگے اور میڈیسن کمپنیوں سے ساز باز ہو کر مراعات لے کر دو نمبر ادویات لکھتے رہینگے اور غریب مرتا رہے گا

خدارا فرق ختم کیجئے پیرامیڈیکس کے جائز مطالبات پورے کیجئے تاکہ پتہ چل سکے قانون غریب امیر کیلئے ایک ہے

Friday, 26 March 2021

تحریک آزادی کشمیر کو نقصان معائدہ امن سے نہیں تمہاری زبانوں سے ہے ازقلم غنی محمود قصوری




فی زمانہ کشمیر پر کچھ لوگوں کا موقف مختلف رہا ہے اور ان کا کام اس محاذ پر سوائے مایوسی پھیلانے کے اور کچھ بھی نہیں 


 1947 میں جب غیور کشمیریوں نے افواج پاکستان اور قبائلیوں کے ساتھ مل کر انڈیا کی اینٹ سے اینٹ بجائی تو اپنی تباہی دیکھ کر اس وقت کے وزیراعظم کو  مجبوراً جنگ بندی کیلئے سلامتی کونسل پہنچنا پڑا اور پھر سلامتی کونسل کے استصواب رائے کی یقین دہانی پر جنگ بندی کرنی پڑی یہ لوگ اس وقت بھی جنگ بندی کو غلط کہتے رہے اور جنگ کو نا روکنے کا واویلا کیا اور خود گھروں میں بیٹھے رہے اور واویلا کیا جہاد کشمیر کے سودے کا ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کو پیچھے نہیں ہٹنا چائیے تھا 

 ایسی مایوسیاں پھیلانے والوں میں کچھ کشمیری ہیں اور کچھ لوگ پاکستانی بھی شامل ہیں جو دراصل راہ جہاد سے فرار چاہتے ہیں


وقت گزرتا گیا پاکستان اور انڈیا کے مابین 1965,1971 کی دو جنگیں خالصتاً وجہ عناد مسئلہ کشمیر کے لئے لڑیں گئیں تب ان لوگوں نے کہا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں سو وقت گزرتا گیا 1989 میں جب ہندو کا ظلم عروج پر پہنچا تو کشمیریوں نے کلاشن اٹھائی اور انڈین فوج پر یلغار کی جس کیلئے مجاھدین پاکستان و افغانستان سے وادی میں پہنچے اور اپنے مسلمان کشمیری بھائیوں کی مدد کی اس بار ان لوگوں نے پھر شور کرنا شروع کر دیا کہ ہر مسئلے کا حل بندوق نہیں انٹرنیشنل کورٹ میں کیس لڑا جائے اس سے خون ریزی ہو گی فلاں فلاں مگر کشمیریوں نے اپنا کام جاری رکھا وادی کشمیر کے اندر جاری اس تحریک سے دونوں ملکوں کے مابین لائن آف کنٹرول پر ہر روز کشیدگی رہنے لگی جس سے روزانہ دونوں جانب سے جانی و مالی نقصان ہونے لگا جس پر یہ لوگ پھر چلائے کہ کشمیریوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ و دونوں ممالک کی افواج کا جانی نقصان  ہو رہا ہے  اسے روکا جائے


1999 میں ایک بار پھر دونوں ملکوں کے مابین کارگل چھڑی جس کا خالصتاً مقصد آزادی کشمیر تھا جس میں انڈین فوج کے ساتھ پاکستانی مجاھدین و آرمی کو سخت جانی و مالی نقصان ہوا مگر پھر ان لوگوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھا کہ حالات خراب کئے جا رہے ہیں مسئلہ کشمیریوں اور انڈیا کا ہے پاکستانی فوج بیچ میں نا آئے وغیرہ وغیرہ


وقت نے کروٹ لی اور 2003 میں انڈیا و پاکستان دونوں ممالک نے امن مائدہ کیا کہ ایل او سی پر حالات بہتر کئے جائیے تاکہ جانی و مالی نقصان نا ہو اس معائدے پر ان لوگوں نے پھر واویلا  شروع کر دیا کہ کشمیر کا سودا ہو چکا ہے جنگ بندی کشمیر کے سودے کی علامت ہے کشمیریوں کو دھوکے میں رکھا گیا ہے فلاں فلاں

 مگر کشمیریوں اور مجاھدین نے ایک نا سنی اور اپنا کام جاری رکھا  حتی کہ 2010 کے بعد تحریک آزادی اپنی انتہاہ کو پہنچی کشمیریوں نے بے پناہ قربانیاں دیں انڈین فوج پر تاریخی یلغاریں کیں مگر جہاد کشمیر کے لئے برہان وانی ریاض نائیکو ،بشیر لشکری جیسے نوجوان راہ جہاد میں کود پڑے    ان لوگوں نے پھر شور مچا دیا کہ کشمیر میں مجاھدین انڈین فوج کو مارتے ہیں جس کے ردعمل میں انڈین فوج پھر کشمیریوں پر ظلم کرتی ہے غیر ملک سے مجاھدین مال کیلئے جاتے ہیں ان مجاھدین کے جانے سے فتنہ پھیلتا ہے وغیرہ وغیرہ مگر ان کو کشمیریوں نے گھاس نا ڈالی اور جہاد کشمیر جاری رکھا یہاں تک کے پلوامہ میں مجاھدین نے فروری 2019 میں تاریخی خودکش فدائی حملہ کیا جس سے انڈیا تو انڈیا پوری دنیا کے ممالک سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ اتنی قوت سے اتنا بڑا حملہ کیسے ممکن ہے؟ مجاھدین بہت زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں خاص کر اندین فوج و میڈیا نے شور ڈالا کہ مجاھدین اس قابل نہیں یہ حملہ پاک فوج نے کروایا ہے 

 اس حملے میں انڈین سی آر پی ایف کے 46 فوجی ہلاک اور 100 سے اوپر زخمی ہوئے تھے اس پر ایک بار پھر یہی لوگ میدان زبانی محاذ سے تنقید کرنے کو کود پڑے کہ انسانی جانوں کا ضیاع ہو گیا حالانکہ ان کو اس وقت انسانی جانوں کا ضیاع نظر نا آیا جب روزانہ مجاھدین کشمیر کے ساتھ عام کشمیریوں کو انڈین فوج نے بے دردی سے شہید کیا اور ابتک ایک لاکھ کے قریب کشمیری نوجوانوں کو انڈین فوج شہید کر چکی ہے جن میں بچے،عورتیں اور بزرگ بھی شامل ہیں

 

پلوامہ حملے کے بعد انڈین فوج نے ایل او سی کراس کی تو ان لوگوں نے پھر پاکستان کے دفاع پر سوال اٹھایا اور بزدلی کا طعنہ مارا مگر چند ہی گھنٹوں بعد پاکستان فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کراس کی اور انڈین ائیر فورس کے دو طیارے مار گرائے جس پر چند ہی گھنٹوں بعد ان لوگوں کو انڈیا سے ہمدردی ہو گئی اور بات امن و شانتی کی ہونے لگی 


چند ماہ گزرے 5 اگست 2019 کو انڈین فوج نے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اے کو ختم کیا اور کرفیو لگا دیا جو کہ آج 600 سے اوپر دن گزرنے کے ساتھ جاری ہے اب یہی امن کی آشا والے لوگ پھر امن کو بھول کر لڑائی کا درس دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ کشمیر کا حل سوائے بندوق کے نا ہو گا مگر کشمیریوں اور مجاھدین نے سخت حالات کا مقابلہ کرکے مسلح تحریک کو آگے بڑھایا اور کرفیو کے باوجود انڈین فوج پر حملے جاری رکھے جس کے باعث ایل او سی پر پہلے سے خراب حالات مذید خراب ہوتے چلے گئے 


حالات کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک نے رواں ماہ ایک بار پھر ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول پر گولی باری نا کرنے کا فیصلہ کر لیا جس پر پھر ایک بار انہی لوگوں کو مروڑ اٹھا کہ پاکستان نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے کشمیر کو بیچ دیا گیا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ بیچا کتنے میں ہے کیونکہ سودا تو پیسوں کے عیوض ہوتا ہے 

انہوں کا اعتراض ہے کہ  پاکستان آرمی اگر مخلص ہے تو کشمیر میں گھس جائے فلاں فلاں مگر کشمیریوں نے پچھلے ہفتے اکیلے سرینگر کے گردونواح میں 3 حملے انڈین فورسز پر کئے جس میں انڈین فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا جس پر یہ لوگ غیر ملک سے جانے والے مجاھدین کا تذکرہ کرنے والے خاموش رہے ان کو توفیق نا ہوئی کہ یہ غیر ملکی مجاھدین آخر کشمیریوں کی رائے کے بغیر کیسے وادی میں چھپ جاتے ہیں؟

 جبکہ انڈین فورسز بار بار روتی ہے کہ غیر ملکی مجاھدین ہی سب سے بڑا خطرہ ہیں جن کو کشمیری لوگ پناہ دہتے ہیں اور ان کی معاونت کرتے ہیں


ان منافقین کے لئے میں اللہ کے نبی کریم کی ایک حدیث پیش کرتا ہوں


حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مشرکین سے اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ جہاد کرو۔


(سنن ابی داوُد ،جلد دوم کتاب الجہاد2504



کہ اس حدیث کے مطابق تمہارا کیا کردار ہے عملی طور پر ؟

 کیا تم نے جہاد کشمیر میں جان سے حصہ لیا ؟

 کیا تم نے مجاھدین تنظیموں کی مدد کی ؟ مجاھدین پر تم چندہ کھانے کا الزام لگاتے ہو تو دوسری طرف انڈین فوج پر ہوئے حملوں پر یہی کہتے ہو کہ یہ کام بیرون ممالک مجاھدین کا ہے کیا کھایا گئے چندے سے انڈین فوج پر حملہ ہو سکتا ہے؟


 کیا تم نے اپنی زبانوں سے مجاھدین و کشمیریوں کی حمایت کی ؟

 اگر تم نے کبھی جہاد کشمیر و مجاھدین کی حمایت کی ہوتی تو آج اس زبانی جہاد جوکہ نبوی حدیث سے بافضیلت ثابت ہے اس کے اظہار پر تمہاری فیسبک ٹویٹر وال خاموش کیوں؟ اور اتنی مایوسی کس لئے ؟

حالانکہ کشمیری تو پہلی کی طرح پرعزم ہیں


اللہ کے نبی نے تو جہاد کو طاقت کے مطابق فرض قرار دیا ہے مگر تم زبانی سب سے سستے جہاد پر بھی خاموش کیوں؟؟؟

رہی بات امن معاہدے کی یہ پہلے بھی ہوا اس سے تحریک آزادی کو نا پہلے فرق پڑا تھا اور نا اب پڑا ہے جنہوں نے جو کرنا ہے وہ خوب کرتے ہیں تم اپنی آخرت کی سوچو 

پھر بھی شک ہے تو موجودہ معرکوں پر انڈین فوج کے سامنے کشمیریوں کے نعرے کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا؟ لاالہ الااللہ سن لو 


بات ایک سورہ قرآن بیان کرکے ختم کرتا ہوں


یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ا س کے فضل سے مایوس ہوجانا کافر کا وصف ہے، جیسا کہ سورۂ یوسف میں  ہے:


’’اِنَّهٗ لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ‘‘(یوسف:۸۷)


: بیشک اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں ۔


یاد رکھو امن معاہدے سے تحریک آزادی کشمیر کو کوئی خطرہ نہیں اگر خطرہ ہے تو تمہاری مایوسی زدہ زبانوں سے 


اللہ تعالی ہم سب کو مایوسی جیسی لعنت سے محفوظ فرمائے آمین

Monday, 22 March 2021

اک نظریہ جو ایفائے عہد نا ہو سکا ازقلم غنی محمود قصوری





14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا جس کے لئے ہمارے آباؤ اجداد نے بے شمار قربانیاں دیں مگر اس سے قبل ہمارے قائدین نے بھی بھرپور جدوجہد کی تبھی یہ مملکت خدادا پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا

پاکستان کا خواب ولی کامل حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا تھا اسی لئے انہوں نے اپنی مردم شناس نظر سے قائداعظم حضرت محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کی قائدانہ صلاحیتوں کو بھانپ کر قائد اعظم کو اس وطن عزیز کے لئے جستجو کے لئے چنا کیونکہ اس وقت پورے ہند کے ہر صوبے میں ایک یا اس سے زیادہ مسلمانوں کی تنظیمیں تھیں مگر اقبال جانتے تھے کہ حقیقی محنت و مشقت قائد اعظم  اور ان کے ساتھی ہی کر سکتے ہیں اور مسلمانان ہند کی ایک مشترکہ جماعت ہونا لازم ہے سو آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جا سکے

اقبال فہم و فراشت والے تھے وہ جانتے تھے کہ مسلمانان ہند و ہندوؤں کا ایک ساتھ رہنا ناممکن ہے اسی لئے اقبال نے 1930 کو الہ آباد کے تاریخی اجلاس میں جداگانہ وطن کے حصول کا نظریہ پیش کرکے ساری دنیا کے ایوانوں میں دھماکہ کر دیا تھا 

اقبال رحمۃ اللہ علیہ اس ملک کو خالصتاً اسلامی اصولوں پر چلانا چاہتے تھے اسی لئے انہوں نے 28 مئی 1937 کو قائد اعظم کے نام لکھے اپنے خط میں لکھا تھا کہ 

اسلامی قوانین کے نفاذ سے ہی ہمارا ملک ترقی کر سکے گا میں اسلامی قانون کے مطالعہ سے اس نتجیے پر پہنچا ہوں کہ اگر اسلامی نظام کا  نفاذ کیا جائے تبھی ہر ہر شحض کم از کم حق معاش تک پہنچے گا اور میرا عقیدہ ہے کہ ہر مسلمان غربت سے نجات اور امن و امان تک رسائی بغیر شرعی نفاذ کے حاصل نہیں کر سکے گے


ایک اور  خط میں اقبال نے قائد کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا تم جدوجہد سے الگ وطن تو لے لو گے مگر بغیر اسلامی نفاذ کے اس کو صحیح معنوں میں ایک ملک کی طرح نا چلا پاؤ گے لہذہ اس ملک کی بقاء قرآن و سنت کے نفاذ سے ہی ہوگی 


آخر کار حکم ربی سے اقبال 21 اپریل 1938 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے 

23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے جانثار ساتھیوں نے اقبال رحمۃ اللہ کی خواہشات کے عین مطابق قرار داد پاکستان پیش کی اور قائد نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا


آج اقبال ہم میں موجود نہیں،

(فوت ہو گئے ہیں) اگر وہ زندہ ہوتے تو وہ یہ جان کر کتنا خوش ہوتے کہ ہم نے وہ سب کچھ کر دیا جو وہ چاہتے تھے


قائدِ اعظم اور ان کے رفقاء نے دوقومی نظریہ کی بنیاد پر اقبال کی خواہشات کے مطابق بڑی جدوجہد سے پاکستان کا قیام کیا اور قائد اعظم نے بارہا اپنے تقریریں میں کہا کہ اس ملک کی بقا و سلامتی قرآن و سنت کے نفاذ سے ہی ہے مگر افسوس کہ آج ہم نے قرار داد پاکستان ،یوم پاکستان، اور یوم آزادی کے دنوں کو منانا ہی قیام پاکستان کا مقصد سمجھ لیا ہے حالانکہ ایسا ہرگز اقبال و قائد نے پوری زندگی قرآن و سنت کے نفاذ کی عملی کوششیں کیں مگر ان کی زندگیوں نے ساتھ نا دیا  اور رب کے حضور چلے گئے مگر ہمارے ان کے بعد آنے والے ہر حکمران نے نظریہ اقبال و جناح کو اہمیت نا دی اور آج پاکستان کو غریب کے لئے تنگ کر دیا جس کی بدولت آج غربت مہنگائی،بے روزگاری اور دہشت گردی کا سامنا ہے یہ خود کو اقبال و قائد کے روحانی فرزند کہنے والے اغیار سے یاریاں لگا کر اس مملکت پاکستان کے بنانے کا مقصد ہی بھول گئے تبھی یہ خود بھی ذلیل و رسواء ہو رہے ہیں اور پاکستان کے امن و امان کو بھی خطرہ لاحق کر رہے ہیں مگر یہ بھول گئے کہ وہ نظریہ جو ایفائے عہد نا ہو سکا اس کے چور یہ موجودہ وہ سارے سابقہ حکمران بھی ہیں ان شاءاللہ کل روز قیامت اقبال و قائد کا ہاتھ ہوگا اور ان کے گریبان کیونکہ ان کو بنا بنایا پاکستان ملا ہے ناکہ اقبال و قائد کی طرح محنت کرکے

Sunday, 7 March 2021

انٹرنیشنل وویمن ڈے پر نظر انداز عورتیں ہی کیوں؟ از قلم غنی محمود قصوری





کوپن ہیگن میں 1910 میں عالمی خواتین کانگرنس منعقد کی گئی اور پھر 8 مارچ 1913 کو پوری یورپ میں عورتوں نے حقوقِ نسواں کے لئے ریلیاں نکالیں اور عورت کے حقوق کا مطالبہ کیا جس کا مقصد عورت کو مار پیٹ اور جنسی زیادتی سے بچانا تھا تب سے پوری دنیا میں عالمی یوم خواتین منایا جا رہا ہے اور ایک بار پھر  پوری دنیا میں انٹرنیشنل وویمن ڈے منایا جا رہا ہے جس میں عورت کے حقوق کا رونا رویا جائے گا حالانکہ دنیا اچھی طرح سے جانتی ہے کہ اسلام نے عورت کو مکمل حقوق دیئے بلکہ جنت کو عورت (ماں) کے قدموں تلے رکھا عورت (بیٹی) کو باعث رحمت بنایا اور فرمایا کہ جس نے دو بچیوں کی خوب اچھی طرح پرورش کی اور ان کی آسائشوں کا خیال کرکے ان کی شادی کر دی وہ جنت پائے گا 


مگر آج عالمی حقوق کی ٹھیکیدار نام نہاد خواتین جن کو خواتین بھی کہتے ہوئے شرم آتی ہے وہ میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگائیں گیں اور پوری دنیا کو پیغام دینگی کہ معاذاللہ اسلام عورت پر تنگی کرتا ہے 

وہ عورتوں کے حقوقِ کی ٹھیکیدار عورتوں کی آواز تو بنتی ہیں مگر اپنے مفاد کی خاطر اگر ان کو عورت کا مفاد عزیز ہوتا تو آج وہ کشمیری،فلسطینی،شامی،روہنگیا کی مظلوم مسلمان عورتوں کے لئے بھی آواز بلند کرتیں 

واضع رہے کہ پوری دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ عورت پر سب سے زیادہ ظلم و جبر انڈیا میں ہوتا ہے جہاں تقریبآ ہر عورت اپنے خاوند کے ساتھ کھیتوں کھلیانوں میں کام کاج کرنے کے علاوہ اپنا و اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کرتی ہے اگر یقین نہیں تو دہلی،ممبئی کی سڑکوں پر بکتی عورتوں کو دیکھ لیں انڈیا میں عورت کو اپنے گھر میں آج بھی ٹوائلٹ تک میسر نہیں وہ اگر ٹوائلٹ جاتی ہے تو سڑک کنارے یا پھر کھیتوں کھلیانوں میں 

انڈیا میں اوسطاً 92 عورتوں کے ساتھ روزانہ جنسی زیادتی کی جاتی ہے اور ان میں زیادہ تر تعداد دلت یعنی نچلی ذات کی عورتوں کی ہوتی ہے 

اور  تو اور انڈیا میں چلتی ٹرین و بس تک میں عورت کے ساتھ ریپ کیا جا چکا ہے 

آج وہی انڈین گورنمنٹ اپنی انڈین عورتوں کیساتھ کشمیریوں عورتوں کے حقوق پر 1947 سے اور خاص کر 5 آگست 2019 سے شب و خون مارے ہوئے ہے  واضع رہے کہ 1989 سے تحریک آزادی کی مسلح تحریک شروع ہونے تک انڈین فوج کی جانب سے 11500 عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور 2250 عورتوں کو شہید کیا جا چکا ہے نیز ان عورتوں کو انہی کے ملک و  گھروں میں پابند سلاسل کیا گیا ہے جبکہ بزرگ حریت خاتون 59 سالہ آسیہ اندرابی کو بھی کہ جن کی زندگی کا بیشتر حصہ انڈین جیلوں میں گزرا وہ آج بھی انڈین گورنمنٹ کی زیر حراست ہیں

 کیا مجال جو کسی عورت مارچ مارچ اور  حقوق نسواں کی ٹھیکیدار نے آواز بلند کی ہو کہ اس بوڑھی عورت کو رہا کیا جائے

 انڈیا نے آرٹیکل 370 ختم کر دیا جس سے کشمیری عورتوں کی آزادی بھی چلی گئی مگر کیا مجال کہ کسی کا منہ پھٹا ہو کہ نہیں یہ تو ان عورتوں پر ظلم ہے 

ان حقوقِ نسواں کی نام نہاد عورتوں کو اگر عورت مظلوم نظر آئے گی تو پاکستان میں کہ جہاں عورت اپنی پوری عزت و آبرو سے پرورش پا کر وزیراعظم تک بن چکی جہاں عورت پائلٹ تک بن چکی جہاں عورت فوج میں میجر جنرل تک بن گئی جہاں آج بھی بیٹے جاتے وقت عورت (ماں) سے سر پر ہاتھ پھرواتے ہیں کیونکہ یہ عورت اللہ کے زیادہ قریب ہے تاکہ اس کی دعا لے کر اللہ کا قرب حاصل کیا جس سکے 

مگر ان نام نہاد حقوقِ نسواں کی ٹھیکیدار عورتوں کا سارا زور عورت کے ڈوپتہ اتروانے پر ہے تاکہ فسق و فجور کو عام جا سکے  

میں کہتا ہوں اگر یہ نام نہاد عورتیں حقوقِ نسواں کی اصلی علمبردار ہیں تو کشمیری عورتوں کو انصاف دلوائیں 1948 سے یہودی کے قبضے میں ظلم کی چکی میں پسنے والی فلسطینی ،بدھ مت کے ظلم سے تنگ روہنگیائی اور شام میں جنگ سے جلتی مرتی عورت اور افغانستان میں امریکی فوج سے روزانہ مرنے والی عورت بھی عورت حالانکہ اسی امریکہ سے 1908 میں حقوق نسواں کے لئے پہلا وویمن نیشنل کمیشن بنا تھا   آج وہی امریکہ پوری دنیا کی عورتوں کا جنسی استحصال کر رہا ہے تو یہ لال لال والیاں امریکہ کو کیوں نہیں کہتی کچھ ؟ کیوں امریکہ و انڈیا کے جنگی جرائم جرائم پر خاموش ہیں؟

کیا ان عورتوں کو عورت کے  سالن گرم کرنے،کپڑے سلائے کرنے اور چھوٹے موٹے گھریلوں کاموں پر ہی اعتراض ہے ؟

یہ عورت مارچ کرنے والیاں عورتوں کو ہی کیوں نظر انداز کرتی ہیں کیا وہ عورتیں نہیں؟؟