پلوامہ کی ناکامی سرپرائز پہ ختم ازقلم غنی محمود قصوری
یوں تو دنیا بھر میں ارض پاک پاکستان کے کئی دشمن ہیں مگر سب سے گھٹیا اور منافق دشمن ہندوستان ہے
ہندوستان میں اگر مکھی بھی مر جائے تو اس کا الزام پاکستان پہ لگایا جاتا ہے
14 فروری 2019 کی صبح ہندوستان کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں لیت پورہ ہائی وے پر سی آر پی ایف کے اہلکاروں کی ایک بس پہ خود کش حملہ ہوا جس میں چالیس سے زیادہ اہلکار ہلاک ہو گئے ( درحقیقت 90 سے زیادہ تھے)
خود کش کار سوار 19 سالہ عادل احمد ڈار مقامی کشمیری تھا جس نے ہندوستانی فوج پہ حملہ کرکے اس کی سیکیورٹی کا بھانڈا پھوڑا تھا اور ہندوستان کو پیغام دیا کہ کشمیری قوم کے لئے آزادی سے کم کچھ بھی قبول نہیں
اس کانوائے میں 2500 فوجی 78 بسوں پہ سوار تھے جو جموں سے سری نگر جا رہے تھے
اس خودکش حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی جو کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑنے والی ایک جہادی جماعت ہے
ہر بار کی طرح اس بار بھی ہندوستان نے الزام پاکستان پہ لگایا اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں
پلوامہ حملے کے بعد ہندو تنظیمیں پاکستان کے خلاف متحرک ہوئیں اور اپنی فوج کی ناکامی پہ پاکستان کے خلاف مظاہرے کئے اور مطالبہ کیا کہ پاکستان کے اندر جا کر سرجیکل سٹرائیک کیا جائے
اپنی عزت رکھنے کی خاطر انڈین ائیر فورس نے 26 فروری 2019 کی درمیانی شب ہندوستانی ائیر فورس کے جنگی طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستانی طیاروں کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں جلد بازی میں اپنا،پے لوڈ‘ گرا کر واپس جانے پر مجبور ہو گئے
پے لوڈ ایل او سی کے قریب ایک مقام پر گرا اور اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے دعوی کر دیا کہ پاکستان میں جیش محمد کے کیمپ پہ حملے کرکے 350 افراد کو ہلاک کیا گیا ہے
اس بیان سے ساری دنیا میں ہل چل مچ گئی
پوری دنیا کے پریس نمائندے جائے وقوعہ پہ پہنچے تو پتہ چلا کہ رات بھارت مہان کے مہان پائلٹوں نے پاکستانی طیاروں کے اڑان بھرتے ہی اپنی سپیڈ بڑھانے کے لئے طیاروں کے ساتھ بندھا پے لوڈ گرایا ہے تاکہ طیاروں کی سپیڈ پہ فرق نا پڑے اور بھاگنے میں آسانی رہے
( پے لوڈ,اضافی بوجھ سے جہاز کی سپیڈ میں کمی ہوتی ہے)
پے لوڈ گرنے سے کچھ درخت گرے اور زمین میں گہرا گڑھا پڑ گیا
ساری دنیا کے صحافیوں نے ایل او سی کے قریب کا علاقہ چھان مارا مگر ہندوستانی دعویٰ بے بنیاد ہی ٹھہرا اور یوں پلوامہ حملے کے بعد ایک بار پھر ہندوستان کو ذلت ہی ملی
27 فروری کو پاکستانی گورنمنٹ و فوج نے ہندوستان کو بتایا کہ سرجیکل سٹرائیک کیسے کیا جاتا ہے
پاکستانی طیاروں نے دن کی روشنی میں ہندوستانی علاقے میں جا کر دو بھارتی طیارے گرائے جن میں سے ایک ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں گرا تو ایک پاکستانی حدود میں جس کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا گیا
بھارتی پائلٹ کو عسکری اداروں کے پہنچنے سے پہلے ہی کشمیری لوگوں نے خوب مارا پیٹا جو کہ ایک پیغام تھا کہ ہندو پلید تم ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں سامنہ کرو یا پاکستانی کشمیر میں تمہارا علاج مار ہی ہے
واضع رہے کہ 1971 کے بعد دونوں ملکوں نے پہلی بار ایک دوسرے کی فضائی سرحدوں کو روندا جس کی پہل ہندوستان نے کی اور اپنی پلوامہ میں ناکامی پہ سرجیکل سٹرائیک کا نعرہ لگا کر مذید ذلت اٹھائی
پاکستانی قوم 27 فروری کو سرپرائز ڈے کے طور پہ یاد رکھتی ہے
.jpg)
.jpg)
.jpg)

