Sunday, 31 December 2023

ہماری بربادی کے اسباب از قلم غنی محمود قصوری





اللہ رب العزت نے ہمیں اشرف المخلوقات تو پیدا فرمایا ہی ہے مگر اس کیساتھ ہمیں اشرف الاخلاق،اشرف الجذبات بھی بنایا ہے تاکہ ہم پورے کے پورے دین اسلام کے پیروکار بنیں

دیکھا جائے تو آج ہمارے پاس دنیا کی ہر نعمت موجود ہے حتی کہ آپ گاؤں دیہات میں نظر دوڑائیں تو دنیا کی تمام نعمتیں گاؤں دیہات تک پہنچی ہوئی ہے اگر آپ برگز پیزہ بھی گاؤں دیہات سے کھانا چاہے تو مشکل نہیں بہت سے گاؤں دیہات میں وہ بھی ملے گا اگر آپ مہنگی گاڑیاں اور مہنگے ترین مکانات بھی دیکھیں تو بھی یہ سب گاؤں دیہات میں موجود ہے جبکہ اس برعکس شہروں کی عکاسی آپ خود بخوبی کر سکتے ہیں

آج پیسہ اور علم عام ہے مگر اس کے باوجود ہر انسان پریشان ہے

باجود پیسے کے برکت کم ہے اور باوجود علم کے عمل کم ہے اس بارے کبھی ہم نے سوچا کہ آخر ایسا کیوں ہے ہمارے ساتھ ؟

اس کی سب سے بڑی وجہ ناشکری اور ناقدری ہے 

آج جہاں ہمارے ہاں ناشکری ہے وہاں نعمتوں کی ناقدری بھی بہت ہے خاص کر علماء کرام کی ناقدری اور ان کی ناشکری ہے


حضرت ابوہریرہ  رضی اللہُ عنہ  سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا 

 لَايَشْكُرُ اللہَ مَنْ لَايَشْكُرُ النَّاس 

جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا


واضع رہے کہ اسلام میں فرقہ پرستی نہیں ہے اس لئے ہمیں فرقہ پرستی سے بچ کر قرآن و حدیث کا ہی پیروکار بننا چائیے اور ہر مسلک کے علماء کرام کی عزت و تکریم کرنی چائیے

چاہے عالم دین کسی بھی مسلک سے ہو اس کی بات اچھی لگے یاں بری اس کی عزت و تکریم عام انسان سے بڑھ کر ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق کسی کو کسی پہ فوقیت حاصل نہیں ماسوائے تقوی کے

 جس کا تقوی اور رب سے تعلق زیادہ ہو گا اس کی عزت و تکریم بھی زیادہ ہو گی


علمائے کرام کی تضحیک کرنا بہت بڑا گناہ ہے

 مُسند احمد و طبرانی کی کتب احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے، ہمارے بچوں پر رحم نہ کرے اور آگے الفاظ ہیں کہ  وَیَعْرِفُ لِعَالِمِنَا حَقَّہ

 یعنی جو ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری اُمت میں سے نہیں ہے


حدیث پہ غور کریں تو احساس ہو گا آج ہم کس قدر اہل علم لوگوں بےقدری کر رہے ہیں خاص کر اپنے محلے کی مسجد کے امام صاحب کو ہر دکھ اذیت دینا ہم اپنا حق سمجھتے ہیں


ہمارے معاشرے میں اپنی ذاتی خوشیوں کی خاطر ایک متوسط اور غریب شحض بھی ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتا ہے مگر خوشنودی اسلام اور محبت دین میں علماء پہ چند سو روپیہ بھی لگانے سے کتراتا ہے

میں نے اپنی ان گناہگار آنکھوں سے دیکھا کہ چند دن قبل گاؤں کی مسجد کا ایک امام صاحب مسجد کے صدر کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا کہ حضور مجھے مت نکالئے مسجد سے میرے بچے بھوکے مر جائیں گے مہنگائی بہت ہے میں کہاں جاؤں گا انہیں لے کر لہٰذہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں آج سے نماز سے پہلے مسجد میں آ جایا کرونگا اور چھٹی نہیں کرونگا


جی ہاں قسم رب کی یہ منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا

اس امام صاحب کی ایک چھوٹی سی غلطی پہ مسجد کے صدر صاحب چیخ رہے تھے کہ جو اس جیسی سینکڑوں غلطیاں اس میں اور اس کی اولاد میں موجود ہیں

مگر یہ کہ یہ امام مسجد اس کا محتاج بنا بیٹھا اور اس امام مسجد کے پاس اپنی طاقت نہیں کہ وہ اچھا سا کام کاروبار کرتا اور پھر اپنی مرضی سے مسجد میں آتا جاتا تاکہ نمازی اس کے انتظار میں رہتے


ہمارے ہاں امام مساجد کی تخواہیں بہت کم ہیں شہروں میں پھر بھی 25 سے 40 ہزار تک ماہوار امام صاحبان کو ملتا ہے تاہم اس دور جدید میں بھی گاؤں دیہات میں امام مسجد صاحبان کو 15 سے 25 ہزار ماہوار دیا جاتا ہے اور اسے پابند بنایا جاتا ہے کہ آپ نے مسجد کی صفائی ستھرائی کیساتھ پانچ وقت کی اذان اور امامت کرنے کیساتھ خطبہ جمعہ و خطبات عیدین بھی فرمانے ہیں

اس مہنگائی کی صورتحال میں یہ پیسے بہت کم ہیں اوپر سے ستم ضریفی یہ کہ گاؤں دیہات کے امام صاحبان کو فصلوں کے پکنے پہ فصل یاں پیسے دیئے جاتے ہیں باقی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی کہ باقی دنوں وہ بیچارہ کہاں سے کھائے گا اوپر سے جس شحض کا کہیں بس نہیں چلتا اس کا رعب مسجد کے مولوی پہ چلتا ہے

صاحبان اللہ کے نبی کی حدیث کی حدیث ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور یہ علماء وہ ہیں کہ اللہ کے بعد جن کے وعظ و نصیحت سے نمازی،حاجی،مجاھد، مبلغ پروان چڑھتے ہیں

سو اللہ کی رضا کی خاطر ان پہ رحم کریں ان کے کھانے پینے اور ان کی رہائش کا خاص اہتمام کریں کیونکہ نبیوں کے ان وارثان سے محبت کرکے ہم رب کی زیادہ خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں

ہمارے ہاں کچھ علماء کرام بڑے صاحب حیثیت بھی ہوتے ہیں خدارا ان کو دیکھ کر مالی طور پہ کمزور علماء کو نظر انداز نا کیجئے کیونکہ معاشرے کا یہ واحد طبقہ ہے جو اپنے ساتھ ہوتی ناانصافی پہ احتجاج نہیں کرتا اور نا ہی اپنے فرائض سے بائیکاٹ کرتا ہے وگرنہ دیکھ لیجئے ہر شعبہ زندگی کے چھوٹے سے بڑے لوگوں نے اپنی یونین بنائی ہوئی ہے اور اپنے مطالبے کی خاطر اپنے شعبے کا بائیکاٹ کرکے اپنی بات منوا لیتے ہیں مگر شاید ہی آپ نے کبھی سنا ہو گا کہ کسی عالم دین نے احتجاج کرتے ہوئے نماز پڑھانے سے انکار کر دیا ہے

Sunday, 24 December 2023

معرکہ سرنکوٹ کے الزام میں شہید ہونے والے غلام از قلم غنی محمود قصوری

 



خودساختہ غلام پاکستانیوں آؤ میں تمہیں غلامی کی ایک جھلک، جذبہ حریت اور آزادی کی خاطر جانیں دینے والے دکھلاتا ہوں

وہ کیسے ہوتے ہیں ان کا جذبہ کیسا ہوتا ہے اور وہ مرتے کیسے ہیں اور کن کے ہاتھوں مرتے ہیں اور مرنے کے بعد ان کے لواحقین کا کردار کیسا ہوتا ہے یہ سب میں آپکو باپروف دکھلانا ہوں ان شاءاللہ 


یہ مقبوضہ کشمیر کا سرحدی ضلع پونچھ ہے جس کے علاقے سرنکوٹ میں واقع انڈین آرمی کی ایک تگڑی چھاؤنی ہے جہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا 

مگر جمعرات کی دوپہر چند آزادی پسند مجاھدین سرنکوٹ کی چھاؤنی میں جا گھستے ہیں اور خوب دھماکے کرتے ہیں رب کے فرمان کے مطابق اپنے مقبوضہ علاقے چھڑوانے کیلئے انتقام لیتے ہیں انڈین آرمی کی چھاؤنی پہ حملہ کرکے


 ان دھماکوں میں کئی انڈین فوجی ہلاک و زخمی ہوئے تاہم انڈین دیش بھگت میڈیا نے صرف چھاؤنی میں آتنک وادیوں کے گھسنے اور ان کی طرف سے انڈین چھاؤنی میں دھماکے کرنے کی خبر نشر کی باقی سب چھپا گئے

 کتنے انڈین فوجی مردار ہوئے اور کتنے زخمی انڈین میڈیا یہ بات چھپا گیا کیونکہ ان کو پتہ ہے اپنی عوام اور افواج کا مورال کیسے اونچا رکھنا ہے 

یہ کوئی نئی بات نہیں آپ انڈین میڈیا کا کردار ایسا ہی دیکھیں گے جو خبر ان کے ملک کے خلاف ہے وہ خبر میڈیا پہ آپکو بہت کم ملے گی اور جو خبر پاکستان کے خلاف ہے دن رات وہ خبر انڈین میڈیا کی زینت بنی رہے گی کیونکہ وہ اپنے ہندو دھرم کا علم رکھتے ہیں اور اس دھرم میں مسلمان اچھوت ہیں اور اچھوت کے خلاف ان کی طرف سے جہاد کرنا لازم ہے سو انڈین فوجی مسلمان کے خلاف گولی اور صحافی خبر سے جہاد کرتا ہے

سرنکوٹ چھاؤنی میں دھماکوں کے بعد انڈین فوج پورے علاقے کو گھیرے میں لیتی ہے اور چھاؤنی میں دھماکے کرنے والوں کے لواحقین کے گرد گھیرا تنگ کرکے ان کو پکڑتی ہے کہ بتلاؤ آتنک وادی کہاں ہیں اور تمہارا ان کیساتھ کیسا رابطہ ہے

ان پکڑے جانے والوں میں سرنکوٹ ضلع پونچھ مقبوضہ کشمیر کے ڈیرہ کی گلی ٹوپی گاؤں کے تین مسلمان بھی شامل ہیں جن میں 43 سالہ سفیر حیسن ولد میر حسین،27 سالہ محمد شوکت ولد نزیر حسین،32 سالہ محمد شبیر ولد ولی محمد بھی شامل ہیں جن کو پہلے خوب مارا جاتا ہے 

ان کی پیٹھ پہ مار مار کر زخم کئے جاتے ہیں اور پھر سرخ مرچ چھڑک دی جاتی ہے اور ان سے بار بار ایک ہی سوال کیا جاتا ہے کہ بتاؤں یہ دھماکے کس نے کئے ہیں

ان کو غلیظ ترین گالیوں سے نوازہ جاتا حتی کہ وہ تینوں لوگ تڑپ تڑپ کر جان کی بازی ہار گئے


وہ لوگ شہید ہو گئے ان کے جسد خاکی ان کے گھروں میں لائے گئے تو ان کے لواحقین کو کہا گیا انڈین سرکار کی طرف سے آپکو ان کی موت کے عیوض سرکاری نوکری دی جائے گی اور ہر شہید ہونے والے کے سربراہ کو 30 لاکھ نقد رقم اور ساتھ یہ وعدہ کیا جائے کہ آج سے اپکے خاندان کا کوئی فرد مجاھدین کیساتھ نہیں چلے گا اور اگر مجاھدین کیساتھ چلتا ہوا پایا گیا تو سرکاری نوکری بھی جائے گی اور آپ کی رہائشی و زرعی زمین بھی


واضع رہے کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈین فوج کے خلاف جہاد کرنے والے مجاھدین کی زمینوں پہ قبضہ کر لیا جاتا ہے اور ان کی جگہ ہندوستان سے آئے ناجائز آباد کار ہندوؤں کو بسایا جاتا ہے 

سرنکوٹ معرکے کے الزم میں انڈین فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والوں پہ تشدد کی ویڈیو بطور ثبوت موجود ہے جس میں ان پہ نئے طریقے سے تشدد اور غلیظ گالیوں کو بخوبی سنا اور دیکھا جا سکتا ہے 


آزادی اظہار رائے کا رونا رونے والے پاکستانی صحافیوں،سیاسی کارکنوں،کالم نگاروں،تھینک ٹینکروں اگر انڈیا کی ترقی کی مثالیں دیتے ہو انڈیا کو ترقی یافتہ اور امن و سکون کا گہوارہ ملک قرار دیتے ہو تو جان لو یہ خود ساختہ انڈین امن و امان یہ خود ساختہ ترقی یہ سب خود ساختہ خبریں انڈیا میڈیا دیتا ہے جو مکمل انڈین خفیہ ایجنسی راء کے کنٹرول میں ہے 

میرا آپ سے سوال ہے کیا کبھی آپ نے انڈین راء اور فوج کے خلاف ٹاک شوز دیکھے اور اخبارات میں خبریں پڑھیں اور سوشل میڈیا پہ ان کے خلاف پوسٹیں دیکھیں ؟

کیوں آخر کیوں؟ کیا وجہ ہے ایسا ہونے کی حالانکہ انڈیا کی 36 ریاستوں میں علیحدگی کی مسلح تحریکیں چل رہی ہیں جس کو کچلنے کیلئے انڈین فوج ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے پھر بھی میڈیا انڈین میڈیا فوج اور عوام کا ٹکراؤ نہیں کروانا چاہتا حالانکہ ان کی وزیراعظم اندرا گاندھی سیکیورٹی ادارے کے ہاتھوں مری بلکہ دنیا کی تاریخ میں جس قدر بنگالی فوج نے اپنے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کو فیملی سمیت قتل کیا  اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملے گی بنگالی فوج نے اپنے بانی کی عورتوں اور بچوں کو بھی اسی کے سامنے قتل کیا

جبکہ انڈین فوج نے اپنی ہی فوج کے پنجابی سکھوں کے گھرانوں کا قتل عام کیا جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نا ملے نہیں یقین تو 1984 کی تاریخ پڑھ لیں

اس سب کے باوجود  بھی بنگلہ دیش کا میڈیا فوج اور عوام کو ٹکرانا کیوں نہیں چاہتا 

میں دس سال سے ایک رپورٹر اور کالم نگار ہوں اور بطور پاکستانی شہری میرا بھی یہی سوال ہے کہ آخر کیوں غیر ملکی میڈیا اپنی افواج کی ناکامیوں،غلطیوں کو چھپاتا ہے ؟

کچھ باتیں میری سمجھ میں یہ آتی ہیں کہ اول کہ وہ میڈیا انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہاتھوں بکا ہوا ہے دوئم یہ کہ اپنی فوج اور ایجنسیوں سے ڈرتا ہے سوئم یہ کے اپنی فوج اور اداروں کا مورال اونچا رکھنے کی کوشش کرتا ہے چہارم یہ کہ اداروں کی غلطیوں پہ اس لئے خاموش رہتا ہے کہ کہیں عوام اور اداروں میں ٹکراؤں سے امن و امان برباد نا ہو جائے اور اگر ایسا ہو گیا تو کوئی بیرونی ملک یلغار کر سکتا ہے سو ہزار اچھائیوں پہ ایک آدھ غلطی پہ پردہ ڈالنا ہی بہتر ہے

 اس کے علاوہ کوئی اور بات میری سمجھ سے بالاتر ہے 


آپ بھی سوچئیے اور موازنہ کیجئے اپنے وطن کی آزادی اور ہندوستانی کشمیر کے لوگوں کی آزادی سے اور فیصلہ کریں غلام کون ہے

 وہ لوگ غلام ہیں کہ ہم لوگ خود ساختہ غلام ہیں؟

فیصلہ ضمیر سے کیجئے سیاسی تعلقات کو چھوڑ کر بطور ایک مسلمان کیجئے

Wednesday, 20 December 2023

یہ نصرت الٰہی نہیں تو اور ہے کیا از قلم غنی محمود قصوری

 



7 اکتوبر 2023 سے حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ جاری ہے جس میں دو طرفہ جانی و مالی نقصان ہوا ہے اور تاحال جاری ہے


اس وقت دنیا کے کل 195 اقوام متحدہ کے رکن ممالک ہیں جبکہ دو ملک رکن نہیں جن میں سے ایک ویٹیکن سٹی اور دوسرا فلسطین ہے

جبکہ اسلامی ممالک 57 ہیں


اسرائیل 1948 کو ناجائز ریاست کے طور پہ فلسطینیوں کی زمین پہ دنیا کے نقشے پہ ابھرا 


بظاہر تو یہ دنیا کا ایک چھوٹا سا ملک ہے مگر ٹیکنالوجی و معیشت کے لحاظ سے دنیا کے طاقتور ترین ملکوں میں سے ایک ہے جس کی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے پوری دنیا میں اپنا جال بچھایا ہوا ہے 

اس کی جنگی اسلحہ کی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں بڑی اہم مانی جاتی ہے جس کی بہت دھوم ہے خاص کر اس کا آئرن ڈوم نامی دفاعی نظام بہت مشہور اور مہنگا ہے 


اسرائیلی آرمی دنیا کی پندرہویں بڑی فوج ہے جس کا بجٹ 25 بلین ڈالر ہے 

اسرائیلی فوج میں 1 لاکھ 70 ہزار اہلکار ریگولر جبکہ 4 لاکھ 60 ہزار اہلکار ریزروو ہیں یعنی اسرائیلی فوج کل 6 لاکھ 30 ہزار فوجیوں پہ مشتمل ہے جس نے 1948 سے ابتک 16 جنگیں لڑی ہیں اور 17 ویں جنگ اس وقت حماس کے ساتھ جاری ہے 


اسرائیل کے مدمقابل فلسطینی مزاحمتی جماعت حماس اور اس کی حمایتی جماعتیں ہیں

حماس کی بنیاد 1987 میں شیخ احمد یسین نے اسرائیل کے خلاف پہلے انتقاضہ کے بعد رکھی تھی 

 

اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی موساد کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق غزہ پٹی میں اسوقت حماس و اتحادی جماعتوں کے اہلکاروں کی تعداد 40 ہزار ہے 

حماس نے اسرائیل کے خلاف ابتک 2008,09,2012,2014 اور 2021 کے معرکے لڑے ہیں تاہم 7 اکتوبر 2023 سے ابتک کا معرکہ دنیا کے لئے بہت حیران کن ہے جس میں ابتک 18 سو اسرائیلی ہلاک 10 ہزار سے زیادہ زخمی اور 300 سے زیادہ اسرائیلی حماس کے ہاتھوں قیدی ہوئے ہیں جبکہ بشمول حماس کے 1  مجاھدین  لگ بھگ 20 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور 50 ہزار سے زیادہ زخمی ہیں


7 اکتوبر سے ابتک اسرائیل کی کل آبادی میں سے 70 فیصد آبادی اپنا ملک چھوڑ کر بیرون ملک جا چکی ہے اور تاحال ان کی واپسی نہیں ہوئی


اس جنگ میں 6 لاکھ 30 ہزار دنیا کے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس فوجیوں کا مقابلہ 40 ہزار مجاھدین سے ہے یعنی کہ پونے سولہ فوجیوں کے مقابلے میں 1 مجاھد لڑ رہا ہے وہ بھی اس انداز میں کے اس کے پاس مدمقابل فوجی کے برابر کوئی ٹیکنالوجی نہیں 

ایک طرف ایٹمی ملک اسرائیل کی ڈھائی سو ایف سولہ طیاروں کیساتھ ائیر فورس ہے تو دوسری طرف خودساختہ تیار کئے پیراگلائیڈر والے حماس کے مجاھدین

ایک طرف 7 سو کے قریب دنیا کے جدید ترین ٹینک مرکاوا والی اسرائیل فوج ہے تو دوسری طرف حماس کے پیدل مجاھدین کے جن کو یونیفارم بھی پوری طرح میسر نہیں

ابتک کی اس جنگ میں اسرائیلی فوج کے 400 مرکاوا ٹینک حماس کے ہاتھوں تباہ ہو چکے ہیں

ایک مرکاوا ٹینک کی پاکستانی قیمت تقریباً 1 ارب روپیہ ہے یعنی ابتک کی اس جنگ میں اسرائیل کے 400 ارب روپیہ کے ٹینک تباہ ہو چکے ہیں جبکہ ان ٹینکوں کو تباہ کرنے والے حماس کے میزائل یسین 105 کی پاکستانی روپوں میں قیمت محض ڈیڑھ لاکھ سے بھی کم ہے

اس جنگ میں استعمال ہونے والے ڈرون طیاروں کو بہت کم لاگت سے تیار کیا گیا ہے جبکہ اسرائیلی فضائیہ دنیا کے جدید ترین اور مہنگے ترین طیاروں پہ مشتمل ہے یعنی ہر طرف برتری اسرائیل کو حاصل ہے مگر اس کے باوجود تقریبآ 71 روز گزرنے کے اس جنگ کا اصل اسرائیلی مقصد یعنی حماس کی سرنگوں کی تباہی اور حماس قیادت کی شہادت پورا نہیں ہو سکا

حماس کی 500 کلومیٹر طویل سرنگیں اسرائیلی فضائیہ اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے اوجھل ہیں حتی کہ دنیا میں سوئی تک پہ نظر رکھنے کا دعویٰ دار امریکہ بھی یکسر ناکام ہے  جس سے صاف واضع نظر آ رہا ہے کہ یہ جنگ جدید جنگی سازو سامان سے نہیں بلکہ ایمان سے لڑی جا رہی ہے

اگر ہم بغور جائزہ لیں تو سمجھ ائے گی کہ بدر و احد کے جانثاروں کی روحانی اولادوں کیساتھ آج بھی رب کی نصرت و مدد ہے وگرنہ جس افرادی قوت اور ٹیکنالوجی سے اسرائیل آیا اگر ایمانی قوت نا ہوتا تو اسرائیل آج جیت چکا ہوتا مگر الحمدللہ رب کے جانثاروں کیساتھ کل بھی رب کی رحمت و نصرت تھی اور آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گی ان شاءاللہ

Friday, 15 December 2023

انڈین جنریشن وار کے شکار ازقلم غنی محمود قصوری





1962 کی 31 روزہ انڈیا چائنہ اکسائی چن جنگ کے بعد انڈیا نے جنریشن وار کا فیصلہ کیا 

انڈیا کی جانب سے اس ففٹھ جنریشن وار کا رخ چائنہ اور پاکستان تھا

اس وقت انڈین خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینا لائسسز ونگ یعنی را کا قیام نا ہوا تھا تاہم اس وقت کے وزیر اعظم پنڈ جواہر لال نہرو نے اپنی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ میٹننگ کے بعد فیصلہ کیا کے اپنے دشمنوں سے ففٹھ جنریشن وار لڑی جائے تاکہ دشمن ملک کی عوام کے ذہنوں پہ قبضہ جما کر عملی جنگ کی تیاری کی جا سکے 

اس منصوبے پہ کام تیز ہوا اور سب سے زیادہ کام انڈین میڈیا نے کیا

اس نے پاکستان اور چائنہ کی عوام خاص کر نوجوان نسل میں انہی کے ملکوں کے خلاف ان کے ذہنوں میں زہر بھرنا شروع کیا

ڈرامے اور فلمیں بنانا شروع کیں خود کو مظلوم اور ان دونوں ملکوں کے سربراہان و افواج کو ظالم دکھایا تاکہ ان ملکوں کی عوام کو انہی کے خلاف کیا جا سکے 

 انڈین ایجنسی را نے 1968 میں اپنے قیام کے بعد نوجوان نسل میں ہندوانہ تہذیب،نشہ اور گن کلچر کو پروان چڑھانے کا خصوصی اہتمام کیا خاص کر پاکستان کے پسماندہ صوبے مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش میں کام تیز کیا اور پاکستانی فوج کے مد مقابل 4 لاکھ بنگالیوں کو مکتی باہنی کے طور پہ تیار کیا

بنگلہ دیش میں انڈیا کی جنریشن وار خوب کامیاب رہی اور آخر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا

اپنی ہی عوام اپنی ہی افواج کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور یوں انڈیا نے 4 لاکھ مکتی باہنی کے تربیت یافتہ بلوائیوں کیساتھ اپنی ڈھائی لاکھ فوج اتاری آخرکار 16 دسمبر 1971 کا دن آیا اور سقوط ڈھاکہ ہوا اور پاک فوج نے 1948,1965 کی انڈیا کے خلاف منہ توڑ جنگوں کے بعد انڈیا کے اگے ہتھیار ڈالے

جنگ میں فتح و شکشت کوئی نئی بات نہیں یہ جنگ کا حصہ ہے مگر ففٹھ جنریشن وار میں فتح کو شکشت اور شکشت کو فتح میں بدلا جاتا ہے پراپیگنڈا کے طور پہ سو انڈیا نے سارا دیہان ففٹھ جنریشن وار پہ دیا اور آج دن تک پاکستانی قوم کو ایک دھوکے میں رکھا کہ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے 90 ہزار فوجی قید ہوئے تھے

میں ہمیشہ کی طرح یہ بات کہتا اور لکھتا ہوں کہ جھوٹ بولنے،لکھنے والے پہ رب کی لعنت

حدیث کا مفہوم ہے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق آگے پھیلا دے 

جھوٹے شحض کی اس جہاں میں بھی ذلت ہوتی ہے اور جھوٹ نا تو فائدہ دیتا ہے نا عزت


 بطور مسلمان ہمیشہ وہ بات کرنی چائیے جس کا بہت زیادہ علم ہو

میں الحمدللہ ہمیشہ کی طرح اب بھی ہڈ بیتی لکھونگا جو کہ میرے والد نے کئی بار سنائی اور جس کے گواہ اب بھی میرے والد کے ساتھی اس جہاں میں حیات ہیں


1971 کی جنگ میں راقم کے والد نائب صوبیدار محمد محمود بھٹی رحمتہ اللہ نے بطور نائیک، آرمورر 46 ای ایم ای بٹالین حصہ لیا

میرے والد کی عمر اس وقت محض 21 سال تھی اور تقریباً 5 سال سروس ہو چکی تھی( اس وقت شناختی کارڈ کا سسٹم نا تھا)

میرے والد نے 71 جنگ کی پوری روداد سنائی جس کے گواہان ان کے ساتھ قید ہوئے ساتھی ہیں جن میں سے اکثر ابھی حیات ہیں

  دنیا کی کوئی طاقت ثابت کرے کہ کبھی بھی بنگلہ دیش میں 90 ہزار تعداد میں پاک فوج کے جوان موجود تھے

حتی کہ انڈیا یہ بات آج دن تک ثابت نا کر سکا کہ بنگلہ میں 90 ہزار ہمارے فوجی تھے جو اس نے قید کئے تھے


1971 میں ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان میں کل 38 ہزار پاکستانی فوجی تھے جن میں سے 32 ہزار قید ہوئے تھے اور دو سال سے زیادہ عرصہ انڈین قید کاٹ کر اپنے وطن پہنچ کر پھر اسی پاک فوج کا حصہ بنے تھے

میرے والد بتلاتے ہیں کہ سویلین بنگالیوں کے انڈین فوج و مکتی باہنی کے ہاتھوں قتل پہ بار بار کمانڈنگ آفیسرز کی تنبیہہ کے ہتھیار ڈالنے پہ رضا مندی ظاہر کی گئی تاہم اللہ گواہ کہ نا تو کسی نے انڈین فوج سے رحم کی بھیک مانگی نا ہی خاص رعایت مانگی


میرے والد نے انڈین جیل میں قرآن مجید پڑھا اور انڈین فوج کی جانب سے مسلمان مذہب چھوڑ کر ہندو ہونے اور بہترین نوکری کیساتھ عورت کی دعوت کو کئی بار ٹھکرایا جس کی نفی میں بارہا تشدد بھی سہنا پڑا حالانکہ جنیوا کنونشن کے تحت جنگی قیدی کو مارا نہیں جا سکتا

انہوں نے دو بار انڈین قید سے بھاگنے کی کوشش کی اور پکڑے جانے پہ رحم کی فریاد نا کی تاہم الگ بات ہے کہ ہندو نے دوران قید دو سال دو ماہ دو دن کی قید میں ظلم کی اخیر کی

آج جس کو دیکھو وہ ایک ہی بات بولے گا کہ 71 میں 90 ہزار فوجی قید ہوئے تھے جو کہ تاریخ کا بہت بڑا جھوٹ ہے جسے ففٹھ جنریشن وار کے ذریعے ہمارے ذہنوں میں بھرا گیا ہے

1971 میں مشرقی محاذ بنگلہ دیش میں پاکستانی قوم کے سپاہی کی حیثیت سے انڈین قید کاٹ کر آنے والے پاکستانی فوجی اس قوم سے سوال کرتے ہیں  کہ کس اصول کے تحت 32 ہزار فوجیوں کے ساتھ گرفتار ہونے والے دیگر سول اداروں کے لوگوں کو فوجی ظاہر کیا جاتا ہے؟

کیا ہم پاک فوج نے 1948 میں قبائلیوں کیساتھ مل کر مقبوضہ کشمیر کا علاقہ آزاد کروا کر آزاد کشمیر نا بنوایا ؟

کیا 1965 کی جنگ میں ہم نے دشمن کا غرور خاک میں نا ملایا تھا کہ دشمن بھی ہم پاک فوج کے افسروں جوانوں کو سیلوٹ مارنے پہ مجبور ہوا جیسا کہ دنیا میجر عزیز بھٹی شہید کے کارنامے سے واقف ہے؟


71 کے فوجی پوچھتے ہیں کیا ہم نے اپنی جوانیاں انڈین قید میں نا کاٹیںحالانکہ ہمیں عورت اور دولت کی بارہا پیشکش ہوتی رہی؟

کیا ہم نے دوران قید اپنا مذہب تبدیل کیا ؟

کیا ہم میدان جنگ سے بھاگے اگر بھاگتے تو کیا یوں گرفتار ہوئے ہوتے؟

کیا ہم نے قید سے واپس آکر پھر اپنی نوکری پوری نا کی؟

کیا ہم نے قید کے عیوض کوئی خاص مراعات مانگیں یاں گورنمنٹ نے دیں؟

اگر یہ سب کچھ نہیں تو پھر جنریشن وار فئیر کا شکار قوم جان لے کہ ابھی حال ہی میں انڈین پائلٹ ابھی نندن ہماری قید سے جاتے ہی اپنی قوم کا ہیرو بن گیا تو کیا ہم ایک لمبا عرصہ قید کاٹنے کے بعد بھی اپنی ہی قوم کے طعنے نہیں سنتے ہیں؟

کیا رب نے جنگی قیدی ہو جانے والے سپاہی بارے کوئی غضب ناک نوید سنائی ؟

پیارے پاکستانیوں دشمن کی ففٹھ جنریشن وار کا شکار ہم پاکستانی ہوئے ہیں چائینز نہیں لہذہ اپنے محافظوں کو طنز کرنا چھوڑ کر دشمن کی جنریشن وار سے نکلیں اور وہ کام ہم کریں جو ہمارے بڑے نا کر سکیں

اس بار ہم ہر میدان میں اپنے ازلی دشمن انڈیا کو نیچا دکھائیں تاکہ ہم اس کو بتا دیں کہ اس کی جنریشن وار ناکام ہم نے کی ہے

Sunday, 10 December 2023

محکمہ جنگلی تحفظات کو تحفظ دیا جائے ازقلم غنی محمود قصوری

 




پاکستان میں ہر قسم کا محکمہ موجود ہے جو مسائل کو اپنے وسائل کے مطابق حل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تاہم پاکستانی عوام جانتی ہے کہ وسائل ہونے کے باوجود یہ محکمے عوام کیلئے مسائل ہی پیدا کرتے ہیں اور قانونی لوگوں کو غیر قانونی اور غیر قانونی لوگوں کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں

ان محکموں میں ایک محکمہ ،پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ، بھی شامل ہے 

سب سے پہلے تو میں اس محکمے کا تعارف کرواتا ہوں

چونکہ راقم خود ایک شکاری ہے اس لئے اس محکمے سے میرا خصوصی واسطہ بھی ہے

پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ انگریز دور حکومت میں 1934 کو معرض وجود میں آیا

1934 سے 1973 تک یہ محکمہ مختلف محکموں کے زیر سایہ کام کرتا رہا تاہم 1973 میں اسے پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ کا نام دیا گیا اور تب اس محکمے نے جنگلی حیات،محکمہ جنگلات اور محکمہ ماہی پروری کے طور پہ کام شروع کیا

یعنی جنگلات کا تحفظ،جنگلی جانوروں، پرندوں کا تحفظ اور مچھلیوں کا تحفظ و افزائش اس محکمے کی ذمہ داری ہے اور چڑیا گھر و پارکس بھی ان کے زیر انتظام ہیں


 اس محکمے کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوتا ہے جس کے زیر سایہ پنجاب بھر میں ایک ڈائریکٹر اور 10 ڈپٹی ڈائریکٹرز کام کرتے ہیں

اس کے ایکٹ میں 1974 کے بعد 2007 اور پھر 2010 میں ترمیم کی گئی


ملک بھر کی طرح پورے پنجاب میں اس وقت شکار کا سیزن شروع ہے 

شکاری حضرات کیلئے لازم ہے کہ وہ پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ لائسنس کے تحت ہی شکار کر سکتے ہیں

مگر ہمارے ہاں 80 فیصد لوگ بغیر شکاری لائسنس کے کھلے عام ہر قسم کا شکار کرتے ہیں جو کہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں

اس محکمے کو جو وسائل ملنے چائیے وہ وسائل بھی اس محکمے کے پاس موجود نہیں

 ہر تحصیل میں ایک گیم وارڈن اور انسپیکٹر پہ مبنی ٹیم ہوتی ہے جس کا کام غیر قانونی شکار کو روکنا ہے تاہم اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو اتنے کم لوگوں کا بہت زیادہ رقبے میں کام کرنا ایک لطیفے سے کم نہیں پانچ سات بندے ایک آدھ پرانی پھٹیچر گاڑی اور سینکڑوں کلومیٹر کا رقبہ ایک لطیفہ نہیں تو اور کیا ہے

اسی موقع سے ناجائز شکاری فائدہ اٹھاتے ہیں اور جنگلی حیات کو ختم کر رہے ہیں


اس محکمے کی طرف سے لائسنس جاری کرتے وقت حامل لائسنس کو کچھ نہیں بتایا جاتا کہ فلاں پرندہ و جانور آپ شکار کر سکتے ہیں اور فلاں نہیں حتی کہ جاری کردہ لائسنس پہ بھی کچھ معلومات رقم نہیں اور جو کہ کچھ لکھا وہ بھی خیر سے انگریزی میں رقم ہے جس کے باعث قانون کا احترام کرنے والا حامل شوٹنگ وائلڈ لائف لائسنس ہولڈر نہیں جانتا کہ کونسا پرندہ نایاب ہو رہا ہے اور کونسا عام

کونسے دن شکار کی ممانعت اور کونسے دن اجازت

کب بریڈنگ سیزن شروع ہے اور کب ختم

کونسا پرندہ ہمارے ملک کا ہے اور کونسا پرندہ مہمان ہے

اور ایک لائسنس پہ کتنی بندوقوں کیساتھ کتنے افراد کتنے پرندے ایک دن میں شکار کر سکتے ہیں

کیونکہ انٹرنیٹ پہ ایک بندے کے ہاتھ میں درجنوں شکار کئے پرندوں کی تصاویر نظر آتی ہیں حتی کہ گاڑیوں کے بونٹ نایاب پرندوں کے شکار سے بھرے پڑے ہوتے ہیں

یہ سب انٹرنیٹ پہ سرچ کرنے پہ بھی کچھ خاص معلومات نہیں ملتیں


اس محکمے کو بطور کالم نگار اور ایک رجسٹرڈ شکاری میری سب سے اہم تجویز یہ ہے کہ لائسنس جاری کرتے وقت ایک لٹریچر فراہم کریں جس پہ سب قواعد و ضوابط لکھے ہوئے ہو تاکہ شکاری حضرات کو مکمل علم ہو نیز یہ کوشش ہونی چائیے کہ اس کمیونیکیشن کے دور میں رجسٹرڈ شکاریوں کو واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کرکے معلومات سے آگاہ کیا جاتا رہے اور ان کو بتایا جائے کہ آپ کس پرندے ،جانور کی شکار کی ہوئی تصویر سوشل میڈیا پہ وائرل کر سکتے ہیں اور کس کی نہیں کیونکہ یہ بات بہت زیادہ دیکھنے میں آئی ہے کہ سوشل میڈیا پہ وائرل تصویر کو بنیاد بنا کر جرمانہ کیا جاتا ہے حالانکہ جو شکاری لائسنس حاصل کرتا ہے بھلا اس کیا ضروت غیر قانونی کام کی ؟

اگر وہ قانون کا احترام نا کرتا ہوتا تو پھر وہ بھی ان 80 فیصد غیر قانونی شکاریوں کا حصہ ہوتا اور اپنے سالانہ پیسے لائسنس کی فیس کی مد میں ادا کرنے سے بچاتا

سو محکمے کی یہ غفلت شکار حاصل کئے شکاریوں کو غیر قانونی طریقے پہ شکار کرنے پہ مجبور کر رہی ہے جبکہ دوسری سمت وڈیروں جاگیر داروں اور اشرافیہ  کو بغیر اسلحہ و وائلڈ لائف شوٹنگ لائسنس کے پورے پروٹوکول کیساتھ ممنوعہ شکار والے علاقوں میں شکار کروایا جاتا ہے جس سے عام غریب اور بغیر شفارش شکاریوں کی حق تلفی ہوتی ہے اور یوں یہ محکمہ قانونی لوگوں کو غیر قانونی اور غیر قانونی لوگوں کو قانونی بنا رہا ہے

نیز ایک غفلت یہ بھی ہے کہ نایاب ہوتے پرندے فاختہ کے شکار کی اجازت ہے اور ائیر گن کے شکار کو مکمل بین کیا ہوا ہے جس کے باعث عام غریب انسان شکار جیسے اہم اور تندرستی برقرار رکھنے والی ورزش سے محروم ہے

دوسری جانب سیمی آٹومیٹک رپیٹر سے لوگ بیک وقت نصف درجن کارتوس چلا کر درجنوں پرندے مار گراتے ہیں اور پرندوں کی نسل کشی کر رہے ہیں

واضع رہے کہ پاکستانی عدالت نے 2021 میں ڈمی پرندوں (decoys) کیساتھ شکار کرنے اور ائیر گن کیساتھ شکار پہ پابندی لگا رکھی ہے تاہم قد آور لوگ کھلے عام یہ سب کر رہے ہیں 

میری گورنمنٹ سے گزارش ہے کہ سپرنگر (Springer) ائیر گن کیساتھ شکار کی پابندی ہٹائی جائے جبکہ پی سی پی ائیر گن( Pre-Charged Pneumatics ) پہ پابندی برقرار رکھی جائے نیز جال لگا کر سینکڑوں پرندے پکڑے والوں اور بلخصوص انڈہ پوٹاش نامی کیمیکل دانے کو لگا کر بیک وقت سینکروں پرندوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے والے افراد کا خصوصی گھیراؤ کیا جائے

ریاست پاکستان کے ہر شہری کو شکار کا حق حاصل ہے سو مخصوص لوگوں کے فائدے کی خاطر غریبوں کو اس شوق اور ورزش سے محروم نا کیا جائے 

اگر بات کی جائے محکمے کی کارکردگی کی تو آج سے دو سال قبل اس محکمے کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل پنجاب محمد نعیم بھٹی کی سربراہی میں محکمہ کافی فعال اور بہتر تھا تاہم اب کچھ خاص بہتری نہیں لہذہ محکمے کو فعال کیا جائے اور افسران کو نعیم بھٹی کی طرح ذیلی افسران و عملے کی چیکنگ اور مانیٹرنگ کا پابند بنایا جائے تاکہ پرندوں کی نسل کشی بھی نا ہو اور محکمے کے لوگ لگن سے کام کریں تاکہ شکاری حضرات ساری معلومات حاصل کرکے شکار کر سکیں