Sunday, 26 February 2023

پلوامہ کی ناکامی سرپرائز پہ ختم ازقلم غنی محمود قصوری

 



یوں تو دنیا بھر میں ارض پاک پاکستان کے کئی دشمن ہیں مگر سب سے گھٹیا اور منافق دشمن ہندوستان ہے

ہندوستان میں اگر مکھی بھی مر جائے تو اس کا الزام پاکستان پہ لگایا جاتا ہے


14 فروری 2019 کی صبح ہندوستان کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں لیت پورہ ہائی وے پر سی آر پی ایف کے اہلکاروں کی ایک بس پہ خود کش حملہ ہوا جس میں چالیس سے زیادہ اہلکار ہلاک ہو گئے ( درحقیقت 90 سے زیادہ تھے)

خود کش کار سوار 19 سالہ عادل احمد ڈار مقامی کشمیری تھا جس نے ہندوستانی فوج پہ حملہ کرکے اس کی سیکیورٹی کا بھانڈا پھوڑا تھا اور ہندوستان کو پیغام دیا کہ کشمیری قوم کے لئے آزادی سے کم کچھ بھی قبول نہیں

اس کانوائے میں 2500 فوجی 78 بسوں پہ سوار تھے جو جموں سے سری نگر جا رہے تھے

اس خودکش حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی  جو کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑنے والی ایک جہادی جماعت ہے


ہر بار کی طرح اس بار بھی ہندوستان نے الزام پاکستان پہ لگایا اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں

پلوامہ حملے کے بعد ہندو تنظیمیں پاکستان کے خلاف متحرک ہوئیں اور اپنی فوج کی ناکامی پہ پاکستان کے خلاف مظاہرے کئے اور مطالبہ کیا کہ پاکستان کے اندر جا کر سرجیکل سٹرائیک کیا جائے 

اپنی عزت رکھنے کی خاطر انڈین ائیر فورس نے 26 فروری 2019 کی درمیانی شب  ہندوستانی ائیر فورس کے جنگی طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستانی طیاروں کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں جلد بازی میں اپنا،پے لوڈ‘ گرا کر واپس جانے پر مجبور ہو گئے 

پے لوڈ ایل او سی کے قریب ایک مقام پر گرا اور اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے دعوی کر دیا کہ پاکستان میں جیش محمد کے کیمپ پہ حملے کرکے 350 افراد کو ہلاک کیا گیا ہے

اس بیان سے ساری دنیا میں ہل چل مچ گئی

پوری دنیا کے پریس نمائندے جائے وقوعہ پہ پہنچے تو پتہ چلا کہ رات بھارت مہان کے مہان پائلٹوں نے پاکستانی طیاروں کے اڑان بھرتے ہی اپنی سپیڈ بڑھانے کے لئے طیاروں کے ساتھ بندھا پے لوڈ گرایا ہے تاکہ طیاروں کی سپیڈ پہ فرق نا پڑے اور بھاگنے میں آسانی رہے

 ( پے لوڈ,اضافی بوجھ سے جہاز کی سپیڈ میں کمی ہوتی ہے)

پے لوڈ گرنے سے کچھ درخت گرے اور زمین میں گہرا گڑھا پڑ گیا

ساری دنیا کے صحافیوں نے ایل او سی کے قریب کا علاقہ چھان مارا مگر ہندوستانی دعویٰ بے بنیاد ہی ٹھہرا اور یوں پلوامہ حملے کے بعد ایک بار پھر ہندوستان کو ذلت ہی ملی


27 فروری کو پاکستانی گورنمنٹ و فوج نے ہندوستان کو بتایا کہ سرجیکل سٹرائیک کیسے کیا جاتا ہے 

پاکستانی طیاروں نے دن کی روشنی میں ہندوستانی علاقے میں جا کر دو بھارتی طیارے گرائے جن میں سے ایک ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں گرا تو ایک پاکستانی حدود میں جس کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا گیا

بھارتی پائلٹ کو عسکری اداروں کے پہنچنے سے پہلے ہی کشمیری لوگوں نے خوب مارا پیٹا جو کہ ایک پیغام تھا کہ ہندو پلید تم ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں سامنہ کرو یا پاکستانی کشمیر میں تمہارا علاج مار ہی ہے 

واضع رہے کہ 1971 کے بعد دونوں ملکوں نے پہلی بار ایک دوسرے کی فضائی سرحدوں کو روندا جس کی پہل ہندوستان نے کی اور اپنی پلوامہ میں ناکامی پہ سرجیکل سٹرائیک کا نعرہ لگا کر مذید ذلت اٹھائی

پاکستانی قوم 27 فروری کو سرپرائز ڈے کے طور پہ یاد رکھتی ہے 

Tuesday, 21 February 2023

کس سے نجات پہلے ضروری ہے؟؟؟ ازقلم غنی محمود قصوری




ارض پاک پاکستان کو بنے تقریباً 75 سال ہو چکے

اس ملک کو بنانے کا مقصد ایک آزاد خودمختار ریاست تھا جو کہ صرف اور صرف قرآن و حدیث کے تابع ہونی تھی مگر افسوس صد افسوس کہ اتنے برس گزرنے کے بعد بھی غلبہ جہالت و ظلم کا ہے جو کہ قیام پاکستان سے قبل بھی تھا

یعنی وہ مقصد حاصل نا ہوس سکا جس کی ضرروت تھی

کہیں مہنگائی و بے روزگاری نے مار رکھا ہے تو کہیں وڈیرے جاگیر دار لوگوں کو جانوروں کی طرح مار رہے ہیں گزشتہ دن 

بلوچستان میں کنوئیں سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جن کا قاتل صوبائی وزیر سردار کھیتران تاحال آزاد گھوم رہا ہے اور یقیناً وہ آزاد ہی گھومے گا کیونکہ ریاست میں قانون تو ہے مگر ماڑے کے لئے تگڑے کے لئے قانون بہت کمزور ہے 

بلوچستان کے ضلع بارکھان میں کنوئیں سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں 

وڈیروں کے ٹکڑوں پہ پلنے والی پولیس فوری حرکت میں ائی کیونکہ نوکری بھی تو کرنی ہے 

کبھی سرکار کی تو کبھی سردار کی 

 پولیس نے بتایا کہ تینوں مقتولین کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا جبکہ مقتولہ خاتون کے چہرے پر تیزاب ڈال کر اسے مسخ کیا گیا ہے

 لاشیں شناخت کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان منتقل کی گئیں جہاں خاتون سمیت تینوں لاشوں کی شناخت ہوگئی 

  لاشیں خان محمد مری نامی شخص کی اہلیہ اور دو بیٹوں کی ہیں جو کہ صوبائی وزیر سردار کھیتران کی نجی جیل میں قید تھے 

 مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مزید پانچ افراد صوبائی وزیر کی نجی جیل میں تا حال قید ہیں 


چند دن قبل

مقتولہ خاتون نے قرآن ہاتھ میں پکڑ کر اپنی فریاد جاری کی تھی جو کہ سوشل میڈیا پہ وائرل بھی ہوئی صاحب اختیار لوگوں تک پہنچی بھی 

اس مظلوم عورت کی فریاد تھی کہ اس کی بیٹی اور اس کے ساتھ روزانہ زنا کیا جاتا ہے تاہم پھر بھی کسی کے کان پہ جو تک نا 

رینگی

واضع رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی سینکڑوں ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں مگر ان سرداروں وڈیروں کو کوئی لگام نہیں ڈالی جا سکی اور شاید ڈالی بھی نا جا سکے گی کیونکہ یہ جمہوریت ہے اور جمہوریت میں فیصلے جمہور دیکھ کر کئے جاتے ہیں ناکہ انسانی منشور دیکھ کر 

افسوس کہ قوم کو مہنگائی نے اس قدر مار دیا کہ غریب اب سانسیں بھی مشکل سے ہی لے سکتا ہے مگر اس سے بھی بڑا افسوس کہ مغلوب عوام کو جب جی چاہتا ہے جیسے مرضی قتل کر دیا جاتا ہے اور ظالم کا ہاتھ روکنا تو دور کی بات اس کے خلاف آواز بلند کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ انصاف کی عدم دستیابی ہے

اس قوم کو روزی روٹی میں اس قدر مگن و مجبور کر دیا گیا کہ کوئی لبوں پہ حرف شکایت نا لائے اور جو لائے وہ زندہ نا رہنے پائے

جمہوری مفاد کی خاطر لوگوں کو مہنگائی کے خلاف سڑکوں پہ انے کی اور دنگے فساد کی ترغیب دی جاتی ہے جو کہ سراسر غلط ہے

مگر اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف اٹھنے کی ترغیب بلکل نہیں دی جاتی کیونکہ وہ جانتے ہیں جو آج کسی دوسرے کے خلاف اٹھ گئے کل وہ ہمارے خلاف بھی الم بغاوت بلند کریں گے 

اسی ڈر سے وہ لوگوں کو غیر ضروری کاموں میں الجھا کر مہنگائی کے خلاف سڑکوں پہ آنے کو جہاد قرار دیتے ہیں حالانکہ قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ


مسلمانو ! جو لوگ قتل کر دیے جائیں ان کے لیے تمہیں قصاص (یعنی بدلہ لینے کا حکم دیا جاتا ہے۔ (لیکن بدلہ لینے میں انسان دوسرے انسان کے برابر ہے) اگر آزاد آدمی نے آزاد آدمی کو قتل کیا ہے تو اس کے بدلے وہی قتل کیا جائے گا (یہ نہیں ہوسکتا کہ مقتول کی بڑائی یا نسل کے شرف کی وجہ سے دو آدمی قتل کیے جائیں جیسا کہ عرب جاہلیت میں دستور تھا) اگر غلام قاتل ہے تو غلام ہی قتل کیا جائے گا ( یہ نہیں ہوسکتا کہ مقتول کے آزاد ہونے کی وجہ سے دو غلام قتل کیے جائیں) عورت نے قتل کیا ہے تو عورت ہی قتل کی جائے گی اور پھر اگر ایسا ہو کہ کسی قاتل کو مقتول کے وارث سے کہ (رشتہ انسانی میں) اس کا بھائی ہے معافی مل جائے (اور قتل کی جگہ خوں بہا لینے پر راضی ہو جائے) تو (خوں بہا لے کر چھوڑ دیا جا سکتا ہے) اور ( اس صورت میں) مقتول کے وارث کے لیے دستور کے مطابق (خوں بہا کا) مطالبہ ہے اور قاتل کے لیے خوش معاملگی کے ساتھ ادا کر دینا۔ اور دیکھو یہ ( جو قصاص کے معاملہ کو تمام زیادتیوں سے پاک کرکے عدل و مساوات کی اصل پر قائم کر دیا گیا ہے تو یہ) تو تمہارے پروردگار کی طرف جرف سے تمہارے لیے سختیوں کا کم کر دینا اور رحمت کا فیضان ہوا۔ اب اس کے بعد جو کوئی زیادتی کرے گا تو یقین کرو وہ (اللہ کے حضور) عذاب درد ناک کا سزاوار ہو گا


قتل کے بدلے قتل اور خون بہا لے کر معافی بھی ہے

مگر سب خاموش کوئی نہیں کہتا مظلوموں کو کہ اٹھو اپنی آنے والی نسلوں کے لئے نکلوں ہتھیار پکڑو ظالموں کو مارو اور اگر وہ ڈر کر معافی مانگ کر خون بہا دے دیں تو اسے معاف کرو پیسہ لے کر تاکہ آگے اسے اسے پتہ ہو خون اتنا سستا نہیں مگر افسوس کون ہے جو بتائے گا؟

کون ہے جو راستہ دکھائے گا کیونکہ اب تو راستے بغیر مفاد نہیں دکھائے جاتے

Sunday, 12 February 2023

انقلاب کیلئے اپنی ہی عوام کی قاتل فوج ازقلم غنی محمود قصوری

 




آج  پاکستان کے لئے بطور خاص ایک پراپیگنڈا مہم لانچ کی گئی ہے جس میں یہ پراپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے جا رہا ہے

پاکستانی فوج اپنوں پہ ظلم کرتی ہے جب جی چاہتا  فوج کسی کو بھی مار دیتی ہے 

یہ ملک فوجستان ہے جرنیلستان ہے وغیرہ وغیرہ


اس مہم کا حصہ اپنے بھی ہیں اور بیگانے بھی

کچھ لاعلمی میں اس مہم کا حصہ بن رہے ہیں تو کچھ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر

حالانکہ دنیا جانتی ہے اس فوج میں رنگ و نسل ،لسانیت،صوبائیت اور فرقہ واریت کا کردار نہیں

اس فوج میں شیعہ بھی ہے سنی بھی دیوبندی بھی ہے اور وہابی بھی

تمام مسالک کے سپاہی بھی ہیں اور جرنیل بھی 

ملک میں جاری دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اس لئے نہیں کہ وہ کسی خاص گروہ یاں مسلک کے ہیں بلکہ اس لئے ہے کہ وہ لوگ اسلام کے نام پہ اپنوں کو ہی خودکش حملوں میں شہید کرتے ہیں اور اس کو اسلام کا نام دیتے ہیں

مارتے بھی اپنوں کو ہی ہیں اور خود کو حق پہ بھی کہتے ہیں

ان کی بیخ کنی کیلئے پاکستانی فوج کو ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کرنی پڑتی ہیں تب انہی کے حمایتی شور ڈالتے ہیں کہ یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے

کتنی منافقانہ بات ہے کہ فوج تو اپنے ملک کے اندورنی و بیرونی دفاع کو مدنظر رکھ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کرتی ہے مگر یہ دہشت گرد کس ضمن میں اپنے ہی مسلمان بہنوں بھائیوں کو مسجدوں مزاروں میں خودکش حملے کرکے شہید کرتے ہیں؟

اسلام تو کہتا ہے کہ جس نے کسی ایک جان کو ناحق قتل کیا تو گویا اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا حدیث کے الفاظ ہیں انسان یعنی غور کریں تو پتہ چلتا کے مسلمان تو دور کسی کافر کو بھی ناحق قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے

ہاں قتل کے بدلے قتل جائز ہے اور یہ سب جانتے ہیں اس کی دلیل رد خوارج کی احادیث ہیں 


حقیقت پہ مبنی دہشت گرد فوجیں کیسی ہوتی ہیں اور ان کا رویہ اپنوں کے خلاف کیا ہوتا ہے یہ میں آپکو دلیل  کیساتھ دکھاتا ہوں


یہ ارض شام ہے سر زمین انبیاء

اسے انگلش میں Syria عربی میں السوریہ کہتے ہیں اس کا دارالحکومت دمشق ہے

اس کی کل آبادی میں 74 فیصد سنی مسلمان 13 فیصد شیعہ 10 فیصد عیسائی اور 3 فیصد دروز اباد ہیں


اس ملک کا فوجی ڈکٹیٹر حافظ الاسد 1971 کو صدر بنا اور اس نے اپنی پارٹی اے ایس بی پی ( عرب سوشلسٹ باٹھ پارٹی) کے لئے قانون کو سخت کیا 

واضع رہے کہ اس پارٹی کا منشور سوشلزم کو عام کرنا ہے جسے شامی مسلمان لوگ نہیں مانتے اور وہ کہتے ہیں ہم اسلام پہ جان دے دینگے مگر شوشلزم کو نہیں مانیں گے

سوشلزم کے اس  منشور کو نافذ کرنے کیلئے حافظ الاسد ( موجودہ صدر بشار الاسد کے باپ)  نے 1982 میں شامی شہر حما کا محاصرہ کر لیا جو کہ 27 دن جاری رہا

اس محاصرے کے دوران شامی سرکاری فوج نے ٹیلی فون، ٹیلی ویژن اور بجلی کاٹ دی اور اپنے ہی لوگوں پہ بمباری کی ایک کریہہ مثال قائم کر دی

 حتی کہ فوجی پیدل دستے شہر میں ایسے داخل کئے جیسے کسی دشمن علاقے کو فتح کیا جاتا ہے

شامی فوجیوں نے 27 دنوں میں 40000 شامیوں کو سرعام قتل کیا

اجتماعی پھانسیاں دی گئیں اور اسی محاصرے کے دوران آج دن تک لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد 15000 ہے

اس محاصرے میں 1 لاکھ سے زائد شامی باشندوں کو گرفتار کیا گیا تھا جو کہ بیشتر جیلوں میں ہی چل بسے

اس فوجی دستے کی قیادت حافظ الاسد کے بھائی رفعت نے کی تھی اور اس محاصرے میں 12000 شامی فوجیوں نے حصہ لیا تھا

شامی فوج کی جانے سے کئے جانے والی تباہ کن بمباری سے 

شہر کا 80 فیصد حصہ تباہ ہو گیا تھا اور 63 مساجد و 4 چرچ مکمل طور پہ زد میں آئے تھے

یہی نہیں حافظ الاسد کے بیٹے بشارالاسد نے 1988 کو بطور فیلڈ مارشل ملک کا نظام سنبھالا اور اسی منشور کو لانے کے لئے اپنوں پہ ہی ظلم کی لازوال داستان رقم کرنا شروع کی 

حتی کہ 2011 میں خانہ جنگی چھڑ گئی جس سے آج تک 5 لاکھ کے قریب شامی مسلمان شہید ہو چکے ہیں اور لاکھوں شمالی باشندے ترکی سمیت دیگر ممالک میں پناہ گزیں ہیں

جہاں دنیا کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے وہاں آج ملک شام کی آبادی گھٹ رہی ہے

جہاں دنیا میں بڑی تیزی سے اونچی اونچی بلڈنگیں بن رہی ہیں وہاں آج بنی بلڈنگیں بھی گر رہی ہیں اور لوگ پتھر کے دور کی طرح پھٹے پرانے کپڑوں کے خیموں میں زندگیاں بسر ک رہے ہیں

مگر آپ نے اگر صبر و شکر دیکھنا ہے تو ان شامی بستیوں میں جا کر دیکھیں ان کے لبوں پہ حرف شکایت نا ہو گا بلکہ وہ سربسجود ہوتے ہوئے رب کا شکر ہی ادا کرینگے جب کہ اس کے برعکس مملکت خداداد پاکستان میں ناشکری بہت بڑھ گئی المیہ یہ بن چکا کہ اپنی من پسند گورنمنٹ میں مہنگائی کا دفاع کیا جاتا ہے اور من پسند گورنمنٹ جاتے ہی مہنگائی کے خلاف احتجاج 

اب  تو احتجاج بھی مسلح ہونے لگے ہیں

پاکستانیوں دہشت گرد فوج اور حکومتیں دیکھنی ہو تو ایک بار شام کو لازم دیکھنا